وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو ایک مرتبہ پھر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیم قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ جمعرات کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ نے پنجاب حکومت کی سفارش پر سمری کابینہ میں پیش کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹی ایل پی 2016 سے اپنی سرگرمیوں کے ذریعے ملک میں شدت پسندی، تشدد اور انتشار کو فروغ دیتی رہی ہے۔اجلاس میں حکومت پنجاب کے اعلیٰ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور تنظیم کی پر تشدد کارروائیوں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ 2021 میں بھی اس وقت کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کی تھی، جو بعد ازاں اس شرط پر ختم کی گئی کہ تنظیم آئندہ کسی قسم کے تشدد یا بدامنی میں ملوث نہیں ہوگی۔ تاہم، تنظیم نے اپنی دی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا۔سرکاری اعلامیے کے مطابق، ٹی ایل پی کے احتجاجی دھرنوں اور ریلیوں میں متعدد مواقع پر سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری جاں بحق ہوئے، جب کہ املاک کو نقصان پہنچا۔
کابینہ نے پنجاب حکومت کی سفارش اور بریفنگ کے بعد متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچا کہ ٹی ایل پی کی سرگرمیاں دہشت گردی اور تشدد کے زمرے میں آتی ہیں۔واضح رہے کہ ٹی ایل پی کو اب انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا، اور تنظیم کی سرگرمیوں، فنڈنگ اور اثاثوں کے خلاف کارروائیاں بھی شروع کی جائیں گی۔
پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے سرکاری دورۂ رومانیہ کے دوران رومانیہ کے اسٹیٹ سیکرٹری برائے دفاع مسٹر ایڈورڈ باکائڈ اور رومانیہ کے چیف آف ڈیفنس جنرل گیورگیتسا ولاد سے مشترکہ ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کی اعلیٰ عسکری قیادت کے مابین اس اہم ملاقات کے دوران ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاکستان رومانیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سفارتی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو علاقائی امن و سلامتی کے امور پر باہمی ہم آہنگی کی بنیاد پر استوار ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ فوجی شراکت داری کو درپیش مشترکہ چیلنجز کے تناظر میں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور تعاون و عملی ہم آہنگی کے نئے شعبوں میں شراکت بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
رومانیہ کے اسٹیٹ سیکرٹری برائے دفاع نے پاک فضائیہ کی شاندار جنگی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے رومانیہ کی جانب سے پی اے ایف کے تجربات سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران رومانیہ کے چیف آف ڈیفنس جنرل گیورگیتسا ولاد نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دوطرفہ فوجی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ مشقوں، تربیتی تبادلوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو باہمی اعتماد اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں مشترکہ تعاون کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر نام نہاد خودمختاری بڑھانے کے مسودہ قانون کی سخت مذمت کی ہے.
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دے دیا اور کہا کہ اسرائیل کے ایسے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے تاکہ اسرائیل کو ان غیر قانونی اقدامات سے باز رکھا جا سکے، اسرائیلی قابض افواج کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
پاکستان نے اس موقع پر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، انصاف اور وقار کے حق میں عالمی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل ریاستِ فلسطین کے قیام کی غیر متزلزل حمایت دہرائی، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے صنعتی و زرعی شعبے کے ماہرین و کاروباری برادری کے وفد سے ملاقات میں پیکیج کا اعلان کردیا
پیکیج کے تحت صنعتوں اور کسانوں کو آئندہ تین سالوں (نومبر 2025 سے اکتوبر 2028) میں رعایتی قیمت پر اضافی بجلی فراہم کی جائے گی ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کو 34 روپے اور زرعی شعبے کو 38 روپے پر ملنے والے یونٹس کی قیمت کو خاطر خواہ کم کرکے اضافی یونٹس فراہم کیے جائیں گے.آئندہ تین برس میں پورا سال صنعتی و زرعی شعبے کو اضافی بجلی 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کی قیمت پر فراہم کی جائے گی.
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللّٰہ کے فضل و کرم سے بہتر پالیسیوں کی بدولت معاشی اشارے بہتر ہوئے، مگر ہم سب کو مل کر ابھی مزید محنت کرنی ہےمعاشی بحران سے معاشی استحکام کا سفر کٹھن ضرور تھا لیکن معاشی ٹیم کی محنت اور آپ سب کے تعاون سے یہ ممکن ہوا۔ جس کی بدولت صنعتوں کا پہیہ چلا، برآمدات میں اضافہ ہوا، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے،گزشتہ برس موسم سرما میں دیے جانے والے پیکج کے تحت صنعتی و زرعی شعبے نے 410 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی، ملکی معیشت کی ترقی، روزگار میں اضافے کے لیے صنعت اور زراعت کی ترقی انتہائی ضروری ہے،ملکی صنعتوں، زرعی شعبے کی خطے میں مسابقت بڑھانے اور کاروباری سہولتوں میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نےغلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ، ٹوپی (صوابی) کا دورہ کیا
ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپ، سکیورٹی صورتحال اور سوشل میڈیا کے کردار پر بھی بات چیت کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں خوارج کی موجودگی کیخلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں ،آئندہ بھی پاک فوج ہر دشمن کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گی،نوجوان قوم کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں اور ملکی ترقی و خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی ہے
طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے شہداء و غازیانِ پاک افواج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، یونیورسٹی کے طلبہ کا کہنا تھا کہ؛ ایسی مزید بامقصد نشستیں منعقد کی جانی چاہئیں تاکہ ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈے کا خاتمہ ہو،قوم امن کی کاوشوں اور ملکی ترقی میں پاک فوج کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ،پاک فوج نے دشمن کو بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جس پر ہمیں فخر ہے ،سوالات کے تفصیلی جوابات دئیے جس سے ذہنوں میں موجود ابہام دور ہوئے ،
بیرونی جارحیت اور دہشتگردوں کیخلاف موثر کارروائیوں پر بلوچ عوام نےپاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے
افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بروقت کارروائی پر کوئٹہ کے عوام نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو چاہیے کہ پاکستان میں دراندازی کرنے والے خوارج پر فوری قابو پائے، افغانستان میں موجود خوارج کے تمام ٹھکانے اور اڈے فوری طور پر ختم کیے جائیں،پاکستان نے بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، افغان حکومت نے کوئی قدم نہ اٹھایا تو پاکستان نے مجبور ہو کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں،حکومت پاکستان نے بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے مداخلت بند کرے، یہ دہشت گرد خطے میں امن و امان کو کشیدہ کر رہے ہیں، خوارج کے ٹھکانے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے تھے ختم کر دیے گئے، ہم نے افغان بھائیوں کی ہر ممکن مدد کی ہے، افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ وہ بھارت کے ہاتھوں کھلونا نہ بنے، پاکستانی فوج نے عوام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا،
معروف صحافی اور اینکر مبشر لقمان نے اپنے تازہ وِلاگ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع، یعنی ڈیورنڈ لائن پر تفصیلی تاریخی تجزیہ پیش کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے اس سرحد کو ’’جعلی لکیر‘‘ قرار دینا حقائق کے منافی اور تاریخی طور پر غلط مؤقف ہے۔
مبشر لقمان کے مطابق، گزشتہ کچھ ماہ سے افغان عبوری حکومت ڈیورنڈ لائن کو متنازع قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔دو ہفتے قبل افغان وزیرِ خارجہ ملا امیر خان متقی نے نئی دہلی میں بیٹھ کر اسے ’’فیک لکیر‘‘ کہا، جس کے بعد وزیرِ سرحدی امور نوراللہ نوری اور وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے بھی اسی مؤقف کو اپنایا۔انہوں نے بتایا کہ افغان حکومت نے ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے، جس میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا کے بعض علاقوں کو افغانستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے برطانوی دور میں افغانستان نے 100 سال کی لیز پر دیے تھے، جو اب ختم ہو چکی ہے۔
مبشر لقمان کے مطابق، ڈیورنڈ معاہدہ 1893ء میں افغان بادشاہ امیر عبدالرحمان خان کی خواہش پر طے پایا تھا تاکہ اُس وقت کے برطانوی ہندوستان کے ساتھ سرحدی حدود طے کی جا سکیں۔یہ معاہدہ تحریری شکل میں آج بھی موجود ہے اور اس میں نہ کسی مدت، نہ لیز کا ذکر ہے۔معاہدے کے بعد چار کمیشنز نے 2200 کلومیٹر طویل سرحد کی نشاندہی کی، جس میں افغان حکام اور قبائلی عمائدین شامل تھے۔مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے بعد افغان حکومت نے خوشی کا اظہار کیا اور کابل میں اس موقع پر تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔
اپنے وِلاگ میں مبشر لقمان نے بتایا کہ امیر عبدالرحمان کے بعد آنے والے افغان بادشاہوں نے بھی اس سرحد کو تسلیم کیا،1905ء: امیر حبیب اللہ خان نے ’’حبیب اللہ ایگریمنٹ‘‘ کے تحت ڈیورنڈ لائن کی تصدیق کی۔1919ء اور 1921ء: امان اللہ خان کے دور میں ’’کابل ایگریمنٹ‘‘ کے ذریعے دوبارہ توثیق ہوئی۔1930ء: بادشاہ نادر خان نے بھی برطانوی حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سابقہ معاہدوں کی پاسداری کرے گا۔
مبشر لقمان کے مطابق، اگر یہ معاہدہ زبردستی کیا گیا ہوتا تو افغانستان کے بعد آنے والے حکمران اسے تسلیم نہ کرتے۔مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتی ہے۔افغانستان نے خود بھی ویانا کنونشن پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا پابند ہے۔
وِلاگ میں مبشر لقمان نے افغان مؤقف کو ’’تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ان کے مطابق اگر افغانستان ماضی کے اقتدار کی بنیاد پر علاقے مانگنے لگے، تو پھر ایران اور ہندوستان بھی افغانستان پر اپنے پرانے دعوے کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کا یہ کہنا کہ ’’تمام پشتون افغان ہیں‘‘، تاریخی و آئینی لحاظ سے غلط ہے، کیونکہ "افغان” دراصل قومیت کا نام ہے، کوئی نسلی شناخت نہیں۔
مبشر لقمان کے مطابق، پاکستان نے ہمیشہ اس مؤقف پر زور دیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک بین الاقوامی سرحد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ماضی میں پاکستان مخالف گروہوں کو پناہ دی اور شورش کو ہوا دی، جس سے تعلقات میں کشیدگی بڑھی۔وِلاگ کے اختتام پر مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور اگر حالات یہی رہے تو "ممکن ہے اسلام آباد سخت اقدامات پر مجبور ہو جائے”۔
پاکستان کے فضائی حملوں میں دہشت گرد کمانڈر حافظ گل بہادر ہلاک جبکہ متعدد اہم رہنما بھی مارے گئے.
مصدقہ ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم کے سرکردہ دہشت گرد حافظ گل بہادر 17 اور 18 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب پاکستانی فضائیہ کے فضائی حملوں کے نتیجے میں افغان صوبہ خوست کے علاقے ارگون میں ہلاک ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق حافظ گل بہادر کو اسی رات اندھیرے میں خفیہ طور پر دفن کیا گیا۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں گل بہادر کی شوریٰ کے متعدد اہم ارکان بھی مارے گئے، جسے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے علاقے دالبندین میں فتنہ الہندوستان کیخلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی ہوئی ہے
بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کیلئے سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں ، دالبندین، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی میں فتنہ الہندوستان کی تشکیل کا قلع قمع کردیا، سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں تمام 6 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے،دہشت گرد پہاڑی غار میں پناہ لیے ہوئے تھے، جن پر فضائی نگرانی کے ذریعے مسلسل نظر رکھی گئی،سیکیورٹی فورسز کی جانب سے موزوں وقت پر ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا، یہ اہم کامیابی سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی بہترین ہم آہنگی اور مؤثر رابطے کا نتیجہ ہے، بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے تک فورسز کی جانب سے سیکیورٹی اقدامات جاری رہیں گے
پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں اربوں روپے مالیت کی منشیات پکڑ کر دنیا بھر میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کامیاب آپریشن پر پاک بحریہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے، سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ کارروائی سعودی قیادت میں قائم مشترکہ ٹاسک فورس 150 سے منسلک پی این ایس یرموک نے کی،
محض 48 گھنٹوں میں پاکستان نیوی نے دو مشتبہ کشتیوں سے دو ٹن کرسٹل میتھ، 350 کلو گرام آئس اور 50 کلو گرام کوکین برآمد کی جن کی مجموعی مالیت 97 کروڑ 24 لاکھ ڈالر بنتی ہے،سعودی رائل نیوی کے کمانڈر فہد الجوید نے اس کامیاب کارروائی کو عالمی تعاون کی بہترین مثال قرار دیا۔
بحیرہ عرب میں ایک بڑی کارروائی کے دوران پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس یرموک نے سعودی قیادت میں قائم کومبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت کام کرنے والی کومبائنڈ ٹاسک فورس 150 (CTF-150) کی براہِ راست معاونت کرتے ہوئے 972.4 ملین امریکی ڈالر مالیت کی منشیات قبضے میں لے لی۔ یہ کارروائی "فوکسڈ آپریشن المصمک کے دوران انجام دی گئی۔رپورٹ کے مطابق پی این ایس یرموک نے 48 گھنٹوں کے دوران دو مشتبہ دھاؤ کشتیوں کی تلاشی لی۔ دونوں کشتیاں آٹومیٹک آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم پر رجسٹرڈ نہیں تھیں اور ان پر کسی ملک کا جھنڈا یا نشانی موجود نہیں تھی، جس سے ظاہر ہوا کہ وہ بے وطن کشتیاں تھیں۔18 اکتوبر کو پہلی کارروائی میں پی این ایس یرموک کے عملے نے ایک کشتی پر چھاپہ مارا اور دو ٹن سے زائد کرسٹل میتھ ایمفیٹامین (ICE) برآمد کی، جس کی عالمی منڈی میں مالیت 822.4 ملین امریکی ڈالر کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔
صرف دو دن بعد، عملے نے دوسری کشتی پر چھاپہ مارا جس سے 350 کلوگرام کرسٹل میتھ جس کی مالیت 140 ملین ڈالر اور 50 کلوگرام کوکین جس کی مالیت 10 ملین ڈالر تھی، برآمد کر لی گئی۔
منشیات کو پی این ایس یرموک پر منتقل کر کے ان کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا گیا تاکہ ان کی تصدیق کی جا سکے۔ تصدیق کے بعد ضبط شدہ منشیات کو بین الاقوامی ضوابط کے مطابق تلف کر دیا گیا۔ کومبائنڈ ٹاسک فورس 150 کے کمانڈر، رائل سعودی نیول فورسز کے کموڈور فہد الجوید نے اس کامیابی پر کہا اس آپریشن کی کامیابی بین الاقوامی بحری افواج کے باہمی تعاون کی بہترین مثال ہے۔ پی این ایس یرموک کی یہ کارروائی سی ایم ایف کی تاریخ کی سب سے کامیاب منشیات ضبطی کارروائیوں میں سے ایک ہے، جو پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ مہارت اور مشترکہ کوششوں کا مظہر ہے۔
آپریشن المصمک کا آغاز 16 اکتوبر کو کیا گیا تھا، جس کا مقصد خطے میں سمندری سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس آپریشن میں سعودی عرب کی قیادت میں پاکستان، فرانس، اسپین اور امریکا کی بحری افواج نے حصہ لیا۔ کومبائنڈ ٹاسک فورس 150 کا بنیادی مقصد غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اسلحہ، منشیات اور دیگر غیر قانونی اشیاء کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ یہ فورس بحیرہ ہند، خلیج عمان، اور بحیرہ عرب میں مسلسل گشت کرتی ہے تاکہ سمندری تجارتی راستوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
کومبائنڈ میری ٹائم فورسز ایک 47 ممالک پر مشتمل عالمی بحری اتحاد ہے، جو 3.2 ملین مربع میل رقبے پر محیط سمندری حدود میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔ یہ فورس دنیا کی چند اہم ترین شپنگ لینز پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائیاں کرتی ہے۔