Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،وزیراعظم

    کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،وزیراعظم

    اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورمیں آج منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی
    شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا وزیراعظم شہبازشریف ، وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سمیت تمام ملزمان کی ضمانتیں منظورکر لی گئیں عدالت نے شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں کی توثیق کردی عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 10،10 لاکھ روپےکے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی عدالت نے شریک ملزمان کو 2،2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے تمام ملزمان کو 7روز میں مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی

    وزیراعظم شہباز شریف اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں پیش ہو گئے-عدالت نے شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت دیگر کی حاضری لگانے کا حکم دیا ،عدالت نے کہا کہ ملک مقصود کی خبرمیڈیا پر چل رہی ہے وہ فوت ہو گیا ہے، ایف آئی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ابھی تک ملک مقصود کی وفات کی تصدیق نہیں ہوئی، ہم نے تصدیق کے لیے انٹر پول کو لکھا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ ہم پھرملک مقصود کواشتہاری کیسے قرار دیں گے؟ ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ہمیں آفیشل طور پر تصدیق نہیں ہوئی کہ ملک مقصود مر چکا ہے،

    دوران سماعت وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پر آ گئے ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرا حق میں اپنی ضمانت سے متعلق عدالت کو حقائق بتاوں،ایف آئی اے کا وہی کیس ہے جو نیب نے بنا رکھا ہے ،میرے اوپر آشیانہ اور رمضان شوگر مل کیس بنائے گئے ، جج نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ ان میں آپکا کوئی شیئر نہیں ہے ؟شہباز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا کوئی شئیر نہیں ہے،آشیانہ کیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا میرے کیسز میں لاہور ہائیکورٹ مفصل فیصلہ دے چکی ہے نیب والے میرے خلاف سپریم کورٹ گئے اور نعیم بخاری پیش ہوئے جب نیب عقوبت خانے میں تھادو مرتبہ ایف آئی اے نے تحقیقات کیں،میں نے ایف آئی اے سے کہا کہ وکلا کی مشاورت کے بعد جواب دوں گا ،میں نے ایف آئی اے سے کہا کہ زبانی میں جواب نہیں دوں گا ،عدالت میں جب ضمانت کا معاملہ گیا تو 4 ججز نے میرے حق میں فیصلہ دیا،4ججز نے کہا کہ کرپشن منی لانڈرنگ اور بے نامی اثاثوں کے کوئی شواہد نہیں ملے،میرے لیے عزت کی اور کیا بات ہو گی کہ میرٹ پر بری ہوا،پراسیکیوشن نے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کا کیس نہیں ہے جب میں اپوزیشن میں تھا تو نیب اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ گیا ہی نہیں اس عدالت میں کیس ٹرانسفر ہونے سے پہلے درجنوں بار پیش ہوا،آپ سے پہلے جج نے سختی کی کہ چالان مکمل کیوں نہیں کرتے یہ 99 اعشاریہ 99 فیصد وہی الزمات ہیں جو نیب نے لگائے میں تنخواہ نہیں لیتا، سی ای او نہیں ہوں، شئیر ہولڈر نہیں ہوں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت میں مزید کہا کہ بطور وزیراعظم پاکستان بھی کچھ گزارشات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں مشتاق چینی والے معاملے پر عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں،پنجاب اور سندھ میں گنے کا ریٹ مختلف ہوتا ہے جو حقائق عدالت میں بیان کروں گا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا گنے کی قیمت سندھ میں یکایک کم کر دی گئی قیمت کم کرنے سے پنجاب میں کہرام مچ گیا کہ سندھ میں قیمت کم ہو گئی ہے پنجاب شوگر ملز نے مطالبہ کیا کہ سبسڈی دی جائے، میرے خاندان کی بھی ملیں ہیں میں نے کہا کہ آپ ہر بار کماتے ہیں اس بار نقصان کر لیں،میرے وکیل نے ضمانت کے حوالے سے تمام دلائل دے دیئے ہیں میرے خلاف کرپشن کا کوئی کیس ثابت نہیں ہوا ،عزت ہی انسان کا خاصہ ہوتا ہے ،اللہ نے وزارت عظمٰی کی ذمہ داری دی ،اللہ سے دعا ہے یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھاؤ کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،کیس میں درجنوں پیشیاں بھگتیاں ہیں ، ایک سال تک چالان پیش نہیں کیا گیا ،چالان پیش اس لیے نہیں کیا گیا کہ کہ کسی طرح مجھے گرفتار کر لیں میرا کسی شوگر ملز سے کوئی تعلق نہیں ہے ،میں شئیر ہولڈر نہیں ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عدالت سے روانہ ہو گئے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کے دوران ملزمان کا رویہ مثبت رہا،شہباز شریف کا ڈائریکٹ رمضان شوگر مل سے کوئی تعلق نہیں، شہباز شریف ڈائریکٹر ہیں نہ ہی سی ای او ہیں، شہباز شریف کے ذاتی اکاونٹ میں 4 مشکوک ٹرانزیکشن ہوئی ،رمضان شوگر مل میں حمزہ شہباز اس وقت ایم این اے تھے اور سی ای او تھے، حمزہ شہباز نے سالانہ آڈٹ رپورٹ میں دستخط کیے ہوئے ہیں،ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ کسی قانون کے تحت سی ای ہونا کوئی جرم تو نہیں ہے،

    عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جو اب عدالت نے سنا دیا ہے، عدالت نے ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    شریف فیملی منی لانڈرنگ مقدمے میں پیش ہونے والا پراسکیوٹرعدالت میں بیہوش

  • مالی چیلنجوں،مشکلات کےباوجود بجٹ کی تیاری نہایت کٹھن کام تھا:مفتاح اورٹیم مبارکبادکی مستحق:وزیراعظم

    مالی چیلنجوں،مشکلات کےباوجود بجٹ کی تیاری نہایت کٹھن کام تھا:مفتاح اورٹیم مبارکبادکی مستحق:وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی پوری ٹیم کو ایک متوازن، ترقی پر مرکوز اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی طور پر درپیش چیلنجوں اور بہت سی مشکلات کے باوجود بجٹ کی تیاری نہایت کٹھن کام تھا۔

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    سماجی رابطے کی ویب سائ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے شہباز شریف نے لکھا کہ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا ہے، بے نظیر سکالرشپ پروگرام کا دائرہ کار ایک کروڑ طلباء تک بڑھایا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت معاشرے کے مالی طور پر کمزور طبقات کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کی خواہاں ہے اور میری سوچ یہ ہے کہ مالی لحاظ سے مضبوط لوگوں کو ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعے قومی خزانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے سولر پینلز کی درآمد اور ترسیل پر ٹیکس زیرو کر دیا ہے، زرعی مشینری و مداخل کی درآمد پر بھی ٹیکس صفر کر دیا گیا ہے، یہ کسانوں اور زراعت کی ترقی کیلئے بہت اہم قدم ہے۔

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی و انتظامی کے حالیہ سالوں کے باعث ہمیں مشکل وقت کا سامنا ہے، اس بجٹ کے ذریعے میری حکومت مشکل فیصلوں کے ذریعے چیلنجوں پر قابو پائے گی اور معاشرے کے کمزور طبقات پر ان مشکل فیصلوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے گا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کو سولر پینلز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، میں نے دسمبر تک جنوبی بلوچستان میں ٹرانسمیشن لائنز کا کام مکمل کرنے اور جامع آف گرڈ سسٹم کا منصوبہ بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

  • وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےمالی سال 22-2023 کا بجٹ پیش کر دیا۔ سپیکرقومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پیش کیا۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے 9 ہزار 502 ارب روپے کے بجٹ بجٹ میں خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے، قرض اور سود کی ادائیگی کیلئے 3 ہزار 950 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 255 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1523 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

    وفاقی بجٹ 2022-23کے نمایاں خدوخال کے مطابق بجٹ 2022-23 ترقی کا بجٹ ہے جس کی بنیاد پر مستقبل میں ترقی والے بجٹ بنیں گے، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لئے انکم ٹیکس کی کم سے کم حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کردی گئی ہے۔ فلمی صنعت کی بحالی اورفنکاروں کی مدد کے لئے اقدامات کئے ہیں تاکہ فلم اور سنیما ترقی کرے۔ دنیا میں پاکستان کا کلچر اور مثبت تشخص اجاگر اور ملک میں سیاحت فروغ پائے۔ نوجوان ہمارا مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں جن کے لئے بڑے اور ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔40 ہزار سالانہ سے کم آمدن والے پاکستانیوں کو نقد رقوم دی جائیں گی۔

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بڑا اضافہ کیاجارہا ہے تاکہ غربت سے نمٹا جاسکے۔ بے نظیر وظائف میں 1 کروڑ مزید طالب علموں کو شامل کیاجارہا ہے تاکہ انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیاجائے۔ اضافی رقوم فراہم کرکے سی پیک کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ سی پیک کے تحت سپیشل اکنامک زونز کے جلد آغاز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ آئی ٹی، زراعت، غذائی تحفظ، قابل تجدید توانائی، تعلیم اور نوجوانوں کی آمدن کے لئے ٹیکس استثنٰی دیاجارہا ہے۔ غیرپیداواری اور تعیش کے زمرے میں آنے والی چیزوں سے سرمائے کو پیداواری اثاثوں اور شعبوںکی طرف منتقل کیاجارہا ہے۔

    امیروں سے دولت کا رُخ غریبوں کی طرف موڑا جارہا ہے۔ یہ برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے والا بجٹ ہے ،اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے ’ایچ۔ای۔سی‘ کے بجٹ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 67 فیصد اضافہ کیاجارہا ہے۔ بلوچستان کے طالب علموں کو 5 ہزار تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کواضافی تعلیمی وظائف دیں گے۔ بلوچستان کے تعلیمی شعبے کو بہترین تعلیمی سازوسامان مہیاکیاجائے گا۔

    صنعتیں چلانے والے فیڈرز پر صفر لوڈشیڈنگ ہوگی۔ چھوٹے کاروبار خاص طور پر کاروباری خواتین کے لئے کم ازکم ٹیکس بریکٹ 4 لاکھ سے 6 لاکھ کی جارہی ہے۔سیونگ سرٹیفکیٹ (بچت سکیموں)، پینشن فوائد، شہداءکے اہل خانہ کی فلاح وبہبود کے کھاتوں میں سرمایہ کاری پر منافع پر لاگو ٹیکس کو10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کیاجارہا ہے۔ 3 ہزار سے لے کر 10 ہزار تک کی متعین (فکسڈ) آمدن اور سیلز ٹیکس کے نظام لوگو کر رہے ہیں جس کے بعد ’ایف۔بی۔آر‘ اِن سے کسی مزید ٹیکس کا تقاضا نہیں کرے گا۔

    پہلے سال کے لئے صنعت اور کاروباری قدر (ڈیپریسی ایشن کاسٹ) میں کمی کو 50 فیصد سے تبدیل کرکے 100 فیصد کیاجارہا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سمیت غیرپیداواری اثاثے جمع کرنے سے غریبوں کے لئے گھروں کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ امیروں کے غیرپیداواری اثاثوں پر ٹیکس لوگو کررہے ہیں تاکہ توازن آنے سے غریبوں کے لئے جائیداد کی قیمتوں میں کمی ہو۔ اڑھائی کروڑ مالیت کی دوسری جائیدادکی خریداری پر5 فیصد ٹیکس عائد کیاجارہا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

    1600 اور اس سے زائد سی سی کی لگژری گاڑیوں پرٹیکس میں اضافہ کیاجارہا ہے۔ سولرپینل کی درآمد اور ترسیل (ڈسٹری بیوشن) پر ٹیکس صفر کیا جارہا ہے۔ زرعی مشینری، ٹریکٹر، گندم، چاول، بیج سمیت اس شعبے میں استعمال ہونے والی دیگراشیاءاور ان کی ترسیل پر ٹیکس صفر کیاجارہا ہے۔ زرعی مشینری کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنٰی دیاجارہا ہے۔ زرعی شعبے کی مشینری، اس سے منسلکہ اشیائ، گرین ہاﺅس فارمنگ، پراسیسنگ، پودوں کو بچانے کے آلات، ڈرپ اریگیشن، فراہمی آب سمیت ہر طرح کے زرعی آلات کو ٹیکس سے استثنٰی دیاجارہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ٹیکس صفر کرکے اتنا بڑا قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ ہماری زراعت اور کسان ترقی کرے۔

    ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے بجٹ میں 10 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔
    ویکسین، امراض پرقابو پانے اور صحت سے متعلق اداروں کی استعداد بڑھانے کے لئے 24 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں۔ کسٹم کوڈ کو مناسب بنانے اور ٹیرف میں کمی کی جا رہی ہے۔ ادویات بنانے میں استعمال ہونے والے اجزاءکو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل استثنٰی دیاجارہا ہے جس میں ادویات بنانے میں استعمال ہونے والا مختلف اقسام کا بنیادی مواد شامل ہے۔ عدالتوں سے باہر تنازعات اور مقدمات کو طے کرنے کے لئے ’مقدمات کے تصفیہ کا متبادل نظام‘ شروع کیاجارہا ہے تاکہ مقدمہ بازی پر اٹھنے والے اخراجات اوروقت کو بچانے کے علاوہ حائل دقتوں کو دور کیاجائے۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے.

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کابینہ کو بجٹ کے نکات پر بریفنگ دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

    بجٹ تقریر کے اہم نکات سامنے آئے ہیں ،بجٹ تقریر کے نکات کے مطابق دفاع پر 1450 ارب روپے خرچ ہوں گے حکومت کے قرض لینے کی حد جی ڈی پی کا 60 فیصد مقرر کی گئی ریونیو میں صوبوں کا حصہ 35 سو 12 ارب روپے رہا ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مختص ہیں رمضان پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص ہیں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اب ایک کروڑ افراد کو فنڈز دے گا بجٹ کا حجم 9 ہزار500 ارب روپے ہوگا، صنعت کے لیے رعایتی گیس کی سہولت دی جائے گی صنعتوں کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے گوادر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جلد گیس کے نئے نرخوں کا اعلان کرینگے نیشنل یوتھ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وفاقی حکومت کے اخراجات 530 ارب روپے ہیں گرین یوتھ مومنٹ کا آغاز کیا جائے گا،سابق حکومت نے پونے 4 سال کے عرصے میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا،

    نئے مالی سال کیلئے 9 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقررکیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں کسانوں کےلئے ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں مقامی خیراتی اسپتالوں کو امپورٹ پر چھوٹ دینے کی بھی تجویز ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہاز شریف نے حکومتی اتحادیوں کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، حکومتی اتحادیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ سے متعلق حکمت عملی پر بات ہو گی، اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    آئی جی اسلام آباد نے پی ٹی آئی دھرنے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    رپورٹ مین کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد انتظامیہ کو 23 مئی کو سرینگر ہائی وی پر احتجاج کی درخوست دی،اسلام آباد انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ ہرمن و عمل کیا،تحفظ کے لیے ریڈ زون جانے والے راستے بند کر د یئے گئے، عدالتی حکم کے بعد پولیس،رینجرز اور ایف سی کو مظاہرین کے خلاف ایکشن سے روک دیا گیا ،مظاہرین کے گروپ ڈی چوک کی جانب جانا شروع ہو گئے،مظاہرین کو قیادت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے اور مزاحمت کی ترغیب دی گئی،مظاہرین مسلح تھے،پولیس اور رینجرز پر پتھراو بھی کیا مظاہرین نے پولیس پر گاڑیاں بھی چڑھائیں مظاہرین کی جانب سے کنٹینرز ہٹانے کے لیے مشینری کا استعمال بھی کیا گیا،مظاہرین کی جانب سے درختوں کو جلایا گیا،منتشرکرنے کےلیےآنسو گیس کا استعمال کیا،

    پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2 ہزارمظاہرین رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں کرتے ریڈ زون میں داخل ہوئے مظاہرین کی قیادت عمران اسماعیل، سیف نیازی،زرتاج گل اور دیگر نے کی ، فواد چودھری،سیف نیازی،زرتاج گل نے کارکنان کو ریڈ زون پہنچنے کے لیے اکسایا،سوشل میڈیا پر کارکنوں کو عمران خان کے استقبال کے لیے ریڈ زون پہنچنے کا کہا گیا،انتظامیہ کی جانب سےاعلانات کیے گئے کہ مظاہرین ریڈ زون سے دور رہیں،ریڈ زون میں داخلے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گئے ،مظاہرین کی جانب سے پتھراو کے باعث 23 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے،پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال سے گریز کیا گیا،خدشات بڑھنے پر آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا،300 مظاہرین کنٹینرز ہٹا کر ریڈ زون میں داخل ہوئے،مظاہرین کو جی نائن اور ایچ نائن کے درمیان جلسہ گاہ پہنچنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی مظاہرین ڈی چوک جانے والی رکاوٹوں کو عبور کر کے ریڈ زون داخل ہوئے،مظاہرین میں سے کوئی بھی مختص کردہ جلسہ گاہ نہ پہنچا پولیس نے 77 لوگوں کو 19 مختلف مقدمات میں گرفتار کیا،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • لانگ مارچ،پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لانگ مارچ،پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لانگ مارچ،پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ، تشدد کیس میں عدالت نے تحریک انصاف کے سترہ رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیئے ہیں

    انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعہ کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران تشدد کے حوالہ سے کیس کی سماعت کی، عدالت نے لاہور کے علاقے تھانہ شاہدرہ میں درج مقدمے کی بنیاد پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں، عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، شفقت محمود، میاں محمود الرشید، اسلم اقبال، حماد اظہر، یاسر گیلانی، ندیم بارا، عدیل نواز، زبیر نیازی، اعجاز چوہدری، اکرم عثمان، جمشید اقبال چیمہ ، مسرت جمشید چیمہ، مراد راس، عندلیب عباس اور امتیاز شیخ کے وارنٹ جاری کئے ہیں

    دوسری جانب گلبرگ تھانے کی درخواست پر اے ٹی سی کی جانب سے بھی فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے ،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • توہین مذہب کے مقدمات، تحریک انصاف رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    توہین مذہب کے مقدمات، تحریک انصاف رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    توہین مذہب کے مقدمات، تحریک انصاف رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    پی ٹی آئی قیادت پر توہین مذہب کے مقدمات کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 28 جون تک ملتوی کر دی گئی

    فواد چودھری، قاسم سوری و دیگر کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں 28 جون تک توسیع کر دی گئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو مقدمات کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ابھی جو مقدمات درج ہوئے ہیں؟ ان میں کیا ہوا؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ میں پتہ ہی نہیں ہمارے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت دیں سیکریٹری داخلہ کی طرف سے رپورٹ پیش کر دیتا ہوں ،عدالت نے کیس کی سماعت 28 جون تک ملتوی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی

    وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں نازیبا واقعہ پیش آیا، پاکستانی شہریوں کی جانب سے چور چور کے نعرے لگائے گئے، اس پر سعودی حکومت نے بھی ایکشن لیا اور کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید، فواد چودھری، انیل مسرت سمیت کئی رہنماؤں پر فیصل آباد، اٹک میں مقدمہ درج ہو چکا ہے،

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    توہین مذہب مقدمہ، چھٹی کے روز درخواست پر سماعت، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

  • نئے مالی سال کیلئےوفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

    نئے مالی سال کیلئےوفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

    نئے مالی سال کیلئےوفاقی بجٹ آج ہیش کیا جائے گا. بجٹ کا حجم 9 ہزار ارب روپے سے زائد جبکہ خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے، بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں دس سے پندرہ فیصد اضافے کا امکان ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2022 -23 کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقرر، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج صبح گیارہ بجے طلب کیا گیا ہے، بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری لی جائے گی، کابینہ نئے ٹیکسوں سے متعلق فیصلے کرے گی جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری بھی دی جائے گی۔

    قبل ازیں مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراکی تقریب ہوئی اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیرتوانائی خرم دستگیر، وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال،وزیرمملکت عائشہ غوث پاشا بھی موجود تھے ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ہے درآمدات پچھلے سال کے حساب سے 48 فیصد بڑھی ہے،درآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 48 فیصد اضافہ ہوا ،برآمدات 28 فیصد بڑھی ،ہمیں 60 فیصد قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،5 اعشاریہ6 بلین ڈالرزرمبادلہ کم ہوا، معیشت کی سمت کو سدھارنے کی ضروت ہے،عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے تیل مہنگا کرنا پڑا،مشکل فیصلے لینے پڑے، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،تجارتی خسارہ 45 بلین ڈالر تک پہنچ گیا،ہمیں زیادہ اس طرف جانا ہے جہاں سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے،

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام صنعتوں کو گیس دے رہے ہیں جب غریب کو مراعات دیں گے وہ گروتھ انکلوسیو تو ہوگی لیکن مستحکم نہیں ہوگی چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے، اگر سابق حکومت جھوٹ کا بیانیہ چھوڑ دیتی، تو شاید اس وقت اتنی مہنگائی نہیں ہوتی حکومت کوئی طویل المدتی سودے نہیں کر رہی ،شیخ رشید خود کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں،بارودی سرنگیں کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے تھیں، برآمدات 28 فیصد بڑھی،

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اکنامک سروے کو اوریجنل بیس پر لے جائیں گے تو منظر بدل جائے گا، سروے کی بڑی ہٹ میرے شعبے نے دی ہے،ہماری معیشت میں پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ سے پرائیویٹ سیکٹر چلتی ہے،پاکستان کا دفاعی اورترقیاتی بجٹ ایک ایک ہزار ارب تھا، ہمارے دور میں دونوں شعبے ملک کو ہم پلہ ہو کر مضبوط کر رہے تھے،2013میں ملک بجلی نہیں تھی ، بد امنی تھی،مسلم لیگ ن نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی اور امن و امان کو بحال کیا،کوئی حکومت نہیں چاہتی وہ 60روپے تیل کی قیمت اضافہ کریں ،کوئی حکومت اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی،سابق حکومت عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے گئی ہے

  • آصف زرداری کا حکومتی اتحادی سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ

    آصف زرداری کا حکومتی اتحادی سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر اورسابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومتی جماعتوں کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ دیا.

    زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں ہونے والے عشائیے میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، زرائع کے مطابق قومی حکومت کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہارکیا.

    اعشائیہ میں شامل حکومتی سیاسی جماعتوں کے تمام رہنماؤں نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی کاوشوں کو بھی سراہا. عشائیے میں شریک حکومتی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ملک کو ملکر تمام قسم کے بحرانوں سے نکالیں پر اتفاق کیا

    ذرائع کے مطابق عشائیے کے موقع پر بجٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ، اتحادی رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشورے بھی دئیے،جس پر وزیراعظم نے عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی.

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قرنطینہ میں ہونے کی وجہ سے عشائیے میں شرکت نہیں کی.

    عشائیے میں وزیراعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، چوہدری شجاعت حسین، خالد مقبول صدیقی ، شاہزین بگٹی، خالد مگسی، اسلم بھوتانی، آغا حسن بلوچ، ایمل ولی خان، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور ،غفور حیدری، فیصل سبزواری، چوہدری یاسین، چوہدری سالک حسین، اسرار ترین، سردار ایاز صادق، رانا ثنااللہ ودیگر رہنماوں نے شرکت کی.

  • ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب بھی شرح نمو بڑھتی ہے،کھاتوں کے جاری خسارے میں پھنس جاتے ہیں،

    مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراکی تقریب ہوئی اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیرتوانائی خرم دستگیر، وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال،وزیرمملکت عائشہ غوث پاشا بھی موجود تھے ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ہے درآمدات پچھلے سال کے حساب سے 48 فیصد بڑھی ہے،درآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 48 فیصد اضافہ ہوا ،برآمدات 28 فیصد بڑھی ،ہمیں 60 فیصد قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،5 اعشاریہ6 بلین ڈالرزرمبادلہ کم ہوا، معیشت کی سمت کو سدھارنے کی ضروت ہے،عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے تیل مہنگا کرنا پڑا،مشکل فیصلے لینے پڑے، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،تجارتی خسارہ 45 بلین ڈالر تک پہنچ گیا،ہمیں زیادہ اس طرف جانا ہے جہاں سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے،

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام صنعتوں کو گیس دے رہے ہیں جب غریب کو مراعات دیں گے وہ گروتھ انکلوسیو تو ہوگی لیکن مستحکم نہیں ہوگی چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے، اگر سابق حکومت جھوٹ کا بیانیہ چھوڑ دیتی، تو شاید اس وقت اتنی مہنگائی نہیں ہوتی حکومت کوئی طویل المدتی سودے نہیں کر رہی ،شیخ رشید خود کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں،بارودی سرنگیں کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے تھیں، برآمدات 28 فیصد بڑھی،

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اکنامک سروے کو اوریجنل بیس پر لے جائیں گے تو منظر بدل جائے گا، سروے کی بڑی ہٹ میرے شعبے نے دی ہے،ہماری معیشت میں پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ سے پرائیویٹ سیکٹر چلتی ہے،پاکستان کا دفاعی اورترقیاتی بجٹ ایک ایک ہزار ارب تھا، ہمارے دور میں دونوں شعبے ملک کو ہم پلہ ہو کر مضبوط کر رہے تھے،2013میں ملک بجلی نہیں تھی ، بد امنی تھی،مسلم لیگ ن نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی اور امن و امان کو بحال کیا،کوئی حکومت نہیں چاہتی وہ 60روپے تیل کی قیمت اضافہ کریں ،کوئی حکومت اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی،سابق حکومت عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے گئی ہے،

    اگلے مالی سال کا بجٹ 10جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین