Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    اسلام آباد : فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج ،اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا ایسی خوشخبریاں پہلے بھی کئی بار سنا چکے ہیں اپوزیشن کےپاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ عدم اعتمادلاسکیں۔

    اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہوتے تو حکومت میں ہوتے تحریک آئی تودیکھ لیں گےیہ کہاں کھڑےہیں اورہم کہاں ہیں، تحریک عدم اعتماد آنے دیں کوئی پرواہ نہیں ہم تگڑےہیں۔

    فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے وزیراعظم کا امیدوار کون ہے ایک کہتا ہے الیکشن کرادیں دوسرا کہتا ہے ہمیں ڈیڑھ ڈیرھ سال ملیں اپوزیشن ایک ڈرامہ ہے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے واضح کیا کہ پرویزالٰہی نےکہا ہم آپ کےاتحادی ہیں پرویزالٰہی سےآج صبح بھی بات چیت ہوئی ہے پہلےبھی ساتھ الیکشن لڑےتھےآئندہ بھی لڑیں گے، ق لیگ اتحادی ہےاس لئےتوچیمہ صاحب وزیر ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔

    اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔

    فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے

  • اگلے48گھنٹےاہم:عمران خان کاجانا یقینی:کپتان کےجانے سےبہارآئےیانہ آئے:یہ ہمارا مسئلہ نہیں:فضل الرحمن

    اگلے48گھنٹےاہم:عمران خان کاجانا یقینی:کپتان کےجانے سےبہارآئےیانہ آئے:یہ ہمارا مسئلہ نہیں:فضل الرحمن

    اسلام آباد:اگلے 48 گھنٹے اہم ہیں :عمران خان کا جانا یقینی ہے:اس کے جانے سے بہارآئے نہ آئے:ہمارا مسئلہ نہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔

    صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کسے کیا ملے گا؟

    اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔

    فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے، ہم عدم اعتماد سے پہلے کسی داخلی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے، اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی۔ ہمارا انحصار انفرادی شخصیات پر ہے۔ ہمارے پاس تحریک کی کامیابی کے لیے نمبرز پورے ہیں، امپائر بظاہر نیوٹرل نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے امپائر سے کوئی مدد نہیں لینی۔ ہم نے امپائر سے حکومت کی سپورٹ ختم کرانا تھی۔ اب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کر رہی ہیں کیونکہ اب اپوزیشن جماعتوں کی ضرورت کامن ہو گئی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے۔ حکومتی اتحادیوں سے بھی اپوزیشن جماعتیں رابطے میں ہیں۔

  • پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور قریبی تعلقات چاہتا ہے:آرمی چیف

    پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور قریبی تعلقات چاہتا ہے:آرمی چیف

    راولپنڈی: پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور قریبی تعلقات چاہتا ہے،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور قریبی تعلقات چاہتا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل پائلٹ حامد واحدی نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون پر بھی بات چیت کی گئی جبکہ ملاقات میں دونوں جانب سے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق بھی کیا گیا۔ بیان کے مطابق ملاقات میں ایرانی فضائیہ کے کمانڈر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل پائلٹ حامد واحدی نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار اور بارڈر مینجمنٹ کے مؤثر اقدامات کو بھی سراہا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے علاقائی استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی فضائیہ کے کمانڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور قریبی تعلقات چاہتا ہے۔

  • کوئٹہ میں دھماکا، ڈی ایس پی سمیت 3 افراد شہید، 25 زخمی

    کوئٹہ میں دھماکا، ڈی ایس پی سمیت 3 افراد شہید، 25 زخمی

    کوئٹہ:لوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکا کے باعث ڈی ایس پی سمیت تین افراد شہید ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے فاطمہ جناح روڈ پر دھماکے میں کرائم برانچ کے ڈی ایس پی اجمل سمیت 3 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں پانچ افراد شدید زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

     

    پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر پہنچ کر معلومات اکھٹی کر رہے ہیں اور فی الحال دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔پولیس کے مطابق فاطمہ جناح روڈ اور اطراف کے راستوں کو آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ 25 فروری کو کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) سمیت پولیس کے دو اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

    اس سے قبل 23 فروری کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں کارروائی کرتے ہوئے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

    سیکیورٹی فورسز نے 18 فروری کو بلوچستان کے علاقے بلیدا میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی تھی جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 6 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

    کوئٹہ میں 7 فروری کو سریاب روڈ پر موٹر سائیکل میں نصب بم کے دھماکے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 2 اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

    یاد رہے کہ 2 فروری کو دہشت گردوں کی جانب سے نوشکی اور پنجگور میں واقع سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر دو علیحدہ علیحدہ حملے کیے گئے تھے۔

  • بے چارے غریب نوازشریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت کوپیش کردی گئیں

    بے چارے غریب نوازشریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت کوپیش کردی گئیں

    لاہور :بے چارے غریب نوازشریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت کوپیش کردی گئیں ،اطلاعات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداداورکمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادی۔

    تفصیلات کے مطابق پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداد ضبط کرنے کے معاملے پر نیب نے نواز شریف کی جائیداد اور کمپنیوں میں شیئرز کی تفصیلات احتساب عدالت جمع کرادی۔

    جائیدادضبطی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بے چارے غریب نوازشریف کےنام مختلف شہروں میں 1649کنال 39 مرلے زرعی اراضی ، لاہورمیں نواز شریف کے نام پر1547کنال زرعی اراضی ضبط کی گئی۔

    نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف کے نام موضع منکا میں 936کنال 10مرلے اراضی ہے جبکہ اپر مال لاہور میں بنگلہ نمبر135بھی نواز شریف کی ملکیت ہے ، جسے ضبط کیا گیا۔

    نیب کے مطابق نوازشریف کےنام پرایک مرسیڈیز،ٹیوٹالینڈکروزر ، مختلف کمپنیز میں 8 لاکھ 62 ہزار 294 کے شیئرز بھی ضبط اثاثوں میں شامل ہیں جبکہ 2ٹریکٹربھی نواز شریف کی ملکیت میں ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ جائیداد ضبطی کے خلاف مختلف افراد نے درخواستیں دائرکیں ، نیب نےنوازشریف کےعلاوہ کسی اورفردکی جائیدادیاشیئرضبط نہیں کیے، درخواست گزاروں کے اعتراضات بلا جواز ہیں۔

    نیب نے استدعا کی کہ عدالت جائیداد ضبط کے خلاف دائر اعتراضات مسترد کرے۔

  • روسی افواج فاتحانہ انداز میں دوسرے بڑے شہرمیں‌ داخل ہوگئیں

    روسی افواج فاتحانہ انداز میں دوسرے بڑے شہرمیں‌ داخل ہوگئیں

    کیف :روسی افواج فاتحانہ انداز میں دوسرے بڑے شہرمیں‌ داخل ہوگئیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی جنگ ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ روس کی پیشقدمی جاری ہے۔ آج روس کی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوئی ہے۔

    یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روسی فوجی ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیو میں اتر گئے ہیں جس کے فوراً بعد ہی شہر کی سڑکوں پر جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

    اس سے قبل شہر میں شیلنگ جاری رہی اور علاقائی گورنر کے مطابق روسی میزائلوں سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 21 افراد جان سے جا چکے ہیں اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔ یوکرینی فوج نے بدھ کو ٹیلی گرام ایپ پر جاری ایک بیان میں کہاکہ روسی فضائی دستے خارکیو میں اترے۔

    حملہ آوروں اور یوکرینیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ روس نے پیر کو شہر میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں آٹھ افراد مارے گئے۔ اس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی نے اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔

    یوکرینی وزیر داخلہ کے مشیر اینٹون گیراشچینکو کے مطابق خارکیو کا کوئی حصہ نہیں رہا جہاں گولہ باری نہ ہوئی ہو۔ خارکیو زیادہ تر روسی زبان بولنے والوں کا شہر ہے جس کی آبادی 14 لاکھ سے زائد ہے۔

    روسی کا یوکرینی شہر خیرسون فتح کرنے کا دعویٰ یوکرین پر روسی حملے کے ساتویں دن روسی فوج نے جنوبی یوکرینی شہر خیرسون کو فتح کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روس کی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشونکوف نے بدھ کو ایک ٹی وی پیغام میں کہاکہ روسی فوجی دستوں نے خیرسون کے علاقائی مرکز کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ شہر میں عوامی سہولیات اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ شہر میں اشیائے خوردونوش اور ضروری سامان کی کوئی قلت نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ روسی فوج اور مقامی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے، رہائشیوں کو محفوظ رکھا جا سکے اور عوامی سہولیات کو جاری رکھا جا سکے۔

    خیرسون کے میئر ایگور نکولایف نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ہم اب بھی یوکرین ہیں۔ اب بھی مضبوط۔‘ بظاہر روسی فوج کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ’مرنے والوں کی لاشیں اٹھانے‘ اور ’جہاں جہاں بجلی، گیس، پانی اور ہیٹنگ کی سہولیات متاثر ہوئی ہیں انہیں بحال کرنے‘ کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

  • نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    پولینڈ:نیٹوکا70 لڑاکا طیارے فی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں،اطلاعات مصدقہ کے مطابق نیٹونے روس کیخلاف یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے دینے کا اعلان کرکے تیسری عالمی جنگ کویقینی بنانے میں‌ بڑا کردار ادا کردیا ہے

    روس سے جنگ میں یوکرین کی مدد کیلئے مغربی دفاعی اتحاد (نیٹو) میں شامل تین یورپی ممالک یوکرین کی مدد کیلئے میدان میں آگئے۔

    یوکرینی نیوی کے پریس سروس کے آفیشل فیس بک پیج سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلغاریہ، پولینڈ اور سلوواکیہ نے یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، یہ طیارے پولینڈ میں تعینات ہوں گے اور یوکرینی پائلٹس وہیں سے اڑان بھر کر روسی فوج پر فضائی حملے کریں گے۔

    یوکرینی بحریہ کی پریس سروس کا مزید کہنا ہے کہ بلغاریہ 16 مِگ 29 طیارے اور 14 ایس یو 25 طیارے فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ پولینڈ 28 مگ 29 طیارے جبکہ سلوواکیہ 12 مگ 29 طیارے فراہم کرے گا۔

    خیال رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کیا اور دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر بمباری کی۔

    روس اور یوکرین کی جنگ کے چھٹے روز روسی وزیر دفاع نے کیف کے شہریوں کو خبردار کیا کہ روسی فوجی دارالحکومت میں مختلف اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
    کیف میں ایک ٹیلی ویژن ٹاور کے قریب دھماکا سنا گیا جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔

    بکتر بند گاڑیوں میں روس فوج کا ایک بڑا قافلہ کیف میں پارلیمنٹ اور صدارتی محل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے تاہم اسے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

    آج روس کی جانب سے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں بھی سرکاری عمارتوں پر میزائل برسائے گئے جس کے نتیجے میں 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی صدر ولودومیز زیلینسکی کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں روسی میزائل گرے وہاں کوئی عسکری ہدف نہیں اور روس شہری آبادی کو نشانہ بناکر جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

    یوکرینی صدر نے یورپی پارلیمنٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، اس موقع پر انہیں تمام ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہوکر روس کیخلاف مزاحمت پر داد دی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست کی جسے منظور کرتے ہوئے یوکرین کی شمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    یوکرین اب بھی روسی فوج کے انخلا اور سیز فائر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق ساڑھے 6 لاکھ سے زائد افراد اب تک یوکرین سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    آج اپنے بیان میں نیٹو کے چیف جینز اسٹولٹن برگ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’یورپ میں امن کا شیرازہ بکھیرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی پولینڈ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے بربریت پر مبنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پولینڈ نیٹو کا رکن ممالک ہے اور اگر روسی اہداف پر حملوں کے لیے پولینڈ کی سرزمین استعمال ہوئی تو ممکن ہے کہ روس پولینڈ پر بھی حملہ کردے اور اگر ایسا ہوا تو پھر نیٹو کے رکن ممالک معاہدے کے تحت پولینڈ کا دفاع کرنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پورا یورپ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

  • نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    راولپنڈی:نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے۔ نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے علاقے تربت کا دورہ کیا۔ تربت پہنچنے پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے استقبال کیا۔

    آرمی چیف کو بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے اقدامات کو یقینی بنانے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اسی دوران سپہ سالار نے فوجیوں کے حوصلے، آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    بیان کے مطابق آرمی چیف نے تربت یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی، ملاقات کرنے والوں میں مقامی رہنما، قبائلی عمائدین، طلبہ، وکلا، خواتین سے ملاقات کی۔

     

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1498714332217102344

    اس موقع پر جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں، علاقے کی سلامتی، اپنی تعلیم، ہنرمندی کی ترقی کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے، بلوچستان میں سماجی و اقتصادی منصوبوں کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرینگے۔ صوبے کی عوام نے ترقی، استحکام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جامع قومی کوششوں کے ذریعے بلوچستان کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا۔

  • عدم اعتمادکی دھمکی دینےوالوں کاایک دوسرےپراعتماد      نہیں:سازشی نامراد لوٹیں گے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    عدم اعتمادکی دھمکی دینےوالوں کاایک دوسرےپراعتماد نہیں:سازشی نامراد لوٹیں گے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    اسلام آباد :عدم اعتماد کی دھمکی دینے والوں کا ایک دوسرے پراعتماد نہیں:سازشی نامراد لوٹیں گے:اہم شخصیت کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کو ڈیڈلاک پڑچکا ہےکوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آئے گی اور 23 مارچ کا کوئی لانگ مارچ نظرنہیں آ رہا۔حالانکہ میں نے ان کے استقبال کا بندوبست کررکھا ہے

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ بلاول بھٹو بےشک اسلام آباد آئیں انہیں کوئی رکاوٹ نہیں ملے گی آج وزیراعظم کی چوہدری براداران سے ملاقات کے بعد سب کچھ واضح ہوگیا ہے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی،عمران خان نےملاقات کر کے اچھا کیا۔

    شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آج ملاقات کیلئے نہ جاتےتو افواہین جنم لیتی ق لیگ اور ایم کیوایم ہماری اتحادی جماعتیں ہیں، چھانگامانگا،مری کی سیاست اب نہیں چلےگی اپوزیشن ممبران کوکہاں لےکرجائےگی اب ماضی نہیں حال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں سےرابطےرہنےچاہئیں،وزیراعظم ملاقاتیں کریں گے حکومتی ممبران پورےہیں کوئی ممبر کہیں نہیں جارہا، بلاول بھٹوکےپاس ہمارےممبران کےنام ہیں تواعلان کردیں اپوزیشن اپنےلوگوں کودیکھےکہیں وہ ہمیں سپورٹ نہ کردے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتمادمیں ڈیڈلاک پیداہو چکا ہے اپوزیشن اپنی سیاسی موت خودمرچکی ہے اپوزیشن کی پوزیشن خراب عمران خان کی پوزیشن بہترہے، 9دن اپوزیشن اپنےممبران کوسنبھال کرنہیں رکھ سکتی، عدم اعتماد کیلئے9دن ہوتےہیں ان کےتلوں میں تیل نہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سےملاقات:وزیراعلٰی پنجاب کون ہوگا؟معاملات طئےپاگئے

    وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سےملاقات:وزیراعلٰی پنجاب کون ہوگا؟معاملات طئےپاگئے

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سے ملاقات:معاملات طئے پاگئے:اپوزیشن والے دیکھتے رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق ملک میں موجودہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے اور تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی متحرک ہو گئے، سب سے پہلے چودھری برادران سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے۔

    وزیراعظم عمران خان چودھری برادران کی رہائشگاہ پہنچے تو مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی، ملاقات میں وفاقی وزیر چودھری مونس الہی، چودھری سالک، شافع حسین، طارق بشیر چیمہ بھی شریک ہوئے۔

    اس دوران عمران خان نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں چوہدری برادران نے اپنے عہد کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم کل بھی آپ کے ساتھ تھے آج بھی آپ کے ساتھ ہیں ، ہمیں پاکستان عزیز ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران کی پاکستان کے لیے خدمات کو خراج تحیسین پیش کیا،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے جس کے بارے میں اہم اعلان متوقع ہے ،باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کے نام قرعہ نکل سکتا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوہدری برادران کی طرف سے کپتان کی اس پیش کش کو شکریہ کے ساتھ واپس کردیا گیا ہے ، لیکن امکان ہے کہ کپتان چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلیٰ بنا کر پنجاب سے ن لیگ کا خاتمہ کردیں‌گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگلے چند دنوں میں پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف کئی اور گروہ سامنے آجائیں ، ان میں علیم خان بھی درپردہ سازشوں میں مصروف نظرآتے ہیں اور امکان یہ ہے کہ بزدار کے لیے ن لیگ سے زیادہ خطرناک اپنے ہی لوگ ہوں گے ،اس کے ساتھ ساتھ جہانگیرترین خان کے زیرسایہ ارکان اسمبلی بھی آنے والوں دنوں میں پاکستان اور پنجاب کی سیاست میں بڑے اہم اور سرگرم دکھائی دیں‌گے

    ان تمام ترحالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان عثمان بزدار کو بچانے کی آخری حد تک کوشش کریں‌ گے اور اگر معاملات سنبھل نہ سکے تو پھر پنجاب کا وزیراعلیٰ بدلنا ناگزیر ہوجائے گا اور اس صورت میں اگلا پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہوگا اس کا فیصلہ چوہدری برادران اور وزیراعظم عمران خان کریں گے

    دوسری طرف عمران خان سیاسی صورت حال کے تناظر میں تیزی سے سیاسی کارڈز کھیلنے لگے، وزیراعظم اتحادی جماعتوں کے محاذ پر متحرک ہوئے ہیں اور عوامی ریلیف کے اقدامات میں بھی وزیر اعظم نے سب کو حیران کردیا۔

    عمران خان نے مسلم لیگ ق سے رابطوں کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی جلد ملاقات کا امکان ہے۔

    اُدھر وزیر اعظم نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطے تیز کردئیے، دورہ لاہور کے دوران وزیر اعظم کی پنجاب کے چار ڈویژن کے اراکین پارلیمنٹ سے طویل ملاقات ہوئی، اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیر فعال کرنے کے لیے وزیراعظم نے خود رابطوں کا محاز سنبھال لیا۔
    اور

    چودھری شجاعت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں نہیں چاہتیں پرویزالٰہی وزیراعلیٰ بنے، دونوں کو خدشہ ہے جو لوگ ان جماعتوں میں گئے ہیں وہ واپس ق لیگ میں نہ آجائیں۔