Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن ہر ملک کے مفاد میں ہے، اسی نیت سے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ مودی سمجھتا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہمیں بھارت میں ایک آئیڈیولوجی کا سامنا تھا جس کا نام آر ایس ایس ہے ، اس آئیڈیولوجی کے ساتھ بھارتی سرکار کیساتھ گفت و شنید انتہائی مشکل ہے مودی کا نظریہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بلکہ خود ہندوستان کے عوام کیلئے بھی بد قسمتی ہے جو لوگ جنگوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخ سے نا واقف ہوتے ہیں اور دوسرا انہیں اپنے ہتھیاروں پر بہت غرور ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے بعد مسائل چند لمحوں یا ہفتوں میں حل ہو جائیں گے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہی سوچ لے کر امریکہ افغانستان میں آیا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ چند ہفتوں کیلئے شروع کی جانے والی جنگ دو دہائیوں پر پھیل گئی افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے میں ماحولیات کے اس المیے سے ہم لوگ بیس سال پہلے آگاہ تھے مگر دنیا نےچشم پوشی کئے رکھی پاکستان میں تو کبھی سوچا ہی نہیں گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے بھی کوئی فرق پڑے گا ملک میں 1960 کی دہائی میں معیاری منصوبہ بندی کمیشن بنا تھا ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینک کی بہت ضروری ہے باہر امریکی تھینک ٹینک پاکستان پر گفتگو کر رہے ہیں نہ وہ یہاں کی تاریخ جانتے ہیں نہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں مگر وہ باہر بیٹھے پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ یہ ایک انتہا پسند ملک ہے اور ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم موقف بھی بیان نہیں کرتے

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 25 سال پہلے تحریک انصاف شروع کی تو ہمارا منشور واضح تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے احساس راشن رعایت پروگرام کے اجراء سے شہریوں کو آٹا، گھی، تیل اور دالوں کی خریداری پر30 فیصدرعایت ملے گی احساس راشن پروگرام کی کل لاگت 120ارب روپے ہے، پروگرام کے تحت 2 کروڑ خاندان اور تقریبا 13 کروڑ افراد مستفید ہوں گے جو ملک کی کل آبادی کا تقریبا 53 فیصد ہے، ماہانہ 50 ہزار سے کم آمدن والے خاندان اس پروگرام سے استفادے کے اہل ہوں گے ۔ اہل صارفین کو کل خریداری پر 30 فیصد رعایت ملے گی،یہ رعایت آٹا، گھی یا تیل اور دالوں پرملے گی

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

  • سینیٹ ضمنی انتخاب:شوکت ترین کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سینیٹ ضمنی انتخاب:شوکت ترین کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پشاور: سینیٹ کے ضمنی انتخاب کیلئے شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پشاورمیں سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، الیکشن ٹربیونل نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ووٹر لسٹ منجمد ہوجاتی ہے، شوکت ترین کا ووٹ الیکٹورل رول میں درج نہیں ہے الیکٹورل رول میں ووٹ درج نہ ہونے پر شوکت ترین کے پی سے سینیٹ الیکشن نہیں لڑسکتے۔

    شوکت ترین کے وکیل علی گوہر نے مؤقف پیش کیا کہ سینیٹ کے لئے الیکشن کمیشن کا ووٹ سرٹیفکیٹ ہی کافی ہوتا ہے۔

    شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری دیا گیا

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محمد ایوب نے سینیٹر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان کا معاون خصوصی بنایا گیا تھا، ان کی اس سیٹ پر شوکت ترین سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا، سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔

    آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس، سیکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار

    الیکشن کمیشن کاکہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 دسمبر 2021 تک ہے، 11 دسمبر کو کاغذات جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی۔

    یاد رہے کہ شوکت ترین وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے مگر عوام کا منتخب نمائندہ نہ ہونے کے باعث ان کے عہدے کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ تھی جس کے بعد وہ وزیر خزانہ نہ رہے وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ ماہ کے وزیر خزانہ بنایا تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سیٹ کی ڈی نوٹیفائی کر کے ان کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا جائے گا تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان نہ مل سکا جس کے باعث انہیں مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    بطور مشیر شوکت ترین کمیٹیوں کے اجلاس کی سربراہی نہیں کر سکتے ، شوکت ترین کو پارلیمنٹ میں نشست دینے کیلئے پاکستان تحریک انصاف نےاپنے سینیٹر ایوب آفریدی کو سینیٹ کی سیٹ سے مستعفی کرایا ہے ۔

  • فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس، درخواست گزار کی درخواست واپس لینے کی استدعا

    فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس، درخواست گزار کی درخواست واپس لینے کی استدعا

    وفاقی وزیر فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس میں درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں فواد چودھری کی نا اہلی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ درخواست واپس کیوں لینا چاہتے ہیں ؟۔

    فواد چودھری کے خلاف نااہلی کیس کی درخواست پر سماعت کب ہو گی ؟ اہم خبر

    وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ مجھے درخواست واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت سے کہ اکہ اگر درخواست گزار درخواست واپس لینا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔

    عدالت کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا پر فیصلہ اگلی سماعت پر کیا جائے گا۔

    مجرمان کو عامی افراد کا خود سزا دینا منافی اسلام ہے

    واضح رہے کہ فواد چودھری کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ فوادچودھری نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے، الیکشن کمیشن میں درست معلومات نہیں دی گئیں-

    وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فوادچودھری کے خلاف درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ فواد چوھدری نےملکیتی اراضی ظاہر نہیں کی، فوادچودھری آرٹیکل 62،63 پرپورانہیں اترتے ،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوادچودھری کو 62 ون ایف کےتحت نااہل کیا جائے .

    فواد چوھدری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 67 سے الیکشن لڑے تھے ان کے مقابلے میں مسلم لیگ کے امیدوار نوابزادہ مطلوب مہدی تھے، فواد چوھدری دس ہزار کی لیڈ سے الیکشن جیتے تھے-

    رواں سال پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی فلمیں و ڈرامے

  • برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    لندن :برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی بھی چُھٹّی ہوسکتی ہے:تہلکہ خیزانکشافات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت سخت خطرے میں ہے ، اس کی وجہ بہت سنگین بتائی جارہی ہے،

    ادھر اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان کے دارالعوام میں اس ویڈیو پر معذرت کر لی ہے جس میں ان کے سٹاف کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر ان کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ پارٹی پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    بورس جانسن نے پارلیمان میں اس معاملے پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ اس بات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ کوئی پارٹی نہیں ہوئی تھی اور اعلان کیا کہ یہ انکوائری بھی کروائی جائے گی کہ آیا کووڈ کی وجہ عائد کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

    کرسمس کے موقع پر کووڈ کی پابندیوں کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے پارٹی کا اہتمام کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد سے بورس جانسن کی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔

    اس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کیر سٹامر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور ان واقعات کے بارے میں ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ہے۔

    ادھر غلط بیانی پر یہ ویڈیو بورس جانسن کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے ،ویسے تو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے تنازعہ کوئی نئی چیز نہیں تاہم حالیہ دنوں میں وہ اور ان کی کابینہ ایک نئے سکینڈل کی زد میں آ گئے ہیں۔اس بہت بڑے جھوٹ نما سیکنڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ بورس جانسن کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا

    اس بار ان کے لیے مشکل وہ ویڈیو بن گئی ہے جس میں ان کی اپنی پریس سیکریٹری یہ انکشاف کر رہی ہیں کہ گذشتہ برس دسمبر میں کووڈ 19 کے باعث لاگو پابندیوں کے باوجود وزیر اعظم آفس میں ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔

    لیک ہونے والی ویڈیو کے مطابق اس پارٹی میں 40 سے 50 افراد شریک تھے اور یہ ویڈیو برطانیہ کے آئی ٹی وی چینل نے نشر کی ہے۔اب بورس جانسن کی طرف سے اقرار کرنے کےساتھ جہاں ان کی پریس سیکرٹری کو مستعفیٰ ہونا پڑا ہے ، بعض حلقوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بورس جانسن کی حکومت بھی چند دن کی مہمان ہے

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں ہیلی کاپٹر کریش پر بریفنگ دی ہے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جنرل بپن راوت سمیت تمام لاشیں نئی دہلی لائی جائیں گیہیلی کاپٹر کے حادثے کی سہ فریقی تحقیقات کا حکم دیا ہے، تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ایئر مارشل مانویندر سنگھ کریں گے،انکوائری ٹیم نے گزشتہ روز خود ہی ویلنگٹن پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کیا ہیلی کاپٹر حادثے کی تینوں سروسز کو تحقیقات کا حکم دیا ہے جنرل بپن راوت کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی، لوک سبھا میں افسوس کے لئے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کا جسد خادی دہلی چھاونی میں لایا جائے گا اور جمعہ کو آخری رسومات ادا کی جائیں گی جسد خاکی ایک فوجی طیارے کے ذریعے دہلی پہنچایا جائے گا ، ہیلی کاپٹر کا فلائٹ ریکارڈ بلیک باکس تلاش کر لیا گیا ہے، بلیک باکس کے ملنے سے تحقیقات میں آسانی ہو گی، بلیک باکس کو ڈھونڈنے کے لئے تحقیقاتی ٹیم نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، ٹیم کو جائے حادثہ سے تقریبا 300 میٹر سے ایک کلومیٹر کے علاقے کے درمیان سرچ آپریشن کرتے ہوئے بلیک باکس ملا،ونگ کمانڈر آر بھاردواج کی قیادت میں بھارتی فضائیہ کے افسران کی 25 رکنی خصوصی ٹیم نے بلیک باکس برآمد کیا،

    قبل ازیں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت پاکستان کے عسکری حکام نے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ندیم رضا نے تامل ناڈو میں بھارتی فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا ہے

    بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے ،بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں، بہن راوت کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی ہیں، جنرل بپن راوت پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، حادثہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت تمام لیڈروں نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ،بھارتی فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے دوسری جانب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سی ڈی ایس بپن راوت کی رہائش گاہ دہلی میں پہنچ گئے ہیں، بھارتی آرمی چیف بھی بپن راوت کے گھر پہنچ چکے ہیں،

    بپن راوت کو زخمی ہسپتال میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا انکو آئی سی یو میں رکھا گیا، بھارتی فوج کے ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی کوشش کی تا ہم انکی موت ہو گئی ،ہندوستانی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ (ر) نے بھی بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کی موت کی تصدیق کی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے موت کی تصدیق کی، انکی ٹویٹ پر صارفین نے تبصرے بھی کئے ہیں

    ہیلی کاپٹرحادثے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں،ہلاک افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے کی جائے گی، بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت بھی ہیلی کاپٹر میں سوار تھے ،بپن راوت کی بیوی بھی ہیلی کاپٹر میں سوار تھیں ، ہیلی کاپٹر جہاں تباہ ہوا امدادی ٹیمیں پہنچ گئی تھیں اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا تھا بھارتی میڈیا کے مطابق جنرل بپن راوت کا عملہ اور گھر کے کچھ افراد بھی سوار تھے، رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت ، انکی اہلیہ، دفاعی معاون، سیکورٹی کمانڈوز اور بھارتی فضائیہ کے پائلٹ سمیت 14 افراد سوار تھے

    مقامی لوگوں نے 80 فیصد جھلسنے والی چار لاشیں مقامی اسپتال منتقل کیں بعد ازاں دیگر لاشین منتقل کی گئیں ،13 افراد کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے تا ہم انکی شناخت ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی، بھارتی ریاست تامل ناڈو میں حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر میں جنرل بپن راوت کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ مگر ابھی اس کے اعلان سے گریز کیا جارہا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی حکومت کے سرکاری بیان کا انتظار کررہا ہے۔اب تک 14 سوار میں سے 11 کی ہلاکت کا اعلان کیا جاچکا ہے، مگر ان کے نام نہیں بتائے جارہے۔حادثے کی جو ویڈیو سامنے آئی اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کو آگ لگی ہوئی ہے، حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے ،اطلاعات کے مطابق بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت ایک لیکچر سیریز میں حصہ لینے کے لئے جا رہے تھے کہ انکا ہیلی ایم آئی 17 حادثے کا شکار ہو گیا،مقامی فوجی افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کا ہیلی کاپٹر تباہ ہونے پر بھارتی وزیراعظم مودی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا، اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی وزیراعظم کو ہیلی حادثہ بارے بریفنگ دی، بھارتی وزیر دفاع اعلیٰ حکام کے ہمراہ جائے وقوعہ کا بھی دورہ کریں گے جہاں ہیلی تباہ ہوا ہے ،بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس نا خوشگوار واقعے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع جلد ہی سی ڈی ایس کے ہیلی کاپٹر حادثے پر پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں گے۔

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع بتا رہے ہیں کہ اس بات کے ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کو تامل باغیوں نے نشانہ بنایا ہے، یہ بات صحیح بھی ہوئی تو بھارتی فوج اسکو کبھی تسلیم نہیں کرے گی ،حادثہ کے حوالہ سے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں بیان دیں گے، ذرائع کے مطابق بالاکوٹ حملے کی ناکامی کے بعد بھارتی حکومت بپن راوت سے خوش نہیں تھی جس میں پاکستان کی جانب سے 2 بھارتی جیٹ طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا تھا۔

    دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں ہے، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

    بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت اپنی بیوی اور افسران کے ہمراہ محفوظ ترین ہیلی میں سوار تھے جس کے دو انجن ہیں، ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرے انجن کے ساتھ محفوظ لینڈنگ کروائی جا سکتی ہے ، وی وی آئی پی شخصیات کے لئے اس ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوتا ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 31 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے جنہیں مودی سرکار نے بھارت کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا تھا جنرل بپن لکشمن سنگھ راوت ہندوستانی فوج کے فور اسٹار جنرل تھے وہ بھارت کے علاقے اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے، انڈین ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، انکے والد بھی فوجی تھے، بھارتی حکومت نے فوج کے حوالہ سے قوانین میں ترمیم کر کے بپن روات کو عہدہ دیا تھا ،اس ضمن میں عمر کی حد بڑھا کر 62 سے 65 برس کی گئی تھی اور آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا گیا تھا ،بپن راوت کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا جنرل راوت مسلسل کامیابی کی سیڑھی چڑھتے رہے اور مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے، انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا

    انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

  • آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس، سیکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار

    آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس، سیکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار

    آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس،ملکی سرحدی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 2 روزہ کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں خطے کی صورتحال اور قومی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا فورم نے ملکی سرحدی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہارکیا،کور کمانڈرز کانفرنس میں سیالکوٹ واقعے کی مذمت کی گئی ،فورم نے کہا کہ سیالکوٹ جیسے واقعات پر زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے ملک سے دہشتگردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا کور کمانڈرز نے ملکی سرحدی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی پر منحصر مستقبل کی جنگوں کیلئے تیار رہنا از حد ضروری ہے،۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج میں جاری تربیتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی پر منحصر مستقبل کی جنگوں کے لیے تیار رہنا از حد ضروری ہے اجلاس کے دوران عسکری قیادت نے سیالکوٹ میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا نوٹس لیا گیا اور عزم دہرایا گیا کہ تشدد پسندانہ اور دہشت گردانہ عناصر کے لیے قطعی تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا

  • یہ معاشرہ ہے یا جنگل،تین ہولناک واقعات اور ہو گئے

    یہ معاشرہ ہے یا جنگل،تین ہولناک واقعات اور ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات کا سیزن، سب کا احتساب ہونا چاہیے،اٹارنی جنرل کے عدالت میں دلائل

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات کا سیزن، سب کا احتساب ہونا چاہیے،اٹارنی جنرل کے عدالت میں دلائل

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات کا سیزن، سب کا احتساب ہونا چاہیے،اٹارنی جنرل کے عدالت میں دلائل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مبینہ آڈیو کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے گئے

    وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل اوردرخواست گزار وکیل صلاح الدین عدالت میں پیش ہوئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے وکیل سے سوال کیا کہ بتایا جائے یہ عدالت درخواست پر کس کو نوٹس کرے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 16 ہزاروں ملازمین بہت اہم کیس زیر سماعت ہے عدلیہ پر الزامات لگانے کا سیزن چل رہا ہے،ججز کے خلاف آڈیو، ویڈیو لیکس منظر عام پر آگئے، عوام کی نظروں میں عدلیہ کی خودمختاری ضروری ہے،عدالتی احکامات پر ایک وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی جس وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی آج بھی سوالیہ نشان ہے، بے نظیر بھٹو جب وزیر اعظم تھیں انکی حکومت بھی عدلیہ کی وجہ سے گئی، یہ سب ججز کے خلاف کب سے چل رہا ہے ذولفقار علی بھٹو کو کیوں پھانسی دی گئی؟ سابق جج کی آڈیو لیک ہوگئی جس میں وہ وزیراعظم کو ہٹانے کی بات کرتے ہیں،سب کا احتساب ہونا چاہیے ایسا نہیں ہوتا کہ فیصلہ خلاف ہو تو سپریم کورٹ پر حملہ کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل تو جسٹس منیر تک پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پتہ لگنا چاہیے کہ رقم سے بھرے سوٹ کیس کیوں اور کیسے گئے؟ جسٹس سجاد علی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا ؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ حکومت 4، 5 کمیشن بنائے،ذوالفقار علی بھٹو کو جن ججز نے پھانسی دی تھی ان میں ایک چیف جسٹس بھی بنا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آڈیو کی تصدیق ہم کیسے کرسکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے اپنا دورہ افریقہ کی تصویر جو سوشل میڈیا پر زیر بحث رہی تھی اٹارنی جنرل اور وکیل کو دی

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج کی اخبار میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی بڑی رپورٹ عدلیہ کے بارے میں شائع ہوئی ہے،عدلیہ پریس کانفرنس نہیں کرسکتی، سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرسکتے، تمام کمزوریوں کے باوجود یہی ادارہ ہے جو لوگوں کو ریلیف دے،اس کیس کو پارلیمنٹ بھیجاجائے،وکیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ایک طرف کہتے ہیں کہ اتنے معاملات ہیں اور سب کی انکوائری کرے، اٹارنی جنرل دوسری جانب کہتے ہیں کہ اگر ان کو چھیڑا گیا تو نیا پنڈورا باکس کھول جائے گا ججز پر الزامات لگائے گئے مگر کوئی تحقیقات کے لئے نہیں آیا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ خود کچھ نہیں کرسکتی مگر آزاد میڈیا اور بارز کردار ادا کرسکتا ہے،کیا آپ کو لگتا ہے کہ آزاد میڈیا اور آزاد بارز اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ؟ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کے مانچسٹر میں دو فلیٹس کہاں پر ہیں، اور لوگوں کو یقین بھی ہے، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ ویڈیو کہاں پر ہے، آپ کے پاس بھی نہیں، آج کل تو آڈیو ویڈیو بنانا اور فیبری کیٹڈ کرنا بہت ہی آسان ہوگیا، اٹارنی جنرل ے کہا کہ 16 ہزار خاندانوں کا ایک کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے کبھی کوئی ویڈیو نہیں ائی، صرف اسی ایک کیس میں یہ سب کیوں؟ عدلیہ پر بار بار حملے کیوں ؟ سپریم کورٹ کے دروازے پر کہا گیا کہ بدقسمتی سے دس گز کے فاصلے پر چیف جسٹس کے چیمبر نہیں جاسکتے،چیف جسٹس کے چیمبر نہیں جاسکتے مگر ڈسٹرکٹ کورٹ میں ججز کے کپڑے پھاڑے جاتے ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ ہوا اور کہا گیا کہ وکلا بے گناہ ہے، آج یوم احتساب ہے، سپریم کورٹ میں کیس ہے اور ہزاروں افراد کا معاملہ ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اکثر کیسسز کو ڈائیورٹ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ یا شروع نہ کرے اور یا روز اول سے کرے، اٹارنی جنرل ماضی میں وزراء اور وزیراعظم کی عدلیہ پر لگائے گئے الزامات خلاف کریمنل اپیل دائر کرے،اس عدالت نے میڈیا پر آئے بیان حلفی کے زریعے لگائے گئے الزامات پر ازخود نوٹس لیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیان حلفی کیس میں بیان حلفی جس کی ہے اور جس نے خبر چلائی دونوں اپنے چیزوں کو کنفرم کررہے ہیں، آڈیو کے بارے میں آپ کو بھی نہیں معلوم کہ کس کی ہے، اصلی ہے یا نہیں، آڈیو جس کے بارے میں ہے وہ تو اس عدالت میں ہے نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو اس کیس میں متاثر ہیں وہ آئے اور خود درخواست دے، مگر پراکسی وار شروع نہ کیا جائے،اس طرح نہیں ہوسکتا کہ ایک ویڈیو کو چھوڑ دے اور دوسرے سے شروع کرے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو نہ سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی چیز سے متاثر ہونا چاہیے،عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کرے کہ اس کیس کو آگے کیسے لیکر جائے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سوال اگر یہ ہے کہ کیا یہ عدالت اس قسم کی درخواست سن سکتی ہے یا نہیں، کسی کمیشن کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں، مسلہ یہ ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کے تمام کابینہ پہلے ہی عدلیہ پر بیان بازی کرچکے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ نہیں پارلیمنٹ کی بات کی ہے، وہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کوئی استدعا نہیں مانگی کہ یہ عدالت کس کو ڈائرکٹ کرے، وکیل نے کہا کہ کمیشن بنانے کے لئے ڈائریکشن دی جاسکتی ہے، عدالت نے کیس کی سماعت 24 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آڈیو لیک اور عدلیہ پر الزامات کی تحقیقات کےلیے کمیشن تشکیل دیا جائے،سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر صلاح الدین احمد اور جوڈیشل کمیشن کے ممبر سید حیدر امام رضوی نے درخواست دی ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ریٹائرڈ جج، وکیل ،صحافی، سول سوسائٹی کے افراد پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا جائے کمیشن کو کہا جائے کہ وہ ٹی او آرز بنائے اور عدلیہ پر دیگر الزامات کی بھی چھان بین کرے درخواست میں سیکریٹری قانون اور چاروں صوبوں کے محکمہ داخلہ سیکریٹریز کو فریق بنایا گیا

    قبل ازیں مریم نواز کی آڈیو سے قبل ،سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی بھی آڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ آڈیو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے جس میں وہ نوازشریف کو اقتدارسے دوررکھنے کے لیے کسے کے ساتھ بات چیت کررہےہیں اس آڈیو کے منظرعام پرآتے ہیں یہ تاثربھی عام ہوگیاکہ یہ نوازشریف اینڈ کمپنی کی کاریگری کا ایک اور شاہکار ہے جو بہت جلد اپنی موت آپ مرجائے گابعض نے کہاہے کہ اس آڈیو کا فرانزک چیک ہونا چاہیے-

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی ایک آڈیو وائرل ہوئی تھی جس کو ن لیگ نے صحیح کہا اور اسکو لے کر مریم نواز نے دو دن قبل پریس کانفرنس بھی کی تھی، ثاقب نثار کی اس آڈیو کو اگرچہ مختلف پروگراموں کی آڈیو لے کر جوڑ کر بنایا گیا ہے تا ہم ایک جملے کو مریم نواز نے چیلنج کیا اور کہا کہ بتایا جائے یہ جملہ کس تقریر کا حصہ ہے،مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف جرم کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے مریم نواز کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں آڈیو کوجھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی

    @MumtaazAwan

    نا اہل عمران نیازی کو کس نے وزیر اعظم بنایا؟ بنی گالہ،زمان پارک کی رسیدیں دینا پڑیں گی، نواز شریف

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    نیب دفتر کے باہر ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

    کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

  • توشہ خانہ تحائف کیس ،حکومت نے ایک بار پھر مہلت مانگ لی

    توشہ خانہ تحائف کیس ،حکومت نے ایک بار پھر مہلت مانگ لی

    توشہ خانہ تحائف کیس ،حکومت نے ایک بار پھر مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجاوزات کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نیشنل پارک کے تحفظ کیلئے اقدامات نہ اٹھانے پر سی ڈی اے اور دیگر اداروں پر برہم ہو گئی ،عدالت نے معاون خصوصی ملک امین اسلم اور چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں تجاوز کی گئی زمین ابھی تک واپس کیوں نہیں لی گئی؟ نیشنل پارک میں تجاوزات سے مفاد عامہ کے اہم سوالات اٹھے ہیں،ایڈیشینل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارگلہ ہلز کی بہت سی کیٹگریز ہیں

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں حکومت نے ایک بار پھر مہلت مانگ لی اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے باعث التوا کی استدعا کی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے انفارمیشن کمیشن نے وزیراعظم کو توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات شہری کو فراہم کرنے کا حکم دیا تھا

    واضح رہے کہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن آف پاکستان کا شہری کو وزیراعظم کے تحائف کی تفصیلات دینے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کابینہ ڈویژن کی درخواست پر سماعت کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمان صدیقی عدالت میں پیش ہوئے حکومت نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ملنے والے تحائف کو کلاسیفائیڈ قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے ایسے تحائف کی تفصیلات کے اجرا سے میڈیا ہائپ اورغیر ضروری خبریں پھیلیں گی بے بنیاد خبریں پھیلانے سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے جبکہ ملکی وقار بھی مجروح ہو گا

    وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار پر پیپلز پارٹی کا رد عمل سامنے آیا ہے، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ایک نہیں دو پاکستان۔ حکومت نے وزیر اعظم کو بیرون ملک دوروں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس چل رہے ہیں۔ تحریک انصاف جوابدہی اور شفافیت سے کیوں ڈر رہی۔ دوسروں کی باری پر یہ انقلابی بن جاتے ہیں کابینہ ڈویزن اب کہہ رہی کہ تحائف کی تفصیلات بتانے سے پاکستان کے ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہونگے، یہ وہی حکومت ہے جس نے گزشتہ سال ماضی کی حکومتوں کو بیرون ممالک دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا تھا۔ نیا پاکستان بنانے والے احتساب سے اتنا خوفزدہ کیوں ہین؟

    @MumtaazAwan

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کو سزائے موت ہونی چاہیے، چیف جسٹس

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی