Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ایک ماں ہے بیوی ہے ، ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے،عدالت

    ایک ماں ہے بیوی ہے ، ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے،عدالت

    سپریم کورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے کہا کہ گیارہ مئی 2012 میں درخواست گزار کا شوہر لاپتہ ہوا،درخواست گزار کا کہنا ہے اسکے شوہر کو اٹھایا گیا درخواست گزار سپریم کورٹ سمیت دیگر فورمز سے رجوع کر چکی ہے،سپریم کورٹ 15 مئی 2013 کو معاملہ کمیشن کے سپرد کرکے نمٹا چکی ہے، سیکیورٹی ادارے جوابات میں کہہ چکی ہیں کہ لاپتہ شہری انکی تحویل میں نہیں ہمارے سامنے لاپتہ افراد کمیشن فریق نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل لاپتہ افراد کمیشن سے تفصیلات لیکر فراہم کریں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل بتائیں لاپتہ افراد کمیشن میں اب تک کیا کارروائی ہوئی؟

    قبل ازیں اسلام آ باد ہائیکورٹ میں لاپتہ صحافی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو متاثرہ فیملی کو سننے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل بتائیں کب وزیراعظم اور کابینہ متاثرہ فیملی کو سن کر مطمئن کریں گے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ متاثرہ فیملی کو مطمئن کریں کہ ریاست اس میں شامل نہیں،عدالت نے کہا کہ اگر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے پیر تک تاریخ نہ بتائی تو آئندہ سیکریٹری داخلہ پیش ہوں،وفاقی حکومت کی ذ مہ داری ہے کہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے ،ملک میں جبری گمشدگی کا رجحان موجود ہے ،لاپتہ شہری کی بازیابی بھی یقینی بنانا وفاقی حکومت کی زمہ داری ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی رول آف لاء نہیں یہاں یا تو یہاں جبری گمشدگی نا ہوتی ہو پھر بات کریں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بازیابی درخواست پر سماعت کی ،لاپتہ مدثر نارو کی فیملی کی جانب سے وکیل ایمان مزاری ، عثمان وڑائچ عدالت میں پیش ہوئے وزارت دفاع کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ دو منٹ اگر مل جائیں تو حقائق سامنے رکھوں گا ،اس کیس کے حقائق مختلف ہیں ،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تو جبری گمشدگیاں نا ہو رہی ہوں تو پھر ہم اس طرف نا جائیں لیکن ایسا نہیں ہے، یہ واقعہ کب کا ہے ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ 20 اگست 2018 کا واقعہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اس وقت کون تھا ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہی تھے اسی روز چارج لیا تھا ،متاثرہ فیملی نے ماہرہ ساجد کیس کی روشنی میں بیان حلفی جمع کرا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماں ہے بیوی ہے اور ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ آدھ منٹ مجھے سن لیں اس کیس میں ڈی پی مانسہرہ کی رپورٹ ہے،یہ دریائے کنہار کے کنارے واک کر رہے تھے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوڑ دیں ڈی پی او کو ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بولنے سے روک دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فیملی مطمئن نہیں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی زمہ داری ہے کہ ان کو مطمئن کرے، مائرہ ساجد کیس کا فیصلہ بھی عدالت کے سامنے پڑھا گیا کمیشن رپورٹ کے مطابق گمشدہ فیملی کا ماننا ہے کہ ریاست اور اس کی ایجنسیز اس میں ملوث ہوں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم گرفتار

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

  • ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس
    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاعی پلاٹس پر قبضہ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے چیئرمین نیب کو نیب کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے چیئرمین نیب کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے چیئرمین نیب کو تفتیشی افسر کے خلاف انکوائری کی بھی ہدایت کر دی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ملزمان کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیئے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں کیسز 10،10 سال سے التوا ہیں، کوئی پیش رفت نہیں ہوتی،چیف جسٹس گلزاراحمد رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی حکا م پر برہم ہو گئے اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارکس، مسجد اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کیوں نہیں کرتے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسجد، اسکولز سب پلاٹس بیچ ڈالے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے الاٹمنٹ کیں وہ کیسے باہر گھوم رہے ہیں؟ الاٹمنٹ کرنے والے یہ یہاں دیدا دلیری سینہ تان کر کھڑے ہیں ،ریاست کیا کر رہی ہے؟ کیا ریاست بے یارومددگار ہوچکی؟ نیب کیا کر رہا ہے؟ انہیں جیلوں میں کیوں نہیں ڈالتے؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ چار افراد نے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 32پلاٹس کا معاملہ 10 سال سے چل رہا ہے، حکومت کو کچھ فکر نہیں،رجسٹرار کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے عدالت میں جواب دیا کہ پلاٹس کینسل کرنا میری ڈومین میں نہیں آتا، چیف جسٹس گلزار احمد نے رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سے سوال کیا کہ پلاٹس کینسل پھر کون کینسل کرے گا ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست بے یارومددگار دکھائی دے تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی ہیں، اصل بات 11 سال سے دبی ہوئی ہے،پارک کو کاٹ کر جو 32 پلاٹس کاٹے، سب سے پہلے اس کی بات کریں، کیا کوئی نہیں جانتا کیا کرنا ہوتا ہے؟ نیب نے عدالت میں جواب دیا کہ پلاٹس کی الاٹمنٹ کی منسوخی ایس بی سی اے کا اختیار ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لے آؤٹ کا بیڑا غرق کردیا، مسجد، پارک کوئی نہیں چھوڑا، نیب کیا آسمان سے اترا ہے؟ رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ مجھے دو ماہ پہلے چارج ملا، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ تو کیا رجسٹرار آفس 2 ماہ پہلے بنا؟ جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ نیب تفتیشی افسر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا کیا؟اگر ضمانت پر ہیں تو کیا صدیوں تک چلنی ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟چیئرمین نیب کو کہہ دیتے ہیں، آپ کے خلاف انکوائری کریں تفتیشی افسر نیب ہی کو جیل بھیج دیتے ہیں،لگتا نہیں کہ یہ تفتیشی افسر ہیں، جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ ضمانت کب ملی، کب کیا ہوا؟ نیب تفتیشی افسر کو کچھ نہیں پتہ،نیب خود ملزمان سے ملی ہوئی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سارے کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے ریاست کے اہم ترین ادارے ہیں،ریاست فیل دکھائی دیتی ہے، مکمل تباہی ہے،اس طرح تو پورے کراچی پر قبضہ ہو جائے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کوعوام کے کاموں کے لیے لگایا ، کسی اور کام میں لگ گئے، عدالت نے کہا کہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ملزمان کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکاری زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے استفسار کیا کہ کتنی سرکاری زمین واگزار کروائی گئی ہے عدالت نے اطمینان بخش جواب نہ دینے پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سرزنش کی چیف جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ خاموش رہو بھاشن نہیں دو ،ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلو ،سرکاری زمینوں پر قبضہ ہوگیا ہے، آپ کے افسران آپ کو لالی پاپ دیتے ہیں، آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری زمینوں پر قبضہ ہے ، وہ نظر نہیں آتا ،کونے کونے کی تصوریرں لگا کر ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہو،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منشی ہو ، بابو ہو ، کلر ک ہو ، کیا ہو تم، سینئر ممبر بنو،کمیٹی کی کہانیاں ہمیں مت سناﺅ ، قبضہ ختم کراﺅ جا کر ۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ عدالتیں بھی کچھ نہیں کر رہیں ، سکھر جیسے شہر میں ایک کیس ہے صرف ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حیدرآباد میں کوئی تجازوات نہیں ، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پورا حیدرآباد انکروچڈ ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے حیدرآباد ، لاڑکانہ ، سکھر اور بینظیر آباد میں کوئی کیس نہیں ، پورے کراچی پر قبضہ ہے اور صرف 9 کیس ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب پتہ ہے پیسے لیکر روزا نہ قبضے کروا رہے ہیں، جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ کوشش کی بات نہیں کرو، دو ہفتوں کا کام ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کورنگی سمیت پوری کراچی میں غیر قانونی بلڈنگ بنی ہوئی ہے،کراچی میں کتنے قبضے ہیں، کب سے آرڈر دیا ہےختم نہیں ہوئی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رپورٹ سے کچھ نہیں ہوتا،کام پورا کرنا آ پ کا کام ہے ،ممبر بورآد آف ریونیو نے کہا کہ میں سینئر ہوکر کام کرتا ہوں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کوشش کرنے کیا بات ہے، آپ کی ذمہ داری ہے،سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرنے سے متعلق سینئر ممبر کی رپورٹ مسترد کر دی گئی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سینئر ممبر کو عدالتی حکم پر مکمل عمل کرانے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سینئر ممبر کو ایک ماہ میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے سندھ بھر میں سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانے کا حکم دے دیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں نسلہ ٹاور اور تجوری ہائٹس گرانے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے ۔ کمشنر کراچی نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ، اپنی رپورٹ میں کمشنر کراچی نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل شروع کر دیا گیا ہے ، نسلہ ٹاور کو تیزی سے گرانے کا کام جاری ہے جبکہ تجوری ہائٹس کو گرانے پر بھی کام جاری ہے ۔ تجوری ہائٹس کا بلڈر خود عمارت گرا رہا ہے ، نسلہ ٹاور گرانے کیلئے 50 روز چاہئے

    قبل ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دادو میں 3 افراد کو زخمی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی،عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل نے 3 افراد کو زخمی کیا ہے میڈیکولیگل رپورٹ سے زخمی ثابت ہوا ، شواہد کی روشنی میں ملزم کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی، ملزم کی سندھ ہائیکورٹ سے بھی درخواست ضمانت مسترد ہوچکی ہے

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

  • این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی

    این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی

    لاہور:این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی،اطلاعات کے مطابق این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے میدان خالی چھوڑ دیا۔ پی ٹی آئی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف سپریم کورٹ نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔

    ادھر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد جبکہ الیکشن ٹریبونل اور ہائیکورٹ نے اعتراض برقرار رکھا، سپریم کورٹ جانے کے لیے 7 دن کا وقت لگ سکتا ہے،

     

     

    پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ اگروہ اس وقت عدالت جائیں گے تو انتخابی مہم نہیں کر سکیں گے، سپریم کورٹ سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حلقے میں 40 ہزار بوگس وٹ ہیں، اس کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔

    خیال رہے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات تجویز کنندہ کا تعلق حلقے سے نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئے جبکہ مسرت چمشید چیمہ کے کاغذات تائید کنندہ حلقے کا نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئے۔ این اے 133 میں ضمنی انتخاب 5 دسمبر کو ہوگا۔

    این اے 133 لاہور ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں پولنگ 5 دسمبر کو ہو گی، این اے 133 کی نشست ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

    این اے 133 کی نشست مسلم لیگ نون کے پرویز ملک کی وفات سے خالی ہوئی تھی، اب مسلم لیگ نون کی طرف سے ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک اور پیپلز پارٹی کے اسلم گل سمیت 12 امیدوار میدان میں ہیں۔

    پی ٹی آئی امیدوار جمشید چیمہ نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے وجہ سے اس دوڑ‌سے باہر ہیں

  • پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں

    پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں

    لاہور:پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ملک بھر میں ہڑتال جاری ہے، کئی شہروں میں کہیں پٹرول پمپس کھلے تو کہیں بند ہیں، جہاں پٹرول دستیاب وہاں لوگوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں، نئے بحران پر شہری پریشان ہیں.

    یاد رہےکہ پچھلے کئی دنوں سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے کمیشن مارجن کو 6 فیصد کرنے کے مطالبے کو برقرار رکھتے ہوئے آج ہڑتال کا اعلان کررکھا تھا۔

    صبح صبح ملک بھر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے طرز عمل کی سخت مذمت کی جارہی ہے اور دوسری طرف اس مشکل وقت میں عوام الناس کو سہولت فراہم کرنے والے پٹرول پمپس مالکان کو دعائیں دی جارہی ہیں

    دوسری طرف ترجمان وزارت پٹرولیم نے کہا کہ ملک بھر میں آج تمام پٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن نے پٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن کو بڑھانے کےلئے کیس ای سی سی بھیجوا دیا، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کے لئے وزارت کوشاں ہے.

    وزارت پٹرولیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آئل سیکٹر کی مختلف تنظیموں نے وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ عوام کو کوئی فکر کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ترجمان پی ایس او کے مطابق ملک بھرمیں پی ایس او کے پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے، حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، پیٹرول پمپس پر فیول کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ پی ایس او کی سپلائی چین بھرپور طور پر فعال ہے اورپی ایس او عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ کی طرح مستعد ہے۔

    ادھر آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

    ترجمان اوگرا کے مطابق صورتحال کی مانیٹرنگ کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے سے متعلق چند عناصر پٹرول کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمام آؤٹ لیٹس پر پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ تیل سپلائی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھر مختلف علاقوں سے یہ بھی خبریں مل رہی ہیں کہ پٹرول پمپس پرلمبی لائنوں کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں لیکن اس کےباوجود شہری مطئمن دکھائی دے رہےہیں،

     

  • پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی : وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔
    یہ بات انہوں نے بدھ کو وزیراعلی ہاؤس میں سی ایم سیکریریٹ کی جانب سے شروع کئے گئے "سوشل پروٹیکشن اسٹریٹیجی یونٹ” کے تحت منعقدہ مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور مختلف محکموں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔
    انہوں نے کہا کہ آج کا یہ ایونٹ بہت اہم ہے۔
    سوشل پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے ہمارے کیا مقاصد ہیں اس بارے میں بتایا جا چکا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ آج چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے لیکر دیگر پروگرام اسکی مثالیں ہیں اوریہ ہمارے الیکشن منشور کا حصہ تھا۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے کے لوگوں نے جب دوبارہ ہمیں منتخب کیا تو ہم نے اپنے منشور پر کام شروع کیا اور کرنا بھی تھا۔2019 اور 2020 کے دوران صوبے میں فلڈ اور کورونا کی صورتحال سے مسائل پیدا ہوئے ۔کہیں زلزلہ اور سیلاب آتا ہے تو ہمارے پاس پراپر ڈیٹا موجود نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پر کام شروع کیا اور سوشل رجسٹری کی۔ مردوں کو تو رجسٹرڈ کرلیا جاتا تھا مگر خواتین سے متعلق یہ مشکل ٹاسک ہوتا تھا ہم نے اسکو ممکن بنایا۔
    انہوں نے کہا کہ حمل سے لیکر بچے کی پیدائش تک ہمیں اس کو لیکر چلنا ہے کہ بچے کو کس قسم کی خوراک اور ادویات کی ضرورت ہوگی۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو ابتدائی طور پر دو اضلاع اور اگلے دو سال تک پورے صوبے میں پھیلایا جائیگا۔
    اس کے علاوہ دیگر پروگرامز بھی ہیں جن پر ہم کام کررہے ہیں۔انشااللہ اس پروگرام کو ملک کے دیگر حصوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی، بے زمین ہاری، سمیت کئی پروگرامز پر کام جاری ہے۔ہمارا الیکشن منشور پورے ملک کیلئے تھا۔بدقسمتی سے ہم پورے ملک میں نہیں آسکے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی ہر خامی کا الزام ہم ڈال دیتے ہیں۔
    مہنگائی پورے ملک میں ہے اور انہوں نے صوبہ سندھ کو ٹارگٹ بنارکھا ہے ۔یہ آٹے چینی، دال گھی چار اشیا پر سبسڈی کی بات کرتے ہیں مگر عوام کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں رجسٹر ہونے کے لئے اسمارٹ فون ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پہلے غریب آدمی اسمارٹ فون کہاں سے لائیگا لگتا ہے پہلے یہ اسمارٹ فون کی فروخت بڑھانا چاہتے ہیں۔
    وہ کہتے ہیں آٹے پر 20روپے مثال کے طور پر سبسڈی دینگے۔اس پر ایشوز آئینگے پھر وہ کیسے اس پروگرام کو مینج کرینگے۔اس پروگرام میں بدعنوانی کا عنصر ہوسکتا ہے۔ہم نے انہیں کیش پروگرام شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔رجسٹرڈ افراد اپنی مرضی سے خریداری کرسکیں گے یا اپنے بچوں کی فیس دے سکیں گے۔بے نظیر پروگرام اسکی بہترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ نام بدل بھی لیں مگر پھر بھی لوگوں کی دلوں سے بے نظیر بھٹو کی محبت کو مٹا نہیں سکتے۔
    کل الزام دید یا کہ سندھ سے 16لاکھ میٹرک ٹن گندم چوری ہوگئی۔انھوں نے کہا کہ اتنی تو ہم نے ذخیرہ بھی نہیں کی تھی ۔16 لاکھ تو کیا سولہ کلو بھی چوری نہیں ہوئی۔پرائیویٹ ملاقاتوں میں انکے لوگ کیا کہتے ہیں وہ میں کوٹ نہیں کرونگا۔انہوں نے کہا کہ یہ اسلام آباد میں غلط طریقے سے سلیکٹ ہوکر بیٹھا ہے۔وفاق میں جو لوگ جس طرح بھی آئے وہ عوام کا سوچیں تو بہتر ہے۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے حالات کو دیکھ کرملازمین کی کم از کم تنخواہ پچیس ہزار کی۔ہمیں علم نہیں تھا کہ یہ ملک کی یہ حالت کردینگے۔ہمیں اپنی قیادت کی طرف سے ہدایت ہے کہ غریب کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت 25 ہزار نہیں رہے گی بلکہ یہ بڑھے گی۔وفاقی حکومت بھی اس طرف دھیان دے ۔وزیراعلی سندھ نے تقریب میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تشکر کا اظہار کیا۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ پہلے مرحلے میں تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو دیگر اضلاع میں بھی شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ عالمی ادرہ صحت کے عین اصولوں کے تحت شروع کیا جارہا ہے۔ یہ سہولیات ماں اور بچے کیلئے ہونگی۔انہوں نے کہا کہ دوران حمل ماں کا مفت چیک اپ کے ساتھ 1000 روپیہ وظیفہ بھی دیا جائیگا۔
    یہ پروگرام بچوں کی نشو نما اور ماں کی صحت کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں "Stunting” بچوں کا قد نہ بڑھنے کی شرح 38 فیصد ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایک لاکھ ماں میں سے دوران زچگی 189 مائیں انتقال کرجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ماں اور بچوں کیلئے سپورٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ زچگی کے شروع کے دنوں سے لیکر بچوں کی نشونما تک مکمل سہولیات دی جائینگی۔
    ماں کے ہر چیک اپ پر ان کو 1000 روپیہ وظیفہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بچے کی پیدائش سے پہلے کا چیک اپ، پیدائش، بچے کی نشونما اوربچے کی ویکسی نیشن تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام بچے کی نشو نما سے لیکر 2 سال کی عمر تک جاری رہے گا۔ حاملہ خواتین کو فوری طور پر اپنے صحت کے مراکز پر جانا ہوگا۔ ماں کی رجسٹریشن کیلئے ایم آئی ایس سسٹم کی اپلیکیشن متعارف کرائی گئی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعہ حاملہ خاتوں کا مکمل طور پر کمپیوٹرائیز ریکارڈ بنتا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے حاملہ خاتوں کو جاز کیش کے ذریعہ 1000 روپیہ ہر وزٹ پر فراہم کیا جائے گا ۔

  • سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    کراچی: الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بڑی پیشرفت، سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں بڑی کمی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10 لاکھ 80 ہزار روپے سے کم کرکے 1 لاکھ 6 ہزار روپے کردی ہے۔ رجسٹریشن فیس میں ہونے والی بڑی کمی سے سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوگا۔

    سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10لاکھ 80 ہزار روپے تھی تاہم سندھ کابینہ کی منظوری کےبعد الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں ریکارڈ کمی کردی گئی ہے۔
    مکیش چاولہ کے مطابق سندھ میں تاحال 11 الیکٹرک گاڑیاں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں جب کہ 1490 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی درخواست صوبائی محکمہ ایکسائز کے پاس جمع ہوچکی ہے۔

  • ہڑتال نہیں پٹرول کی فراہمی ہوگی: کمپنیوں کا بڑا اعلان عوام خوش،پی ڈی ایم پریشان

    ہڑتال نہیں پٹرول کی فراہمی ہوگی: کمپنیوں کا بڑا اعلان عوام خوش،پی ڈی ایم پریشان

    لاہور:ہڑتال نہیں پٹرول کی فراہمی ہوگی: کمپنیوں کا بڑا اعلان عوام خوش،پی ڈی ایم پریشان،اطلاعات کے مطابق جہاں ایک طرف پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 25 نومبر سے ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔وہاں پاکستان کی بڑی کمپنیوں نے اس ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی فراہمی کا اعلان کیا ہے

    ذرائع کے مطابق ایک طرف پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 25 نومبر کی صبح 6 بجے سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند رہیں گے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی پیٹرول پمپس بند رہیں گے۔پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے اور مطالبات مانے جانے تک ہڑتال جاری رہے گی۔

    جہاں ایک طرف ملک میں پیٹرول پمپس بند ہونے کی خبر میڈیا پر آتے ہی شہریوں میں بے چینی پھیل گئی اور پمپس پر رش لگ گیا۔تاہم اس ہڑتال کے دوران بھی ملک بھر میں کچھ پمپس ایسے ہیں جو معمول کے مطابق ایندھن کی فراہمی جاری رکھیں گے۔

    پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور شیل نے اس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ملک بھر میں ہمارے وہ تمام پیٹرول پمپس جو کمپنی کے زیر ملکیت اور زیر انتظام ہیں، بدستور کھلے رہیں گے اور معمول کے مطابق کام کریں گے۔‘

    پی ایس او کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی کمپنی شیل نے اس ہڑتال کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ شیل پاکستان 25 نومبر کو پیٹرول کی فراہمی جاری رکھے گی

    اس حوالے سے شیل پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ 25نومبر کوپیٹرولیم ڈیلرزایسوسی ایشن کی ہڑتال کاحصہ نہیں،اعلامیے کے مطابق کمپنی آپریٹڈریٹیل سائٹس سےتیل کی فراہمی جاری رہےگی،اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنی آپریٹڈ ریٹیل سائٹ سےتیل کی فراہمی جاری رہےگی

    یاد رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ہڑتال کے اعلان کے بعد اپوزیشن کچھ زیادہ خوش دکھائی دے رہی تھی اورپی ڈی ایم اس ایشو کو بھی سیاسی کارڈ کے طور پراستعمال کرنا چاہتی تھی، مگرجب سے پی ایس او اور شیل نے اعلان کیا ہے وہ اس ہڑتال کا حصہ نہیں ہیں اوروہ پاکستان بھرمیں پٹرول لینے والوں کو پٹرول فراہم کریں گے تو یہ سن کر عوام تو خوش ہوگئی مگراپوزیشن میں مایوسی کی لہر دور گئی ہے

     

     

  • ہاں میں بڑے عرصےسے یہ سازش کررہی ہوں:مریم نوازکا اعتراف جرم:پارٹی کا سرشرم سے جھُک گیا

    ہاں میں بڑے عرصےسے یہ سازش کررہی ہوں:مریم نوازکا اعتراف جرم:پارٹی کا سرشرم سے جھُک گیا

    لاہور:ہاں میں بڑے عرصےسے یہ کام کررہی ہوں:مریم نوازکا اعتراف جرم:پارٹی کا سرشرم سے جھُک گیا،اطلاعات کے مطابق نوازشریف کی بیٹی مریم نوازکوحقائق کے سامنے اپنا جرم تسلیم کرنا پڑگیا،ادھر اپنے جرم کو تسلیم کرتے ہوئے مریم نے چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق اپنی آڈیو کِلپ کے درست ہونے کا اعتراف کرلیا

    ذرائع کے مطابق ن لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے 4 چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق اپنی آڈیو کے درست ہونے کا اعتراف کرلیا۔ان کے اعتراف جُرم کےساتھ ہی پارٹی کے خالص مسلم لیگی رہنما سخت پریشان ہیں اور ان کے سرشرم سے جُھک گئے ہیں‌

     

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھاکہ جس سازش کے مہرے ثاقب نثارہیں، اسی کے تحت عمران خان اقتدارمیں آئے، عمران خان ثاقب نثار کو نہیں خود کو بچا رہے ہیں۔

    مریم نواز نے جہاں اپنا جرم تسلیم کرکے ایک کارڈ کھیلا ہے وہاں وہ اسی کارڈ کے تناظر میں سابق چیف جسٹس کی آڈیوکواصلی قراردینے کی کوشش کررہی ہیں، مریم نواز کا کہنا تھاکہ حکومتی وزرا دفاع کرتے کرتے ہلکان ہورہے ہیں، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں۔

    اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ میڈیا کے اشتہارات روکنے سے متعلق ان دنوں سوشل میڈیا پر آپ کی ایک آڈیو کلپ وائرل ہورہی ہے اس حوالے سے کیا کہیں گی؟ جس پر مریم نواز نے کہا کہ وہ آواز ان ہی کی ہے اور آڈیو درست ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ آڈیو جوڑ جوڑ کر بنائی گئی ہے یا میری آواز نہیں ہے، وہ میری آواز ہے۔‘

    مریم نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ کافی پرانی بات ہے ، تب میں پارٹی کا میڈیا سیل چلارہی تھی، وہ بہت پرانی ہے لیکن میں نے جب کہہ دیا کہ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ فلاں تقریر سے توڑ جوڑ کر بنائی گئی ہے تو یہ بات سامنے آگئی، آج کا جو ٹاپک ہے اسی پر رہیں، اُس معاملے پر میں بہت لمبی بات کرسکتی ہوں۔‘

    خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں مریم نواز کسی کو کہہ رہی ہیں کہ چار چینلز کو کوئی اشتہار نہیں جائے گا۔

     

  • چینی قوم چین کی افواج کی شکرگزار:وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز

    چینی قوم چین کی افواج کی شکرگزار:وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز

    اسلام آباد:آپ نے ہماری عزت میں اضافہ کیا: وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز ،اطلاعات کے مطابق چین کی حکومت ، عوام اور چینی فوج نے اپنے اس فوجی کواپنا ہیروقراردیا ہے جس نے پچھلے سال وادی گلوان میں بھارتی فوجیوں کو کان پکڑوائے اورناک سے لکیریں بھی بنوائیں‌ اور پھربدتیمز بھارتی فوجی کوجہنم واصل کیا

    اس حوالے سے چینی میڈیا کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال سرحدی علاقے وادی گلوان میں چینی اور بھارتی فوجیو ں کی جھڑپ ہوئی تھی جس کی مختلف تصویریں سوشل میڈ یا پر سامنے آئیں تو بھارتی فوج کو پوری دنیا میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔

     

     

     

     

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سوشل میں پر سامنے آنے والی تصویریں بھارتی دعووں کے بر عکس تھیں ، وادی گلوان میں جھڑپ کے بعد بھارتی میڈ یا اور حکمرانوں نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے اور کہا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے جواں مردی سے چینی فوج کا مقابلہ کیا جس کے بعد تصویریں اور ویڈیوز سامنے آئیں جس میں دیکھا گیا کہ چینی فوج نے بھارتی فوجی اہلکاروں کو مارا اور ان کے کان بھی پکڑوائے ۔

    چینی سرکاری میڈیا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے چینی فوجی سارجنٹ تاﺅ پینگونگ کو سیکنڈ کلاس میرٹ ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ چینی عوام نے چین کی افواج کا شکریہ ادا کیا ہے کہ وہ اپنی جانوں پرکھیل کے اپنے ہم وطنوں‌ کی جانوں کی حفاظت کررہےہیں اوریہ ان کےلیے ایک اعزازسے کم نہیں‌

  • عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے: آرمی چیف

    عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے: آرمی چیف

    راولپنڈی: عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے:اطلاعات کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان، پاکستان اور ایران کے فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور برطانیہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان نائیجل کیسی نے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی حالیہ پیش رفت سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی نمائندہ خصوصی نائیجل کیسی نے بھی افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے کاوشوں اور علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کااعادہ کیا۔

    ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ ہم دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں، پاکستان عالمی و علاقائی سطح کے امور میں برطانیہ کے کردار کو اہمیت دیتا ہے اور برطانیہ کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، افغانستان میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا نہ ہونے دینے کے لیے عالمی اشتراک کی ضرورت ہے، عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے، افغان عوام کی معاشی بہتری کے لیے مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔