Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    لاہور:حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    اتحادی جماعتوں کے قائدین کل صبح مشترکہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کریں گے، او پریس کانفرنس کے بعد وکلاء کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ جائیں گے، جہاں سپریم کورٹ بارکی نظرثانی ودیگردرخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

     

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، جے یو آئی (ف) سپریم کورٹ جائیں گے، اور درخواستگزاروں میں ایم کیوایم، اےاین پی، بی این پی، باپ اور دیگر اتحادی جماعتیں بھی شامل ہوں گی۔

    اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت جاری ہے، حمزہ شہباز اکثریتی ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، چوہدری پرویزکی درخواست پررات ایک بجےپھرعدالت کوکھولاگیا، سیاسی جماعت کےافرادنےسپریم کورٹ کی دیواریں پھلانگیں۔

    وزیرقانون نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کے5سابق صدورنےبھی فل کورٹ کامطالبہ کیا، حمزہ شہبازکےوکلاء بھی مقدمےمیں فل کورٹ کےحق میں ہیں،جب کہ انصاف اورشفافیت کا تقاضہ بھی ہے 63 اے کی تشریح کا کیس تمام جج سنیں۔

     

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی پارٹی قائد کی ہدايت کے مطابق ووٹ دينے کے پابند ہيں، اور ہم آئین اور قانون کے ساتھ اپنے حق کی آواز اٹھانے پر بھی یقین رکھتے ہیں، اداروں کے خلاف الزامات لگانے کی بات کو مسترد کرتے ہیں، اور اداروں کی عزت اور تکریم کو معتبر جانتے ہیں۔

    پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری آج ہونے کا امکان

  • کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند ،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے راستہ صاف کرنے کیلئے بھاری مشینری بھجوا دی ۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن محمد عثمان انور اور ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کی ہدایت پر پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے لینڈ سلائیڈنگ سے بند سخی سرور بغل چر روڈ صاف کرنے کیلئے بھاری مشینری لگادی ہے۔لودھی کے مقام پر ہیوی مشینری لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹا رہی ہے۔بارڈر ملٹری پولیس کے سرکل آفیسر حاجی زمان لغاری نے بتایا کہ بغل چر روڈ لودھی کے مقام تمام لینڈ سلائیڈنگ ایریا کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹانے کے لیے مشینری موقع پر پہنچ گئی ہے۔

    بغل چر، ٹالیاں، رونگھن روڈ پر مختلف جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے.کوہ سلیمان کے علاوہ ڈیرہ غازیخان شہر اور گردونواح کے میدانی علاقوں میں گذشتہ دو روز سے وقفے وقفے سے بارش جاری ہے،جس سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوچکاہے.
    اس کے علاوہ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بارش سے راجن پور کے برساتی نالوں میں طغیانی آگئی۔رپورٹس کے مطابق حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے_فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ کاہا سلطان اور نالہ چھاچھڑ سے سیلابی ریلا میدانی اور پچھاد کے علاقوں میں پہنچ گیا جبکہ چک شہید کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔قطب پل کا بھی بند ٹوٹنے سے بستی پنجابی ،بستی منجھو سمیت دیگر علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد حفاظتی بند مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ادھر چترال میں طوفانی بارش سے فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ وادی کوئٹہ اور گرد و نواح میں بھی بادل برسے جبکہ بولان اور نصیر آباد سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات نے آج سے منگل تک بلوچستان کے 15 اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جبکہ توبہ اچکزئی کے ڈیم کے حفاظتی بند میں دراڑ پڑگئی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں بارشوں کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 100 ہو گئی ہے جبکہ 6 ہزارسے زائد مکانات اور املاک کونقصان پہنچا ہے۔

  • ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    پی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کو کہا جاتا ہے ہدایات پر چلنا ہے .

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ادارے خاموش بیٹھ جائیں تو کوئی بحران نہیں، عمران خان ہمارے لیے چٹکی بھی نہیں، بلا بنا کر پیش نہ کیا جائے، ہم عمران خان کی اوقات جانتے ہیں اور وہ ہمیں جانتا ہے، ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے.ان کا کہنا تھاکہ بلاوجہ اگر بحران پیش کرنا ہے تو عام آدمی کو پیش کر دو، ملک کو بحران میں کون مبتلا کر رہا ہے کھل کر بات کرنی چاہیے۔

     

    ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

     

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کو یونٹی آف کمانڈ کی حیثیت حاصل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف تین بار وزیر اعظم اور شہباز شریف تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہے ہیں، ن لیگ کے لوگ وزیر رہ چکے ہیں، سب معززین ہیں، ایک ایک کو پکڑ کر جیل میں ڈالا، گالیاں دیں اور بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےسربراہ پی ڈی ایم نے اپنی اتحادی حکومت سے شکوہ کیا کہ عمران خان کی حکومت میں جو گھپلے ہوئے اس پر ہم کیوں خاموش ہیں؟ ان گھپلوں پر ہم کیوں خاموش ہیں یہ میری اپنی حکومت سے شکایت ہے۔ عمران خان میں صلاحیت ہی نہیں وہ کسی کو مجبور کر سکے، عمران خان اتنی بڑی سیاسی قوت نہیں، اس کی کسی دھمکی کو بنیاد بنا کر ’پر‘ کو ’پرندہ‘ بنانا مشکل بات نہیں۔

    فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں، ہمیں آئین کے مطابق اپنا کام کرنے دیا جائے، سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کو کام کرنے دیا جائے، روز روز کی مداخلتیں ملکی نظام کو معطل کر دیتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب سےنئی حکومت آئی، دونوں قوتیں غیرجانبداربھی ہوگئیں اورنیوٹرل بھی۔ اس حکومت کیلئے روز روز مسائل پیداکرنا، یہ رویہ بھی ہم دیکھ رہےہیں، نئی نئی تجویزیں آرہی ہیں کہ نئے الیکشن ہونے چاہیں.

    عدالتی بینچز کے حوالے سے جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھاکہ کسی فریق کے تحفظات ہوں تو اس جج کو کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہیے، روز روز نئی لاحقیں فیصلوں کے ساتھ وابستہ نہ کی جائیں، فیصلہ ایک ہوتا ہے، کورٹ ایک ہے، اگروہ کل ایک غلط کرچکے ہیں تو اس کیس کو نہ سنیں، فل کورٹ بیٹھے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہمارے ملک میں بند کمروں کی سیاست شروع ہو گئی ہے، ایک ادارہ دوسرے ادارے پراثر انداز ہونے کی سیاست کر رہا ہے، اب یہ سیاست ریاست کی تباہی کا سبب بن رہا ہے اور ذمہ دار ہمیشہ سیاستدان اور سیاسی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے، ہم اس صورتحال سے مطمئن نہیں، یہ چیزیں ٹھیک ہوجانی چاہیں۔

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ کی تقریب میں شرکت

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ کی تقریب میں شرکت

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور کا دورہ کیا ،آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی.

    پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ رانا ظہیر اکیڈمی لاہور نے جیت لی، اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں رانا ظہیر کلب لاہور اور یوتھ ہاکی کلب ملیر کراچی کی ٹیمیں مد مقابل تھیں جس میں دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا۔اس فیصلہ کن معرکے کے مہمان خصوصی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے جبکہ ہاکی اولمپئنز کی ایک بڑی تعداد نے بھی فائنل دیکھا۔

    مقابلے میں لاہور کے رانا ظہیر ہاکی کلب نے کراچی کے یوتھ ہاکی کلب ملیر کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرایا اور پہلے ایڈیشن کی فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

    چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کو گولڈ میڈلز اور گلدستے دیئے، انہوں نے فاتح ٹیم کے کپتان کو ٹرافی بھی تھمائی۔اس موقع پر اولمپیئنز نے دیگر ٹیموں اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔

    صوبائی وزیر سندھ شہلا رضا، لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکٹو رانا عاطف اور محمد حفیظ بھی تقریب میں موجود تھے۔کراچی کی ٹیم نے اختتامی تقریب میں لاہور قلندرز کی شرٹ پہنی، فاتح ٹیم کو 30، رنرز اپ کو 25 جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو 20 لاکھ روپے انعام دیا گیا۔

    قومی سطح پر کھیلی جانیوالی چیمپیئن شپ میں 718 کلبوں نے ملک بھر سے شرکت کی.

  • ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

    ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

    پاکستان مسلم لیگ ن نے وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور کے لبرٹی چوک میں تقریب منعقد کی،جو جلسے میں بدل گئی.لبرٹی چوک میں منعقدہ تقریب میں مسلم لیگ ن کے رہنماوںخواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، رانا مشہود احمد خان ،عطاء اللہ تارڑ سمیت کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ لاہور پہلے بھی مسلم لیگ ن کا گڑھ تھا، ہے اور رہے گا،پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے نواز شریف اور لیگی کارکنوں کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے ،نواز شریف ہمیشہ ملکی استحکام، سلامتی اور عوام کے لئے کھڑے ہوئے ،جب کبھی ملکی حالات خراب ہوئے تو نواز شریف نے قوم کو متحد کیا اور حالات بہتر کئے ،ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگتا ہے تو ایک کھیل کھیلا جاتا ہے اور عمران خان جیسے پٹھو سامنے لائے جاتے ہیں ،نواز شریف نے ملکی سلامتی کو یقینی بنایا اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے سے بات کی،اس دور میں بھارتی وزیراعظم خود پاکستان آ کر پاکستان کو تسلیم کر کے گیا ،آج پاکستان ایک دوراہے پر ہے اور ایک آزمائش ہے ،2018 میں ترقی اور خوشحالی والے پاکستان کو سلیکٹڈ کی نظر لگ گئی ،اس پاکستان پر ایسا شخص مسلط کر دیا گیا جس نے کرپشن کے بازار گرم کر دئیے، کشمیر کا سودا کر دیا، ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ،آج پاکستان کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے میدان میں آئی ہے

    مسلم لیگ ن کے رہنما کامران مائیکل نے کہا کہ آج لاہور جاگ گیا ہے، جب لاہور جاگتا ہے تو پاکستان جاگ جاتا ہے ،فتنہ سردار نے نفرت کے بیج بوئے ہیں،آج وقت آ گیا ہے سب اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ ہم نے ملک بچانا یے

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج ہم یہاں آئین، جمہورہت، ووٹ کی عزت اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں ،پراجیکٹ عمران 2011 میں لانچ کیا گیا ،آج بھی ریاستی اداروں میں موجود پراجیکٹ عمران کے سہولت کار آرام سے نہیں بیٹھے،2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر بھی ہماری اکثریت کو اقلیت میں بدل کر ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ،ہم نے نتائج تسلیم نہیں کئے اور لانگ مارچ کی بجائے اپنی بات کی ،ہماری قیادت کو جیلوں میں ٹھونسا گیا ،جنہوں نے ہمیں جیلوں میں ڈالا، وہ جواب دیں کہ انہیں ہماری کیا کرپشن ملی،کوئی کرپشن نہیں ملی، ہمارا جرم بات کرنا تھا ،ہم نے 2008 میں پیپلزپارٹی کا مقابلہ کیا اور اپوزیشن میں بیٹھ گئے ،2013 میں ہماری حکومت آئی تو پیپلزپارٹی نے ذمہ دارانہ اپوزیشن کی ،جمہوریت بعض لوگوں کو اچھی نہیں لگتی،سب سے غلیظ سیاست کرنے والے کو نہلا دھلا کر حاجی بنا کر ہم پر مسلط کیا گیا .

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم نے عدم اعتماد کا فیصلہ کر کے کیا گناہ کیا ،ہم نے دھرنے سے حکومت نہیں گرائی تاکہ دھرنوں سے حکومتیں نہ گرائی جائیں ،پراجیکٹ عمران کے سہولت کاروں کو چین نہ آیا ،وہ آج بھی منڈلا رہے ہیں ،ہمارے بولنے سے کچھ لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے ،ہماری 4 ماہ کی اس حکومت کو کام نہیں کرنے دیا گیا ،4 سال ملکی معیشت کو تباہ کرنے والا کہتا ہے کہ سازش ہوئی ،ہم نے کسی کی مدد نہیں لی، اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی لیکن بعض لوگ نیوٹرل ہونے کو تیار نہیں ،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئین سے متصادم فیصلے آئے ہیں ،آئین بنانے کا حق عدالت کو نہیں بلکہ پارلیمان کو ہے ،63 اے پر معزز عدالت کی رائے آئین سے متصادم ہے ،اس پر نظرثانی کی اپیل کوئی سن نہیں رہا ،انوکھا لاڈلہ بچہ جمہورا ابھی تک گالیاں بھی نکالتا ہے اور کام بھی نکلواتا ہے ،ہم گالی نہیں دیتے تو ہمیں کیا پیغام دیا جا رہا ہے .

    لیگی رہنما نے کہا کہ اس کو کامیابی کے باوجود مرضی کا الیکشن کمشنر، مرضی کی عدالت چاہیئے ،ایسا نہیں ہو سکتا ،لاہور تمہیں بھگائے گا اور تمہیں مسترد کرے گا ،تم پنجابیوں کو سمجھتے کیا ہو ،تم نے پنجاب پر ایک نالائق مسلط کیا ،اگر ہم نے کچھ لوٹا ہوتا تو تم ہم پر کچھ ثابت کرتے حالانکہ عدالت اور نیب تمہاری تھی ،نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا، کیا یہ کرپشن تھی؟؟؟،ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا، ملک کو چلنے دیا جائے ،یہ کہتا ہے کہ ملک سری لنکا بنے گا، اس کے منہ میں خاک ،اگر کچھ لوگ غیرجانبدار نہیں ہوں گے تو ہمیں بتا دیں کہ ملک کون چلائے گا ،اگر ملک چلانا ہے تو پارلیمان سپریم ہے اور ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں،جب ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور صدر آئین کے پرخچے اڑا رہے تھے تو اس وقت سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو کیوں نہیں بلایا گیا .

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکمران سیاسی اتحاد نے 63 اے پر عدالت کی رائے پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنا کر سننے کی اپیل پر غور کیا جائے ،یہ رائے غیرآئینی تھی ،ہم کسی الیکشن سے نہیں بھاگتے،تم سمجھتے ہو کہ ہم جائیں گے تو الیکشن آئے گا اور تم اپنے جھوٹے بیانئے کی بنیاد پر جیت جاو گے ،ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،استحکام دھینگا مشتی اور یکطرفہ فیصلے سے نہیں آئے گا ،ہم لڑائی کو جنگ میں نہیں بدلنا چاہتے ،یہ جھوٹی سازش کا بیانیہ بند کرنا پڑے گا ورنہ گلیوں میں رلوں گے لیکن منزل پر نہیں پہنچو گے ،اور اگر منزل پر پہنچنے لگو گے تو ہم تمہارا راستہ خراب کرینگے ،ہمیں دیوار سے لگانے کی سازش بند کی جائے ،الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوں گے ،اگر قبل از وقت انتخابات کا کوئی فیصلہ ہوا تو اس کا فیصلہ سیاسی جماعتیں کرینگی .

    صوبائی وزیرعطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف کا دوہرا معیار ہم نے برداشت کیا ،نواز شریف کا حوصلہ چٹان جیسا ہے وہ برداشت کر گیا،لیکن اب ہم برداشت اور معاف نہیں کرینگے ،ملک کو لوٹنے کا حساب ابھی ہم نے چکتا کرنا ہے ،اس عمران خان کو مرضی کے فیصلوں کی عادت پڑ گئی ہے ،یہ گالیاں دیتا ہے اور مرضی کا فیصلہ لیتا ہے ،عمران خان نے اپنی کشتی ڈوبتی دیکھ کر فرح گوگی کو باہر بھگا دیا ،عمران خان کی عادتیں ایسی ہیں کہ وہ جیل نہیں کاٹ سکتا ،ہمیں اللہ نے موقع دیا تو عمران خان کو جیل بھجوا کر دم لیں گے ،ہمارے راستے میں روڑے اٹکائے گئے ،ہمارے 25 لوگوں کو ڈی سیٹ کریں تو وہ صحیح ہے اور چوہدری شجاعت خط لکھیں تو ان کو کچھ نہیں کہا جاتا،لاڈلے کے لئے قانون اور اور مسلم لیگ ن کا قانون الگ ہے،آج ہم فیصلہ کر چکے کہ اس پر فل کورٹ بناو ورنہ ہم یہ فیصلہ نہیں مانیں گے ،چوہدری شجاعت کے فیصلے کے مقابلے میں آپ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کب اور کہاں ہوا ،ساجد بھٹی کو پارلیمانی پارٹی کا لیڈر کب بنایا گیا،وقت آیا تو توشہ خانہ، فرح گوگی کا حساب لینے بنی گالہ جائیں گے،حمزہ شہباز وزیراعلی تھے، ہیں اور رہیں گے.

  • پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو عبوری وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ عدالتی تحریری حکمنامے میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے نوٹ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری کر دیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ شجاعت حسین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو لکھا گیا خط 25جولائی کو پیش کیا جائے، تمام فریقین کو جواب جمع کرانے کےلیے وقت دیتے ہیں، ڈپٹی سپیکر کے وکیل اس بات کو یقینی بنائیں گے تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، تمام پارٹیوں کو سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فریقین کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے وقت درکار ہے۔

    تحریری حکم میں بتایا گیا کہ ہم نے نوٹ کیا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے، ایسی صورتحال میں حمزہ شہباز ایک منتخب وزیر اعلی کے طور کام نہیں کر سکتے، دونوں فریقین کے درمیان ایسی ہی صورتحال یکم جولائی کو ہوئی تھی، ہمارا یکم جولائی کا حکم دونوں فریقوں کی رضامندی سے جاری ہوا تھا، ہم نے آج پھر تمام فریقین کو پیشکش کی کہ حمزہ شہباز اسی پوزیشن پر بطور وزیر اعلی کام جاری رکھیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور حمزہ شہباز کے وکیل نے اعتراض نہیں کیا، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ حمزہ شہباز اور انکی کابینہ ٹرسٹی کے طور پر کام کریں گے۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے حمز شہباز کا بطور وزیراعلیٰ یکم جولائی کا سٹیٹس بحال کر دیا۔ چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کرنے کے بعد اس کیس کوتفصیل سے سنیں گے۔ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دینگے، حمزہ عبوری وزیراعلیٰ کے فرائض پیر تک سر انجام دینگے، کیس کی سماعت پیرکے روزہوگی، تمام وکلا کوسنیں گے۔ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق چلیں، حمزہ وہ پاور استعمال نہیں کرینگے جس سے انکو سیاسی فائدہ ہو، عبوری وزیراعلیٰ محدود اختیارات میں کام کرینگے، عدالت صوبے میں میرٹ سے ہٹ کر تقریری ہوئی تو اس کو کالعدم قرار دینگے۔ بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط اور سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے۔ اگر پارٹی سربراہ کی ہی بات ماننی ہے تو اس کا مطلب پارٹی میں آمریت قائم کردی جائے۔

  • سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر3 ساتھیوں سمیت گرفتار،آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر3 ساتھیوں سمیت گرفتار،آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر کو 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے دہشت گردوں کے خلاف 2 آپریشنز کیے۔

    شمالی وزیرستان میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور آئی ای ڈیز برآمد ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرے آپریشن میں فورسز نے ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر کو 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے اور پکڑے گئے تمام دہشت گردوں کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے تھا۔

    فورسز نے خفیہ اطلاع پر دونوں آپریشنز کیے، یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں، بھتے اور شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کے یکم جولائی کا عبوری وزیراعلیٰ کا سٹیٹس بحال کر دیا اور سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ شہباز پیر کے روز تک بطور عبوری وزیراعلیٰ فرائض انجام دیں گے ،کیس کی سماعت پیر کے روز اسلام آباد میں ہو گی ، تمام فریقین کے وکلاء کو سنیں گے اور پھر فیصلہ سنایا جائے گا

    کمرہ عدالت میں صرف متعلقہ وکلا کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے باقی وکلا اور سائلین کورٹ روم نمبر تین میں لگی سکرین پر عدالتی کاروائی سن رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بنچ سماعت کررہے ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دینا شروع کردیے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہ پیرا پڑھ کر سنائیں کہاں لکھا ہے, یہ بتا دیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے کیا تشریح کی, ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 63 اے کے مطابق فیصلہ دیا آپ وہ پیرا پڑھ دیں،عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ اسپیکر نے سمجھا ہے کہ پارٹی صدر ہے, اگر کوئی لیگل غلطی کی تو تو اتنا بڑا ایرر نہیں جو دورنہ ہو سکتا ہو،عدالت نے ڈپٹی سپیکرکے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں

    عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ پارٹی صدر ہوتا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب انہوں نے غلط سمجھا, جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ججمنٹ کو غلط لیا ہے, جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی بلکل وہ وکیل نہیں ہیں,

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس حکم کی آڑ لے کر رولنگ دی، عدالت میں یہ حکم پڑھ کر سنایا جائے، خاص طور پر متعلقہ پیرا پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ فیصلے کا پیرا تین متعلقہ ہے، عدالت تفصیلی جواب کا موقع فراہم کرے تاکہ بلیک اینڈ وائٹ میں عدالت کو تحریری طور پر ڈپٹی سپیکر کا موقف پیش کر سکوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر فرض کرلیں سپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا ،عرفان قادر نے کہا کہ اس پر ہم تحریری جواب بھی دیں گے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحب یہ سوموٹو کیس نہیں ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ہم نے ریکارڈ بھی مانگا تھا کیا ریکارڈ آیا تھا ؟ عرفان قادر نے کہا کہ اس حوالے سے مجھے معلومات نہیں ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ سپیکر صاحب کے ہاتھ میں چوہدری شجاعت حسین کی خط تھا ہم وہ خط دیکھنا چاہتے ہیں ڈپٹی سپیکر نے اس خط کی بنیاد رولنگ دی ہےبا دی النظر میں آپ کی رائے یہی ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل جس آفس کو ہیڈ کو کر رہے ہیں اس پر گہرے بادل ہیں ،

    ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا ،عرفان قادر نے کہا کہ ہمیں کل تک کا وقت دیا جائے، عدالت نے حمزہ شہباز کو رسمی اختیارات دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دیں گے,

    سماعت کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموار یا منگل کو فیصلہ سنا دیں گے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الٰہی سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی عدالتی حکم پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سپریم کورٹ کے روبرو تاحال پیش نہ ہوئے ،کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر گیا تحریک انصاف کے رہنماء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت کی جانب سے دلائل دیئے گئے، عدالت میں ڈپٹی سپیکر کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرا دیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کہا ں ہیں, وہ بھی آ رہے ہیں؟

    کمرہ عدالت میں رش لگ گیا جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلیں جائیں،ہم کوشش کرتے ہیں آپکو باہر بھی سماعت سننے کا بندوست کرتے ہیں،ایسے حالات میں سماعت ممکن نہیں ہے،ہم ایسا کرتے ہیں کہ سماعت دوسرے روم میں شفٹ کرتے ہیں،

    عدالت نے عرفان قادر کو دلائل دینے سے روک دیا . چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس دوست مزاری کا وکالت نامہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مکمل دلائل سنیں گے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وکلا اور تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد بغیر بیکنگ کے کورٹ روم ون مین داخل ہو گئی ہے، دھکم پیل سے کورٹ روم نمبر ون کے دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کیس ویڈیو لنک والے کورٹ روم میں منتقل کردیا سماعت کچھ دیر بعد ہوگی پرائیویٹ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کے الیکشن میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد حکمران اتحاد نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے

    حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں چیف جسٹس پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتی ہیں کہ وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ قرین انصاف ہوگا کہ عدالت عظمیٰ کے تمام معزز جج صاحبان پر مشتمل فل کورٹ ،سپریم کورٹ بار کی نظرِ ثانی درخواست موجودہ درخواست اور دیگر متعلقہ درخواستوں کو ایک ساتھ سماعت کے لئے مقرر کرکے اس پر فیصلہ صادر کرے کیونکہ یہ بہت اہم قومی، سیاسی اور آئینی معاملات ہیں۔ آئین نے مقننہ،عدلیہ اورانتظامیہ میں اختیارات کی واضح لکیر کھینچی ہوئی ہے جسے ایک متکبر آئین شکن فسطائیت کا پیکر مٹانے کی کوشش کر رہا ہے یہ دراصل پاکستان کے آئین عوام کےحق حکمرانی اورجمہوری نظام کو بھی معیشت کی طرح دیوالیہ کرانا چاہتا ہے یہ سوچ اوررویہ پاکستان کے ریاستی نظام کے لئے دیمک ہے۔

    ‎حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں اس عزم کا واشگاف اعادہ کرتی ہیں کہ آئین، جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر فورم اور ہر میدان میں تمام اتحادی جماعتیں مل کر آگے بڑھیں گی اور فسطائیت کے سیاہ اندھیروں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں

    وفاقی حکومت نے لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز تعینات کرنے کی منظور ی دے دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ تمام چوٹی کے قانونی ماہرین رات سے بتا چکے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی ہے،فل بینچ کا مطالبہ معاملے کو طول دینے کوشش ہے تاکہ ضمیر خریدنے کی نئی کوشش کی جائے، بینچ کو متنازعہ بنانے کے لیے وٹس ایپ ٹولے کو صبح سے ہدایات جاری کر دی گئی تھیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں لارجر بینچ کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے اس پیراگراف کو پوائنٹ نہیں کیا جس کا حوالہ دیا گیا ،بظاہر معاملہ کافی پیچیدہ لگتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی قیمتی رائے سے عدالت کوآگاہ کریں گے ڈپٹی اسپیکر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوں

    قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی تحریک انصاف کے وکلاء بیرسٹر علی ظفر ،عامر سعید راں روسٹرم پر موجود تھے، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، فواد چوہدری، حسین الہی سمیت پی ٹی آئی اور ق لیگ کی دیگر قیادت کمرہ عدالت میں موجود تھے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست رات 12 بجے دائر کی گئی ، بتائیں آپ کا کیا معاملہ ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بہت اہم معاملہ ہے، اس لئے عدالت آئے ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے

    تحریک انصاف کےوکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا اور کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعلی کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جبکہ پرویز الٰہی نے 186ووٹ حاصل کیے ،ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کردیے ،کل پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دوسرا راونڈ ہوا. جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اسمبلی میں کتنے ارکان موجود تھے. بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایوان میں 370 ارکان تھے .پرویز الہی کو 186 ووٹ جبکہ حمزہ کو 179 ووٹ ملے. آئینی طور پر پرویز الہی وزیر اعلی کا الیکشن جیت گیے. لیکن ڈپٹی اسپیکر نے انکے دس ووٹ مسترد کر دیے.

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار.عدالت نے ڈپٹی اسپیکر سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے،عدالت نے ڈپٹی اسپیکرسردار دوست محمد مزاری کو آج دوپہر 2 بجے طلب کر لیا سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا،عدالت نے حمزہ شہباز ،چیف سیکریٹری سمیت دیگر فریقین کونوٹسز جاری کر دیئے

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ڈائریکشن کی خلاف ورزی پر رپورٹ کرسکتا ہے،جمہوری روایت یہی ہے کہ پارلیمانی پارٹی طے کرتی ہے کہ کس کی حما یت کرنی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے جو رولنگ دیں ہمیں بتائیں کہ یہ بات کس پیرا میں لکھی ہے؟ وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ حمزہ شہباز نے حلف لے لیا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا ہم نے آئین اور قانون کی بات کرنا ہے ۔عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ آپ لوگ بھی زرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو ذاتی طور پر سننا چاہتے ہیں، وہ اپنے ساتھ الیکشن ریکارڈ بھی لے کر آئیں، ڈپٹی اسپیکردوست مزاری آ کر اپنے مؤقف کا دفاع کریں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے دالت عظمیٰ کے فیصلے کی غلط تشریح کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پریشان نہ ہوں یہ قانونی سوال ہے، یادرکھیں ایسے معاملات غیر تجربہ کاری سے پیش آتے ہیں،معاملہ تشریح سے زیادہ سمجھنے کا ہے،پورے پاکستان میں لوگ یہ سماعت سننا چاہتے ہیں،یہ معاملہ 63 اے 2 بی کی تشریح کا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے 10 ووٹوں کے مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم