Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • غلط اطلاعات اورپروپیگنڈے سے قومی ہم آہنگی متاثرہوتی ہے،آرمی چیف

    غلط اطلاعات اورپروپیگنڈے سے قومی ہم آہنگی متاثرہوتی ہے،آرمی چیف

    غلط اطلاعات اورپروپیگنڈے سے قومی ہم آہنگی متاثرہوتی ہے،آرمی چیف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور کا دورہ کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہورکے دورے کے دوارن ایس ایچ 15آ رٹیلری گنزکی شمولیت کی تقریب میں شرکت کی ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسٹیٹ آف دی آرٹ ویپنزسسٹم کی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے ہتھیاروں کی شمولیت سے مستقبل کے جنگی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور جدید ترین گنز کی شمولیت سے رینج، نقل وحرکت ،آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعدازاں آرمی چیف نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کا بھی دورہ کیا ، آرمی چیف کی لمزآمد پر وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد ملک نے استقبال کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لمز کے اساتذہ اور طلبا سے تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی قومی قیادت تیار کرنے میں لمز کے کردار کو سراہا۔

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1503627570599927809

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان باصلاحیت نوجوانوں کی دولت سے مالامال ہے، انسانی وسائل کی ترقی جدت،ٹیکنالوجی، ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے غلط اطلاعات اورپروپیگنڈے سے قومی ہم آہنگی متاثرہوتی ہے، ایسی سازشوں کی نشاندہی کرکے مشترکہ ردعمل دیا جانا چاہیے

    وزیراعظم کا ایف سی اہلکاروں کی تنخوا ہ میں 15 فیصد اضافے کا اعلان

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

  • عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    پی ڈی ایم کے سربراہ اور چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ 10 لاکھ لوگ اکھٹے کرلیں گے-

    باغی ٹی وی : نجی ٹیو یو چینل کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد سمیت معروف ٹاک ٹاکر حریم شاہ اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے-

    پروگرام میں سینئیر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ اگر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو کوئی گارنٹی چاہیئے یا کچھ چاہیئے تو سب مولانا فضل الرحمان کے پاس آتے ہیں کو ئی مانے یا نا مانے اس وقت پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کے طور پر ابھر کر آگے آئی ہے –

    پروگرام میں مولانا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے عزت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے-

    میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک چلے گی؟ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک رہنے والی بات تو رہی نہیں جب عدم اعتماد کی تحریک اسپیکر کے پاس جا کر جمع ہو جاتی ہے تو پھر ان کے اپنے قوانین و ضوابط ہیں کہ آپ کتنے دنوں کے اندر اندر نہیں لاسکتے ہیں اور کتنے دنوں کے اندر لانا لازمی ہے اس کا تعین بھی ہمارا آئین ہی کرتا ہے قانون اور رول اینڈ ریگولیشنز بھی کرتے ہیں اور اس وقت ہم نے ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے اس کی مدت کا تعین ہے کتنے دنوں کے اندر ریکوزیشن جمع ہو نے کے بعد اجلاس بلانا ہوتا یے اس حوالے سے فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے وہ کس وقت اجلاس بلاتے ہیں ظاہر ہے یہ تحریک ہم نے پیش کی ہے تو ہماری سو فیصد توانائیاں اس پر صرف ہوں گی کہ وہ ہر قیمت پر کامیاب ہو سکے-

    10 لاکھ لوگ حکومت اور اپوزیشن بھی لوگوں کو ڈی چوک پر بلارہے ہیں کیا ہم انارکی کی طرف کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہیں ؟

    اس سوال کے جواب میں مولانا فضل ا لرحمان نے کہا کہ یہ بات تو ان کو نہیں کہنی چاہیئے تھی لیکن عمران خان کو شائد گھمنڈ ہے کہ شاید میں 10 لاکھ لوگ لا سکوں گا کیا 10 لاکھ لوگوں کے اکٹھے ہونے سے حالات پر اثر انداز ہو سکے گا کیا ٹرمپ نے اپنی ووٹنگ کے دن امریکا میں لاکھوں لوگوں کو اعلان نہیں کیا تھا کیا وہ کامیاب ہو گیا تھا پھر لوگوں کی رائے بدل گی ووٹ گننے والے دباؤ میں آگئے مرعوب ہو گئے ایسی صورتحال نہیں ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عمران خان ہر صورت کوئی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اگر تو بات رہی پبلک کی تو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے بھی عوام کو اور اپنے کارکنوں کومتاثرہ طبقات کو جو اس وقت پاکستان کی نااہل حکومت کی وجہ سے برے حالات بھوک اور مہنگائی کا شکار ہیں اور بچوں کی فیسیں اور بجلی کا بل نہیں ادا کر سکتے یہ ساری چیزیں اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں تو اگر ہم نے بلا لیا لوگوں کو تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہاں پر کوئی کنٹرول کر سکےگا-

    مولانا فضل الرحمان نے مبشر لقمان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرف سے بھی ہمیں انارکی کی طرف نہیں جانا چاہیئے اگر ہم اس طرف جانا چاہتے تو پھر ظاہر ہے آپ کو پتہ ہے ہماری ترجیح تو یہ تھی کہ ہم استعفے دے کر ایوانوں سے نکل آئیں لیکن پھر بھی چند دوستوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ہمارا جمہوری اور آئینی راستہ ہے عدم اعتماد کا اس کو اپنانا چاہتے ہیں جب ہم نے ان کو اپنا لیا ہے تو حکومت بھی اسی محاز پر مقابلہ کریں ا نارکی کی طرف تو انہوں نے اشارات دیئے ہیں اور اگر ملک میں حالات ایسے خراب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے بھی کچھ چھوڑا تو نہیں ہے یا پھر کچھ بچا کھچا ہے امکان ہے کہ آنے والے لوگ سنبھال سکیں گے تو اس کا خیال ہے وہ بالکل نہیں سنبھال سکیں گے-

    مبشر لقمان نے سول پوچھا کہ یہ نارمل الیکشن نہیں ہیں اس میں ووٹ اسپیکر نے گننے ہیں اسپیکر نیشنل اسمبلی کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ تو حکومت ک سا ئڈ لے چکی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے ووٹوں کو گننا نہیں وہ ڈس کوالیفائی کرلیں گے-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں کرسکتا اس قسم کے جبر سے اسمبلی ختم ہو جائے گی پوری اپوزیشن کے ساتھ آپ نے یہ کھیل کھیل لیا تو پوری اپوزیشن استعفے دے دے گی نہ آپ کی پبنجاب اسمبلی نا وفاق میں قومی اسمبلی رہ سکے گی آپ کے آدھے سے زیادہ لوگ مستعفی ہو جائیں گے ملک کا نظام کیسے چلائیں گے یہ حماقت کبھی بھی اسپیکر نہیں کرے گا –

    ایک سوال کے جواب میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنا بھی مذاق ہے باہر کے اشاروں پر اس طرح کے کام کرنا جو ہم کر رہے ہیں یہ بھی کہنا مذاق ہے تو مذاق کے ذریعے سے تو سیاست نہیں کر سکتے غیر سنجیدہ ہو کر جو چاہو کہہ دو کسی کے بارے میں گالیاں دے دو یہ روش ایک نارمل انسان کی نہیں ہوا کرتی عمران خان ایک نارمل حثیثت بھی کھو چکے ہیں اور ایسے ایسے گفتگو ان کی زبان سے نکل رہی ہے جو ایک شریف انسان کی نہیں ہو سکتی-

    سوال کہ آپ کو کتنی امید ہے کہ جو اتحادی ہیں حکومت کے وہ آپ لوگوں کے ساتھ عنقریب مل جائیں گے؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چیزیں ہیں ایک ہے ان کی اتحادی حکومت کی کرگردگی سے مطمن ہو اور وہ چاہتے ہوں ہم حکومت سے وابستہ رہیں اور دوسرا یہ کہ وہاں سے بالکل اطمینان ختم ہو چکا ہے لیکن نئے اتحاد کی طرف آنا اور اپوزیشن سائیڈ پر ایڈجسٹ کرنا اعتماد حاصل کرنا میرے خیال میں اصل پہلو یہی ہے ادھر سے میرے خیال میں وہ 100 فیصد کٹ چکے ہیں اور کسی قسم کا ان کا وہاں پر اعتماد والی کیفیت نہیں رہی ہے اور مایوسی کی آخری حدود تک پہنچے ہیں –

    انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آپ ق لیگ پیر پگاڑا کی جماعت یا ایم کیو یم کی بات کریں یہ سب مجھے مل چکے ہیں ور ان سب کے خیالات و احساسات سے میں واقف ہوں اور اب یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ آ کر ملیں گے تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو بہت سے لوگوں کے تقاضے مطالبات ایڈجسٹمنٹ کے لئے کچھ شرائط چھوٹی موٹی سامنے آتی رہی ہیں میرے سامنے تو ایسی صورتحال نہیں میں کسی کو وزارت دوں اپنے صوبے میں تو میرے پاس اتنی تعداد نہیں کہ کسی کو کہوں منسٹر وزارت دوں گا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اور سندھ میں پی پی کی اپوزیشن ہے اگر ان سے کوئی رابطہ ہو اور ایسی بات یوئی تو میں نہیں کہہ سکتا میرے سامنے ایسا نہیں ہوا .

    مشر لقمان نے پوچھا کچھ تو ناراض اراکین کو وعدہ کیا ہو گا نا پی پی نے مسلم لیگ ن نے جے یو آئی نے؟ مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے ایک مرتبہ ہم نے نئی حکومت بنانی ہے اس میں ہم شامل ہوں گے نئے لوگ آئیں گے ہم نے بھی تو حکومت میں آنے کے بعد وزارتیں دینی ہیں بغیر وزارتوں کے نظام نہیں چلتا تو کچھ آپ کے نئے آنے والے لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں-

    مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ک جہانگیر خان ترین یا علیم خان ہوں یہ ایک مستقل جماعت نہیں ہیں پی ٹی آئی کا حصہ ہیں ہم نے پی ٹی آئی کی حلیف جماعتوں کی بات کی ہے دونوں میں فرق تو ہے اور اس اعتبار سے اگر کسی اور جماعت سے ان کے روابط ہوں ہماری اپوزیشن کی لیکن میرے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں میں اس پر کوئی تبصریہ نہیں کر سکتا-

    اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنی حکومت پر اعنبار نہیں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جو مجھے معلومات ہیں جو مجھے رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے ان کی اپنی صفیں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں بس ایک یا دو وزیر ان کے دفاع کی کوشش کرتے ہیں -مولانا فض الرحمان نے کہا کی جو بھی شکل ہے اس کی بس دو تین ایسے ہیں جو گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسی لیڈر کی زبان ہو گی پیرو کاروں کی بھی وہی زبان ہو گی گالیاں دیں گے یہ بوکھلاہٹ ہے اس بوکھلاہٹ کا کوئی فائدہ نہیں-

    مبشر لقمان نے پوچھا کی آپ نے کہا عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟

    چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کی ایک سوال جو میں تقریباً دس بارہ سال سے اٹھا رہاہوں آپ اس کے ثبوت آج مجھ سے پوچھ رہے ہیں پہلے تو مجھے آپ جیسے باخبر آدمی سے توقع نہیں تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر میں کافی کہہ چکا ہوں اور اب تو ہر مخالف وہ ہی باتیں کر رہا ہے مجھے زیادہ تر نہیں کہنی پڑ رہیں باقی لوگ اب اس کے لئے کافی ہو گئے ہیں کہ کس طریقے سے ان کے جو امریکا کے جے کیسنجتر جس زمانے میں ہمارے خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے تھے اس میں گواسمتھ بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہمارے لونڈے کا خیال رکھا کرو اس زمانے سے ہم جانتے ہیں پھر کہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آرہا ہے کس کے کہنے پر ہو رہا ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن کے فورا بعد ایک وفد مجھے ملا اس نے مجھے کہا کہ ہم دو تین سال سے آپ کی تقریر نوٹ کر رہے ہیں آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں کیا ہم نے صحیح نوٹ کیا ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے صحیح نوٹ کیا ہے-مولانا کے مطابق میری اس بات پر وفد نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں آپ نے صحیحح نوٹ کیا-اس پر مبشر لقمان نے بھی انکشاف کیا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا-

    مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ووٹ دو اور کھڑے ہو جا ؤ یہ ان کا(عمران خان) ایک آئینی حق ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے اگر فارن فنڈنگ کیس کی پٔزیشن یہ ہے کہ اگر الیکشن میں اس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو ملک پاک ہو جاتا ہے ایک گند سے ایک ایسی پارٹی سے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا الیکشن کمیشن کس مصلحتوں کا شکار ہے کہ اتنے بڑے جرم پانامہ کا کیس ایک دم آتا ہے اور ایک دم آپ حکومت سے شخص کو نااہل کر کے باہر کر دیتے ہیں ایک کیس پڑا ہوا ہے اس کا مدعی دندنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں گھر کے اندر سے گواہی دے رہاہوں گھر کے اندر سے گواہ تو بڑا زبردست قسم کا ہوتا ہے تو وہاں پر ہمارا ایک بڑا ادارہ جس کے پاس یہ کیس ہے وہ کیوں انصاف کے تقاضوں کو موخر کررہا ہے میرے سمجھ نہیں آ رہا-

    ایک سول کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر عمران خان مصالحت کے لئے رابطہ کریں گے تو یا تو بُری چیز ختم کر دی جانے چاہیئے یا پھر مٹ جانا چاہئئے اور یہ بھی ایک بُری چیز ہے اس کا بھی نام و نشان مٹ جانا چاہیئے اس کو فنا ہو جانا چاہیئے-

    مبشر لقمان نے کہا کہ اسلامی ریاست ہو نے کے باوجود مولوی لوگ پاپولر ووٹ کیوں نہیں لےسکتے ؟

    جس پر مولانا نے کہا کہ یہ ایک لمبی بحث‌ ہے میں علماء کو کہتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو انبیا ء کے وارث سمجھتے ہیں اگر انبیا کی وراثت محراب کا مصلہ ہے تو اس پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی اگر ممبر رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت ہے تو وہاں پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی تو پھر سیاست بھی منصب انبیا ہے ار اس سیاست کے منصب پر علما اکرام کو کیوں کہا جاتا ہے اگر سیاست شریعہ ہو انبیا کی سیاست ہو آج بھی اس کے اصل وارث علما اکرام ہیں لیکن پھر یہ ہمیں خود عالم کو سوچنا ہو گا کہ ہم نے عام آدمی کو اس حوالے سے مطمن کیوں نہیں کیا –

    انہوں نے کہا کی عام آدمی بہتر معشیت مسائل مشکلات کا حل چاہتا ہے ظلم سے نجات حاصل کرنا چہاتا ہے تھانے کچہری کے ظلم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں آپ انتخابی سیات کرتے ہیں اور آپ کا ناقابل اجر کام ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی فضیلت بیان کی ہے اس کام کی لیکن شاید ہم اس طرخ سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں آج جمیعت علما اسلام کے ساتھ جو وابستہ علما ہیں 4 سے 5 لاکھ علما اکرام ہیں وہ عوام میں جاتے ہیں اگر جو ن لیگ کی پی پی کی بات کرتا ہے عوامی حوالے سے اس طرض جے یو آئی کی بھی بات کرتا ہے اس پر ہم نے کام کیا ہے بڑی محنت کی ہے پورے پاکستان کے مکاتب فکر کے ساتھ رابطے میبں ہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں ہم نے پاکستان کے ساتھ جمہوری نظام کے ساتھ رہنا ہے –

    عمران خان کو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ عوام کا منتخب نہیں ہے ایک بدترین قسم کی دھاندلی کی گئی 25 جولائی 2018 کوجو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے وہ فوری مسعفی ہوں اور قوم کا مینڈینٹ اور امانت واپس کریں اگر نہیں کریں گے تو اس کے خلاف ہم ڈٹے رہیں گے-

    انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت پولیس مہیا کر سکتی ہیں؟ اگر میرے رضا کار نہ ہوں تو پھر جھوٹ بولا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں رضا کار آ گئے 10 رضا کر آئے جن کا گیٹ پاس بنا باقی واپس چلے گئے ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-

    لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-

    انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے ہوو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی –

    انہوں نے مزید کہا کہ پھر آدھے گھنٹے کے اندر اند رمیں پہنچا ار پورا ملک جام ہو گیا پھر جا کر یہ نیچے آئے انہوں نے جو بدمعاشی کی ہے جو قانون توڑا ہے ریاست دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے مجھے اس پر احتجا ج ہے کہ میرے ساتھ بات کس بنیاد پر کرتے ہیں منہ بنا کر بات کر دینا دہشتگرد یہ اور وہ اس قسم کی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو ہم تم سے لاکھ درجے بہتر شریف اور آئین کے تابع اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں تمہیں تو آئین کی سمجھ ہی نہیں قانون کی سمجھ ہی نہیں جہاں ایک بنیادی انسانی شرافت کی جگہ نہیں ہم پر بات کر رہے ہیں-

  • پرویزالہیٰ کو وزیراعلیٰ بنانے کی مخالفت کون کر رہا؟ سب پتہ چل گیا

    پرویزالہیٰ کو وزیراعلیٰ بنانے کی مخالفت کون کر رہا؟ سب پتہ چل گیا

    پرویزالہیٰ کو وزیراعلیٰ بنانے کی مخالفت کون کر رہا؟ سب پتہ چل گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہے

    ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں، کون حکومت کا ساتھ دے گا کون اپوزیشن کا ، کچھ واضح نہیں پھر بھی سب کچھ واضح نظر آنا شروع ہو گیا ہے، اتحادیوں کے فیصلے انکے رویئے سب نظر آ رہے ہیں اپوزیشن کی بھی ملاقاتیں حکمرانوں کو کچھ پیغام دے رہی ہیں اور وزیراعظم کرسی بچانے کے لئے ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں

    سیاسی ملاقاتوں کا سلسلے کی کڑی سامنے آئی ہے، چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی سے پی ٹی آئی رہنما یار محمد رند کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں چودھری سالک،چودھری حسین الہٰی اور صوبائی وزیر عمار یاسر بھی شریک تھے ملاقات میں بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر برییگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ چوہدری برادران کی رہائش گاہ پرپہنچ گئے ،چوہدری پرویزالہی اورمونس الہی سے اعجاز شاہ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی صورتحال اوراتحاد کے امورپر بات چیت کی گئی،چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سیاسی صورتحال پر مسلسل مشاورت سے گزر رہے ہیں،

    دوسری جانب مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان دوریاں بڑھنے کی وجہ سامنے آگئی مسلم لیگ ق کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،ق لیگ کا کہنا ہے کہ عمران خان سے دوریاں ان کے رویہ کی وجہ سے بڑھیں،عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد کوئی رابطہ ہی نہیں رکھا، عمران خان اگر اقتدار سے گئے تو اپنے رویہ کی وجہ سے جائیں گے، عمران خان کا جلسے کرنا اور ایسے الفاظ استعمال کرنا مناسب بات نہیں،کون سی حکومت کو پاور شو کی ضرورت ہوتی ہے،آصف زرداری نے کہا پرویز الہی ٰکو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں،آصف زرداری نے واضح کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ بنا دیں،پی ٹی آئی اور ن لیگ کے اندر کے لوگ پرویز الہٰی کو وزیر اعلی ٰبنانے کی مخالفت کر رہے ہیں،

    دوسری جانب حکومت نے اتحادیوں سے رابطوں کا ایک اور دورشروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومتی شخصیات (ق) لیگ، ایم کیوایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے دوبارہ رابطے کریں گے وزیراعظم کی پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے اور حکومتی شخصیات کی جانب سے دونوں کی ملاقات کرائے جانے کا امکان ہے جس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ آج حکومتی شخصیات دوبارہ مسلم لیگ (ق) سے رابطہ کریں گی۔

    قبل ازیں وفاقی وزیر،ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی کا تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، عون چوہدری نے علی ترین اورمونس الہٰی کی ٹیلی فون پر بات چیت کرائی جس میں وفاقی وزیر نے علی ترین سے ان کے والد جہانگیر ترین کی خیریت دریافت کی جب کہ دونوں کے درمیان ملکی سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    زرداری اور بلاول لوگوں کوخریدنے سے باز رہیں گے تو بہترہوگا ،قریشی

    تحریک انصاف کا ڈی چوک پر جلسہ، تاریخ کا اعلان ہو گیا

    تحریک انصاف حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہورہی،مریم اورنگزیب

  • بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے گرفتار سینئر صحافی محسن بیگ کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی ہے

    اے ٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کی ضمانت منطورکرلی اے ٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کو 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا ، اسلام آباد کے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، محسن بیگ کو مچلکے جمع کروائے جانے کے بعد آج رہا کیا جا سکتا ہے

    محسن بیگ کو پولیس نے گھر سے گرفتار کیا تھا محسن بیگ اسوقت جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں محسن بیگ کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج ہے محسن بیگ کیخلاف درج مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں بعد ازاں گرفتاری کے بعد ناجائز اسلحہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اس مقدمہ میں محسن بیگ کی ضمانت ہو گئی تھی آج دوسرے مقدمے میں بھی ضمانت ہو گئی ہے

    محسن بیگ کو جب گھر سے اٹھایا گیا تھا اسکے بعد ان پر تھانے کے اندر بہیمانہ تشدد کیا تھا، گرفتاری کے بعد پولیس نے محسن بیگ کے گھر پر بعد میں بھی چھاپے مارے تھے، حکومتی وزرا نے محسن بیگ کو ایک دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم اسلام آباد سمیت ملک بھر کی صحافی برادری محسن بیگ کے ساتھ کھڑی رہی اور حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا،

    آن لائن نیوز ایجنسی اور روزنامہ جناح کے ایڈیٹر انچیف محسن جمیل بیگ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت منظور ہونے پر جناح بلڈنگ کے باہر صحافی کمیونٹی کا احتجاجی کیمپ کے اختتام پزیر ہونے پر اظہار تشکر کیا، جڑواں شہروں کے صحافیوں سمیت پی ایف یو جے ،آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ،خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا پاکستان کی معزز عدالتوں کی غیر جانبداری پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، محسن جمیل بیگ کے تمام کیسز پر فیصلے حق و سچ کی دلیل ہے ، حکمران جماعت نہ صرف آزادی اظہار پر پابندی لگا رہی ہے بلکہ عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین رہی ہے حکومت وقت جان لے کہ ہم سچ لکھتے رہیں گے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کرنا ہمارا فریضہ ہے عمرانی حکومت جان لے آزادی صحافت پر پابندیاں لگانے سے حق و سچ کی آواز بند نہیں کی جا سکتی۔ صحافیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کریں پیکا ایکٹ آرڈیننس واپس لے ۔صحافیوں کو آئین اور قانون کے مطابق ہمیں آزادی اظہا رائے کا حق دینا چاہئے۔

    چیف ایڈیٹر جناح / آن لائن محسن جمیل بیگ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت منظور ہونے پر ورکرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے لگائے جانے والے احتجاجی کیمپ کے اختتام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے پر صدر آر آئی یو کے عابد عباسی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافتی تنظیموں کا محسن جمیل بیگ کی گرفتاری کے خلاف لگائے گئے کیمپ میں کردار مثالی رہا اور صحافیوں نے یکجہتی کی مثال قائم کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ صحافی زندہ ہے اور یہ ثابت کیا کہ ریاستی جبر و ظلم کے ضابطے اور حکومت کے کالے قوانین کسی صورت قبول نہیں پیں صدر نیشنل پریس کلب انور رضا نے کہا ہے کہ محسن جمیل بیگ کی ضمانت منظور ہوگئی ، ریاستی جبر ہار گیا،معزز عدلیہ کا کردار ناقابل فراموش ہے،صحافی برادری بائیس روز کے احتجاجی کیمپ میں دن رات بیٹھے رہے دلی مبارکباد پیش کرتا ہون ورکرز ایکشن کمیٹی کی استقامت لائق تحسین ہے۔

    اس موقع پر گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح و آن لائن شمشاد مانگٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محسن جمیل بیگ شیر صحافت ہیں ، جسطرح تمام کیسز کے متعلق معزز عدالتیں غیرجانبداری سے فیصلے سنا رہی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کے اندر عدالتوں کی عملداری بہترین انداز میں ہورہی ہے ، جناح آن لائن وکرز ایکشن کمیٹی بھی مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے 22 دن بلا ناغہ احتجاجی کیمپ کو آباد رکھا ہے اس موقع پر سیکرٹری آر آئی یو کے طارق علی ورک نے کہا ہے کہ کہ اپنے شعبہ میں ہم نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ عوام کے حقوق کے حق میں لکھتے ،محسن جمیل بیگ کی رہائی تک احتجاجی کیمپ لگائے رکھنے کا عہد وفا کیا ہے مستقبل میں بھی صحافیوں کے خلاف حکومتی و ریاستی جبر کے خلاف کھڑے رہیں گے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے صحافیوں پر الزامات لگائے ہیں کہ پیسے لیکر خبریں دینے ہیں لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ ثبوت دیئے جائیں انہوں نے کہا کہ محسن جمیل بیگ نے ثابت کیا کہ حکومت کے ظلم اور جبر کے خلاف کیسے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے ۔

    اس موقع پر اظہار تشکر کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن سمیع ابراہیم نے کہا ہی کہ حکومت وقت اپنے تمام سرکاری وسائل لگا کر صحافیوں کی آواز بند کرنا چاہتے ہیں جو کہ ہمارے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے، محسن جمیل بیگ کی آج کی ضمانت سے ثابت کر دیا ہے ہماری معزز عدالتیں بغیر کسی دباو کے اپنا کام کر کر رہی ہے ، حکومت اپنے اور تنقید برداشت کرے انہوں نے جناح آن لائن وکرز ایکشن کمیٹی کے تمام ممبران کو مبارکباد پیش کی ،

    اس موقع پر پی آر اے کے صدر صدیق ساجد نے کہا ہے کہ تمام صحافی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ محسن جمیل بیگ اور جناح آن لائن ورکرز ایکشن کمیٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، صحافت کی آواز نہیں دبائی جا رہی بلکہ ریاست کے عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے ، آواز کو ہر ڈکٹیٹر نے بند کرنے کی کوشش کی مگر حق و سچ کو کون دبا سکتا ہے ۔

    اس موقع پر نائب صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نہ صرف صحافیوں اور اظہار آزادی رائے کا گلہ دبانے کی کوشش کی ہے بلکہ بے چاری عوام کے ساتھ بھی ظلم عظیم کیا ہے جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر اقتدار میں لائے تھے عوام دو ٹائم کے نوالے کو ترس رہے ہیں ، حکومت کا صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے کالے قانون کسی صورت قبول نہیں ہیں تحریک کا اختتام نہیں صحافیوں کے حقوق کی جنگ جاری رہے۔

    سینئر صحافی غلام مرتضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بھی دوسری ڈکٹیٹرز کی طرح اپنے منطقی انجام کو پہنچنے جا رہا ہے جناح آن لائن ورکرز ایکشن کمیٹی اور صحافی تنظیموں کا احتجاج کیمپ 22 روز جاری رہا سب مبارکباد کے مستحق ہیں اور صحافیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ صحافت زندہ ہے،جب سے یہ حکومت برسر اقتدار آئی بے روز گاری ،صحافت پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی گیی اور پیکا جیسے کالے قانون کے ایکٹ میں ترمیم کر کے آرڈیننس جاری کیا گیا جو کہ قابل مزاہمت ہے ۔

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    ایس ایچ او کے کمرے میں ایف آئی اے نے مجھے مارا،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    آخر ریحام خان کی کتاب میں ایسا کیا ہے جو قومی ایشو بن گیا،حسن مرتضیٰ

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

  • تحریک انصاف کا ڈی چوک پر جلسہ، تاریخ کا اعلان ہو گیا

    تحریک انصاف کا ڈی چوک پر جلسہ، تاریخ کا اعلان ہو گیا

    پی ٹی آئی نے 27مارچ بروز اتوار ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر دیا

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کپتان نے ڈی چوک اسلام آباد جلسے کا حتمی فیصلہ کر لیا،27مارچ کو تاریخ ساز اجتماع ہونے جا رہا ہے،دنیا دیکھے گی عوام کیسے خودمختاری کے لیے کپتان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں انسانوں کے سمندر کا خیر مقدم کریں گے، 27مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں تاریخ رقم کریں گے، عمران خان قوم کے اتحاد کی علامت، لٹیروں کیلئے خوف کا پیغام ہیں،مفاد پرستوں کا گروہ ملکی ترقی کی راہ روک کر قوم کو پستی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے،کسی کو ملک و قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری عامر محمود کیانی جلسے کے انتظامات کی نگرانی کریں گے،27مارچ کو عوام کے محبوب قائد قوم کو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے،

    وزیراعظم کی زیرصدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، کورکمیٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا کورکمیٹی اجلاس میں ڈی چوک پر جلسہ سے متعلق بھی غورکیا گیا تحریک انصاف نے جارحانہ پالیسی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، کور کمیٹی کا کہنا تھاکہ کرپٹ ٹولے کو عوام میں بے نقاب کیا جائے گا،حکمران جماعت نے ملک بھر میں سیاسی جلسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے مزید شہروں میں جلسے کیے جائیں گے،اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ، وزرا کو ٹاسک سونپ دیا گیا تحریک انصاف کی حکومت کو اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہنے کی امید ہے ،کور کمیٹی کو بریفنگ دی گئی جس میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی جلدی نہیں،حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں، اتحادی ساتھ ہی ہیں نمبرز پورے ہیں، ہمارے ارکان کو کروڑوں کی پیشکش ہے،ارکان کو کسی بھی ملک میں پیسے پہنچانے کی پیشکش ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کیسز منطقی انجام تک پہنچنے کے باعث اپوزیشن کو جلدی ہے،مشاورت سے ہی فیصلے کیے جائیں گے،ہماری تمام تیاریاں مکمل ہیں، عدم اعتماد سے کوئی پریشانی نہیں، صورتحال اطمینان بخش ہے،

    سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلایا جائے گا،تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ 28 مارچ کو ہوگی،اپوزیشن کی ریکوزیشن پرقومی اسمبلی کا اجلاس 21مارچ کوبلایا جائے گا

    دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس 21 مارچ کو بلائے جانے کا امکان ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلا کر ملتوی کیا جائے گا،اس کے بعد چھٹیاں ہوگی۔قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ 25 مارچ کو شروع ہوگا،عدم اعتماد پر 3 دن بحث کی جائے گی،ووٹنگ 28 مارچ کو ہوگی

    کور کمیٹی اجلاس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ کورکمیٹی اجلاس ہوا،ہم نے اپنی سیاسی حکمت عملی پرغورکیا، کور کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان پراعتماد کا اظہارکیا گیا ،پی ٹی آئی اضلاع تک محدود د نہیں ،پیپلزپارٹی کا مارچ سندھ سے شروع ہوا تو پنجاب میں بکھر گیا کورکمیٹی نے اپوزیشن کی جانب سے لوگوں کو خریدنے اور پیش کش کی مذمت کی ہم کوئی 4 ڈویژنز کی پارٹی نہیں ہیں،پی ٹی آئی نے ہمیشہ کامیاب جلسے کیے فضل الرحمان ،آصف زرداری اور شہباز شریف نے شیروں کو جگا دیا کورکمیٹی نے قومی اسمبلی اجلاس جلد بلانے کی تجویز دی عمران خان کے پاس جو فارمولا ہے اپوزیشن والے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے 3جوکرزکا جاری کھیل آخری ثابت ہوگا

    صحافی نے اسد قیصر سے سوال کیا کہ آپ کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ؟ جس کے جواب میں اسد قیصر نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں، تحریک عدم اعتماد لانا ان کا آئینی حق ہے،تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا آئینی حق ہے، میں ویلکم کرتا ہوں میں نے کوئی خط نہیں لکھا، میڈیا خبروں کی تردید کرتا ہوں،جو اقدام اٹھاؤں گا قانون اورولز کے مطابق ہوگا،حکومت اور اپوزیشن کیا کررہی ہیں اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،

    عامر محمود کیانی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے جو جلسے کیے ان کے قریب بھی کوئی نہ آسکے،تمام جلسوں کو کیمروں نے کور کیا،وزیراعظم نے کہا پی ڈی ایم مفادات کی جماعت ہے،اپوزیشن میں موجود لوگوں کے بچے پارلیمنٹ میں اور پیسہ باہر ہے،اپوزیشن کا وزن ہمارے گلے پڑ گیا ہے،یہ قوم کسی کو اپنا بادشاہ نہیں بننے دے گی،اپوزیشن کی تیسری نسلیں بھی سیاست کرنے کا سوچ رہی ہیں،تمام اضلاع کے ایم این ایز کو تیاریاں شروع کرنے کیلئے کہا ہے،

    وزیراعطم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد لاہور دورے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا، آج تاریخ کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، حکومتی وزرا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جلسے میں لاکھوں افراد شامل ہوں گے،

    سینیٹر فوزیہ ارشد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد والو تیار ہو جاؤ!!!وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد ڈی چوک میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔انشاءاللہ ہم اسلام آباد کے جلسے سے ثابت کریں گے کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد حکمران جماعت نے ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا تو اپوزیشن بھی پیچھے نہ رہی ،اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ن لیگ کی جا نب سے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے رانا ثنااللہ نے پارٹی کے صوبائی ،ڈویژنل اور ضلعی عہدیداروں کو تیاریوں کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کارکن اسلام آباد میں ڈی چوک میں پہنچے کے لیے تیار رہیں،ڈی چوک میں عوامی قوت دکھائیں گے، ،جیسے ہی پارٹی کال دے، ڈی چوک کی طرف چل پڑیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی ڈی چوک میں جلسہ کرے گی

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    زرداری اور بلاول لوگوں کوخریدنے سے باز رہیں گے تو بہترہوگا ،قریشی

  • واقعی عمران خان گھبرا گئے؟ کابینہ اجلاس چوتھے ہفتے بھی التوا کا شکار

    واقعی عمران خان گھبرا گئے؟ کابینہ اجلاس چوتھے ہفتے بھی التوا کا شکار

    واقعی عمران خان گھبرا گئے؟ کابینہ اجلاس چوتھے ہفتے بھی التوا کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے

    وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہے، اپوزیشن جماعتوں کی روزانہ کی مشاورت اور اجلاس نے وزیراعظم عمران خان کو پریشان کر دیا ہے، وزیراعظم بھی اپنی کرسی بچانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں، وزیراعظم مسلسل پارٹی اجلاسوں کی صدارت کر رہے ہیں، اب خبر آئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا ہے اور یہ اجلاس چوتھے ہفتے مسلسل ملتوی کیا جا رہا ہے، اس سے قبل پچھلے تین ہفتے بھی اجلاس نہیں ہوا، اس منگل کو بھی وفاقی کابینہ کا اجلاس نہیں ہو گا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کا 15 مارچ کو ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے، اجلاس وزیراعظم عمران خان اور کابینہ ارکان کی سیاسی مصروفیات کے باعث ملتوی کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس میں تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے پر مشاورت کی گئی پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس میں اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائیں گے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی تیاری مکمل ہےعوام ہمارے ساتھ ہیں،ڈی چوک پر بڑا جلسہ کریں گے، تحریک عدم اعتماد سے کوئی پریشانی نہیں،

    وزیراعظم عمران خان سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق مشاورت کی گئی اٹارنی جنرل نے تحریک عدم اعتماد پر آئینی و قانونی رائے دی

    وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا اور ارکان کی ووٹنگ کے حوالے سے سوالات کئے سپیکر اسد قیصر نے سوال کیا کہ منحرف ارکان کو ووٹ ڈالنے سے روک سکتا ہوں جس پر متعلقہ حکام نے جواب دیا کہ کسی بھی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جاسکتا کوئی بھی رکن پارٹی پالیسی کے خلاف جاتا ہے تو کارروائی اس کے عمل کے بعد ہوگی آئین کا آرٹیکل 63 ون اے بالکل واضح ہے

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سوال کیا کہ وزیراعظم یا پارٹی چیف وہپ مشکوک اراکین کے نام بھجوائے تو پھر کیا ایکشن ہوسکتا ہے کیا منحرف اراکین سے متعلق ووٹنگ سے پہلے رولنگ دی جا سکتی ہے اس پر متعلقہ حکام نے جواب دیا کہ اسپیکر پارٹی چیئرمین کے باضابطہ ڈیکلریشن ملنے کے بعد کردار ادا کرسکتا ہے اسپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے تاہم معاملہ پر آئین و قانون واضح ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کا سیاسی صورتحال پر مشاورت کا فیصلہ ،ق لیگ اور ترین گروپ کے تحفظات اور دیگر ایشوز پر مشاورت ہوگی تحریک انصاف کا مشاورتی اجلاس آج وزیر اعظم ہاوس میں ہوگا وزیراعظم عمران خان نے گورنرپنجاب چودھری سرور کو بلا لیا وزیر اعلیٰ پنجاب ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چودھری بھی ویڈیولنک کے ذریعے شریک ہوں گے وزیراعظم اور کابینہ ارکان کی سیاسی مصروفیات کے باعث وفاقی کابینہ کا کل ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

  • تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سیاسی میدان گرم ہے

    اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں تو وزیراعظم بھی اتحادیوں اور اراکین کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں، تحریک انصاف کا ترین گروپ بھی متحرک ہے، وزیراعظم روزانہ اہم اجلاس کر رہے ہیں تو پی ڈی ایم قیادت کی بھی حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے

    تحریک انصاف کا سیاسی صورتحال پر مشاورت کا فیصلہ ،ق لیگ اور ترین گروپ کے تحفظات اور دیگر ایشوز پر مشاورت ہوگی تحریک انصاف کا مشاورتی اجلاس آج وزیر اعظم ہاوس میں ہوگا وزیراعظم عمران خان نے گورنرپنجاب چودھری سرور کو بلا لیا وزیر اعلیٰ پنجاب ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چودھری بھی ویڈیولنک کے ذریعے شریک ہوں گے وزیراعظم اور کابینہ ارکان کی سیاسی مصروفیات کے باعث وفاقی کابینہ کا کل ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے

    ترین گروپ کا اجلاس آج ماڈل ٹاؤن میں جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر 3 بجے ہو گا اجلاس میں جہانگیر ترین لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے اجلاس میں پنجاب اور وفاق میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے مشاورت ہوگی

    حکومتی اتحادی جماعت ق لیگ کا مشاورتی اجلاس آج دوبارہ ہوگا اجلاس 4بجے چودھری شجاعت حسین کی رہائشگاہ پر ہوگا ،دوسری جانب ایم کیوایم کا وفد خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں چودھری برادران سے ملاقات کرے گا ملاقات شام 7 بجے چودھری شجاعت کی رہائشگاہ پراسلام آباد میں ہوگی ق لیگ سے حکومتی اتحادی جماعت بی اے پی کے درمیان بھی ملاقات طے ہوچکی، نجی ٹی وی نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے دو سے تین روز میں تینوں حکومتی اتحادی جماعتیں اپنے فیصلے کا اعلان کردیں گی،

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف آج مشترکہ اپوزیشن کے اراکین کو عشائیہ دیں گے،عشائیہ میں مولانا فضل الرحمان، آصف زرداری، بلاول زرداری، محمود اچکزئی، اختر مینگل سمیت دیگر شریک ہوں گے

    قبل ازیں وفاقی وزیر،ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی کا تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، عون چوہدری نے علی ترین اورمونس الہٰی کی ٹیلی فون پر بات چیت کرائی جس میں وفاقی وزیر نے علی ترین سے ان کے والد جہانگیر ترین کی خیریت دریافت کی جب کہ دونوں کے درمیان ملکی سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی

    یار محمد رند کی سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان سے رات گئے 2 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی مولانا فضل الرحمان سے یار محمد رند کی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال ، عدم اعتماد پرگفتگو کی گئی یار محمد رند اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان 3 دن میں یہ دوسری ملاقات ہے

    وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد نے سیاست میں نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے پارٹیوں نے سر جوڑ لیے ہیں سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی ہے، عدم اعتماد کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) الگ الگ بیٹھک اتوار ہوئی ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار نوازشریف کو دیدیا، جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہنا ہے کہ اپنا فیصلہ کرچکے، اپوزیشن میں گئے تو وزارتوں سے استعفے دیدینگے شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کسی بھی وقت ہوسکتی ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے تیاری کے بعد ہی عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اسپیکر اجلاس بلا کر معاملے آگے بڑھائیں،عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو ہم انتخابی اصلاحات کی جانب جائیں گے، حکومت کی جانب سے تاخیر کا معاملہ درست نہیں ،عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو قلیل المدتی حکومت آئے گی، وزیراعظم عمرا ن خان الجھن میں مبتلا ہیں،جو بھی حکومت آئے گی اس کے پاس وقت کم ہوگا ،کام نہیں ہوسکے گا، جو بھی حکومت آئے گی نگران سیٹ اپ نہیں ،عارضی ہوگی اگر حکومت کو عدم اعتماد کی تحریک میں ناکامی کا یقین ہے تو پھر اجلاس ہوجاچاہیے،اپوزیشن نے نمبر پورے ہونے کےبغیر تحریک جمع نہیں کرائی،ہمارے پاس نمبر کم بھی ہوئے تو کیا ہم یہ کہیں گے

    دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے متحدہ اپوزیشن کی وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک کو ضابطہ کے مطابق قرار دیدیا ہے اسمبلی ذرائع کے مطابق تحریک اور ریکوزیشن پر اپوزیشن اراکین کے دستخطوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہو گیا ہے کسی بھی رکن کے دستخط مشکوک یا رول آف سائن کے خلاف نہیں نکلے ہیں

    قومی اسمبلی شعبہ قانون سازی نے تمام ضوابط پورے کرنے کے بعد فائل اسپیکر کو بھجوا دی ہے اسمبلی سیکرٹریٹ نے اسپیکر کو 22مارچ سے قبل کسی بھی دن اجلاس بلانے کی تجویز بھی دیدی ہے اجلاس بلانا ایک آئینی تقاضہ ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا پہلا مرحلہ ریکوزیشن پر دستخطوں کی تصدیق اور دوسرا عدم اعتماد کی تحریک پر دستخطوں کی تصدیق تھا دونوں مراحل مکمل ہونے اور تحریک کے ضابطہ کے مطابق ہونے کا جائزہ لیا گیا

    متحدہ اپوزیشن نے چند روز قبل وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی جسکے بعد اب اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے آئینی طور پر 14روز کا وقت موجود ہے

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

  • چوہدری پرویزالٰہی کی طرف سےعمران خان کی جیت کا اعلان سنتےہی اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی

    چوہدری پرویزالٰہی کی طرف سےعمران خان کی جیت کا اعلان سنتےہی اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی

    اسلام آباد:چوہدری پرویزالٰہی کے اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن کے غبارے سے غیرملکی ہوا نکل گئی ،اطلاعات کےمطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔

    پاکستان مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کی صدارت چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے کی، بلوچستان عوامی پارٹی ، ایم کیوایم اور ترین گروپ سے رابطوں پر بات چیت کی گئی جبکہ اجلاس میں تحریک عدم اعتماد اور سیاسی منظر نامے پر مشاورت کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ق لیگ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ آئین و قانون بڑا واضح ہے، سپیکر قومی اسمبلی کو اس پر عمل کرنا چاہیے، ہم اپنا فیصلہ کرچکے ہیں، اس پر اپنے ساتھیوں سے حتمی مشاورت کر رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی مل کر چل رہے ہیں، اپوزیشن اتحاد میں گئے تو وزارتوں سے استعفیٰ دیں گے، آج جہانگیر ترین گروپ کے عون چوہدری ملاقات کے لئے آئے تھے، اگلے دو دن میں وہ بھی ہمیں اپنی حمایت کا بتائیں گے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کسی بھی وقت ہوسکتی ہے، وزیراعظم عمران خان کو اپنی کوششیں جاری رکھنا چاہئیں۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق کی قیادت سے ترین گروپ کی اہم ملاقات ہوئی، ترین گروپ اور چودھری برادران کے درمیان معاملات طے پا گئے، عون چودھری کی اسلام اباد میں چودھری برادران سے اہم ملاقات ہوئی جس میں ترین گروپ اور مسلم لیگ ق کا باہمی طور پر سیاسی تعاون کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جلد ترین گروپ اور چودھری برادران کی ایک بڑی مشترکہ ملاقات ہوگی، مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان بھی رابطے ہوئے، مشترکہ کمیٹی نے مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان تعاون کی حکمت عملی کو حتمی شکل دیدی ہے۔
    متحدہ اپوزیشن چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر متفق

  • روسی صدر اور ٹرمپ نے عزت دی کیونکہ ان کو پتہ تھا میں دونمبر نہیں ، وزیراعظم

    روسی صدر اور ٹرمپ نے عزت دی کیونکہ ان کو پتہ تھا میں دونمبر نہیں ، وزیراعظم

    حافظ آباد: وزیراعظم عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام منعقادہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم کی جلسہ گاہ آمد پر زبردست استقبال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے حافظ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاندار جلسے کے انعقاد پر کارکنوں کو مبا رک باد دیتا ہوں،لگتا ہے ایسا ہےکہ حافظ آباد میں ایک سال کے دوران وہ کام ہورہے ہیں جو70سال میں نہیں ہوئے تحریک انصاف نے5 سالوں میں جو کام کیے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تاریخی کام ہم نے کیے بتایا جائے مجھے25سال پہلے سیاست میں آنے کی ضرورت کیا تھی پاکستان ایک بڑے مقصد کے لیے بنا ہے نظریے کے بغیر کوئی بھی قوم نہیں بنتی نظریے سے ہٹنے والی قوم تباہ ہوجاتی ہے ہم نے ایک عظیم قوم بننا تھا مگر نہیں بن پائے –

    وزیراعظم نے کہا کہ قوم جب بنتی ہے جب اس کا نظریہ ایک ہو، جاگ پنجابی جاگ، سندھو دیش، بلوچستان کی آزادی کی تحریک یا پختونستان، جب تک ہم یہ نعرے نہیں چھوڑیں گے ہم ایک قوم نہیں بن سکتے، میں نے فیصلہ کیا کہ قوم کی تربیت کے لیے رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی بناؤں اور قوم کو بتاؤں کہ نبی کریمؐ کی زندگی کیا تھی، انہوں نے مدینے کی ریاست میں تمام مذاہب کو جمع کیا جس میں مسلم بھی تھے اور غیر مسلم بھی جو کہ ایک نظریے پر جمع ہوئے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں لوگ اچھائی کے ساتھ برائی کے خلاف تھے جب قوم ظلم اور کرپشن کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو یہ بڑھ جائے گی میں 25 سال سے تبلیغ کررہا ہوں کہ ہم نے اچھائی کے ساتھ چلنا ہے اگر عظیم قوم بننا ہے تو اچھائی کا ساتھ دیں، میں اس لیے سیاست میں نہیں آیا کہ آلو کی قیمت کیا ہے اور ٹماٹر کی قیمت کیا ہے، میں نوجوانوں کو ایک قوم بنانے کے لیے سیاست میں آیا ماضی میں حکومتیں گرانے کےلیے چوری کے پیسے سے ضمیر خریدا گیا کوئی پیسے کے زور پر حکومت گرانے کی کوشش کرے تو قوم مقابلہ کرتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہمارےملک کا مستقبل ہیں ہم نے سب سے پہلے تعلیم پر کام کیا، ریاست گرانے کے لیے لوگوں کا ضمیر خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے ہم نے 26 لاکھ اسکالر شپ دئیے جب قوم ظلم اور کرپشن کے خلاف کھڑی نہیں ہوگی ،تو یہ بڑھ جائے گی پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے یکساں نصاب کرلیا ہے، پاکستان میں پہلی بار انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دو یونیورسٹیاں بنا رہےہیں-

    عمران خان نے کہا کہ فضل الرحمان کہتا ہےکہ عمران خان نے بڑا ظلم کردیا جو لوگ ان کے جوتے پالش کرتے ہیں وہ ان کو حقارت سے دیکھتے ہیں ماضی کے حکمران انگریزوں کے سامنے ٹائی اور سوٹ میں پیش ہوتےتھے لیڈر کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکتا ہماری بدقسمتی دیکھیں، کہ ہمارا وزیراعظم امریکی صدر سے ملتا ہے تو ہاتھ میں پرچی ہوتی ہے امریکی صدر سے ملتے ہوئے ہمارے وزیراعظم کی کانپیں ٹانگ رہیں تھیں اور پرچی ہاتھ میں ہوتی ہے کہ کوئی غلط بات منہ سے نہ نکل جائے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ یورپی یونین کے سفیر نے خط لکھ کر کہا کہ روس کےخلاف بیان دیں میں نے یورپی یونین کے سفیر کو کہا کہ بھارت کو بھی خط لکھا ہے پاکستان میں گزشتہ 10سالوں کے دوران 400 سےزائد ڈرون حملے ہوئے آصف زرداری اور نوازشریف نے ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی 20 سے زائد سفیروں نے مجھے کہا کہ ڈرون حملوں کی مخالفت کیوں کررہے ہو میں نے جواب دیا تم لوگوں نے لندن میں ایک دہشت گرد بٹھایا ہوا ہے دہشت گرد نے کراچی کے لوگوں کا قتل کیا کہتےہیں اس کو پاکستان کے حوالے کریں تو کہا عدالت میں ثبوت پیش کریں ،برطانیہ سے کہا کیا ہم اس دہشت گرد پر لندن میں ڈرون حملہ کرکے ماردیں؟

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دنیا میں ہرملک سے اچھے تعلقات رکھنے چاہییں،امریکا ایک بڑا پاورفل ملک ہے،ہمارے پاکستانی وہاں ہیں چائنہ نے بہت کم وقت میں پاکستان کو جہاز فراہم کیے روس کے صدر نے ہم کو عزت دی،3 گارڈ آف آنر پیش کیے صدر ٹرمپ نے مجھے عزت دی کیونکہ اس کو پتہ تھا میں دونمبر نہیں-

    عمران خان نے کہا کہ25 سال قبل بھی قوم سے کہا تھا کہ نہ کسی کے سامنے جھکوں کا اور نہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا، پاکستان میں 15سال بعد اسلامی ممالک کی کانفرنس ہورہی ہے دنیا سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں مگر پاکستان کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے-

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغربی حکمران آپ کی عزت اس وقت کرتے ہیں جب انہیں نظر آئے کہ ہمیں اپنی ملک کی فکر ہے، جب یہاں کوئی سفیر یا حکمراں مجھ سے ملنے آتا ہے تو اس کی پوری زندگی کی تفصیلات مجھے فراہم کی جاتی ہیں اسی طرح جب ہماری حکمراں ملنے کہیں اور جاتے ہیں تو وہاں بھی ملاقات سے قبل آپ کی تفصیلات وہاں پہنچادی جاتی ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کہ لندن میں آپ کی پراپرٹی کتنی ہے؟-

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ غریب عوام کو سستا گھر دینے کے لیے بینکوں نے قرض دینا شروع کردیا ہے گھر کا کرایہ دینےوالے اب بینک کو قرض کی رقم دے کر اپنا گھر حاصل کریں گے دو کروڑ خاندانوں کو احساس راشن کارڈ پر سبسڈی ملے گی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں10روپے اور بجلی کی قیمت 5روپے کم کردی پاکستان میں سب سے سستا پٹرول 150روپے فی لیٹر ہے ٹیکس کا پیسہ ملتارہےگا قوم پر خرچ کرتے رہیں گے

    عمران خان نے کہا کہ کورونا کے باعث دنیا کی معیشت ٹھپ ہوگئی سب کو کہا اگر لاک ڈاون لگایا تو مزدور کا کیا بنےگا سندھ حکومت نے میری بات نہیں مانی اور لاک ڈاون لگا دیا پاکستان نے کورونا کے دوران بہتر اقدامات کیے، دنیا نے تعریف کی ہم نااہل ہوتے تو دنیا ہماری پالیسی کی تعریف نا کرتی میرا ایمان ہے پاکستان ایک عظیم ملک بننے جارہا ہے-

    احتساب کے ڈر سے سارے چور اکٹھے ہورہے ہیں حکومت گرانے کے لیے تین چوہے نکلے ہیں یہ خود شکار ہوں گے

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کو جلسہ عام سے خطاب کی دعوتے دیتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے اعلان کیا کہ عمران خان کے پاس ایک ایسا کارڈ ہے جس کی بنا پر اگلی حکومت بھی پی ٹی آئی بنائے گی۔

    اس سے قبل جلسہ گاہ میں وزیراعظم کی آمد سے قبل ان کے معاون خصوصی شہباز گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نہ خود جھکا ہے اور نہ عوام کو جھکنے دے گا۔

    انہوں ںے کہا کہ واضح طور پر کہا کہ عہدے ہمارے جوتے کی نوک پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرسی بچانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف زرداری سے ہاتھ ملانا پڑتا۔

  • چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نےکیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی

    چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نےکیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی

    لاہور: چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نے کیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی ،اطلاعات کے مطابق شدید تحفظات کے باوجود مسلم لیگ (ن) پنجاب کی وزارت عظمیٰ (ق) لیگ کو دینے پر کیوں راضی ہوئی؟ اندورنی کہانی سامنے آگئی۔

    ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کو وزرات عظمیٰ پنجاب دینے کے لئے مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے نواز شریف کو قائل کیا، آصف زرداری نے نواز شریف کو پیغام دیا کہ بڑے مقصد کیلئے چھوٹی قربانی دیں چند ماہ کی بات ہے۔جس پرنواز شریف نے کہا کہ چوہدری کسے دے وی سکے نہیں،یہ مفاد کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں مگرہمارے ساتھ ہاتھ بھی کرسکتے ہیں ان سے بچ کررہنا چاہیے میں ان کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں ، جس پرزرداری اور فضل الرحمن نے کہا کہ بس ایک مرتبہ نیازی جان چھڑوا لیں پھرچوہدریوں سے بھی دوہاتھ کرلیں گے ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں

    ذرائع ن لیگ کے مطابق مذکورہ شرط نہ ماننے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔

    ذرائع فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نون لیگ کا اصرار تھا کہ ق لیگ پنجاب میں ن لیگ کیخلاف کوئی اقدام نہیں کریگی، جس پر مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے یقین دہانی کرائی، دونوں رہنماؤں کی ضمانت کےبعد ن لیگ بھی مشروط طور رضامند ہوئی۔

    واضح رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ حاصل کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے مسلم لیگ قاف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔یہ طے ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا جائے گا۔

    اس سے قبل گذشتہ روز ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر لیگی رکن قومی اسمبلی عابد رضا سمیت 7 ارکان اسمبلی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    ن لیگی ارکان کا استفسار تھا کہ ق لیگ کو کس حیثیت سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی؟ پنجاب میں ن لیگ بڑی جماعت ہے اور ق لیگ چھوٹی جماعت ہے،عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب ہمارا ہونا چاہیے۔