Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا،پاک افغان جنگ بندی

    افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا،پاک افغان جنگ بندی

    قطری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان فوری جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔

    قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا فیصلہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ہوا،قطری وزارت خارجہ کاکہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق قطر و ترکیے کی ثالثی میں ہوا۔دونوں ممالک نے آئندہ چند دنوں میں مزید ملاقاتیں کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن اور استحکام کے لیے مستقل مکینزم بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جنگ بندی خطے میں پائیدار امن کے قیام کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ امید ہے جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا خاتمہ کرے گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں مذاکرات کا پہلا دور قطری دارالحکومت دوحہ میں مکمل ہوا تھا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، سکیورٹی حکام نے بھی وزیر دفاع کی معاونت کی،دوسری جانب افغان وفد کی سربراہی وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی۔

    علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا۔ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔25اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود میں ملاقات ہو گی اور معاملات پر تفصیلی بات ہوگی۔ ہم قطر اور ترکیے دونوں برادر ممالک کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

  • پاکستان نے شاندار سفارت کاری سے ٹرمپ کو اپنا ہمنوا بنا لیا،امریکی میڈیا

    پاکستان نے شاندار سفارت کاری سے ٹرمپ کو اپنا ہمنوا بنا لیا،امریکی میڈیا

    امریکی ٹی وی سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے شاندار سفارت کاری کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے بعد عالمی رہنماؤں کے اجلاس میں صدر ٹرمپ نے پرجوش انداز میں پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ کہہ کر پکارا۔اپنی تقریر کے اختتام پر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو اسٹیج پر بلایا، جہاں وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ ایک بار پھر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کریں گے۔سی این این نے لکھا کہ ایک سال قبل تک یہ منظر ناقابلِ تصور تھا، کیونکہ واشنگٹن طویل عرصے سے پاکستان سے فاصلہ رکھتا آیا تھا، جبکہ چین سے پاکستان کے قریبی تعلقات امریکہ کے لیے تشویش کا باعث رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے اپنی پوری مدت میں پاکستان کے کسی وزیراعظم کو فون تک نہیں کیا تھا اور 2021ء میں پاکستان کو ’’دنیا کے خطرناک ترین ممالک‘‘ میں شمار کیا تھا، مگر ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت نے امریکی سفارت کاری کا منظر نامہ بدل دیا۔سی این این کے مطابق پاکستان نے اس نئے کھیل میں شاندار مہارت دکھائی ہے، پاکستانی قیادت وائٹ ہاؤس میں باقاعدہ مہمان بنی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی گئی۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فوج امریکی ساختہ ریتھون میزائلوں کی نئی کھیپ کی منتظر ہے اور پاکستانی سفارت کاروں نے بھارت سے کم ٹیرف پر معاہدوں کے لیے کامیاب گفت و شنید کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے یہ سب کچھ نایاب معدنیات کی فراہمی کے وعدوں کے ذریعے حاصل کیا۔ماہرین کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں گرمجوشی لانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار کلیدی ہے، جو 2022ء میں آرمی چیف بننے سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ انہیں محتاط، کم گو اور حکمت عملی سے فیصلے کرنے والا افسر سمجھا جاتا ہے۔

    سی این این کے مطابق مئی میں پاک بھارت جھڑپ کے دوران ٹرمپ نے مداخلت کر کے دونوں فریقوں سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور بعد ازاں اس کا کریڈٹ خود لیا، جس پر پاکستان نے ان کی کھلے عام تائید کی اور انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس جھڑپ کے بعد پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی فضائیہ کے 7 طیارے مار گرائے، جس کی تائید ٹرمپ نے بھی کی، اگرچہ بھارت نے اس کی سختی سے تردید کی۔

    کچھ عرصے بعد آرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور وہ واشنگٹن پہنچے، جہاں انہیں صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا — یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی پاکستانی فوجی سربراہ سول حکام کے بغیر امریکی صدر سے ملا۔امریکی تجزیہ کار شجاع نواز کے مطابق، ’’ٹرمپ فاتحین کو پسند کرتے ہیں، انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر میں ایک فیصلہ کن اور مضبوط شخصیت دیکھی — اسی لیے ان کے درمیان فوری ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔

    پیراماؤنٹ نے ایم ٹی وی کے پانچ مشہور میوزک چینلز بند کرنے کا اعلان کر دیا

    برطانوی سوسائٹی کی معروف شخصیت لیڈی انیبل گولڈ اسمتھ انتقال کر گئیں

    وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کا رپورٹر کو غیر معمولی جواب، سوشل میڈیا پر زیربحث

    اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، رفح کراسنگ کھولنے سے انکار

  • پکتیکا کرکٹ گراؤنڈ پر حملے کا پروپیگنڈا بے نقاب، رہائشیوں نے افغان دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا

    پکتیکا کرکٹ گراؤنڈ پر حملے کا پروپیگنڈا بے نقاب، رہائشیوں نے افغان دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا

    افغان حکومت کی جانب سے پکتیکا میں کرکٹ گراؤنڈ پر حملے کا الزام جھوٹا ثابت ہو گیا، مقامی رہائشیوں نے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارڈر کے پہاڑی علاقوں میں نہ کوئی کرکٹ گراؤنڈ ہے اور نہ وہاں کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔

    پکتیکا کے رہائشیوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار سن رہے ہیں کہ بارڈر کے علاقے میں کرکٹ کھیلی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ مکمل طور پر پہاڑی علاقہ ہے، جہاں نہ کوئی اسٹیڈیم ہے اور نہ کھیلنے کی جگہ۔ایک مقامی شخص نے کہا کہ افغان حکومت کا یہ کہنا کہ یہاں افغانی شہری کرکٹ کھیل رہے تھے اور پاکستان نے ان پر بمباری کی، سراسر بے بنیاد اور جھوٹا دعویٰ ہے۔

    رہائشیوں کے مطابق کرکٹ تو شہروں کے میدانوں اور اسٹیڈیمز میں کھیلی جاتی ہے، پہاڑوں پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی سے بھی پوچھا جائے تو وہ یہی کہے گا کہ بارڈر کے علاقے میں کسی نے کرکٹ نہیں کھیلی۔مقامی افراد نے افغان حکومت کے اس الزام کو محض ایک پروپیگنڈا اور ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.

    پاکستان امن چاہتا ہے مگر سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے، وزیراعظم

    وعدے پورے نہیں ہوئے، حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی ہے: پیپلز پارٹی

    پی سی بی نے سہ فریقی ٹی 20 سیریز کے لیے زمبابوے کو فائنل کر لیا

  • پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات  کا پہلا دور مکمل

    پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی میزبانی قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کر رہے ہیں اور پاکستان افغانستان سے دہشتگرد گروپوں کی دراندازی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات کررہا ہے،سفارتی ذرائع نے بتایاکہ پاکستان کی طرف سے وزیر دفاع خواجہ آصف وفد کی سربراہی کی اور پاکستانی سکیورٹی حکام نے ان معاونت کی،سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان کی طرف سے وزیر دفاع ملا یعقوب نے وفد کی سربراہی کی، افغان انٹیلی جنس چیف بھی افغان وفد میں شامل ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق دوحہ میں پاک افغان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا اور مذاکرات کا اگلا دور کل صبح دوحہ میں ہوگا،سفارتی ذرائع نے بتایاکہ پاکستان نے افغان وفد پر کالعدم گروپوں کی افغانستان میں موجودگی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز قطر میں پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سرحدی کشیدگی میں دوحہ مذاکرات تک سیز فائر پر اتفاق کیا گیا تھا۔

  • افغانستان کا عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ،اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش

    افغانستان کا عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ،اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش

    حالیہ دنوں میں افغان صوبوں خوست اور پکتیکا میں کیے گئے پاکستانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے فضائی حملوں کے بعد افغان سوشل میڈیا اور طالبان کے زیرِ اثر اکاؤنٹس پر ایک پروپیگنڈا مہم چلائی گئی جس میں دعوٰی کیا گیا کہ “قومی کرکٹرز” اور بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم سرکاری اور عسکری ذرائع، مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس، اور دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ یہ آپریشن ہدفی تھا ، ہدف دہشت گرد کمانڈراور دہشت گرد تھے نہ کہ عام شہری،دہشتگردوں کے ٹھکانے تھے، یہ فضائی کاروائیاں اُن ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں جو طویل عرصے سے بیرونی کارروائیوں، خاص طور پر شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے خودکش حملوں اور VBIED حملوں کی منصوبہ بندی و تیاری کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ یہ جوابی کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑی تھیں، جن میں ایک خودکش حملے میں ایک پاکستانی فوجی شہید ہوا تھا۔ افغانستان کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ درحقیقت افغان اپنے جرائم پر پردہ پوشی کر رہے ہیں.

    پاکستان کے فضائی حملے خوست اور پکتیکا میں حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے والے درست آپریشن تھے، جس میں سینئر کمانڈروں سمیت 40-50 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں خارجی گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے اہم کارندے تھے جو حالیہ سرحد پار حملوں میں براہ راست ملوث تھے، اسی گروپ نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا تھا۔ حالیہ فضائی حملے کے دوران مارے گئے عسکریت پسند کے جی بی کمانڈروں کی فہرست میں کمانڈر فرمان عرف عکرمہ، کمانڈر صادق اللہ داوڑ، کمانڈر غازی ماڑا خیل، کمانڈر مقرب، کمانڈر قسمت اللہ، کمانڈر گلاب عرف دیوانہ، کمانڈر رحمانی، کمانڈر عادل، کمانڈر فضل الرحمان، کمانڈر فضل الرحمان اور کمانڈر فضل الرحمان شامل ہیں۔ کوثر، کامڈ یونس
    ، زخمی عسکریت پسند کمانڈروں میں کمانڈر تلوار، کمانڈر صدر حیات، عمران، نعمت اللہ، شمس الدین اور عسکریت پسند کمانڈر عزیز شامل ہیں۔

    اگر یہ افراد حقیقی کرکٹرز تھے، جیسا کہ مبینہ طور پر، ایک کمپاؤنڈ کے اندر ان کی موجودگی طویل عرصے سے دہشت گردی کے اڈے کے طور پر شناخت کرتی ہے، سنگین سوالات پیدا کرتی ہے کہ کیا وہ اتفاق سے وہاں موجود تھے یا جان بوجھ کر عسکریت پسندوں کی جانب سے کور کے طور پر استعمال ہوئے؟ طالبان کا "کرکٹرز مارے جانے” کا دعویٰ جھوٹا کیونکہ کوئی بھی کرکٹرز دہشت گردوں کے کمپاؤنڈز میں نہیں رہتے۔ ان کی موجودگی یا تو ملوث ہونے یا طالبان کی جانب سے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کو ثابت کرتی ہے۔ طالبان حکومت حقائق کو توڑ مروڑ کر یا "شہری ہلاکت” کی داستانیں بنا کر دہشت گرد تنظیموں کی اپنی ملی بھگت اور اسپانسرشپ کو چھپا نہیں سکتی۔

    برسوں سے، پاکستان نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی، ایچ جی بی، اور بی ایل اے کی پناہ گاہوں کو ختم کر دیں۔ ان کی بے عملی نے اب افغان سرحدی صوبوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لانچ پیڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ طالبان حکومت کی انتہائی منظم میڈیا مہم جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تعاون سے تصنیف کی گئی ہے، نور ولی محسود کی حالیہ ویڈیو سے لے کر نام نہاد "کرکٹرز کی موت” تک، افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے ایک مربوط معلوماتی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    نام نہاد "کرکٹر” کہانی ایک بدنیتی پر مبنی من گھڑت ہے۔ طالبان سے منسلک اکاؤنٹس کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ افراد کہاں رجسٹرڈ تھے، کس صوبائی یا آفیشل کرکٹ بورڈ نے انھیں تسلیم کیا، اور وہ کیوں HGB کے عسکریت پسند کمپاؤنڈ میں مقیم تھے۔ افغان پروپیگنڈہ اس وقت واضح ہو گیا جب ایک مبینہ طور پر "ہلاک” کھلاڑی فضل حق فاروقی کو ان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر تعزیت کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو کہ طالبان کی اناڑی غلط معلومات کی ایک شاندار مثال ہے۔

    اگر اسامہ بن لادن جیسا ڈاکٹر، انجینئر یا ارب پتی بھی دہشت گرد بن سکتا ہے تو کرکٹ بیٹ والا آدمی کیوں نہیں بن سکتا؟ دہشت گردی پیشوں کو بھی نہیں بخشتی کیونکہ دہشت گرد بھی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ کرکٹ کی چند تصاویر یا ویڈیوز کا ہونا عسکریت پسندوں کو ان کے جرائم سے بری نہیں کرتا۔ ٹی ٹی پی کی متعدد ویڈیوز میں عسکریت پسندوں کو تربیت کے دوران کھیل کھیلتے دکھایا گیا ہے جس سے وہ کھلاڑی نہیں بنتے۔ ان دہشت گردوں نے ماضی میں کرکٹ کھیلی ہوگی اور کچھ حقیقی شہریوں کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائی ہوں گی۔ اب افغان طالبان کہانی گھڑنے کے لیے اسے استعمال کر رہے ہیں۔افغان طالبان درجنوں معروف دہشت گرد کمانڈروں کی ہلاکت کی بات کیوں نہیں کر رہے؟ وہ ٹی ٹی پی سے اپنی ہلاکتیں چھپانے کو کیوں کہہ رہے ہیں؟ "کرکٹرز” کا نام لینے کے بجائے طالبان حکومت کو شفاف ہونا چاہیے

    سوشل میڈیا پوسٹس جو دہشت گردوں کی تصاویر کو عام شہری کے طور پر پیش کرتی ہیں طالبان کے میڈیا ونگ کی جانب سے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی مہم کا حصہ ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ کوششیں طالبان کی جاری حمایت، پناہ گاہوں اور پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ ہم آہنگی کو نہیں چھپا سکتیں۔دریں اثنا، طالبان کے اندرونی مواصلات سے پتہ چلتا ہے کہ TTA (تحریک طالبان افغانستان) نے TTP اور HGB عسکریت پسندوں کو اپنی ہلاکتوں کو چھپانے کی ہدایت کی ہے، جس سے وہ مزید دھوکہ دہی اور پردہ پوشی میں اپنا کردار ثابت کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے اقدامات دفاعی، انٹیلی جنس پر مبنی تھے اور اپنے دفاع سے متعلق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 سے پوری طرح مطابقت رکھتے تھے۔ پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے: دہشت گردوں کی ہر پناہ گاہ کو ختم کر دیا جائے گا، اور اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کا فوری اور درست جواب دیا جائے گا۔

  • شمالی وزیرستان، خارجیوں کا معصوم بچوں،عورتوں پر بزدلانہ خودکش حملہ ناکام

    شمالی وزیرستان، خارجیوں کا معصوم بچوں،عورتوں پر بزدلانہ خودکش حملہ ناکام

    شمالی وزیرستان میں خارجیوں کا معصوم بچوں اور عورتوں پر بزدلانہ خودکش حملہ ناکام بنادیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خوارج کا خودکش حملہ ناکام بنادیا، 4 دہشتگرد ہلاک کردیئے گئے، فتنہ الخوارج کے خودکش حملے میں 3 خواتین اور 2 بچے جاں بحق ہوئے۔ذرائع کے مطابق 17 اکتوبر کو میر علی میں کھادی پوسٹ پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی، خارجی دہشتگرد گل بہادر گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی، خارجی گل بہادر افغان طالبان کی سرپرستی میں افغانستان میں چھپا ہوا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگرد بھرپور ناکامی کے بعد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں۔

    خارجی گل بہادر افغانستان میں پناہ گزین ہے اور افغان طالبان اسے نہ صرف پناہ دیتے ہیں بلکہ اس کی ہر طرح سے سہولتکاری کرتے ہیں ،کیا ان معصوم افراد کے قتل کا کوئی حساب دینے والا نہیں؟ ان کو شہید کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا ،افغان طالبان خارجی گل بہادر کے خلاف کاروائی کریں یا اسے پاکستان کے حوالے کریں،پاکستان اور اس کے عوام ان خارجیوں کے دقیہ نوسی خیالات اور دہشتگردی کو نہیں ہونے دیں گے

  • بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشان امتیاز، ملٹری، ہلالِ جرات نے کہا ہے کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے انتہائی اعزاز اور باعث فخر ہے،میں بنگلہ دیش، عراق، مالی، مالدیپ، نائیجیریا، نیپال، فلسطین، قطر، سری لنکا اور یمن سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کو بھی اس عظیم ادارے سے تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کے قیام سے اب تک، افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، وطن عزیز کے بیرونی اور اندرونی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حالیہ آپریشن معرکۂ حق، بنیان مرصوص میں افواجِ پاکستان نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور عزم سے دشمن کو شکست دے کر قوم کا اعتماد مزیدمستحکم کیا ہے، ازلی دشمن کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا،دشمن کی متعدد بیسز بشمول ایس-400 سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا اور پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا، اللہ کے فضل اور قومی عزم کے ساتھ، ہم نے من حیث القوم متحد ہو کر فولادی دیوار کی مانند دشمن کا مقابلہ کیا،پاکستان نے ایک بار پھر ایک ایسے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی جو اپنی گمراہ کن بالادستی کے غرور میں مبتلا تھا۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے جلد بازی میں الزام تراشی کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کیا،بھارت کا خود ساختہ شواہد پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی حکمران جماعت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے دہشت گردی کو سیاسی رنگ دیا، پاکستان نے عددی طور پر بڑے دشمن کے خلاف اپنی واضح فتح کی بدولت نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کا وقار اور داد حاصل کی، نوجوانوں میں یہ اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا ایک بنیادی ستون ہیں، میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، میں نہایت فخر کے ساتھ پاکستانی عوام کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں،میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ہر سپاہی، سیلر، فضائیہ کے جوانوں، بہادر مرد، خواتین، بچے، اور بزرگ جنہوں نے ان کٹھن حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا،اُن غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے یہ جنگ لڑی، قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں،قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتا ہوں نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ممالک میں جنگ کے لیے گنجائش نہیں، پاکستان کے ساتھ بنیادی مسائل کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کریں۔ یہ پیشہ ور فوج روایتی میدان میں بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوا چکی ہیں، جنگ میں ہمارے ہتھیار زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہوئے بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے، دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے۔افواج پاکستان دنیا کی بہترین فوج ہے، دشمن پاکستانی افواج اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنا چاہتا ہے، ہم شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کے بے حد شکر گزار اور مقروض ہیں، شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں، آپ شہداء کے وارث ہیں، اپنی زندگی کو ان کی یاد کے شایانِ شان بنائیں، آپ کو فخر ہونا چاہیے کہ آپ دنیا کی ایک عظیم اور باوقار فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جو کسی سے کم نہیں، دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہمارے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں، پاکستان کا دفاعی نظریہ کریڈیبل ڈیٹرنس اور دائمی تیاری پر مبنی ہے، جس میں تمام صلاحیتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کا فتنۃ الہند، فتنہ الخوارج کو”ہائرڈ گنز” کے طور پر استعمال کرنا اس کے بزدلانہ چہرے کوبے نقاب کرتا ہے، افغانستان کے لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ دائمی تشدد کے بجائے باہمی سلامتی کا انتخاب کریں، طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں، یہ پراکسیز پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرنے کے لیےافغان سرزمین استعمال کرتی ہیں،دشمن کسی بھول میں نہ رہے، پاک فوج ہر محاذ پر چوکس ہے، پاکستان کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے گا، قانون نافذ کرنے والے ادارے، مسلح افواج اور عوام کے تعاون سے یقیناً اس لعنت کو بھی شکست دیں گے، ہم اسلام کی غلط تشریح کرنے والے مٹھی بھر گمراہ دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے،

    فیلڈ مارشل کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان نے بے پناہ کوششیں کیں، پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کر رہا ہے، توقع کرتے ہیں غزہ کی انسانی بنیادوں پر امداد اور تعمیر نو کا عمل جاری رہے گا، توقع ہے کہ فلسطین کے لوگ اپنے وطن میں امن سے رہ سکیں، پاکستان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پُرامن عمل میں بھی کردار ادا کیا ہے، دیگر تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، چین کے ساتھ اپنی تاریخی اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری اور دوستی پر فخر ہے، امریکا کے ساتھ مضبوط اور بڑھتے ہوئے تعلقات کو دوبارہ متحرک کرنا حوصلہ افزا اور خوش آئند پیشرفت ہے،تنازعات کے شکار علاقوں میں قیام امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں اور اسٹریٹجک لیڈرشپ قابل تعریف ہے، ہم امن، سلامتی اور ترقی کے مفاد کے لیے اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ان تعلقات کو مزید پروان چڑھائیں گے، عالمی طاقتوں بالخصوص مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، پاکستان نے مستقل طور پر خطے اور اس سے باہر امن کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کا ثبوت دیا ہے، ہماری مسلح افواج دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بڑی تعداد میں شامل ہوتی ہیں۔

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں لانگ کورس، ٹیکنیکل کورس، لیڈی کیڈٹ کورس اور اینٹی گریٹڈ کورس مکمل کرنے والوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب ہوئی،پی ایم اے کاکول میں 152 ویں لانگ کورس، 37 ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 71 ویں اینٹی گریٹٹ کورس اور 26 ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی شاندار تقریب کے مہمان خصوصی فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں،پاس آؤٹ ہونے والوں میں 40 دوست ممالک کے فوجی بھی شامل ہیں جن کا تعلق عراق، مالدیپ، مالی، نیپال، فلسطین، سری لنکا، یمن، نائیجیریا اور بنگلا دیش سے ہے،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر حاضرین نے کھڑے ہو کر ان کا شاندار استقبال کیا۔ بعد ازاں مہمان خصوصی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا۔

  • پاک فوج کی کارروائی، گل بہادر گروپ کے 100 سے زائدخوارج ہلاک

    پاک فوج کی کارروائی، گل بہادر گروپ کے 100 سے زائدخوارج ہلاک

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد پاک فوج نے افغان صوبہ پکتیکا میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے گل بہادر گروپ کے خوارجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائدخوارج ہلاک ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق، 48 گھنٹے کی سیزفائر کی مکمل پاسداری کے بعد پاکستان نے دہشت گردوں کو مؤثر جواب دیا اور پکتیکا میں موجود گل بہادر گروپ پر بھرپور کارروائی کی۔رپورٹ کے مطابق کچھ دیر قبل پاک فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحدی پٹی کے قریب افغانستان کے اندر موجود خوارجی کیمپوں پر ہدفی حملہ کیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وہی گروپ ہے جس نے آج شمالی وزیرستان میں گاڑی کے ذریعے ناکام حملہ کیا تھا، جس میں ایک پاکستانی سپاہی نے جامِ شہادت نوش کیا اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔

    جوابی کارروائی میں پاک فوج نے گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں گروپ کی قیادت سمیت 100 سے زائد خوارجیوں کے مارے جانے کی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئی ہیں

    سلطان جوہر جونیئر ہاکی کپ: پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ 3-3 گول سے برابر

    سلطان جوہر جونیئر ہاکی کپ: پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ 3-3 گول سے برابر

    کراچی ،سوئی گیس کے دھماکے سے ایک شخص جاں بحق، 6 زخمی

    قومی ایئر لائن کی نجکاری اگلے ماہ مکمل ہونے کا امکان، 4 کمپنیاں میدان میں

    حماس کی ثالث ممالک سے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کی اپیل

  • ہائڈرو ڈپلومیسی یا ہائڈرو پولیٹکس؟،افغانستان میں پانی کے منصوبے، پاکستان کی آبی سلامتی  کو خطرہ

    ہائڈرو ڈپلومیسی یا ہائڈرو پولیٹکس؟،افغانستان میں پانی کے منصوبے، پاکستان کی آبی سلامتی کو خطرہ

    جنوبی ایشیا کے نازک پانی کے توازن میں مشترکہ دریاؤں پر کنٹرول ایک طاقتور حکمتِ عملی اور اثر و رسوخ کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر کابل دریا کے بیسن میں بھارت کی شرکت اور افغانستان میں پانی کے منصوبے پاکستان کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرے کی نشانی ہیں۔

    بھارت افغانستان میں بند باندھنے اور پانی کی منتقلی کی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، بعض منصوبے علانیہ اور بعض رہ راز کی بنیاد پر۔ مقصد یہ ہے کہ پانی کے بہاؤ کو قابو میں لاکر پاکستان پر طویل المدتی اثر ڈالنا جائے۔یہ رجحان بالکل ویسا ہی ہے جیسا بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی (IWT) کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے مغربی دریاؤں پر یک طرفہ منصوبے شروع کیے۔ یوں پاکستان دونوں مشرق سے (اندس وادی کے مشرقی حصے) اور مغرب سے (افغانستان کے ذریعے) پانی کے بہاؤ پر دباؤ کا شکار ہے۔

    حالیہ پیش رفت: طالبان اور بھارت کے درمیان ڈیمز کی پیشکش

    افغانستان کے طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان مطقی کے حالیہ دورۓ دہلی کے دوران، بھارت سے تقریباً ۱ ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست کی گئی تاکہ نئے بڑے ڈیم بنائے جائیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھارت اور افغانستان کی مشترکہ حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔کچھ ایسے منصوبے جو افغانستان میں بھارت کی معاونت یا شرکت کے ساتھ چل رہے ہیں، یا منصوبہ بند ہیں

    نامِ منصوبہ مقام خصوصیات اور امکانات

    Shahtoot Dam کابل کے نزدیک، چار آسیاب ڈسٹرکٹ پینچ ہزار ہیکٹر اراضی کی آبپاشی، کابل کے پینے کے پانی کی فراہمی، بھارت کی مالی معاونت سے تقریباً US$236 ملین کا منصوبہ۔ Shah wa Arus Dam شکردارہ ڈسٹرکٹ بجلی پیدا کرنے اور چھوٹے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت۔ ان منصوبوں سے کابل کا شہر پانی اور زراعت کے لحاظ سے فائدہ اٹھائے گا، مگر ساتھ ہی یہ پاکستان کے لیے پانی کی دستیابی کو کم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا (KP) کے لیے ممکنہ اثرات

    کابل دریا کا پانی KP کی فصلوں، بجلی کی پیداوار، اور پینے کے پانی کے لیے بہت اہم ہے۔زراعت: پشاور، نوشہرہ، چارسدہ جیسے اضلاع میں آبپاشی نیٹ ورکس متاثر ہوں گے؛ گندم، مکئی، گنا وغیرہ فصلوں کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ۔توانائی: بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے مثلاً وارسک ڈیم پر پانی کی کمی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوگی۔پانی کی قلت سے شہری مراکز خاص طور پر پشاور میں صاف پانی کی فراہمی اور صفائی کے مسائل گہرے ہوتے جائیں گے۔ماحولیاتی اثرات: پانی کی کمی سے زمینی پانی کی سطح کم ہو جائے گی، آبی نظام متاثر ہوں گے، بنجر پن اور خشک سالی کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کا ممکنہ ردِ عمل: چترال ریور ڈائیورژن منصوبہ

    پاکستان چترال دریا کو افغانستان میں ضم ہونے سے پہلے سوات بیسِن کی طرف موڑنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔ اس منصوبے کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں: تقریباً 2,453 میگا واٹ کی ہائیڈرو پاور پیداوار، آبپاشی میں بہتری، سیلاب کنٹرول اور ذخیرہ آب بڑھانا۔ چترال دریا دراصل کابل دریا کی شروعاتی شاخ ہے؛ اگر اس کا بہاؤ افغانستان میں جانے سے پہلے موڑا جائے تو پاکستان کو پانی کے بہاؤ پر کچھ کنٹرول مل سکتا ہے۔

    پاکستان کی قانونی اور سفارتی صورتحال

    پاکستان نے عالمی عدالتِ ثالثی (Court of Arbitration) میں آندس واٹرز ٹریٹی کے تحت بھارت کے بعض منصوبوں کی تقسیم اور ڈیزائن پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ حکومت پاکستان ہائڈرو منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بھارت کے ممکنہ یک طرفہ اقدامات کا اثر کم کیا جا سکے۔ یہ معاملہ محض پانی کی تقسیم کا نہیں بلکہ حکمتِ عملی، طاقت اور علاقائی اثر و رسوخ کا ہے۔ اگر بھارت اور افغانستان مل کر کابل دریا کے بہاؤ کو مناسب مشاورت اور بین الاقوامی قواعد کے بغیر کنٹرول کریں تو پاکستان کے شمال مغرب خصوصاً خیبر پختونخوا کے وسائل، معیشت اور عوام کی فلاح پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کی حکمت عملی میں پانی کے موافق منصوبے جیسے چترال ریور ڈائیورژن ضروری ہیں، مگر انہیں عملی اور قانونی بنیادوں پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ علاقائی مکالمہ، معاہدے کی پابندی، ماحولیاتی اثرات کا جائزہ، اور مشترکہ پانی کے منصوبوں میں شفافیت ہی وہ راستہ ہے جو کشیدگی کو کم کر سکتا ہے اور سب کے مفاد میں ہوگا۔

    بہاولنگر میں پولیس کی بڑی کارروائی، اے کیٹگری کا خطرناک اشتہاری ملزم گرفتار

  • لکی مروت کے علاقے سلطان خیل میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، آٹھ خوارجی جہنم واصل

    لکی مروت کے علاقے سلطان خیل میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، آٹھ خوارجی جہنم واصل

    لکی مروت کے علاقے سلطان خیل میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، آٹھ خوارجی جہنم واصل ہو گئے

    تفصیلات کے مطابق، 16 اکتوبر 2025 کو لکی مروت کے علاقے سلطان خیل میں پاک فوج نے انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے آٹھ انتہائی مطلوب خوارجین کو جہنم واصل کر دیا، سکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں افغان طالبان کی پراکسی خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی عمل میں لائی گئی، فورسز نے سلطان خیل اور طوفان والا کے علاقوں میں فضائی اور زمینی نگرانی شروع کی،نگرانی کے دوران خوارج کی نقل و حرکت کی نشاندہی ہونے پر فوری کارروائی کی گئی، آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا، گزشتہ چار روز میں افغان طالبان کے بھیجے گئے 102 خوارج جہنم واصل کئے جا چکے ہیں،نیشنل ایکشن پلان کے تحت عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز اور مسلسل کارروائیاں جاری ہیں، انشاء اللہ