Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سینیٹ اجلاس، پرویز مشرف کی واپسی پر جماعت اسلامی کے علاوہ سب جماعتوں کا اتفاق

    سینیٹ اجلاس، پرویز مشرف کی واپسی پر جماعت اسلامی کے علاوہ سب جماعتوں کا اتفاق

    چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا
    سابق صدر پرويز مشرف کى بيمارى اور وطن واپسى کا معاملہ ايوان بالا میں زیربحث آیا،سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم فيصلے کرنے والے نہیں ہیں پرویزمشرف باہر گئے توکوئی نہ روک سکا،جب پرویزمشرف صدر تھے تو میں جيل میں تھا ہاؤ س فلور پرکہہ ديا تھا کہ میں نے پرويز مشرف کو معاف کر دیا ،پرویزمشرف بے شک واپس آئيں يہ انکا گھر ہے،سب کے ساتھ برابر کا رویہ ہونا چاہيے،

    جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پرویز مشرف اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے،اگر ہم کہیں کہ پرویز مشرف وطن واپس نہ آئے تو یہ مناسب نہیں ہوگا، نواز شریف بھی علاج کے لیے یہاں سے چلے گئے، میں پرویز مشرف کے دور میں جیل میں رہا،

    تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چودھری نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی واپسی کا مخالف نہیں،پرویز مشرف یا جو دو ہفتے کا کہہ کر ملک سے گئے تھے واپس آئیں ،سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ہر شخص کے لیے ایک جیسا قانون ہو تو ملک آگے بڑھ سکتا ہے،نواز شریف نے کہا ہے کہ یہ میری ذات کی بات نہیں،نواز شریف کو جانتا ہوں انکی تقاریر بھی لکھتا رہا ہوں،آئین اور قانون توانا ہے تو وہ اپنا راستہ لے، نواز شریف نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی

    سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ نواز شریف جیل سے دوائی لینے بیرون ملک گئے نواز شریف خود اشتہاری ہے ، واپس آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں ، سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی ایسی ہے کہ بجٹ دستاویز میں 7 ارب ڈالر لکھنا بھول جاتی ہے،حکومت امپورٹڈ احکامات کو مان رہی ہے،مشکل فیصلوں کے لیے دیانتدارقیادت کی ضرورت ہوتی ہے،

    پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق اپوزیشن رکن سینیٹر مشتاق احمد نے سوالات اٹھا دیئے، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پرویز مشرف کے لانے کی باتیں ہو رہی ہیں نواز شریف کا بھی بیان آیا ہے ملک اور آئین کے ساتھ ظلم ہوا ،ہاتھ پاوں بندھے ہوئے ہیں، عملا غلام ہیں پرویز مشرف 10 سال سے سیاہ سفید کے مالک رہے پرویز مشرف نے دو مرتبہ آئین توڑا عدلیہ پر شب خون مارا

    سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف معمولی بیمار ہیں اور اپنے گھر پر ہیں

    نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

  • ایف آئی اے دفتر جانے کی بجائے مونس الہیٰ ضمانت کروانے پہنچ گئے

    ایف آئی اے دفتر جانے کی بجائے مونس الہیٰ ضمانت کروانے پہنچ گئے

    ایف آئی اے دفتر جانے کی بجائے مونس الہیٰ ضمانت کروانے پہنچ گئے

    ق لیگی رہنما مونس الہٰی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عبوری ضمانت دائر کر دی ایف آئی اے سینٹرل کورٹ لاہور میں مونس الہٰی کے وکلانے درخواست ضمانت دائر کی ایف آئی اے سینٹرل کورٹ لاہورنے درخواست پر اعتراض لگا کر واپس کر دی. عدالت نے کہا کہ درخواست ضمانت اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی

    قبل ازیں ق لیگ کے رہنما مونس الہیٰ نے کہا ہے کہ انہوں نے مجھے کیا گرفتارکرنا ہے ،خود ایف آئی اے جا رہا ہوں ،مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ پہلے بھی ایسی انتقامی کارروائیاں کا سامنا کرچکاہوں ،ن لیگی کچھ بھی کرلیں عمران خان کے ساتھ کھڑا رہوں گا،شریفوں کی اصلیت کو جانتے تھے ،اس لیے لالچ میں نہیں آئے ،ن لیگ کچھ بھی کرلےعمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں اورکھڑا رہوں گا ،اس بات کا پتہ تھا کہ شریفوں نے ایسی حرکات کرنی ہیں،عمران خان کیساتھ اتحاد کیا،انتقامی کاروائیاں جھیلنے کیلئے تیار ہوں ،ایف آئی اے کی طرف سے کوئی نوٹس یا رابطہ نہیں کیا گیا،میرے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں

    واضح رہے کہ ایف آئی اے لاہور نے مونس الہی پر مقدمہ درج کر لیا ہے ،مونس الہیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں شواہد ملنے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے مونس الٰہی کے خلاف ہنڈی کے ذریعے رقم بیرون ملک بھیجنے کا الزام ہے

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کے بھتیجے نواز بھٹی اور رحیم یار خان شوگر ملز کے مظہر اقبال کے خلاف بھی منی لانڈرنگ کے مقدمات درج ہیں معلوم ہوا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری پرویزالہیٰ کوبھی شامل تفتیش کیاجائے گا۔
    اس حوالے سے لاہور ایف آئی اے نے نوازبھٹی اور مظہر اقبال کو گرفتار کرلیا ہے

    منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار شخص نواز بھٹی پنجاب اسمبلی میں نائب قاصد تھا ایف آئی اے نے جب شوگر ملز کے معاملے پر اپنی تفتیش شروع کی تو اس میں بھی اس کا نام آیا تھا مظہر عباس نامی ملزم الائیڈ شوگر ملز گروپ میں 35 فیصد جب کہ نواز بھٹی 31 فیصد شئیرز کا مالک تھا یہ شوگر مل رحیم یار خان میں قائم ہے

    دوسری جانب مونس الٰہی نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کا مقدمہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، وکیل مونس الہی عامر سعید راں کا کہنا ہے کہ مقدمے سے قبل انکوائری کرنا ضروری ہے ۔تفتیش کیے بغیر مقدمہ درج نہیں ہو سکتا ۔ ایف آئی اے کا مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے ۔

    واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الہٰی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا ایف آئی اے نے مونس الہٰی اور ان کے خاندان کے لین دین کو چیک کیاتھا ایف آئی اے نے شواہد چیک کرنے کے بعد حکومت کو آگاہ کیا تھا-

    حکومت کی جانب سے ہدایت ملنے کے بعد ایف آئی اے نے مونس الہٰی کے خلاف شواہد جمع کرنا شروع کیے تھے، منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کو شواہد مل چکے ہیں ایف آئی اے حکام کا کہناتھا کہ شواہد ملنےکے بعد مسلم لیگ (ق) کے رہنمامونس الہٰی کےخلاف تحقیقات مزید آگے بڑھائی جائیں گی۔

    بعد ازاں مونس الہٰی نے اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات کی خبر پر ردِعمل بھی دیا تھا ایم این اے مونس الہٰی نے اپنے خلاف ایف آئی اے انکوائری کی خبر کا اسکرین شاٹ ٹوئٹ کرتے ہوئے ’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم‘ تحریر کیا تھا-


    انہوں نے کہا تھا کہ چاہے جتنے کیس بنالیں عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، ایف آئی اے کے کیس میں لگائے گئے الزامات کی تفصیلات کا ابھی علم نہیں، اس طرح کے کیسز ہمارے خاندان پر پہلی بار نہیں بنے، ماضی میں بھی ہمارےخاندان پر اس طرح کے کیسز بنائے گئے ہزار مقدمات بنا لیں، عمران خان کے ساتھ کا فیصلہ اٹل ہے، مجھے کہا گیا کہ آپ سے غلطی ہوگئی، کوئی بات نہیں واپس آجائیں۔

    مونس الہیٰ پر مقدمہ درج ہونے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا کہ طارق چیمہ اور سالک حسین نے بے شرمی کی انتہا کر دی ہے، مونس الہیٰ نے طارق چیمہ کیلئے کیا نہیں کیا آج یہ محسن کش پرویز الہیٰ اور مونس کے خلاف جعلی مقدمے بنوا رہے ہیں، کوئ شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے سیاست اپنی جگہ آخر آپ کا بھائ ہے کوئ شرم کریں

    https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1536983145572081665

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ مونس الہیٰ ناراض نہ ہوں، ان کی گرفتاری کا فیصلہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ہوا، انکوائری بھی تب ہی ہوئی۔ عمران خان مونس کو اس وقت گرفتار کروانا چاہتے تھے جس کا مونس نے مجھے خود بتایا، ہم جب ان کے گھر وزراتِ اعلیٰ سے متعلق مذاکرات کے لیے گئے تب مونس نے اس بات کا اظہار کیا تھا مونس الٰہی کو صرف نوٹس کریں گے اور کہیں گے آکر ان پیسوں سے متعلق ثابت کریں نواز بھٹی اور مظہر حسین ثابت کریں کہ 72 کروڑ ان کے ہیں یہ کرپٹ پیسہ ہے اور یہ منی لانڈرنگ ہے یہ ثابت کردیں اس حوالے سے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے چوہدری صاحبان تھے تو مونس کو گلہ نہیں کرنا چاہیے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو گرفتاری ہوگی

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • ‏سابق حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی،ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار

    ‏سابق حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی،ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار

    لاہور: ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی صحت خراب ہے، آرمی لیڈرشپ کا مؤقف ہے انہیں واپس آجانا چاہیے۔

    ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کا چین کا دورہ بہت اہم تھا، جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے آرمی چیف تھے جو صدر شی جن پنگ سے ملے، پاکستان کے چین کے ساتھ سٹرٹیجک اور تعلقات انتہائی اہم ہیں، چین نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، اس دورے کا مقصد دفاعی سمیت دیگر تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔ چین کے ساتھ تعلقات خطے میں امن کے لیے بہت اہم ہیں۔ چین نے پاکستان کی دفاعی قوت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی سکیورٹی فوج کودی گئی ہے۔ سی پیک سکیورٹی سے متعلق کسی قسم کی کمی نہیں آئی، حکومتی سطح پر سی پیک پر کام ہو رہا ہے، اس کی سکیورٹی پر خصوصی طور پر کام کیا جا رہا ہے، اس پر کوئی کمی نہیں آنے دی، پاکستان اور چین کی گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ رابطوں میں پیشرفت ہو رہی ہے، سپہ سالار کے دورہ چین کے دوران متعدد میمورنڈم پر دستخط ہوئے۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بجٹ میں ہمیشہ ڈیفنس بجٹ پر بحث شروع ہو جاتی ہے، بجٹ میں محدود وسائل کو مدنظر رکھا جاتا ہے، محدود وسائل کے اندر رہ کر تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں، بھارت نے ہمیشہ دفاعی بجٹ کو بڑھایا۔ 2020ء سے پاکستانی افواج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، مہنگائی کے تناسب سے کم ہوا ہے، دفاعی بجٹ جی ڈی پی پرسنٹ ایج میں نیچے جارہا ہے۔ آرمی چیف نے ہدایت دی ہے مشقوں کو بڑے پیمانوں کے بجائے چھوٹے پیمانے پر کر لیا جائے، چھوٹی مشقوں سے بچت ہو گی، افواج میں یوٹیلٹی بلز، ڈیزل، پٹرول کی مد میں بچت کی جا رہی ہے۔ پچھلے سال کورونا کی مد میں جو رقم ملی اس میں سے 6 ارب واپس کیا تھا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ حقائق کومسخ کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، پچھلے کچھ عرصے سے افواج، لیڈر شپ کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اپنی رائے کا سب کوحق ہے لیکن جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پہلے بھی واضح کر چکا ہوں، سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا قومی سلامتی میٹنگ میں کسی نے نہیں کہا سازش نہیں ہوئی، ایسا بالکل بھی نہیں ہے، اجلاس کے دوران تینوں سروسزچیفس میٹنگ میں موجود تھے، میٹنگ میں شرکا کو ایجنسیزکی طرف سے آگاہ کیا گیا، کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں، ایسا کچھ نہیں، میٹنگ میں کلیئر بتا دیا گیا تھا کہ کانسپرنسی کے شواہد نہیں ملے۔

    سابق صدر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) پرویزمشرف کی صحت بہت خراب ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے، لیڈرشپ کا مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آجانا چاہیے، سابق آرمی چیف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی نے کرنا ہے۔ فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔ ان کو واپس لانے کیلئے ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا۔

  • عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی بن گئی جو مذکورہ ڈیل اور آے آر یو کی کارروائی کے حوالے سے حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    گزشتہ دور حکومت میں برطانیہ سے آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ ،وفاقی کابینہ نے این سی اے اور ملک ریاض خاندان کی خفیہ ڈیل کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے کابینہ نے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی،3،12،19 کو یہ سیٹلمنٹ سیل کی گئی تھی جسے آج ڈی سیل کیا گیا ہے

    ملک ریاض نے کونسے وکیل کی خدمات حاصل کر لیں؟

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر نام نہاد مشیراحتساب تھے،شہزاد اکبر عمران خان دورحکومت میں معاملات مینج کرتے تھے ایک ڈاکومنٹ ترتیب دیاگیا جسے مصدق ملک شیئر کریں گے، گزشتہ دورحکومت میں کرپشن کے نئے طریقے دریافت کیے گئے پلان بنایا گیا کہ کس طرح 50 ارب روپے بچانا ہے اور حصہ نکالنا ہے،ڈاکومنٹ منظور کروا لیا گیا تو شہزاد اکبر وہاں گئے اور پورا عمل مکمل کروایا،وفاقی کابینہ نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ،کمیٹی ڈیل سے متعلق حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے 50 ارب روپے کو تحفظ فراہم کیا گیا، بحریہ ٹاؤن نے یہ زمین القادر ٹرسٹ کے نام ٹرانسفر کی،ڈونر بحریہ ٹاؤن اور دوسری جانب بشریٰ بی بی کے دستخط ہیں،خاتون اول خود اس کا حصہ تھیں اورخود سائن کیا،ٹرسٹی سابقہ خاتون اول اورعمران خان ہیں،بحریہ ٹاون کو پچاس ارب معاف کرنے پر بحریہ ٹاون کی طرف سے ساڑھے چار سو کنال زمین القادر ٹرسٹ کو دی گئی کاغذات میں مالیت 53 کروڑ روپے لکھی، اصل قیمت 10 گنا زیادہ ہے۔ روحانیت کے نام پر کوئی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی، صرف پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کے نام کو القادر یونیورسٹی کا نام دے دیا۔ اور جب جب عمران خان وہاں گیا تو بحریہ ٹاؤن نے ہی فنکشنز کا انتظام کیا، اس کے علاوہ بھی تمام تعمیراتی اخراجات بحریہ ٹاؤن نے ہی کیے۔

    ملک ریاض ان دنوں خبروں میں ہیں، ملک ریاض کی آڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں، ایک آڈیو مبینہ طور پر ملک ریاض اور انکی بیٹی کی بات چیت ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو ہیروں کا ہار دینے اورکام کے بارے میں ہے، دوسری آڈیو عمران خان کا آصف زرداری کو پیغام پہنچانے کی ہے،دونوں آڈیو کی اگرچہ ملک ریاض تردید کر چکے ہیں تا ہم دوسری جانب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک ریاض نے بنی گالہ کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح خان عرف فرح گوگی کے نام زمین بھی کروائی جس کی وجہ سے بھی وہ خبروں میں آئے


    شہزاد اکبر جو عمران خان کے دور حکومت میں وزیراعظم کے معاون خصوصی رہ چکے ہیں، انہوں نے اسوقت ایک ٹویٹ کی تھی جس میں کہا تھا کہ برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے تصفیے کے بعد 19 کروڑ ملین پاؤنڈ (پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 ارب) سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جائیں گے 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ (ساڑھے 28 ارب روپے) سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں سپریم کورٹ کو پیسے ملنے کے بعد حکومت کورٹ سے درخواست کرے گی کہ پیسے حکومت پاکستان کو دے دیے جائیں تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں

    شہزاد اکبر نے ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے کو صیغۂ راز میں رکھنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں حکومت نے برطانیہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھی اسی طرح کے معاہدے کر رکھے ہیں اور ہمیں کروڑوں ڈالر آنے کی امید ہے اس لیے ہم صیغۂ راز میں رکھنے کے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • شہباز شریف کی کاوشیں رنگ لانے لگیں،انڈونیشیا پام آئل کی  فوری فراہمی پر رضامند

    شہباز شریف کی کاوشیں رنگ لانے لگیں،انڈونیشیا پام آئل کی فوری فراہمی پر رضامند

    وزیراعظم شہباز شریف کی عوام کو خوردنی تیل کی فراہمی کے لئے بڑی پیش رفت، برادر ملک انڈونیشیا پاکستان کو پام آئل فوری فراہم کرے گا.وزیراعظم شہباز شریف کی 10 جون کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی

    وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد کا انڈونیشیا کا دورہ اور انڈونیشیا کی وزارت تجارت سے مذاکرات کامیاب ہو گئے.خوردنی تیل سے بھرے 10 بحری جہاز آئندہ دو ہفتے میں انڈونیشیا اور ملائشیا سے پاکستان پہنچیں گے

    انڈونیشیا سے کل اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن خوردنی تیل پاکستان کو فراہم کیا جا رہا ہے . وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر صنعت و پیداوار سید مرتضی محمود نے انڈونیشیا کے ہم منصب سے معاملات طے کئے

    پاکستانی وفد کی درخواست پر انڈونیشیا کی وزارت تجارت نے تمام متعلقہ امور کو تیزی سے نمٹایا. 30 ہزار میٹرک ٹن خوردنی تیل سے بھرا پہلا بحری جہاز آج پاکستان روانہ ہو گا . انڈونیشیا کا دورہ کرنے والے وفد میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چئیرمن طارق اللہ صوفی اور تنظیم کے رکن رشید جان محمد بھی شامل تھے.

  • ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    دو سال سے پاکستان کو لافیئر کا سامنا رہا، بھارتی لابی نے مشکلات پیدا کیں ،گرے لسٹ میں ڈالا گیا

    بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے مگرپاک فوج نے سازش ناکام بنا دی فیٹف کے 27 میں سے 26 پوائنٹ پ عمل یقینی بناتے ہوئے وائٹ لسٹ کی طرف گامزن کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے احکامات پر جی ایچ کیو میں میجر جنرل کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا سیل نے مختلف محکموں، وزارتوں اور ایجنسیزکے درمیان کوآرڈی نیشن میکنزم بنایا سیل نے ہر پوائنٹ پر مکمل ایکشن پلان بنایا اورمحکموں، وزارتوں اور ایجنسیزسے عمل کروایا، سیل نے منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ ، بھتہ خوری، اغوا برائےتاوان اورٹارگٹ کلنگ پ مؤثرلائحہ عمل سے قابو پایا ، دہشتگردوں کی مالی معاونت سے متعلق تحقیقات اور تمام متعلقہ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی

    اس ضمن میں FATFکے ایکشن پلان میں کافی پیش رفت ہوئی اور درج ذیل نکات پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

    دہشتگردوں کی مالی معاونت .اس ضمن میں 27میں سے26 پوائنٹ پر عمل درآمد مکمل ہو چکا ہے۔

    منی لانڈرنگ کے سدِ باب کیلئے 7میں سے 4پوائنٹس پر عمل درآمد ہوا جو کہ ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں بے مثال پیش رفت ہے۔ دہشتگردی کی روک تھا م کے لئے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی مالی معاونت، تحقیقات اور تمام متعلقہ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی،

    پاکستان کی ترقی کو پائیدار اور مستحکم بنانے کیلء درج ذیل قوانین کے نفاذ کے ذریعے مختلف قانونی، مالی اور دہشتگردی سے متعلق پہلوؤ ں کو حل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل قوانین بنائے گئے۔

    اینٹی منی لاندرنگ ایکٹ میں ترامیم
    پاکستان کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے اینٹی منی لانڈرنگ(AML) اور کاؤنٹرفائننسنگ آف ٹیرا رزم(CFT) کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

    فارن ایکسچینج ریگولیٹری ایکٹ میں ترامیم
    حوالہٰ اور ہنڈی نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    باہمی قانونی معاونت کا ایکٹ
    اینٹی منی لانڈرنگ(AML) اور کاؤنٹر فائننسنگ آف ٹیرا رزم(CFT)کےخلاف بین الاقوامی سطح پر باہمی حمایت کی گئی۔

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

    واضح رہے کہ جرمنی میں آج سے 17جون کے دوران ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس ہوگا اجلاس میں پاکستان کو دیئے گئے دو ایکشن پلان کے 34 نکات پر عملدرآ مد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا اور ان نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کےلیے پاکستان کے آن سائٹ وزٹ کا فیصلہ کیا جائے گا

    رپورٹس کے مطابق اس کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے رواں برس اکتوبر میں ہونے والے پلینری اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوگا ایف اے ٹی ایف کا جوائنٹ اسسمنٹ گروپ جولائی یا اگست میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34 نکات پر مکمل عملدرآمد کرلیا ہے اور پاکستان نے کامیابی کیلئے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں

  • ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ تحقیقاتی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس ،ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سربمہر لفافوں میں تمام شواہد اور ریکارڈ پر مبنی ڈیجیٹل ریکارڈ یو ایس بی میں جمع کروایا گیا ،رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت ایف آئی اے کے 14 ہائی پروفائل ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے،اعجاز ہارون نام ای سی ایل سے نکلنے کے بعد بیرون ملک گئے تاحال واپس نہیں آئے،

    کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس محمد علی مظہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس کہاں ہیں؟ ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کمیٹی کا گزشتہ روز اجلاس ہوا منٹس ایک دو روز میں مل جائیں گے کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا کہا ہے اٹارنی جنرل آفس نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے متعلق ایس او پیز بنا کر اداروں کو بھجوا دی ہیں ای سی ایل سے نکالے گئے تمام ناموں کا الگ الگ کر کے دوبارہ سے جائزہ لیا جائے گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جو ترمیم ہوچکی ہے یا جو نام ای سی ایل سے نکل گئے انکا کیا ہوگا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے سے مشاورت کے بعد رولز بنائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود مستفید ہوئے ہیں وہ رولز میں ترمیم کیسے کر سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل میں شامل افراد کو بیرون ملک سفر کیلئے وزارت داخلہ سے اجازت لینے کا حکم دے دیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ بیرون ملک جانے سے پہلے متعلقہ شخص وزارت داخلہ سے اجازت لے گا، جب تک حکومت قانون سازی نہیں کر لیتی یہ عبوری طریقہ کار رائج رہے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حاکمیت چاہتے ہیں،سوال اہم ہے کہ مقتدر لوگوں نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے فائدہ اٹھایا، جن لوگوں کے مقدمات زیر التوا ہیں ان کیلئے مروجہ طریقہ کارپرسمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے موجودہ حالات منفرد نوعیت کے ہیں،پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت پارلیمنٹ سے باہر جاچکی ہے، ملک معاشی بحران کا شکار ہے،ایگزیکٹو کو اپنے اختیارات آئین و قانون کی روشنی میں استعمال کرنا ہونگے،کسی بھی تحقیقاتی ادارے،ایجنسی اور ریاستی عضو کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیں گے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل کے حوالے سے کوئی قانونی وجہ ہے تو بیان کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ایسی کیا جلدی تھی کہ دو دن میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری دی گئی؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا حکومت کا یہ جواب ہے کہ ماضی میں ہوتا رہا تو اب بھی ہوگا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بااختیار افراد نے ترمیم کرکے اسے سے فائدہ اٹھایا،کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی ضمانت حاصل کرنے کے اقدام کی تعریف کی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اچھا لگا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی ٰنے خود پیش ہوکر ضمانت کرائی، ضمانت کے حکم نامے کا بھی جائزہ لینگے ،کابینہ ارکان نے تو بظاہر ای سی ایل کو ختم ہی کر دیا،

    واضح رہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنے تھے تو اسکے بعد ای سی ایل سے کئی لوگوں کے نام نکالے گئے تھے اور مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہونے والے افسران کا بھی تبادلہ کیا گیا تھا جس پر سپرہم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا،اس کیس میں کئی سماعتیں ہو چکی ہیں، آخری سماعت پر سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے تفصیلی جواب طلب کیا تھا جو آج ایف آئی اے نے جمع کروا دیا ہے

    گزشتہ سماعت پرچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی نے فیصلہ روکنے کی درخواست کی دائر

    فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی نے فیصلہ روکنے کی درخواست کی دائر

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی مبینہ ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے درخواست گزار اکبر ایس بابر قانونی ٹیم کے ہمراہ الیکشن کمیشن پیش ہوئے ،انور منصور نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی یہ کیس زیر سماعت ہے پی ٹی آئی وکیل نے کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کردی، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست پر آج فیصلہ کر دیں گے،اکبر ایس بابر کے وکیل نے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کر دی،چیف الیکشن کمشنر نے اکبر ایس بابر کے وکیل کو بات کرنے سے روک دیا ، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو آپ کو سن لیں گے،

    الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی مبینہ ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ،وکیل انور منصور نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے کہا کہ فنڈز کا فارنزک تجزیہ کیا،کیس کو فارن فنڈنگ کہنا ہی غلط تھا،کہا گیا پی ٹی آئی فارن فنڈڈ پارٹی ہے پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی بنیاد پر کیس بنایا گیا،جب تک یہ جماعت کے اندر تھے تب تک سب ٹھیک تھا،

    الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد اکبر ایس بابر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ کل دلائل مکمل کرلیں گے ،آٹھ سال بعد پی ٹی آئی نے گزارشات ختم کرنے کی بات کی ہمیں موقع دیا جائے گا کہ ان کے جوابات دے سکیں ،پی ٹی آئی کو ہائی جیک کیا گیا اور کپتان ہائی جیکرز کیساتھ مل گیا ،کیس اس لیے دائر کیا کہ کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے عمران خان کو پارٹی بچانی ہے تو پیچھے ہونا پڑے گا ، پارٹی کی تشکیل نو میں ہی بقا ہے

    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں اسد عمر اور عمران خان کو ڈی ایم او کی جانب سے جرمانے کیس کی سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور اسد عمر کے معاون وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،معاون وکیل نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، الیکشن کمیشن کیس ملتوی کرے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کوئی سخت فیصلہ کرنے سے روکا ہوا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیس کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے کیس سے کیا تعلق ہے؟ڈی ایم او کے جرمانے کے خلاف الیکشن کمیشن میں اپیل پر سماعت ہورہی ہے،لا افسر الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا گزشتہ سماعت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں زیر سماعت کیسز مختلف ہیں، الیکشن کمیشن آپ کو سزا تو نہیں دے رہا جو اسلام آباد ہائیکورٹ کا حوالہ دے رہے ہیں،الیکشن کمیشن جرمانے کے خلاف اپیل منظور یا مسترد کرے گا،آج اپیل واپس لے لیں تو الیکشن کمیشن معاملہ ختم کر دیتا ہے، آرڈر میں لکھیں گے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا معاملہ الگ ہے،الیکشن کمیشن کئی بار کہہ چکا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کے باعث معاملہ لٹکا نہیں سکتے،آئندہ سماعت پر دلائل نہ دیئے گئے تو الیکشن کمیشن فیصلہ سنا دے گا،الیکشن کمیشن نے دن رات حلقہ بندیوں کے کیس سننے ہیں، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • چیف الیکشن کمشنر کا ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں  پبلک کرنے کا فیصلہ

    چیف الیکشن کمشنر کا ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ

    چیف الیکشن کمشنر نے ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق این اے 75 ضمنی الیکشن دھاندلی،انکوائری کمیٹی نے رپورٹ چیف الیکشن کمشنر کو پیش کر دی، چیف الیکشن کمشنر نےڈسکہ نے انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    ایف اے ٹی ایف کا اجلاس آج سے شروع،پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

    ذرائع کے مطابق کمیٹی نے جدید خطوط پر انکوائری کی،رپورٹ کے ساتھ شواہد بھی لف کر دیئے، شواہد سے ڈسکہ ضمنی الیکشن میں منظم دھاندلی ثابت ہوئی ،کس کس نے دھاندلی کے لیے احکامات جاری کیے، سب کچھ ثابت ہو گیا-

    کراچی میں نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے

    ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں جن پر الزامات تھے ان سے تحقیقات کی گئی،انکوائری کمیٹی نے نامزد لوگوں کا فون ریکارڈ بھی حاصل کیا، انکوائری کمیٹی نے نامزد لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کی-

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو دو روزہ دورے پر ایران روانہ

    ذرائع کے مطابق کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن منظور اختر، ہارون شنواری، ڈائریکٹر انجم بشیر، ڈپٹی ڈائریکٹر قانون صائمہ شامل تھیں-

    این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی نوشین افتخار کامیاب قرار پائیں تھی۔ انہوں نے 360 پولنگ اسٹیشنز سے تقریبا ایک لاکھ 10 ہزار 75 ووٹ حاصل کیے تھے۔

    آج کا دن افسوسناک ہے،عمران خان اوراسپیکرذمہ دارہیں ،حمزہ شہباز

    واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے این اے 75 ڈسکہ میں انتخابی عملے کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ طلب کی تھی وفاقی کابینہ نے چیف سیکرٹری پنجاب،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیاتھااس کے علاوہ این اے 75 ڈسکہ ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن انکوائری پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی مانگی تھی وفاقی کابینہ نے ضلعی انتظامیہ،پولیس افسران اور پریذائڈنگ افسران کے خلاف کاروائی پر رپورٹ طلب کی تھی وفاقی کابینہ کا کہنا تھا کہ سیکرٹری کابینہ آئندہ اجلاس میں این اے 75 ڈسکہ پر رپورٹ پیش کریں۔

    ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا؟

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن میں خلاف ورزیوں پر افسران کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا تھا۔

  • دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ بچی دعا زہرہ اس کا کیس عجیب نوعیت کا کیس ہے، کافی روز سے چپ ہوں اور کام کر رہا ہوں، میرا تعلق لاہور سے ہے اور یہ سب کراچی میں ہو رہا ہے

    مبشر لقمان یو ٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں کیا ہو رہا ہے، مختلف چیزیں ہیں اور ایک چیز لنک ہے جس کے بارے میں لوگوں کو بہت خدشہ ہے، جب اتنے لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے تو اسکو کہتے ہیں زبان خلق نقارہ خدا ، یعنی کچھ نہ کچھ تو ہو رہا ہے ،کہیں نہ کہیں شعلہ تو ہے اگر دھواں اٹھ رہا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا خیال ہے اس بچی کو اسکی مرضی کے خلاف اغوا کیا گیا اور اسکی زبردستی شادی کروائی گئی، یہ سولہ سال کی ہے یہ سترہ سال کی، یہ عمر کچی ہوتی ہے بچوں کی ، لڑکا ہو یا لڑکی اور انکو بہلانا انتہائی آسان ہے، عدالت کے پاس کیس گیا تو عدالت نے بچی کا بیان دیکھا، بچی نے کہا میں ماں باپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، پاکستان کے اندر ایک پریشر ہے کہ لڑکیوں کو آزادی ہونی چاہئے اور این جی اوز اس حوالہ سے کام کر رہی ہیں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں وومین رائٹس کے تحت پروٹیکشن ہو رہی ہے یا کسی کرمنل کے تحت، بچی کے عمر کے تعین کے لئے میڈیکل بورڈ بنایا گیا ، اس نے کہا کہ بچی کی عمر 17 سال ہے،پاکستان پینل کوڈ 16 سال کی عمر کو اپنی مرضی سے شادی کی اجازت دیتا ہے، عدالت کے پاس یہ معاملہ تھا، میڈیکل رپورٹ کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا کہ بچی کی اپنی مرضی ہو گی تب تک کے لئے اسے دارالامان بھیج دیا گیا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ والدین کا کہنا ہے کہ یہ دعا چودہ سال کی ہے ہماری شادی کو ہی پندرہ سولہ سال ہو ئے تو بچی کیسے سترہ سال کی ہو گئی، ہم نے کئی شہروں میں قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کراچی، لاہور مین کیس دیکھے، اگر آپ نے خدانخواستہ پندرہ سولہ سال کی بچی کو اغوا کر لیا اور اسکے بعد اسکو کمپرومائیز کروا لیا، کوئی ویڈیو یا تصویر بنا لی، یا ڈرا دھمکا دیا کہ تمہارے کسی رشتے دار کو گولی مار دیں گے، بچوں کا مائینڈ خوفزدہ ہو جاتا ہے، کراچی میں کافی لوگوں کا خیال ہے کہ آرگنائزڈ کرائم ہو رہا ہے جس میں ایسے بچوں کو ڈھونڈا جاتا ہے جن کا خاندان وکیلوں ، عدالتوں،میڈیکل بورڈ کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے ان بچیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ، جیسے ہمارے دیہات میں ہوتا ہے کہ کسی بچی کو کسی وڈیرے نے اغوا کر لیا، وہ حاملہ ہو گئی تو پھر پتہ چلتا ہے کہ اسکی شادی ہو گئی، نکاح نامہ سامنے لے آیا جاتا ہے، اس کیس میں اہم چیز ہے کہ ایک کرمنل انویسٹی گیشن ہو، وہ عدالت حکم نہیں دے سکتی، اب اسکے والدین کہیں گے کہ اس فرانزک پر ہمیں اعتبار نہیں ،یہ باہر سے بیرون ملک سے کروائیں، وہاں ایک ڈی این اے ہوتا ہے، پھر عمر کا تعین ہو گا اور پھر فیصلہ ہو گا ، لیکن اگر والدین ایسا نہیں کر سکتے تو پھر صبر شکر کر کے بیٹھنا پڑے گا پھر ڈارک ویب یا اور کوئی کہانیان سامنے آتی ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش، نیپال اور بہار سے ہزاروں بچیوں کو اغوا کیا جاتا ہے سالانہ اور پھر انکی سیل کی جاتی ہے،سب سے آسان کام یہ ہے کہ پہلے نکاح نامہ بنا لیتے ہیں پھر اسکے بعد دو چار لوگوں کو حصہ دار بنانا ہے وہ متعلقہ کسی محکمے سے ہوں ، کیس میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ کیس جائز ہوتے ہوئے بھی حل نہیں ہوتے، عدالت کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں، جو شواہد عدالت کو ملتے ہیں عدالت اسی پر فیصلہ کرتی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامک کورٹ میں اس کی عمر اسے بھی کم ہو سکتی ہے،سولہ سال عمر ثابت ہونے پر نکاح خواں پر بھی کچھ نہیں ہو سکتا، سوچنا یہ ہے کہ کہیں آرگنائزڈ کرائم تو نہیں ہو رہا؟ بچی کی شادی ہو جاتی ہے، رشتہ مل جاتا ہے،میاں کے ساتھ خوش بھی ہے،اس پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ سوسائٹی میں کیا ہو رہا ہے،وقت آ گیا ہے کہ دعا زہرہ کے کیس کے بارے میں سول سوسائٹی کہے کہ اس کا فرانزک باہر سے ہونا چاہئے اور ہم اسکا خرچہ برداشت کرنے کو تیار ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ اسکی عمر سولہ سال سے کم ہے پھراس کی عمر کا سرٹفکیٹ بنانے سے لے کر کیس کے تمام آفیشیل جو کیس پر اثر انداز ہوئے سب کو اندر ہونا چاہئے، اغوا کاروں کو بھی سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے، دعا زہرہ کیس اتنا سادہ کیس نہیں