Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ضیاء الدین  یوسفزئی  کی  کتاب  اسے  پرواز کرنے  دو کا پشتو ترجمہ  شائع  ہوگیا

    ضیاء الدین یوسفزئی کی کتاب اسے پرواز کرنے دو کا پشتو ترجمہ شائع ہوگیا

    ماہر تعلیم اور ملالہ فنڈ کے شریک بانی ضیاء الدین یوسف زئی کی کتاب "اسے پرواز کرنے دو” اب آپ پشتو ترجمہ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ حال ہی میں پشتو زبان میں شائع ہونے والی ضیاء الدین یوسف زئی کی کتاب کا پشتو عنوان ہے "ھغہ الوت تہ پریردی” اس کا ترجمہ کیا ہے مصنف ہمدرد یوسفزئی نے اور تدوین و ترمیم کی ہے معروف لکھاری فضل ربی راہی نے جبکہ اس سے قبل بھی راہی انگریزی کتاب "لٹ ہر فلائی” کا اردو ترجمہ "اسے پرواز کرنے دو’ میں کرچکے ہیں۔ واضح رہے انگریزی کتاب میں شریک مصنف معروف مصنف لوئس کارپینٹر تھی۔

    اس حوالے سے ضیاء الدین یوسف زئی نے ان کی کتاب کا پشتو میں ترجمہ کرنے پر مصنف ہمدرد یوسفزئی اور تدوین و ترمیم کیلئے مصنف فضل ربی راہی کا شکریہ ادا کیا۔

    ضیاء الدین یوسفزئی کی اردو کتاب کے مترجم  فضل ربی راہی
    ضیاء الدین یوسفزئی کی اردو کتاب کے مترجم فضل ربی راہی

    ضیاء الدین لکھتے ہیں: "یہ کتاب میری زندگی کے مسلسل اتار چڑھاو کی کہانی ہے جو زندگی میں پہلی بار شائع ہوئی تھی” 

    یہ کتاب شائع کی ہے شعیب سنز پبلیکیشن والوں نے اور اس کتاب کو سوات شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز سوات مارکیٹ مینگورہ سے جبکہ پشاور میں یونیورسٹی بک ایجنسی (خیبر بازار) بک ہاؤس (شیخ یاسین ٹاور، ارباب روڈ) اور اسلام آباد سے سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے.


    یہ کتاب اب تین زبانوں اردو، پشتو اور انگریزی ترجمہ میں موجود ہے۔ 

    ضیاء الدین یوسفزئی کی پشتو کتاب کے مترجم  ہمدرد یوسفزئی
    ضیاء الدین یوسفزئی کی پشتو کتاب کے مترجم ہمدرد یوسفزئی

    سوشل میڈیا پر "اسے پرواز کرنے دو” کا پشتو ترجمہ آنے کے بعد صارفین خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئی کو مبارک باد دے رہے ہیں اور اس کتاب کو پڑھنے کیلئے بے تاب بھی دکھائی دیتے ہیں۔


    سینئر صحافی رحمان بونیری ضیاء الدین یوسف زئی کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "اس کتاب کا مترجم ہمدرد یوسفزئی بہت باصلاحیت اور ذہین لکھاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ترجمہ بھی بہت خوبصورت ہوگا۔

    اگرچہ میں نے یہ کتاب انگریزی میں پڑھی ہے لیکن پشتو میں بھی پڑھوں گا۔”

  • اچھا وقت آنے والا ہے، عوام کو تکلیفوں سے نجات دلائیں گے،مریم نواز

    اچھا وقت آنے والا ہے، عوام کو تکلیفوں سے نجات دلائیں گے،مریم نواز

    پکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ گو نیازی ہوگیا، اب نیازی رو رہا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تحریک انصاف نے کیا، انہوں نے پاکستان کو گروی رکھ دیا ، ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم مرجا تے لیکن پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھاتے، اچھا وقت آنے والا ہے، عوام کو تکلیفوں سے نجات دلائیں گے، عمران خان پنجاب کی ترقی کے دشمن، حمزہ شہباز صوبے کے عوام کو بڑا پیکج دینے جارہے ہیں، 17 جولائی کو کٹھ پتلیوں کو ہرائیں گے۔

    ضمنی الیکشن کے سلسلہ میں مریم نواز نےلاہور کے حلقہ پی پی 158 دھرم پورہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجھے دھرم پورہ کا نہیں پورے لاہور کا جلسہ لگ رہا ہے، دھرم پورہ کا جلسہ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اللہ نے فتح عطا فرما دی ہے، نواز شریف لندن سے یہ جلسہ لائیو دیکھ رہے ہیں۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم نے پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں دل پر پتھر رکھ کر بڑھائیں، قیمتیں بڑھانے پر ہم گھر میں چھپ کر نہیں بیٹھے، آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا پڑیں، آئی ایم ایف معاہدہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا تھا، پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ ہم نے قیمتیں کیوں بڑھائیں، گو نیازی گو تو ہوگیا اب روتا پھر رہا ہے ہر جگہ، عمران خان پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ کر گیا، ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم مر جاتے لیکن قیمتیں نہ بڑھاتے۔

    رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ وعدہ کرتی ہوں کہ تکلیفوں سے عوام کو نجات دلائیں گے، فتنہ خان کی طرح نہیں کہوں گی کہ گھبرانا نہیں ہے، 2013 میں ن لیگ کی حکومت سے پہلے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی، 2018 میں حکومت جانے سے پہلے لوڈشیڈنگ زیرو پر لاکر دکھائی، نواز شریف نے 2018 میں عوام کو لوڈ شیڈنگ فری پاکستان دیا تھا، ہم زیرو پر لوڈشیڈنگ لا کر دکھائیں گے، فتنہ خان کی حکومت کے بعد شہباز شریف کی حکومت کو 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ملی۔

    مریم نواز نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے سٹاف سے پوچھا شہباز شریف کب اٹھتے ہیں، سٹاف نے بتایا کہ شہباز شریف تہجد پڑھ کر ایکسرسائز کرتے ہیں، پھر فجر کے بعد کام شروع کر دیتے ہیں، عمران خان 12 بجے سے پہلے نہیں اٹھتا تھا، فتنہ خان پنجاب پر پھر نظر لگا کر بیٹھا ہے، 20 گھنٹے سے لوڈشیڈنگ صفر پر لایا کوئی پوچھے تو کہنا نواز شریف آیا تھا، زیرو سے 10 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ لایا کوئی پوچھے تو کہنا فتنہ خان آیا تھا۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں ایک ڈالر میں تیل سستا ہوا تو شہباز شریف عوام کو اسی وقت ریلیف دیں گے، کل پنجاب کی تاریخ کا ریلیف پیکج حمزہ شہباز دینے جا رہے ہیں، عمران خان کا چیلنج شہباز شریف نے قبول کیا ہے سب کچھ ٹھیک کرکے دکھائیں گے، فتنہ خان نے بار بار احتجاج کی کال دی لیکن کوئی احتجاج میں شامل نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ مہنگائی والے کا نام عمران خان ہے، کرسی کیا گئی دماغی توازن بگڑ گیا ہے، 75سال میں ایسا سیاستدان دیکھا ہے جو نیوٹرلز کو جلسوں میں کہتا ہے کہ مجھے اقتدار میں لے کر آؤ، عمران خان احسان فراموش آدمی ہے، عمران خان کو نیوٹرلز نے انگلی پکڑ کر چلایا،سابق وزیراعظم کو بیساکھیوں کی عادت پڑ گئی تھی، بیساکھیاں گئیں تو دھڑام سے نیچے گر گیا۔

    مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بیوی کہتی ہے کہ پاکستان کے اداروں کے خلاف مہم چلاؤ، عوام غریب اور یہ لوگ امیر ہوگئے، عوام کو تکلیف خود کو ریلیف دیا، عمران خان سے بڑا پنجاب دشمن کوئی نہیں، سب سے بڑا ڈاکا فتنہ خان نے پنجاب کے وسائل پر ڈالا، پنجاب کو چلانے کیلئے کٹھ پتلیاں رکھی ہوئی تھیں، پنجاب کی ترقی کا دشمن فتنہ خان ہے، پنجاب کے عوام کے پیسے بنی گالا جاتے تھے، 17 جولائی کو لاہور سے شیر کی آواز آئے گی، توشہ خان پنجاب کے مینڈیٹ پر نظر لگا کر بیٹھا ہے، توشہ خان سن لو 17 جولائی کو پنجاب سے بھی تمہاری سیاست کا صفایا ہوجائے گا، عمران خان دور میں عوام غریب اور اس کے سوتیلے بچے امیر ہوگئے۔

  • ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی کی معافی سے متعلق ہم نے تمام ریکارڈ حاصل کر لیا، تحریک اںصاف کے رہنما کی ملاقات اور معافی کے شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکاکے خلاف نعرے لگانے والا امریکا کے پاؤں پکڑ رہا ہے،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے، سلسلہ وہیں سے شروع کیا جائے جہاں سے ٹوٹا تھا۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کا ادراک ہے، آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں گے، عمران خان کا ایجنڈا ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا، ان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں۔

    سیالکوٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق خواجہ محمد آصف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص اپنے خون کا وفا دار نہیں، آج ادارے آئنی حدود میں رہ رہے ہیں تو یہ ان پر کیچڑ اچھالتا ہے، ہم تمام اداروں کا دفاع کریں گے، عمران خان کا ایک ہی مشن ہے کہ ہمارا ایٹمی ملک اندر سے کمزور ہو۔

    وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 2023 میں آئین کے مطابق شفاف انتخابات ہوں گے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا عمران خان کا ایجنڈا ہے، ایسا دور شروع ہوگیا ہے کہ ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ادارے ساتھ نہ دیں تو عمران خان انکے خلاف مہم شروع کر دیتے ہیں، عمران خان چھپ کر خیبر پختونخوا میں بیٹھا رہا، سابق وزیراعظم کے گرد قانون کا دائرہ تنگ ہو رہا ہے، مہنگائی کے عذاب میں سابق حکومت نے ڈالا، ہم آئین و قانون کی حکمرانی کے داعی ہیں، اداروں کا احترام کرتے ہیں، مضبوطی کے خواہاں ہیں۔

    واضح رہے کہ:
    سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اپنے خلاف عدم اعتماد ووٹ لائے جانے کے دوران اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک دھمکی آمیز خط لہرا کر الزام عائد کیا تھا کہ ایک امریکی سفیر (ڈونلڈ لو) نے ہمارے پاکستانی سفیر کو کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا.انہوں نے مزید دعوی کیا تھا کہ ان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے ساری سازش امریکہ نے کی ہے.

    بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس نے عمران خان کے امریکی سازش والے دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کوئی سازش ہوئی

  • باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    لاہور:باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سے گرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟اس حوالے سے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ علاؤالدین مری جو کہ آج کل باغی ٹی وی سے منسلک ہیں اوربلوچستان کے مسائل کے حوالے سے ایک ماہرانہ تجزیہ اورتبصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آج انہوں نے بلوچستان کےمسائل کے حل نہ ہونے کا ذمہ دارقوتوں اورافراد کی نشاندہی کی ہے

    علاوالدین مری نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام موسم اور دنیا کی قیمتی ترین معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ صوبہ ابھی بھی پسماندگی کا شکار ہے ،

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ اس ساری صورت حال کے ذمہ داربلوچستان کی سیاسی قوتیں بھی ہیں اور وفاق بھی اس کاذمہ دار ہے، عفیفہ راو کے ایک سوال کے جواب میں علاوالدین مری نے کہا کہ شہبازشریف کا صوبے کا تھوڑے ہی عرصے میں تین مرتبہ دورہ ایک اچھی بات ہے لیکن صرف دورے ہی کافی نہیں ، سابق حکومت کے دور میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے بہت زیادہ فنڈز رکھے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی خاص ترقی دیکھنے کو نہیں ملی

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین اسلم بھوتانی ,خالد مگسی اور دیگررہنماوں کا یہ کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بلوچستان کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈزدیئے گئے لیکن ہمیں عزت نہیں دی گئی ، اوراگرموجودہ حکومت کو دیکھا جائے توہمیں اگرعزت دیتے ہیں تو بلوچستان کے لیے اس قدرفنڈز نہیں دے رہے ہیں بلوچستان ہردوراورہرحکومت میں ایسے ہی پسماندہ رہا ہے ، گوادر کے حالات سب کے سامنے ہیں ، چین کے بھی کچھ ایسے ہی کنسرن ہیں

     

     

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان کی ترقی کےلیے ضروری ہے کہ بلوچستان بھرمیں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے جائیں ، صنعتوں کو فروغ دیا جائے ،اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیا جائے ، نوجوان طبقے کوفنی تعلیم دلوا کرمعاشی سرگرمیوں کے لیےتیار کیا جائے نہ کہ گورنمنٹ جاب کی طرف دھکیل دیا جائے جس میں کم تنخواہوں سے کیسے گزارہ ہوسکتا ہے

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس بنائی جائیں‌، ٹیکس فری زون بنائیں جائیں تاکہ لوگ معاشی سرگرمیوں کی طرف لوٹیں اورصوبے میں ایک بہتردور کاآغاز ہوسکے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہےکہ بلوچستان کے ہرعلاقے میں ترقیاتی کام کیے جائیں ، لوگوں‌کوتعلیم صحت اورروزگار فراہم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اپنے ہی علاقوں میں روزگارمل سکے

    علاوالدین مری کہتےہیں‌کہ اس سلسلے میں حکومتوں کوعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ بیانات کے ذریعے سہارا لیکرعوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کی خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور احساس محرومی ختم کرنے کےلیے کوشش کرے

  • لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور ملک کو شدید گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا، سستے اور مقامی بجلی گھروں پر کام میں دانستہ تاخیر کی، عالمی سطح پر ایل این جی کی کم قیمتوں کے وقت طویل المدتی معاہدے نہ کرنے، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور سرکلر ڈیٹ بھی لوڈشیڈنگ کی وجوہات ہیں، موجودہ حکومت نے بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے اگست 2022 تک 70 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا بندوبست کیا ہے،سابق حکومت کی سستی کی وجہ سے کروٹ ہائیڈرو، شنگھائی الیکٹرک اور پنجاب تھرل آر ایل این جی کے 3197 میگاواٹ کے منصوبے اپنی معین مدت میں مکمل نہ ہوسکے۔

    دستیاب اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کی زیادہ تر وجوہات سابقہ حکومت کی 2018 سے 2022 کے دوران غفلت اور کمیشن ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے باعث پاکستان کے پاور سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مالیاتی بندش میں تاخیر بھی سابق حکومت کی نااہلی تھی، حکومت پاکستان کی جانب سے ساہیوال کول اور حب جیسے مکمل شدہ منصوبوں کیلئے ریوالونگ اکائونٹ کھولنے میں ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سی پیک کے تحت بجلی کی تیاری کے سلسلہ میں توانائی کے شعبہ کیلئے مزید فنانسنگ نہیں ہے۔

    سابق حکومت یا تو سی پیک کے توانائی کے فریم ورک کو سمجھ نہیں سکی یا یہ فریم ورک اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس سستی کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا اور اس شعبہ کاگلہ گھونٹا گیا۔ 720 میگاواٹ کا حامل کروٹ ہائیڈرو پراجیکٹ فروری 2022ء میں مکمل ہونا تھا تاہم یہ منصوبہ اب جولائی میں مکمل ہوا ہے۔ 1214 میگاواٹ کا تھرکول بلاک اور معدنیاتی شنگھائی الیکٹرک منصوبہ کی تکمیل مئی 2022ء میں ہونا تھی تاہم اب یہ مئی 2023ء میں مکمل ہونا ہے۔

    اسی طرح اعلیٰ کارکردگی کا حامل 1263 میگاواٹ کا پنجاب تھرمل آر ایل این جی پاور پلانٹ جھنگ پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے تین سال سے زیادہ تاخیرکا شکار رہا۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق فیول مکس کی عدم دستیابی کی وجوہات میں آر ایف او کی عدم دستیابی ہے۔ 30 جون 2022 تک آئل انڈسٹری (او ایم سیز اور ریفائنریز) کے پاس دستیاب آر ایف او کے موجودہ ذخائر دو لاکھ 77 ہزار میٹرک ٹن ہیں جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او کے دو کارگو اس وقت بندرگاہ سے باہر ہیں ۔

    جولائی 2022 کیلئے تقریبا ایک لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن کی درآمد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ انتظامات جولائی 2022 کے دوران پاور ڈویژن کی طرف سے رکھی گئی چار لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن کی طلب کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کی صنعت نے پراڈکٹ کا بندوبست کیا ہے لیکن پاور پلانٹس کی طرف سے پاور ڈویژن کے کم آرڈرز اور ادائیگیوں کے مسائل کی وجہ سے اس کی حقیقی اپ لفٹمنٹ کم رہی۔ پٹرولیم ڈویژن پاور سیکٹر کیلئے مطلوبہ آر ایف او انتظام کرنے کیلئے تمام کوششیں کر رہا ہے اور متعلقہ پاور پلانٹس کی جانب سے بروقت آرڈر دینے اور پیشگی ادائیگیوں سے مشروط آر ایف او کی ضروریات کو آرام سے پورا کرسکتا ہے۔

    اعداد وشمار کے مطابق 21 اپریل 2022 کو مئی اور جون کیلئے تین کارگو کے ٹینڈر دیئے گئے تاہم جون کے کارگو کیلئے کوئی بڈ موصول نہیں ہوئی جبکہ مارکیٹ کی قیمت سے زائد قیمت کی وجہ سے دو کارگو ایوارڈ نہیں کئے گئے۔3 جون 2022 کو جولائی 2022 کیلئے ایک کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی۔ تاہم ایل سی کنفرمیشن مسائل کی وجہ سے اس میں شرکت کم رہی۔10 جون کو جولائی کے ماہ کیلئے ایک کارگو، اور 23 جون 2022 کو چار کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی اس میں بھی یہی مسائل رہے۔ 16 سے 30 اپریل 2022 کے دوران ایک لاکھ 39 ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ دی گئی جبکہ ایک لاکھ 68 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او اپ لفٹ کیا گیا۔ مئی 2022 میں تین لاکھ چار ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں دو لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا جبکہ جون 2022 کیلئے چار لاکھ 42 ہزار میٹرک ٹن ڈیمانڈ کے مقابلہ میں تین لاکھ چھ ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا۔

    موجودہ حکومت نے اپریل میں 8 ملین ، مئی میں 12ملین، جون میں 12 ملین، جولائی میں 8 ملین اور اگست 2022 میں 7 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا انتظام کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپریل سے جون 2022 کے دوران ایل این جی کی سپاٹ خریداری شروع کی۔ اس دوان 573 ملین ڈالر کی ایل این جی کی خریداری کی گئی۔ گوکہ پی ایس او اور پی ایل ایل کے ایس این جی پی ایل اور پاور سیکٹر کی طرف بڑی مقدار میں بقایا جات ہیں لیکن اس کے باوجود بجلی کیلئے سپلائی جاری رکھی گئی۔ جون میں ایل این جی کی ادائیگی میں پی ایس او کا شارٹ فال 285 ارب جبکہ پی پی ایل کا 119 ارب قابل وصول ہے۔ پی ایس او اور پی ایل ایل، ایل این جی درآمد کیلئے مصروف عمل ہیں۔

    سابق حکومت کی جانب سے ایل این جی کی عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے پر طویل المدتی کنٹریکٹ نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے اب زائد قیمت پر ایل این جی مل رہی ہے جوکہ آر ایل این جی کی خریداری کے طویل المدتی معاہدوں میں کمی ہے۔ 2020 کے وسط میں آر ایل این جی 3 سے 5 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی تاہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اگر اس وقت یہ معاہدہ کرلیا جاتا تو آج صارفین کو بجلی کے بل کم ملتے۔2018 سے 2022 کے دوران مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت کے معاہدہ کی وجہ سے ایل این جی 8 ڈالر پر دستیاب تھی جبکہ اس وقت اس کی قیمت 9 ڈالر 44 سینٹ تھی جبکہ حالیہ مہینوں میں آر ایل این جی 38 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کرچکی ہے۔

    دستاویز کے مطابق جو 2018 میں سرکلر ڈیٹ 1152 ارب روپے تھا جبکہ مارچ 2022 میں اس میں 114 فیصد اضافہ کے ساتھ 2467 ارب تک پہنچ گیا۔ سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے دور میں ڈالر کی قدر 115 کے مقابلہ میں 191 روپے تک بڑھ جانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ نے پرائیویٹ پاور پلانٹس کو حکومتی ادائیگیوں کو بھی متاثر کیا۔ 3900 میگاواٹ کے کوئلہ کے تین بڑے پاور پلانٹس کوئلہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی استعداد کے مطابق نہیں چل رہے۔

    ایک کول پاور پلانٹ کا کوئلہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کراچی پورٹ سے واگزار نہیں ہوسکا۔عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ 18 ماہ میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں آر ایف او فی میٹرک ٹن 58 ہزار 85 روپے سے تھی جو اپریل 2022 میں ایک لاکھ 28 ہزار 210 میٹرک ٹن ہوگئی اسی طرح آر ایل این جی 1250 ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی جو اپریل 2022 میں 2671 روپے تک پہنچ گئی۔2018 میں کول 18107 روپے ٹن تھا جو اپریل 2022 میں 63775 روپے ہوگیا۔

  • وزیراعظم کی شجاعت حسین سے ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    وزیراعظم کی شجاعت حسین سے ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف لاہور میں چوہدری شجاعت حسین سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کیلئے گئے.اس موقع پروفاقی وزیر سالک حسین، صوبائی وزیر ملک احمد خان اور چوہدری شافع حسین بھی ملاقات میں شریک تھے۔

    بکرا منڈیوں تک عوام کی سہولت کے لیے شٹل سروس چلائی جاۓ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف اور چوہدری شجاعت حسین نے ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے وزیراعظم کو سابق صدر آصف زرداری سے حلیہ ملاقات سے آگاہ کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے چوہدری شجاعت حسین سے ان کی طنعیت کے بارے میں بھی دریافت کیا.تاہم دونوں رہنماوں نے مستقبل میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے پر اتفاق کیا.دونوں رہنماوں نے اہم معاملات پر مشاورت بھی کی.

    اس سیقبل وزیر اعظم شہباز سریف دنیا نیوز کے سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کے گھر جوہر ٹاؤن گئے، شہباز شریف نے سلمان غنی سے انکے بھائی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنا اولین ترجیح ہے، دیوالیہ پن کا خطرہ ٹل گیا، مشکل وقت میں ڈیپازٹ پر چین کے شکرگزار ہیں ہیں۔اس موقع پر سینئر صحافی سجاد میر، مجیب الرحمٰن شامی اور دیگر بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دن رات محنت کر کے ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے، ہم مشکل وقت سے نکل آئے ہیں، ہمیں چین کا ہمیشہ شکر گزار رہنا چاہیے، ڈیپازٹ جمع کرانے پر چین کے شکر گزار ہیں، دیوالیہ پن سے ہم نکل آئے ہیں،قوم پریشان نہ ہو۔

  • بکرا منڈیوں تک عوام کی سہولت کے لیے شٹل سروس چلائی جاۓ،وزیراعظم

    بکرا منڈیوں تک عوام کی سہولت کے لیے شٹل سروس چلائی جاۓ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج لاہور میں عید الاضحی کی تیاری اور عید کے دنوں میں صفائی کے نظام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس کے شرکاء میں معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب خواجہ احمد حسن، چیف سیکرٹری پنجاب ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب ، آئی جی پنجاب پولیس ، کمیشنر لاہور , صوبائی و ضلعی انتظامیہ لاہور کے افسران اور پنجاب پولیس کے دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو پنجاب میں عید الاضحی کے دوران صفائی کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی۔

    وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ عید کے دنوں میں صفائی کی مشینری کو شفٹوں میں چوبیس گھنٹے فعال رکھیں اور عوام کی دہلیز سے آلائشیں اٹھانے کے عمل کو یقینی بنائیں. عوام کی سہولت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مویشی خریداری کے مراکز قائم کیے جائیں جن میں حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامات کیے جائیں تاکہ کورونا اور ڈینگی جیسی وباؤں سے بچا جا سکے.وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ بکرا منڈیوں تک عوام کی سہولت کے لیے شٹل سروس چلائی جائے،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مویشی منڈیوں میں کورونا حفاظتی اقدامات کیے جائیں .

    اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور میں صوبہ پنجاب میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی، چیف سیکرٹری پنجاب ، آئی جی پنجاب پولیس اور پنجاب پولیس کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں وزیراعظم کو صوبہ پنجاب میں امن و امان کی صورت حال پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ وزیراعظم نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ کو اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کی انجام دہی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر ممکن یقینی بنائیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پولیس کو جدید چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے. وزیراعظم نے مزید کہ ناقص کارکردگی اور سست روی کو برداشت نہیں کیا جائے گا.

    علاوہ ازیں وزیر اعظم دنیا نیوز کے سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کے گھر جوہر ٹاؤن گئے، شہباز شریف نے سلمان غنی سے انکے بھائی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنا اولین ترجیح ہے، دیوالیہ پن کا خطرہ ٹل گیا، مشکل وقت میں ڈیپازٹ پر چین کے شکرگزار ہیں ہیں۔اس موقع پر سینئر صحافی سجاد میر، مجیب الرحمٰن شامی اور دیگر بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دن رات محنت کر کے ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے، ہم مشکل وقت سے نکل آئے ہیں، ہمیں چین کا ہمیشہ شکر گزار رہنا چاہیے، ڈیپازٹ جمع کرانے پر چین کے شکر گزار ہیں، دیوالیہ پن سے ہم نکل آئے ہیں،قوم پریشان نہ ہو۔

  • بڑی عید پر پانچ چھٹیوں کا اعلان

    بڑی عید پر پانچ چھٹیوں کا اعلان

    بڑی عید پر بڑی چھٹیاں ،عید الضحیٰ کے موقر پر وزیراعظم نے پانچ چھٹیوں کا اعلان کر دیا ،وزیر اعظم آفس نے پانچ چھٹیوں کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ،سرکاری تعطیلات جمعہ سے منگل تک ہوں گی ،نوٹی فکیشن کے مطابق عید کی چھٹیاں 8 جولائی سے 12 جولائی تک ہوں گی.

    قبل ازیں ڑی کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کو سمری بھجوا دی.سیکریٹری کابینہ ڈویژن سردار احمد نواز سکھیرا نے 10 سے 12 جولائی تک عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کی منظوری کیلئے وزیراعظم شیباز شریف کو معاسلہ لکھ دیا ہے.

    کابینہ ڈویژن نے عید الاضحیٰ کیلئے تین چھٹیوں کی تجویز دی ہے جو 10 جولائی سے 12 جولائی 2022 تک ہوں گی ،تاہم وزیراعظم کی منظوری کے بعد عید کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا.

    دوسری طرف وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں عید الاضحٰی پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں صفائی پلان کا تفصیلی جائزہ لیاگیا .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عید الاضحٰی پر لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں صفائی کے بہترین انتظامات کے لئے ٹاسک سونپ دیئے جبکہ حمزہ شہباز نے کمشنر لاہورڈویژن، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر اضلاع کے انتظامی افسران کو عید الاضحٰی پر فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایت کر دی.

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ مخلوق خدا کو صاف ماحول فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔عوامی نمائندے بھی اپنے علاقوں میں صفائی کے انتظامات کی نگرانی کریں .وزیراعلیٰ نے یونین کونسل کی سطح پر عوامی نمائندوں کو صفائی کے عمل میں شریک کرنے اور کمیٹیاں تشکیل دیئے کی ہدایت کی.وزیر اعلی حمزہ شہبازنے صفائی کے انتظامات کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم بنانے کا حکم بھی جاری کر دیا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ صفائی پلان کی موثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔صفائی پلان کے تحت کئے جانے والے تمام انتظامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا. گنجان آبادیوں میں صفائی کے انتظامات پر خصوصی فوکس کیا جائے۔وزیر اعلی حمزہ شہبازنےعید الاضحٰی پر بارش کے امکان کے پیش نظر واسا کو چوکس رہنے کی ہدایت بھی کی.

  • فرح گوگی کو ریڈ وارنٹ کے ذریعے لائیں گے،صوبائی وزراء

    فرح گوگی کو ریڈ وارنٹ کے ذریعے لائیں گے،صوبائی وزراء

    صوبائی وزرا اور لیگی رہنما ملک احمد خان اور عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان نئے جھوٹ گھڑنے کے ماہر ہیں، حکومت ختم ہونے لگی تو بیرونی سازش کا بیانیہ دیا گیا، پاکستان کو خطرہ بیرونی نہیں عمران خان کی اندرونی سازش سے ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیگی رہنماوں ملک احمد خان اور عطاءاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال عوامی خدمت کے نام پر لوٹ مار ہوتی رہی، تحریک انصاف ضمنی الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے، جو عمران خان کے خلاف بولے وہ غدار، کرپشن چھپانے کیلئے الزامات لگانا ان کا ویترہ ہے۔

    مخالفین کے خلاف غداری کا بیانیہ بنایا جائے، بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو لیک

    ملک احمد خان نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنی حکومت جانے کےبعداداروں کیخلاف ہرزہ سرائی شروع کردی، وہ اپنے سوا تمام سیاسی جماعتوں کو ناسمجھ کہتے اور خود کو حق اور سچ کا علمبردار سمجھتے ہیں، اپنی خفت مٹانے کیلئےنت نئے جھوٹ گھڑتے رہتے ہیں، حکومت ختم ہونے لگی تو بیرونی سازش کا بیانیہ بنا دیا۔ سازش سے متعلق ایک خط کا چرچا کیا گیا، اگرسازش کاپتہ چل گیا تھا تو اس ملک کےسفیر کو کیوں نہیں بلایا، اس ملک کو جوابی مراسلہ کیوں نہیں لکھا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بیرونی سازش کانام لے کراندرونی سازش کی، بیرون ملک سے ملےتحائف بیچ دیئے، عمران خان کو”توشہ خان” سے بہتر نام نہیں دیا جا سکتا، یہ عوامی خدمت کے نام پر عوام کو لوٹتے رہے۔ عمران خان کے آئینی حدود میں رہ کرسیاست کرنے پر اعتراض نہیں، انہوں نے کرپشن کی بنیاد پر جھوٹ کی سیاست کی۔

    ملک احمد خان نے کہا کہ ، کہا جاتا تھا عمران خان کی بیوی ایک گھریلو خاتون ہیں، اگر یہ گھریلو خاتون نہ ہوتی تو شاید ایٹم بم چلاتی،اس آڈیو میں کہا گیا کہ جو بھی پارٹی چھوڑے علیم خان صاحب کو غداری سے جوڑ دیا جائے،مولانا فضل الرحمان یا جو بھی لوگ آج حکومت میں ہیں،اگر آپ کے خلاف سازش ہوئی تھی تو اس ملک کے ایمبیسیڈر کو کیوں نہیں بلایا، امریکی ایمبیسیڈر ڈونلڈ لو ہمارے سفیر سے بات کررہے ہیں، مطلب میں روس سے بات کررہا ہوں گا تو دوسرے ممالک بات کرتے ہیں، سازش کے لغوی معنی تو سمجھ لو

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آپ نے بیرونی سازش کا نام لے کر اندرونی سازش کی،آپ نے عسکری اداروں سے مدد مانگی ،کسی کو سراج الدولہ کسی کو میر جعفر کہا تو آپ کا اپنا کردار کیا ہے، ان کا توشہ خان سے بہتر نام کوئی نہیں دیا جاسکتا،ان کی بیوی تحفے ساتھ لے گئی، فارن فنڈنگ کے معاملات سب کے سامنے ہے،شوکت خانم کے معاملات کو سیاست میں تبدیل کیا گیا،اگر یہ حکومت میں ہوں تو جنرل باجوہ بہترین ڈیموکریٹ ہیں ، بہترین جنرل ہیں، ہر ہفتے جنرل باجوہ کی تعریف کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے،عمران خان نے کرپشن کے بیانیے کی بنیاد پر ن لیگی قیادت کے کیسز میں ایک مناسب گواہ موجود نہیں تھا،پہلے کہتے رہے کہ دس ارب روزانہ ملک سےباہر چلے جاتے ہیں، یاسمین راشد نے کہا کہ ریاستی ادارے ضمنی الیکشن میں اثر انداز ہورہے ہیں کوئی ایک کال دکھا دیں، پہلا ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں تھا یہ سپریم کورٹ میں چلے گئے،گھرانہ ڈاٹ کام کس کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، ارسلان خالد ڈیجیٹل میڈیا سے کروڑوں روپے لوگوں کو دیتے رہے، ریاست پاکستان کا پیسہ آپ کے باپ کا پیسہ نہیں تھا،

    ملک احمد خان نے کہا کہ آپ نے پاکستان کے اداروں کے خلاف سازش کی، آپ پاکستان کے ساتھ برا کیا، آپ نے پاکستان کی سفارت کو گندا کیا،آپ کہتے ہیں کہ دوسرا ملک سازش کررہا ہے تو آپ کا صدر عارف علوی اس سے مل رہا ہے،فرح گوگی کس کو نہیں پتہ تھانے بکے ہیں، کس کو نہیں پتہ اربوں روپے سی اینڈ ڈبلیو سے بزدار کی جیب میں گئے اور وہاں سے فرح گوگی اور پنکی پیرنی کی جیب میں گئے، ضمنی الیکشن میں بیس میں سے اٹھارہ انیس سیٹوں کو انشاء اللہ ہم جیتے گے.

    عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ ہمارے سے سوال یہ ہوتا تھا کہ کاروائی نہیں کرتے، یکم جولائی کو اینٹی کرپشن پنجاب نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے، دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،فرح گوگی صاحبہ نے دس ایکڑ کا انڈسٹریل پلاٹ جس کی قیمت ساٹھ کروڑ کا ہے آٹھ کروڑ میں الاٹ کروایا ہے،فرح گوگی کی والدہ کا نام بھی بشری خان ہے، احسن جمیل نے جعلی بینک گارنٹی دے کر یہ پلاٹ الاٹ کروایا ہے، رانا یوسف اور مقصود احمد کو گرفتار کیا ہے، یہ کلیئر کیس ہے عمران خان ایک عام آدمی نہیں ہے.

    انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے پیکٹ میں پیسے جانے کام عمران خان نے شروع کیا ،پنجاب کے اندر تھوک کے حساب سے ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو اپروو کیا گیا،یہ ڈائمنڈ چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں باہر جاتا تھا،وزیر اعظم واحد چیز توشہ خان کو ہاتھ ڈال سکتا ہے عمران خان نے ڈالا، کیا آپ کو باجوہ صاحب نے کہا تھا کرپشن کریں؟، آپ کی کرپشن سامنے آتی ہیں تو کہتے ہیں فوج اور جنرل باجوہ ٹھیک نہیں ہے.

    عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان بے نامی دار ہیں، بشری بی بی ، احسن جمیل اور فرح گوگی کے سربراہ عمران خان ہیں، جو خان صاحب کے خلاف بولے وہ غدار ہے،نیوٹرل کا کوئی قصور نہیں ہے آپ پچاس کروڑ سے کم کا ڈاکا نہیں ڈالتے، پھر کہتے ہیں فوج اور نیوٹرل بڑے خراب ہیں، ہم فرح گوگی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے جارہے ہی، اگر عمران خان سچا ہے تو قسم کہا کر کہے اسے بشری بی بی ، فرح گوگی اور احسن جمیل کا پتہ نہیں تھا، شام کو ان کے لوٹے ہوئے پیسوں پر میٹنگز ہوتی تھی، جس دن بھی فرح گوگی اور احسن جمیل واپس آئے ایک گھنٹے میں وعدہ معاف گواہ بنے گے،ان کے وزیر کان میں کہتے ہیں خان صاحب اسلامی ٹچ دینا.

    انہوں نے مذید کہا کہ بشری بی بی اسلامی سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے، پنجاب کے گھپلے ایک ایک کرکے سامنے آئیں گے، خان صاحب کا انجام مجھے اچھا نظر نہیں آرہا، ملتان سے مظفر گڑھ ، مظفر گڑھ سے پنڈی تک یہ چھوٹی چھوٹی جلسیاں کررہے ہیں،اگر عمران خان کو پکڑنا ہو تو وہ منشیات استعمال کرتے ہیں،دنیا جانتی ہے وہ منشیات استعمال کرتے ہیں، یہ جیل اس لئے نہیں جاتا،کیونکہ اس کو کوکین کون پہنچائے گا،خان صاحب کو گرفتار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،ان کی اہلیہ اور اس کا سابق خاوند ارب پتی ہوگئے ہیں،عمران خان جو کررہے ہیں وقت بتائے گا. ہم ریڈ وارنٹ کے ذریعے ان کو واپس لائیں گے، فرح گوگی نے مجھے چھ ارب کا لیگل نوٹس بھجوایا ہے.

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج پر تنقید سیاسی تھی،ہم نے ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات نہیں لگائے ،توشہ خان جو نواز شریف کا کیس بے بنیاد ہے وہ گاڑی سے متعلق ہے ، ہم نے تو ان سوالوں پر جواب دیئے جو نہیں بنتے تھے، عمران خان کو اپنی شکست نظر آرہی ہے تو وہ اداروں پر الزام لگارہے ہیں.

  • راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی مسافر بس کھائی میں گرگئی،19 افراد جاں بحق

    راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی مسافر بس کھائی میں گرگئی،19 افراد جاں بحق

    کوئٹہ :ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر میں راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی مسافر بس کھائی میں گرگئی جس کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہو گئے ۔

    لیویز ذرائع کے مطابق شیرانی کے پہاڑی علاقے دانہ سر میں بارش کے باعث پھسلن کی وجہ سے راولپنڈی سے کوئٹہ جانےوالی مسافر بس ڈرائیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جا گری۔ بس میں 30 سے زائد افراد سوار تھے۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے 19 افراد کے علاوہ کئی زخمیوں کو ژوب سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جائے حادثہ پرامدادی کام جاری ہے، مزید ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث امدادی کام میں رضا کاروں کو دشواری کا سامنا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مطابق سپر سدا بہار کمپنی کی مسافر بس راولپنڈی سے کوئٹہ جارہی تھی کہ بلوچستان کی سرحد سے متصل علاقے دانہ سر میں حادثے کا شکار ہوگئی۔عینی شاہدین کے مطابق بارش کے دوران بس ڈرائیور سے بے قابو ہو کر گہرئی کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں 19 مسافر جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو ٹیموں نے2 جاں بحق افراد کی نعشوں کو ژوب ہسپتال جبکہ دیگر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے مغل کوٹ ہسپتال میں منتقل کرادیا ہے۔ شیرانی کے اسسٹنٹ کمشنر مہتاب شاہ کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا ہے۔مہتاب شاہ کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نعشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال مغل کوٹ منتقل کردیا گیا ہے ،جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔سول ہسپتال ژوب کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نورالحق نے بتایا کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث مزید اموات کا خدشہ ہے۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےژوب کے علاقے میں بس حادثے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ا یوانِ صدرپریس ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے جان بحق ہونے والوں کیلئے بلندی درجات کی دعا کی اور حادثے میں جانبحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔

    وزیرِ اعظم محمّد شہباز شریف نے اسلام آباد سے کوئٹہ جانے والی بس کے حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس اور رنج کا اظہار کرتے ہوئےزخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ اعظم محمّد شہباز شریف نے ژوب کے قریب اسلام آباد سے کوئٹہ جانے والی بس کے حادثے پر دلی افسوس اور رنج کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے الم کا اظہار کیا ہے اور جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت کے لیے دعا اور ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے حادثے میں زخمی افراد کو فوری اور بہترین طبی امداد پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمی افراد کے علاج میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔