Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • واللہ :ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی،صورت حال بہترہونا شروع گئی ہے”وزیراعظم

    واللہ :ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی،صورت حال بہترہونا شروع گئی ہے”وزیراعظم

    اسلام آباد: واللہ :ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی،تنخواہیں میں اضافہ ضروری ہے: وزیراعظم نے دل کی بات بتادی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دنیا بحرانوں کی زد میں ہے ، امیرملکوں کا کباڑا ہوگیا ہے ، اللہ نے ہم پرمہربانی فرمائی اور ہربحران سے کامیاب نکلے

    وزیراعظم عمران خان نے ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘‘ پروگرام میں براہ راست عوام کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ ہر مہینہ 2 مہینے کے بعد عوام کی کال سنوں، اصولاً مجھے یہ بات پارلیمنٹ میں بولنا چاہیے، پارلیمنٹ میں مجھے بولنے نہیں دیتے۔

    ’’مہنگائی دنیا بھر میں ہے‘‘وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی، مہنگائی مجھے کئی دفعہ راتوں کو جگاتی ہے جب کہ مہنگائی دنیا بھر میں ہے۔

    پاکستان سےلائیو ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں پوری دنیا کا ہے، جب ہمیں حکومت ملی تو ملکی تاریخ کا 20ارب ڈالر کا خسارہ ملا، ہماری حکومت آئی تو سارا دباؤ قرض کی وجہ سے روپے پر پڑا، ہم پر بوجھ پڑا تو روپیہ گرا ، جو چیز ہم امپورٹ کرتے ہیں وہ مہنگی ہوجاتی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کروناکی وجہ سے دنیا میں سپلائی بحران کاسامنا ہے، برطانیہ کی سالانہ آمدنی پاکستان سے 50 فیصد زیادہ ہے، وہاں بھی غذائی بحران جاری ہے، جاپان میں مہنگائی کا 20سالہ ریکارڈ ٹوٹا ہے، فرانس میں 13سال بعد مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے، جرمنی میں اس وقت مہنگائی کا 30سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، یورپ میں بھی 30سال کی سب سے زیادہ مہنگائی ہے۔ ڈالر افغانستان جانا شروع ہوئے جس سے ہمارے روپے پر دباؤ بڑھ گیا، جب کہ موجودہ مہنگائی کی لہر کورونا کی وجہ سے ہے، دنیا بھر میں تاریخی مہنگائی ہے، ہم سے امیر ترین ملک بھی مہنگائی کی لپیٹ میں ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہو رہا ہے، تنخواہ دار طبقے کی حالت کو ٹھیک کرنا ہے، کوشش ہے کہ جلد ہی تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کی مدد کریں۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ عالمی اداروں جیسے بلومبرگ اور کئی اور ادارے شامل ہیں انہوں نے دنیا کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، بلوم برگ کے مطابق گیس بحران کے بعد کھانے کی اشیاء کا بھی بحران آنیوالا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہماری انڈسٹری سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، مزدوروں کے حالات بہتر ہوئے ہیں، کسانوں کے پاس پیسہ آیا ہے، ملک میں کارپوریٹ سیکٹر نے ریکارڈ منافع کمایا جب کہ کارپوریٹ سیکٹر سے اپیل ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں۔

  • افغان باقی کہسار باقی’ الحکم للہ الملک للہ:وزیراعظم کا”افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کا اعلان

    افغان باقی کہسار باقی’ الحکم للہ الملک للہ:وزیراعظم کا”افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کا اعلان

    اسلام آباد:افغان باقی کہسار باقی’ الحکم للہ الملک للہ:وزیراعظم کا”افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے “افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کردی.

    وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں “افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کی تصویر شیئر کی ہے، اور کہا ہے کہ میں اس مہم میں اپنی آواز بھی شامل کروں گا۔

     

    وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ افغانستان میں پھیلنے والے انسانی بحران کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی بین الاقوامی مہم میں شامل ہوں، افغانستان میں لاکھوں افغانوں، خاص طور پر بچوں کو فاقہ کشی کا خطرہ لاحق ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم مسلسل عالمی برادری سے اپیل کررہے ہیں کہ بھوک کے دہانے پر لاکھوں افغانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے،افغانستان کی مدد کرنا اقوا م متحدہ کےاصولوں کے مطابق فرض ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام چیف نے بھی افغانستان میں انسانی بحران پرالرٹ جاری کردیا ہے پاکستان ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرتا رہے گا مگر عالمی برادری کواقدام کرناہوں گے ، یہ سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ افغان عوام کو بحران سے بچایا جائے

     

     

    کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ سب راہرو ہیں واماندۂ راہ

    کڑکا سکندر بجلی کی مانند تجھ کو خبر ہے اے مرگِ ناگاہ

    نادر نے لُوٹی دِلّی کی دولت اک ضربِ شمشیر، افسانہ کوتاہ

    افغان باقی، کُہسار باقی اَلْحُکْمُ لِلّٰہ! اَلْمُلْکُ لِلّٰہ!

    حاجت سے مجبور مردانِ آزاد کرتی ہے حاجت شیروں کو رُوباہ

    محرم خودی سے جس دم ہُوا فقر تُو بھی شہنشاہ، مَیں بھی شہنشاہ!

    قوموں کی تقدیر وہ مردِ درویش جس نے نہ ڈھُونڈی سُلطاں کی درگاہ

  • کپتان کی لیڈرشپ دنیامان گئی:اکانومسٹ نارملسی انڈیکس میں پاکستان مسلسل تیسری بار ٹاپ تھری

    کپتان کی لیڈرشپ دنیامان گئی:اکانومسٹ نارملسی انڈیکس میں پاکستان مسلسل تیسری بار ٹاپ تھری

    اسلام آباد : کپتان کی لیڈرشپ دنیامان گئی:اکانومسٹ نارملسی انڈیکس میں پاکستان مسلسل تیسری بار ٹاپ تھری ،اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دنیا میں کسی اور ملک نے یہ کامیابی حاصل نہیں کی،پاکستان نے حاصل کی

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ مالی سال 2021 میں 5.37 فیصد جی ڈی پی گروتھ سے اس کی عکاسی ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 14 سال میں یہ دوسری بلند ترین شرح نمو ہے

    شوکت ترین نے کہا کہ بلوم برگ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کی دہائی میں داخل ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ اگلے دس سال آمدن میں فرق کم کرنے میں مدد ملے گی روزگار میں اضافہ اور انسانی ترقی میں بہتری آئے گی.

    ادھر وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کی ٹیم کو تین سالوں میں 5.37 فیصد کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے جس سے روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا ہوئے اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا.

    شوکت ترین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلومبرگ اور دی اکانومسٹ جیسی بین الاقوامی معاشی تنظیموں نے پاکستان کی کووڈ کے دوران ملازمتوں اور زندگیوں کو بچانے کے لیے کی گئی کامیاب معاشی اصلاحات اور اقدامات کو تسلیم کیا ہے.

    وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ متوسط اور معاشی طور پر کمزورطبقے کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات شروع کریں جو درآمدی مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ مسلسل جاری عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے پر تبادلہ خیال کرتے رہے ہیں جس نے پاکستان میں مہنگائی اور تجارتی خسارے کو بری طرح متاثر کیا ہے.

    وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ مقامی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں دسمبر سے کم ہو رہی ہیں جیسا کہ ایس پی آئی سے ظاہر ہوتا ہے تاہم وہ پرامید ہیں کہ جیسے ہی بین الاقوامی سطح پر قیمتیں کم ہوں گی درآمدی اشیا پر دباو بھی کم ہو جائے گا وزیرِ اعظم نے مجموعی طور پر ٹیکس وصولی، برآمدات اور ترسیلات زر پر اطمینان کا اظہار کیا.

  • کورونا سے مزید 20 افراد جاں بحق، 7 ہزار 586 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا سے مزید 20 افراد جاں بحق، 7 ہزار 586 نئے کیسز رپورٹ

    لاہور:کورونا سے اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا، گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مزید 20 افراد جاں بحق اور 7 ہزار 586 وبا میں مبتلا ہو گئے۔

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 97 ہو گئی ہے جبکہ ایکٹو کیسز کی تعداد 70ہزار 263 ہے۔ ملک میں 13لاکھ 67 ہزار 605 افراد کورونا سے متاثر ہوئے

    اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 7 ہزار 586 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ملک میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 13 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    گذشتہ روز 58 ہزار 334 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جبکہ ملک بھر میں تاحال 2 کروڑ 45 لاکھ 32 ہزار 952 کوروناٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا سے متاثرایک ہزار 83 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 647 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 12 لاکھ 68 ہزار 245 ہو گئی ہے۔

  • نور مقدم کو انصاف :ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے:ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال

    نور مقدم کو انصاف :ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے:ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال

    لاہور:نور مقدم کو انصاف ۔ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے۔ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال ،اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ٹویٹر پر سپیس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بیس جولائی کو نور مقدم کی لاش ملی ۔پاکستانی کمیونٹی نے احتجاج کیا جسٹس فار نور کر ٹرینڈ ٹاپ پر رہا ۔ ظاہر جعفر گرفتار ہوا ۔ ظاہر جعفر کے برطانیہ میں جنسی ہراسگی کے کیس کی بھی تحقیقات کرنے کی بات کی گئی پچیس جولائی کو ظاہر جعفر کے والدین کو بھی گرفتار کیا گیا گارڈ کو بھی گرفتار کیا گیا تھراپی ورکس کے دفتر کو سیل کر دیا گیا۔ ظاہر جعفر نے قتل کا پولیس کے مطابق اعتراف کیا۔ 27 جولائی کو موبائل ریکور کیے گیے تحقیقاتی افسر کا کہنا تھا کہ موبائیل رہائشگاہ سے ملے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چیک کی گئیں ۔ ظاہر جعفر کے پولی گراف ٹیسٹ ہویے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے کرداروں بارے بھی جانچا گیا۔ یکم اگست کو ملزم کا 14 روزہ جوڈیشیل ریمانڈ دیا گیا 15 اگست کو ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی عدالت نے لکھا کہ جرم کی حوصلہ افزائی کی۔ تھراپی ورکس کے عہدیداروں کو بھی مالک سمیت گرفتار کیا گیا 23 اگست کو تھراپی ورکس والوں کو ضمانت مل گئی ۔26 اگست کو نور کے والد نے ضمانت کی درخواست پر اپیل دائر کی ۔ پھر بیاں آیا تھراپی ورکس کی جانب سے کہ ظاہر شرابی تھا پاگل نہیں تھا ۔ فزیو تھراپی کے لیے ظاہر آیا تھا ۔ پولیس نے اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں چالان جمع کروایا ۔ 13 ستمبر کو نور کے دوستوں نے عدالت کے باہر احتجاج کیا ۔ پھر فرد جرم عائد کی گئی ۔ شوکت مقدم کا بیان اہم ہے عدالت سے درخواست کی ملزم کو پھانسی کی سزا دی جائے ۔ پہلے درندہ کہتا تھا کہ جیل میں نہ رکھو ۔ اب ڈرانا شروع کیا کبھی کرسی پر کبھی سٹریچر پر ۔ پاگل بننے کے ڈرامے کر رہا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت سی باتیں ایسی ہوئیں جس سے محسوس ہوا کہ بچانے والوں نے غلط سٹوریز فیڈ کروائیں ۔ مجھے کہا گیا کیونکہ ہم روز رپورٹنگ کر رہے تھے کہ غلط کر رہے ہو۔ لیگل نوٹس بھجوایا گیا مجھے ،میں نے وہ کیمرے سامنے پھاڑ دیا پھر آفر ہوئی کہ مل لو۔ وہ بہت ایکٹو ہیں ۔اور ملزم کو بچانے کی کوشش کر رہے ۔قتل ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ۔ جب تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ اسلام آباد میں اسی طرح کے چار قتل ہوئے ۔ اسلام آباد اور اسکے گردونواح میں جو ہو رہا ہے بڑا سیریس مسئلہ ہے۔ سائبر کرائم کیوں اس پر چپ ہے

    سینیٹر سحر کامران نے سپیس میں کہا کہ اگر والدین ذمہ داری پوری کرتے تو یہ قتل نہ ہوتا ۔ ظاہر جعفر کے والدین نے ذمہ داری ادا نہیں کی ایک لڑکی کیوں گیوں اور کہاں گئی اگر کوئی کسی پر بھروسہ کرتا ہے تو یہ قتل کا جواز نہیں قتل ایک جرم ہے اسکی سزا ہونی چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قتل کے ایک ہفتے بعد بچی کی کردار کشی کے حوالہ سے مہم چلائی گئی وہ گھٹیا لوگ تھے جنہوں نے چلائی ہم کرایم کو برا نہیں کہہ رہے جواز تلاش کر رہے ہیں

    سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ لڑکی جانتی تھی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ سر تن سے جدا کر دیں اسکا مطلب رشتوں پر بھروسہ ختم کر دیں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی دفن نہیں کر سکتے کیا ہم زمانہ جہالت میں جا رہے ہیں ۔کچھ بھی ہو قتل کا جواز نہیں اعتماد کو دھوکا دینا اس سے بھی بڑا جرم ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اولاد میں فرق کرنا چھوڑنا ہو گا لڑکوں کے لیے اور بات لڑکیوں کے لیے اور ایسے نہیں چلے گا

    سحرکامراں کا کہنا تھا کہ ہم جواز تلاش کرنے کے بجائے ملزم کو سزا دلوائیں جواز تلاش کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے ،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمیں سوسائٹی کو دیکھنا ہے

    فاطمہ نے کہا کہ والدین کو بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے لڑکے کو دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں پڑھانے کا خواب دیکھتے ہیں لڑکی کو بوجھ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعلیم کی بجائے اسے پراے گھر جا کر رہنا ہے شادی کرنی ہے بجائے لڑکی کو تعلیم دی جایے یہ کہا جاتا ہے۔ ہمیں اس طرح معاشرے کو صحیح کرنا ہو گا تا کہ والدین لڑکے اور لڑکی میں فرق نہ کریں ایک جیسا سلوک کریں

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایسا کچھ ہوتا ہے تو لوگوں کی باتیں سن کر حیراں ہوتے ہیں بطور قوم اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا اور اپنے کردار کو دیکھنا ہو گا نور مقدم کیس میں انصاف ہونا چاہیے

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ نور مقدم کیس میں انصاف ہونا چاہیے اس سے پہلے کہ عوام پھر انصاف اپنے ہاتھ میں لے لے۔ عادل قیوم کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کو متحرک کرنا ہو گا انکے پاس لمٹڈ فنڈ ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ درندے کو دو گھنٹے کے لیے پنجاب پولس کے حوالے کریں سب پاسورڈ بتا دے گا ۔ پندرہ سال میں تیزاب کے آٹھ ہزار کیسز پاکستان میں ہوئے، سزا ایک کو بھی نہیں ہوئی ۔ ایک لڑکی جو ٹھیک ہونے والی تھی اس نے ڈپریشن میں خودکشی کر لی اگر ہم قوانین نہیں بناتے اور عملدرآمد نہیں کرواتے تو سیریس ایشو ہیں ۔

    قصور ہمیشہ بچی کا نکالا جاتا ہے کیوں ۔ چولہے پھٹنے کے واقعات ہوتے مگر کسی کمپنی پر کوئی مقدمہ نہیں ہوا ہمیں خواتین کے حق کے لیے کھڑا ہونا ہو گا

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کو برہنہ گاؤں میں گھسیٹا گیا چار سال ہو گئے اسکو انصاف نہیں ملا اب علاقہ معززین نے تین چار لاکھ دلوانے کی بات کی ہے ۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کیا کر رہی ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نور مقدم کی جس وقت ڈیڈ باڈی آئی ایک لڑکی وہاں سیلفی بنا رہی تھی ہم کس طرف جا رہے ہیں میں ایک والد ہوں تین دن میں کھانا نہیں کھا سکا۔ ہمیں اسکو ٹیسٹ کیس بنانا ہے اور ملزم کو پھانسی دینی ہے پھر ہم مزید ٹریس کر سکتے ہیں مین چاہتا ہوں کہ نورمقدم کو انصاف دلوائیں ایک کو پھانسی ہو گئی دس اور بچیاں ب جائیں گی

    سینیٹر سحر کامران نے کہا قانون کی عملداری کی مہم بھی چلانی چاہیے میں سعودی عرب میں رہی وہاں ملزم کو فوری سزا ملتی قانون پر عمل نہیں ہوتا یہاں جب تک قانون پر عمل نہیں ہو گا کچھ نہیں ہو سکتا خواتین کے ساتھ واقعات ہوتے رہیں گے

    صحافی ہارون رشید کا کہنا تھا کہ اس ملزم کی پروفائلنگ ہونی چاہیے کہ اسکی زندگی دوستوں کے ساتھ کیسی رہی والدین کے ساتھ کیسی اسکے روئیے جو بھی جانچنا چاہیے ۔اس نے ایسا کیوں کیا اس پر بھی سوچنا چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب سب کچھ ہیں ویڈیو ہیں تو سزا کیوں نہیں دی جاتی ۔کتے قاتل تھے انکو فوری مار دیا جاتا ہے لیکن جس نے انسان کو قتل کیا اس کو سزا کیوں نہیں ۔ قوانین ہیں ان پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔ قانون میں ایک ترمیم کرنی چاہیے ریپسٹ مرڈر کو سرعام پھانسی دینی چاہیے ۔ضیا دور میں ایک واقعہ ہوا تو واقعات ختم ہو گیے ۔ وکٹم شیمنگ کرنیوالوں کو بھی اندر کرنا چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہر گھر کی ایک کہانی ہوتی تھی میرا بیٹا اور بیٹی ۔ تربیت کرنی چاہیے کراٹے سکھانے کی بجایے تربیت کرنی چاہیئے ۔ نورمقدم کو انصاف دلوانے کے لیے اتنا کریں کہ کوئی نہ بھولے۔ ہمیں قاتلوں اور اسکے جو سہولت کار ہیں ان سب کی تصاویر شیر ہوں تاکہ سوشل بائیکاٹ ہو انکا ہم ہاتھ نہیں اٹھا سکتے لیکن جس تقریب میں قاتل ہوں اسکا بائکاٹ تو کر سکتے ہیں

    نیلم کا کہنا تھا کہ مبشر لقمان نے جس طرح نور مقدم کو انصاف دلوانے کے لیے آواز اٹھائی خراج تحسین پیش کرتی ہوں ایک مجرم جو بیمار بھی نہیں اس کو سٹریچر پر کیوں لایا جاتا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ ملزم بالکل ٹھیک ہے اسکو پراپر ڈریس پہنایا گیا تھا ملزم بخشی خانے تک ٹھیک آیا یہ ڈرامہ ہو رہا کسی نے چند پیسے کمائے ہوں گے ہم انصاف نہیں دے سکتے مگر آواز بلند کر سکتے ہیں انسانیت کا خیال آنا چاہیے ۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ ثبوت کے باوجود کیس طول کیوں پکڑ رہا ہے جس طرح ازیت دی گئی مان نہیں سکتی کہ پڑوسیوں کو پتہ نہ چلا ہو گارڈز کو پتہ نہ چلا ہو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گارڈز کو پتہ تھا انہوں نے والدین کو فون کیا یہ ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا فکر نہ کرو ۔ان سب کو سزا ہونی چاہیے۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ عصمت آدم جی کو ضمانت کیسے مل گئی ؟ ثبوت ہونے کے باوجود ک…کیس لیٹ ہو رہا ایسا لگتا نہیں کہ کچھ ہو گا ۔انکھوں سے دیکھ رہے ہیں ملزم ٹھیک ہے عوام کو بیوقوف کیوں بنایا جا رہا ہے سٹریچر پر لا کر

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملک میں چیک اینڈ بیلنس نہیں تھراپی ورکس کی کمپنی کا وہ پیسے بناتے ہیں لوگوں کو خراب کرتے ہیں ۔ میں کورٹ کی پروسیڈنگ پر ویڈیو کرتا ہوں رپورٹ کرتا ہوں ۔آج ہم سپیس کر رہے ہیں کیوںکہ ہم حق ہے اور انصاف کی امید رکھتے ہیں انصاف چاہتے ہیں

    وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اس میں دو رائے نہیں ۔مین آسٹریلیا میں ہون مبشر لقمان ہمارے آئیڈیل ہیں مدینہ کی ریاست اللہ کرے پاکستان بن جائے گا کہ غریب کو بھی انصاف مل سکے۔ بیرون ممالک میں انصاف سب کے لیے برابر ہے اسی لیے ترقی ہوئی پاکستان میں بھی جب تک انصاف کا نظام برابر نہیں ہو سکتا ملک ترقی نہیں کر سکتا

  • ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری

    ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری

    کوالمپور:ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری،اطلاعات کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ، وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی مہاتیرمحمد کو اسپتال کے امراض قلب کے یونٹ میں داخل کیا گیا ہے۔

    ادھرعالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مہاتیر محمدکی بیٹی مرینامہاتیرکا کہنا ہےکہ ان کے والدکی حالت بہتر ہے اور وہ علاج کے بعد بہتر ردعمل دے رہے ہیں۔مرینامہاتیر نے مہاتیر محمدکی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے لوگوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی ہے۔

    خیال رہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا 96 سالہ مہاتیر محمد کا جنوری کے اوائل میں الیکٹو میڈیکل پروسیجر ہوا تھا۔

    دو مرتبہ ملائیشیا کے وزیراعظم رہنے والے مہاتیر محمدکا پہلا ہارٹ بائی پاس 1989 اور دوسرا 2007 میں ہوا تھا مہاتیر بن محمد ملائیشیا کے ساتویں وزیر اعظم ہیں جنہوں نے 10 مئی 2018ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اس کے قبل وہ اس عہدہ پر 1981ء سے 2003ء تک، 22 سال، فائز رہے۔

    ان کا سیاسی سفر 40 سال تک محیط رہا۔ ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مہاتیر محمد نے جس طرح ملائیشیا کی تاریخ بدلی قوم کو سیاسی اور سماجی اندھیروں سے نکالا۔ مَلے اور چینی اقوام کی بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرکے انہیں ایک قوم کے وجود کے اندر سمو دیا کیونکہ وہاں دوسری بڑی قوم چینی بولنے والوں کی ہے۔

    اس کا سارا کریڈٹ اور فخر اس فلسفہ انقلاب کو جاتا ہے جس کی آبیاری مہاتیر محمد نے کی، آج مسلم امہ کو جو معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا علاج مہاتیر محمد کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔ مہاتیر محمد کے دادا جان کا تعلق پاکستان کے خطہ کوہاٹ سے تھا اور والدہ خالص مَلے (Malay) تھیں اور ایک اسکول میں پڑھاتی تھیں،

    مہاتیر محمد بچپن سے انتہائی ذہین تھے اور اعلیٰ قابلیت کے جوہر دکھانے لگے۔ آخر کار سنگا پور سے ڈکٹری کی تعلیم MBBS کے لیے اعزاز کے ساتھ داخلہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب تمام اسکول اور تعلیمی ادارے بند ہو گئے تو مہاتیر محمد نے خاندانی انکم میں اضافے کے لیے ایک کیفے قائم کیا اور حالات کا مقابلہ کیا۔ اپنی والدہ کی نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھتے کہ ”رزق حلال کی برکت سے تم اپنی اور اپنی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہو“

  • بھارت سُن لے پاکستان قائم رہنے کےلیے بنا ہے:لاہوردھماکے کے مجرم تک پہنچ چکےہیں:شیخ رشید

    بھارت سُن لے پاکستان قائم رہنے کےلیے بنا ہے:لاہوردھماکے کے مجرم تک پہنچ چکےہیں:شیخ رشید

    اسلام آباد: بھارت سُن لے پاکستان قائم رہنے کےلیے بنا ہے:لاہوردھماکے کے مجرم تک پہنچ چکےہیں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے لاہور دھماکے کے ملزموں تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کو شکست دیں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے تمام اداروں کوالرٹ جاری کیا ہے، تمام اداروں کوکہا ہے جاگتے رہنا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی، جوہرٹاؤن کے بعد انارکلی میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے، بی این اے ایک چھوٹا سا گروپ ہے، پتا نہیں ابھی بی ایل اے نے انارکلی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے یا نہیں۔ دھماکے میں ایک آدمی کے پیچھے ہیں، ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا ورنہ شام کوبھارتی میڈیا میرے پیچھے پڑ جائے گا، دہشت گرد کے قدموں کے چاپ کے پیچھے چل رہے ہیں۔

    اپوزیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں اپوزیشن نے کہا اب دنوں کی بات ہے، عمران خان کہیں نہیں جارہا، عمران خان کی حکومت اپوزیشن کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے، جوکہہ رہے تھے حکومت جارہی ہے ان کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔ پیپلز پارٹی کی ٹریکٹر ریلی دراصل ’ریڑھا ریڑھی مارچ‘ ہے۔

    اپوزیشن کو تجویز دیتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اوآئی سی اجلاس 23 مارچ کو ہو گا، اپوزیشن 4 دن پہلے یا بعد میں احتجاج کرلے۔ اپوزیشن کوخود سوچنا چاہیے۔ اپوزیشن کے انجن میں دھواں پھنسا ہوا ہے، عدم اعتماد کی بات کرتے ہیں یہ منہ اورمسورکی دال؟ اپوزیشن والے کس منہ سے اسلام آباد آرہے ہیں، انہوں نے ملک کولوٹا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کومنظورہوا عمران خان پانچ سال پورے کرے گا، نا ہم جا رہے ہیں نا آپ اس قابل ہے کہ اسلام آباد آئیں گے، اگراپوزیشن نے کوئی ایسی غلطی کی توان کے گلے میں ڈھول ڈال کر پیٹا جائے گا، اپوزیشن بلاول کے ساتھ ملکراسلام آباد آجائے، اگریہ قانون کوہاتھ میں لیں گے تو پھرہم ان کوہاتھ میں لیں گے، ایمرجینسی، صدارتی نظام کا بڑا شورہے، کابینہ میں ابھی تک ایسی کوئی تجاویزنہیں آئی۔

    اسلام آباد میں ناکوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں اسلام آباد کے ناکے بحال نہیں ہوسکتے۔

    وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی بھارت کواچھی نہیں لگتی، بھارت میں مسلمانوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے، سیکولربھارت ختم ہو چکا، انتہا پسند بھارت بن چکا ہے۔ چین کی دوستی پرہمیں فخرہے، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں چین سے دورنہیں کرسکتی۔ عالمی طاقتیں داسو، بھاشا، سی پیک کوروکنے کی سازشیں کر رہی ہے۔

    کالعدم تحریک طالبان سے متعلق بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی شرائط ناقابل قبول تھی اس لیے بات چیت آگے نہیں بڑھی، سیزفائر کالعدم ٹی ٹی پی نے خود توڑی، ٹی ٹی پی اگرلڑے گی توان سے لڑیں گے، اگرمذاکرات کریں گے تودروازے کھلے ہیں، پچھلے 3 ماہ میں دہشت گردی کی لہرمیں اضافہ ہوا ہے۔ این ڈی ایس’’را‘‘کوافغانستان میں شکست ہوئی، ان کے چھوٹے موٹے گروپس پاکستان میں دہشت گردی کی فضا بنانا چاہتے ہیں، دہشت گردوں کوشکست فاش ہو گی۔

  • پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے : آرمی چیف

    پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے : آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور پاکستان میں مکمل امن واپس آ کر رہے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پشاور کور ہیڈکوارٹرکا دورہ کیا جہاں پر انہیں پاک افغان بارڈر سے متعلق ، سکیورٹی صورتحال ، ضم ہونے والے اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک آرمی کے سپاہیوں ، قبائلی عمائدین ، ایف سی ، لیوی خاصہ دار اور پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج پرعزم ہے ، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع میں سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں سکیورٹی فورسز کا کردار قابل قدر ہے ، سماجی و اقتصادی منصوبے علاقے کے پائیدار استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔