Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    ق لیگ کے سربراہ، سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں جو ہوا اسمبلیوں میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں،ایسے مسائل کو حل کرنے کا طریقہ بھی ہوتا ہے،

    چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ کوجارحانہ انداز میں پیش کیا ہے، مولانا قومی اسمبلی فلور پر اپنے والد مفتی محمود کے ساتھ کئے جانے والے بہیمانہ سلوک کو یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا وہ زخمی بھی ہوئے تھے، اس طرح کا کوئی واقعہ پنجاب اسمبلی میں پیش نہیں آیا،ن لیگی ممبران نے اسمبلی میں نیا فرنیچر، مائیک سسٹم، آئی ٹی سسٹم تباہ کر دیا،جب تک ہال کی مرمت نہیں کی جاتی ایوان اجلاس کرنے کے قابل نہیں، پانچ مرتبہ اسمبلی ممبر رہا، بڑے واقعات ہو جاتے ہیں یہ تو معمولی بات ہے، ممبران کو اپنے لیڈروں کی اس حد تک جا کر اطاعت نہیں کرنی چاہیے لیڈر اپنے مقصد کیلئے ان سے دوسرے ممبران کو گالیاں دلواتے ہیں، نوجوان ارکان اسمبلی ایسے ناجائز حکم ماننے کے بجائے اپنی مثبت سوچ اور ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

     

  • انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد گرفتار،کئے اہم انکشاف

    انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد گرفتار،کئے اہم انکشاف

    انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد گرفتار،کئے اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے انار کلی میں ہونیوالے بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    دہشت گرد کو گرفتاری کے بعد سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے،دہشت گرد کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، دہشت گرد لاہور میں ٹرک اڈے پر ملازم تھا اور 20 جنوری کو انار کلی میں بم دھماکے کے بعد سے روپوش تھا، تحقیقاتی ادارے دہشت گرد کی تلاش میں تھیں اور سرچ آپریشن جاری رکھا گیا جس کے بعد دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ، دھماکے میں استعمال ہونے والا بارودی مواد بلوچستان سے ٹرک کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا تھا ۔

    واضح رہے کہ 20 جنوری کو لاہور میں دھماکہ ہوا تھا، انار کلی بازار میں دھماکے سے خوف و ہراس پھیل گیا تھا ، دھماکے کے نیتجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 26 افراد زخمی ہوئے تھے پولیس کا کہنا تھا کہ انار کلی بازار دھماکے کامقدمہ تھانا سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا تھا، مقدمہ ایس ایچ او تھانا سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمےمیں دہشت گردی، ایکسپلوزوایکٹ، 302، 324 ، دیگر دفعات لگائی گئی ہیں دھماکے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کا آغاز کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دہشتگرد کو ٹریس کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ٹرک اڈے تک فوٹیج ملی تھیں اس کے بعد فوٹیج نہ مل سکیں اور آج سیکیورٹی اداروں نے دہشتگرد کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کیلئے سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا ہے

    لاہور انارکلی دھماکہ، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری کی قبول،الرٹ جاری ہوا تھا مگر جگہ نہیں پتہ تھی،کمشنر لاہور

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    لاہور دھماکہ، جاں بحق اور زخمی افراد کے ناموں کی فہرست جاری

    انار کلی دھماکہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے دہشت گرد کی شناخت ہو گئی

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد ہلاک

  • ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،عدالت

    ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سے زیر سماعت تمام کیسز میں رپورٹ طلب کر لی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے تمام کیسز کی رپورٹ کل عدالت میں جمع کرائیں ،کون کون سے کیس میں ایف آئی اے کی رپورٹ جمع ہو گئی ہے، دیگر کیسز میں ایف آئی اے نے جواب جمع کیوں نہیں کرایا،ایف آئی اے کل تمام کیسز میں جواب جمع کرائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 میں ریپوٹیشن کے علاوہ دیگر بھی چیزیں ہیں، اگر کسی کی فیملی کی تصویریں اجازت کے بغیر شیئر کر دی جائیں تو وہ سنجیدہ معاملہ ہے، سوشل میڈیا میں کسی کو بہکایا اور دھمکایا جائے تو وہ بھی اسی میں آتا ہے،عثمان وڑائچ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس کے لئے الگ سے قانون موجود ہے،عدالت نے کہا کہ یہ تمام کیسز بھی اسی سیکشن کے تحت آتے ہیں، اس عدالت کے سامنے جتنے کیسز ہیں وہ صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیوں ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز ہونگے، ان کے علاوہ مزید بھی ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تو پھر پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز کو کیوں دیگر پر فوقیت دی گئی، بہکانے اور دھمکانے کی الگ سے سیکشن کیوں نہیں بنا دی گئی، ان کیسز میں تو ایف آئی اے پی ٹی اے سے بھی مدد لے سکتا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو یہ مناسب لگا ہو گا اس لئے یہ قانون سازی کی گئی، میں پیکا ترمیمی آرڈیننس پر دلائل دینا چاہتا ہوں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تو خود آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا بیان دے چکی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 94 ہزار کیسز ہیں، 22 ہزار کیسز کا فیصلہ ہو چکا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر سے خود کو شرمندہ نہ کریں،ایف آئی اے کی اتنی استعداد ہی نہیں ہے وہ اتنے تربیت یافتہ ہی نہیں ہیں،ایف آئی اے نے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے مخصوص کاروائیاں کیں، ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس عدالت کے سامنے 22 ہزار میں سے صرف چار پانچ کیسز ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک پبلک آفس ہولڈر نے 9 بجے اسلام آباد میں شکایت درج کرائی ایف آئی اے نے مقدمہ لاہور میں درج کر کے اسی وقت اسلام آباد میں چھاپے بھی مارے،کیا یہ عدالت اس طرح کے اقدام کی اجازت دے سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس سے متعلق درخواستیں یکجا کر کے سنی جا رہی ہیں گزشتہ سماعتوں میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ پیکا آرڈیننس لانے کی اتنی کیا جلدی تھی، صرف اسی ایک نکتے پر آرڈیننس کالعدم قرار ہونے کے قابل ہے ، درخواست گزاروں میں پی ایف یو جے ، اے این پی ایس ، سی پی این ای ، ایمنڈ ، لاہور ہائیکورٹ بار کے مقصود بٹر اور سیاستدان فرحت اللہ بابر شامل ہیں

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کل تک موجود پی ٹی آئی حکومت کا جاری کردہ تھا تبدیلی یہ ہے کہ ایک تو آج ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل اس کے دفاع کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے موجود نہیں تھے دوسرا اب اس آرڈیننس کی مدت جیسے ہی مکمل ہو گی خود بخود غیر موثر ہو جائے گا

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی،چیف جسٹس

    سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی،چیف جسٹس

    اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کریں،شہباز شریف کی سپریم کورٹ میں استدعا

    سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی پولیس کی مزید نفری سپریم کورٹ کے باہر تعینات کر دی گئی ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف متوقع فیصلے کے پیش نظر سپریم کورٹ میں سیکورٹی بڑھا دی گئی پولیس ، رینجرز کے ساتھ ایف سی کے اہلکار بھی سپریم کورٹ احاطے میں تعینات کر دیئے گئے ہیں

    سپریم کورٹ،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پر سماعت جاری سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پرسماعت کررہا ہے

    باغی ٹی وی : فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین کو بحال کرنے میں آج پانچ دن لگے ہیں اراکین اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کو پنجاب اسمبلی جانے سے روک دیا گیا-

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ آئین کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے،پنجاب کی بیوروکریسی کو بھی رات کو طلب کیا گیاسابق گورنر پنجاب آج باغ جناح میں حلف لے رہے ہیں-چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں تحریری جواب جمع کرائیں، اس معاملے میں مداخلت نہیں کرتے لاہور ہائیکورٹ پنجاب کا معاملہ دیکھے گی ہم صرف قومی اسمبلی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں خود فریقین آپس میں بیٹھ کر معاملہ حل کریں-ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک ڈکٹیٹر نے کہا تھا آئین 10 بارہ صفحے کی کتاب ہے کسی بھی وقت پھاڑ سکتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تقریر نہ کریں ہم پنجاب کے مسائل میں نہیں پڑنا چاہتے-

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل ٹی وی پر یہ بھی دکھایا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں خاردار تاریں لگا دیں،معاملات کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی کہاں جائیں جب اسمبلی کو تالے لگا دیئے گئے ہیں ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں- جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ہم یہاں آئین کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں-

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گزشتہ رات حمزہ شہباز کو نجی ہوٹل میں وزیراعلی ٰبنا دیا گیا سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے،آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے-

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل استفسار کیا کہ کیا یہ تحریک عدم اعتماد کا معاملہ عوام کو متاثر نہیں کر رہا؟ کیا غیر آئینی کام ہوتا رہے اسے تحفظ حاصل ہے؟کیا ہم یہاں بیٹھ کر غیر آئینی کام ہونے دیں؟ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے- چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے،پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے-چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹادیا

    صدر مملکت عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمینٹرینز پارلیمنٹ کے گارڈین ہیں، جسٹس جمال مندوخیل سوال کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں،-جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے سوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے؟ وکیل صدر مملکت علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے سوال کیا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا؟

    وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے اپنے دلائل میں کہا کہ اپوزیشن نےقومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرنے پر ڈپٹی سپیکر پر کوئی اعتراض نہیں کیا ، ڈپٹی سپیکر نے اپنے ذہن کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا ، ڈپٹی سپیکر نے ایوان کے اجلاس میں جو فیصلہ دیا وہ عدالت کے سامنے اس کا جواب دہ نہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی، اگرکسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے توحکومت الیکشن کرسکتی ہے، الیکشن کرانے پرقوم کے اربوں روپے خرچ ہوتےہیں، ہربارالیکشن سے قوم کااربوں کانقصان ہوگا، یہ قومی مفاد ہے، انتخابات کی کال دےکر 90 دن کیلئے ملک کوبے یارومددگارچھوڑدیا جاتاہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پاکستان تحریک انصاف ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے ، کیا یہ بہتر ہے کہ دیگر چھوٹی جماعتیں غیر فطری اتحاد سے حکومت قائم کریں ، تحریک انصاف کے مقابل کیا یہ ملک کے لئے بہتر ہوگا ؟۔وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ میری رائے میں عدالت کو اس بارے میں توجہ دینے کی ضرورت نہیں، وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد خارج ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے اسمبلی تحلیل کر دی ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی، عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے ۔ وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ عدالت ماضی میں بھی اسمبلی کارروائیوں میں مداخلت سے احتراز برتتی رہی ، چودھری فضل الٰہی کیس میں ووٹ دینے ے روکا گیا اور تشدد کیا گیا، عدالت نے اس صورتحال میں بھی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کی تھی ، ایوان کی کارروائی میں مداخلت عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، عدالت پارلیمان سے کہے کہ وہ اپنا گند خود صاف کرے ۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں میں دی گئی آبزرویشن کے پابند نہیں ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے کہا گیا لیو گرانٹ ہونے کے بعد رولنگ نہیں آسکتی ، 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد آنے سے قبل رولنگ آسکتی تھی ، اس معاملے پر آپ کیا کہیں گے ؟۔وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ سپیکر کو معلوم ہو بیرونی فنڈنگ ہوئی یا ملکی سالمیت کو خطرہ ہے تو سپیکر قانون سے ہٹ کر بھی ملک بچانے کیلئے اقدام لے سکتاہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر انحصار کیا ، قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی پر فرد واحد اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم نے آرٹیکل 58 کو نظر انداز کیا ، سپیکر کے سامنے کیا مواد موجود تھا کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو ختم کر دیا؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے پاس ووٹنگ کے دن مواد موجود تھا جس پر رولنگ دی گئی ڈپٹی سپیکر کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس کب رکھے گئے ؟۔وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ معاملے پر مجھے نہیں علم، اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو آپ کو معلوم نہیں ا س پر بات نہ کریں ۔

    اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار  کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس کوئی مواد دستیاب تھا جس کی بنیاد پر رولنگ دی کیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ نیک نیتی پر مبنی تھی؟ڈپٹی اسپیکر کو 28مارچ کوووٹنگ پر کوئی مسئلہ نہیں تھا،ووٹنگ کےدن رولنگ آئی تحریک عدم اعتماد کو 28مار چ کو کیوں مسترد نہیں کیاگیا ؟وزیراعظم نے آرٹیکل 58کی حدود کو توڑا ،اس کے کیا نتائج ہوں گے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو ختم کرسکتاتھا،وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اسمبلی تحلیل کی ، نعیم بخاری نے کہا کہ میں علی ظفر کے دلائل اپناتے ہوئے اپنے بھی مزید دلائل دوں گا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہم آپ کے دلائل کا انتظار کررہے ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ سوال ہواتھا کہ پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد میں نہیں لیاجاسکتا،پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پر لیا جاسکتاہے،مجھے گزارشات فریز کرنے دیں ،عدالت کےسوالات کے جوابات دوں گا، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہم بھی آ پ کو سننے کے لیے بےتاب ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ ماضی میں عدالت عالیہ نے کیا کیا یہ سوال ہے، ایک حکومت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہےعدالت نے الیکشن کرانے کی تجویز دی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا پوائنٹ آف آرڈر پر عدم اعتماد کی تحریک کو ختم کیے جانے کی کوئی مثال ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ ایسی مثال تو نہیں لیکن پوائنٹ آف آرڈر پر کوئی بھی قرارداد ختم کی جاسکتی ،

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ اگر اسپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا،کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟ سولہ مارچ کو تمام ممبرز کومراسلہ بھیجا گیا جس میں تحریک پیش کرنے کا ذکر ہے، او آئی سی کا وزارتی اجلاس تھا، سینیٹ چیئرمین اور سی ڈی اے سے جگہ دینے کی بات کی گئی،سب نے جگہ نہ ہونے کے بارے میں آگا ہ کیا جس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلایا، میں مزید ایک گھنٹہ اور دلائل دونگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا زیرالتواتحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہو سکتی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے، پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن اسپیکر کا اختیار ضرور ہے،نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا،اب معاملہ عوام کے پاس ہے،سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے،

    جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہا کہ رولنگ پر اسپیکر اسد قیصر کے دستخط ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ جی اسدقیصر آج بھی اسپیکر قومی اسمبلی ہیں،تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کا مطلب نہیں کہ مسترد نہیں ہو سکتی،عدالت بھی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرکے بعد میں خارج کرتی ہے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے نعیم بخاری سے سوال کیا کیا کہ اسپیکر اب بھی عہدے پر ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ جی اسپیکر آج بھی اسپیکر ہیں، 25مارچ کو اجلاس بلایا گیا ، دوسرا 28 مارچ کو بلایا گیا جس میں تحریک پیش کی گئی، جسٹس مندو خیل نے کہا کہ کیا جب تحریک پیش ہوجائے تو اسپیکر اس کو ختم کرسکتا ہے؟پوائنٹ آف آرڈر کیا ہوتا ہے،ہم اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ،نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر کی تشریح نہیں بتا سکتا، لیکن اجلاس میں بات کرنے کے لیے ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رولز کے مطابق ایوان میں اگر تحریک پیش کردی گئی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھایا جاسکتا،نعیم بخاری نے کہا کہ رولز لے مطابق تحریک پیش ہوجانے کے بعد نکتہ اعتراض لیا جاسکتا ہے،

    جسٹس اعجازالاحسن نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ موشن اور ریزولوشن میں کیا فرق ہے ؟نعیم بخاری نے کہا کہ اسمبلی کارروائی شروع ہوتے ہی فواد چودھری نے پوائنٹ آف آرڈر مانگ لیا، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع ہوجاتی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں لیا جا سکتا تھا، موشن اور تحریک کے الفاظ ایک ہی اصطلاح میں استعمال ہوتے ہیں، موشن اور تحریک دونوں آپس میں رشتہ دار ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ اسپیکر کے آئینی اختیار کو کوئی رول ختم کرسکتا ہے ؟ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اسپیکر کا کوئی عمل غیر آئینی ہے تو پھر کیا کیا جائے، نعیم بخاری نے کہا کہ آئین کئی معاملات میں خاموش ہے لیکن ایسے معاملات میں رولز موجود ہیں ، پارلیمان کے کئی معاملات رولز کے مطابق چلائے جاتے ہیں

    نعیم بخاری نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کردیئے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کا آئینئ مینڈیٹ ہے، کیا ڈپٹی اسپیکر آئینی مینڈیٹ سے انحراف کر سکتا ہے؟کیا ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد ہونے کا مطلب ووٹنگ کیلئے پیش ہونا نہیں ؟تحریک عدم اعتماد کے علاوہ پارلیمان کی کسی کارروائی کا طریقہ آئین میں درج نہیں،کیا اسمبلی رولز کا سہارا لیکر آئینی عمل کو روکا جا سکتا ہے؟ کیا آئینی عمل سے انحراف پر کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں 11 افراد شریک تھے، نعیم بخاری نے کہا کہ کمیٹی میں شرکت کےلیے 29 لوگوں کو نوٹس دیئے گئے تھے ، جسٹس مندو خیل نے کہا کہ کیا اس کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر خارجہ تھے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ جی وزیرخارجہ موجود تھے، شرکا کی لسٹ میں تیسرا نمبر ہے، نعیم بخاری کی جانب سے وقفہ سوالات کا حوالہ دیا گیا ،نعیم بخاری نے کہا کہ تمام اپوزیشن اراکین نے کہا سوال نہیں پوچھنے صرف ووٹنگ کرائیں،اس شور شرابے میں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو خط پر بریفنگ دی گئی،اس دن وزیر خارجہ چین کے دورے پر تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں،جسٹس مندو خیل نے کہا کہ مجھے وزیر خارجہ کے اس میٹنگ منٹس میں دستخط نظر نہیں آرہے ایک وزیر خارجہ کو پیغام آیا اور وہ اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے،نعیم بخاری نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ نیشنل سیکیورٹی کاونسل کے اجلاس کےمنٹس سر بمہر لفافے پیش کروں ،وزیر خارجہ کو پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں ہونا چاہیے تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معید یوسف کا نام بھی میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہا، نعیم بخاری نے فواد چودھری کا پوائنٹ آف آرڈر بھی عدالت میں پیش کر دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس پر اپوزیشن پوچھ نہیں سکتی تھی؟ اراکین اسمبلی کے نوٹس میں خط کے مندرجات آ گئے تھے پوائنٹ آف آرڈر پر رولنگ کی بجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لینا چاہیے تھا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بحث نہیں ہوتی

    جسٹس منیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین اپریل قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون نے نکتہ اعتراض پرعدم اعتماد کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی قرار دیا،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے رولنگ پڑھی گئی تھی اس پر اسپیکر کے دستخط ہیں کیا بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ رولنگ ان کو پہلے سے لکھ کر دی گئی تھی کہ وہ پڑھیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فوادچوہدری نے آرٹیکل 5 سے متصادم پر رولنگ مانگی، ممکن ہےارکان کہتے یہ آئین کیخلاف ہے، حق میں ووٹ نہیں دیں گے،ہوسکتا ہے کچھ لوگ خط کے تناظر میں تحریک کیخلاف ووٹ دیتے ،ووٹنگ کرانے کے بجائے تحریک ہی مسترد کردی گئی، ڈپٹی اسپیکر کو اس انداز میں تحریک مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا، اسپیکر نے رولنگ کے بعد ووٹنگ کیوں نہیں کرائی ؟رولنگ میں عدم اعتماد مسترد کرنا شائد اسپیکر کا اختیار نہیں تھا،ایسا لگتا ہے رولنگ لکھ کر ڈپٹی اسپیکر کو دی گئی اور انہوں نے پڑھ دی، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں ،میں پارلیمنٹ میں نہیں تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا عوامی نمائندوں کی مرضی کیخلاف رولنگ پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو پھر کیا ہوتا کیا دوبارہ عدم اعتماد لائی جاتی،نعیم بخاری نے کہا کہ ایسا کیا جاسکتا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سپیکر کے پاس اپیل ایبل ہے،نعیم بخاری نے کہا کہ جی سپیکر تبدیل کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے کہہ رہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو ا سپیکر کے سامنے چیلنج کیا جاسکتا ہے، آپ کے مطابق اراکین کو ڈپٹی ا سپیکر کیخلاف ا سپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا،آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی ،نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت اسمبلی تحلیل کا جائزہ لے سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جس رولنگ کی بنیاد پر اسمبلی تحلیل ہوئی اسے چھوڑ کر باقی چیزوں کا جائزہ کیسے؟ سپریم کورٹ میں نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہو گئے ،نعیم بخاری نے کہاکہ پارلیمان کے اندر جو بھی ہو اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا آرٹیکل 95 انڈپینڈنٹ آرٹیکل نہیں ہے؟اس میں عدم اعتماد تحریک کے حوالے سے اسپیکر کے کردار کی وضاحت کی گئی اس صورت میں اگر کوئی غیر آئینی کام ہو جائے تو کیا عدالت اس پر مداخلت نہیں کرسکتی؟ نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت کس حد تک مداخلت کرسکتی وہ عدالت نے طےکرنا ہے،

    سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دلائل شروع ہو گئے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 28مارچ کو تحریک عدم اعتماد لیو گرانٹ ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے سوال کیا کہ لیو کون گرانٹ کرتا ہے ؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہاوس لیو گرانٹ کرتا ہے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے تحریری معروضات عدالت میں پیش کردیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل کیا یہ آپکا آخری کیس ہے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر آپکی خواہش ہے تو مجھے منظور ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری بات تو سن لیں، ہم چاہتے ہیں آپ اگلے کیس میں بھی دلائل دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی تفصیل کھلی عدالت میں نہیں دے سکوں گا عدالت کسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے بغیر بھی فیصلہ کر سکتی ہے،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر بریفنگ دی گئی،قومی سلامتی کمیٹی پر ان کیمر اسماعت میں بریفنگ دینے پر تیار ہوں وزیراعظم سب سے بڑے ا سٹیک ہولڈر ہیں،وزیراعظم کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہے ،اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے وزیراعظم کو وجوہات بتانا ضروری نہیں،صدر سفارش پر فیصلہ نہ کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی،حکومت کی تشکیل ایوان میں کی جاتی ہے،آئین ارکان کی نہیں ایوان کی5 سالہ معیاد کی بات کرتا ہے،برطانیہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا آپشن ختم کردیا گیا ہے ہمارے آئین میں وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن موجود ہے، تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا کسی رکن کا بنیادی حق نہیں تھا،ووٹ ڈالنے کا حق آئین اور اسمبلی رولز سے مشروط ہے،اسپیکر کسی رکن کو معطل کرے تو وہ بحالی کیلئے عدالت نہیں آ سکتا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رولز سے مشروط ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سمیت تمام کارروائی رولز کے مطابق ہی ہوتی ہے، پارلیمانی کارروائی کا کس حد تک جائزہ لیا جا سکتا ہے عدالت فیصلہ کرے گی، اگر اسپیکر کم ووٹ لینے والے قائد ایوان کی کامیابی کا اعلان کرے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے، پارلیمنٹ میں ہونے والی ہر کاروائی کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسپیکر ہاوس کا کسٹوڈین ہوتا ہے اسپیکر صرف اپنی ذاتی تسکین کیلئے عہدے پر نہیں بیٹھتا اسپیکر ایسا تو نہیں کر سکتا کہ اپنی رائے دے، باقی ممبران کو گڈ بائے کہہ دے،20فیصد ممبران نے جب تحریک پیش کر دی تو بحث کرانا چاہیے تھی،وزیر اعظم کو سب پتہ ہوتا ہے وہ جاتے ممبران سے پوچھتے وہ کیا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر 68 ارکان تحریک منظور اور اس سے زیادہ مسترد کریں تو کیا ہوگا؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر 172 ارکان تحریک پیش کرنے کی منظوری دیں تو وزیراعظم فارغ ہوجائے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ایک اسکیم کے تحت ہوتی ہے،وزیر اعظم کو اپنے ممبرز کی شناخت کرنا ضروری ہے،وزیر اعظم کو علم ہو کہ وہ کونسے 172 ممبرز ہیں جو ان کے ساتھ ہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آئینی معاملے پر بات کررہے ہیں اورہمیں علم ہے کہ آئین ایک سیاسی دستاویز ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک پیش کرنے کی منظوری کیلئے 20 فیصد یعنی 68 ارکان کا ہونا ضروری نہیں،اسمبلی میں کورم پورا کرنے کیلئے 86 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے،تحریک پیش کرنے کی منظوری کے وقت اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ تحریک عدم اعتماد پر لیو گرانٹ کرتے ہوئے کوئی بنیاد بتانا ہوتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی کوئی بنیاد بتانا ضروری نہیں، تحریک پیش کرتے وقت تمام 172 لوگ سامنے آ جائیں گے تحریک پیش کرنے اور ووٹنگ میں 3سے 7 دن کا فرق بغیر وجہ نہیں، 7دن میں وزیراعظم اپنے ناراض ارکان کو منا سکتا ہے ، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ لیو گرانٹ ہوگئی تو پھر ووٹنگ ہونی ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ لیو گرانٹ ہوئی ہی نہیں، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ پھر اسپیکر نے کیسے ووٹنگ کے لیے اجلاس بلالیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر نے لیو گرانٹ کی ہی نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ فواد چوہدری 28 مارچ کو اعتراض کرتے تو کیا تحریک پیش کرنے سے پہلے مسترد ہوسکتی تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک پیش ہونے کے وقت بھی مسترد ہو سکتی تھی،تحریک عدم اعتماد قانونی طور پر پیش کرنے کی منظوری نہیں ہوئی، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ اسپیکر نے قرار دیدیا کہ تحریک منظور ہوگئی آپ کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہوسکتی تو کیس ہی ختم ہو گیا، اگر 68 لوگ تحریک پیش کرنے کی منظوری اور 100 مخالفت کریں تو کیا ہوگا؟ ایوان کی مجموعی رکنیت کی اکثریت ہو تو ہی تحریک پیش کرنے کی منظوری ہوسکتی آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اکثریت مخالفت کرے تو تحریک مسترد ہوگی،تحریک پیش کرنے کی منظوری کا ذکر اسمبلی رولز میں ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں فیصلے ہاوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے،ووٹنگ کے لیے 172 ارکان ہونے چاہیے،لیو گرانٹ اسٹیج پر 172 ارکان کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 55 کے تحت ایوان میں فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں، اگر لیو گرانٹ کے وقت 172 ارکان چاہیے تو پھر تو بات ہی ختم ہو گئی اسپیکر کے وکیل نے کہا رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تو کیس ختم ہوگیا،تین اپریل کو بھی وہی اسپیکر تھا اور اسی کی رولنگ تھی، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی تحلیل اصل مسئلہ ہے اس پر آپکو سننا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے بعد ہی اسمبلی تحلیل ہوئی،چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے اسمبلی تحلیل اور ا سپیکر رولنگ میں کتنے ٹائم کا فرق ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں کیا دنیا میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر وزیر اعظم بنے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آج ہی سماعت مکمل کرکے فیصلہ کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا کنسرن نئے انتخابات کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے،عدالت نے آئین کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے،کل کو کوئی اسپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں، نتائج میں نہیں جائینگے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا، کسی رکن اسمبلی کو عدالتی فیصلے کے بغیر غدار نہیں کہا جا سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپیکر نے کہہ دیا میں رولنگ دیتا ہوں کیونکہ میں سب سے اوپر ہوں، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایک بات نظر آرہی ہے کہ رولنگ غلط ہے،آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں فیصلے ہاوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے، اب یہ بتائیں اگلا قدم کیا ہو گا،قومی مفاد اور عملی ممکنات دیکھ کر ہی آگے چلیں گے ، آج فیصلہ سنائیں گے،اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے، قومی مفاد اور عملی ممکنات کو دیکھ کر ہی آگے چلیں گے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ عوام کے پاس جایا جائے۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت نتائج کو نہیں دیکھ رہی۔ ہم نے قانون کو دیکھنا ہے اور آئینی معاملات کو دیکھانے ہیں۔ یہ سب طے شدہ تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمینٹ کامیاب ہو اور کام کرے

    دس منٹکے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے برطرف ملازمین کی نظرثانی مسترد کرکے بھی بحالی کا راستہ نکالا تھا،عدالت نے سیکڈ ملازمین کیس میں جو فیصلہ دیا وہ ہم نے دیکھاکیس میں عدالت نے نظر ثانی اپیلیں خارج کی تھیں ملازمین کو نوکریوں پر بحال کیا گیا ہم اس ملک کے مینڈیٹ کو کسی اور کی خواہش پر نہیں چھوڑ سکتے،آج عدالت جو حکومت بنائے گی کیا وہ لوگوں کے ساتھ ہوگی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہ بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے،اس وقت ملک میں ڈالر 190 تک پہنچ گیا ،ا سٹاک مارکیٹ نیچے جارہی ہے،سری لنکا کے حالات ہمارے سامنے ہیں

    عدالت نے شہباز شریف کو روسٹرم پر بلالیا ،شہباز شریف نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں قانونی معاملات پر میرے وکیل بات کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی موجود ہے،ان تجاویز بھی لے لیں موجودہ مینڈیٹ 2018 کی اسمبلی کا ہے، آج اگر کوئی حکومت بنائے گا تو کتنی مستحکم ہو گی ،شہباز شریف نے کہا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، پارلیمنٹ خود مختار ہے،اسپیکرکے رولنگ پر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آئینی ہے یا غیر آئینی ،ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں ،ججز پر ہمیں فخر ہے،وقفے سے پہلے جو ریمارکس دیئے ا س پر کہوں گا کہ پارلیمنٹ کو بحال کریں،رولنگ ختم ہونے پر تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی،جوغلطیاں ہوئیں انکی توثیق اور سزا نہ دیئے جانے کی وجہ سے یہ حال ہوا، اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کریں،پارلیمنٹ میں عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے،ہماری تاریخ میں آئین کئی مرتبہ پامال ہوا، ہمارا اتحاد ملک کے بہترین جماعتوں پر مشتمل ہے ہم ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،میثاق معیشت کی بات میں نے کی تھی ہمارے پاس ایک ایجنڈا ہے ، یقین کریں ہم آگے بڑھیں گے،اس حکومت کے ایک اتحادی نے اپوزیشن کیمپ کوجوائن کیا،ہمارے پاس 177 ووٹ ہیں ہم اپنے آئین کی حفاظت کرینگے اورقوم کی خدمت کریں گے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ نے 2018 میں کتنی سیٹیں لی تھیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے 2018 میں 115 سیٹیں حاصل کی تھیں بطور اپوزیشن لیڈر چارٹر آف اکنامکس کی پیش کش کی،2018میں ڈالر 125 روپے کا تھا،آج 190 تک پہنچ چکا ہے،پارلیمنٹ ارکان کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے،پی ٹی آئی نے بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی،اپنی پہلی تقریر میں چارٹر آف اکانومی کی بات کی تھی، عوام بھوکی ہو تو ملک کو قائد کا پاکستان کیسے کہیں گے، مطمئن ضمیر کیساتھ قبر میں جاوں گا،سیاسی الزام تراشی نہیں کروں گا، آج بھی کہتا ہوں چارٹر آف اکانومی پر دستخط کریں،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپوزیشن پہلے دن سے الیکشن کرانا چاہتی تھی،شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ آئین توڑنے کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کی مرمت ہم کر دینگے،ہم 184/3 کےتحت درخواستوں پر سماعت کررہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آپ کا موقف سنا ،سوال یہ ہے کہ آپ آگے کیسے چلیں گے ،آپ کی حکومت پہلے پانچ سال حکومت کامیابی سے چلا چکی ہے، بطور اپوزیشن لیڈر پہلے دن سے الیکشن کی ڈیمانڈ کرتے رہے اب کیوں نہیں کررہے ، شہباز شریف نے کہا کہ اپنی اپوزیشن سے ملکر انتخابی اصلاحات کرینگے تاکہ شفاف الیکشن ہو سکے ،عام آدمی تباہ ہوگیا اس کیلئے ریلیف پیدا کرنے کی کوشش کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب چاہتے ہیں اراکین اسمبلی کے نہیں عوام کے منتخب وزیراعظم بنیں،جنہوں نے عمران خان کو پلٹا ہے وہ شہباز شریف کو بخشیں گے؟ اپوزیشن کا الیکشن کا مطالبہ پورا ہو رہا ہے تو ہونے دیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عد م عتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو الیکشن میں جانے کے لیے آپ کو کتنا عرصہ لگے گا؟ عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا دورانیہ رہے گا؟ شہباز شریف نے کہا کہ ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کا ابھی باقی ہے،ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل شروع ہو گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بخشنے اور نہ بخشنے کا بیان عدالت میں دیا یہ ایک سیاسی بیان ہے 2002سے ہم نے دیکھ لیا کسی سنگل پارٹی نے حکومت بنائی ہوحکومت جب بھی بنی اتحاد پر مشتمل تھی اٹارنی جنرل کی آخری باتیں دھمکی آمیز تھیں،کون کس کو نہیں چھوڑے گا، کس کو سرپرائز دے گا یہ نہیں کہنا چاہیے،وزیراعظم نے سرپرائز دینے کا اعلان کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرپرائز پر اپنا فیصلہ واضح کر چکے ہیں، ن لیگی وکیل نے کہا کہ عدالت سیاسی تقاریر پر نہ جائے،منحرف ارکان کے علاوہ اپوزیشن کے پاس 177 ارکان ہے ،چیف جسٹس کے کہنے پر مخدوم علی خان نے اپوزیشن ارکان کی پارٹی وائز تفصیلات بتائیں ، ن لیگی وکیل نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ ملکی اقتصادی صورتحال خراب ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے،اس کی نشاندہی بھی آ پ نے ریمارکس میں بھی کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کی وجہ سے ملکی اقتصادی حالات خراب ہیں،ملکی صورتحال پر ہم کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے،ن لیگی وکیل نے کہا کہ اس وقت عدالت ریمیڈی دینے کی طرف سوچ رہی ہے،اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، ڈالر مہنگا اور روپے کی قدر کم ہو گئی،عدالت نے کہا کہ یہ تمام معاشی مسائل ہیں،ن لیگی وکیل نے کہا کہ یہ معاشی مسائل کس نے پیدا کیے ہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہم سوالات کے جواب دینے بیٹھے ہیں،آرٹیکل 184/3 میں کیس سن رہے ہیں، عوامی حقوق کا تحفظ کرینگے، ن لیگی وکیل نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا حکومت بلآخر انتخابات کی طرف جائے گی، جانتا تھا کہ اسپیکر کی رولنگ کا دفاع کرنا ممکن نہیں، حاجی سیف اللہ کیس امتیازی کیس ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ رولنگ ختم ہو اسمبلی بحال نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس نکتہ پر لگتا ہے تیاری کرکے آئے ہیں،آئین سے 58ٹو بی جمہوری انداز میں نکالا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی مکمل،اب ہم معاملہ پر غور کریں گے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دلائل کے لیے سپریم کورٹ سے درخواست کی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو دلائل دینے کی اجازت دے دی ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کہ میں دس منٹ سے زائد نہیں لوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پر بہت سنجیدہ الزامات عائد ہیں، سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں، عدالت میرٹ پر جائے گی ،الزامات پر فیصلہ نہیں دے گی،

    شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ 199ارکین قومی اسمبلی پر غداری کے الزمات لگائے گئے،میں قران اٹھا کر کہتا ہوں کہ عمران خان اگر کوئی ثبوت لائے تو میں سیاست چھوڑ دونگا جو سزا عدالت دے گی قبول ہوگی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے ریمارکس غداری سے متعلق نہیں تھے وکلا نے وزیر اعظم ،صدر اور دیگر کے بارے میں بات کی اس پر ریمارکس دیئے،سیاسی جماعتوں کا آپس میں تعلق اتنا خراب ہے کہ پتہ نہیں ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں، میاں صاحب وہ آپ سے ناراض رہتے ہیں ہاتھ نہیں ملاتے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میاں صاحب چھوڑ دیں آپ میں سے کسی کو کچھ نہیں کہا گیا، شہباز شریف نے کہا کہ سازش کے ثبوت لے آئیں عدالت کی ہر سزا قبول کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی ہم ساڑھے 7 بجے فیصلہ سنائیں گے،افطاری کے بعد دوبارہ بیٹھیں گے،

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کرتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بلاول بھٹو کے خاندان کی تیسری پیڑی سیاست میں ہے،سارے معاملے میں اصل اسٹیک ہولڈر ووٹر ہے،بلاول بھٹو کے خاندان نے بہت قربانیاں دی ہیں،سپریم کورٹ نے سماعت ملتوی کردی ،فیصلہ شام ساڑھے 7 بجے سنایا جائے گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

  • پاکستانیو:سیاست سیاست نہ کھیلیں ملکی خود داری اورسلامتی پرتوجہ دیں:چین کا تیسری بارپیغآم آگیا

    پاکستانیو:سیاست سیاست نہ کھیلیں ملکی خود داری اورسلامتی پرتوجہ دیں:چین کا تیسری بارپیغآم آگیا

    بیجنگ: پاکستانیو:سیاست سیاست نہ کھیلیں ملکی خود داری اورسلامتی پرتوجہ دیں:چین کا تیسری بارپیغآم ،اطلاعات کے مطابق برادر ہمسائیہ ملک چین کی طرف سے پچھلے چند دنوں میں تیسری بار پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ خدا را سیاست سیاست نہ کھیلیں پاکستان کی سالمیت اور اس کی خودداری پرتوجہ دیں‌

    پاکستانی سیاسی جماعتوں کے نام یہ تیسرا پیغام جوچین کی حکومت نے پچھلے ڈیڑھ ہفتے میں دیا ہے ، اس حوالے سے آج پھر چین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تمام جماعتیں متحد رہ کر ملکی ترقی اور استحکام کو برقرار رکھیں۔

    ان خیالات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے بیجنگ میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب میں کیا۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین نے ہمیشہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر عمل کیا ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ پاکستان میں مداخلت کررہا ہے اوریہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے ،اگراسی طرح امریکی چالیں کامیاب ہوتی رہیں تو پھرنہ تو جمہوریت پنپ سکے گی اور نہ کی کسی ملک کی سلامتی کی گارنٹی دی جاسکے گی

    اس مشکل وقت میں جب کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان میں مداخلت کے واضح ثبوت آگئے ہیں چین اور پاکستان کو تمام موسمی تذویراتی تعاون پر مبنی شراکت دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ اٹوٹ اور مضبوط رہیں گے۔

    ژاؤ لیجیان نے امید ظاہر کی کہ چین پاکستان مجموعی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متاثر نہیں ہوگی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے چین کی حکومت 2 مرتبہ پاکستان میں امریکی مداخلت کی تائید کرچکی ہے جس پرپہلے بھی چین نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکہ کو ایسی گھٹیا حرکات سے اب باز آجانا چاہیے

    اس کے ساتھ ساتھ روسی حکومت نے اپنی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پراس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان کی حکومت کو امریکہ کی طرف سے بہت زیادہ خطرات لاحق تھے اور امریکہ عمران خان کوآزاد خارجہ پالیسی کی وجہ سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں‌

    روسی حکومت کی طرف سے بھی پاکستانیوں کو یہ پیغآم دیا گیا تھا کہ امریکی مداخلت کو اب ناکام بنا دینا چاہیے

     

  • پارلیمانی کمیٹی تشکیل، سپیکر نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خطوط ارسال کر دیئے

    پارلیمانی کمیٹی تشکیل، سپیکر نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خطوط ارسال کر دیئے

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے نگران وزیراعظم کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل دینے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کو خطوط ارسال کردیے۔

    سپیکر نے یہ خطوط آئین کی شق 224 اے ون کے تحت تفویض اختیارات کے تحت لکھے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف سے چار، چار ممبران کے نام مانگے گئے ہیں۔

    خط کے متن میں تحریر ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن نگران وزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہیں کرسکے۔ کمیٹی سبکدوش ہونے والی قومی اسمبلی کے 8 ارکان پر مشتمل ہوگی۔

    خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سے قبل صدر مملکت نے بھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خطوط لکھے تھے۔ تاہم شہباز شریف نے صدر عارف علوی کو خط لکھ کر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت سے انکار کردیا تھا۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی طرف سے تجویز کیے گئے نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام مسترد کردیا ہے۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے نگران وزیراعظم کے تقرر پر مشاورت کے لیے لکھے جانے والے خط کا جواب لیگی صد شہباز شریف نے دیدیا۔

    جوابی خط میں شہباز شریف نے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے 2 خط لکھے ہیں جو مجھے 5 اپریل کو رات 9 بجے موصول ہوئے۔ آپ کی جانب سے لکھا گئے خطوط میں نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام دیا گیا ہے تاہم سپریم کورٹ نے اس سارے معاملے پر از خود نوٹس لے رکھا ہے۔ عدم اعتماد کے حوالے سے سپیکر کی رولنگ خلاف آئین ہے۔

  • عمران خان کی آئین شکنی،مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان

    عمران خان کی آئین شکنی،مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان

    عمران خان کی آئین شکنی،مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کردیا ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ پوری قوم آئین کے تحفظ کیلئے بیدار ہو،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے بحران شروع ہوا اور اسمبلیوں کی تحلیل نے بحران کو سنگین کیا،آنے والاجمعہ یوم تحفظ آئین پاکستان کے نام سے منایا جائے گا،آئین پاکستان کی دھجیاں اڑائی گئیں، عمران خان نے آئین کو پامال کیا،تحریک انصاف کے کارکن جمہوری قوتوں کواشتعال دلا رہے ہیں ،کابینہ ڈویژن نوٹیفکیشن جاری کرچکی ہے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں رہے، اس بات کا نوٹس لیا جائے کہ پارلیمنٹ کے 197ارکان کو غدار قرار دیا گیا،ملکی سلامتی کو داؤ پر لگایا جارہاہے، جمعہ کو کارکن نکلیں اور آئین شکنی کے خلاف ریلیاں نکالیں گے علمائے کرام اپنے خطبوں میں عمران خان کی ناجائز حکومت اور مکروہ اقدامات پر روشنی ڈالیں گے.

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ  سپریم کورٹ کاازخود نوٹس لینا درست اقدام ہے،اسپیکرکی رولنگ کالعدم قراردی جائے حکومتی غیرآئینی اقدام سے منصفانہ انتخابات کی توقع نہیں کی جاسکتی ادارے آئین کے تحفظ کے لیے اپنا کردارادا کریں ،صدر نے کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا،بلکہ زبانی کلامی عمران نیازی کو نیا وزیراعظم آنے تک حکومت کرنیکا کہا ہے عمران خان نے قومی خزانے کومال غنیمت سمجھ رکھا ہے کابینہ ڈویژن،عدالتی حکم کےباوجودوزیراعظم سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں ہمیں نظریہ ضرورت نہیں نظریہ جمہوریت چاہئے آج متحدہ اپوزیشن اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل طے گیا جائے گا، سپریم کورٹ کی ازخود کیس کی نارمل پروسیڈنگ سے لوگوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے،چند دن بعد خط کا جھوٹ عیاں ہو جائیگا۔

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    پرویز الہیٰ کوعمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے، مریم نواز

    پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    عمران خان کے آخری مایوس کن اقدامات اب اسے بچا نہیں سکتے،بلاول

  • عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے،تحریک لبیک نے بڑا مطالبہ کر دیا

    عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے،تحریک لبیک نے بڑا مطالبہ کر دیا

    عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے،تحریک لبیک نے بڑا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا سربراہ حافظ سعد رضوی کی زیر صدارت شوریٰ کا اجلاس ہوا

    اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، تحریک لبیک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان آئینِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ،آئین پاکستان لازوال قربانیوں کا نتیجہ ہے آئین پاکستان کو منسوخ کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،موجودہ صورتحال میں تحریک لبیک خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی،خاص طور پر جب ہم آئین پاکستان کے خالق امام احمد شاہ نورانی اورمولانا عبدالستار خان نیازی کے فکری وارث بھی‌ ہیں، آئین سے اس کھلواڑ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا

    تحریک لبیک کی شوریٰ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں مزید کہا گیا کہ اگر اس روایت کو آج تسلیم کر لیا گیا تو کل کسی بھی غیر مسلم کو آئین سے کھلم کھلا بغاوت کرتے ہوئے صدر مملکت اور وزیراعظم صرف اسپیکر کی ایک رولنگ پر لگایا جا سکے گا،آئین میں موجود مسلمان کی تعریف اور قادیانیت کے عقائد کی روک تھام پرایک بڑا سوالیہ نشان لگ سکتا ہے، کیا ناموس رسالت کو جو ہمارے عقائد کا ریڈ زون ہے، 295 سی پر ہم ممکنہ سمجھوتہ برداشت کر لیں؟

    تحریک لبیک کی شوریٰ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں مزید کہا گیا کہ صدارتی نظام کے شوشے کے پیچھے بھی قادیانی اور اسلام دشمن لابی سرگرم عمل ہے،جو ہمارے آئین سے اسلام کو نکال پھینکنا چاہتے ہیں، ہمارا آئین ہمارے دینی اقدار کا محافظ ہے تحریک لبیک پاکستان آئین پاکستان کے ساتھ چھیڑچھاڑ پر ایسا ہی رد عمل دے گی جیسے الیکشن فارمز میں ترمیم پر ہم نے فیض آباد دھرنا دیا اور حکومت کو ناک رگڑنا پڑی تھی

    تحریک لبیک کی شوریٰ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں مزید کہا گیا کہ ہم پاکستان کی عدلیہ سے استدعا کرتے ہیں عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے اسکی تحقیقات کی جائیں کیونکہ آئین پاکستان کو ختم کرنا دراصل قادیانیوں کا پرانا خواب ہے جس کے پیچھے اسلام اور پاکستان کی تمام دشمن قوتیں اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ اکٹھی ہو چکی ہیں

    لاہور انارکلی دھماکہ، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری کی قبول،الرٹ جاری ہوا تھا مگر جگہ نہیں پتہ تھی،کمشنر لاہور

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    لاہور دھماکہ، جاں بحق اور زخمی افراد کے ناموں کی فہرست جاری

    انار کلی دھماکہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے دہشت گرد کی شناخت ہو گئی

    انار کلی دھماکہ،جگہ کی ریکی کرنے والے مبینہ 2 دہشت گردوں کی نشاندہی

    پہلے اسلام آباد اب لاہوروزیرداخلہ اپنے سگھارکے دھوئیں سے باہرنہیں نکلے؟سربراہ تحریک لبیک کا سوال

    تحریک لبیک سے مقابلہ کرنے کیلئے اہلسنت جماعتیں متحد ہو گئیں

  • ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    پنجاب میں بدلتی سیاسی صورتحال سپیکر پنجاب اسمبلی نے ڈپٹی سپیکر کو دئیے گئے تمام اختیارات ختم کر دئیے، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے،

    دوسری جانب دوست مزاری کا کہنا ہے کہ قانونی ماہرین سے بات کرکے حتمی فیصلہ کروں گا تحریک عدم اعتماد پر دستخط زیادہ تر ن لیگی ارکان کے ہیں،اسمبلی سیکریٹریٹ کا عملہ تحریک جمع کرتا ہے،میں قانون کے مطابق کارروائی کروں گا آرڈر آف دی ڈے کی ویلیو زیادہ ہوتی ہے ،گزٹ نوٹیفکیشن سے متعلق بات کرنے کیلئے سیکریٹری اسمبلی نے میرے پاس آنا تھا میرے پاس اختیارات موجود ہے اس کو مدنظر رکھ کر کارروائی کرو ں گا،پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی تھی،

    قبل ازیں حکومتی اتحاد ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے مشکلات کا شکار ہو گیا،تحریک انصاف پنجاب میں مزید مشکل میں پھنس گئی،علیم خان، ترین گروپ کے بعد مزاری گروپ بھی سامنے آیا،ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کا بھی گروپ سامنے آگیا،دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے پی ٹی آئی کے ارکان ناراض ہو گئے پی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان کا مزاری گروپ بنانے پر اتفاق ہو گیا،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے پی ٹی آئی امیدوار کو سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے موجودہ صورتحال پر اپنے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کوپی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے دوست محمد مزاری کا اپنے گروپ کے ہمراہ اپوزیشن امیدوار کی حمایت کا قوی امکان ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ کسی مائی کے لال کوپنجاب اسمبلی یرغمال بنانے نہیں دینگے ق لیگ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے پیچھے چھپ رہی ہے، قومی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے ،سونامی ٹولہ اور اس کے حواری اقتدار جاتا دیکھ کر بوکھلا گئے ہیں،اسمبلی سٹاف ایک سیاسی جماعت کی ذاتی ملازمت سے باز رہے ماورائے آئین اقدامات میں ملوث سرکاری ملازمین احتساب کیلیے تیار رہیں پیپلز پارٹی ہر جمہوریت دشمن اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کریگیلاہور ہائیکورٹ پنجاب اسمبلی پر غیر آئینی حملے کا ازخود نوٹس لیں

    قبل ازیں پی ٹی آئی کی طرف سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آج صبح سیکرٹری اسمبلی کے آفس میں جمع کروا دی گئی ہے،

    عدم اعتماد کی تحریک پنجاب اسمبلی میں جمع ہونے کے بعد سردار دوست محمد مزاری اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے مجاز نہیں رہے ۔ تحریک عدم اعتماد صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور دیگر ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے۔

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر مزاری صاحب کیخلاف پی ٹی آئی نے تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی۔ واہ نیازی صاحب! آپ تو آخری گیند تک مقابلہ کرنے کا کہتے تھے مگر قومی اسمبلی سے بھاگنے کے بعد اب پنجاب اسمبلی سے بھی بھاگ گئے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ بدترین شکست کھا چکے ہو

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتی کہ جمہوری عمل ٹھیک طرح سے چلے میں قانون کے مطابق اجلاس کی صدارت کرسکتا ہوں یہ انتخاب وزیر اعلی ٰپنجاب کا ہے،میرا نہیں

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی کو سیل کردیا گیا ،پنجاب اسمبلی کو تالے لگا دیئے گئے ہیں اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے درمیان اجلاس بلوانے کے حوالے سے اختلاف پایا جارہاہے ڈپٹی اسپیکر کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتظامیہ تعاون نہیں کررہی،چند گھنٹوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے

    اجمل جامی کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں جمہوری روایات کا قلع قمع کیا گیا ھے۔ لہذا بشارت راجہ ، احمد خان بچھیڑ، میاں محمود الرشید، مراد راس، نوابزادہ وسیم خان، سبطین خاں اور اعجاز حسین کے دستخطوں سے تحریک انصاف اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرتی ھے۔۔۔تالیاں۔

    تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے آج کے اجلاس میں PTi کے ممبران شرکت نہیں کریں گے۔ بلکہ وہ 16 اپریل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قانونی طور پر اجلاس کا نوٹیفکیشن 16 اپریل کا ہی ہوا ہے۔رات کی تاریکی میں ایک TV چینل پرسادہ پرچی نشر کرنے پر ہمارے اراکین اسمبلی نہیں جائیں گے۔تاریخیں بھی خریدی جا رہی ہیں

    کامران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بلا شک و تردد پنجاب میں عمران خان حکومت چاروں شانوں چت ہوچکی ہے بزدار کو خان نے پچکار کر بٹھا دیا گورنر چوہدری سرور کو لات مار کر نکال باہر کیا ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری بھی ٹھوکر پر ہیں اور چوہدری پرویز الہی پنجاب اسمبلی میں اکثریت سے 40 اراکین دور ہیں گویا بوریا بستر باندھ لیں

    سلیم صافی کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں حکومت جو کچھ کرنے جارہی ہے اس کی وجہ سےتصادم کا خطرہ ہے ۔ یہ معاملہ ووٹنگ یا تصادم کے بعد بالآخر عدالت میں ہی آئے گا ۔ اس لئے عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ وہ آج شام کے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے متعلق آج ہی شارٹ آرڈر جاری کردے تاکہ فساد نہ ہو۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا یا نہیں ایک بار پھر کنفیوژن پیدا کر دی گئی ہے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے آج شام ساڑھے سات بجے اجلاس طلب کر رکھا تھا، لیکن ترجمان پنجاب اسمبلی نے آج ہونے والے اجلاس کی تردید کر دی ہے ، ترجمان کا کہنا ہے کہ ترجمان نے کہا کہ آج طلب کئے جانے والے اجلاس کو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوا، اجلاس 16 اپریل کو ہی ہو گا۔

    جبکہ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ وکلاء سے مشاورت کے بعد اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شام ساڑھے 7 بجے ہوگا دوست محمد مزاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب بھی آج ہی ہوگا، قائد ایوان کے لیے پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز آمنے سامنے ہونگے۔

    خلیل طاہر سندھو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی اجلاس ہوگا سب سے پہلے پوائنٹ آف آرڈر پر میڈیا کی بات کی جائے گی ہمیں اس دروازے سے پنجاب اسمبلی جانے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن ہم پنجاب اسمبلی ضرور جائیں گے

    سمیع اللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج چوہدری پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے جارہے ہیں جس طرح وزیر اعلی پنجاب کے مقابلے سے بھاگ رہے ہیں اسپیکر کو جو عہدہ ان کے پاس تھا اب یہ بھی نہیں رہے گا پنجاب اسمبلی کے ممبران آپ سے آپ کے فرزند سے اس گند کا پورا پورا بدلہ لیں گے

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

  • جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ سماعت کررہا ہے ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں جوکچھ ہورہا ہے وہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کی کڑی ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیان حلفی دے دیں کہ وزیر اعلیٰ کے انتخابات کب ہوں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اس پر بات کرنے کا موقع آئے گا تو سن لیں گے،گزشتہ روز ایڈووکیٹ جنرل نے کہا تھا آئین کے مطابق الیکشن ہونگے،

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے دلائل دیئے گئے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آج اجلاس ہونے کی یقین دہانی کرائی،پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی ہدایات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم نوعیت کا کیس زیر سماعت ہے،3اپریل کو قومی اسمبلی میں جو ہوا اس پر سماعت پہلے ختم کرنا چاہتے ہیں، عدالت کے بارے میں منفی تبصرے کیے جا رہے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ عدالت معاملے میں تاخیر کر رہی ہے، پنجاب اسمبلی کا معاملہ آخر میں دیکھ لیں گے، آج اس کیس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، کوشش ہے کہ مقدمہ کو نمٹایا جائے سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں،یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟

    بابر اعوان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی ، پشتون تحفظ موومنٹ ، راہ حق پارٹی نے درخواست دائر نہیں کی،یہ وہ جماعتیں ہیں جن کی کہیں نہ کہیں پارلیمان میں نمائندگی ہے۔تمام سیاسی جماعتیں عدالت کے سامنے فریق ہیں،ایم کیو ایم ، تحریک لبیک ،بی اے پی ، پی ٹی ایم اور جماعت اسلامی عدالت کے سامنے فریق نہیں،راہ حق پارٹی کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے لیکن وہ عدالت کے سامنے فریق نہیں،شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ازخود نوٹس لیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے،ہمارے سامنے آرٹیکل 95 کا بھی ایک مقصد ہے،بابر اعوان نے کہا کہ یہ بھی کہا گیا کہ آرٹیکل 5 کے ذریعے کسی کو غدار کہا گیا ہے، درخواست گزاروں نے عدالت سے آرٹیکل 95 اور 69 کی تشریح کی استدعا کی،آرٹیکل 63 اے پر کسی نے لفظ بھی نہیں کہا ان کا دعوی ٰہے کہ پارلیمانی جمہوریت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،ن لیگی صدر نے پریس کانفرنس کے ذریعے کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا،درخواست گزار چاہتے ہیں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا رولنگ میں دیا گیا حوالہ نظرانداز کیا جائے، اپوزیشن چاہتی ہے عدالت انکے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے،سیاسی جماعت جس کی مرکز،صوبے،کشمیر گلگت میں حکومت ہیں کہتے ہیں اسکو نظرانداز کردیں،درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے وہ جمہوریت کو بچانے آئے ہیں کیا آئین کا موازنہ بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے آئین سے کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیس سیاسی انصاف کی ایڈمنسٹریشن کا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیںاس کا بیک گراونڈ کیا ہے، اس پر بات کریں،اسپیکر کے اقدامات کا دفاع ضرور کریں، اس پرآپ کو خوش آمدید کہتے ہیں کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ ایجنڈے سے ہٹ کرممبران سے مشاورت کے بغیر ولنگ دے سکتا ہے؟ کیا اسپیکر آئینی طریقہ کارسے ہٹ کے فیصلہ دے سکتا ہے؟کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس ایسا مواد تھا جو انہوں نے ایسی رولنگ دی؟ ہمیں راستے نہ بتائیں ہم راستے ڈھونڈ لیں گے،اسپیکر نے کونسی بنیاد پر ایکشن لیا

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے ان کیمرا بریفنگ کی استدعا کر دی،کہا بریف لایا ہوں اگراس پران کیمرا بریفنگ ہوسکتی ہے،کیس میں جس برطانوی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ کیس میں لاگو نہیں ہوتا، کیا سندھ ہاوس اور لاہور ہوٹل میں جو کچھ ہوا اسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ اراکین اسمبلی کے کردار پر قرآن و سنت اور مفتی تقی عثمانی کا نوٹ بھی دوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ہاؤس میں ایجنڈے سے ہٹ کر کسی حقائق پر جا سکے،ایسا کوئی مٹیریل موجود ہے؟ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کب ہوئی؟ آئینی طریقہ ہے جس کو سائیڈ لائن کر دیا جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ عدالتیں قانون کے مطابق چلتی ہیں، کیس میں ایک الزام لگایا گیا ہے ہم متنازعہ حقائق پر نہیں جانا چاہتے ،ڈپٹی اسپیکر نے ایک اقدام کیا ہے، بنیادی چیز حقائق پر آئیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، بابر اعوان نے کہا کہ میٹنگ میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن، ڈیفنس اتاشی سمیت 3 ڈپلومیٹس شامل تھے، ڈی سائفر کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس میں چار چیزیں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ معلومات کوڈز میں آئی ہیں یا سربمہر لفافے میں؟ آپ نے ڈی سائفر کا لفظ استعمال کیا، بابر اعوان نے کہا کہ میں اس کو یوں کر لیتا ہوں کہ ہمارا فارن آفس اس پر نظر ڈالتا ہے،ایک میٹنگ بلائی جاتی ہے جس میں فارن سیکریٹری دستیاب نہیں ہوتے سیکریٹ ایکٹ کے تحت کچھ باتیں کرنا نہیں چاہتا، خفیہ پیغام پر بریفنگ دی گئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ خفیہ پیغام پر بریفنگ کابینہ کو دی یا دفترخارجہ کو دی؟ عدالت نے بابر اعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے کہ ان کیمرا سماعت کریں، آپ سے صرف واقعات کا تسلسل جاننا چاہ رہے ہیں، بابراعوان نے کہا کہ فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے پرائم منسٹر سے ناراض ہے، تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھر ڈیش ڈیش ہے اگر کامیاب ہو گئی تو پھر سب ٹھیک ہے، ‏بابر اعوان نے ترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی سے گفتگو بھی عدالت میں پیش کر دی اور کہا کہ ترجمان پاک فوج نے کہا قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ کے اعلامیہ سے متفق ہیں، ‏چیف جسٹس نے بابراعوان کے دلائل کو کہانیاں قراردے دیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست کے ساتھ وفادار ہونا لازمی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو وفادار نہیں اس کیخلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے، جو لوگ غیر ملک سے ملکر تحریک عدم اعتماد لائے انکے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر کسی سیاسی جماعت کے وکیل کو دلائل نہیں دینے چاہیے خط کا معاملہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے اس کو کوئی سیاسی پارٹی ڈسکس نہیں کرسکتی ، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فارن پالیسی کے معاملات پر مداخلت نہیں کرسکتے، بابر اعوان نے کہا کہ سائپر سے نوٹس بنا کر فارن منسٹری کابینہ میٹنگ کو بریف کرتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے، بات پولیٹیکل پارٹی کی جانب سے نہ آئے ،جوکچھ ہے وہ رولنگ سے پڑھ دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی فارن پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت زیادہ تفصیلات نہیں دے سکتا،فارن آفس نے مراسلہ دیکھ کر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کیساتھ میٹنگ کی کابینہ کی میٹنگ میں متعلقہ ڈی جی نے مراسلے پر بریفنگ دی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی تھی؟ بابر اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتاوں گا،کیا کچھ باتیں ان کیمرا ہو سکتی ہیں؟ فارن آفس نے جو بریفنگ دی وہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال خط نہیں مانگ رہے،کیا اسپیکرنے کوئی میٹنگ کی تھی، اس کے منٹس پیش کریں تب بات بنے گی، یہ عدالت قانون کے مطابق عمل کرے گی، بظاہر ہمارے سامنے یہ کیس الزمات اور مفروضوں پر مبنی ہے آیا وہ الزمات اور مفروضے قابل جواز ہیں یا نہیں ،ہم متضاد الزمات پر نہیں جاتے اسپیکر کے پاس کیا مواد تھا جس پر ایکشن لیا گیا؟ بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ دوسرا ملک ہمارے وزیراعظم سے خوش نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ خارجہ پالیسی پر بات کسی سیاسی جماعت کا وکیل نہ کرے،جتنا رولنگ میں لکھا ہوا ہے اتنا ہی پڑھا جائے تو مناسب ہوگا،بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو کیا نتائج ہونگے

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ باتیں اسپیکر کے وکیل کو کرنے دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کابینہ نے کیا فیصلہ کیا یہ بتائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں یہ سماعت جلد مکمل کرنی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمیں پارلیمانی جمہوریت کا بتانا تھا،ہم نے اس معاملے کو ختم کرنا ہے ،بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم اور ہم نے غداری والے معاملے پر احتیاط سے کام لیا تھا،پاکستان صدیوں رہے گا ،ہم آتے جاتے رہیں گے عدالت نے 3اپریل کے حکمنامہ میں امن و امان کے خدشے کا اظہار کیا تھا،دوسری اہم چیز عدالتی حکم میں غیرآئینی اقدامات سے روکنا تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم میں زیادہ اہم چیز ڈپٹی ا سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت تھی ہم ا سپیکر کی رولنگ اور آرٹیکل 69 پر بات کرنا چاہتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ واقعاتی شواہد دے رہے ہیں کہ یہ ہوا تو یہ ہوگا، ان تمام واقعات کو انفرادی شخصیات سے کیسے لنک کرینگے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر عمران خان کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو مطلب ہوا کہ انہیں معلوم نہیں کون ملوث ہے،بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کو جو علم ہے وہ ملکی مفاد میں بولنا نہیں چاہتے،وزیراعظم تفتیش کار نہیں اس لیے یہ کام متعلقہ لوگوں کو کرنے دیا جائے،میمو کیس ابھی بھی زیر التواہے،حقائق متنازعہ ہوں تو اسکی تحقیقات ضروری ہیں برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کوئی باہر سے آ کر پارلیمان اجلاس ملتوی نہیں کر سکتا، برطانوی عدالت نے کہا پارلیمان اپنے ہاوس کی خود ماسٹر ہوتی ہے، کوئی بھی قانون شریعت کیخلاف نہیں بنایا جا سکتا،قومی مفاد سب سے بے چارہ لفظ ہے جو پاکستان میں بہت استعمال ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قومی مفاد کا لفظ اسپیکر کے حلف میں کہاں استعمال ہوا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ رولز کے مطابق ا سپیکر ووٹنگ کے علاوہ بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تحریک ایوان میں پیش کر دی جائے تو پھر فیصلہ کیے بغیر خارج نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے مطابق رولز بذات خود کہتے ہیں کہ تحریک کو ووٹنگ کے بغیر مسترد کیا جاسکتا ہے آپ نے کام کی اور بہترین بات کی ہے،بابر اعوان نے کہا کہ میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رکیں مجھے یہ پوائنٹ لکھنے دیں،

    بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 94 کے تحت صدر وزیراعظم کو نئی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں، کہاں لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس نہیں لی جا سکتی؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ نہیں دے سکتا؟ اگر کہیں لکھا نہیں ہوا تو اسے عدالت پڑھ بھی نہیں سکتی، تحریک عدم اعتماد نمٹانے تک اجلاس موخر نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تحریک عدم اعتماد کو ووٹنگ کے علاوہ بھی نمٹایا جا سکتا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ پارلیمانی رولز کو ملا کر اور آرٹیکل 95 کیساتھ ملا کر ہی پڑھا جا سکتا ہے علیحدگی میں نہیں ،فیصلہ عدالت کی اس سائیڈ ہونا ہے یا اس سائیڈ ہونا ہے وہ سائیڈ جیت جائے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاھتے ہیں کہ ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا، بابر اعوان نے کہا کہ جی بلکل اس ساری صورتحال میں ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا،جو کچھ بھی ہوگا اس میں عوام متاثر ہونگے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس لئے آپ کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے حلف میں لکھا ہے کہ جب انہیں سپیکر کا کام کرنے پڑے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، بابر اعوان نے کہا کہ ایک وکیل نے کہا اب چھانگا مانگا نہیں رہا، اب سندھ ہاؤس اور آواری چلے گئے ہیں، جس ادارے کے اندر ہارس ٹریڈنگ کی مشق ہو رہی وہ اصول اور ضابطے بتاتا ہے ذوالفقار علی بھٹوکو آئین دینے کے بعد سولی پر لٹکایا گیا صدارتی ریفرنس اس عدالت میں زیر التوا ہے، بابر اعوان کے دلائل مکمل ہو گئے، بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی چیئرمین نے بھی کہا ہے کہ وہ الیکشن کے لیے تیار ہیں الیکشن کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا،بھارت اور بنگلہ دیش نے ای وی ایم کا راستہ نکالا مگر ہم نہیں مانتے، اگر یہاں سے راستہ بننا ہے تو میں سعادت سمجھتا ہوں کہ اس تاریخ کا حصہ بنوں

    صدر کے وکیل علی ظفر کے دلائل شروع ہو گئے،صدر مملکت نے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے، وہ فیصلہ کرینگے جو عوام کے مفاد اور سب پر ماننا لازم ہوگا، بابر اعوان نے کہا کہ قرآن کریم میں واضح ہے کہ حق سے پھرنے والا تباہ ہو جاتا ہے ،حدیث ہے کہ تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ طاقتور کیلئے قانون اور تھا اور کمزور کیلئے اور، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 69 عدالت اور پارلیمان کے درمیان حد مقرر کرتا ہے، آرٹیکل 69 آگ کی دیوار ہے جسے عدالت پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی اس کیس میں اسپیکر کو بھی پارٹی بنایا گیا ہے،اگر عدالت میں ایک کیس چل رہا ہے تو پارلیمنٹ اس پر تبصرہ نہیں کرتی، عدالت بھی پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف عدالت سے رجوع کرنا پارلیمنٹ میں مداخلت ہے، اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرے کیا تب بھی مداخلت نہیں ہو سکتی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیا غیرآئینی ہے اور کیا نہیں اس پر بعد میں دلائل دوں گا،ایوان ا سپیکر سے مطمئن نہ ہو تو عدم اعتماد کر سکتا ہے،اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لیا تو ا سپیکر کا ہر فیصلہ ہی عدالت میں آئے گا،صدر کے اقدام کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا،اس معاملے کاحل نئے الیکشن ہی ہیں جسٹس مقبول باقر نے اپنے ریٹائرمنٹ پر اداروں میں توازن کی بات کی تھی،باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا جو غیرآئینی ہے،اسپیکر ایوان کا ماتحت ہے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اسپیکر اگر رولنگ دے تو کا ایوان واپس کر سکتا ہے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر اسپیکر ایوان کی بات ماننے سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہاوس اسپیکر کو اوور رول کر سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر کا اقدام تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد کی میعاد ہٹانے کیلئے تھا ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم رولنگ کو نہیں چھیڑ سکتے ،وزیراعظم نے صدر کو تجویز بھیجی اس کو دیکھ سکتے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کو 18 فیصد افراد کے کہنے پر پیش کر دیا جائے تو بھی عدالت اس کو نہیں دیکھ سکتی،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دیا جائے تب بھی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کسی بھی پارلیمنٹ کے معاملے کو نہیں دیکھ سکتی،یہ مقدمہ در حقیقت پارلیمان کے استحقاق میں مداخلت ہے،سپریم کورٹ پارلیمان کے بنائے قانون کو پرکھ سکتی ہے لیکن مداخلت نہیں کر سکتی، اگر پارلیمان میں 10 بندوں کو ووٹ نہ ڈالنے دیا جائے انہوں باہر نکال دیا جائے تو اسے بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ نیا اسپیکر آئے اور دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے، کیا اسپیکر پورے پارلیمنٹ کو بھی ختم کر سکتا ہے،علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر ایسا کر سکتے ہیں، چیف جسٹس صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کا دلائل پر مسکراتے رہے،علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رولنگ واپس نہیں ہو سکتی،

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے استفسار کیاکہ اسپیکر کی رولنگ کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کو ہاؤس ختم کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپکے مطابق اس کیس میں فورم اسپیکر کو ہٹانا تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلہ دے گی تو پارلیمان کا ہر عمل عدالت میں آجائے گا ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان اگر ایسا فیصلہ دے جس کے اثرات باہر ہوں تو پھر آپ کیا کہتے ہیں ،علی ظفر نے کہا کہ عدالت پارلیمان کے فیصلے کا جائزہ نہیں لے سکتی عدالت پارلیمان کے باہر ہونے والے اثرات کا جائزہ لے سکتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہو سکتی ، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آئین کے تحت ہر شہری اسکا پابند ہے،کیا اسپیکر آئین کے پابند نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے،درخواست گزار کہتے ہیں آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، عدالت اختیارات کی آئینی تقسیم کا مکمل احترام کرتی ہے،

    وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہوا تھا،لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایوان کے آئینی انتخاب کو بھی استحقاق حاصل ہے،پارلیمنٹ کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ووٹ کم ہوں اور اسپیکر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہوگا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ پارلیمانی مسائل تو ہو سکتے ہیں لیکن عدالت پارلیمنٹ پر مانیٹر نہیں بن سکتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ سپیکر کی بدنیتی کہاں تھی،اگر اسپیکر وزیر اعظم کو بچانا چاہتا ہے تو اپوزیشن بھی ایسا ہی کرتی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں سیاسی معاملے میں نہیں جاؤں گا عدالت ڈپٹی اسپیکر کی بدنیتی کی بات کر رہی ہے،میں صدر مملکت کا وکیل ہوں ڈپٹی اسپیکر کی بات نہیں کروں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صدر مملکت کے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا نکتہ دلچسپ ہے کہ اسپیکر کی رولنگ غلط ہو تو بھی اسے استحقاق ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام کرتے ہیں کیا آئین شکنی کو بھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی،جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،ہماری کوشش ہے معاملے کو جلد مکمل کیا جائے،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل تک کے لئے ملتوی ملتوی کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پر کل سماعت صبح جلدی کرینگے وزیر اعظم کے وکیل کل30منٹ لیں گے، پٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہا کہ اسی پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو منتخب کیا ڈپٹی اسپیکر نے قوانین کی پروا نہیں کی ڈپٹی اسپیکر اجلاس کو ملتوی نہیں کرسکتا تھا ،جو کچھ ہوا وہ سب ایک پری پلان تھا اسپیکر اورصدر نے جو کیا وہ آئین کی خلاف ورزی ہے،

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد شہباز شریف اسلام آباد سپریم کورٹ میں پہنچ گئے سینئر وائس پریزیڈنٹ مسلم لیگ نون لائرز فورم راولپنڈی ڈویژن چودھری غلام جیلانی منہاس ایڈوکیٹ نے دیگر وکلاء کے ساتھ اپنے قائد کا استقبال کیا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر 3 اپریل کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی