Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی پر وزیراعظم کی ایف بی آر کی پذیرائی

    سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی پر وزیراعظم کی ایف بی آر کی پذیرائی

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کے 11 فیصد کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے ٹیکس محصولات کے اہداف کے حصول کے لیے ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے کی ہدایت کی ،کسٹمز کلیئرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے استعمال سے کلیئرنس کے دورانیے میں خاطر خواہ کمی پر وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کی پزیرائی کی اور ہدایت کی کہ درآمدات اور برآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کے دورانیے کو مزید کم کیا جائے، حکومتی محصولات بڑھانے کے لیے وزیراعظم نے معیشت کے تمام شعبوں میں ٹیکس انفورسمنٹ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم نے سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پزیرائی کی ،وزیراعظم نے ایف بی ار کے ٹیکس چوروں اور غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومتوں کو ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی،

    اجلاس میں وزیراعظم کو ٹیکس محصولات کے اہداف کے حصول کی پیشرفت، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہملک بھر میں تمباکو کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے متعدد فوکل پرسن تعینات کیے گئے ہیں، حالیہ دنوں میں مؤثر کاروباری کے نتیجے میں غیر قانونی سگریٹس کی بڑی تعداد قبضے میں لی گئی ہے، وزیراعظم کو ٹربیونلز اور مختلف اداروں میں ٹیکس کے زیر التواء مقدمات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی ،اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل اف پاکستان، چئیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 برس قید کی سزا

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 برس قید کی سزا

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے فیض حمید کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی،سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈجنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا یہ عمل 15 ماہ تک جاری رہا ، ملزم کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی، الزامات میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور متعلقہ افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں،طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا گیا ہے، عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے شروع ہوگا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور ملزم کو دفاع کےلیے وکیلوں کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیےگئے،ملزم کے سیاسی عناصرکے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جارہے ہیں۔

  • افغان علماکا  اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہ کرنے پرزور

    افغان علماکا اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہ کرنے پرزور

    افغانستان سے پاکستان میں جاری دراندازی روکنے کے سلسلے میں مثبت پیشرفت سامنے آگئی، کابل میں علما اور مذہبی رہنماؤں کے اہم اجلاس میں عسکریت پسندی کے لیے سرحد عبور نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    ذرائع نے طلوع نیوز کو تصدیق کی ہے کہ کابل میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں علما اور مشائخ کا کہنا تھا کہ اپنے حقوق، اقدار اور شرعی نظام کا دفاع ہر فرد پر فرض ہے۔اجلاس میں اسلامی امارت سے مطالبہ کیا گیا کہ امارتِ اسلامی افغانستان کے رہبر کے حکم کی روشنی میں کسی کو بھی بیرونِ ملک عسکری سرگرمیوں کے لیے جانے کی اجازت نہ دی جائے۔اجلاس میں اس فیصلے پر بھی زور دیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اور اگر کوئی اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے تو اسلامی امارت کو اس کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہے،

    افغان عمائدین اور علما کے بیان سےپاکستان کےدیرینہ مطالبےکی توثیق ہوگئی ہے،پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان سے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم افغان طالبان جارحیت پر قائم ہیں اور سرحد پار سے پاکستان میں دراندازی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  • خیبرپختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیاں جاری

    خیبرپختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا و بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    دو بیست و پنجہ کے علاقے میں سرکاری سپلائی گاڑی پر دیسی ساختہ بم حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ دھماکے سے گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ایک کالعدم تنظیم نے ذمہ داری کا دعویٰ کیا مگر حکام نے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

    کلاتھک میں ایک مواصلاتی ٹاور دھماکے کا نشانہ بنا، جس سے ٹاور کو نقصان پہنچا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔بلوچستان کانسٹیبلری کا اہلکار غریب نواز فائرنگ کے ایک واقعے میں شہید ہو گیا۔ نامعلوم حملہ آور فرار ہو گئے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے گریشہ میں انسداد دہشت گردی کے تحت سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا۔ متعدد مشتبہ افراد کو مجموعی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔جھاو اور کوہرو سمیت قریبی علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

    قبائلی اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تراہ کے عوام نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ وہ مزید تشدد برداشت نہیں کریں گے۔ اس سے قبل لکی مروت میں گرینڈ جرگہ نے اجتماعی مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔

    مہمند،الینگار میں سکیورٹی فورسز نے ایک آئی بی او کے دوران آٹھ سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے۔ چار سے زائد دہشت گرد زخمی ہوئے۔ٹانک،ہورس پولیس اسٹیشن لقمان شہید پر کواد کاپٹر کے ذریعے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ گرینیڈ اسٹیشن کے اندر گرایا گیا لیکن وہ پھٹ نہ سکا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    میر علی، شمالی وزیرستان،عیسوری میں پرانے بارودی مواد کے پھٹنے سے دس بچے زخمی ہو گئے۔ بچے ایک غیر پھٹا بم کھیلتے ہوئے چھیڑ بیٹھے تھے۔کالایا، اورکزئی زیریں،ڈی پی او کی زیر صدارت ایک جرگے میں فیروز خیل کے علاقوں میں شدت پسندوں کی ممکنہ موجودگی پر غور کیا گیا۔ پسکی میں چیک پوسٹ کے قیام کی فوری منظوری دے دی گئی۔تورغر پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں چھ حملہ آور مارے گئے جبکہ دیگر فرار ہو گئے۔باجوڑ (سلارزئی)،گزشتہ روز اغوا کیے گئے دو نوجوانوں کی لاشیں جنگل سے مل گئیں۔ پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ڈی ایچ کیو اسپتال بٹگرام کے مرکزی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل نیاز علی شملائی کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

  • افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے،شہباز شریف

    افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے،شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے۔

    اسلام آباد میں قومی علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کو ناقابل برداشت قرار دیاشہباز شریف نے کہا کہ یہ علما کرام اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اس فوج کا دفاع کریں جس نے ہمارے دفاع کے لیے اپنے لہو سے تاریخ رقم کی اور ہمارے ازلی دشمن کو ایسی شکست دی جسے وہ قیامت تک نہیں بھولے گا-

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے دلیری اور جرأت سے جنگ لڑی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کی قیادت کی، پاکستانی افواج کی جرأت اور بہادر ی سے دشمن کو عبرت ناک شکست ہوئی قوم میں یکجہتی کی فضا قائم ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، ملک میں فرقہ پرستی کا خاتمہ ضروری ہے، اب بھی بعض مکاتبِ فکر کے لوگ کہتے ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے (فرقے کے لوگ) ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے،افواج پاکستان کی قربانیوں کا مذاق اڑائیں گے تو کون پاکستان کی عزت کرے گا، افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ معرکۂ حق میں عظیم فتح حاصل ہوئی جس کے لیے قوم کی دعائیں قبول ہوئیں،افواج کے ہر سپاہی کی معرکۂ حق میں بے مثال کاوشیں شامل ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انڈیا کے خلاف جنگ کو جرأت سے لیڈ کیامسلح افواج کی جرأت اور بہادری سے دشمن کو عبرتناک شکست ہوئی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی معیشت آج تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت نے کردار ادا کیا ہےوزیر اعظم نے تحریک پاکستان کی جدوجہد میں علما کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے قومی معاملات پر یکجان ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی کی معترف ہے۔

  • ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معائدہ تاریخی ہے ،

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا، جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا تو انتشار اور فساد الارض نے وہاں جگہ لی، عزت اور طاقت تقسیم سے نہیں ، محنت اور علم سے حاصل ہوتی ہے،دہشتگردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں،اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا، معرکہ حق میں اللّٰہ کی نصرت سے کامیابی ملی، علماء قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں ،پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • واشنگٹن کی جانب سے ریکوڈک پراجیکٹ کیلئے 1.25 بلین ڈالر کی منظوری

    واشنگٹن کی جانب سے ریکوڈک پراجیکٹ کیلئے 1.25 بلین ڈالر کی منظوری

    واشنگٹن نے پاکستان کے تاریخی ریکوڈک کاپر،گولڈ مائن پراجیکٹ کے لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی جانب سے 1.25 بلین ڈالر کی فنانسنگ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

    یہ پاکستان کے لیے امریکی مالیاتی تعاون کا ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے بلوچستان میں جاری اس اہم منصوبے کی رفتار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔امریکا کی قائم مقام سفیر نٹالی بیکر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ اس مالیاتی پیکج کی منظوری نہ صرف پاکستان کے لیے اہم ہے بلکہ اس کے ذریعے منصوبے کے لیے امریکی آلات اور سروسز کی 2 ارب ڈالر تک کی برآمدات کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ قدم پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی اشتراک کو مزید مضبوط کرے گا۔

    ریکوڈک پراجیکٹ پاکستان خصوصاً بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سرمایہ کاری بلوچستان میں بڑی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔منصوبے سے مستقبل میں اربوں ڈالر کی برآمدی آمدن متوقع ہے۔امریکا کی جانب سے فنانسنگ سے منصوبے پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔

    امریکی سفارتخانے کے مطابق Ex-Im Bank کی فنانسنگ کی منظوری یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا پاکستان میں پائیدار اور بڑے پیمانے پر معاشی ترقی کے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ویڈیو پیغام میں نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور توانائی و معدنیات کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔

  • قوم میں یکجہتی کی فضا قائم ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا،وزیراعظم

    قوم میں یکجہتی کی فضا قائم ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا،وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملکی ترقی اور استحکام کیلئے اتحاد و یکجہتی اور دہشت گردی کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بغیر معاشی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے ، شہداء کی قربانیوں کی تضحیک نہیں کرنے دیں گے، عسکری و سیاسی قیادت نے مل کر کام کیا اور ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑی معیشت دوبارہ پٹڑی پر آئی ۔

    وہ بدھ کو قومی علماء کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سمیت وفاقی وزراء ، اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ علماء و مشائخ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم اور علماء کرام و قوم کی دعاؤں کی بدولت معرکہ حق میں پاکستان کو بڑی کامیابی ملی، مسلح افواج کی جرأت اور بہادری سے دشمن کو عبرتناک شکست ہوئی، چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے جرأت و بہادری سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، اس کامیابی میں بری، بحری و فضائیہ سمیت تمام افواج کا کردار قابل ستائش ہے۔ وزیر اعظم نے فرقہ پرستی کے خاتمہ کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کو تفرقہ بازی کا خاتمہ کرنا ہو گا،ملکی ترقی اور استحکام کیلئے اتحاد و یکجہتی ناگزیر ہے، اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان و خیبرپختونخوا میں روزانہ بے گناہ عوام فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، سکیورٹی فورسز کے جوان ملکی دفاع کیلئے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ان شہداء کے اہل خانہ سے جب ہم ملتے ہیں تو وہ اپنے شہداء پر فخر کرتے ہیں اور ان کے چہرے اطمینان سے لبریز ہوتے ہیں، ہم اپنے ان شہداء کی تضحیک کی اجازت نہیں دیں گے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملک معاشی استحکام اور ترقی کی جانب سے تیزی سے گامزن ہے، عسکری و سیاسی قیادت مل کر کام کرکے ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر لائی، معرکہ حق کے بعد پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے، حکومت ملک کو معاشی ترقی کے سفر پر رواں دواں کرنے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہے، محنت سے پاکستان کو وہ مقام دلائیں گے کہ قرضوں سے نجات ملے گی اور خود انحصاری کی منزل حاصل ہوگی۔ انہوں نے ملکی ترقی کیلئے دہشت گردی کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر معاشی بحالی کے سفر پر گامزن نہیں ہوا جاسکتا۔

    وزیر اعظم نے تحریک پاکستان کی جدوجہد میں علماء کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی، ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر ملک کو آزادی سے ہمکنار کیا، امانت، دیانت اور محنت سے قیام پاکستان کا مقصد حاصل کرنا تھا، پاکستان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر آنے والوں کو اس ملک کے عظیم ترین بننے کی امید تھی۔ انہوں نے کہا کہ دن رات محنت سے ترقی و خوشحالی ممکن ہے ، دنیا میں مقام حاصل کرنے والی قوموں نے محنت کو اپنا شعار بنایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پائی پائی بچا کر ملک کی معاشی تقدیر بدلیں گے اور اسے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنائیں گے۔ انہوں نے قومی معاملات پر یکجان ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی کی معترف ہے ، دشمن ورطہ حیرت میں ہے اور برادر ممالک خوشی سے پھولے نہیں سماتے ، دوست ممالک نے معرکہ حق میں فتح کو اپنی فتح سمجھ کر مبارکباد دی۔

    وزیر اعظم نے افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علماء کرام اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اس فوج کا دفاع کریں جس نے ہمارے دفاع کیلئے اپنے لہو سے تاریخ رقم کی اور ہمارے ازلی دشمن کو ایسی شکست دی جسے وہ قیامت تک نہیں بھولے گا۔

  • بھارتی دفاعی نظام کی ایک اور بڑی نا اہلی، خفیہ ترین ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر وائرل

    بھارتی دفاعی نظام کی ایک اور بڑی نا اہلی، خفیہ ترین ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر وائرل

    بھارتی ریاست اندھرا پردیش میں بھارت محکمہ دفاع کے زیرِ زمین ایٹم بم لیبارٹری اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی خفیہ تنصیب کی خفیہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں جس سے بھارت کے دفاعی نظام کی سب سے بڑی نا اہلی سامنے آئی ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خدشہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اس سے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور بھارت کے ہاتھوں جوہری ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

    آزاد نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سیٹلائٹ تصاویر نے بھارت کے اسٹریٹیجک عسکری ڈھانچے سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں دفاعی تجزیہ کاروں نے آندھرا پردیش کے علاقے جنگالاپلّی کے قریب ایک مبینہ زیرِ زمین بیلسٹک میزائل اسٹوریج کمپلیکس کی نشاندہی کا دعویٰ کیا ہے،سوشل میڈیا پر جاری بحث کے مطابق ان تصاویر میں مبینہ طور پر سرنگوں کے دروازے، بڑے پیمانے پر کھدائی سے نکلی مٹی کے ڈھیر (اسپائل پائلز) اور وسیع تعمیراتی سرگرمیوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں، جو عام طور پر زیرِ زمین محفوظ عسکری تنصیبات سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ یہاں نقل و حرکت اور کھدائی کا حجم اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ علاقے میں کسی مضبوط اور وسیع عسکری ڈھانچے پر کام جاری ہے۔

    تصاویر میں بلند علاقے میں واقع کئی متناسب سرنگ نما راستے دکھائی دے رہے ہیں جنہیں تجزیہ کار ممکنہ طور پر گہرے زیرِ زمین ایٹمی اسٹوریج سہولیات کے لیے استعمال ہونے والے داخلی راستے قرار دیتے ہیں۔تعمیراتی مقام کے قریب مٹی کے نمایاں ڈھیر تجزیہ کاروں کے مطابق بڑے پیمانے پر سرنگوں کے کام کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ دفاعی مبصرین نے تصاویر میں سڑکوں، باڑوں اور معاون تنصیبات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں سخت یا مضبوط پلیٹ فارم یا لانچ پیڈ نما ڈھانچے بھی موجود ہیں۔عمارتوں کا ایک جھرمٹ جو ممکنہ طور پر انتظامی یا عملی کام کے مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے، بھی تعمیراتی مراحل میں دکھائی دیتا ہے، جس سے اس جگہ کے مقاصد کے بارے میں مزید قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

    اسیٹلائٹ تصاویر شیئر کرنے والے صارفین اس مبینہ سائٹ کو بھارت کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں میں اضافے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف برفانی تودے کا سرا ہے اور مزید مقامات کی تصاویر جلد سامنے آ سکتی ہیں۔تاحال بھارتی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بڑے سول یا عسکری منصوبے بظاہر ایک جیسے دکھائی دے سکتے ہیں۔

    ادھرآزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق اوپن سورس انٹیلیجنس نے بھارتی ریاست اندھرا پردیش زیرِ زمین ایٹم بم لیبارٹری اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی خفیہ تنصیب کا سراغ لگا کر اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہیں۔ اوپن سورس انٹیلیجنس کے مطابق یہ تنصیب گوہاٹی کے شمال میں ’26.2659 شمالی اور 91.7312 مشرقی‘ کے قریب واقع ہے، جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’اگنی‘ سیریز کے ایٹمی میزائل رکھے جانے کا شبہ ظاہرکیا گیا ہے، جو ایشیا کے وسیع حصے سمیت دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تھنک ٹینکس اور او ایس آئی این ٹی کے ماہرین کی جانب سے حاصل کردہ سیٹیلائٹ تصاویر میں زیرِ زمین کمپلکس دکھائی دیتا ہے، جس میں ’متعدد سرنگوں کے داخلی راستے، انتظامی عمارتیں اور سخت حفاظتی بندوبست‘ شامل ہیں۔ یہ علاقہ برہم پترہ دریا کے نزدیک گھنے جنگلات میں واقع ہے۔رپورٹس کے مطابق اس تنصیب کی تعمیر 2014 میں شروع ہوئی تھی۔ یہ مقام ’چین کی سرحد سے تقریباً 230 کلومیٹر اور بنگلادیش سے 130 کلومیٹر‘ دور ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے ممکنہ شمالی خطرات کے خلاف ایک اہم ڈٹرنس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ’سینٹر فارانٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ’انتہائی گہرے زیرِ زمین مرکز‘ میں اگنی میزائل رکھے گئے ہیں، جو ’دنیا کے بیشتر حصوں کو نشانہ بنانے‘ کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی امن کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر جائزے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔اب تک بھارتی حکام نے اس تنصیب پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا، تاہم 2020 میں ایک بھارتی فوجی افسر کے پتہ کی معلومات میں غیر ارادی تبدیلی سے ’ناگاٶں، وسطی آسام‘ میں ایک میزائل یونٹ کی موجودگی کا اشارہ بھی ملا ہے۔حالیہ مہینوں میں اوپن سورس انٹیلیجنس ماہرین نے پلیٹ فارمز ’ایکس‘ اور ’ریڈیٹ‘ پر نئی تصاویر اور مشاہدات شیئر کیے، جن میں اس سائٹ کی بھاری فورٹیفیکشن اور چین کی سمت اس کی اسٹریٹجک پوزیشننگ کو واضح کیا گیا ہے۔یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اپنی ’نیوکلیئر ٹرائیڈ‘ کو جدید ترین نظاموں سے لیس کر رہا ہے، جس میں زمینی میزائل، فضائی جوہری صلاحیت اور آبدوزوں سے فائر کیے جانے والے ہتھیار شامل ہیں۔

    ’اگنی میزائل سیریز‘، جسے ڈی آر ڈی او نے تیار کیا ہے، ’اگنی-1‘ جیسے قلیل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سے لے کر ’اگنی-5‘ تک، جس کی رینج 5 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے، بھارت کی اسٹریٹجک صلاحیت کی بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت تقریباً ’172 جوہری وارہیڈز‘ موجود ہیں، جبکہ موجودہ پلوٹونیم اسٹاک انہیں مزید بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اندھرا پردیش کا یہ مقام بھارت کی واحد ’خفیہ‘ تنصیب نہیں بلکہ ’مورکی، راجستھان‘ کے قریب ایک اور زیرِ زمین مرکز کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں میزائل اور وارہیڈ کے ذخائر ہوسکتے ہیں۔ یہ تنصیب ’پاکستانی سرحد سے تقریباً 300 کلومیٹر دور‘ واقع ہے اور ’اگنی-1‘ اور ’اگنی-2‘ جیسے میزائلوں کی تعیناتی کے قابل سمجھی جاتی ہے۔خطے پر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ آسام اور اندھرا پردیش کی تنصیب چین کے خلاف بھارتی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جیسے کہ شمال مشرق میں ’پینا کا راکٹ لانچرز‘ کی تعیناتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تنصیبات ’وارہیڈ اور میزائل کے تیز تر ملاپ کی اہلیت بڑھاتی ہیں، اگرچہ بھارت عمومی طور پر وارہیڈز کو الگ رکھتا ہے۔ نئی دہلی نے اب تک اس تنصیب کی باضابطہ تصدیق نہیں کی،

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخو ا و بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    کلّاتک کے علاقے میں، جو تُربت کے نواح میں واقع ہے، نامعلوم مسلح افراد نے ایک موبائل فون ٹاور کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب کیا جس کے نتیجے میں ٹاور زمین بوس ہوگیا اور آس پاس کے علاقوں میں ٹیلی کمیونی کیشن سروسز متاثر ہوئیں۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کے مطابق کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کی نوعیت اور اس میں ملوث افراد کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے مبینہ سہولت کاروں یا نیٹ ورکس کا پتہ لگانے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات اور علاقے کی نگرانی بھی شروع کر دی ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پاک افغان سرحد کے قریب کلی لقمان گاؤں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے دوران چھ دیسی ساختہ بم (IEDs) برآمد کرکے ناکارہ بنا دیے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد ٹارگٹڈ سرچ آپریشن کے دوران ملا۔ کسی گرفتاری یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بلوچستان کی مرکزی شاہراہ پر کئی دنوں سے پھنسے مسافر ایک دھرنے کے باعث شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں مسافر شکایت کرتے ہیں کہ وہ “تین چار دن” سے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ بعض افراد کا الزام ہے کہ ان کی بسوں کو رات کے وقت لوٹا گیا۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ہجوم میں موجود ایک شخص منتظمین سے درخواست کرتا ہے کہ کم از کم محدود راستہ کھول دیا جائے، کیونکہ خواتین، بچے اور بیمار مسافر سہولتوں کے بغیر بسوں میں محصور ہیں۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ مشکلات کے باعث ایک مرد اور ایک خاتون کی موت ہوگئی ہے، مگر حکام نے ان اموات کی تصدیق نہیں کی۔ ویڈیو اس کی اپیل پر ختم ہوتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ بعد میں کیا ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق دھرنا ختم ہونے کے بعد صورتحال بہتر ہوئی۔ اس واقعے نے شاہراہوں کی مسلسل بندش پر عوامی غصہ بڑھا دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ طویل دھرنے مسافروں کو ہراسانی اور لوٹ مار کے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ اس صورتحال سے کالعدم گروہ اور ان کے حامی فائدہ اٹھاتے ہیں،یہ دعوے بھی مصدقہ نہیں۔ ویڈیو سے واضح ہے کہ عوام مستقل رکاوٹوں سے شدید تھکاوٹ کا شکار ہیں۔

    خیبر پختونخوا سے افغان شہریوں کی واپسی منگل کے روز بھی جاری رہی، جہاں 1,145 افراد طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس گئے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق واپس جانے والوں میں 543 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 114 اے سی سی ہولڈرز اور 488 غیر دستاویزی افغان شامل تھے۔ اب تک طورخم کے ذریعے 176,132 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 62,747 اے سی سی ہولڈرز اور 666,542 غیر دستاویزی افغان واپس جا چکے ہیں۔ انگور اڈہ بارڈر سے اب تک 1,241 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 496 اے سی سی ہولڈرز اور 8,447 غیر دستاویزی افراد کی واپسی ہو چکی ہے۔ دیگر صوبوں سے افغان باشندوں کو خیبر پختونخوا منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعہ کو پنجاب سے 8 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 3 اے سی سی ہولڈرز اور 8 غیر دستاویزی افغان منتقل کیے گئے۔ مجموعی طور پر دیگر صوبوں سے 4,313 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 10,384 اے سی سی ہولڈرز اور 37,023 غیر دستاویزی افغانی منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ٹرانزٹ پوائنٹس پر نفاذی کارروائیاں جاری ہیں۔ جمعہ کو 50 غیر دستاویزی افغانوں کو ملک بدر کیا گیا، جس سے ٹرانزٹ سینٹرز کے ذریعے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 7,431 ہو گئی۔

    سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں تور غنڈی چیک پوسٹ کے قریب دہشت گرد حملے میں پاک فوج کے چھ اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے علاقے میں کام کرنے والی سکیورٹی ٹیم کو نشانہ بنایا۔ شہید ہونے والوں میں حوالدار شوکت حبیب، حوالدار سبزل، سپاہی عبد الخالق، سپاہی رفیع اللہ، لانس نائیک امجد اور سپاہی وقاص شامل ہیں۔ زخمیوں میں ایف سی کے اہلکار محمد جاوید خان، محمد ایاز، رب نواز، عامر شہزاد، محمد رضوان اور محمد زید سلطان شامل ہیں۔ انہیں قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں کئی دہشت گرد مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ علاقے میں تحقیقات اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    کرم کے علاقے تورغر میں سکیورٹی فورسز نے ٹھوس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کمانڈر درویش گروپ سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو آرٹلری حملے میں ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق دہشت گرد سرحد پار سہولت کاری اور سکیورٹی پوسٹوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ یہ دونوں حال ہی میں بلند و بالا علاقوں میں اپنی نقل و حرکت کو چھپانے کے لیے آئے تھے۔ فورسز نے ان کی موجودگی کا سراغ لگایا اور درست نشانے سے انہیں ہلاک کر دیا۔ کمانڈر درویش گروپ، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے زیر اثر کام کرتا ہے، ٹارگٹ حملوں، بھرتیوں اور سرحد پار دراندازی میں ملوث رہا ہے۔ یہ کارروائی مغربی سرحد پر ٹی ٹی پی سے وابستہ نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن جاری رہیں گے اور کسی بھی عسکریت پسند کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال خیبر پختونخوا کے 14 اضلاع میں دہشت گردی کے 1,588 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کیسز میں 7,000 سے زائد مشتبہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں رہا، جہاں 394 دہشت گردی کے کیس درج ہوئے۔ شمالی وزیرستان میں 181، پشاور میں 163 اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 152 کیس ریکارڈ کیے گئے۔ نامزد مشتبہ افراد کے لحاظ سے بھی بنوں میں سب سے زیادہ 3,437 افراد شامل ہیں، اس کے بعد شمالی وزیرستان میں 887 اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 865 افراد کو نامزد کیا گیا۔ حکام کے مطابق متعدد کیسز کی تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    سکیورٹی فورسز نے پیر کی شب سنٹرل کرم کے علاقے تورغر پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی درویش گروپ کے 10 سے 15 دہشت گردوں نے پوسٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ باقی فرار ہوگئے۔ اضافی نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو تلاش کیا جا سکے۔ سکیورٹی فورسز میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق کارروائی جاری ہے اور ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔