Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسرائیلی صدر کے دورہ  کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے یو اے ای پر حوثی باغیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملہ کیا گیا ہے جسے یو اے ای نے ناکام بنا دیا ہے

    اماراتی وزارت دفاع کے مطابق فضا میں تباہ کیے جانے والے میزائل کا ملبہ غیرآباد علاقےمیں گرا اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متحدہ عرب امارات پر یہ تیسرا بیلسٹک میزائل حملہ تھا ،حوثی باغی یو اے ای پر ڈرون حملے بھی کر چکے ہیں، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیلی صدر یو اے ای کے دورے پر ہیں ،یو اے ای حکام نے کامیابی سے میزائل حملے کو ناکام بنایا .خبر رساں ادارے کے مطابق حوثی باغیوں کو ایرانی حمایت حاصل ہے،

    امریکا نے حوثی باغیوں کی جانب سے یو اے ای پر حملے کی مذمت ہے، 17 جنوری کو بھی ایک حملہ ہوا تھا ،یو اے ای کا کہنا ہے کہ ہمارا دفاع مستحکم ہے، اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ تازہ ترین میزائل حملہ آدھی رات کو روکا گیا اور اس کا ملبہ ایک غیر آباد علاقے پر گرا۔

    حوثی باغیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل کے صدر ابوظہبی کے دورے پر ہیں اور انہوں نے ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کی اور سیکورٹی سمیت دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے،خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی صدر نے ابوظہبی میں رات گزاری، اسرائیلی صدر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے باوجود وہ یو اے ای کا دورہ جاری رکھیں گے،اسرائیلی صدر نے آج پیر کو دبئی ایکسپو کا بھی دورہ کرنا ہے

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہاسرائیل کے صدر پورے خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں، ایسے وقت میں حوثی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ خلیجی ملک میں ہوائی ٹریفک معمول کے مطابق ہے اور تمام پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ اتحادی جنگی طیاروں نے یمن میں موجود میزائل لانچروں کو تباہ کر دیا ہے۔

    سعودی عرب پر بارہا میزائل اور ڈرون حملے کرنے والے حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ یمن میں "مداخلت” بند نہیں کرتا وہ متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

    دوسری جانب عرب فوجی اتحاد کی جانب سے 24 گھنٹوں میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 25 ٹارگٹڈ حملے کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی 11 فوجی گاڑیاں اور 80 سے زیادہ باغیوں کو ہلاک کرنےکا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ہیرزوگ امارات کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی صدر ہیں اور ان سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی دسمبر میں یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں معاہدوں پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے کو "ابراہام ایکارڈ” کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ممالک اور اسرائیل خطے میں ایران اور اس کی اتحادی افواج و ملیشیا کے بارے میں یکساں تحفظات رکھتے ہیں۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

  • پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مزید 21 اموات

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مزید 21 اموات

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مزید 21 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے وار جاری ہیں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اموات بھی ہو رہی ہیں

    این سی اوسی کے مطابق پاکستان میں کرونا سے مزید 21 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 269 ہو گئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید7 ہزار 48 کورونا مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 25 ہزار 039 ہو گئی ہے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں 61 ہزار 77 کورونا ٹیسٹ کیے گئے اور مثبت کیسز کی شرح 11.53 فیصد رہی سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 41 ہزار 693، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 94 ہزار 166، پنجاب میں 4 لاکھ 78 ہزار 527، اسلام آباد میں ایک لاکھ 27 ہزار 497، بلوچستان میں 34 ہزار 390، آزاد کشمیر میں 38 ہزار 115 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 651 ہو گئی ہے۔

    پشاور میں چوبیس گھنٹوں میں آٹھ سو سڑسٹھ نئے کورونا کیسسز سامنے آئے، جبکہ دو افراد جان سے بھی گئے ،محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں کورونا کا پازیٹیوٹی ریٹ 40 فیصد ہوگیا، خیبر پختونخوا میں چوبیس گھنٹوں میں کورونا کے ایک ہزار چھ سو سینتالیس نئے کیسسز رپورٹ ہوئے جبکہ صوبے میں کورونا کی مجموعی شرح نو فیصد سے تجاوز کر گئی پشاور تعلیمی اداروں میں کورونا وائرس پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ کے بعد زیادہ کیسسز رپورٹ ہونے والے 5 مزید سکول بند کر دئیے گئے ہیں، پانچ روز کے دوران بند کئے جانے والے تعلیمی اداروں کی مجموعی تعداد 23 ہوگئی ہے۔

    اومیکرون….احتیاط کریں نہیں تو پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں. اعلان ہو گیا

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 9 اموات

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    کرونا کو معمولی قرار دینے والے کک باکسنگ کے سابق عالمی چیمپئین کی موت

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی بھی کرونا کا شکار

  • اسرئیلی صدر اپنے پہلے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے استقبال کیا

    اسرئیلی صدر اپنے پہلے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے استقبال کیا

    دبئی اسرئیلی صدر اپنے پہلے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے استقبال کیا ،اطلاعات کے مطابق اسرئیل کے صدر آئزک ہیرزوگ آج اپنے پہلے سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات(یو اے ای) پہنچ گئے ہیں اور ان کے ہمراہ خاتون اول مشل ہیرزوگ بھی موجود ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز کے مطابق صدارتی پرواز کے ذریعے ان کی ابوظبی آمد پر متحدہ عرب امارات کے امور خارجہ اور عالمی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا۔

     

     

    دوران پرواز بات کرتے ہوئے اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ یہ بہت متاثر کن لمحہ ہے۔متحدہ عرب امارات آمد پر اسرئیلی صدر اور خاتون اول کا شاندار استقبال کیا گیا جس کے بعد صدر آئزک ہیرزوگ نے شیخ عبداللہ سے سفارتی سطح کی ملاقاتی کی۔

    شیخ عبداللہ بن زید نے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے ابراہام معاہدے معاہدے کے دوران متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت کی تھی۔

     

    صدر آئزک ہیرزوگ نے متحدہ عرب امارات کی تیزی سے ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں متحدہ عرب امارات میں اسرائیل کے صدر کی حیثیت سے پہلے دورے پر آرہا ہوں ۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی جانب سے ابوظبی میں پرتپاک استقبال سے ہمیں خوشی ہوئی اور ہم بہت متاثر ہوئے ہیں۔

    دورے سے متعلق اسرائیلی صدارتی دفتر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ اپنی نوعیت کے پہلے دورے پر گلف ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات گئے ہیں.

    اسرائیلی صدر ایک ایسے وقت میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں جبکہ خطے میں بہت زیادہ کشیدگی ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے جوہری معہدے کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

     

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ کا کہنا تھا کہ میں ولی عہد شیخ محمد بن زید کی ذاتی دعوت پر متحدہ عرب امارات کی قیادت سے ملاقات کروں گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے پر میں امارات کی بے باک قیادت کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں اور اور یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس خطے کے عوام کے لیے امن ہی بہترین متبادل ہے۔

    واضح رہے کہ ہیرزوگ امارات کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی صدر ہیں اور ان سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی دسمبر میں یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔

    اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں معاہدوں پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے کو "ابراہام ایکارڈ” کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ممالک اور اسرائیل خطے میں ایران اور اس کی اتحادی افواج و ملیشیا کے بارے میں یکساں تحفظات رکھتے ہیں۔

  • عمران خان زیرو:نوازشریف اور زرداری ہیروزاورسیمپل       :حقائق قوم کےسامنےمگرتسلیم کرنےکودل نہیں کرتا

    عمران خان زیرو:نوازشریف اور زرداری ہیروزاورسیمپل :حقائق قوم کےسامنےمگرتسلیم کرنےکودل نہیں کرتا

    اسلام آباد :عمران خان زیرو ہے :نوازشریف اور زرداری ہیروز اور سیمپل :حقائق قوم کے سامنے مگرتسلیم کرنے کودل نہیں کرتا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ وہ اپنے مخالفین کی نظروں میں زیرو ہیں مگرقوم کی نطروں میں ہیرو، ایسے ہی نوازشری اور زراری اپنے پیروکاروں کی نظرمیں ہیروز جبکہ قوم کی نظرمیں زیرو ہیں ، اس دعوے کی تصدیق حقائق سے ہوتی ہے جو ابھی سامنے آئے ہیں ،

    ادھر انہیں حقائق پر مشتمل کچھ رپورٹس منطرعام پرآئی ہیں‌، جن کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے غیرملکی دوروں پر قوم کے لاکھوں ڈالرز بچانے کا وعدہ بھی پورا کردکھایا، ماضی میں حکمرانوں نے ڈالرز اڑا کر ملکی قرضوں میں اضافہ کردیا۔

    وزیراعظم عمران خان اور ماضی کے حکمرانوں نے غیر ملکی دوروں پر کتنے ڈالرز خرچ کیے، سینیٹر فیصل جاوید نے تفصیلات جاری کردیں، فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ لیڈر جو حقیقی طور پر قوم کے پیسے کی قدر کرتا ہے اسی لیے عمران خان نے بین الااقوامی دوروں میں قوم کے لاکھوں ڈالرز بچائے ہیں۔

    فیصل جاوید نے کہا کہ مآضی کے حکمرانوں نے لاکھوں ڈالرز اپنی ذاتی عیاشیوں پر اڑائے جس کے باعث ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا۔

    پی ٹی آئی سینیٹر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دورہ افغانستان میں سابق صدر آصف زرداری نے 44 ہزار ڈالر خرچ کیے جب کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا خرچہ 51 ہزار ڈالرز آیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے دورے پر 58 ہزار ڈالرز خرچ کیے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے صرف 11 ہزار ڈالرز میں دورہ افغانستان مکمل کیا۔

    فیصل جاوید نے بتایا کہ دورہ ڈیووس میں یوسف رضا گیلانی کا 4 لاکھ 59 ہزار ڈالر خرچ آیا، نواز شریف کا ڈیووس میں 7 لاکھ 62 ہزار ڈالر کا خرچہ ہوا، شاہد خاقان عباسی نے 5 لاکھ 61 ڈالرز خرچ کیے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے صرف 68 ہزار ڈالرز میں دورہ ڈیووس مکمل کیا۔

    سینیٹر فیصل جاوید کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سابق صدر زرداری نے دورہ اقوام متحدہ میں 13 لاکھ ڈالرز، نواز شریف نے 11 لاکھ ڈالرز، شاہد خاقان عباسی نے 7 لاکھ ڈالرز جب کہ عمران خان نے صرف 1 لاکھ 62 ہزار ڈالرز خرچ کیے۔

    دوسری جانط واشنگٹن کے دورے پر زرداری کا خرچہ 7 لاکھ 52 ہزار ڈالر، نواز شریف کا 5 لاکھ 49 ہزار ڈالرز جب کہ وزیراعظم عمران خام کا خرچہ صرف 67 ہزار ڈالرز کا ہوا۔

    آخر میں فیصل جاوید نے ٹوئٹ میں کہا کہ ماضی کے حکمرانوں اور عمران خان میں فرق صاف ظاہر ہے۔

  • نااہل وزیراعظم سے اعلان جنگ کر کے 27 فروری کو اسلام آباد کے لئے نکلیں گے : بلاول بھٹو

    نااہل وزیراعظم سے اعلان جنگ کر کے 27 فروری کو اسلام آباد کے لئے نکلیں گے : بلاول بھٹو

    کراچی : چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نااہل وزیراعظم کا مقابلہ کرنے کے لئے اعلان جنگ کرکے 27 فروری کو اسلام آباد کیلئے نکلیں گے۔

    سرگودھا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے تبدیلی کے نام پر تباہی چل رہی ہے، عوام کے انسانی اور معاشی حقوق پر حملے ہو رہے ہیں، ایک کروڑ نوکریوں، 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا گیا تھا ان کا کیا بنا، ظالموں نے تجاوزات کے نام پر غریب کے سر سے چھت چھین لی، ایک کروڑ نوکریاں دینا تو درکنار جن کے پاس پہلے سے روزگار تھا وہ بھی چھین لیا گیا، ملک میں ہر طبقہ سراپا احتجاج ہے، اور وزرا کہتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی ہے ہی نہیں، ملک میں مہنگائی ہے اور اس کے ذمہ دار عمران نیازی ہیں۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے شروع سے ہی انہیں سلیکٹڈ کہا تھا، آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل عوام اور غریب دشمن ڈیل ہے، آپ کی ناکامی کا بوجھ غریب عوام پر پڑے گا، زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن جب سے یہ ناکام حکومت آئی ہے ہماری زراعت تباہ ہوگئی، کسان یوریا کے بحران پر احتجاج کر رہے ہیں، کرپشن پر عوام سے جھوٹ بولا گیا، لیکن ٹرانسپرنسی کی رپورٹ نےعمران خان کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑا دیا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ظالم حکومت پروپیگنڈے کے باوجود زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی، عمران خان کی نا اہلی کا بوجھ عام آدمی کب تک اٹھائے گا، کٹھ پتلی کو بھگانے کے لئے عوام کے ساتھ نکلیں گے اوربھگائیں گے، نااہل وزیراعظم کا مقابلہ کرنے کے لئے اعلان جنگ کرکے 27 فروری کو اسلام آباد کیلئے نکلیں گے، اور وہاں پہنچ کر اپنے مطالبات حکومت اور دنیا کے سامنے رکھیں گے، تاریخ میں لکھا جائے گا جیالے دیوار بن کر کٹھ پتلی کے آگے کھڑے تھے، ہم نے ہر مشکل وقت میں ملک کو بحران سے نکالا ہے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آمریت کامقابلہ کیا ہے، ہم عوام کی خدمت کے لئے سیاست کرتے ہیں، جمہوریت ہماری سیاست اور مساوات ہماری معیشت ہے ۔

  • جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:استثنیٰ:اٹھنےوالےسوالات:     جوابات کون دےگا:عدلیہ اداوں پرغورکرے:فوادچوہدری

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:استثنیٰ:اٹھنےوالےسوالات: جوابات کون دےگا:عدلیہ اداوں پرغورکرے:فوادچوہدری

    اسلام آباد:فروغ نسیم نےسچ فرمایا:لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ”مجھّاں مجھّاں دیاں بہناں ہوندیاں نیں”:عدلیہ خوداپنےوقار کی ذمہ دار:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے متعلق ساتھی ججز کے فیصلے پرمحتاط مگرقابل غور عرض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرقانون ڈاکٹرفروغ نسیم نے سچ فرمایا کہ اگر جج جوابدہ نہیں تو میں اور وزیراعظم خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جوابدہ ہوں

    وفاقی وزیرفواد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ اگریہی اندازعدل رہا تو پھرعدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، غریب اور عام شہری سوال کررہے ہیں کہ اگرججز خلائی مخلوق ہیں اور وہ قانون کے سامنے جوابدہ نہیں تو پھرسیاستدان، بیوروکریٹس اور دیگر سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین پر کیوں عدل کی تلوار لٹکائی جارہی ہے

    فواد چوہدری نے کہا کہ میں محسوس کررہا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو استثنائی اعزاز ملنے کے خلاف ایک ردعمل پیدا ہورہاہے جوآگے بڑھ کر انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے ، عدلیہ کا وقار مجروح ہوسکتا ہے ، لوگوں کاعدلیہ سے اعتماد اٹھ سکتا ہے اور یہ چیزیں عدالتی نظام کی بقا اور اس کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں

    فواد چوہدری نے کہا کہ میں تو یہ مشورہ ہی دے سکتا ہوں کہ عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں اپنی تیزی سےگرتی ساکھ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے

    اپنے بیان میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر قانون فروغ نسیم کا سوال اہم ہے، اگر جج صاحبان بیوی بچوں کے اثاثوں کے ذمہ دار نہیں تو سیاستدانوں، بیوروکریٹس کا احتساب کیسے ممکن ہے؟فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں اپنی تیزی سےگرتی ساکھ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جب جج جوابدہ نہیں تو میں اور وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جوابدہ ہوں۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ فل بینچ کا فیصلہ غلط اور تضادات کا حامل قرار دے دیا۔

    ایک نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا، ہم جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےمخالف نہیں، ہمارے پاس ایک معلومات آئی وہ ہم نے آگے بڑھائی۔

    ان کا کہنا تھاکہ کیا مسزسریناعیسیٰ نے یہ وضاحت دی کہ پیسے کہاں سے آئے؟ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہےکہ میرا تعلق امیرخاندان سے ہے، ایف بی آرنےاپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مسزسرینا عیسیٰ اپنے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہیں۔

    سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ درست نہیں ہے، ہمارے پاس قانونی آپشنز موجود ہیں، معزز ججز کے اختیارات سب سے زیادہ اورذمہ داری بھی سب سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ میں آج وزیرقانون نہیں بلکہ آزاد شہری اوربطوروکیل بات کررہا ہوں، میرا جسٹس فائزعیسیٰ سے کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔

    وزیرقانون کا کہنا تھاکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی طرح دیگرسرکاری افسران بھی پبلک آفس ہولڈرز ہیں، کیا اب ڈسٹرکٹ ججز اورانتظامی افسران بھی اہل خانہ کے معاملات سے آزاد ہونگے؟ اگرایسا ہے توپھرمیں بھی کیوں اپنے اہل خانہ کے اثاثے ظاہرکروں؟

    ان کا کہنا تھاکہ اگر سپریم کورٹ کا جج اپنے اہل خانہ کے اثاثوں کا جواب دہ نہیں تو کیا یہ معیار دیگر سرکاری ملازمین کیلئے بھی ہوگا؟ اگر جج جواب دہ نہیں تو مثلاً میں اور وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جواب دہ ہوں؟

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

    سپریم کورٹ نے کیس کا مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا اور عدالت نے 9 ماہ 2 دن بعد نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے جب کہ فیصلہ 45 صفحات پر مشتمل ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی اور اہلخانہ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اور اگرفرض کرلیا جائے تو کیا تحقیقات کرنے والوں کے اس عمل سے جسٹس فائز عیسی اور ان کی اہلیہ کے غیرقانونی اثاثوں کا کفارہ ادا ہوجائے گا ، عدلیہ کو فیصلہ دیتے وقت معاشرے ، ملک اور نسلوں کا سوچنا چاہیے تھا نہ کہ اہنے ایک ساتھی کو ریلیف دینے کی کوشش کرنی چاہیے تھی

  • سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو    میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: ملکی ترقی کیلئے سی پیک ناگزیر ہے:چین کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں جومیری آمد کے شدید منتظرہیں: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین کے اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں وزیراعظم نے لکھا کہ پاک چین شراکت داری بین الریاستی تعلقات میں بے مثال ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے، ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ملکی عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔

    انہوں نے لکھا کہ ہمارے روابط عالمی و علاقائی پیش ہائے رفت کے اتار و چڑھاو سے قطع نظر آزمودہ اور ہمہ وقت ہیں۔ گزشتہ برس ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے عظیم الشان تقریبات نے ہماری دوستی کو نئی قوت اور ولولہ بخشا ہے۔ پاکستان میں ہمارے لئے چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں جسے ہمہ جہت سیاسی حمایت حاصل ہے اور میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ہماری عوام اس دوستی کی حقیقی قدر کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور اس کے مزید فروغ کے لئے جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس دوستی کی گہرائی اور استحکام کے اظہار کے حوالے سے کی خصوصی ضرب المثل وضع کیے گئے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں سرمائی اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ خود ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے وہ اس جذبے کو سمجھ سکتے ہیں جو ایک قوم میں اولمپکس کی طرح کے کھیلوں کے مقابلے سے پیدا ہوتاہے، میں سمجھتا ہوں کہ کھیلیں یکجہتی کا عنصر ہوتی ہیں اور یہ سیاست سے بالا تر ہونا چاہئیں۔

    وزیراعظم نے اس بڑے ایونٹ کی میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور تمام شرکاؤں کی صحت و تحفظ اور کامیاب کھیلوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اکتوبر 2019 میں ان کے آخری دورہ چین کے بعد سے کووڈ 19 کی عالمگیر وبا کی صورت میں سب سے بڑا عصری چیلنج سامنے آیا جس سے دنیا میں تبدیلی آئی ہے، یہ وبا انسانی زندگیوں اور معاش پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک اور عفریت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی ان کامیابیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو بنی نوع انسانیت نے آج تک حاصل کی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جغرافیائی سیاست کی ضروریات نے ہمارے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا جو بہت سے لوگوں کے لیے گزشتہ صدی کے نظریاتی محاذآرائی کی یاد دلاتا ہے۔ افغانستان گزشتہ 20 سالوں سے عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھا اور خطے میں امن کی واپسی کی امید کے ساتھ اس عدم استحکام اورانتشارکے خاتمہ کا وقت قریب آچکا ہے۔افغانستان میں معاشی بدحالی اور انسانی بحران کے سدباب کیلئے بین الاقوامی برادری کا متحرک کردار اورشمولیت ضروری ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ چیلنجز خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں ہمارے خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے بوجوہ تکثریت اور بین الاقوامی تعاون کے متقاضی ہے جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی اقتصادی فورم سے اپنے حالیہ خطاب میں مناسب طور پر ذکر کیا ہے کہ عالمی بحران کے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے درمیان ممالک 190 چھوٹی کشتیوں میں الگ الگ سوار نہیں بلکہ سب ایک بڑے جہاز کے سوار ہیں جس پر ہماری مشترکہ تقدیربھی ہے۔

    عمران خان نے لکھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے پاکستان اور چین نے ماضی میں مشترکہ طور پر ایسی عہد ساز تبدیلیوں کو عبور کیا اور اس میں کامیاب رہے۔ دونوں ممالک نے بنیادی قومی مفادات کے امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ہمارا مشترکہ وژن ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے میں تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے، سرحدوں سے متعلق امور، مسئلہ کشمیر جیسے تمام تصفیہ طلب مسائل کومذاکرات وسفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں واقدار کے مطابق حل کرنا چاہئیے ۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ کووڈ 19 کی عالمگیروبا کے خلاف دوطرفہ تعاون نے پاک چین مضبوط دوستی کو مزید تقویت دی ہے۔ آہنی بھائی ہونے کے ناطے پاکستان عالمگیروبا کے پھوٹنے کے بعد چین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ صدر عارف علوی کے بیجنگ کے یکجہتی دورے سے لے کر چین کی جانب سے وبا سے نمٹنے کیلئے اشیاء سے لدھے 60 سے زائد طیاروں کی پاکستان روانگی تک باہمی تعاون اور خیر سگالی کی روشن مثال سامنے آئی ہے۔ چینی ویکسین اب پاکستان میں جاری بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا بنیادی مرکز بن چکی ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ پائیدار اورمضبوط پائیدار ترقی کے لیے پاکستان نئی راہوں کا تعین اور جغرافیائی واقتصادی (جیواکنامکس) مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی میں ہماری حکومت کے عوام کی خوشحالی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے نقطہ نظرپرتوجہ مرکوزکی گئی ہے، ان اہداف کے حصول کیلئے ہم چین کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کررہے ہیں خواہ وہ 80 کروڑ لوگوں کو کو مکمل غربت سے باہر نکالنا ہو یا عالمگیروبا کے خلاف عوام کی جنگ میں فتح ہوں ۔ دوست، پڑوسی اور شراکت دار ملک کے طور پر چین کے لوگوں، کاروباری اداروں اور کاروباری شخصیات کو پیش کرنے کے لیے پاکستان کے پاس بہت کچھ ہے۔

    چینی سرمایہ کاروں اورعوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بھرپور تاریخ، ثقافتی تنوع اور شاندار مناظر کا حامل ملک ہیں۔22 کروڑ آبادی، نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت، سٹریٹجک محل وقوع، سرمایہ کاری کیلئے سازگارودوستانہ ماحول اور چینی عوام کے لیے گرمجوشی کے جذبات کے ساتھ پاکستان آپ کو آپ کی اگلی سرمایہ کاری اور اگلے تفریحی سفر کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ملک بن گیا ہے۔ 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ کئی چینی کاروباری اداروں نے پاکستان میں مضبوط موجودگی قائم کرلی ہے جو ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کرداراداکررہے ہیں ۔ چین پاکستان کے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان صنعت کاری، زراعت میں جدت ، ای کامرس اور ڈیجیٹل فنانس میں چینی مہارت سے استفادہ کرسکتاہے ۔

    عمران خان نے لکھا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ابتدائی شرکاء میں سے ایک ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام( بی آر آئی) کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے ۔ ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ سی پیک پاکستان کے توانائی کے دیرینہ بحران سے نمٹنے اوربنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان گوادر کی بندرگاہ اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی پر بھی تیزی سے پیش رفت کررہاہے جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ترقی کی کوئی بھی مقدار اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک اس کے ثمرات معاشرے کے معاشی طور پسماندہ طبقے تک نہ پہنچ جائیں، اس لیے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور پاکستانی عوام کو اپنی قسمت کا مالک بننے کے لیے بااختیار بنانا میراوژن ہے، اسی تناظرمیں سی پیک کے دوسرے مرحلہ کو روزگار کی تخلیق، صنعتی جدید کاری، معاش میں بہتری، دیہی علاقوں اور سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیاہے ۔ ان منصوبوں کوتقویت دینے کیلئے ہماری حکومت نے “احساس” پروگرام شروع کیاہے جوتخفیت غربت اور سماجی اٹھان کے لیے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنےاور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چین موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کو کم کرنے اور فطرت کو اس کی اصلی خوبصورتی میں بحال کرنے میں قائدانہ کرداراداکررہاہے ۔ ہم چین کے ساتھ ملکر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داری کے اصول کی بنیاد پر مستقبل میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ان کا سرسبز وشاداب پاکستان اورچین کے صدر شی جن پنگ کا “خوشحال، صاف اور خوبصورت دنیا” کا وژن ایک جیساہے ۔ پاکستان جنگلات کووسعت دینے اورجنگلات کی بحالی کیلئے دنیا کی سب سے پرجوش کوششوں میں سے 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ایک ارب درخت لگا چکا ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ڈیجیٹل دور میں جدت، اختراع اور ٹیکنالوجی پائیدار اور مضبوط وتیزتر ترقی کی بنیادی گاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، پاکستان چین کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، کلائوڈ اور بگ ڈیٹا میں دوطرفہ استفادہ پرمبنی تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ چندسالوں میں دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے سب سے زیادہ امید افزا اور یقین دہانی کرنے والے پہلوئوں میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں گرمجوشی ہمارے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ دونوں ممالک کے 40 سے زائد صوبے اور شہر جڑواں قراردئیے گئے ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے، اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔ خوشی ہے چینی عوام صدر شی جن پنگ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قابل قیادت کی رہنمائی میں عظیم قومی تجدید کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وہ اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی صورت میں چین کو ہمیشہ ایسا قابل اعتماد دوست ملے گا جو نہ صرف امن اور خوشحالی کی لہروں بلکہ چیلنجوں کے بڑھتے ہوئے طوفانوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    وزیراعظم نے چین کی قیادت اورعوام کو شیر کے سال اور بہار کے تہوار کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ انہیں امید ہے کہ پاک چین دوستی کا مقدس شعلہ پائیدار چمک اور گرمجوشی کے ساتھ چمکتا رہے گا۔ پاک چین دوستی زندہ باد!

  • دہشتگردوں کو کٹہرے میں لائیں گے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا: آرمی چیف

    دہشتگردوں کو کٹہرے میں لائیں گے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا: آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔

    خیال رہے کہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل دہشتگردوں کے حملے میں بلوچستان کے ضلع کیچ میں دس جوان شہید ہوئے تھے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف نے تربت کا دورہ کیا، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے استقبال کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق تربت کے بعد جنرل قمر باجوہ نے بلوچستان کے ضلع کیچ کا بھی دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پورا دن فوجیوں کے ساتھ گزارا اور کیچ میں تعینات فوجیوں سے بات چیت کی جبکہ کور ہیڈکوارٹر ایف سی بلوچستان جنوبی میں بریفنگ دی گئی اور پاک ایران باڑ لگانے سمیت سکیورٹی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان حکومت کو ترقیاتی منصوبوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، پاک فوج کے صوبائی حکومتی مدد کے لیے سماجی و اقتصادی اقدامات جاری ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایا کہ بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال غیر مستحکم کرنے کی دشمن کی کاوشوں کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔

    آرمی چیف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ فوج پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے، صوبے کی ترقی اور خوشحالی کا مطلب ملک کی ترقی ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دشمن قوتوں کی طرف سے خلل ڈالنے والی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، بلوچستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • بھارت نے جاسوسی کیلئے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی وئیرخریدا،رپورٹ

    بھارت نے جاسوسی کیلئے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی وئیرخریدا،رپورٹ

    نئی دہلی: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کے ساتھ جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا سوفٹ وئیر اسپائی وئیرخریدنے کا بھی معاہدہ کیا بھارتی حکومت اوراسرائیل کے ہتھیاروں کی خریدی کے معاہدے میں اسپائی وئیرکی خریداری بھی شامل تھی۔

    باغی ٹی وی :پچھلے سال ایک بڑے تنازعہ نے جنم لیا جب این ایس او گروپ کچھ حکومتوں کی طرف سے صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں، سیاست دانوں اور دیگر ممالک بشمول ہندوستان کی جاسوسی کے لیے اپنے پیگاسس سافٹ ویئر کے مبینہ استعمال کے ساتھ سرخیوں میں آیا، جس سے رازداری کے لیے
    متعلقہ مسائل پر تشویش پیدا ہوئی۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    نیویارک ٹائمز نے ‘دنیا کے سب سے طاقتور سائبر ہتھیاروں کے لیے جنگ’ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی فرم NSO گروپ تقریباً ایک دہائی سے "اپنا سرویلنس سافٹ ویئر سبسکرپشن کی بنیاد پر دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فروخت کر رہا ہے یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ یہ وہ کام کر سکتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا ہے کوئی نجی کمپنی نہیں، یہاں تک کہ کوئی ریاستی انٹیلی جنس سروس بھی نہیں کر سکتی ہے: کسی بھی آئی فون یا اینڈرائیڈ سمارٹ فون کی انکرپٹڈ کمیونیکیشنز کو مستقل اور قابل اعتماد طریقے سے کریک کریں۔” رپورٹ میں جولائی 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کا بھی حوالہ دیا گیا تھا –

    پیگاسس سے جاسوسی پاکستان سالمیت پرحملہ ہے، قانونی چارہ جوئی کرینگے، مشیر داخلہ کا اعلان

    امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی سرکار نے 2017 میں اسرائیل سے اسپائی وئیرپیگاسس خریدنے کا بھی معاہدہ کیا۔ اسپائی وئیرکوسیاسی مخالفین اوردیگرشخصیات کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔

    کیا دنیا بھر میں جاسوسی کرنے والے پیگاسس کی مدد واٹس ایپ نے کی اور پاک فوج کیسےمحفوظ رہی؟ پی ٹی اے حکام کے انکشافات

    بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے 2 بلین ڈالرزمالیت کے ہتھیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا جس میں جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا اسپائی وئیربھی شامل تھا بھارت اوراسرائیل کی حکومتوں نے اسپائی وئیرکی فروخت کے معاہدے کوعوامی سطح پرتسلیم نہیں کیا ہے۔

    چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مہینوں بعد، نیتن یاہو نے ہندوستان کا ایک غیر معمولی سرکاری دورہ کیا۔ اور جون 2019 میں، ہندوستان نے اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں اسرائیل کی حمایت میں ووٹ دیا تاکہ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم کو مبصر کا درجہ دینے سے انکار کیا جا سکے، جو کہ قوم کے لیے پہلا قدم تھا۔”

    کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے اسپائی وئیرکی خریداری کے انکشاف پرمودی سرکار کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ غداری ہے۔ حکومت نے سیاسی مخالفین، ججز اورعام آدمی کی جاسوسی کے لئے آلات خریدے جوغداری کے مترادف ہے کانگریس نے اسپائی وئیر کی خریداری سے متعلق شفاف تحقیقات اورذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

  • وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان 3 سے 5 فروری تک چین کے دورہ کریں گے، دورے کے دوران وزیر اعظم سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور چینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ یہ دورہ ہر طرح کے حالات میں تعاون کے لیے دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا اور آنے والے وقت کے لیے مشترکہ مستقبل سے متعلق پاک ۔ چین کمیونٹی روابط کو مضبوط کرنے کے مقصد کے حصول میں مدد دے گا وزیر اعظم عمران خان تقریباً دو سال بعد چین کا دورہ کر رہے ہیں، اہم دورے کے دوران دونوں ممالک باہمی تعاون کے جاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ نئے منصوبوں پر غور کریں گے۔

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    ترجمان دفتر خارجہ نے اس موقع پر ایک بار پھر اربوں ڈالر کے انفرااسٹرکچر منصوبے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی رفتار میں کمی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ تیزی سے مکمل ہو رہا ہے گزشتہ دو سالوں کے دوران کورونا وبا کے باجود سی پیک پر کام تیزی سے جاری ہے، گزشتہ جے سی سی کا اجلاس کافی مثبت رہا اور سی پیک کے کئی منصوبے جاری ہیں۔

    عاصم افتخار کا سی پیک روڈ اینڈ بیلٹ انیشیٹو کو اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ قرار دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک منصوبے کو مزید آگے بڑھانے اور اس کی کامیابی کے لیے پرعزم ہیں۔

    بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فی الحال اس کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں دونوں ممالک کے ہائی کمشنر کی واپسی بھی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان چیزیں مثبت سمت میں جانے لگیں موجودہ حالات میں معاملات بہتر نہیں ہیں اور ہمارے خیال میں موجودہ صورتحال کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

    اسلام آباد: گھرمیں کھڑی گاڑی سے کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن برآمد

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کو دونوں ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں بھارت کے اپنے زیادہ تر پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں بھارت نے پاکستان کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے اور تعلقات کو نارمل کرنے کے مشترکہ دوستوں کے مشورے کو نظر انداز کیا ہے بدقسمتی سے بھارت نے مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ صورتحال کو خراب کیا ہے۔

    پرویز مشرف اثاثہ جات کیس: نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر