Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر

    جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر

    وزیراعظم اور صدرِ مملکت کے درمیان مشاورت مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا تاریخی مرحلہ طے پا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    حلف برداری کی تقریب کل صبح 10 بجے ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد ہو گی، جہاں صدرِ مملکت جسٹس امین الدین خان سے حلف لیں گے۔ذرائع کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا قیام ملکی عدالتی نظام میں ایک نئی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔حلف برداری کی تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز، سینئر وکلا، اٹارنی جنرل، وزیر قانون، اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات شرکت کریں گی۔ تقریب کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں،

    تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا قیام آئینی تنازعات کے جلد از جلد حل کے لیے ایک مؤثر پیش رفت ہے، جس سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

  • آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے، عہدے کی مدت 5 سال ،ترمیم منظور

    آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے، عہدے کی مدت 5 سال ،ترمیم منظور

    قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی۔

    مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گا، نئے نوٹی فکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی،مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے، وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔ مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو 3 سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گامجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے،عہدے کی مدت 5 سال ہو گی۔ وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کریں گے۔ان کی تقرری کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جب تعیناتی ہو گی،اعظم نذیر نے کہا کہ قانون نے وضاحت کی ہے چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ سے5 سال کا ہوگا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی نے پاکستان ایئر فورس ایکٹ 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔پاکستان ایئر فورس ایکٹ میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے الفاظ نکالے گئے ہیں۔

  • جسٹس منصور علی شاہ، اطہر من اللہ مستعفی

    جسٹس منصور علی شاہ، اطہر من اللہ مستعفی

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دونوں جج صاحبان نے سپریم کورٹ میں اپنے چیمبرز خالی کر دیے ہیں۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے،27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے استعفے میں کہا کہ ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے اپنا استعفیٰ پیش کروں، آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا،11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا، تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان سے تھا، 27ویں آئینی ترمیم سے قبل، میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی، اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہے جو قوم نے عدلیہ پر کیا، تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا، تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللّٰہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔

  • وفاقی کابینہ نے تینوں سروسز ایکٹس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے تینوں سروسز ایکٹس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں متعلقہ قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس ، اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔وفاقی کابینہ نے پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کا مقصد افواج پاکستان سے متعلق قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243 میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان کی بنیاد پر ضروری قانون سازی کی گئی ہیں جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی معیاد بھی شامل ہے. ان ترامیم کے تحت چیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ موجودہ چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جائے گا۔اسی طرح سے ان قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی شامل کئے گئے ہیں ۔یہ اسکیم اور متعلقہ قوانین میں ترمیم ہمعصر اور جدید جنگی تقاضوں کو سامنے رکھ کر تجویز کی گئیں ہیں۔وفاقی کابینہ نے فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ, 2025 کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبر, 2025 کو ہونے والی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی ۔

  • اسلام آباددھماکہ، خودکش بمبار کی شناخت، افغان نژاد عثمان عرف قاری نکلا

    اسلام آباددھماکہ، خودکش بمبار کی شناخت، افغان نژاد عثمان عرف قاری نکلا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور وانا میں حالیہ خودکش دھماکوں کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام نے ایک خودکش بمبار کی شناخت کر لی ہے، جس کا نام عثمان عرف قاری بتایا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق مبینہ حملہ آور افغانستان کا رہائشی تھا۔اور اسی نے اسلام آباد میں دھماکہ کیا

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے میں افغان شہری ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی اداروں کو حاصل شواہد اور ڈی این اے رپورٹ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ حملہ آور افغانستان سے پاکستان داخل ہوئے اور انہوں نے اسلام آباد میں دہشتگردی کی کارروائیاں کیں۔محسن نقوی نے بتایا کہ حملہ آوروں کے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے راستے اور سہولت کاروں کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق سکیورٹی اداروں نے اب تک کئی اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے آپریشنز کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت بھی اپنی سرزمین پر دہشتگردی برداشت نہیں کرے گا، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو بیرونِ ملک سے آ کر ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق، خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی باقیات کو فرانزک لیبارٹری میں بھیجا گیا تھا جہاں سے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اس کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔ تحقیقاتی ٹیموں کو امید ہے کہ جلد ہی ان حملوں کے پس پردہ نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر لی جائے گی۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان میں جاری انسدادِ دہشتگردی مہم کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ اس سے ملک دشمن عناصر کے نیٹ ورک اور ان کے غیر ملکی روابط کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم سینیٹ سے بھی منظور

    27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم سینیٹ سے بھی منظور

    سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں 27 ویں آئينی ترمیم کا نیا متن پیش کیا گیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔وزیر قانون کی جانب سے ترمیم پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے ایوان میں ڈیسک بجاکر احتجاج کیا جب کہ ترامیم کی شق وار منظوری کے دوران بھی اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔اپوزیشن اراکین نے عدلیہ کی تباہی نامنظور کے نعرے لگائے جس پر چیئرمین سینیٹ نے انہیں نعرے بازی سے منع کیا۔پی ٹی آئی کی فلک ناز ، مرزا آفریدی اور فیصل جاوید نے چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا جب کہ پی ٹی آئی ارکان ووٹنگ کا حصہ نہیں بنے۔

    جے یو آئی کے 4 ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا جب کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ووٹ آئینی ترمیم کے حق میں دیا، کلاز 2 میں ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے اور ترمیم کے خلاف 4 ووٹ آئے۔27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کے بعد تقسیم کے ساتھ ووٹنگ کا عمل کیا گیا اور سینیٹ میں گھنٹیاں بجائی گئیں جب کہ اس دوران سینیٹ ہال کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے۔بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 27 ویں ترمیم کی نئی ترامیم کی ووٹنگ کے دوران 64 ووٹ بل کی حمایت میں اور 4 مخالفت میں آئے۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترامیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا۔

    اعظم نذیر نے ایوان کو بتایا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس پاکستان ہوگا، صدر کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے اور الیکشن کمیشن کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے۔

  • کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں،دہشتگرد افغانی تھے،انکشاف

    کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں،دہشتگرد افغانی تھے،انکشاف

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد افغان شہری تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ حملے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نور ولی محسود نے دیا، دہشت گرد پوری کارروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔ذرائع نے کہا کہ حملے کی منصوبہ بندی خارجی ’زاہد‘ نے کی، خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمے داری ’جیش الہند‘ کے نام سے قبول کی۔ خارجی نورولی فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اِسی لئے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا۔ افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے ۔آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج "جیش الہند” کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تا کے اصل شناحت سامنے نہ آئے۔ اس حملے کیلئے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا ۔جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے ۔کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سیکورٹی خدشات بڑھانا تھا جو کہ بھارتی ایجنسی را کی ڈیمانڈ تھی۔ حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے۔نیشنل ایکشن پلان اور عزم اے استحکام کے تحت آخری دہشتگرد ختم ہونے تک انشاءاللہ آپریشن جاری رہیں گے.

    واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج کے تمام 627 طلبہ اور اساتذہ کو 14 گھنٹے بعد بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا تھا، آپریشن کے دوران 2سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے، کالج کے اندر چھپے چاروں خارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا تھا

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانونٹ جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس  سکول سسٹم کے طلبا کے ساتھ نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانونٹ جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس سکول سسٹم کے طلبا کے ساتھ نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانونٹ جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس اور روٹس سکول سسٹم کے طلباء و طالبات اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے نشست کے دوران افواج ِ پاکستان کے آپریشنل اُمور اور داخلی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی ،پرنسپل کانونٹ جیسس اینڈ میری سکول نے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ،اس خصوصی نشست میں اساتذہ اور طلباء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ،طلباء اور اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ "ہمارے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہمیں آرمی سے بات چیت کا موقع ملا "ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے جو پاکستانی عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں حقائق کو درست نقطہ نظر سے دیکھنے کی تلقین کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں سوشل میڈیا کے حوالے سے پروپیگنڈا ، گمراہ کن اور نقصان دہ معلومات کے بارے میں آگہی دی،اساتذہ کا کہنا تھا کہ آج ہم نے سیکھا کہ ازلی دشمن کے تزویراتی تکبر کا مقابلہ کیسے کیا جائے، ہم پاک فوج کو ان کے پختہ عزم اور بہادری پر سلام پیش کرتے ہیں،طلبا کا کہنا تھا کہ بطور ذمہ دار شہری ہمیں سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا سے خود کو بچانا ہو گا ، میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں میں سچائی جاننے کے لیے تحقیق کرنا ضروری ہے، پاک فوج اور پاکستانی عوام نے مل کر بھارت کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کیا ہے، ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ کس طرح پاک فوج ہمارے ملک کو دہشتگردی سے بچانے میں مدد کر رہی ہے،

  • وانا حملے میں افغان دہشت گرد ملوث، بھارت بھی دہشتگردی میں شامل،وزیراعظم

    وانا حملے میں افغان دہشت گرد ملوث، بھارت بھی دہشتگردی میں شامل،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وانا میں دہشت گردی کی کوشش کرنے والے خوارج میں بدقسمتی سے افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے، دہشت گردوں کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا، اب بھی دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں افغانستان امن عمل میں شریک ہو اور دہشت گردوں کو قابو میں رکھے، امن ہی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پر بھرپور مشاورت کے بعد اسے آئین کا حصہ بنا دیا گیا، وفاق کو کمزور کرنے والی کوئی بھی چیز پاکستان کے لیے مفید نہیں، کالا باغ ڈیم اقتصادی منصوبہ ضرور ہے لیکن قومی یکجہتی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔شہباز شریف نے اسلام آباد کچہری میں خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ ملوث ہے، افغان وزیر خارجہ بھارت گئے اور ان کے دوروں کے پیغامات واضح ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، سب سے زیادہ قربانیاں ہمارے فوجی افسران اور جوان دے رہے ہیں، آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینا قوم کی جانب سے ان خدمات کا اعتراف ہے۔وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ عرفان صدیقی ایک عظیم استاد اور رہنمائی کا مینار تھے

    سینیٹ اجلاس طلب، 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری ایجنڈے میں شامل

    بلوچستان کے 36 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس 16 نومبر تک معطل

    امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد و ادارے نشانہ

  • انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کا اجلاس،بھارت کا شرکت سے انکار

    انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کا اجلاس،بھارت کا شرکت سے انکار

    انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کا اجلاس 17 سے 21 نومبر 2025 تک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقد ہو گا۔ یہ اجلاس دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے کے تحت بھارت کے آبی منصوبوں، بالخصوص کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق تنازعات کے جائزے کے لیے بلایا گیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، پاکستان اجلاس میں خلوصِ نیت کے ساتھ مکمل طور پر شریک ہوگا تاکہ معاہدے کے تحت اپنا مؤقف اور خدشات پیش کر سکے۔دوسری جانب، بھارت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ویانا میں ہونے والی نیوٹرل ایکسپرٹ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ چونکہ پاکستان نے اسی معاملے پر کورٹ آف آربیٹریشن سے بھی رجوع کیا ہے، اس لیے بیک وقت دو فورمز پر کارروائی معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

    تاہم، نیوٹرل ایکسپرٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کی عدم شرکت کے باوجود کارروائی جاری رہے گی اور مقررہ تاریخوں پر اجلاس منعقد ہوں گے۔ذرائع کے مطابق، اجلاس کے دوران پاکستان کی ٹیم بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی کے بہاؤ پر ان کے ممکنہ اثرات پر اپنے دلائل پیش کرے گی۔