Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پنجاب اسمبلی اجلاس،آج ہو گا یا نہیں؟ کنفیوژن پیدا کر دی گئی

    پنجاب اسمبلی اجلاس،آج ہو گا یا نہیں؟ کنفیوژن پیدا کر دی گئی

    پنجاب اسمبلی اجلاس،آج ہو گا یا نہیں؟ کنفیوژن پیدا کر دی گئی
    نئے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا یا نہیں ایک بار پھر کنفیوژن پیدا کر دی گئی ہے

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے آج شام ساڑھے سات بجے اجلاس طلب کر رکھا تھا، لیکن ترجمان پنجاب اسمبلی نے آج ہونے والے اجلاس کی تردید کر دی ہے ، ترجمان کا کہنا ہے کہ ترجمان نے کہا کہ آج طلب کئے جانے والے اجلاس کو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوا، اجلاس 16 اپریل کو ہی ہو گا۔

    جبکہ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ وکلاء سے مشاورت کے بعد اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شام ساڑھے 7 بجے ہوگا دوست محمد مزاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب بھی آج ہی ہوگا، قائد ایوان کے لیے پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز آمنے سامنے ہونگے۔

    گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک ملتوی کرنے کی منظوری دی تھی، ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایوان میں توڑ پھوڑ کے بعد مرمت کیلئے موخر کیا گیا۔پنجاب اسمبلی کے 6 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہونا تھا۔

    مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز نے ردعمل میں کہا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےعدالت میں کل اجلاس بلانےکا کہا مگر خبر آئی پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک موخر کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے 40 ممبران معطل کر کے اپنے نمبرپورے کرنا چاہتے ہیں پنجاب اسمبلی میں توڑپھوڑ کی جلد انکوائری ہو گی

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کو شہر سے باہر جانے سے روک دیا گیا حمزہ شہباز نے تمام اراکین کو لاہور نہ چھوڑنے کی ہدایت کر دی،اسمبلی سیکریٹریٹ نے ڈپٹی اسپیکر کے احکامات کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پنجاب میں 200 سے زائد ارکان موجود ہیں ان کے پاس 140 ارکان تھے یہ بہانے سے اجلاس کو معطل کرنا چاہتے ہیں ، ہماری اپنے ارکان کی تعداد 162 ہے پاکستان پیپلزپارٹی ، ترین گروپ اور اسد کھوکھر گروپ کے ارکان بھی ہمارے ساتھ ہیں ترین گروپ نے ہمیں سپورٹ کیا ہم ان کا ووٹ بھی کاسٹ کرائیں گے ہمارے ساتھ 4 آزاد ارکان بھی ہیں

    پنجاب اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 371 ہے جبکہ قائد ایوان منتخب ہونے کیلئے 186اراکین کی حمایت ضروری ہے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 183اورمسلم لیگ (ق)کے 10 ارکان ہے تاہم پی ٹی آئی کے ناراض گروپس کے 24ارکان حکومتی امیدوارکو ووٹ نہیں دیں گے مسلم لیگ (ن)کے165، پیپلزپارٹی کے7، راہ حق پارٹی کا 1 اور 1 آزاد رکن نے اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت کااعلان کیا ہے۔ ترین گروپ کے13ارکان،علیم خان گروپ کے9 ارکان اور سابق صوبائی وزیر سمیت 24ارکان نےبھی اپوزیشن کی حمایت کااعلان کیا ہے جس سے اپوزیشن کے نمبرز 198 تک پہنچ جائیںگے۔

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

    عمران خان آپکو شرم تو نہیں آتی،علیم خان پھٹ پڑے، بہت کچھ بتا دیا

  • آئین کی بیحرمتی قابل قبول نہیں:آئین سب سے مقدس اورمقدم:مریم نواز بول اٹھیں

    آئین کی بیحرمتی قابل قبول نہیں:آئین سب سے مقدس اورمقدم:مریم نواز بول اٹھیں

    لاہور:آئین کی بیحرمتی قابل قبول نہیں:آئین سب سے مقدس اورمقدم:مریم نواز بول اٹھیں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اسلام آباد میں 27 مارچ کے جلسے میں دکھائے جانے والے خط کو وزارت خارجہ میں تیار کیا گیا، عمران خان نے جلسے میں کوئی خط نہیں خالی کاغذ دکھایا۔

    مریم نواز نے کہا کہ آئین کی بیحرمتی ناقابل قبول ہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ آئین سب سے مقدس اورمقدم ہے کسی کواس کواپنی مرضی سے تشریح کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں جایا جاتا ہے نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی تو جی ٹی روڈ کا سفر ختم ہو گا منصوبے ختم نہیں ہوئے یہ حکومت کارکردگی لینے کی بجائے جعلی خط لے کر ا گئی میں سوال کرنا چاہتی ہوں کہ خط جس کو چھپا کر رکھا ہوا ہے اس میں جو تحریر ہے وہ بتا دیا کہ اپوزیشن اور ممالک شامل ہیں سازش میں تو پھر خط کیوں نہیں دکھایا وہ خط اسلیے نہیں دکھایا کہ وہ خط سرے سے تھا ہی نہیں جلسے میں خالی کاغذ دکھایا اتنی ہی سازش تھی تو سپریم کورٹ کو خط دکھانا چاہیے تھا چند دن کرسی سے چمٹے رہنے کے لیے آئین پر خود کش حملہ کر دیا آئین توڑنا آپ کے لیے آسان ہے خط دکھانا مشکل ہے اس خط میں کوئی ایسی بات نہیں منسٹری آف فارن افیئرز میں بیٹھ کو اس خط کو ڈرافٹ کیا گیا سیاسی نوک پلک درست کی گئی انکو پتہ تھا کہ خط سامنے آئے گا تو پول کھل جائے گا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وزیراعظم کھڑے ہو کر جھوٹ بول دے اور سب یقین کر لیں اب آپکا تیا پانچہ ہو چکا خط کا ڈرامہ کرنے سے پہلے امریکہ میں ایمبسڈر یاںہائی کمشنر کو راتوں رات وہاں سے نکالا گیا سچے ہیں تو انکو میڈیا کے سامنے پیش کرے اب ڈرامہ کھل رہا ہے اور کھلنے والا ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اعلامیہ میں ذکر نہیں کہ سازش ہوئی تو پھر نیشنل سیکورٹی کمیٹی کو کیوں استعمال کیا کس نے حق دیا کہ وہ فورم جو پاکستان کے سیکورٹی مسائل کو دیکھتا ہے اسکو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا وہ عمران بچاؤ کمیٹی نہیں کوئی اس جھوٹ میں آپکے ساتھ شامل نہیں پاکستان کے ملٹری اداروں کو کہنا چاہتی ہے کہ آئیں اور وضاحت دیں سچائی قوم کے سامنے رکھیں ۔ثبوت میں کیا لے کر آئے وہ تصویریں کہ ڈپلومیٹس سے مریم مل رہی ہے مریم نواز نے عمران خان کی امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا یہ کیا ہو رہا ہے یہ بھی پاکستان کے خلاف سازش تھی ڈپلومیٹ سے جب ملتے ہیں تو ملک و قوم کی بات کرتے ہیں پاکستان کی ترقی کی بات کرتے ہیں قوم کا خوبصورت تشخص دکھاتے ہیں اور آپ ثبوت میں میری اور دیگر تصویریں لے آئے ۔ ایک سروے آئے جس میں کہا گیا کہ عمران کی حکومت کو ہٹانے کی زمہ دار مہنگائی ہے قرضہ تمہارے دور میں بڑھا یہ سازش تھی ڈالر 150 سے کراس کر گیا یہ سازش کس نے کیم چینی کی قیمت 50 سے 120 تک پہنچ گئی یہ کس ملک نے سازش کی بھی کھاد آتا سب مہنگا یہ کس ملک نے سازش کی تین سال تک عوام کا خون نچوڑنے رہے اور اب ڈرامہ شروع کر دیا قوم آپکی مہنگائی کو نہیں بھولے گی عوام جب چینی آٹا خریدنے جائیںبگے تو آپ کو بددعائیں دین گے یہ ہے آپکی اصل حقیقت اور اسکے بعد چند دن اقتدار میں رہنے کے لیے پاکستان کے آئین کو توڑ دیا عدم اعتماد سے بھی گھر جانا تھا

    یہ اسمبلی توڑنے کی طرف کیوں گیے انکو پتہ تھا کہ اپوزیشن میں سے کوئی جماعت ا گئی تو یہ مجھے نہیں چھوڑیں گے انکے کرپشن کے بہت سیکنڈل ہیں پاکستان کا آئین ڈکٹیٹر نے اس طرح نہیں توڑا جس طرح عمران خان نے توڑا گرفتاری سے بچنے کے لیے بکرے کی ماں خیر جب تک منائے گی آئیں توڑ کر آئین کو حوالہ دیتے ہیں ۔سپریم کورٹ میں کیس ہے اور وہاں درخواست گزار اپوزیشن نہیں پاکستان کا آئین ہے آرٹیکل فاءیو کی بات کرتے ہیں وہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ نہیں تھی پاکستان یا کسی ملک کے اندر سپیکر آئین کے تابع ہوتا ہے آئین سپیکر کے تابع نہیں ۔ اگر آئین کے خلاف سپیکر کوئی حکم دیتا ہے تو اسکو پارلیمنٹ کی کاروائی کہہ کر نہیں چھپا سکتے سزا آرٹیکل سکس ہے اب یا تو آدھا پاکستان غدار ہے یا عمران غدار ہے یہ بچوں کے کھیل کی بات نہیں یہاں پاکستان کا آئین ٹوٹا ہے اگر یہاں اب سزا نہ ملی تو آئین کی حفاظت ہم سب کی زمہ داری ہے اگر سزا عمران خان کو نہیں دی گئی تو کل کوئی بھی آئیں کو روندتا ہوا نکل جایے گا اور کوئی پوچھے گا نہیں مگر ساز ش ناکام کر رہے تھے تو ڈپٹی سپیکر نے اسد قیصر کا نام کیوں پڑھا وہ آئے ہی نہیں وہ جانتے ہیں سزا کیا ہے ڈپٹی سپیکر بھی ہوشیار ہیں وہ بھی مجرم ہیں لیکن سب سے بڑا مجرم عمران خان ہے جس نے وہ پرچہ لکھ کر دیا سپیکر کہہ دے کہ آئیں کو نہیں مانتا تو اس پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی سپیکر ایک رولنگ سے آئین کی دھجیاں نہیں اڑا سکتا صدر مملکت کو اسمبلیاں توڑنے کی نہیں آئین پاکستان توڑنے کی سفارش کی گئی

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان عبرت کا نشان ہے جو کہتا ہے کہ دس لاکھ لوگ لاؤں گا دس ہزار لوگ بھی نہیں لا سکتے اگلے دل احتجاج میں کل دس لوگ بھی نہیں تھے اگلا الیکشن اب تم بھول جاؤ بطور غدار چہرہ سامنے لے کر جاؤں گے اپوزیشن بخشے گی نہیں ۔ آئیں توڑنے کا لیبل بھی اب لگوا لیا پہلے نااہلی کا تھا آخری مقابلہ کرنے والے کی اصل شکل یہ ہے کہ اپنے لوگ بھاگ گئے تو گرفتاری کے ڈر سے بھاگ گیا پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا رہا یہ دم دبا کر بھاگا ہے آج آپکی حکومت ختم ہو چکی اور ڈھٹائی سے وزیراعظم آفس پر براجمان ہیں پی ٹی وی کو استعمال کر رہے ہیں آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ پی ٹی وی کو استعمال کریں کس نےہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا حق دیا ایک ایک پائی کا جواب آپ کو دینے ہوں گے راتوں رات فرح کو جو بنی گالہ کی فرسٹ پرسن ہے چیف منسٹر بزدار نہیں فرح تھی قوم کے سامنے اب سب راز آنے والے ہیں ہم الیکشن سے بھاگنے والے نہیں جب سیکورٹی کے بغیر اترے گا سٹیج سے تو قوم ٹماٹروں انڈوں سے استقبال کرے گی

    اب نکلو گے تو پتہ چل جائے گا ۔اب الیکشن میں ضرور جائیں گے پہلے آئین توڑنے والے کا فیصلہ ہو گا عمران خان کو تاریخی شکست دیں گے ۔ راتوں رات فرح کو فرار کروایا تین تین کروڑ کا بیگ پکڑا ہوا ہے وہ کہاں سے آیا ۔کوئی تبادلہ ہوںیا کچھ بھی فرح کو رشوت ملتی تھی اگر اس بات میں سچائی نہیں تو راتوں رات کیوں فرار ہو گئی ان سب کے نام ای سی ایل میں ڈال جایے تمہارے آگے پیچھے کون تھا سب سامنے آئے گا پورے پنجاب میں کام نہیں ہوا لیکن فرح کے گاؤں میں ہوا۔ بنی گالہ میں فرح عمران خان کے کتوں کے ساتھ تصویریں بنا رہی ہے ۔اب کہتے ہیں ہمیں پتہ نہیں تھا کرپشن کیا ہوتی ہے تبادلوں کے کروڑوں لیے گیے یہ سب قوم کے سامنے آئے گا اور جواب لے کر رہیں گے بھاگنے نہیں دیں گے

    مریم نواز کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پنجاب کا گورنر کیوں بدلا آج اجلاس تھا تو روزے میں پانی مانگا جا رہا تھا یہ کیا ہے اب یہ بوکھلا چکے ۔ پوزیشن واضح ہو چکی ہے کسی بھی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے

  • بھارت:مسلمانوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش ناقابل برداشت:مذمت کرتے ہیں:پاکستان

    بھارت:مسلمانوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش ناقابل برداشت:مذمت کرتے ہیں:پاکستان

    اسلام آباد:بھارت:مسلمانوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش ناقابل برداشت ہے ، اطلاعات پاکستان نے بھارتی ریاست راجستھان میں انتہا پسندوں کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ہندو انتہا پسند مقامی سیکیورٹی حکام کی ملی بھگت سے واقعے میں ملوث تھے۔ ریاستی مشینری کی بے حسی بھی اتنی ہی تشویشناک ہے جس نے غیر ارادی طور پر دوسری طرف دیکھا اور اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے اپنے بنیادی فرض میں ناکام رہی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہندوستان میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان خوف و ہراس میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ حالیہ تاریخ تکلیف دہ واقعات سے بھری پڑی ہے جو موجودہ بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف گہری دشمنی کی عکاسی کرتی ہے۔ بی جے پی قیادت کی خاموشی اور ہندوتوا کے حامیوں کے خلاف قابل فہم کارروائی کی عدم موجودگی کو عالمی برادری میں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس کے کارکنوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنی دشمنی پر باز آنے کے بجائے مظالم کو مزید تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ اتوار کو ہریدوار کے بدنام زمانہ پجاری یتی نرسنگھن نے ایک بار پھر ڈھٹائی سے ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اپیل کی۔ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں بھارت میں اسلامو فوبیا کی تشویشناک سطح کا فوری نوٹس لے اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بھارتی حکام پر زور دے اور تمام اقلیتوں کے تحفظ، سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نیپال کے سفیر کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نیپال کے سفیر کی ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نیپال کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان میں نیپال کے سفیر مسٹر تاپس ادھیکاری نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نیپال کے ساتھ طویل مدتی کثیر ڈومین تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔

    نیپالی سفیر نے علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق نیپال کے ساتھ مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ خطے کے پائیدار امن و استحکام کے لیے تمام علاقائی ممالک سے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ نیپالی سفیر نے خطے کے استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

  • آئندہ الیکشن میں عوام امریکہ نوازوں کو نہیں ملک سےوفاداروں کوووٹ دیں:عمران خان

    آئندہ الیکشن میں عوام امریکہ نوازوں کو نہیں ملک سےوفاداروں کوووٹ دیں:عمران خان

    لاہور:آئندہ الیکشن میں عوام امریکہ نوازوں کو نہیں ملک سےوفادارلوگوں کوووٹ دیں:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان مشکل وقت میں ساتھ دینے والے اراکین اسمبلیوں کو دوبارہ ٹکٹ دینے کا اعلان کردیا۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے ایک روزہ دورہ لاہور پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں سوچ سمجھ کر نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دیں گے کیوں کہ ماضی میں غلطیاں ہوئی اور غلطیوں سے سیکھ کر سب سے پہلا فیصلہ سوچ سمجھ کر ٹکٹ دینے کا کیا ہے۔

    عمران خان نے اعلان کیا کہ اگلے تین ماہ میں پاکستان میں الیکشن ہوگا اور آئندہ انتخابات میں جو ایم پی ایز مشکل وقت میں ساتھ ہیں ان سب کو ٹکٹ دیں گے۔

    وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ بہت بڑی بیرونی سازش ہوئی اور باہر سے حکومت گرانے کی سازش میں پاکستان میں موجود غدار بھی شامل ہوگئے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جنہوں نے بیرون لک سازش میں شرکت کی یہ سب غدار ہیں، اس سازش کو شکست دینا ہمارا فرض ہے۔

    وزیراعظم نے بیرونی سازش میں شامل غداروں کو الیکشن میں سبق سکھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک، جمہوریت اور آئندہ نسلوں کے بھی غدار ہیں، ان غداروں کے خلاف ہم سپریم کورٹ گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی باہر کا دشمن حکومت گرانا چاہے تو 15 ارب میں لوگ خریدے اور حکومت گرادے، یہ کیسی جمہوریت ہے؟ اس طرح تو آج ہندوستان فیصلہ کرے تو 10 سے 15 ارب میں حکومت گرادے گا۔

    عمران خان نے ن لیگ کے صدر شہباز شریف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس جس کا پیسہ ملک سے باہر وہ یہی کہیں گے کہ بیگرز آر ناٹ چوزرز، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں عوام ان کو سبق سکھائے گی انکی سیاسی قبر بنے گی۔

  • عمران خان آپکو شرم تو نہیں آتی،علیم خان پھٹ پڑے، بہت کچھ بتا دیا

    عمران خان آپکو شرم تو نہیں آتی،علیم خان پھٹ پڑے، بہت کچھ بتا دیا

    عمران خان آپکو شرم تو نہیں آتی،علیم خان پھٹ پڑے، بہت کچھ بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے سابق رہنما علیم خان پھٹ پڑے ہیں اور انہوں نے عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کئی انکشافات کئے ہیں

    علیم خان کا کہنا تھا کہ چند باتیں قوم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،ایک بہترپاکستان کیلئےعمران خان کاساتھ دینے کا فیصلہ کیا،ہم نے نئے پاکستان کیلئے دن رات محنت کی،میرا کاروبارتھا،حکومت کیخلاف کھڑے ہونا میرے لیے آسان نہیں تھا،عمران خان کے ساتھ دھرنے میں 126دن رہا، دھرنے کے دوران ڈیزل،پانی اور کھانا پہنچانا میری ذمہ داری تھی،غداری کا الزام لگانےوالوں کو کہتا ہوں سب سے زیادہ قربانی میں نے دی،بزدارکووزیراعلیٰ لگانا تھا لگا دیتےلیکن مجھے کیوں نیب کے پاس بھجوایا،ایسی کیا غلطی کی جو 4 مرتبہ نیب میں بلایا گیا ،چوتھی بار نیب دفتر گیا تو خبر ملی عثمان بزدار وزیراعلیٰ بنا دیئے گئے 6 ماہ بعدجب عثمان بزدارکوہ ٹانےکی خبر چلی تومجھے دوبارہ نیب کانوٹس آیا،عمران خان اگر کسی نے علیم خان سے زیادہ قربانی دی ہے تو سامنے لائیں عمران خان کو کہتاہوں اگر سچے ہیں تو آئیں مقابلہ کریں،پنجاب میں کمشنر اور پولیس افسران لگانے کا الگ الگ ریٹ ہے،

    علیم خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پنجاب میں183ممبران ہیں لیکن آپ نے پرویزالہٰی کووزیراعلیٰ نامزد کیا ،ایم این اے کے5ووٹ لینے کیلئے آپ نےپرویزالہٰی کونامزدکیا،پرویزالہٰی کوسب سے بڑا ڈاکو میں نے نہیں آپ نے کہا تھا،مونس الہٰی نے خریدو فروخت کا بازارلگایا ہے،جس کرپشن کی بنیاد پرمجھےجیل میں ڈالا گیاعمران خان اس کےثبوت قو م کو دکھائیں،پنجاب کی بیورو کریسی میں فرح کا کیا کردار تھا اگر آپ میں ہمت ہے تو بولیں چودھری سالک نے پیسے لیے،طارق چیمہ پر بھی الزام لگائیں کہ انہوں نے پیسے لیے 2010سے2018تک تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا رہا،

    علیم خان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کیاجب آپ اپوزیشن میں تھےتوامریکی سفیرسے نہیں ملتے تھے؟اگر آپ کو5سیٹوں کیلئےاتحاد کرناتھا تو پھر تحریک کیوں چلائی،مجھے پنجاب میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامناکرنا پڑا،عدم اعتماد پیش ہونے کے بعدآپ اسمبلیاں نہیں توڑسکتے،ووٹ ڈالنے کے 2منٹ بعد اپنا استعفیٰ پیش کروں گا، خان صاحب عثمان بزدار کی ایک ایک کرپشن کی بات آپ کو بتائی،میرےخلاف اگر ایک ثبوت ہے تو سامنے لائیں ،آپ کو تو شرم نہیں آتی اپنے مخلص دوست کو جیل میں ڈال دیا،آپ نے جہانگیر ترین کی بیٹیوں کے خلاف پرچہ کٹوایا،خان صاحب جہانگیر ترین نے آپ کیلئےدن رات ایک کردیاتھا جب آپ کے ساتھ تھے تومحب وطن اور جداہ وئے توغداربن گئے،بڑا دکھ ہواجس شخص کےساتھ 10سال لگائے وہ قوم کے ساتھ مخلص نہیں جب پنجاب کے 4بیوروکریٹ پکڑے گئے توسب کچھ سامنے آجائے گا،عمران خان کے 2011کے جلسے اور بیگم کلثوم نواز کے مقابلے میں یاسمین راشد کے ضمنی الیکشن کے تمام اخراجات میں نے اٹھائے ،2014کے دھرنے میں کھانا،گاڑیوں کا ڈیزل میں نے دیا،میرے جتنی پی ٹی آئی کے کسی رکن نے قربانی دی تو وہ سامنے آئے فرح بی بی ایک ایک پیسہ خاتون اول تک پہنچاتی تھیں

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

  • نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    شہباز شریف نے وزیر اعظم سے مشاورت کرنے سے انکار کردیا ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے نام کے لئے مشاورت کا حصہ نہیں بنوں گا،ہماری نظریں سپریم کورٹ پر ہیں،آئین توڑنے والوں سے کوئی بات ،مشاورت نہیں ہوگی

    قبل ازیں نگران وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ ، صدر مملکت نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خط لکھ دیا

    خط کے متن میں کہا گیا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک عمران خان بطور وزیراعظم فرائض سر انجام دیتے رہیں گے آرٹیکل 224 اے ون کے تحت نگران وزیراعظم نامزد کیا جائے گا،صدر مملکت ،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم نامزد کریں گے اسمبلی تحلیل ہونے کے3 روز میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر متفق نہ ہوئے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا جائیگا اسپیکر اپوزیشن اور حکومتی اراکین پر مشتمل 8 رکن کمیٹی تشکیل دیں گے جو نگران وزیراعظم کا فیصلہ کریگی

    اگر کمیٹی بھی نگران وزیر اعظم کا فیصلہ کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجوایا جائے گا جو دو روز میں فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا

    واضح رہے کہ قومی اسمبی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

     

  • ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجر بینچ کا حصہ ہیں

    عدم اعتماد کا معاملہ،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے درخواست پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر کی ،سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی

    بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ کی اجازت سے میں گزشتہ روز پیش ہوا تھا آج میں پی ٹی آئی کی طرف سے پیش ہورہا ہوں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کو بعد میں سن لیں گے ،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ میں دوباتیں کرنا چاہتا ہوں اسکی اجازت چاہیے، صدارتی ریفرنس میں 31مارچ کا جو حکم جاری ہوا وہ اہم ہے،عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا،جو کچھ بھی ہوا سب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں ،الیکشن کیلئے تیار ہیں، سارا مسئلہ جلدی الیکشن کا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی بیان ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے سیاسی باتیں نہ کریں ،ہم آج کوئی مناسب حکم جاری کریں گے،ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ساری جماعتوں کے وکلا یہاں موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں سب کو سنیں گے، آپ ہمیں کیس سمجھائیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو بتائیں،اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے،قومی اسمبلی میں جو کل ہوا ہے اُسکا آئینی جائزہ لینا ہوگا۔عدالت نے پیپلز پارٹی کے وکیل کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے 10 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے،عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 95 وزیراعظم پر کسی چارج یا الزام کی بات نہیں کرتا عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ،اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر بھی وزیراعظم والا طریقہ کار لاگو ہوتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دی جب ریکوزیشن قوائد کے مطابق جمع ہو تو 14دن میں اجلاس بلانے کا پابند ہے اسپیکر نے تیرہویں دن اجلاس بلایا ،20 تاریخ تک بلانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ریکوزیشن کے بعد ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ اجلاس 14 دنوں میں بلایا جانا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، 28 مارچ کو ایم این اے کی فوتگی کی وجہ سے دعا کے بعد اجلاس ملتوی کیا گیا،جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کیس ہم نہیں سن رہے،آپ کا کیس وہ نہیں جو آپ بول رہے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں، وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں،کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو ؟کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے؟ کیا 10 مارچ آرڈر آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں؟کیا 10 مارچ آرڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے،50 ارکان کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہوتو کیا تحریک پیش ہوگی؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی نے قرارداد کی اجازت دے کر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چھوڑیں یہ سب، اور مقدمے کے حقائق کی طرف آئیں،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی ضابطہ کارروائی میں یہ درج ہے کہ سپیکر کوئی بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے اب آپ یہ بتائیں کہ اسپیکر نے صحیح کیا یا غلط؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی ،تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے. فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا بحث کی تاریخ مختص نہ کرنے پر اعتراض کیا؟ فاروق نائیک نے کہا کہ ہم تو صرف بٹن دبا سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟

    پیپلزپارٹی وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کر دی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سوال کیا فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت اسپیکر دیتا ہے کہ ایوان ؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے؟ اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا، 27مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بیرونی لوگوں کی سازش کا حصہ ہے،31مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا،اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کر کے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں

    وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے بیرون ملک سے موصول ہونے والے خط پر تقریر کی 31مارچ کو رولنگ میں بھی تحریک پر بحث کا نہیں کہا گیا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی کوشش بھی کی عمران خان نے 27 مارچ کو عوامی جلسے میں ایک کی سازش سے آگاہ کیا تین اپریل کو اجلاس اس لئے بلایا گیا کہ اس دن بحث ہوگی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ رولز میں وہ کونسی پرویژن ہے جس کے تحت اسپیکر بحث کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رول 28 میں ہے کہ اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوجاتا ہے تو اس پر بحث ایوان میں کرانی لازم تھی جو رولنگ دی گئی تھی وہ غیر قانونی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ایسی کوئی رولنگ جو اسپیکر کا اختیار ہے وہ اس پر رولنگ دے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ دینے وقت اسپیکر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رولنگ غیر قانونی ہے،ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے؟ رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات کی منتقلی ایسے ہی ہے جیسے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات ہوں،جس رولنگ کو آپ چیلنج کررہے ہیں آپ کے مطابق وہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات میں نہیں رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، جسٹس مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جب 198 ووٹرز موجود تھے تو پھر کیا ووٹنگ ہونا چاہیے تھی،ایوان میں فیصلہ تو ووٹنگ کے تحت ہونا ہے، فاروق ایچ نائک نے کہا کہ ممبر کیریکٹر پر ایوان میں بات نہیں ہوتی صرف ووٹنگ ہوتی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،قائمقام سپیکر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے،جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 3اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھا،دوسرا کوئی ایجنڈا کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ 198ارکان میں کیا پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے؟ فاروق نائک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے ووٹ تو نہیں ڈالا،اپوزیشن کے 175 ارکان موجود تھے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے، کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد 3 منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نکتے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں؟ اسپیکر کیطرف سے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ اگر ہم سمجھیں کہ دی گئی رولنگ غیر قانونی ہے تو وہ کیوں ؟ اس بارے میں بتائیں .آپ کہتے ہیں کہ ایک بار موشن ایوان میں پیش ہوجائے تو اسکا فیصلہ جو بھی ہو، ایوان میں پیش ہونے کے بعد موشن کے قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا نہیں جاسکتا، آپ کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا یہ موقف یہی ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اسکی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پروسیجرل غلطی آرٹیکل 69 میں کور نہیں ہوگی،پارلیمان کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ وہ کون سی اسٹیج ہے جہاں اسپیکر قرارداد کی ویلیڈیٹی کو دیکھ سکتا ہے ؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ صرف آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی پر۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یعنی آپکے مطابق اسپیکر کے پاس کوئی گراؤنڈ موجود نہیں تھا کہ وہ قرارداد کو ختم کرتے اور انکا یہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے میں درخواست گزاروں سے زیادہ جلدی میں ہے ہم اس فیصلے میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی اور کالعدم بھی، اپوزیشن کو آج ہی فیصلے کا انتظار مگر ان کی وکیل نے عدالتی سوالات پر جواب کیلئے کل تک کی مہلت مانگ لی ،فاروق نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج ہو سکتی ہے، عدالت نے کہا کہ اپنے اس نکتے پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیں،فاروق نائک نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تو مطمئن کر سکتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ وقت مانگ رہے ہیں ہم تو آپ سے زیادہ کام کر رہے ہیں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کا ہے،کوئی عدالتی فیصلہ بتائیں جس میں عدالت نے آرٹیکل 69 کی تشریح کی ہو، آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے،غیر قانونی غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگررولنگ کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو یہ مستقبل میں ہمارے لیے مسائل پیدا کریگا رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا،تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا،محب وطن ہونے اور مذہب کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کو کل تک ملتوی کر دیتے ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس کو عدالت آج مکمل کرے اس پر ملکی اور غیرملکی آنکھیں لگی ہوئی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ رضا ربانی آپ اور مخدوم علی خان کتنا وقت دلائل کے لیے لینگے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ممکن ہوسکے تو کل تک سماعت ملتوی کریں آج ہی سماعت مکمل کرکے آج فیصلہ دیں ایسا ممکن نہیں یہ بڑا حساس معاملہ ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت کل 12بجے تک ملتوی کر دی گئی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات مستقبل پر پڑیں گے،فاروق نائک نے کہا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کو توڑ چکے ہیں اور عمران خان کو وزیر اعظم رکھا گیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اگر اپنے دلائل تحریری کے طور پر دیتے تو 2 گھنٹے میں سارے وکلا کو سن لیتے،ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،

    قبل ازیں اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ عدالت کے سامنے رکھیں گے، جو بھی عدالتی فیصلہ ہوگا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف سپریم کورٹ پہنچ گئے ،ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب بھی شہباز شریف کے ہمراہ تھیں، پی ٹی آئی اور متحدہ اپوزیشن کے رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے

    سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی ڈپٹی اسپیکر رولنگ پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا ہے، عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وکلاء کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا تھا صدر مملکت، سیکریٹری دفاع و داخلہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل سے ازخود نوٹس میں معاونت طلب کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر گذشتہ روز کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز
    اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں تو تختہ دار پر لٹکا دیں پرعدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ دن ملکی تاریخ میں سیاہ دن تھا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا گزشتہ دن تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر لکھا جائے گا عمران خان اور حواریوں نےآئین کی واضح خلاف ورزی کی ،24 مارچ کو اسپیکر نےعدم اعتماد کی تحریک کو جمع کیا اگر اعتراض تھا تو اسے اپنے دفتر میں ہی مسترد کرتے،تحریک کو ہر صورت ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا تھا عمران نیازی کی فسطائی سوچ غالب آئی اور ڈپٹی اسپیکر کو استعمال کیا گیا ،عمران خان اور ٹولے نے گزشتہ روز آئین شکنی کی 24مارچ کو اسپیکر نے عدم اعتماد کو ایجنڈا میں شامل کیا اگر آرٹیکل 5 کے زمرہ میں کوئی چیز آرہی توایجنڈا میں کیوں شامل کیا،24مارچ کو تحریک جمع کراتے وقت اعتراض کیوں نہیں اٹھایا،عمران خان اور ٹولے نے آئین کو توڑا اور جمہوریت کو مسخ کردیا عمران نیازی ،صدراورڈپٹی اسپیکر ماورائے عدالت اقدام اٹھاچکے تھے،عدالت عظمٰی نے کہا کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے،ماورائے آئین اقدام تو وزیراعظم، صدراوراسپیکر اٹھا چکے تھے،چند روز پہلے اٹارنی جنرل نے کہا تھا ووٹرز کو جانے دیں گے،ٹی وی پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ہوگی،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 16مارچ کو امریکا میں سفیر اسدخان نے ڈونلڈ لو کی دعوت کی،دھمکی کے بعد 16مارچ کو دعوت کیوں دی گئی اورشکریہ کیوں ادا کیا گیا ،اگر 7 مارچ کو کوئی میٹنگ ہوئی تو 16 مارچ کی دعوت کا شکریہ کس بات کا؟

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جو ہوا غیر آئینی ہوا 1973 آئین کی بنیاد سیاسی جماعتوں نے رکھا عدم اعتماد جمہوری اور آئینی طریقہ تھا حکومت سے نجات ملنے پر کارکن خوش ہیں ،ہم سب نے ملکر 3ماہ حکومت کا جینا حرام کردیا،ہم جیسی جماعتیں آئین کا دفا ع چاہتی ہیں،ہمیں آئین کوتوڑےجانےپرزیادہ تشویش ہے، وزیراعظم کواندازہ نہیں کہ ہوا کیا ہے ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی غیر آئینی کام کیا جائے عمران خان نے دباو میں آکر سیاسی خود کشی کرلی،وزیراعظم خود اگر استعفیٰ دیتے تو آئینی ہوتا،اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر نے عمران خان کی انا کو سنبھالا حکومت گئی تو وزیراعظم جشن منا رہے ہیں،ذوالفقارعلی بھٹو کو آج تک انصاف نہیں مل سکا،یہ قائدِ عوام کی عظمت کا ثبوت ہے کہ ان کے بدترین مخالفوں کو بھی عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیئے ان کے نام کے پیچھے چھپنا پڑتا ہے یہ قائدِ عوام تھے، جنہوں نے تختہ دار پر چڑھ کر دنیا کو ایک پیغام دیا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ آئین کا تحفظ یقینی بنائے،معاملے پر فل بینچ تشکیل دیا جائے اور جلد فیصلہ سنایا جائے،عدم اعتماد تحریک کا عمل مکمل ہونا چاہیے عدالت کا فیصلہ طے کرے گا کہ کیا آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ؟ اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں، تو سزا دیں عدم اعتماد کا سلسلہ تو مکمل ہونے دیں جمہوریت چلنے دیں،عدلیہ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی اگر ہمیں سزا دینی ہے دے دیں تختہ دار پر لٹکانا ہے لٹکا دیں پر عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں یہ پاکستان کے آئین کا معاملہ ہے ہم نے ثابت کیا کہ اپنے ووٹوں سے عمران خان کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان اپنے ووٹوں کی طاقت سے ہم آپ کو الیکشن میں بھی شکست دیں گے،

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسد الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے197 افراد کو غدار کہا جاتا ہے اگر پارلیمنٹ کو اس کا حق واپس نہیں دیا جاتا تو پھر یہ فیصلہ گلی گلی میں ہوگا کہ کون غدارہےاورکون وفادار ہے سپریم کورٹ پارلیمان کو اس کا حق واپس کرے پارلیمان فیصلہ کرے گی کہ کون غدار ہے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھرافرا تفری پید اہو گی اور گلی گلی میں فیصلہ ہوگا کہ کون غدارہے اورکون وفادارکل ڈپٹی سپیکر نے جس طرح آئین کو توڑا اس نے آئین کی کئی شقیں معطل کرنے کی کوشش کیں

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے شکست سے بچنے کے لیے سیاسی خود کشی کرلی عمران خان بیانیہ بنا چکے ہیں کہ انکے خلاف عالمی سازش ہورہی ہے، سازش ہورہی ہے تو ایک کمیشن بنائیں اور سچ ثابت کریں ،میں آپکے ساتھ ہوں،اگرعمران خان جھوٹ سڑکوں پر لیکر آئیں گے تو ہم اپنا سچ لیکرآئیں گے الیکشن میں ہم سے 14 سیٹیں جیتیں وہ عمران خان نے ہم سے چھینی تھیں ہم نے عمرا ن خان سے حکومت چھین لی ہے،

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان نےآئین سے کھلواڑ کیا ،عمران خان خط کو عدالت میں پیش کریں جاننا چاہتےہیں کون سی سازش عمران خان کے خلاف ہورہی ہے،

    واضح رہے کہ قومی اسمبی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

  • پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا
    گورنرپنجاب عمرسرفرازآج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے

    گورنرپنجاب وزیراعظم سےآئندہ کےلائحہ عمل سے متعلق رہنمائی لیں گے گورنرپنجاب پارٹی کےآئندہ اجلاسوں میں بھی شریک ہوں گے ،باخبر ذرائع کے مطابق ملاقات میں پنجاب اسمبلی توڑنے سے متعلق فیصلے کا امکان ہے، پنجاب کے بعد خیبر پختون خواہ اسمبلی بھی تحلیل کیے جانے کا امکان ہے

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نےعثمان بزداراورمحمودالرشید کواسلام آباد بلا لیا ،پنجاب کے سیاسی بحران میں ممکنہ آپشنز پر مشاورت ہوگی ،محمودالرشید پنجاب کی نمبرگیم سےمتعلق بریف کریں گے ، عمران خان نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں پارٹی کی سینئر قیادت شریک ہوگی ،اجلاس میں عمران خان آئندہ انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے اہم ہدایات دیں گے

    گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا
    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ 43 سال گزرنے کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو ملک کی سیاست کا مرکز ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں،ذوالفقار بھٹو ایک ایسی تاریخ ہیں، جس کو کوئی بھی مٹا نہیں سکتا آج پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت ذوالفقار علی بھٹو کے آئین کے بدولت ہے، افسوس ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے آئین کی مسلسل بے حرمتی کی ہے، اپنی کرسی بچانے کے خاطر ملک میں سنگین آئینی بحران پیدا کر دیا گیا آئین پاکستان کی خلاف ورزی سب سے بڑا جرم ہے، حکومت نے آئین کے ساتھ جو بے حرمتی کی وہ ناقابل معافی جرم ہے،

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    https://login.baaghitv.com/480049-2shehbaz-sahreef-ki-hazri-say-sastsna-ki-darkahaat/