Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے کو جلد شروع کرنے کی ہدایت کردی. وزیرِ اعظم نے قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن)، بابوسر ٹنل اور خضدار کچلاک روڈ پر بھی کام جلد شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا گیا،ملک ترقیاتی منصوبوں میں مزید تعطل کا متحمل نہیں ہو سکتا. وزیرِ اعظم شہبازکا کہنا تھا کہ منصوبوں کیلئے کنٹریکٹ دینے کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جائے.وزیرِ اعظم نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کیلئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی.

    وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی کمپنیوں کی تصدیق کیلئے پاکستانی سفارتخانوں سے معاونت حاصل کریں.متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ملک و قوم کا وقت اور پیسہ بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں.وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری شاہراہوں کے تعمیراتی منصوبوں پر پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مولانا اسد محمود، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، چیئرمین این ایچ اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.وزیرِ اعظم کو سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ M-6 سکھر حیدر آباد موٹروے کراچی پشاور موٹروے کا اہم سیکشن ہے جس پر کام گزشتہ حکومت کی سست روی کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا. 306 کلومیٹر لمبا چھ رویہ موٹروے 15 انٹرچینجز کے ساتھ 6 اضلاع میں سے گزرے گا. موٹروے کے قیام سے سفر کا وقت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت اور پورے پاکستان سے برآمدات کی کراچی بندرگاہوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی. منصوبے پر کام چھ ماہ کے اندر شروع کردیا جائے گا جس کی تکمیل 2.5 سال میں ہوگی.

    250 کلومیٹر قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن) کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کی فیضیبلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے جسے 7 ماہ کے دوران مکمل کر لیا جائے گا جس سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی، اور داسو اور دیامر بھاشا ڈیمز کی تعمیر کی وجہ سے متبادل راستہ میسر ہوگا.

    بابوسر ٹنل کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹنل کے علاوہ 66 کلومیٹر روڈ کا مکمل سیکشن تعمیر اور موجودہ روڈ کی بحالی کا کام کیا جائے گا. شاہراہ کے اس حصے میں موسمِ سرما کی برفباری کے دوران ٹریفک کی بلا تعطل روانی کیلئے سنو گیلیریز بھی تعمیر کی جائیں گی. وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کو شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبے کی تکمیل کی ہدایات جاری کیں.

    وزیرِ اعظم کو پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. وزیرِ اعظم نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو بہتر اور مؤثر بنانے کیلئے جامع تجاویز مرتب کرنے کیلئے 9 رکنی کمیٹی تشکیل کردی. کمیٹی میں وفاقی وزیرِ مواصلات، ہاوسنگ منسٹر، ایم ڈی PPRA، چیئرمین PEC شامل ہونگے. وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں.

  • مریم نواز پر الزام ہے کہ اس نے جرم میں نواز شریف کی اعانت کی،وکیل کا عدالت میں بیان

    مریم نواز پر الزام ہے کہ اس نے جرم میں نواز شریف کی اعانت کی،وکیل کا عدالت میں بیان

    مریم نواز پر الزام ہے کہ اس نے جرم میں نواز شریف کی اعانت کی،وکیل کا عدالت میں بیان

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    ن لیگی نائب صدرمریم نوازاور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے، نیب اسپیشل پراسیکیوٹر ثمان غنی چیمہ اور ڈپٹی پراسیکیوٹر مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب کا کیس ہے کہ پراپرٹیز کا اصل مالک نواز شریف ہے، نواز شریف نے یہ پراپرٹی اپنے زیر کفالت لوگوں کے نام پر بنائی،نیب ریفرنس میں کہا گیاکہ نواز شریف نے یہ پراپرٹی حسین نواز کے نام ظاہر کیں،نیب کا موقف ہے کہ مریم نواز کو اس پراپرٹی کا ٹرسٹی بنایا گیا لیکن ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے،مریم نواز پر الزام ہے کہ اس نے جرم میں نواز شریف کی اعانت کی، نیب نے نواز شریف کے علاوہ دیگر تمام ملزمان کو شریک جرم قرار دیا،ضمنی ریفرنس دائر ہونے کے بعد ہم نے اعتراض اٹھایا، ہم نے اعتراض اٹھایا کہ ضمنی ریفرنس دائر ہونے کے بعد دوبارہ فرد جرم عائد کی جائے ہماری استدعا نہیں مانی گئی اور اسی فرد جرم پر کیس چلایا گیا،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو چارج ہم نے پڑھا اس میں ٹرسٹ ڈیڈ کا تو کوئی ذکر نہیں .وکیل مریم نواز نے کہا کہ نہیں جو چارج جمع ہے اس میں ٹرسٹ ڈیڈ کا زکر کیا گیا ریفرنس سے لیکر چارج فریم تک تفتیش کو مس لیڈ کیا گیا، سپریم کورٹ نے سوالات اٹھائے تھے اور اس پر ڈائرکشن دی تھی،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت کی آپ بات کررہے ہیں اس وقت تو تفتیش ہی نہیں ہوئی تھی،وکیل نے کہا کہ سربراہ پانامہ جے آئی ٹی واجد ضیا سے پوچھوں گا کہ میرے خلاف کسی گواہ کا 164 کا بیان تھا مجھے صرف زبانی باتوں پر شامل تفتیش کیا گیا،جے آئی ٹی نے مریم نواز کو طلب کیا اور ٹرسٹ ڈیڈ ساتھ لانے کا کہا، واجد ضیاپر جرح میں پوچھا کہ کیا آپ کے پاس مریم نواز کے خلاف شواہد تھے جو طلب کیا،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرسٹ ڈیڈ تھی تو مریم نواز کو اس سے کنفرنٹ کرانے کیلئے طلب کیا گیا ہو گا،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر مریم نواز کی کردار کشی مہم بھی چلائی گئی، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا مریم نواز اس ٹرسٹ ڈیڈ کو تسلیم کرتی ہیں؟ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جی مریم نواز ٹرسٹ ڈیڈ کو تسلیم کرتی ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسارکیا کہ اس ٹرسٹ ڈیڈ کا مرکزی ملزم کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیا نواز شریف نے دفاعی بیان میں ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق کوئی بیان دیا؟ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ نواز شریف کا پہلے دن سے موقف رہا کہ بچے کبھی میری زیر کفالت نہیں رہے، نواز شریف کے بھائیوں کے بچے بھی کبھی والدین کے زیرکفالت نہیں رہے نواز شریف کا موقف ہے کہ جب تک والد حیات تھےبچوں کا جیب خرچ بھی لگا رکھا تھا، یہ حقیقت ہے بہت سی کمپنیوں میں نواز شریف شیئر ہولڈر بھی نہیں ہیں،ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز، صفدر، حسین نواز اور مقامی وکیل نے دستخط کیے،جیرمی فری مین سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے سامنے یہ دستاویز دستخط ہوا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جس دستاویز پر مریم نواز کو سزا ہوئی کیا آپ اب بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں؟ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ قتل میں معاونت اور قتل کے بعد لاش ٹھکانے لگانا دو الگ الگ جرائم ہیں،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا مریم نواز گھر میں بڑی ہیں؟ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ نواز شریف سے 130 سوال کیے گئے تھے میں انکو اس طرح دیکھ نہیں سکا، نواز شریف کا پہلے دن سے موقف رہا کہ میرے بچے کبھی میری زیر کفالت نہیں رہے، فوجداری تاریخ میں بنائی جانے والی یہ سب سے بااختیار جے آئی ٹی تھی،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف نے اپنے دفاع کے بیان میں ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق کوئی بیان دیا،امجد پرویز نے کہا کہ مریم نواز کو سزا صرف ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر دی گئی ہے،مریم نواز کو سزا ایک نام نہاد ایکسپرٹ کی رپورٹ کی بنیاد پر دی گئی، ڈی این اے ٹیسٹ سب سے مستند ٹیسٹ ہوتا ہے،فوجداری کیس میں محض ایک شہادت کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاتی ہے،اس ایکسپرٹ نے کوئی حوالہ دیے بغیر کیلبری فونٹ کو جعلی قرار دیدیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کیلبری فونٹ کو جعلی قرار دینے کی واحد شہادت رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ تھی؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی ، صرف رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ تھی،واجد ضیا نے برطانیہ میں اپنے کزن کی فرم کی خدمات لیں، واجد ضیا کے کزن نے فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کی خدمات لیں،رابرٹ ریڈلے کی وجہ سے مریم نواز آج تک کردار کشی مہم برداشت کر رہی ہیں بیرون ملک سے فرانزک ایکسپرٹ اس لیے ہائر کیا گیا کہ بعد میں جرح نہ ہو سکے،واجد ضیا نے اپنے کزن سے دو کام لیے،ایک تو فرانزک اور دوسرا اخبار اور فوٹو کاپیز کی بنیاد پر ایک رائے لکھ کر لی گئی،

    مریم نواز کے دوسرے وکیل عرفان قادر نے عدالت میں صحافی کی شکایت کر دی، عرفان قادر نے کہا کہ صدیق جان کمرہ عدالت سے مریم نواز سے متعلق ٹوئٹس کر رہے ہیں،ٹوئٹس میں لکھا جا رہا ہے مریم نواز تسبیح پڑھ کر عدالت پر اثر انداز ہو رہی ہیں، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اب اس معاملے پر ہم کیا کہیں؟ بہتر ہے میڈیا والے سماعت کے بعد ہی جو کہنا ہے کہا کریں،ویسے امجد پرویز یہ آپ کے دلائل ہیں یا جو عرفان صاحب نے بتایا اس کا اثر ؟ جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • تگڑا شو کرنےلگا ہوں ،بتاؤں گا نہیں،پاکستان کے لیےسب نے میرے ساتھ آنا ہے ،عمران خان

    تگڑا شو کرنےلگا ہوں ،بتاؤں گا نہیں،پاکستان کے لیےسب نے میرے ساتھ آنا ہے ،عمران خان

    اسلام آباد:چئیرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش ہوئی اور مجھے ہٹانے کی بات ہوئی ، مجھے کہا گیا کہ عدم اعتماد آئینی طور پر قبول کر لینی چاہیے تھی-

    باغی ٹی وی : اسلام باد ہائی کورٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے ہمارے کارکنوں کو ریلیف دیا جس پر ان کے مشکورہیں، ہمارے کارکنوں پر لانگ مارچ کےدوران تشدد کیا گیا اور گرفتاریاں ہوئیں،پاکستان کی آزادی میں وکلا کا اہم کردار رہا تھا،آ ج حقیقی آزادی مہم میں بھی متحرک ہیں،پاکستان کے خلاف سازش ہوئی اورعمران خان کو ہٹانے کی بات ہوئی ، مجھے کہا گیا کہ عدم اعتماد آئینی طور پر قبول کر لینی چاہیے تھی،پاکستانی سفیر کو کہا گیا کہ عمران خان روس کیوں گیا، امریکا ناراض ہے، پھر کہا گیا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا گیاتوپاکستان کو مشکلات کا سامنا ہوگا،کہا گیا کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا-

    سینیٹ کا اجلاس:اپوزیشن کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ایوان سے واک آؤٹ

    عمران خان نے کہا کہ امریکی سفارت کاروں نے لوٹوں سے ملاقات شروع کردی ، امریکی سفارت کاروں کاہمارے اراکین سے ملاقات کرنے کا کیا کام تھا؟ہمارے خیبرپختونخوا کے وزیرعاطف خان سے امریکیوں نےملاقات کی ،عاطف خان سے کہا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے،ہم جب آئے ملک کا دیوالیہ نکلا تھا،دوست ممالک مدد نہ کرتے تو ہم تباہ ہوجاتے-

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پھر کورونا آگیا، وہ بھی مشکل سال تھا،معیشت متاثرہوئی ،کورونا میں پریشر برداشت کر کے لاک ڈاؤن نہیں کیا،کورونا میں پریشر برداشت کر کے لاک ڈاؤن نہیں کیا،30سال میں ہماری معاشی پالیسی سب سے بہتر تھی،ہمارے کسانوں کے پاس پیسہ پچھلے دو سال میں زیادہ آ گیا، امریکیوں کو جانتا ہوں، جتنا ان کے سامنے جھکیں گے وہ جوتے ماریں گے، بھارت 40 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خرید رہا ہے،بھارت 40 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خرید رہا ہے،آج ہم نے جب قیمت بڑھائی تو بھارت تیل کی قیمت کو کم کیا ،میں کسی بھی ملک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہوں ،بدقسمتی سے بھارت فاشسٹ حکومت تھی اور ہمیں تعلقات توڑنے پڑے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کہتا ہے الیکشن ن لیگ کی طرف سے لڑوں گا ،ضمنی انتخابات میں دھاندلی کامنصوبہ بن رہاہے،سارے ادارے جنہوں نے رول آف لا کو بچانا ہے وہ خطرے میں ہیں،تگڑا شو کرنےلگاہوں ،بتاوں گا نہیں ،شہباز شریف کے خلاف 16 ارب روپے کا کیس واضح ہے ،سال قبل شہباز شریف کے خلاف فیصلہ ہونا چاہیے تھا ،شہباز شریف خاندان پر تحریک انصاف نے کوئی کیس نہیں بنایا سب پرانے تھے –

    عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں تماشہ لگا ہوا ہے ،الیکشن کمیشن وہاں ن لیگ کی اکثریت کو تحفظ دے رہا ہے ،دو نوں طرف ان کی حکومت کرپشن پر گئی تھی، نواز شریف پر کیسز آصف زرداری نے کیے تھے، اب سب کچھ معاف ہونے والا ہے،کفر کا نظام چل سکتا ہے ناانصافی کا نہیں چل سکتا، سویٹزر لینڈ کے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں، وہاں 99 فیصد قانون کی حکمرانی ہے،شریفوں نے پہلا این آر او سابق صدر پرویزمشرف سے لیا –

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے تسلیم کیا کہ مداخلت ہوئی، مداخلت ہوئی تو کیا اس مراسلے پر تحقیقات نہیں ہونی چاہیےتھی؟پیٹرول ڈیزل کی قیمت بڑھائی گئی اس سےساری معیشت پر اثر پڑے گا، پیٹرول کی جو قیمت بڑھائی اس سے 30 فیصد مہنگائی بڑھے گی،تنخواہ دار طبقہ اس مہنگائی میں کیسے گزارا کرے گا،شہباز شریف نے احمقانہ بیانات دیئے جس کی وجہ سے مارکیٹ ڈر گئی،پاکستان کے لیےسب نے میرے ساتھ آنا ہے ،شہباز شریف کی ا سپیڈ کے بہت چرچے تھے ،شہباز شریف صبح 6 بجے اٹھ کر کام شروع کردیتا تھا لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ،پاکستان سری لنکا جیسے حالات کی جانب بڑھ رہا ہے ،سویت یونین بڑی فوجی طاقت تھی معیشت کی کمزوری پر ٹوٹ گیا ،صاف اور شفاف الیکشن مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ ہیں

    دوسری جانب وکلا نے شکوہ کیا کہ عمران خان دور میں ہم پر مقدمات درج ہوئے عمران خان حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار کو گرانٹ تک نہ دی –

  • ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں،عدالت

    ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں،عدالت

    ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں،عدالت
    شیریں مزاری کی گرفتاری کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا

    شیریں مزاری کی گرفتاری کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری قومی اسمبلی سے سات جولائی تک رپورٹ طلب کر لی ،شیریں مزاری اور ایڈوکیٹ ایمان مزاری اپنے وکیل علی بخاری کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ چار جون کو انکوائری کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ، ابھی تک کمیشن سے متعلق ابھی کچھ نہیں ہوا نا ہمیں بلایا گیا ،ٹی او آر سے متعلق بھی ایک ریکوئسٹ تھی کہ کرمنل کاروائی کی تحقیقات کا ذکر بھی ہو جاتا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں، اس عدالت کی اس متعلق رائے ہے کہ کاروائی قانونی پراسس کے مطابق نہیں تھی اگر آپ کا کوئی اعتراض مستقبل میں ہو تو دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں، کیا اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کوئی رپورٹ آئی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ ابھی کوئی رپورٹ نہیں مجھے نہیں دی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی وزیر ابھی بھی جیل میں ہے وہ بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں،جب یہ حکومت میں تھے اس وقت یہ بھی ممبران اسمبلی کو خوشی خوشی اندر کر دیتے تھے،کیا اس عدالت کی حدود سے اس قسم کے ہونے والے واقعات کی کوئی تحقیقات ہوئیں ہیں؟ اس عدالت کی حدود میں صحافیوں کو بھی اٹھایا گیا کیا ان کی آج تک تحقیقات ہوئیں؟

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

  • پٹرولیم مصنوعات میں 59 روپے تک اضافہ کردیا گیا

    پٹرولیم مصنوعات میں 59 روپے تک اضافہ کردیا گیا

    اسلام آباد:پٹرولیم مصنوعات میں 59 روپے تک اضافہ کردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق 20 روز کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت نے مسلسل تیسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ فی لٹر پٹرول کی قیمت میں چوبیس روپے 3 پیسے فی لٹر قیمت بڑھا دی ہے، ڈیزل کی قیمت میں 59 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یکم اور15تاریخ کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے، فروری میں عمران خان نے سیلزٹیکس، لیوی بھی ختم کردی تھی، اس وقت بھی پٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں نقصان ہورہا ہے۔

    خیال رہے کہ 2 جون کو مسلم لیگ ن کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پٹرول کی قیمت 209 روپے 86 پیسے ہو گئی تھی، ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے ہوگئی تھی، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے 31 پیسے فی لٹر، مٹی کا تیل 181روپے 94پیسے ہو گئی تھی۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر پیٹرول کی قیمتیں کم کیں، عالمی مارکیٹ میں تیل، گندم اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد حکومت کو اب اس مد میں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

  • میں نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    میں نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    اسلام آباد:ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سازش کا لفظ اعلامیہ میں شامل نہیں تھا، جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق کل تفصیلی بات کی تھی، کمیٹی اجلاس میں واضح کردیاگیاتھاکہ سازش کےکوئی ثبوت نہیں جبکہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس میں تمام سروسز چیفس نے اپنا موقف واضح بیان کردیاتھا۔

    شوکت ترین کےحوالےسےسوشل میڈیا پرلگائےالزامات بےبنیاد پروپیگنڈا ہیں:آئی ایس پی آر

    پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سائفر معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنے یا کوئی اور فورم ہو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    پاکستان دنیا میں امن مشن کیلئے فوج دینے والا دوسرابڑا ملک ہے، آئی ایس پی آر

    انہوں نے کہا کہ سروسز چیف سے متعلق ان کے ترجمان کے طور پر بات کررہا ہوں، کمیٹی میں کسی بھی سروس چیف نے یہ نہیں کہا کہ سازش ہوئی، میٹنگ میں سروسز چیفس، ڈی جی آئی ایس ایس نے وضاحت کردی تھی کہ سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی سلامتی کا ایشو تھا اس لیے تمام سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کو وہاں بلایا گیا تھا، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کے شواہد موجود ہیں۔

    بلوچستان: دیودار کے جنگلات میں لگی آگ کے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان جاری

    میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ کوئی کہہ رہا تھا کہ عسکری قیادت کی رائے تھی کہ سازش نہیں ہوئی، ہماری رائے نہیں تھی انٹیلی جنس بیسڈ تمام شواہد موجود ہوتے ہیں جس پر ہم نے میٹنگ میں ان پٹ دی، انہوں نے کہا کہ میٹنگ سے قبل عسکری قیادت کو شواہد کی بنا پر بریف کیا گیا تھا اور وہی ان پٹ لے کر وہ میٹنگ میں گئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنے یا کوئی اور فورم ہو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، گزشتہ حکومت کے پاس بھی کمیشن بنانے کے آپشنز موجود تھے اور موجودہ حکومت کے پاس بھی ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ حکومت کا اختیار ہے کہ کمیشن بنائے یا کچھ بھی کرے ہمیں اعتراض نہیں،بطور ادارہ ہمیں ہدایات ملیں گی تو مکمل تعاون اور سپورٹ کریں گے، پہلے بھی ہم مکمل اسسٹنس دے چکے ہیں دوبارہ بھی ضرورت ہوگی تو دیں گے۔

  • پنجاب اسمبلی کی خود مختار حیثیت ختم، گورنر نے آرڈینینس جاری کر دیا

    پنجاب اسمبلی کی خود مختار حیثیت ختم، گورنر نے آرڈینینس جاری کر دیا

    پنجاب میں سیاسی بحران جاری ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سرد جنگ کا خاتمہ نہ ہو سکا.گورنر پنجاب کے حکم پر پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کے نوٹیفیکیشن کے بعد گورنر پنجاب نے آرڈینینس جاری کر دیا جس کے مطابق سیکرٹری قانون احمد رضا سرور نے سیکرٹری پیجاب اسمبلی کی حثیت سے اختیارات سنبھال لیے ہیں .

    ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کی خود مختار حیثیت ختم کر دی ہے ، حکومت پنجاب نے پنجاب اسمبلی کو دوبارہ محکمہ قانون کا سپیشل انسٹی ٹیوٹ بنادیا۔گورنر پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا.

    آرڈینینس کے مطابق سیکریٹری اسمبلی اب سیشن بلانے یا برخواست کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔زرائع کے مطابق سیکرٹری قانون نے ایوان اقبال میں اسمبلی سیکرٹریٹ کو پہنچنے کی ہدایت کر دی،گورنر پنجاب کے حکم کے مطابق پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایوان اقبال میں منعقد ہوگا۔ سیکرٹری قانون آج مینٹنگ چیئر کریں گئے

    زرائع کے مطابق آرڈینینس جاری ہونے سے سپیکر پنجاب اسمبلی کے کار خاص اورسیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی من مانیاں ختم ہوگئیں,محمد خان بھٹی محکمہ قانون کے ماتحت ہونگے۔ پنجاب اسمبلی کو دوبارہ محکمہ قانون کے ماتحت کر دیا گیا۔

    سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نےاسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے، ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں،آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے، کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اسپیکر کے اختیارات محدود کرنے کا فیصلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے رویے کے باعث کیا گیا ہے۔ اختیارات محدود کرنے کے لیے محکمہ قانون نے سمری تیار کی۔ اسمبلی کے رولز آف بزنس میں آرڈینینس کے ذریعے ترامیم کی گئی.

    دوسری جانب ق لیگ اور پی ٹی آئی نے اراکین کو ایوانِ اقبال میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جانے سے روک دیا۔ پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر محمود الرشید کا کہنا ہے کہ اراکین کو اطلاع کر دی ہے کہ پرویز الہٰی کی زیرِ صدارت اجلاس میں شریک ہوں۔

    تحریکِ انصاف نے تمام اراکینِ اسمبلی کو مراسلہ بھی جاری کر دیا، اراکینِ اسمبلی کو خط پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید کی جانب سے لکھا گیا ہے۔ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر پرویز الہٰی کی زیرِ صدارت ہو رہا ہے۔ ارکانِ اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی زیرِ صدارت اجلاس میں شرکت کریں، پنجاب اسمبلی کے سوا کسی اور جگہ اجلاس میں شرکت نہ کی جائے۔

    پنجاب اسمبلی کے آج 2 الگ الگ اجلاس منعقد ہو رہے ہیں .گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کا طلب کردہ پنجاب حکومت کا بجٹ اجلاس آج دوپہر 2 بجے ایوانِ اقبال میں ہو گا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے اجلاس دوپہر 1 بجے طلب کر رکھا ہے۔

    زرائع کے مطابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری نے ایوانِ اقبال میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کر لیا۔ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے لاہور پہنچ گئے۔

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے معاملے پر بحران جاری ہے، دو روز ہو گئے، اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش نہ کیا جاسکا۔اسپیکر پرویز الٰہی اور اپوزیشن ارکان اپنے مطالبے پر قائم اور حکومت اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔

  • وزیراعظم کا خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم

    وزیراعظم کا خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم

    وزیراعظم کا خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم

    وزیراعظم شہباز شریف نے رشکئی میں اقتصادی زون کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی خصوصی اقتصادی زون کا یہ میرا پہلا دورہ ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون پر ترقیاتی کام جاری ہے،رشکئی خصوصی اقتصادی زون پر چینی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،چینی کمپنیاں پاکستانی کمپنیوں کی جدید ٹیکنالوجی سے متعلق معاونت کررہی ہیں خوشی ہے پاکستان اورچین ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زون کی تکمیل مقررہ وقت پر کرنے کاعزم ظاہر کیا،اور کہا کہ چھوٹے صوبوں میں اقتصادی زون کی تکمیل ہماری ترجیح ہے،پاکستان اور چین نے ماضی میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا آگے بھی بہترین کام کریں گے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے آج رشکئی خصوصی اقتصادی زون (SEZ)کا دورہ کیا اور اس حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی جناب احسن اقبال ,وفاقی وزیر مواصلات جناب اسد محمد , وفاقی وزیر براے اوور سیز پاکستانیز جناب ساجد توری, وزیراعظم کے مشیر جناب امیر مقام, پاکستان میں چینی سفارتخانے کی ناظم الامور چینی کمپنی کے نمائندوں اوراعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی . اجلاس کو رشکئی خصوصی اقتصادی زون پر جاری کام کے حوالے سے بریفنگ دی گیئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون 1000ایکڑ پر محیط ہے.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ رشکئی SEZ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کے تحت خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منجمنٹ کمپنی KPEZDMC اور CRBC (ایک سرکاری چینی انٹرپرائز) کےتعاون سے SPV یعنی رشکئی اسپیشل اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ آپریشنز کمپنی کے ذریعے بنایا جا رہا ہے- اس کمپنی میں KPEZDMC کے 9% اور CRBC کے 91% شیرز ہیں . جو اس نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔ چینی کمپنی اس SEZ کے آپریشنز کی ذمہ دار ہیں۔ رشکئی SEZ میں لائٹ انجینئرنگ، آٹو موٹیو، کنسٹرکشن اور فوڈ پروسیسنگ اور برامدات کو مد نظر رکھتے ہوئے شعبوں کو ہدف بنایا ہے، جس میں مقامی لوگوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرنے اور اقتصادی سرگرمیاں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔
    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ رشکئی SEZمیں پانی کی پائپ لائن بچھانےجبکہ گیس پائپ لائن بچھانےکا کام اور سول ورکس کے تکمیل کے مراحل میں ہیں اجلاس کو مزید بریف کیا گیا کہ رشکئی SEZمیں 2 صنعتی یونٹس تعمیر کا کام جاری ہے جب کہ چند مزیدصنعتی یونٹس کی تعمیر کا آغاز بھی جلد کر دیا جائے اجلاس کو بتایا گیا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لاینز لمیٹڈ نے زون تک گیس کی فراہمی یقینی بنا دی ہے جبکہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی زون تک بجلی کی فراہمی کے لیے گرڈ اسٹیشن بنا رہی ہے .

    وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ رشکئیSEZ میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے دی گیئں ٹائم لاینز پر سختی سے عمل کیا جائے. وزیراعظم نے مزید ہدایت جاری کی کہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی اداروں میں جہاں جہاں ہم آہنگی کی کمی اور مشکلات ہیں انھیں جلد از جلد دور کیا جائے مزید براں نے مزید ہدایت کی کہ چینی کمپنی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے تا کہ خصوصی اقتصادی زون پر کام کی رفتار تیز تر کی جا سکے . وزیراعظم نےکہا کہ ہم سب نے مل کر صنعتی ترقی اور ریونیو بڑھانے کے لیے کام کرنا ہے تاکہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکے. وزیر اعظم نےچینی کمپنیز کو سرمایاکاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کی کمپنیز ایک دوسرے کا تجربات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے صوبوں میں اقتصادی زونز کی تعمیر ہماری ترجیح ہے. وزیر اعظم نےرشکئی SEZ سائٹ کا دورہ بھی کیا اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا.

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی،پی ٹی آئی وکیل کا اعتراف

    پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی،پی ٹی آئی وکیل کا اعتراف

    پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی،پی ٹی آئی وکیل کا اعتراف
    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کاز لسٹ میں آج بھی فارن فنڈنگ لکھا ہوتا ہے، پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ کیس ممنوعہ فنڈنگ کا ہے،فارن فنڈنگ نہیں، چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ آپکا موقف درست ہے،آئندہ کیس کو فارن فنڈنگ نہ لکھا جائے، ۔چیف الیکشن کمشنر نے انور منصور سے کہا کہ آپ کے موکل بھی میڈیا پرفارن فنڈنگ کا لفظ استعمال کرتے رہے ہیں آپ کا مؤقف درست ہے اس لیے ہدایات جاری کی ہیں

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس پر الیکشن ایکٹ نہیں بلکہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 لاگو ہو گا پی پی او کے تحت فارن فنڈنگ میں غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیاں آتی ہیں، الیکشن ایکٹ 2017 میں پاکستانی شہریوں کے علاوہ کسی سے بھی فنڈز لینے پر ممانعت ہے 2017 تک کے تمام کیسز پر 2002 کے قانون کا ہی اطلاق ہو گا بھارت میں بیرونِ ملک رہائش پزیر شہری بھی سیاسی پارٹی کو چندہ نہیں دے سکتے بھارت میں دہری شہریت کی اجازت نہیں جبکہ پاکستان میں قانون موجود ہے ،اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ فارن فنڈڈ پارٹی کے حوالے سے بھی قانون واضح ہے

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ فارن فنڈڈ جماعت کے خلاف الیکشن کمیشن نہیں وفاقی حکومت کارروائی کر سکتی ہے اسکروٹنی کمیٹی کو تمام تفصیلات اور مؤقف سے آگاہ کیا تھا اسکروٹنی کمیٹی صرف قانون میں درج طریقہ کار کے مطابق پڑتال کر سکتی ہے اسکروٹنی کمیٹی نے قرار دیا کہ جو ہمارے معیار پر پورا اترتا ہے اس کو ہی قبول کریں گے ہمارا قانون بہت واضح ہے جہاں جہاں رپورٹ میں مسائل تھے ان کی میں نے نشاندہی کر دی رپورٹ بھارتی قانون کی بنیاد پر بنائی گئی ہے ہمارا اور بھارت کا قانون بہت مختلف ہے کوشش کر رہا ہوں کہ آج لمبے لمبے دلائل نہ دوں ان سے کہا گیا آپ کا انفارمیشن کا ذریعہ کیا ہے اور ہم سے کہا گیا کہ آپ ثابت کریں ٹی او آرز درخواست گزار کی انفارمیشن کی بنیاد پر بنائے گئے فارا سے ڈاؤن لوڈ کی گئی ان کی لسٹ کمیٹی نے قبول نہیں کی خود ڈاؤن لوڈ کی اسکروٹنی کمیٹی نے قرار دیا کہ اکبر ایس بابر کی دستاویزات قابلِ تصدیق نہیں دستاویزات مسترد ہونے کے بعد اکبر ایس بابر کا کیس سے تعلق ختم ہو جاتا ہے اکبر ایس بابر صرف اپنی دستاویزات کی حد تک کمیشن کو مطمئن کر سکتے ہیں ڈونرز کی تفصیلات تحریکِ انصاف اپنے طور پر شفافیت کے لیے جمع کرتی تھی قانون میں ڈونرز کی تفصیلات کو 2020 میں لازمی قرار دیا گیا پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی اسکروٹنی کمیٹی نے فنڈنگ کے ذرائع مانگے تھے جو دیے اور ثابت بھی کر دیے

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ یہ صرف اپنی حد تک دلائل دے سکتے ہیں جو اکاؤنٹس اصلی ذرائع سے نہیں وہ درست نہیں ہیں، کمیٹی نے محنت سے کام کیا لیکن درست حقائق کا جائزہ نہیں لے سکی میری استدعا ہے کہ اس درخواست کو ختم کیا جائے میں کچھ دنوں تک دستاب نہیں ہوں گااگر درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے نئی چیز آئی اور میری ضرورت ہوئی تو پیش ہو جاؤں گا پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے

    اکبر ایس بابر کے وکیل نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ عدالت میں لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتے ہیں مجھے بھی اتنے ہی دن ملنے چاہئیں جتنے ان کو ملے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ آپ کو بھی دلائل دینے کا مکمل موقع دیا جائے گاالیکشن کمیشن آف پاکستان نے کیس کی سماعت پیر 20 جون تک ملتوی کر دی

    اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر کوہمیں دلائل دینے کا کہا گیا جومختصر ہوں گے عمران خان کی وجہ سے آج ہم اس نہج پر پہنچے ہیں،شوکت ترین نے اعتراف کیا کہ 76 فیصد قرضہ بڑھایا گیا،معیشت تباہ ہوتی ہے تو قومی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے، افسوس ہے عمران خان کے بیان کا کسی ادارے نے نوٹس نہیں لیا،عمران خان اداروں پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے فارن فنڈنگ کیس کہا جارہا تھا الیکشن کمیشن نے تسلیم کرلیا وہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس سن رہے ہیں

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا

  • قومی اسمبلی ،وفاقی وزیر خورشید شاہ دیگر وزراء کی عدم موجودگی پربرس پڑے

    قومی اسمبلی ،وفاقی وزیر خورشید شاہ دیگر وزراء کی عدم موجودگی پربرس پڑے

    قومی اسمبلی کا اجلاس،ایوان میں وزرا اور ارکان کی عدم موجودگی پر وفاقی وزیر خورشید شاہ برہم ہو گئے

    قومی اسمبلی میں حکومت کی غیر سنجیدگی ،وفاقی وزیر خورشید شاہ دیگر وزراء کی عدم موجودگی پربرس پڑے خورشید شاہ نےاسپیکر سےکورم پوراہونے تک اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا اور معطل نہ کرنے کی صورت میں کورم کی نشاندہی کرنے کا اعلان کردیا اسپیکر نے اجلاس تیس منٹ کیلئے ملتوی کردیا

    وفاقی وزیر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ایوان میں ارکان کیوں نہیں آتے،جو آرہے ہیں ان کا کیا قصور ؟ جو ارکان آئیں دو گھنٹے بیٹھے ہیں ،بجٹ پر کوئی بولنے والا نہیں اچھا بجٹ ہونے کے باوجود ارکان کیوں تقاریر نہیں کر رہے ؟یہ طریقہ رہا تو ایوان میں ہم بھی نہیں آئیں گے،جب تک ارکان نہ آئیں کورم پورا ہونے تک کارروائی معطل کریں،خالی ایوان میں تقاریر کیوں ہوں،آپ اگر کارروائی معطل نہیں کریں گے تو کورم کی نشاندہی کروں گا،ارکان جو نہیں آتے وہ انتخابات میں لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑنے میں خوش ہیں،وزیراعظم کو بھی ایوان میں بٹھائیں،

    خورشید شاہ کی دھمکی پر اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی30منٹ کیلئے معطل کردی ،اسپیکر راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ خود بھی وزیر ہیں اور وہ ایوان میں آتے ہیں ارکان کو اس ایوان کو وقت دینا چاہیے

    قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں 08 وزارتوں کے بجٹ میں کٹوتی کی تحریک جمع کروا دی گئی اپوزیشن اراکین نے کابینہ سیکرٹریٹ کے بجٹ میں کٹوتی کی تحاریک جمع کروائی ہیں جبکہ توانائی، مواصلات، خارجہ امور، اطلاعات و نشریات، داخلہ امور، انسداد منشیات اور ریلویز کی وزارتوں کے بجٹ میں بھی کٹوتی کی تحاریک جمع کروائی گئی ہیں اپوزیشن اراکین نے مذکورہ وزارتوں کی ناقص کارکردگی کی بناء پر ان کی وزارتوں میں کٹوتی کا مطالبہ کیا ہے

    قومی اسمبلی اجلاس میں غیر پارلیمانی زبان کا استعمال،عباسی کی سپیکر کو دھمکی،جے یو آئی کا شکوہ

    ناموس رسالت پر منافقت بند کرو، قومی اسمبلی لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونج اٹھی

    علامہ خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت کے عنوان پر مسلمان قوم میں بیداری پیدا کی،مولانا معاویہ اعظم طارق