راولپنڈی:خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں دہشتگردوں نے پاک افغان بارڈر عبور کرنے کی کوشش کی اس دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پاک فوج کے دو جوان شہید ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخلے کی کوشش ہوئی، بارڈر پار کرنے کی یہ کوشش 26 اور 27 فروری کی درمیانی رات کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر رد عمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کی پاکستان میں گھسنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، فائرنگ کے باعث دو جوان شہید ہو گئے، شہید ہونے والوں میں لانس نائیک اسد اور سپاہی آصف شہید شامل ہیں۔ لانس نائیک اسد کا تعلق ضلع کرم اور سپاہی آصف کا تعلق ضلع لکی مروت سے ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اپنے سرحدوں کی دفاع کےلیے پرعزم ہے۔ دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ یقینی بنایاجائےگا، ہمارے جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے عبوری افغان حکومت سے پاکستان مخالف سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مارچ ایک بار پھر رک گیا، کامونکی تھانے کو تالے لگ گئے،شرکاء کی تعداد کتنی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کامونکی میں تحریک لبیک نے پڑاؤ کا اعلان کر دیا
تحریک لبیک کا مارچ آج کی رات کامونکی میں گزارے گا، جعمرات کی صبح نماز فجر اور ناشتے کے بعد دعا ہو گی اور قافلے کا رخ پھر اسلام آباد کی جانب ہو گا، مرید کے سے کامونکی تک تقریبا 10 کلو میٹر کا فاصلہ ایک دن میں کارواں نے طے کیا، اس دوران سادھوکی کے قریب پولیس نے چاروں طرف سے گھیر کو مارچ کے شرکاء پر شیلنگ کی، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ سیدھی گولیاں برسائی گئین، ہیلی کاپٹر سے بھی شیلنگ کی گئی، سادھوکی میں تحریک لبیک کے چار کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کے اعدادوشمار نہیں جاری کئے گئے،
باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کے مطابق کامونکی سے گوجرانوالہ تک کا راستہ بالکل کلیئر ہے ،کہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تا ہم لبیک کی شوریٰ نے اعلان کیا ہے کہ اب مارچ کا پڑاؤ کامونکی میں ہی ہو گا کامونکی میں تحریک لبیک کے مارچ کے شرکاء کی تعداد آزاد ذرائع کے مطابق پچیس سے 30 ہزار ہو چکی ہے، چار روز مریدکے میں پڑاؤ کے عرصے کے دوران مختلف شہروں سے کارکنان ما رچ میں شامل ہوئے، جس کی وجہ سے مارچ کے شرکاء میں اضافہ ہوا
دوسری جانب مارچ کے کامونکی پہنچنے پر کامونکی تھانہ صدر کی پولیس تھانے کا تالہ لگا کرغائب ہو گئی ہے، جی ٹی روڈ پر ہی تھانہ صدر کی بلڈنگ ہے، تھانے کو اسوقت تالہ لگا ہوا ہے اور ایک بھی اہلکار تھانے میں موجود نہیں ہے
قبل ازیں حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت نے پشاور جی ٹی روڈ بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا، مظاہرین کو جہلم سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا ، جہلم پل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے
کامونکی میں مارچ کا بھر پور استقبال کیا گیا، کامونکی پہنچنے پر تحریک لبیک پاکستان رکن مرکزی شوری پیر سرور سیفی نے کامونکی پر شرکاء مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چار لوگوں کو سادھوکی میں شہید، سینکڑوں کو زخمی، درجنوں کو اپاہج کیا گیا، میں کہنا چاہتا ہون کہ پاکستان کی عوام اب سڑکوں پر آ جائے، ظلم کی انتہا ہو چکی ہے، سب لوگ اٹھیں اس کارواں میں شامل ہو جائیں،یہ حرمت رسول، ناموس رسالت کا کارواں ہے، ہم اسلام آباد جائیں گے یہ قافلہ رکے گا نہیں، شیلنگ، ظلم و تشدد ،کوئی بھی چیز ہمارا قافلہ نہیں روک سکتی، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں، ہمیں آقا کریم کے نگاہ کرم کی ضرورت ہے، کچھ بھی برداشت کر لیں گے لیکن ختم نبوت یا ناموس رسالت پر حملہ ہو کبھی برداشت نہیں کریں گے، حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ کتنے لوگوں کو مارو گے، ہماری گردنیں حاضر ہیں.پیر سرور سیفی کا کہنا تھا حکومت نے سفیر نکالنے کی بجائے ہمارے لوگوں کو شہید کیا،
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
بہت ظلم ہو چکا، اب قوم سڑکوں پر آ جائے، لبیک شوریٰ کی اپیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا کا مارچ کامونکی پہنچ گیا ہے
کامونکی میں مارچ کا بھر پور استقبال کیا گیا، کامونکی پہنچنے پر تحریک لبیک پاکستان رکن مرکزی شوری پیر سرور سیفی نے کامونکی پر شرکاء مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چار لوگوں کو سادھوکی میں شہید، سینکڑوں کو زخمی، درجنوں کو اپاہج کیا گیا، میں کہنا چاہتا ہون کہ پاکستان کی عوام اب سڑکوں پر آ جائے، ظلم کی انتہا ہو چکی ہے، سب لوگ اٹھیں اس کارواں میں شامل ہو جائیں،یہ حرمت رسول، ناموس رسالت کا کارواں ہے، ہم اسلام آباد جائیں گے یہ قافلہ رکے گا نہیں، شیلنگ، ظلم و تشدد ،کوئی بھی چیز ہمارا قافلہ نہیں روک سکتی، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں، ہمیں آقا کریم کے نگاہ کرم کی ضرورت ہے، کچھ بھی برداشت کر لیں گے لیکن ختم نبوت یا ناموس رسالت پر حملہ ہو کبھی برداشت نہیں کریں گے، حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ کتنے لوگوں کو مارو گے، ہماری گردنیں حاضر ہیں.پیر سرور سیفی کا کہنا تھا حکومت نے سفیر نکالنے کی بجائے ہمارے لوگوں کو شہید کیا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا لانگ مارچ ایک بار پھر روانہ ہو چکا ہے، پولیس کی جانب سے زبردست شیکنگ اور رکاوٹوں کے بعد سادھوکی سے کارکنان نے رکاوٹیں ہٹا لی ہیں کنٹینرز ہٹا کر راستہ کلیئر کرلیا گیا اسکے بعد پیدل مارچ کامونکی میں داخل ہو گیا ہے جبکہ گاڑیوں کے لئے مزید راستے کلیئر کروائے جارہے ہیں
حکومت نے تحریک لبیک کے مارچ کو ایک بار پھر روکا تھا ،سادھوکی کے قریب پولیس کی شلینگ سے کئی کارکنان زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ایددھی کے رضا کا ر طبی امداد دے رہے ہیں ، مبینہ اطلاعات کے مطابق سادھوکی میں مزید 4 کارکنان کی موت ہو گئی ہے، جن کارکنان کی موت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا تعلق گجرات سے ہے
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب صدر پاکستان محمد عارف علوی صاحب اور وزیر اعظم عمران خان صاحب کے نام سجادہ نشین و جانشین حضرت امیر ملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی صاحب نے پیغام جاری کیا ہے-
باغی ٹی وی : پیر سید منور حسین شاہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران کان سے مخاب ہوتے ہوئے کہا کہ جناب والا! کوئی بھی حکومت ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی کیونکہ مظلوم کی آہ سیدھی عرش الٰہی تک پہنچتی ہے کیونکہ پچھلے دو تین دنوں سے جو ظلم و ستم غریب ، مظلوم اور بے کس لوگوں پر ہو رہا ہے اور ان کا کوئی پُر سنا حال نہیں ہے-
انہوں نے کہا کہ خان صاحب اگر نظر بغور دیکھیں گے تو آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں نہ تو آپ کی حکومت سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت یا تنظیم سے کوئی سروکار ہے آپ ان والدین کو ہی دیکھ لیں جو 1 سے 5 سال تک کے بچوں کو ہمراہ لے کر ناموس رسالت کی خاطر اپنے آقا نبی کریم ﷺ کے نام پر دیوانہ وار نکلے ہوئے ہیں اور وہ اپنے نبی ﷺ کے عاشق اور دیوانے ہیں انہیں بچپن سے محبت اور عشق رسول والا سبق ملا اور عشق رسالت مآب ﷺ ان کی گُٹھی میں ہے اُن کو اپنے آقا ﷺ کے نام پر جب بھی کوئی آواز دے گا تو وہ اپنے آقا کریم ﷺ کے نام پر میدان عمل میں ہوں گے-
پیر سید منور حسین شاہ نے ویڈیو میں جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم پاک فوج کو اپنی ماں کا درجہ دیتی ہے اور ماں وہ ہستی ہے جو خود تو دُکھ درد اور تکلیف برداشت کر لیتی ہے مگر اولاد کو ہر طرف سے ہر طرح سے حفاظت کرتی ہے پاک فوج کے ہوتے ہوئے اس لاچار ، بے بس ، بے سہارا اور مظلوم قوم پر ظلم کی انتہا ہو گئی یہ قوم اپنا دُکھ درد اور تکلیف کس کو جا کر بتائے اور انصاف کہاں جا کر تلاش کرے کیونکہ اس ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز تو نہیں ہے –
پیر سید منور حسین شاہ نے کہا کہ اس صرتحال میں آپ خدارا خود چارہ ساز بن کر ان کا مداوا کرین اگر یہ ظلم اسی طرح جاری رہا تو ممکن ہے حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں اور دُشمن کا یہی ایجنڈا ہے اور ففتھ جنریشن وار کا یہی مقصد ہے یہ ملک لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے اور یہ ہمارے اجداد کی میراث ہے اور یہ ملک ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے اس لئے ہم نہیں چاہتے کہ خدانخواستہ اس ملک کو کوئی نقصان پہنچے اور دشمن کامیاب ہو ملک میں انارکی یہ شدت پسندی پھیلے جو کہ دُشمن کا ایجنڈا ہے اس وجہ سے آپ خود درمیان میں آکر مذاکرات سے معاملات حل کروائیں تا کہ ملک میں امن و امان قائم ہو سکے وطن عزیز پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہو یا نہتے عوام دونوں جانب سے ہونے والی شہادتوں پر ہمارے دل چھلنی، دُکھی اور رنجیدہ ہیں لہذا آپ اس مسئلے کو فوراً حل کروائیں کیونکہ پاکستانی قوم کا اپنی فوج پر لازوال اعتماد ہے جسے کسی صورت ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیئے –
بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کا یوم سیاہ،وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج کا دن بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو دبانا چاہتا ہے 7 دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر کے باوجود کشمری عوام کا عزم و جذبہ مضبوط ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ،پاکستان کشمیری عوام کے حق خودا رادیت کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے ،عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے،عالمی برادری کشمیری عوام کو حق دلانے میں کردار ادا کرے ،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے غیرقانونی قبضہ کا مطلب محکوم کشمیریوں کو آزادانہ اپنی خواہشات کے مطابق تسلیم مستقبل کے تعین سے روکا جانا ہے لیکن سات دہائیوں کے بھارتی قابض افواج کی جبر کی حکمرانی کے باوجود کشمیری مضبوط ہیں، ہم کشمیری مرد، خواتین اور بچوں کو ان کے عزم اور حوصلے پر سلام پیش کرتے ہیں، کشمیری دنیا بھر کے آزادی پسندوں کیلئے ایک مثال ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر طویل حل طلب جموں و کشمیر کا تنازعہ جنوری 1948ء سے ہے، یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کا اعادہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی قراردادیں کرتی ہیں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو قبول کرتے ہوئے اور سلامتی کونسل، پاکستان اور دیگر ممالک سے بھارتی حکومت کی جانب سے اس تنازعہ کے حل کے وعدوں کے بعد 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کے خلاف یکطرفہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت عالمی قوانین، عالمی برادری، کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام نہیں کرتا
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن حل ہی خطے میں امن کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے، بھارتی دعووں کے برعکس جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جو سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے،پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عملی اقدامات کرے، پوری پاکستانی قوم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی رہے گی
وزیر مملکت فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان ہر فورم پر کشمیری عوام کی پرامن حمایت جاری رکھے گا،27 اکتوبر 1947 میں بھارتی قابض افواج کشمیر میں داخل کر دی گئیں،مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں بھارت اور مودی سرکار پر ہندوتوا اور آرایس ایس کی سوچ غالب آئی ہوئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے سچے وکیل اور دلیر سفیر ہونے کا ثبوت دیا پہلی مرتبہ مغربی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے،پاکستان کشمیری عوام کی پرامن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر1947 کشمیریوں کے لئے ایک تاریک ترین دن کی حیثیت رکھتا ہے، اس روز اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کی کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزوئوں کا گلا گھونٹتے ہوئے بھارت نے غیرقانونی طورپر جموں وکشمیر پرقبضہ کیا تھا، اس غیرقانونی اقدام کی زہرناکی اور دھوکہ دہی کی کڑوی یاد انسانیت کے ضمیر کو اب تک کچوکے لگا رہی ہے
سادھوکی، مزید 4 لاشیں لئے مارچ اسلام آباد کی جانب چل پڑا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا لانگ مارچ ایک بار پھر روانہ ہو چکا ہے، پولیس کی جانب سے زبردست شیکنگ اور رکاوٹوں کے بعد سادھوکی سے کارکنان نے رکاوٹیں ہٹا لی ہیں کنٹینرز ہٹا کر راستہ کلیئر کرلیا گیا اسکے بعد پیدل مارچ کامونکی میں داخل ہو گیا ہے جبکہ گاڑیوں کے لئے مزید راستے کلیئر کروائے جارہے ہیں
حکومت نے تحریک لبیک کے مارچ کو ایک بار پھر روک لیا ہے،سادھوکی کے قریب پولیس کی شلینگ سے کئی کارکنان زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ایددھی کے رضا کا ر طبی امداد دے رہے ہیں ، مبینہ اطلاعات کے مطابق سادھوکی میں مزید 4 کارکنان کی موت ہو گئی ہے، جن کارکنان کی موت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا تعلق گجرات سے ہے
سادھوکی کے قریب تحریک لبیک مارچ کے شرکاء پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی ،پولیس نے کریک ڈاؤں شروع کر دیا ہے، مرید کے کی جانب سے لاہور کی جانب سے جانیوالی پولیس پہنچ گئی ہے اور مارچ کے شرکا کو گھیر لیا ہے، سادھوکی کے قریب ایک پل کو بھی حکومت نے توڑ دیا ہے تا کہ شرکا آگے نہ جا سکیں،پولیس کی کوشش ہے کہ مارچ کے شرکاء کو آگے نہ جانے دیا جائے، باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کے مطابق تحریک لیک کے مارچ کے شرکا کو اس وقت پولیس نے گھیر لیا ہے
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے ،وفاقی کابینہ اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک کے مارچ بارے خصوصی مشاورت کی جا رہی ہے، کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کابینہ کو تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کے حوالہ سے بریفنگ دی،کابینہ اجلاس میں تحریک لبیک سے پابندی ختم کرنے کے حوالہ سے بھی بات چیت کی جائے گی اور کوئی اہم فیصلہ کیا جائے گا، کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری میڈیا کو بریفنگ دیں گے، شیخ رشید احمد کی جانب سے بھی بریفنگ متوقع ہے ،
دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا ناموسِ رسالت کے حوالے سے جاری لانگ مارچ مریدکے سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو گیا ہے ،مرید کے سے روانگی سے قبل دعا کروائی گئی،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سمیت حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ کئے گئے مذاکرات کی ناکامی کے بعد تحریک لبیک کا مارچ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا ہے، مارچ کے شرکاء جمعہ کو لاہور سے نکلے تھے تا ہم مرید کے پہنچنے پر حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دو روز تک مرید کے میں قیام کریں ہم مطالبات مان لیں گے، مارچ کے شرکاء دو روز تک مرید کے میں رہے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے رہے، گزشتہ شب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم تحریک لبیک کے فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے علاوہ سب مطالبے مان لیں گے تا ہم ابھی تک حافظ سعد رضوی کی رہائی نہیں ہو سکی، نہ ہی مقدمات ختم کئے گئے
تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہونے کی وجہ سے تحریک لبیک کی مجلس شوری نےمارچ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مارچ اب مرید کے سے چل پڑا ہے،
مارچ میں گاڑیاں اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے،نمائندہ باغی ٹی وی فائز چغتائی کے مطابق مارچ کے شرکاء نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، مارچ کا اگلا پڑاو کامونکی یا گوجرانوالہ ہو سکتا ہے، دوسری جانب حکومت نے جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں،راولپنڈی کی رابطہ سڑکیں سیل کر دی گئی ہیں، صدر،لیاقت باغ،شمس آباد،کالج روڈ اور فیض آباد سیل کر دیا گیا ہے
تحریک لبیک کی شوری کی طرف سے پوری قوم کو اہم پیغام دیا گیا ہے کہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ حکومت دوبارہ آپریشن کی تیاری میں ہیں لبیک والوں پر گولیاں برسانا چاہتے ہیں مزید خون بہانا چاہتے ہیں، قوم ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مارچ میں شریک ہو،حکومت نے لانگ مارچ کو شہری آبادی سے باہر روکنے کیلئے سادھوکی میں ہزاروں سیکورٹی اہلکار تعینات کر دیئے ہیں، سادھوکی کے قریب مارچ کو روکا جا سکتا ہے
کالعدم ٹی ایل پی کے ممکنہ مارچ و فیض آباد دھرنا کی سیکورٹی کا معاملہ ،پنجاب کے چار اضلاع کے ڈی پی اوز کی خدمات آر پی او راولپنڈی کے سپرد کر دی گئیں ڈی پی اوز کو اضافی نفری کے ساتھ آج سے آر پی او راولپنڈی کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،اور کہا گیا ہے ڈی پی اوز،ایس ایس پیز اپنے ہمراہ دو دوایس ڈی پی اوز،چارچارایس ایچ اوز سمیت اضافی نفری لائیں گے ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ مجیب الرحمان بگھوی کو دو ڈی ایس پیز اور چار ایس ایچ اوز کے ساتھ آج راولپنڈی پہنچیں گے ڈی پی او میانوالی مستنصر فیروز،ڈی پی او خوشاب محمدنوید،اے آئی جی شکایات اسد سرفراز بھی آج راولپنڈی پہنچیں گے یس پی ڈاکڑ فہد بٹالین ٹو پنجاب کانسٹیبلری روات،ایس پی سی ٹی ڈی ڈاکٹر رضوان بھی آج راولپنڈی پہنچیں گے ڈی پی او بہاولپور فیصل کامران کو بھی راولپنڈی ریجن پہنچنے کی ہدایات،لیاقت باغ کے باہر سیکورٹی ڈیوٹی سر انجام دیں گے آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی آپریشنز پنجاب نے متعلقہ افسران کو مراسلہ بجھوا دیا
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما مفتی وزیر رضوی کا کہنا تھا کہ قوم دیکھ لے کہ اس کپتان وزیراعظم کو قوم یا ملک سے کچھ لینا دینا نہیں مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ 39 نعشیں اس قوم کے افراد کی بچھا کر عمران خان میچ دیکھتے ہوئے کہتا ہے لبیک والوں سے کہو آ جائیں اسلام آباد ،فرانس کی خاطر اپنے ملک کے 39 افراد شہید کر دئیے جس میں سب کم عمر جوان تھے-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک نے کہا کہ قوم جان لے یہ بے ایمان نہ تو ملک کے وفادار ہیں نا قوم کے اور کپتان تو ملک میں افراتفری خانہ جنگی کے لئے پلانڈ ہے مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ ہم تو رک گئے تھے جہلم کے پل کس نے توڑے، کنٹینر سے ملک کس نے بند کیا مزید اگر کوئی خون بہا تو سب کی ذمہ دار عمران خان کی ظالم حکومت ہو گی-انہوں نے خبردار کیا کہ ہم پھر بتا رہے ہیں اب اگر خون بہا تو ذمہ دار حکومت ہو گی، ہم نے 3 مرتبہ پہلے یہ چوتھا معاہدہ کیا ہر مرتبہ پاسداری کی آخری مرتبہ بھی 3 دن مریدکے رکے یہ بے ایمان، بدعہد اور منافق عمران خان اور اسکے چٹو وٹوں کو قوم جان لے-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما مفتی وزیر رضوی کا کہنا ہے کہ قوم دیکھ لے کہ اس کپتان وزیراعظم کو قوم یا ملک سے کچھ لینا دینا نہیں-
باغی ٹی وی :مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ 39 نعشیں اس قوم کے افراد کی بچھا کر عمران خان میچ دیکھتے ہوئے کہتا ہے لبیک والوں سے کہو آ جائیں اسلام آباد ،فرانس کی خاطر اپنے ملک کے 39 افراد شہید کر دئیے جس میں سب کم عمر جوان تھے-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک نے کہا کہ قوم جان لے یہ بے ایمان نہ تو ملک کے وفادار ہیں نا قوم کے اور کپتان تو ملک میں افراتفری خانہ جنگی کے لئے پلانڈ ہے مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ ہم تو رک گئے تھے جہلم کے پل کس نے توڑے، کنٹینر سے ملک کس نے بند کیا مزید اگر کوئی خون بہا تو سب کی ذمہ دار عمران خان کی ظالم حکومت ہو گی-
انہوں نے خبرادرا کیا کہ ہم پھر بتا رہے ہیں اب اگر خون بہا تو ذمہ دار حکومت ہو گی، ہم نے 3 مرتبہ پہلے یہ چوتھا معاہدہ کیا ہر مرتبہ پاسداری کی آخری مرتبہ بھی 3 دن مریدکے رکے یہ بے ایمان، بدعہد اور منافق عمران خان اور اسکے چٹو وٹوں کو قوم جان لے-
قبل ازیں ید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ مرید کے سے روانہ ہوگا اور آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں –
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے-
واضح رہے کہ تحریک لبیک کا لانگ مارچ اس وقت مرید کے میں موجود ہے، حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد لانگ مارچ نے مرید کے میں ہی پڑاؤ ڈال رکھا ہے، لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے-
حریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
خیال رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے-
دوسری جانب فتی منیب الرحمٰن ،پیر پگارااورسندھ بھر کے سیکڑوں علماء و مشائخ نے کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ سابقہ تحریری معاہدوں سے پھر جانے والے نورالحق قادری اور شیخ رشید کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ مریدکے سے روانہ ہو گیا-
باغی ٹی وی : تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کا قافلہ مرید کے میں 3 روز قیام کے بعد حکومت کی جانب سے مذاکرات ناکام ہو نے پر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا یہ بھی خبریں ہیں کہ تحریک لبیک کے ساتھ مزید ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل قافلہ شامل ہو گا-
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں –
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے-
سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما مفتی وزیر رضوی کا کہنا تھا کہ قوم دیکھ لے کہ اس کپتان وزیراعظم کو قوم یا ملک سے کچھ لینا دینا نہیں مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ 39 نعشیں اس قوم کے افراد کی بچھا کر عمران خان میچ دیکھتے ہوئے کہتا ہے لبیک والوں سے کہو آ جائیں اسلام آباد ،فرانس کی خاطر اپنے ملک کے 39 افراد شہید کر دئیے جس میں سب کم عمر جوان تھے-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک نے کہا کہ قوم جان لے یہ بے ایمان نہ تو ملک کے وفادار ہیں نا قوم کے اور کپتان تو ملک میں افراتفری خانہ جنگی کے لئے پلانڈ ہے مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ ہم تو رک گئے تھے جہلم کے پل کس نے توڑے، کنٹینر سے ملک کس نے بند کیا مزید اگر کوئی خون بہا تو سب کی ذمہ دار عمران خان کی ظالم حکومت ہو گی-
انہوں نے خبردار کیا کہ ہم پھر بتا رہے ہیں اب اگر خون بہا تو ذمہ دار حکومت ہو گی، ہم نے 3 مرتبہ پہلے یہ چوتھا معاہدہ کیا ہر مرتبہ پاسداری کی آخری مرتبہ بھی 3 دن مریدکے رکے یہ بے ایمان، بدعہد اور منافق عمران خان اور اسکے چٹو وٹوں کو قوم جان لے-
پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے سرکاری ٹی وی شو کے اینکر کی جانب سے بدتمیزی کرنے پر لائیو شو میں مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی پر سابق قومی کرکٹر شعیب اختر نے حارث رؤف کی تعریف کی اور اس کا کریڈٹ لاہور قلندرز کے پلیئر ڈولپمنٹ پروگرام کو دیا-
سرکاری ٹی وی پر جاری ورلڈ کپ کے شو میں بحیثیت ایکسپرٹ پینل میں ویسٹ انڈین لیجنڈ ویو رچرڈز، ڈیوڈ گاور، عاقب جاوید، راشد لطیف ، عمر گل ، اظہر محمد اور سپر اسٹار شعیب اختر شامل تھے۔
WOW!!!! Shoaib Akhtar just walks out of PTV Sports during live show. "jis tarah national TV par mere sath behave kiya gaya hai, I don't think I should be sitting here. I am resigning from PTV" Right thing to do after Dr Nauman Niaz insulting a national hero on national TV. 👏 https://t.co/vmA0BtbaDUpic.twitter.com/EPuqzweoqr
ان تمام اسٹار زکی موجودگی میں شعیب اختر نے حارث رؤف کا ذکر کرتے ہوئے لاہور قلندرز کی تعریف کی اور کہا کہ یہ نوجوان بولر قلندرز کے پلیئر ڈولپمنٹ پروگرام کی پیداوار ہے ۔
سرکاری ٹی وی کے میزبان کو قلندرز کی تعریف شاید پسند نہ آئی اور جواب میں وہ شعیب اختر سے ہی نا شائستہ رویہ اپنا بیٹھے اور انہیں شو سے اٹھ جانے کو کہہ دیا میزبان پہلے تو یہ کہہ کر حارث کی بات کو گول کرنے لگے کہ شاہین آفریدی انڈر 19 سے آیا جبکہ بعد میں ناشائستہ انداز اپناتے ہوئے شعیب اختر کو لائیو ٹی وی شو سے چلے جانے کا کہہ دیا ۔
تلخی پر شو کے دوران بریک لیا گیا ،بریک کے بعد شعیب اختر شو پر آئے اور لائیو شوکے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کرکے شو سے اٹھ کر چلے گئے۔
فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے سرکاری ٹی وی شو پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی پر میزبان کا رویہ ناقابل برداشت تھا دنیا بھر کے لیجنڈز کے سامنے یوں شو سے جانے کا کہنا توہین آمیز تھا۔
Multiple clips are circulating on social media so I thought I shud clarify.dr noman was abnoxious and rude wen he asked me to leave the show,it was embarrassing specially wen u have legends like sir Vivian Richards and David gower sitting on the set with some of my contemporaries
ان کا کہنا تھا مجھے سمجھ نہیں آیا کہ قومی ٹی وی پر ایک اسٹار کی یوں توہین مناسب نہیں، بریک پر مجھے اندازہ ہوا کہ غیر ملکیوں کے سامنے کیا امیج جائے گا تلخی کے باوجود بھی معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر میزبان نے اپنے رویے پر معافی نہیں مانگی جس کے بعد شو سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ۔
and seniors and millions watching. I tried to save everyone from embarrassment by saying I was pulling dr nomans leg with this mutual understanding that dr noman will also politely apologise and we will move on with the show ,which he refused to do. Then I had no other choice .
سرکاری ٹی وی کے اسپورٹس شو میں شعیب اختر کے ساتھ رویے پرجہاں سابق کرکٹر نے برہمی کا اظہار کیا وہیں سوشل میڈیا صارفین نے غصے کا اظہار کیا ہے –
بعد ازاں شعیب اختر کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نعمان نیاز کا رویہ ناقابل برداشت تھا، مجھے لائیو شو میں چلے جانے کو کہہ دیا گیا مجھے سمجھ نہیں آیا کہ ڈاکٹر نعمان نے ایسا کیوں کہا، قومی ٹی وی پر ایک اسٹار کی یوں توہین مناسب نہیں، بریک پر مجھے اندازہ ہوا کہ غیر ملکیوں کے سامنے کیا امیج جائے گا، ڈاکٹر نعمان سے کہا کہ کسی طرح معاملے کو ختم کریں۔
سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ معاملے کو ختم کرنے کے لیے میں نے کہا کہ ہم مذاق کر رہے تھے، میں نے ڈاکٹر نعمان سے کہا کہ کہ معذرت کر لیں لیکن جب انہوں نے معذرت نہیں کی تو میں نے شو چھوڑ دیا۔شعیب اختر کا کہنا تھا میں نے معاملے کو پروگرام میں سنبھالنے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر نعمان نے میری توہین کی، غیر ملکی اسٹارز اور قومی اسٹارز کیا سوچیں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے، ڈاکٹر نعمان نے معافی نہیں مانگی اس لیے میں نے پروگرام سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
Very sorry to see the clip of Nauman Niaz insulting our national hero @shoaib100mph on PTV. Shoaib is a true hero and will always be. I cant believe Dr Nauman acted this way with an International celebrity in such a rude manner. Unbelievable
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی پر قومی ہیرو شعیب اختر کے ساتھ بد تمیزی کا ویڈیو دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا، شعیب اختر سچا ہیرو ہے اور ہمیشہ رہے گا ، مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ڈاکٹر نعمان نے بین الاقوامی سٹار کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا ۔
دوسری جانب سرکاری ٹی وی نے پروگرام کے دوران پیش آنے والے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے انکوائری کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ہو گا جس میں نعمان نیاز اور شعیب اختر کے درمیان پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی ۔ سوشل میڈیا پر نعمان نیاز کی جانب سے شعیب اختر کو براہ راست نشر ہونے والے پروگرام میں چلے جانے کا کہنے پر کافی ہنگامہ برپا ہے اور صارفین سابق فاسٹ باولر کے حق میں آگے آتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
اسلام آباد:”خان جی پاکستان واسطے جان بھی حاضر”سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالرز کے سپورٹ فنڈ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے بعد مثبت خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر ز کے سپورٹ فنڈ کا اعلان کیا ہے۔
Breaking news Saudi Arabia announcement support Pakistan with 3 billion US dollar as deposit in Pakistan central bank and also financing refined petroleum prodcut with 1. 2 billion us dollars during the year https://t.co/z2izW1avIThttps://t.co/z2izW1avIT
اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کے سپورٹ فنڈ کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ رقم سعودی فنڈ برائے ترقی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرائے گا۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ اس کے علاوہ سعودی عرب ایک سال کے دوران ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں 1.2 ارب ڈالرز کی فنانسنگ بھی فراہم کرے گا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد بھی سعودی عرب نے پاکستان کی مالی معاونت کی تھی۔کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کی مالی معاونت کی تھی