Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ‏خواجہ آصف کیخلاف عمران خان کے ہتک عزت کیس میں پیشرفت

    ‏خواجہ آصف کیخلاف عمران خان کے ہتک عزت کیس میں پیشرفت

    ‏خواجہ آصف کیخلاف عمران خان کے ہتک عزت کیس میں پیشرفت ہوئی ہے

    اسلام آبادہائیکورٹ نے خواجہ آصف کو جرح کا حق دے دیا ،خواجہ آصف کی عمران خان کے بیان پر جرح کے حق کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ ‏کیس کی روزانہ سماعت کی بنیاد پر مقرر وقت میں فیصلہ کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کا کہہ دیتے ہیں، آرڈر پاس کریں گے، عدالت نے خواجہ آصف کے وکیل سے استفسار کیا کہ ‏آپ معاملے کو التوا میں کیوں ڈال رہے ہیں؟ آپ غیرضروری طور پر کیس کو لٹکا رہے ہیں، اس طرح غیرضروری کیسز سے احتیاط برتیں تو بہتر ہے،

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏بیان پر جرح کرنا خواجہ آصف کا حق ہے، ٹرائل کورٹ کو چاہیے تھا اگلا دن جرح کیلئے رکھ لیتے، وکیل عمران خان نے عدالت میں کہا کہ ‏ایک سال سے یہ عدالت میں نہیں آئے، عدالت نے کہا کہ 17دسمبر کو بیان ریکارڈ ہوا اسی روز کیسے جرح کا حق ختم کیا جاسکتا ہے؟ عدالت نے جرح کا حق دینے کے لیے خواجہ آصف کی درخواست منظورکرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں فیصلہ کرنے کا کہہ دیتے ہیں آرڈر پاس کریں گے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس دائر کر رکھا ہے گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا تھا کہ ہتک عزت کایہ کیس کب سے زیر التوا ہے ، جس پر خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ یہ کیس سال 2012 سے چل رہا ہے

    مندر کی تعمیر پر اعتراض کرنے والے خواجہ آصف کی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، مولانا فضل الرحمان کا موقف بھی آ گیا

    مندر کی تعمیر کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ھیں جو پاکستان کے سافٹ امیج کے مخالف ہیں۔ لال مالہی

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیرفوری روکنے کی درخواست مسترد

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    میڈم یہ کہتے ہیں بچے کو نہیں ملے گی،فردوس عاشق اعوان کو بچے نے پکڑ لیا

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

  • رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج رانا شمیم پر فرد جرم عائد کر دی ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے خود فرد جرم پڑھ کر سنائی ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رانا شمیم جلدی روسٹرم پر آجائیں فرد جرم عائد کرنی ہے، عدالت حکم دے چکی ہے آج فرد جرم عائد ہوگی۔ رانا شمیم نے استدعا کی کہ میرے وکیل راستے میں ہیں، تھوڑا وقت دے دیں جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی اور وکیل کے پہنچنے کے بعد فاضل جج نے فرد جرم پڑھ کر سنا دی

    اس سے قبل عدالت نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے بیان حلفی میں سنگین الزامات عائد کیے، ہمیں کچھ نہیں چھپانا،نہ چھپائیں گے، بتائیں جولائی 2018سے آج تک کون ساحکم کسی کی ہدایت پرجاری ہوا؟، آپ بتادیں اس عدالت کے ساتھ کسی کوکوئی مسئلہ ہے،اس عدالت کی بہت بےتوقیری ہوگئی، اس عدالت کےحوالے سے ہی تمام بیانیے بنائے گئے، آئینی عدالت کے ساتھ بہت مذاق ہوگیا، عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی ایسے بےت وقیری کرے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کواحساس نہیں کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، یہ عدالت اوپن احتساب پریقین رکھتی ہے، اخبارکے آرٹیکل کا تعلق ثاقب نثارسے نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہے، لوگوں کو بتایا گیاکہ اس کورٹ کے ججزکمپرومائزڈ ہیں، کیس 2 روز بعد سماعت کیلئے مقررتھا جب سٹوری شائع کی گئی، اگرکوئی غلطی تھی توہمیں بتادیں ہم اس پرایکشن لیں گے ۔عدالت نے رانا شمیم پر فرد جرم عائد کر دی جس میں رانا شمیم پر عائد الزامات پڑھ کر سنائے گئے

    رانا شمیم نے صحت جرم سے انکارکر دیا ،رانا شمیم نے کہا کہ آپ مجھے سنیں تو صحیح ایک ایک کرکے الزامات کا جواب دینا چاہتا ہوں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک تاریخ دے دیتے ہیں،آپ جواب جمع کرادیں انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی گئی

    افضل بٹ نے عدالت میں کہا کہ اس سارے کیس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے، زیرالتواء کیسز سے متعلق کوئی رولز مرتب کیے جانے چاہئیں،اگر عدالت ہمیں موقع دے تو ہم کچھ ایسا طریقہ کار بنا لیں کہ آئندہ ایسا نہ ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اخبار کو بہت موقع دیا لیکن ان کو کوئی پچھتاوا نہیں ہے،یہ عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی سائل اسکی بے توقیری کرے،یہ عدالت سرعام احتساب پر یقین رکھتی ہے،اگر احتساب نہیں ہو گا تو بہتری نہیں ہو سکے گی،کیا یہ عدالت خاموشی سے بیٹھ کر خود پر اعتماد ختم ہونے دے، افضل بٹ نے کہا کہ یہ بات حلف پر کہنے کو تیار ہوں کہ صحافی اس کورٹ پر مکمل یقین رکھتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں یہ عدالت آخری امید ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ اگر کوئی غلطی تھی تو ہمیں بتا دیں ہم بھی اس پر ایکشن لیں گے،سینئر صحافی ناصر زیدی نے کہا کہ مجھے بھی کچھ کہنے کی اجازت دی جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں، ہم پہلے بھی کہہ چکے کہ ان کا ثانوی کردار ہے، کل کو کوئی بھی تھرڈ پارٹی ایک کاغذ دے گی اور اس کو ہم چھاپ دیں گے تو کیا ہو گا اتنا بڑا اخبار کہے کہ اس حوالے سے کوئی قانونی رائے نہیں لی تو پھر یہ زیادتی ہو گی

    ناصر زیدی نے کہا کہ اس پروسیڈنگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے،کورٹ پروسیڈنگ کی کوریج کے دوران احتیاط کرنی چاہیے،ہم نے ملٹری کورٹس کا سامنا کیا اور آج آزاد عدلیہ کا سامنا کر رہے ہیں جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو خود کوڑے بھی کھائے ہیں، اسی وجہ سے آپ کو بھی آزادی ملی، عدالت نے ناصر زیدی سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کوڑا زیادہ زور سے لگتا ہے؟ ناصر زیدی نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے دنیا بھر میں غلط میسج جائے گا،عدالت خود آزادی اظہار رائے کے حق میں ہے، عدالت نے کہا کہ یہ ہمارے لیے سیکھنے کا عمل ہے،آپ چاہتے ہیں کہ میں ریسرچ پیپر لکھوں،آزادی اظہار رائے نہیں ہو گی تو آزاد عدلیہ بھی نہیں ہو گی، ناصر زیدی نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ ہماری لرنینگ کے پراسیس میں کی گئی کوتاہیوں کا نظر انداز کر دیں ہمارے ملک میں پہلے ہی آزادی رائے کی گنجائش کم ہے، کارروائی ہوئی تو آزادی رائے کے لیے ماحول مزید تنگ ہوجائے گا

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج پہلی بار میڈیا کی جانب سے اظہار ندامت سامنے آیا ہے رانا صاحب اپنے بیان حلفی مان رہے ہیں انکو فیئر ٹرائل کا موقع دیا جانا چاہیے،اگر رانا صاحب کسی اور کو پراسیکیوٹر چاہتے ہیں تو کر دیں، اٹارنی جنرل نے انصار عباسی، ایڈیٹر اور ایڈیٹر انچیف پر فرد جرم موخر کرنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ لوگ استعمال بھی ہو جاتے ہیں لیکن میڈیا کو اس سے سیکھنے کا موقع ملے گا ،عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ صحافتی لیڈران نے جو ندامت کا اظہار کیا ملزمان کو بھی کرنا چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صحافیوں پر فرد جرم نہ ہو اور رانا شمیم کے خلاف ہو جائے یا تو سب پر فرد جرم موخر کر دی جائے یا پھر سب پر جارچ فریم کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو اس کے نتائج خطرناک ہیں ، فیصل صدیقی نے کہا کہ جس اخبار کےخلاف کیس چل رہا تھا اسی اخبار نے عالمی تنظیموں کے بیانات بھی چھاپے، رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن نے عدالت میں کہا کہ میں درخواست پڑھ کر سنا دیتا ہوں،عدالت نے کہا کہ ہاں ہاں، آرام سے پڑھیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کی دونوں متفرق درخواستیں خارج کر دیں رانا شمیم نے بیان حلفی کی انکوائری کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی رانا شمیم نے اٹارنی جنرل کو بطور پراسیکیوٹر تبدیلی کی بھی درخواست دائر کی تھی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صحافیوں پر فرد جرم عائد نہیں کر رہی، اگر ٹرائل میں کوئی بات سمجھ آئی کہ خبر جان بوجھ کرلگائی گئی تو کارروائی کرینگے،عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا شمیم کی کردار کشی روکنے اور پی ٹی آئی رہنماوں کی نااہلی کی اپیل مسترد کر دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کی بہو، پوتے اور پوتی کی انٹراکورٹ اپیل بھی خارج کردی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے فیصلہ سنایا درخواست گزار کی جانب سے احمد حسن رانا ایڈووکیٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

    رانا شمیم کے الزامات پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    بیان حلفی پر توہین عدالت کیس،رانا شمیم، انصارعباسی ایکبار پھر طلب

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    رانا شمیم توہین عدالت کیس، اہم شخصیت بیمار،استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی

    رانا شمیم مشرف طیارہ کیس میں ن لیگ کا وکیل رہا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

  • وزیر اعظم کا تاریخی عوامی فیصلہ، فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کی منظوری دے دی

    وزیر اعظم کا تاریخی عوامی فیصلہ، فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کی منظوری دے دی

    اسلام آباد: وزیر اعظم کا تاریخی عوامی فیصلہ، فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کی منظوری دے دی ،اطلاعات کے مطابق آج وفاقی کابینہ نے امریکا، برطانیہ طرز کا آزاد پراسیکیوشن سروس کا نیا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعظم نے اہم اجلاس میں فوجداری مقدمات میں ترمیم، اور نئے قوانین لانے کی منظوری دے دی۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے بتایا کہ فوجداری قوانین میں تبدیلی سے پولیس اور عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلی آئے گی، آرڈیننس نہیں لا رہے، اس سے عام آدمی کا فائدہ ہوگا، اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے۔

    وزیر اعظم خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت فوجداری مقدمات کا قانون بدلے گی، وزیراعظم نے فوجداری مقدمات میں ترمیم سمیت نئے قوانین لانے کی منظوری دیدی۔ ترامیم آئندہ ہفتے منظوری کے لئے کابینہ میں پیش ہوں گی۔ جس کے بعد ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

    اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے 600 سے زیادہ نکات میں ترمیم پر بریفنگ دی۔

    فروغ نسیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں ایس ایچ او کے لئے سب انسپکٹر اور گریجوایشن کی ڈگری لازمی قرار دی گئی ہے، ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ایس پی کو درخواست دی جاسکے گی، ایس پی عملدرآمد کا پابند ہوگا، 9 ماہ میں مقدمات کا فیصلہ لازمی ہو گا ورنہ متعلقہ ججز ہائیکورٹ کو جواب دہ ہوںگے، 9ماہ میں ٹرائل مکمل کہ کرنے پر ججز کے خلاف ہائی کورٹ انضباطی کارروائی کرسکے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تھانوں کو سٹیشنری، ٹرانپسورٹ سمیت ضروری اخراجات کے سرکاری فنڈ ملیں گے، سچا ثابت کرنے کے لئے آگ یا گرم کوئلوں پر چلنا جیسی روایات اور سزا کو ختم کیا جائے گا، عام جرائم کے مقدمات میں پانچ5 سال تک کی سزا کے لئے پلی بارگین کی جاسکے گی، عام جرائم کی سزا پانچ سال سے کم ہو کر صرف 6 ماہ رہ جائے گی۔

    قتل، زیادتی، دہشت گردی، غداری، سنگین مقدمات میں پلی بارگین نہیں ہوگی، موبائل فوٹیجز، تصاویر، آواز ریکارڈنگز کو بطور شہادت قبول کیا جا سکے گا، ماڈرن ڈیوائسز کو بھی بطور شہادت قبول کیا جا سکے گا، فارنزک لیبارٹری سے ٹیسٹ کی سہولت دی جائے گی۔

    اجلاس میں اس حوالے سے مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ کی طرز کا آزاد پراسیکیوشن سروس کا نیا قانون لانے کا فیصلہ ہوا ہے، قوانین میں تبدیلی سے ملک کے پولیس اور عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلی آئے گی، آرڈیننس نہیں لا رہے، عام آدمی کا فائدہ ہوگا، اپوزیشن ساتھ دے۔

  • سانحہ مری :اے سی مری، ڈی سی، سی ٹی او راولپنڈی کو عہدوں سے فارغ:سخت کاررائی ہوگی:عثمان بزدار

    سانحہ مری :اے سی مری، ڈی سی، سی ٹی او راولپنڈی کو عہدوں سے فارغ:سخت کاررائی ہوگی:عثمان بزدار

    لاہور:سانحہ مری :اے سی مری، ڈی سی، سی ٹی او راولپنڈی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے:پریس کانفرنس وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ سانحہ مری کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سی پی او اور اے سی مری، ڈپٹی کمشنر، سی ٹی او راولپنڈی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھاکہ کمیٹی کی سفارشات پر 15 افسران کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور انکوائری رپورٹ میں غلفت اور کوتاہی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام اپنے فرائض کا ادراک کرنے سے قاصر رہے۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹاکر انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی۔ سی پی او راولپنڈی، سی ٹی او راولپنڈی، ڈی ایس پی ٹریفک اور اے ایس پی مری کو عہدے سے ہٹاکرانضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

    عثمان بزدار کا کہنا تھاکہ کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹاکر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ تمام افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر مری کو بھی عہدے سے ہٹادیا گیا جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر مری ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو1122 اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کردیا گیا۔

    یاد رہے کہ 9 جنوری کو مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں افراد سڑکوں پر پھنس گئے، شدید سردی اور دم گھٹنے سے ایک خاندان کے 8 افراد سمیت 23 سیاح جاں بحق ہو گئے تھے۔

    واضح رہے کہ سانحہ کے بعد پنجاب حکومت نے مری کو آفت زدہ قرار دے دیا تھا۔ شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مری سرکاری ریسٹ ہاؤسز، سرکاری دفاتر سیاحوں کے لئے کھولنے کا حکم دے دیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ پیدا شدہ صورتحال میں سیاحوں کو ہر ممکنہ طریقے سے ریلیف دیا جائے۔

  • تحریک انصاف چند دنوں کی مہمان، خفیہ ملاقاتیں ،ٹکٹوں کی ضمانتیں

    تحریک انصاف چند دنوں کی مہمان، خفیہ ملاقاتیں ،ٹکٹوں کی ضمانتیں

    تحریک انصاف چند دنوں کی مہمان، خفیہ ملاقاتیں ،ٹکٹوں کی ضمانتیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جیسے گزشتہ سات سالوں سے پی ٹی آئی کے پاس فارن فنڈنگ کیس میں جواب نہیں تھا آج بھی نہیں تھا ۔ جیسے یہ پہلے اسٹے آڈر کے پیچھے چھپا کرتےتھے آج بھی یہ ہی موقف تھا کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے ۔ کہ کہیں ہمارے کرتوت عوام کو نہ پتہ لگ جائیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مگر چیف الیکشن کمشنر نے اس استدعا کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کا کوئی ڈاکیومنٹ خفیہ نہیں ہے۔ یاد ہو تو یہ وہی عمران خان ہیں جو کہتا کرتے تھے کہ میں کبھی کچھ نہیں چھپاؤں گا ۔ اس کیس میں اب فروری تک کی تاریخ پڑ گئی ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر عثمان بزدار کی image building کے حوالے سے بہت خبریں گردش ہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بہترین وزیراعلی ہیں ۔ پتہ نہیں یہ سروے مریخ پر ہوا تھا یا چاند پر ۔ کیونکہ پنجاب میں پی ٹی آئی ہر ضمنی انتخاب سے لے کر کینٹ بورڈ کے الیکشن تک ہر چیز ہاری ہے ۔ مگر ایسی سروے رپورٹس تو آنی تھیں جب آپ فنڈنگ کے منہ کھول دیں ۔ ورنہ ان کی کارکردگی کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت حالیہ سانحہ مری ہے ۔ پھر ڈینگی ہو یا بارشوں کے موسم میں گوڈے گوڈے پانی ۔۔۔ سب کو سب کچھ یاد ہے ۔ بھولے نہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر آج مریم اور بلاول کے بیانات بھی بہت اہم ہیں آپ ان کی سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ مگر آپ اس چیز کو رد نہیں کرسکتے کہ جو کچھ پی ٹی آئی کے لوگ کہہ رہے ہیں ان میں چاہے وزراء ہوں ، ایم این ایز ہوں ، ایم پی ایز ہوں یا پھر عام کارکن ۔۔۔ ان کے بیانات سے صاف ظاہر ہےکہ تحریک انصاف کا انجام قریب ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے شاید آج مریم نے کہہ دیا ہے کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے ۔ ان کے مطابق حکومت کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی جلد سامنے آ جائے گا ۔ پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ سمجھ نہیں آیا کہ وفاقی وزیرداخلہ کو ہاتھ سرپرہونے کی بات کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر ن لیگ میں بغاوت کے دعوؤں کو حکومت کی نااہلی اور نالائقی سے توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے مریم نے کہا کہ ن لیگ آگ کے دریا سے گزر کر آئی ہے، ڈرانے، دھمکانے، لالچ اور بدترین انتقام کے باوجود ن لیگ کا ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے چٹان کی طرح کھڑا رہا۔

    ۔ اس چیز کو ویسے ماننا چاہیے کہ آپ ان سے سیاسی اختلاف کریں ۔ مگر سب کچھ ہونے اور لیڈر شپ کے ملک سے باہر جانے اور جیلوں میں جانے کے باوجود بھی ن لیگ کو توڑا نہیں جا سکا ۔۔ پھر بلاول کہتے ہیں کہ وہ لانگ مارچ سے حکومت گرا کردکھائیں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ آئین اورقانون میں ایمرجنسی کی کوئی گنجائش نہیں،صدارتی نظام کا شوشہ ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے۔ ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ حکومتی شخصیات کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں وہ صرف یہ ہی سمجھتے ہیں کہ ملک سے شریفوں اور زرداریوں کی مقبولیت ختم ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ کسی صورت نہیں ہونا ہے ۔ ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تحریک انصاف مخالفوں کی مقبولیت بھی وہ اپنے کارناموں سے ختم نہیں کرنا چاہتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ ہم عوام کو اس قدر زیادہ ریلیف دیں گے، ان کے مسائل حل کریں گے، ان کی معاشی مشکلات کو ختم کر دیں گے کہ وہ شریفوں اور دیگر کا نام تک نہیں لیں گے بلکہ یہ کہتے ہیں شریفوں اور زرداریوں کو ہمارے سر پر موجود ہاتھ گردن سے پکڑے گا۔

  • یہودی لابی، یہودی ایجنٹ اور کشمیر کا سودا،مختاریہ گل ود گئی اے

    یہودی لابی، یہودی ایجنٹ اور کشمیر کا سودا،مختاریہ گل ود گئی اے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو شخصیات ایسی گزری ہیں ۔ جن کے بارے کہا جائے کہ وہ وقت سے پہلے مستقبل پر نظر رکھتے تھے بلکہ آنے والے حالات کو پڑھ لیتے تھے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ آجکل جو کچھ ہورہا ہے ۔ میں کسی ہر تہمت نہیں لگانا چاہتا ۔ مگر ان دونوں اشخاص کی کہی ہوئی باتیں کانوں میں گونج رہی ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔ معیشت ، قانون کی حکمرانی ، نظام عدل کا رونا تو بہت عرصے اس ملک میں جاری ہے ۔ مگر یہ شاید پہلی بار ہے کہ ملک کا وزیر اعظم خود کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک نہ ہو پھر دفاع تو متاثر ہوگا ۔ پہلی بار میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ پہلی بار ہے کہ بردار اسلامی ممالک ہوں یا چین جیسا دوست ہر کوئی ناراض ہے ۔ پہلی بار ہے کہ کشمیر کو دن دھاڑے بھارت ہڑپ کر لیتا ہے مگر ہم اوآئی سی تک کو متحرک نہیں کر پاتے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھا جائے تو اس حکومت کو دو خبط ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہر بات کو انہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہ ہوا اور دوسرے یہ کہ اس سے پہلے ستر سال تک اس ملک پر احمقوں ، بددیانت اور غداروں کی حکومت رہی۔ ۔ کارنامے تو ان کے بہت بڑے بڑے ہیں جن کو گنوانا شروع کیا جائے تو eries of books لکھنی پڑ جائے گی ۔ مگر حالیہ جو قومی سلامتی پالیسی کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کے کئی پہلو ملک کے اندر اور باہر بحث و تجزیے کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ وہ بہت غور طلب چیز ہے ۔ اس سلسلے میں کئی پہلووں کو لے کر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ایک چیز جس پر سب سے زیادہ اعتراض ہورہا ہے کہ ۔ مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا یہ بیان جو انھوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے جو کچھ کہا وہ یقینا عوام سمیت پاکستان میں بہت سے حلقوں کے لیے بے چینی اور اضطراب کا باعث بنا ہوا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ بے چینی اس لیے ہے کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اور اگر بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہو جائے تو ہم بھارت کے ساتھ کشمیر کو درمیان میں لائے بغیر تجارت کرنے کو تیار ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ تجارت اور اقتصادیات ہماری پہلی ترجیح بن گئے ہیں اور کشمیر کا نمبر اسکے بعد آتا ہے؟ ۔ پھر پالیسی میں کہا گیا کہ پاکستان خطے اور تمام دنیا کے ساتھ برابری اور باہمی عزت کی بنیاد پر امن چاہتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہم توعرصے سے تیار ہیں۔ پر سوال ہے کہ کیا بھارت بھی ہمارے ساتھ عزت اور برابری پر تیار ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم تجارت اور امن کی خواہش میں یک طرفہ طور پر اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہم نے کشمیری عوام ، انکے مصائب اور ان پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم بھلا کر بھارت کے اگست 2019ء کے اقدامات قبول کر لیے ہوں۔ اس سے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ہمارا واحد اور سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ بھارت بس ہمارے ساتھ بات چیت کیلئے راضی ہو جائے۔ یا چلو کرکٹ ہی کھیل لے۔ تو ہم راضی ہوجائیں گے۔ میرے خیال سے کسی بھی باشعور شخص کو بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ بھارت پر ابھی حملہ کر دیں۔ لیکن اس قسم کے اعلانات بطور پالیسی کرنا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی تبدیلی کرنی ہے، یا کسی درمیانی راستے پر غور کرنا ہے تو کیا اس سلسلے میں بھارت سے کوئی بات کی گئی ہے کہ ہمیں بدلے میں بھی کچھ ملے گا یا نہیں؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی حوالے سے ایک اہم عہدیدار کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم آئندہ سو برس تک بھارت کے ساتھ مخاصمت نہیں چاہتے۔ نئی پالیسی قریبی ہمسایوں کے ساتھ امن کی بات کرتی ہے۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کے کچھ اخبارات میں شائع ہوا بلکہ بھارت میں اسے بہت اہم قرار دیا گیا۔ خطے میں قیامِ امن کی خواہش یقینی طور پر قابلِ ستائش ہے اور پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ماضی میں بھی اس خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے تاہم اس خواہش کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ۔ پھر کیا آج کے دور میں بھی یہ دانشمندی ہے کہ اس قسم کے فیصلے جو ملک کی سمت اور تقدیر تبدیل کر رہے ہوں وہ ایوانوں کی بلند دیواروں کے پیچھے کیے جائیں اور عوام سے خفیہ رکھے جائیں؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل سیکورٹی کی جو دستاویز جاری ہوئی ہیں ان میں توانائی، تعلیم، صحت سے لیکر دہشت گردی اور عالمی امن تک سب مسائل کے ذکر کے ساتھ صفحہ نمبر پینتیس پر جموں اور کشمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو پر امن طور پر بذریعہ بات چیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیا جانا چاہیے۔۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب موجودہ اور تبدیل شدہ دنیا میں کتنی موثر ہیں ۔ خاص طور پر بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں ایسی یک طرفہ محبت کا نتیجہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو سائیڈ پر کر کے تجارت کی امید لگائے بیٹھے ہونگے اور بھارت ہم سے آزاد کشمیر کا مطالبہ کر رہا ہو۔ اور اس وقت ہم عالمی برادری کو کہتے پھریں کہ کسی طرح ہمارا آزاد کشمیر ہی بچا دو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نظریے اور پاکستان کی شہہ رگ کو ایک جانب رکھ کر صرف تجارتی اور اقتصادی اصولوں کی بات کریں تو بھی حقائق اور اعداد و شمار کیمطابق موجودہ حالات اور قوانین میں بھارت کے ساتھ تجارت نہ تو پاکستان کی اقتصادی مشکلات حل کر سکتی ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ ہمارے مسائل کا حل تجارت میں مل سکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ سے کشمیر رہی ہے، اور کشمیر ہی کی بنیاد پر ہم بھارت کے ساتھ بار بار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اس پالیسی کی تشکیل کے وقت کشمیری عوام سے بھی تفصیلی مشورہ کیا گیا ہو گا اور انکی امنگوں اور حقوق کو بھی نظر میں رکھا گیا ہو گا۔ کیونکہ اس خطے کے بارے میں ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے بھارت کے گرد ہی گھومتی ہے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشمیر کے گرد گھومتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا مرکزی نقطہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ایک طرف رکھتے ہوئے تعلقات کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے جو بھی لائحہ عمل طے کیا گیا وہ واضح طور پر عوام کے سامنے رکھنا جانا چاہیے کیونکہ یہ بیان کچھ غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور ان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف پر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عجیب اتفاق ہے کہ اس پالیسی میں کہاگیا ہے کہ قومی سلامتی کی بنیاد معیشت پر ہے۔ اسکے بعد یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لیے سٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔ اس خودمختاری کو بعض لوگ بینک کی غلامی قراردیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ سٹیٹ بینک کے گورنر کو آئی ایم ایف کی طرف سے ملک کا اقتصادی وائسرائے بنانے کے مترادف ہے۔ اب جو یہ بحث ہورہی ہے ہمارے عسکری اکائونٹ صرف اور صرف سٹیٹ بینک میں رکھے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ خواہش کیوں ہے۔۔ وزیراعظم کا یہ فرمانا کہ جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو قومی سلامتی پر حرف آتا ہے۔ ان کے اس بیان سے واقعی اب سارا ملک گھبرایا ہوا لگتا ہے ۔ پھر کچھ لوگ چیخ رہے ہیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کو خطرہ ہے۔ یہ سب باتیں جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ تشویش کس بات کی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ بائیس تیئس کروڑ آبادی والا ملک پاکستان جسے اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے جس کے لوگ بہت محنتی اور باصلاحیت ہیں وہ اپنے حکمرانوں اور کی غفلت اور ان کے وزیر و مشیروں کی مفاد پرستیوں کی وجہ سے دنیا میں ایک بھکاری کی سی پہچان بنائے ہوئے ہے ۔کہیں کوئی تھنک ٹینک نہیں جو یہ سوچے کہ اس ملک کا مسقتبل کیسے محفوظ بنا جاسکتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب بہت سے پاکستانی خودکشیاں کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے کیونکہ وہ ہی ہماری سلامتی کا سب سے بڑا ضامن اور آخری امید ہے ۔ مگر یاد رکھیں اس وقت جو یہ بحث جاری ہے وہ یوں ہی نہیں ہورہی ہے

  • آرمی چیف سے چینی سفیر کی ملاقات

    آرمی چیف سے چینی سفیر کی ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی سفیر کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کیلئے عالمی شراکت داروں سے تعاون کیلئے پرعزم ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چینی سفیرنے سی پیک منصوبوں کیلئے محفوظ ماحول کی فراہمی پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا،چینی سفیر کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں ،چینی سفیرنے سی پیک منصوبوں پرپیش رفت اوربروقت تکمیل پراطمینان کا اظہار کیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)پر پیشرفت اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا

    غیر ملکی سفیروں،دفاعی اتاشی کا ایل او سی کا دورہ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے دی اہم بریفنگ

    مورال بلند،فوج اپنا کام کر رہی ہے،پاکستان نے ذمہ دار رياست ہونے کا ثبوت دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    رسک لینے والا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے،وزیراعظم عمران خان کا ڈی جی آئی ایس پی آر کو خراج تحسین

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

  • ڈراموں میں گلے لگانے سے منع کیا تولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا،وکیل

    ڈراموں میں گلے لگانے سے منع کیا تولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا،وکیل

    ڈراموں میں گلے لگانے سے منع کیا تولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا،وکیل
    سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف از خود نوٹس پر سماعت ہوئی

    عدالت نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا کیس سے ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمہ متاثر سے نہیں ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا پیش ہورہے ہیں وہ وضاحت دیں گے آزادی اظہار رائے اور میڈیا رولز سے متعلق عدالت نے گزشتہ سماعت پر وضاحت مانگی ،

    اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس میں میڈیا رپورٹس کے متعلق عدالت سے دلچسپ گفتگو کی اور کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی نامزدگی جنات کے زریعے ہوئی، جس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ جنات کو چھوڑ دیں بات دور تلک تک جائے گی. کچھ لوگ جنات کے تصور کو مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے، جنات کی باتیں کرنے والے اور جھوٹی خبر دینے والے خود اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں، بولنے دیں جو بولتا ہے ایسی باتوں کو کون سنتا ہے،سب چاہتے ہیں شام کو انکے حق میں تبصرے ہوں،برطانیہ میں کسی کے خلاف جھوٹی خبر دینے والے کا گھر تک نیلام ہوجاتا ہے،پاکستان میں ہتک عزت کی سزا سے متعلق قوانین ہی نہیں ہیں،

    وکیل نے کہا کہ پیمرا رولز کے مطابق چینلز کو ریگولیٹ کرتے ہیں،ٹی وی ڈراموں میں گلے لگانے سے منع کیا تو اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کون ہوتا ہے گلے لگانے سے روکنے والا یہ تو خود ڈرامہ بنانے والے خیال کریں ، وکیل پیمرا نے کہا کہ فحاشی کی نہ کوئی تعریف ہے نہ حدود و قیود اس طرح ہمیں کئی مسائل کا سامنا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پر ایک دوسرے کو گالیاں دی گئیں اور پھر کہا گیا یہ لاہور کا کلچر ہے،جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ڈی جی ایف آئی اے سے سوال کیا کہ اب تک صحافیوں کی شکایات پر کیا اقدامات کیے،ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ صحافیوں سے ملاقات کی اور تحریری جواب جمع کرا دیا ہے،سابق صدر پریس ایسوسی آف سپریم کورٹ امجد بھٹی عدالت میں پیش ہوئے ،امجد بھٹی نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے مسکراتے ہوئے امجد بھٹی سے سوال کیا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے آپکو چائے پلائی یا نہیں، جس پر امجد بھٹی نے کہا کہ جی ڈی ایف آئی اے نے چائے کے ساتھ ریفریشمنٹ بھی کرائی،جسٹس اعجازالاحسن نے امجد بھٹی سے مخاطب ہو کر کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے آپکو کوئی ٹوکری تو نہیں دی، جسٹس اعجازالاحسن کے استفسار پر عدالت میں قہقہے لگ گئے

    آئی جی اسلام آباد احسن یونس عدالت میں پیش ہوئے ، جسٹس قاضی امین نے آئی جی اسلام آباد سے سوال کیا کہ ابصار عالم پرقاتلانہ حملہ کرنے والا پکڑا یا نہیں، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ نادرا کو ڈیٹا بھیجا ہوا ہے ابھی تک ملزم گرفتار نہیں ہو سکا،صحافیوں کے 16 مقدمات میں سے 12 حل ہوچکے اور 4 کی تحقیقات جاری ہیں، جسٹس قاضی امین نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ دارالحکومت میں گولی چلی ملزم کو پکڑیں،ابصار عالم کو میں نہیں جانتا کسی بھی شخص پر حملہ ہو تو پولیس اس کا پتہ چلائے اسلام آباد میں پولیس پر فائرنگ ہوتی ہے ایسے واقعات کو روکنا ہوگا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو سنیں گے، صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز بھی اپنی رپورٹس جمع کرائیں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

  • مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

    برطانوی لا فرم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کے پیچھے بھارتی آرمی چیف اوروزیرداخلہ کا ہاتھ ہے

    لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے برطانوی پولیس سے بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے مظالم کے شواہد ہمارے پاس ہیں بھارتی آرمی چیف اور امیت شاہ مقبوضہ کشمیرمیں سماجی کارکنوں پر تشد اوراغوا میں ملوث ہیں،

    لندن کی ایک قانونی فرم نے برطانوی پولیس کو ایک درخواست دی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم میں مبینہ کردار پر بھارت کے آرمی چیف اور ہندوستانی حکومت کے ایک سینئر اہلکار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔لا فرم سٹوک وائٹ کا کہنا ہے کہ اس نے برطانیہ کی پولیس کو 2,000 شہادتوں سمیت ثبوت جمع کرائے ہیں جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں مبینہ جنگی جرائم اور تشدد میں براہ راست ملوث تھیں۔

    لا فرم سٹوک وائٹ کا کہنا ہے کہ اس نے میٹروپولیٹن پولیس کے وار کرائمز یونٹ کو ثبوت جمع کرائے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں بھارتی فوج کشمیر میں کارکنوں، صحافیوں اور شہریوں کے تشدد، اغوا اور قتل کے ذمہ دار تھے ،قانونی فرم کی رپورٹ 2020 اور 2021 کے درمیانی عرصے میں بنائی گئی ہے، جس میں دو ہزار سے زائد ثبوت مہیا کئے گئے ہیں، اس میں آٹھ نامعلوم سینئر بھارتی فوجی اہلکاروں پر کشمیر میں جنگی جرائم اور تشدد میں براہ راست ملوث ہونے کا ثبوت بھی دیا گیا تھا،

    لندن پولیس کو یہ درخواست "عالمی دائرہ اختیار” کے اصول کے تحت کی گئی تھی، جو دنیا میں کہیں بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار دیتا ہے۔ لندن میں بین الاقوامی قانونی فرم نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ کشمیر میں مبینہ جنگی جرائم پر بھارتی حکام کے خلاف بیرون ملک قانونی کارروائی کی درخواست پہلی بار دی گئی ہے، اسٹوک وائٹ کے بین الاقوامی قانون کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ کہ انہیں امید ہے کہ رپورٹ برطانوی پولیس کو تحقیقات شروع کرنے اور بالآخر ان اہلکاروں کو گرفتار کرنے پر راضی کرے گی جب وہ برطانیہ میں قدم رکھیں گے۔ ہم برطانیہ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنا فرض ادا کرے اور ان کی تحقیقات کرے اور ان کو گرفتار کیا جائے

    2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان رپورٹس میں الزام لگایا گیا تھا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے انہیں دائمی استثنیٰ حاصل ہے۔

    برطانوی قانونی فرم کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ کرونا وبا کے دوران بھارت کی خلاف ورزیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔رپورٹ میں گذشتہ سال بھارتی حکام کے ہاتھوں خطے کے سب سے ممتاز سماجی کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کے بارے میں تفصیلات بھی شامل ہیں 42 سالہ پرویز نے جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے لیے کام کیا۔ اس سوسائٹی نے بھارتی فوجیوں کی جانب سے کیے گئے تشدد اور طاقت کے استعمال کے بارے میں وسیع رپورٹس لکھی ہیں۔

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    یوم دفاع و شہداء، چلو شہداء کے گھر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    برطانوی فرم نے ضیا مصطفیٰ کے اہلخانہ کی جانب سے دی گئی درخواست بھی ثبوتوں میں شامل کی جس کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا تھا، 2021 میں بھارتی فوج نے جیل سے نکال کر شہید کر دیا گیا تھا،

    کاموز نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ برطانوی پولیس کو بھارتی اہلکاروں کی گرفتاری کی درخواست کے بعد کشمیر میں دیگر قانونی اقدامات کی جانب بھی توجہ مرکوز کی جائے گی انہوں نے کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ آخری اقدام نہیں ہو گا شاید اور بھی بہت سی درخواستیں دائر کی جائیں گی

  • براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ پر عمل کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ

    براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ پر عمل کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ پر عمل کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیورسٹ فاونڈیشن کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا ،وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ عظمت سعید کمیشن نے براڈ شیٹ ذمہ داروں کا تعین کیا کارروائی نہیں ہورہی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل درخواست گزار سے استفسار کیا کہ حکومت نے تو اپنا کام کردیا اب آپ کیا چاہتے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قومی خزانے سے براڈ شیٹ کو ادائیگی کرکے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا،

    واضح رہے کہ گزشتہ برس 22 مارچ کو براڈ شیٹ انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ وزیراعظم آفس میں جمع کرائی تھی ،براڈشیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ جوائنٹ سیکریٹری زاہد مقصود نے وصول کی براڈشیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ اور متعلقہ ریکارڈ 500 صفحات پر مشتمل ہے،براڈشیٹ انکوائری کمیشن نے مجموعی طور پر 26 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے ایک سابقہ لیگل کنسلٹنٹ طلبی کے باوجود کمیشن میں پیش نہ ہوئیں، تحقیقات میں براڈ شیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا ریکارڈ غائب ہونےکا انکشاف سامنے آیا ہے ،کمیشن کی رپورٹ کے مطابق براڈشیٹ کمپنی کی 15 لاکھ ڈالر رقم کی غلط ادائیگی کی گئی،غلط شخص کو ادائیگی ریاست پاکستان کے ساتھ دھوکہ ہے،غلط شخص کو ادائیگی کو صرف بے احتیاطی قرار نہیں دیا جا سکتا، وزارت خزانہ، قانون اور اٹارنی جنرل آفس سے فائلیں چوری ہو گئیں، پاکستانی ہائی کمیشن لندن سے بھی ادائیگی کی فائل سے اندراج کا حصہ غائب ہوگیا،براڈشیٹ کمیشن کو تمام تفصیلات نیب کی دستاویزات سے ملیں،

    براڈ شیٹ کمیشن نے آصف زرداری کے سوئس مقدمات کے ریکارڈ کا جائزہ لیا براڈشیٹ کمیشن کے سامنے سوئس مقدمات کا ریکارڈ نیب نے پیش کیا کمیشن نے نیب کوسوئس مقدمات کا سربمہرریکارڈ کھولنے کی سفارش کی،نیب ریکارڈ ڈی سیل کرکے جائزہ لے کہ اس کا کیاکرنا ہے،سوئس مقدمات کا تمام ریکارڈنیب کے اسٹورروم میں موجود ہے،سوئس مقدمات کا ریکارڈ 12 ڈپلومیٹک بیگز میں پاکستان پہنچایا گیا، کمیشن کے سامنے براڈ شیٹ ریکارڈ پیش کیا گیا تو سوئس مقدمات کی نشاندہی ہوئی ،کمیشن کی رپورٹ میں ان افرادکوذمہ قراردیاگیا جو 2008میں نیب اور برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات تھے ،براڈ شیٹ کے ساتھ جومعاہدہ کیا گیا وہ حکومت پاکستان کے ساتھ غداری کے مترادف ہے اس وقت حکومت کو دھوکے میں رکھنے والے وہ وکلا بھی تھے جنہوں نےمعاہدے کے لیے اہم کردارادا کیا حکومت نے 25ملین ڈالر کی ادائیگی کی وہ بھی 2008 معاہدے کی وجہ سے ہوئی ہے،

    براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات، ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ نے کمیٹی پر کیا اعتراض، کیا کہا؟

    براڈ شیٹ سے متعلق اہم دستاویز پبلک کرنے کا حکم کس نے دیا؟ شہزاد اکبر نے بتا دیا

    براڈ شیٹ کیس اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان کا بیرسٹر راشد اسلم کے ساتھ خصوصی انٹرویو

    غیر ملکی اثاثوں کے خلاف تحقیقات ترک کرنے پرنواز شریف کی براڈ شیٹ کو رشوت کی پیشکش

    براڈ شیٹ اثاثے ڈھونڈنے کی کمپنی،پاکستان کے ساتھ کیا معاہدہ؟ شہزاد اکبر نے تفصیلات بتا دیں

    براڈ شیٹ کیس: نیب نے برطانوی کمپنی کو 28.7ملین پاؤنڈ ادا کر دیے:اصل کہانی باغی کی زبانی

    وزیراعظم عمران خان یہ کام ہر صورت کریں گے،شیخ رشید نے اپوزیشن کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    نیب کی نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت،عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید کو براڈ شیٹ انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، کمیٹی میں وفاقی وزیر فواد چوہدری، شیریں مزاری، بابر اعوان اور شہزاد اکبر شامل ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ معاملہ تفصیلی طور پر عوام کے سامنے رکھا جائے، براڈ شیٹ کیس کے فیصلے میں موجود حقائق منظرعام پر لائے جائیں۔

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    نواز شریف نے تازہ میڈیکل رپورٹس بھجوائی یا نہیں؟ اہم انکشاف

    جسٹس (ر) عظمت سعید براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کے سربراہ مقرر:قوم سچ سننے کے لیے بے تاب

    براڈ شیٹ:کیوی موسوی ایک مہرہ :مرکزی کردارپاکستان میں:پاکستانی قوم کو بے وقوف بنایا گیا:مبشرلقمان

    براڈ شیٹ کمیشن کے سربراہ کو کتنی ملے گی سیکورٹی؟ دفتر کہاں ہو گا قائم؟

    براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ:کاوے موسوی نےجسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کےخلاف بہت بڑا دعویٰ کردیا