Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جنرل ندیم رضا کا دورہ ایران، ایرانی صدر،وزیر دفاع،چیف آف جنرل سٹاف سے ملاقات

    جنرل ندیم رضا کا دورہ ایران، ایرانی صدر،وزیر دفاع،چیف آف جنرل سٹاف سے ملاقات

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے ایران کا دورہ کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ندیم رضا کی ایرانی صدر سے ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی اور اسٹرٹیجک امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی ملاقات میں سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ندیم رضا کی ایرانی وزیردفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقاتیں ہوئیں ،ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور فوجی روابطے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ایرانی عسکری قیادت نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہا ملاقاتوں میں انٹرنیشنل بارڈر کو امن اور دوستی کی سرحد بنانے پر زور دیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل سٹاف ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر چاق و چوبند دستے نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کو گارڈ آف آنر پیش کیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • توشہ خان، گھڑیاں لے لو،میں ڈھیٹ چور ہوں، مری روڈ پر بینز لگ گئے

    توشہ خان، گھڑیاں لے لو،میں ڈھیٹ چور ہوں، مری روڈ پر بینز لگ گئے

    توشہ خان، گھڑیاں لے لو،مری روڈ پر عمران خان کی سائیکل پر گھڑٰیاں بیچنے کے بینر لگ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آج پریڈ گراؤنڈ میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، عمران خان پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کریں گے

    ملک کے دیگر شہروں میں عمران خان کا خطاب کارکنان جمع ہو کر سنیں گے، دیگر شہروں میں بھی احتجاج ہو گا، عمران خان پنڈی سے قافلے کی صورت میں پریڈ گراؤنڈ جائیں گے،عمران خان مری روڈ سے ہوتے ہوئے پریڈ گراؤنڈ پہنچیں گے ، عمران خان کے راستے میں مری روڈ پر مختلف مقامات پر عمران خان کی کرپشن کے حوالہ سے بینرز آویزاں کر دیئے گئے ہیں، بینرز، فلیکس مقامی تاجر تنظیم کی جانب سے لگائے گئے ہیں

    مری روڈ پر لگائے گئے مختلف مقامات پر فلیکسز میں لکھا ہے کہ "چوری اور سینہ زوری، توشہ خانہ سے جو چوری کی وہ ریکارڈ پر ہے جو کر سکتے ہو کر لو،میں ایک ڈھیٹ چور ہوں،راولپنڈی اسلام آباد کی عوام آپکے احتجاج کا بائیکاٹ کرتی ہے، فلیکس پر عمران خان کی تصویر بھی لگائی گئی ہے

    ایک اور فلیکس پر لکھا ہے کہ توشہ خانہ،گھڑیاں لے لو، اس میں عمران خان کو سائیکل کے ہمراہ دکھایا گیا ہے، جیسے عمران خان گھڑیاں بیچ رہے ہوں، ساتھ ہی لکھاہے ،نا منظور نا منظور، گھڑی چور نا منظور،

    ایک اور فلیکس پر عمران خان اور فرح گوگی کی تصویر ایک ساتھ لگائی گئی ہے اور لکھا گیا ہے کہ کمیشن ایجنٹ، فرح خان عرف گوگی کہاں غائب ہو گئی،عوام کا کتنا پیسہ لے گئی، پاکستانی عوام اب پوچھے گی، یہ عوام کا پیسہ ہے،

    تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعجاز چودھری کا کہنا ہے کہ حکومت اور اسکے چیلوں کی طرف سے عمران خان
    کے بارے گھٹیا پوسٹر لگانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،اگر یہ اپنی مذموم کاروائیوں سے باز نہ آئےتو مذمت کے ساتھ مرمت بھی ہو سکتی ہے

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    اسد عمر نے جلسے کے بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری کوشش تھی کے اجازت میں 4 دن تاخیر کر کے جلسہ خراب کیا جائے. لیکن کل شام 3 بجے جلسہ گاہ ملنے کے بعد ٹیم نے ساری رات کام کر کے جلسے کی تیاریاں مکمل کر لی . انشاءاللہ آج ایک بار پھر دنیا دیکھے گی کے قوم عمران خان کے ساتھ امپورٹڈ حکومت کے خلاف کھڑی ہے.

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کی فتح ہے۔17 جولائی کے الیکشن میں قوم امپورٹڈ حکومت کی سیاست کو دفن کر دے گی ۔ایاز امیر اور عمران ریاض پر حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔ حکومت جلد از جلد ملزموں کو گرفتار کرے۔لوڈشیڈنگ کے ستائے اور مہنگائی کے مارے لوگ آج شام پریڈ گراؤنڈ میں ہونگے

    عمران خان نے گزشتہ شب خود بھی پریڈ گراؤنڈ کا دورہ کیا تھا اور کارکنان میں گھل مل گئے تھے،

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • عثمان بزدار کی ہمدرد بیوروکریسی ، کرپشن کیس ٹھنڈے کردیئے گئے

    عثمان بزدار کی ہمدرد بیوروکریسی ، کرپشن کیس ٹھنڈے کردیئے گئے

    عثمان بزدار کی ہمدرد بیوروکریسی ، کرپشن کیس ٹھنڈے کردئے گئے
    سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور انکے بھائیوں کیخلاف سرکاری اراضی جعلسازی سے نام کرانے پر اینٹی کرپشن نے درخواست دہندہ کی بجائے اسسٹنٹ کمشنر تونسہ کومدعی بنادیا۔اسد چانڈیہ بزدار دور میں ڈیرہ غازی خان میں تعینات رہے اور ان سے عثمان بزدار اور انکے بھائیوں نے درجنوں غیر قانونی کام کرائے ہیں۔ سرکل آفیسرا ینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر ملک عبدالمجید نے ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کور پورٹ کی بجائے درج مقدمہ سابق سرکل آفیسراینٹی کرپشن ارشد رند سے دستخط کرا کے ایک ہی رات میں خارج کر دیا۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمپلینٹ اطہر محمود کا نجو جوتونسہ شریف کا رہائشی ہے نے سابق وزیراعلی پنجاب اور انکے دست راست مختار جتوئی کو غیر قانونی پروموشن اور 15 کروڑ روپے کی کرپشن میں کلین چٹ دینے کی ناکام کوشش کی۔

    تفصیلات کے مقامی اخبار روزنامہ بیٹھک کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہمدرد بیوروکریسی اور اینٹی کرپشن میں تعینات کر پٹ افسر کرپشن سکینڈلز کیخلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ۔ حکومت پنجاب کو تبدیل ہوئے دو ماہ ہونے کے باوجود عثمان بزدار نیٹ ورک کے افسراب بھی اپنی پرکشش سیٹوں پر براجمان ہیں اخبار کیمطابق سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور انکے بھائیوں کیخلاف سرکاری اراضی 900کنال کو جعلسازی سے نام کرانے پر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان نے درخواست دہندہ بشیر چوہان کی بجائے اسسٹنٹ کمشنر تونسہ شریف اسد چانڈیہ کی مدعیت میں دو الگ الگ مقدمات درج کرتے ہوئے سرکل آفیسر اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمپلینٹ کو انکوائری آفیسر مقررکیا۔

    اخبار کے مطابق اب ان دونوں مقدمات میں اسسٹنٹ کمشنرتونسہ شریف اسد چانڈیہ کو مدعی بنایا گیا ہے جو عثمان بزدار دور میں 3 سال 9ماہ سے ضلع ڈیرہ غازی خان کی حدود میں تعینات ہے اور ان سے عثمان بزدار اور انکے بھائیوں نے درجنوں غیر قانونی کام کرائے ہیں ۔ اسد چانڈیہ سے کرائے گئے غیر قانونی کاموں میں سے ایک جی ٹی ایس بس اڈے کی اراضی پرقبضے اور جعلی نقشہ سکینڈل کے ملزمان خلیفہ محمدعلی ، خلیفہ اللہ بخش ،خلیفہ سلیمان یار،خلیفہ حسن ، خلیفہ رمضان ، خلیفہ عبدالرحمان ودیگر کو کلین چٹ دینے کی کوشش ہے۔ خلیفہ فیملی کے کہنے پر اسسٹنٹ کمشنر نے ماڈل بازار کی دیوار کی تعمیر کا کام بھی تاحال رکوایا ہوا ہے تا کہ دیوار کو آگے کر کے ناجائز قابضین کو ایک بار پھر ناجائز فائدہ پہنچایا جا سکے۔

    اخبارنے لکھا ہے کہ ذرائع کیمطابق اسسٹنٹ کمشنراسد چانڈیہ اب بھی خود کو عثمان بزدار کا بھائی کہتے نہیں تھکتے اور بعید نہیں کہ گواہی تو دور کی بات ہے و ہ تفتیشی افسر کے پاس بیان ریکارڈ کرانے بھی نہیں جائینگے ۔ دوسری جانب تفتیشی افسر سرکل آفیسرا ینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر ملک عبدالمجید ذرائع کیمطابق سرکاری سکنی کمرشل پراپرٹی فراڈ کیس کو ٹیکنیکل طور پر خارج کرنے کے ماہر ہیں، انہوں نے دکان ملکیتی میونسپل کمیٹی تونسہ شریف ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کور پورٹ کی بجائے سٹیزن پورٹل پر کی گئی شکایت پر مقدمہ نمبر11/21درج کیا اور پھر بڑی مہارت سے اسے خارج کردیا ۔ مقدمے کی اخراج رپورٹ پر اپنے دستخطوں کی بجائے سابق سرکل آفیسراینٹی کرپشن ارشد رند سے دستخط کرا کے ایک ہی رات میں مقدمہ خارج کر دیا۔ ذرائع کیمطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمپلینٹ اطہر محمود کا نجو جوتونسہ شریف کا رہائشی ہے اس نے پہلے ریگولر انکوائری 19/551,19/357اور 19/303میں سابق سی ایم پنجاب عثمان بزدار کیخلاف ڈی جی نیب ملتان اور ڈی جی اینٹی کرپشن کے حکم ناموں کو ردی کی ٹوکری کے نذرکرتے ہوئے سابق وزیراعلی پنجاب اور انکے دست راست مختارجتوئی کو غیر قانونی پروموشن اور 15 کروڑ روپے کی کرپشن میں کلین چٹ دینے کی ناکام کوشش کی حالانکہ یہ کیس عدالت عالیہ ڈبل بنچ میں زیر سماعت ہے عدالتی فیصلے کا انتظار کئے بغیر سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور ان کے دست راست کوتوہین عدالت کی پرواہ کئے بغیرکلین چٹ دیدی۔ اخبارکے مطابق اس سلسلے میں جب اطہر کا نجو، ملک عبدالمجید اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سید محمد عباس سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ان کا فون اٹینڈ نہ ہوا۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • ایاز امیر پر تشدد :حقیقت کچھ اور :باغی ٹی وی سچ سامنے لے آیا

    ایاز امیر پر تشدد :حقیقت کچھ اور :باغی ٹی وی سچ سامنے لے آیا

    لاہور:باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کار ایاز امیر پر لاہور میں ہونے والے حملے کی اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ ایاز امیر کی گاڑی کو کسی گاڑی نے ٹکر نہیں ماری بلکہ ایاز امیر کی گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایاز امیر کی گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری تو اس گاڑی میں سوار افراد نے ایاز امیر پر تشدد کیا ۔ واقعہ کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی ایاز امیر کا مقامی ہسپتال میں طبی معائنہ کروایا گیا

    ایاز امیر نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کے سامنے بیٹھ کر عمران خان کی پالیسیوں پر ہی تنقید کی تھی جس کی وجہ سے گذشتہ روز سے تحریک انصاف کے کارکنان میں غصہ پایا جا رہا تھا ۔ تحریک انصاف کے کارکنان نے غصے کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا تھا

    ایاز امیر دنیا ٹی وی سے پروگرام ختم ہونے کے بعد آواری ہوٹل جا رہے تھے تب یہ واقعہ پیش آیا اور اب اس معاملے کو میڈیا پر غلط رنگ دیا جا رہا ہے میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ ایاز امیر کہ گاڑی کو ہٹ کیا گیا پھر تشدد کیا گیا حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے ایاز امیر کی گاڑی نے ایک کلٹس گاڑی کو ٹکر ماری جس کے بعد اس گاڑی میں سوار افراد نے تشدد کیا ۔

     

    ایاز امیر پر تشدد کا وزیراعظم شہباز شریف ۔وزیراعلی پنجاب وزیر داخلہ نے نوٹس لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے بھی واقعہ کے بعد ایاز امیر سے ملاقات کی ہے

    ٹویٹر پر صارف احمد منصور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏عمران خان کو جس طرح کے "صحافیوں” کو سننے کی عادت پڑ گئی ہے وہاں ایاز امیر کی "بیانیہ” برباد کرنے والی تقریر کیسے ہضم ہو سکتی تھی۔۔۔

     

    سید عمران شفقت نے بھی ٹویٹر پر ایاز امیر پر تشدد کے حوالہ سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پی ٹی آئی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دیگر صارفین نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایاز امیر پر تشدد کے پیچھے پی ٹی آئی ہو سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی میں عدم برداشت ختم ہو چکی ہے اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان خود عدم برداشت کی تلقین اپنے خطابات میں کرتے رہے ہیں عمران خان کا ایک خطاب میں کہنا تھا کہ جو پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں وہ گھروں سے باہر نکل کر تو دکھائیں۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی تھی کہ پارٹی چھوڑنے والوں کو سبق سکھانا ہے

  • وزیراعظم کی صحافی ایاز امیر پرحملے کی شدید مذمت، اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی صحافی ایاز امیر پرحملے کی شدید مذمت، اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کی ہدایت

    لاہور: وزیراعظم شہبازشریف نے سینیئر صحافی ایاز امیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں سینیئر صحافی ایاز امیر سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ملزموں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    اس کے علاوہ شہباز شریف نے ہدایت جاری کی کہ صحافت اور صحافیوں کی حفاظت کی ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر جی ایم جمالی اور سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم نے معروف کالم نگار ایاز امیر اور جی این این نیوز کے رپورٹر ادریس عباسی پر تشدد کی شدید مزمت کی ہے۔ پی ایف یو جے لیڈر شپ نے ایاز میر پر نامعلوم افراد کی جانب سے دنیا نیوز کے قریب مصروف سڑک پر گاڑی روک کر تشدد کرنے اور ان کا موبائل چھیننے کے عمل کو آزادئی صحافت پر قدغن قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس حملہ مہں ملوث افراد کو فوری گرفتار کر کےقرارواقعی سزا دی جائے۔

    دوسرے واقعہ میں سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی موجودگی میں ان کے گارڈز نے جی این این کی گاڑی روک کر اس میں بیٹھے رپورٹر ادریس عباسی پر تشدد کیا ہے۔ ان کا قصور یہ تھا کہ جی این این کی گاڑی نے راستہ مانگنے کے لئے ہارن بجا کر آگے گزرنا چاہا تھا۔ پی ایف یو جے لیڈرشپ نے اسے رعونت اور صحافیوں پر حملہ کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف پرچہ درج کر کے ملوث افراد کو گرفتار کرتے ہوئے قرار واقعی سزا دی جائے۔

    پی ایف یو جے لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ اگر دونوں واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کیا گیا تو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ پی ایف یو جے لیڈرشپ نے کہا ہے کہ م لک میں زادی تحریرو تقریر کے خلاف پابندیاں برداشت نہیں کی جائی گی۔

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کا سینئر صحافی و کالم نگار ایاز میر پر تشدد کے واقعہ کانوٹس ,اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے نوٹس لیتے ہوئےانسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے

    حمزہ شہباز کا کہناہے کہ ایاز میر پر تشدد کے واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے،ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر مزید کارروائی کی جائے۔حمزہ شہباز نے کہا کہ ایاز میر پر تشدد کا واقعہ قابل مذمت ہے۔انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں۔

    چئیر مین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفی کمال نے سینئیر صحافی ایاز میر پر حملے کی شدید الفاظ میں اظہار مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سینئیر صحافی ایاز میر پر تشدد سیاسی عدم برداشت کی مثال ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حق اور سچ کی آواز کو تشدد سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ملک آٹو پہ چل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایاز میر پر حملہ کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

    آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کا سینیر صحافی ایاز امیر پر نامعلوم افراد کے تشدد کے واقعہ کا نوٹس ،اطلاعات ہیں کہ آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی۔

    آئی جی پنجاب راؤسردارعلی خان نے کہا ہے کہ سیف سٹی کیمروں سے ملزمان کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ نامعلوم ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    آئی جی پنجاب نے لاہور پولیس کے افسران کو سینئر صحافی ایاز امیر سے فوری رابطہ کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ مجرموں کو جلد ازجلد گرفتارکیا جائے

    سنیئرصحافی ایازمیرپرنامعلوم افراد نے لاہورمیں دنیا نیوز کے دفترکے باہرتشدد کیا اوران کا موبائل فون بھی چھین کرلے گئے ہیں‌

     

    لاہور سے ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا ٹیو پر پروگرام ختم کرنے کے واپسی پر سینئر تجزیہ کار ایاز امیر صاحب پر نامعلوم افراد کا حملہ۔ ایاز امیر صاحب اور ڈرائیور پر تشدد۔ایاز امیر صاحب نے بتایا کہ دفتر سے نکلتے ہی ایک کار نے ہماری گاڑی بلاک کی, 6 افراد نے تشدد کیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایاز میر پر حملہ ان کے چہرے اور دانتوں پر مکے مارے گئےاور ان کو زخمی کر دیا گیا

    سینئر صحافی اور دنیا نیوز سے منسلک تجزیہ کار ایاز امیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس سے وہ زخمی ہوگئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    ایاز امیر پر حملہ کرنے والوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور نامعلوم افراد کی جانب سے ان کا موبائل فون اور پرس بھی چھین لیا گیا۔

    صحافی طارق حبیب کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایاز امیر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ دنیا ٹی وی پر پروگرام ختم کرنے کے واپسی پر سینئر تجزیہ کار ایاز امیر صاحب پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا، ایاز امیر اور ڈرائیور پر تشدد کیا گیا۔

    دنیا نیوز کے سینئر تجزیہ کارایازمیر نے کہا کہ پروگرام کے بعد جارہا تھا، ایک گاڑی نے میرا راستہ روکا، ہماری گاڑی کو روک کر مجھ پر تشدد کیا گیا، ایک شخص نے ماسک پہنا ہوا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

    دنیا نیوز کے سینئر تجزیہ کار ایاز امیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کا وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب نے حمزہ شہباز نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر لکھا کہ میں سینئر صحافی ایاز امیر پر ہونے والے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان صحافیوں، مخالف سیاستدانوں، شہریوں کیخلاف تشدد اور جعلی ایف آئی آر کے ساتھ بدترین قسم کی فسطائیت میں اتر رہا ہے۔ جب ریاست تمام اخلاقی اختیار کھو دیتی ہے تو وہ تشدد کا سہارا لیتی ہے۔

    مجیب الرحمان شامی

    سینئر صحافی اور دنیا نیوز کے تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کی جانب سے ایاز امیر پر تشد کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا یہ بہت ہی شرمناک حرکت ہے، شدت سے مذمت کرتا ہوں، قانون کو حرکت میں آنا چاہیے، ایاز امیر دفترسے نکلے تو ان پر حملہ کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایاز امیر ایک قابل احترام صحافی ہیں، پنجاب حکومت کو اس واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے، حملہ کرنے والوں کو فوری گرفتارکیا جائے، تمام صحافی یونینز کو اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔

    مظہر عباس

    سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے بھی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ایاز امیر سے سیاسی اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن حملہ بہت سنجیدہ بات ہے، یہ پنجاب کی انتظامیہ کے لیے چیلنج ہے، ایاز امیر کا اپنا ایک انداز ہے، جس طرح حملہ کیا گیا ہے بہت سنجیدہ معاملہ ہے، یہ حملہ ہوسکتا ہے، دنیا نیوز، ایاز امیر کو وارننگ دی گئی ہو۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کے خلاف ایسے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں، ایاز امیر دفتر سے گھر جا رہے تھے جب انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حملہ کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے، یہ بہت افسوس ناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔

    مبشر زیدی

    سینئر صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ سینئر صحافی ایاز امیر پر بزدلانہ حملے کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے امید رکھتا ہوں کہ وہ حملہ آوروں کو قرار واقعی سزا دلوائیں گے۔

    ارشاد عارف

    سینئر صحافی ارشاد عارف نے ٹویٹر پر لکھا کہ تجزیہ کار ایاز امیر پر حملہ، تشدد اور موبائل چھیننے کی واردات شرمناک اور صوبائی، وفاقی حکومت کیلیے سنجیدہ چیلنج ہے، ملزموں کو گرفتار، حملہ کے مقاصد کو طشت ازبام کیا جائے۔

    اجمل جامی

    سینئر صحافی اجمل جامی نے لکھا کہ اس گھٹیا واردات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ایاز امیر سلیقے سے ڈھنگ سے بات کرتے ہیں، اختلاف رائے رکھتے ہیں، اختلاف رائے کا احترام کرتے ہیں، انکا پروگرام اس امر کی واضح دلیل ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں یہ سب اب معمول بن چکا ہے؟

    شہباز گل

    ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ایاز امیر پر حملہ تشدد اور موبائل فون بھی چھین لینے کی اطلاع ملی ہے، یہ وہی روایتی فسطائیت کے ہتھکنڈے ایجنڈے ہیں، پر نہ چلنےوالی نا پسندیدہ آوازوں کو طاقت دھونس دھمکی سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پرویز رشید

    پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما پرویز رشید نے لکھا کہ ایاز میر کے ساتھ ہونے والے تشدد کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ شہریوں کے تحفظ کے ذمہ دار تمام اداروں کو مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے حوالے کرنے کا فرض ادا کرنا ہو گا ۔

    فرخ حبیب

    سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے لکھا کہ ایاز امیر معروف صحافی تجزیہ نگار اورکالمنسٹ ہے ان پر حملہ کی پرزور مذمت کرتے ہے۔ اس نالائق وزیراعظم کی تباہی حکومت میں صحافی محفوظ نہیں ہے اختلاف رائے پر تشدد، دھونس ، دھمکیاں FIRs شروع ہوجاتی ہے۔

    فواد چودھری

    سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ پی ٹی آئی سینئر صحافی پر حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ جب سے امپورٹڈ گور

  • عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز ہی وزیراعلی رہیں گے تحریک انصاف پانچ مخصوص سیٹوں کا نوٹیفکیشن چاہتی ہے تا کہ انکے ووٹ بڑھیں بارہ کروڑ عوام کا صوبہ ہے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے کافی لوگوں کر پریشان کیا ہے ۔ میری کافی سینئر وکلاء سے بات ہوئی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی یہ بات کر رہی ہے کہ صدر عارف علوی یہ کہہ دیں کہ شہباز شریف ووٹ آف کنفیڈنس لیں کیونکہ اتحادی ان سے خوش نہیں اور دو تین اراکین کی ڈیتھ یا ریزائن ہوا تھا، اب ووٹ آف کانفیڈنس لیں، پھر دوڑیں لگ گئیں، اگر اراکین پورے نہیں ہوتے تو سسٹم کا کیا ہو گا؟ پاکستان میں کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ۔ پی ٹی آئی کے پاس کرائسز کو ڈیل کرنے کا بڑا وقت تھا اب کافی سیریس کرائسز ہے پہلے اکنامک کرائسز ہے پٹرول ڈیزل کی قیمت رات کو بڑھ گئی اگر اسی طرح لڑائیاں چلتی رہیں تو پھر یہ کسی تیسرے کو دعوت دے رہے ہیں کیونکہ انکی لڑائیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ پھر کیسے مسئلہ حل ہو گا

    مبشر لقمان نے عمران خان کے گھر سے ڈیوائس لگوائے جانے کے حوالہ سے سوال پر کہا کہ گھر سے بات نکل رہیں گھر میں ہی تلاشی کروا لیں ڈیوائس 24 گھنٹے چلے گی اسکو پھر چارج کرنا پڑے گا خان کے دفتر میں ایسے لوگ آ رہے ہیں جو شاید گھر والوں کو نہیں پسند۔ اس لیول کے بندوں پر ٹائپنگ ہوتی ہے دنیا کی ایجنسیاں کر رہی ہوتی ہیں لیکن اسکا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ عمران خان کسی کے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے گورننس اور انکے دور میں جو کرپشن ہوئی ا سپر وہ بات نہیں کر رہے صحافی تو ہر طرح کے سوال پوچھیں گے ۔کچھ صحافیوں کو انہوں نے اداروں سے بھی فارغ کروا دیا ہے۔ بلٹ پروف گاڑی کا عمران ریاض کا لائسنس کینسل کر دیا گیا۔ دیا کیوں گیا تھا مجھے تھریٹ تھا لیکن میں نے تو گاڑی نہیں لی نہ ہی سیکورٹی لی ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران ریاض سے زیادہ ہر صحافی کو تھریٹ رہے ہیں۔ جیو کی ڈی ایس این جی کی توڑپھوڑ ہوتی رہیں۔ جہاں انکے لوگ جاتے ان پر حملے ہوتے رہے کیا انکو بھی بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی تھیں ،نہیں تو پھر عمران ریاض خان کو کس نے اور کیوں دی تھی ؟مجھے بلٹ پروف گاڑی کا شوق نہیں ہے سہی لیکن اس میں دم گھٹتا ہے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل میریٹ میں جو فنکشن ہوا ایاز امیر نے جو تقریر کی پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیا انہوں نے لفظ خباثت کا استعمال کیا۔ خباثت کا لفظ میں نے جرنلزم میں نہیں سنا۔ پراپرٹی ڈیلر کی بات کر رہے تھے ایک ملک ریاض اور انیل مسرت کا طعنہ ایاز امیر نے دیا لیکن عمران خان نے ابھی تک جواب نہیں دیا ۔ میں نے بشری بی بی ۔عثمان بزدار کی کرپشن کھول کر رکھی۔ اس کا کوئی جواب نہیں آیا

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟
  • ریاست مدینہ کا نام ،اپوزیشن کا احتساب، اپنوں کو دیا گیا نواز، مخدوم خسرو فیملی پر کیسز کی کہانی

    ریاست مدینہ کا نام ،اپوزیشن کا احتساب، اپنوں کو دیا گیا نواز، مخدوم خسرو فیملی پر کیسز کی کہانی

    ریاست مدینہ کا نام ،اپوزیشن کا احتساب، اپنوں کو دیا گیا نواز، مخدوم خسرو فیملی پر کیسز کی کہانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاست مدینہ کا نام لے کر حکومت میں آنے والے عمران خان نے احتساب کے نام پر اپوزیشن رہنماؤں کو جہاں جیلوں میں ڈالا گیا وہیں اپنوں کو مسلسل نوازا گیا، اپوزیشن رہنماؤں پر مقدمات بنوائے گئے تو اپنوں کے مقدمات پر سو فیصد اثر انداز ہوئے اسکی ایک مثال مخدوم خسرو فیملی کے مقدمات ہیں،

    رئیس محمد احسن عابد ایڈوکیٹ مخدوم خسرو فیملی کی کرپشن کے خلاف عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں، نیب ایف آئی اے ،الیکشن کمیشن،لاہور ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں رئیس محمد احسن عابد ایڈوکیٹ نے مختلف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور مخدوم خسرو فیملی کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے،

    سابق وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار، سابق صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے حوالہ سے 2018 میں نیب ملتان میں کرمنل درخواست دی گئی، تحقیقات ہوئیں، انکوائری ہوئی تو پہلی انکوائری میں ڈی جی نیب ملتان عتیق الرحمان نے سو ارب روپے کا گنہگار ٹھہرایا تھا، ریفرنس دائر ہونا تھا، اور گرفتاری ہونی تھی تا ہم حکومت میں ہونے کی وجہ سے ڈی جی نیب سے کیس ملتان سے لاہور منتقل کروا دیا گیا، حالانکہ چیئرمین نیب کے پاس ڈی جی سے ڈی جی کیس کی منتقلی کا اختیار نہیں، چیئرمین نیب نے یہ غیر قانونی کام کیا،ایک سال تک اس کیس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر عدالت میں نیب لاہور 13 مئی 2020 نے کہا تھا کہ نوے دن میں انکوائری رپورٹ پیش کریں گے،

    نوے دن تو کیا، حکومت بھی گئی لیکن ابھی تک انکوائرئ رپورٹ پیش نہ ہو سکی، نیب نے ایسا کس کے کہنے پر کیا؟ نیب نے سابق وفاقی وزراء کے خلاف ریفرنس کیوں دائر نہیں کیے، نیب نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ابھی تک کیوں کی، ان سب سوالات کے جوابات رحیم یار خان کی عوام سننا چاہتی ہے

    مدعی نے نیب کی جانب سے ریفرنس دائر نہ کرنے ، اور عدالتی حکم تسلیم نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست بھی لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی،توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں 18 جولائی کو سماعت ہونی ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈی جی نیب لاہور کو طلب کر کے ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے رپورٹ کیوں جمع نہیں کروائی،

    شوگر سکینڈل
    مخدوم خسرو فیملی کی چھ غیر قانونی شوگر ملیں جو کہیں بھی مینشن نہیں۔ نیب رپورٹ میں لکھا ہوا ہے اسکے سٹیک ہولڈر چار ہیں۔ خسرو بختیار، مخدوم عمر شہر یار ،مونس الہی بھی سٹیک ہولڈر ہیں ۔ ہاشم بخت ۔ چوھدری منیر بھئ سٹیک ہولڈر ہے۔ آر وائی کے پانچ لوگوں پر مشتمل شوگر کا گروپ ہے، چینی میں غیر قانونی سبسڈی 34 فیصد سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ذریعے لی گئی، آر وائی کے، اتحاد شوگر مل،شاہ تاج شوگر ملز،ٹو سٹار شوگر مل،ایس ڈبلیو شوگر مل ،کمالیہ شوگر مل کے ذریعے نہ صرف سبسڈی غیر قانونی لی گئی بلکہ منی لانڈرنگ بھی کی گئی، اس حوالہ سے ایف آئی اے میں درخواست دی گئی ہے اور دو سال ہو چکے ہیں تا ہم مقدمہ درج ہونے کے بعد کوئی کاروائی نہ ہو سکی، پرویز الہی جب وزیر اعلی تھے تو ایک مل منظور کروائی جو شوگر مل نہیں تھی لیکن اب تک شوگر مل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں مخدوم عمر شہریار اور دو فرنٹ میں

    گندم بحران
    مخدوم خسرو بختیار وزیر تھا 30 ایم ایم ٹن ضرورت تھی ۔ بتایا گیا کہ پاکستان میں 28 ایم ایم ٹن گندم کی ڈیمانڈ ہے اپنی کک بیکس اور کرپشن کی خاطر گندم ایکسپورٹ کی اجازت مخدوم خسرو بختیار نے دے دی گندم ایکسپورٹ کی گئی تو ملک میں گندم کا بحران آ گیا ، گندم ایکپسورٹ میں تین سو ارب روپے کی مبینہ طور پر کرپشن کی گئی،

    پینڈورا پیپر میں بھی تمام خسرو فیملی کا نام ہے۔ اور انکی آفشور کمپنیز، اثاثوں کا پینڈورا پیپرز میں ذکر ہے، سوئس اکاؤنٹ میں سات سو ملین ڈالر۔ پینڈورا پیپر میں بھی تفصیل ہے ۔

    سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل نااہلی کی پینڈنگ ہے ۔انہوں نے اثاثے چھپائے ہیں اس لئے انکو نااہل قرار دینے کی اپیل کی ہے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ دونوں بھائیوں نے آمدن سے زائد اثاثے بنائے اور انہیں ظاہر نہیں کیا جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) ملتان کو بھی ان کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دی گئی ہے۔ نیب کی جانب سے دونوں بھائیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔عدالت نے نیب کو قانون کے مطابق زیرالتوا درخواست کا فیصلہ تین ماہ میں کرنے کا حکم دیا لیکن نیب ملتان نے انکوائری اب مزید کارروائی کے لیے نیب لاہور کو بھجوادی ہے۔درخواست گزار نے کہا کہ انکوائری کی پیش رفت سے بھی آگاہ نہیں کیا جارہا۔ دونوں بھائیوں کے اثاثے ایک سو ارب سے زائد ہیں، خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت صادق اور امین نہیں رہے۔درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ عدالت مخدوم خسرو بختیار اور ان کے بھائی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم بھی دے۔خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کو آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے نام پر مینڈیٹ لیا تھا اور نوے دن میں صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، نوے دن گزر گئے چار سال گزر گئے، حکومت ختم ہو گئی تا ہم جنوبی پنجاب صوبہ کے بارے میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی

    مخدوم خسرو فیملی کی کرپشن کو بے نقاب کرنے پر مدعی رئیس محمد احسن عابد کے خلاف ایف آئی آر تھانہ ایف آئی اے لاہور میں کروائی گئی جس میں بلیک میلنگ کا الزام لگایا گیا تھا، مخدوم عمر شہر یار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، تحریک انصاف کی حکومت کے دوران مدعی مقدمہ رئیس احسن عابد ایڈوکیٹ کو دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں اور بے جا تنگ بھی کیا جاتا رہا

    ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود مخدوم خسرو بختیار پاکستان سے جا چکے ہیں،انہوں نے اپنے پورٹ فولیو کا غلط استعمال کیا

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ

    سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ

    سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے مسلح گارڈر نے راولپنڈی میں صحافیوں کو زدوکوب کیا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا ہے

    واقعہ گزشتہ شب مویشی منڈی میں پیش آیا، قاسم سوری کے گارڈ نے نجی ٹی وی جی این این کے رپورٹر کو سوال پوچھنے کی کوشش پر تشدد کا نشانہ بنایا، صحافی کو تھپڑ مارے گئے، قاسم سوری کے واقعہ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی جا رہی ہے،صحافتی تنظیموں نے بھی واقعہ پر احتجاج کیا ہے،

    نیشنل پریس کلب نے راولپنڈی مویشی منڈی کے باہر جی این این کے رپورٹر پر پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری کے مسلح گارڈز کے تشدد کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قاسم سوری کے مسلح گارڈز کا قاسم سوری پر تشدد قابل مذمت فعل ہے، ایسے واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے، نقصان کا ازالہ کیا جائے اور ایسے واقعات کو روکا جائے،

    آر آئی یو جے نے بھی راولپنڈی مویشی منڈی کے باہر جی این این کے رپورٹر پر پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری کے مسلح گارڈز کے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت نوٹس لے اور واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے،

    صحافی مطیع اللہ جان نے اس حملہ کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ: "انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے لہذا ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو سوری بولناُچاہئیے اس میڈیا ورکر سے”

    قاسم خان سوری سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، قاسم خان سوری کی نااہلی کا کیس بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، قاسم خان سوری این اے 265 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے، الیکشن ٹربیونل کی سربراہی جسٹس عبداللہ بلوچ نے کی تھی اور الیکشن ٹربیونل نے این اے 265 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد قاسم سوری نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ نے سٹے آرڈر دے دیا ،اسکے بعد ابھی تک سماعت نہیں ہوئی،

    قاسم سوری سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ملکی سلامتی کے اداروں پر بھی تنقید کرتے نظر آئے ہیں، ٹویٹر پر عمران خان کی حکومت جانے کے بعد قاسم سوری نے ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کی، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر تنقید کر رہے ہیں قاسم سوری ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ انڈیا کا پاکستانی حدود میں سوپر سانک کروز میزائل ’براہموس‘ پاکستانی ریڈار سے کیسے بچ نکلا؟
    اس سوال کا موثر جواب ابھی تک نہیں مل سکا ہے، #وہ_کون_تھا کہ جس نے براہموس نہ گرا سکنے کا غصہ حکومت پاکستان گرا کر لے لیا؟

    https://twitter.com/QasimKhanSuri/status/1537631670169378822

    قاسم خان سوری کے گارڈز کی جانب سے صحافی پر تشدد کے خلاف عوامی حلقوں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے دعویدار اب اپنی کرپشن، فرح گوگی کے کارناموں، توشہ خانہ کی گھڑیوں کے بارے میں سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے، قاسم سوری خود ایک سٹے پر رکن اسمبلی رہے، حلقے کے عوام بھی ان سے ناخوش ہیں کیونکہ قاسم سوری نے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کروائے

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    حال ہی میں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے سیکٹری ثقافت ڈاکٹر خادم حسین نے باغی ٹی وی (اردو) سے خصوصی بات کرتے ہوئے اپنا موقف دیا کہ: عوامی نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ بنی کیونکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ جو پچھلی حکومت تھی ایک تو وہ جائز حکومت نہیں تھی اور نہ وہ سہی طور پر عوام کی نمائندہ حکومت تھی کیوں کہ وہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی لہذا اس حکومت کو ہٹانا سیاسی طور پر بہت ضروری تھا تاکہ ایک مثال سیٹ ہو جائے اور یہ بھی ضروری تھا کہ اس عمل کو سیاسی اور آئینی طور پر کیا جائے۔

    خادم حسین نے باغی ٹی وی کو بتایا: جو عدم اعتماد آئین میں درج ہے اس پر ہم نے متحدہ اپوزیشن کا حصہ بن کر اپنا آئینی حق ادا کرتے ہوئے ناصرف انہیں ووٹ دیا بلکہ ان کی حمایت بھی کی۔

    لیکن پھر جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو ہم نے واضح طور پر کہا کہ ایک تو ہماری عددی اکثریت نہیں ہے بہت کم ہے اور دوسرا ہم اپنی جماعت کے اندر بہت سارے کام کرنا چاہتے ہیں جیسے کہ تنظیم نو وغیرہ۔

    انہوں نے مزید بتایا: چونکہ ہماری جماعت کا قومی اسمبلی میں ایک ہی ممبر ہے جن کو وزیر بنایا جائے جس پر ہم اتفاق بھی کر لیتے لیکن چونکہ وہ ہماری جماعت کے قائم مقام صدر بھی ہیں تو ظاہر ہے اس سے عوامی نیشنل پارٹی کی تنطیم نو کی فعالیت بہت زیادہ اثر اندز ہوتی ۔

    لہذا ہم نے اتحادیوں کو آگاہ کیا کہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں اور تمام تر ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دو تین چیزوں کے حوالے سے ہم سنجیدہ ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوگا.

    سیکریٹری ثقافت کا کہنا تھا کہ: پہلی بات یہ ہے کہ اگر معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے اور اس کے لیے جتنے بھی ساختی تبدیلیاں ہیں وہ کی جاتی ہیں اور پالیسیوں کو درست کیا جاتا ہے تو ہم اس کا ساتھ دیں گے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ سارے کا سارا بوجھ عوام کی پر منتقل نہ کیا جائے۔

    بلکہ عام عوام کیلئے کے لیے فوری ریلیف کا انتظام جو بہت ضروری ہے کیا جائے، مہنگائی اور بیروزگاری اور بد امنی و دہشتگردی کا یہ جو سلسلہ ہے یہ براہ راست عوام کو ان کے روزگار اور ان کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے تو اس حوالے سے بھی ہم نے حکومتی اتحاد سے یہ کہا کہ عوام کے لئے فوری سہولیات کا بندوبست کیا جانا ضروری ہے۔

    ان کے مطابق: اب لگ ایسا رہا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جارہا، جبکہ ڈالر بھی بھی اڑان بھر رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ جو عام عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔
    خادم حسین کہتے ہیں کہ: ہم بار بار حکومت کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اور اپنے مرکزی قائم مقام صدر کے ذریعے یہ پیغام پہنچاتے رہتے ہیں کہ عوام پر سارا بوجھ نہ ڈالا جائے کیونکہ کسی اور نے معیشت کا بیڑا غرق کیا جس سے معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

    لہذا قصوروار بھی وہی یعنی پچھلی حکومت ہے جس نے معیشت کو تباہ کیا لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا عوامی نیشنل پارٹی کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ خمیازہ ان لوگوں پر منتقل کیا جائے جو دراصل اس پورے نظام کے بہت بڑے منافع کے حصہ دار ہیں جیسے مختلف ادارے اور تجارتی کمپنیاں ہیں کیونکہ یہی سرمایہ دار سب سے زیادہ منافع کما رہے ہیں تو پھر ہمیں منظور ہوگا۔

    انہوں نے کہا: ہمارا حکومت کومشورہ یہ تھا کہ خرچہ کو کم کرکے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ: موجودہ حکومت ایسا نہیں کر پارہی ہے یا پھر ان کو بہت زیادہ وقت درکار ہے کیونکہ ان کی رفتار بہت زیادہ سست ہے۔ لہذا عوامی نیشنل پارٹی کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر اسی طرح بوجھ عوام پر منتقل کیا جاتا رہا اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہی اور عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا نہ ملا علاوہ ازیں معیشت مستحکم نہیں ہو پاتی اور لوگوں کی بے روزگاری ختم نہیں ہوتی تو پھر اس طرح کا اتحاد میں رہنا عوامی مفاد میں نہیں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ: ہم نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ کب حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنا ہے اور آخری بات یہ کہ نہ یہ ہماری چاہت ہے کے حکومت غیر مستحکم ہو لیکن ہمیں عام عوام پر ڈالا گیا بوجھ ہرگز قابل قبول نہیں ہے جس کا ہم حکومتی اجلاسوں میں کئی بار اظہار بھی کرچکے لیکن فحال کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آرہی لہذا ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے.

  • 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،

    ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ سترہ جولائی کو عوام نے بیس نشستوں پر ووٹ دینے ہیں،ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ‏اجلاس نہ ہونے پر قائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہوسکتا ہے، کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیراعلی کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلی کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ آج چار بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں، ‏قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلی کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہ سکتا ہے، مطمئن کریں کی 4 ججز کا دیا وقت مناسب نہیں

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 7 دن تک کیا صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے، سات دن کا وقت دینا مناسب نہیں،‏مزید سماعت 2.45 تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں، ہم آپکو آدھا گھنٹا دیتے ہیں سر جوڑیں اور سوچیں۔

    وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز روسٹروم پر آجائیں،ہمارے سامنے جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ وقت زیادہ زیادہ نہیں دیا گیا،زیادہ وقت نہ دینے کی مختلف وجوہات ہیں، عدالت خود سے وقت دیتی ہے تو حکومت کون چلائے گا،بتایا گیا کہ وقت دیا جائے تو حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکتے ہیں،کیا یہ بات درست ہے؟ چودھری پرویزالہیٰ نے کہا کہ بات اس طرح نہیں، اسمبلی کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب کی نظریں اس معاملے پر ہیں اس کو آئین اور جمہوری روایات کے مطابق حل ہونا چاہیے،وکلا نے کہا کہ پولنگ کا وقت 17تاریخ تک کا دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی بنیاد پر آپ کو بلایا ہے، آپ کی درخواست میں 26 گھنٹوں کو بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے،آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی،آپ کی طرف سے آنے والی سفارش پر ہمیں لگا کہ آپ اس پر سوچیں، آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی صاف شفاف الیکشن کے بعد جس کی اکثریت ہو وہ وزیر اعلی ٰبن جائے گا،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں ہاوس 17تاریخ تک مکمل ہوگا،اس وقت تک ساراعمل مکمل ہو جائے تو ہمارا کوئی اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت تک حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ رہنے کو آپ مانتے ہیں ،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں ایسا نہیں مان سکتا وہ اپنے عہدے پر نہ رہے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرہم آئینی راستہ اختیار کریں گے جس سے آپ دونوں کا نقصان ہوگا،پرویز الہیٰ نے کہاکہ عدالت یہ حکم دیں کہ ہم آپس میں طے کریں جس حل پر دونوں راضی ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام آپ عدالت آنے سے پہلے کرکے آجاتے نا چودھری صاحب،

    حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت کا احترام کرتا ہوں ،شخص اہم نہیں نظام اہم ہے،قوم نے دیکھا کہ ڈپٹی اسپیکر پر حملہ ہوا ہمارے پاس عددی اکثریت موجود ہے، آج الیکشن ہونے دیا جائے جب 20سیٹوں پر الیکشن ہوگا تو عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں،ہم نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا، انہوں نے اپنے بندوں کو کیوں نہیں روکا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کو پرویز الہٰی کی تجویز منظور نہیں،آج جو 4 بجے اجلاس ہونا تھا وہ اب نہیں ہوگا کیونکہ4 بج چکے ہیں،اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 17 تک دونوں فریقیں راضی ہیں کہ الیکشن نہ ہو ، حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف سے اگر کوئی قانونی دلیل ہو تو میں ماننے کو تیار ہوں،آئین اور قانون کے مطابق میرے پاس عددی اکثریت ہے،اگر17 تک کوئی بھی وزیراعلیٰ نہ رہا تو نظام کیسے چلے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں ہم گورنر کو ہدایت کرسکتے ہیں کہ وہ نظام چلانے کے اقدامات کرے اگر ہم مزید وقت دیں تو آپ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے،حمزہ شہباز نے کہا کہ اس کا بہتر حل ہے کہ آج رات12بجے تک الیکشن کرائے جائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ایک مناسب وقت دیا ہے،اب جو وقفہ آیا ہے اس کے لیے وقت دینا چاہیے،حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ معاملہ اسی فورم پر حل ہونا ہے عدالت جو فیصلہ دے،

    پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمارے آنے کا سبب یہ ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پیش ہوئے ہیں،17 جولائی کے بعد تک کا وقت مل جائے تو بہتر ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ قانون کے مطابق یہ الیکشن فوری ہو، ہائوس پورا ہو یا پھرابھی،ہمیں 17 تک کا وقت دینا مناسب نہیں لگتا ،اگر حمزہ شہباز یہ کہیں کہ 17 کو الیکشن کرائیں لیکن اس دوران حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وہ مل بیٹھ کر حل نکالنا نہیں چاہتے، وہ رن آف الیکشن کی بات کررہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ مجھے 17 تک وزیر اعلی رہنے دیں،ہم آپ کو کچھ وقت دیتے ہیں اس پر عدالتی فیصلے کے مطابق الیکشن کرائیں،پرویز صاحب آپ کے پاس دو آپشن ہیں کہ حمزہ شہباز کو17 تک وزیر اعلی مانیں یا پھر اس سے پہلے جو وقت دیتے ہیں تو اس دوران الیکشن کرائیں،پرویز الہیٰ نے کہا کہ اگر ہم ان کو 17تک وزیر اعلی مانتے ہیں تو اس سے پہلے وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کریں اور پکڑ دھکڑ نہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم حکم دینگے کہ کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو،الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتو کوئی تقرری اور تبادلہ نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں اس وقت کہ کمپرومائیز نہ ہو،آپ دونوں بیٹھ جائیں اس کا کوئی قانونی حل نکالتے ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ حمزہ شہباز17 تاریخ تک قائم مقام وزیر اعلی رہیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہاں پنجاب اسیمبلی والوں کا موقف الگ یے بابر اعوان آپ کا موقف کیوں الگ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے سیاست میں کوئی اختلاف نہ رہے ،ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل چلتا رہے۔ پی ٹی آئی کے وکلا کا موقف اپنے امیدوار سے الگ کیوں ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ہم اتحادی ہیں وہاں اکثریت میں ہیں، درخواست گزار اپوزیشن لیڈر ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میاں محمود الرشید کا مشورہ عدالت کے سامنے رکھا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی پارٹی کی نہیں ایک انفرادی شخص کی درخواست ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وقت دیں تب تک وزیر اعلی کو ہٹا دیں بابر اعوان صاحب ہم آئینی بحران نہیں پیدا کرنا چاہتے،اگر دو دن کا وقت دیتے ہیں تو نظام حکومت کون چلائے گا ،بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم حمزہ شہباز شریف کو عبوری طور پر وزیر اعلی نہیں مانیں گے، بابر اعوان نے پرویز الہی کے موقف کی عدالت میں تردید کردی۔

    بابر اعوان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا موقف سامنے رکھنا چاہتے ہوں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار آپ نے کہا کہ 17جولائی تک ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور 7 دن کا وقت مانگا،بابر اعوان نے کہا کہ سوال ہے کہ ہمیں مزید وقت چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے کہا کہ لگتا ہے آپ نےآئین کا آرٹیکل 130 مکمل نہیں پڑھا، اس کو پڑھیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا اور آپکے امیدوار کا موقف ایک جیسا نہیں ہے تو عدالت کیا کرے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ باقی عدالت جو حکم دیگی وہ ہم مانیں گے،اس بحران سے نکلنے کےلئے کچھ وضاحت آپ نے کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں آئینی معاملہ ہے، اس کوحل کرنا ہے اس کو مزید خراب نہیں کرنا، بابر اعوان نے کہا کہ آئین کی ایک شق ہے جو 187/1 ہے ، عدالت نے کہا کہ آئین کی شق 187/1 کو ایسے ہی استعمال نہیں کرسکتے ،اب ساڑھے چار بج چکے ہیں، بابر اعوان نے کہا کہ آپکا شکریہ جو آپ ہمیں سن رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شکریہ ادا نہ کریں یہ ہمارا کام ہے، اگر دوبارہ پول کی اجازت دیتے ہیں تو کچھ وقت دینا ہوگا،وزیر اعلی کے الیکشن میں پہلی بار ایسی صورتحال ہوئی ہے،اب نکتہ یہ ہے کہ اگر وزہر اعلی کو ہٹا دیتے ہیں تو اس کا حل نکالنا ہوگا، ہوسکتا ہے چند دنوں میں اس کا حل نکل آئے لیکن20 دن نہیں دے سکتے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر آپ راضی نہیں ہوتے تو ہم آرڈر پاس کردیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سینیئر سیاستدان اس کا حل نکالیں،وکیل پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ہم نے کورٹ میں مشاورت کی ہے اسپیکر کے ساتھ کہ 17جولائی کے بعد کا وقت دیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے موکل کی درخواست ہی نہیں اس لئے آپ کو کیوں سنیں،بابر اعوان نے کہا کہ ہمیں مزید دس منٹ دیں پارٹی لیڈر سے بات کرنا چاہتا ہوں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان آپ کو ہم دو سے تین دن دینگے اس قانون میں بھی جواز ہے،پرویز الہی آپ بھی اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرلیں اور آدھے گھنٹے میں دوبارہ بتائیں ،

    دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم اس نکتے پر راضی ہیں کہ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کام جاری رکھیں،اس بات پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اتفاق ہوا ہے، پرویز الہیٰ نے کہا کہ اسپیکر ہوتے ہوئے حمزہ شہباز کو لیڈر آف اپوزیشن مانا اور ان کی رہائی کے آرڈر جاری کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اس نکتے پر راضی ہونا اچھی بات ہے،میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ دونوں فریقین راضی ہو گئے ہیں، بابر اعوان آپ بتائیں کیا بات ہوئی؟ بابر اعوان نے کہا کہ اسد عمر اور دیگر کے ساتھ پنجاب میں پارلیمانی لیڈر اور امیدوار سے بھی بات ہوئی،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھیں عمرن خان چاھتے ہیں عدالت آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو قانون کے مطابق عمل کی ہدایت کرے،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھے، پی ٹی آئی وکلا نے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ کام حاری رکھنے پر اتفاق کر لیا

    بابراعوان نے کہا کہ ااس دوران حکومت کوئی بھی فنڈز اور اختیارات استعمال نہیں کرے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی اور الیکشن کمیشن کوڈ آف کنڈیکٹ پر سختی سے عمل در آمد کرے، آپ کو آپریشنل صورتحال پر اعتراض ہے کہ تنگ نہ کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسا حکم دے گی جو سب کو قبول ہو گا، بابر اعوان نے کہا کہ وہاں سب کو بلاکر بٹھایا جارہا ہے، اس صورتحال کو عدالت دیکھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ دوبارہ ہمارے پاس آئیں،بابر اعوان نے کہاکہ ہم بھی اس معاملے میں نہیں آنا چاہتے لیکن دوسرے کیسز میں آئیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ارادہ ہے کہ انتخابات میں کسی کو ہراساں اور دھاندلی کریں؟ حمزہ شہباز نے کہا کہ میرا ایسا کوئی اردہ نہیں، میں ایک سیاسی کارکن ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کسی کو ہراساں اور دھاندلی نہیں کرینگے،حمزہ شہباز نے کہا کہ جی میں بالکل ایسا نہیں کروں گا،

    پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ حمزہ شہباز سے متعلق 13 اپریل کو نوٹیفکیشن جاری ہوا،آپ ہمیں عدالتوں میں آنے سے روک نہیں سکتے، ہم عدالت میں آتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق ہیں۔ہم ایسا آرڈرجاری کرینگے الیکشن صاف اور شفاف ہوں اور عزت اور تکریم رہے، مختصر حکمنامہ آج رات تک جاری کردینگے،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئ ہے، امید ہے سپریم کورٹ اس بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہی سماعت کرے گی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس روک دیا جائے گا

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آج ہی سماعت کی جائے،وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہونے والے الیکشن کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں پنجاب حکومت اورڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں حمزہ شہباز،پرنسپل سیکریٹری گورنر اورسیکریٹری اسمبلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مناسب وقت دیا جائے تاکہ دوردراز کے ممبرز پہنچ سکیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کےلیے دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے جمعہ کو 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئی ایاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ