Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوازشریف کےTTPسےمتعلق نظریات:عسکری قیادت   متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان:عرفان صدیقی

    نوازشریف کےTTPسےمتعلق نظریات:عسکری قیادت متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان:عرفان صدیقی

    اسلام آباد :ٹی ٹی پی سے متعلق نوازشریف کے نظریات سےعسکری قیادت متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان ہے:اطلاعات کے مطابق نوازشریف کے معتمد خاص ، اسکرپٹ رائٹر سینیٹر عرفان صدیقی نے بہت گہرے انکشافات کیے ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عرفان صدیقی عمران خان کی شخصیت اور دوٹوک موقف کے بہت ہی زیادہ معترف اور مداح ہیں

    نواز شریف حکومت کے دورِ حکومت میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران عسکری قیادت کی جانب سے حکومت کو تعاون نہیں ملا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ نوازشریف کے تحریک طالبان کے متعلق نظریات عسکری قیادت سے متصادم تھے

    عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد نواز شریف کام کرتے رہے کہ کس طرح اتفاق رائے پیدا کیا جائے، عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا، اس وقت عمران خان نے طالبان سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکارکیا تھا۔

    اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہم نےنیک نیتی سےمذاکرات شروع کیے، امید تھی کہ حل نکل آئےگا لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، طالبان شوریٰ خود ہمیں کہتی تھی کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ان کی کمانڈ سے باہر ہیں، ہم نے طالبان شوریٰ سے کہا کہ پھر ایسے لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں، مذمت کریں وہ یہ بھی نہیں کرتے تھے ،اس طرح مذاکرات ہچکولے کھاتے رہتے تھے اور بات آگے بڑھ نہیں پاتی تھی۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان سے حکومتی کمیٹی میں اپنا نمائندہ دینے کا کہا تو انہوں نے رستم شاہ مہمند کواپنا نمائندہ مقررکیا۔ عرفان صدیقی نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں عمران خان سمیت تمام پارٹیوں کے سربراہ شریک تھے جس میں اتفاق رائے ہوا کہ ہمیں مار دھاڑ نہیں کرنی، آپریشن نہیں کرنا، اس وقت کے آرمی چیف اور عسکری قیادت نے شرکاء کو بریفنگ دی تھی۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کا بڑا زور دار مؤقف تھا کہ امن اور بات چیت کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا ہے،عرفان صدیقی کہتےہیں کہ میں عمران خان کے دلیرانہ موقف اور بیانیے سے بہت متاثرہوں ،

    عرفان صدیقی نے بتایا پھرالزام دہرایا کہ طالبان میں سنجیدگی نظر نہیں آئی کیونکہ جہاں سنجیدگی ہوتی ہے وہاں شرطیں نہیں لگائی جاتیں، سنجیدگی ہو تو دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کی جاتی ہے تاکہ بات آگے بڑھے۔

    خیال رہے کہ موجودہ حکومت بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کررہی ہے اور گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان سیزفائر پر اتفاق ہوا ہے۔

  • کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا

    کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا

    کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل پاکستان کو اپنی حکومت میں ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ مگر تبدیلی حکومت کے اقتدار کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور عوام ابھی بھی اس ریاست کی تلاش میں ہیں جس میں حق دار کو جلد انصاف مل جائے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی مثال آج جو کچھ سپریم کورٹ میں ہوا ہے اور جو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کی دہائیاں ہیں ۔ وہ ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے پر تو پیپلزپارٹی ، ن لیگ سمیت بہت سوں کو پہلے ہی بہت سے تحفظات تھے ۔ پر جو عدالت کے باہر اے پی ایس شہدا کے والدین نے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو معافی دینے والی حکومت کون ہیں؟ انہیں صبر نہیں انصاف چاہیے۔ شہدائے اے پی ایس کے والدین کے وکیل امان اللّٰہ نے جو عدالت میں کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں، ریاست سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ ایک والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بچہ یہ کہتے شہید ہوگیا کہ اس کی ماں دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی۔ مظلوموں کی ان دہائیوں نے دل دہلانے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں ۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ جیسے اپوزیشن ٹی ٹی پی والے معاملے پر حکومت کے خلاف کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ جو کچھ آج عدالت میں ہوا ۔ جو پوائنٹس اٹھائے گئے پھر جو لواحقین نے گفتگو کی۔ کیا اس کے بعد ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔ کیونکہ دیکھنے کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اتنے پاکستانی بھارت کا مقابلہ کرتے شہید نہیں ہوئے جتنے ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اس سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان جو بنا ۔۔۔ اس کا کیا بنا ؟؟ پر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسکے وزراء کو چیزوں کا زیادہ ادارک نہیں ہے ۔ کہ پاکستان کس مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ آج بھی اتنے اہم کیس میں عمران خان کی عدالت پیشی کے دوران فواد چوہدری اور شیخ رشید سیاست کرنے اور شرارت کرنے سے باز نہ آئے ۔ جہاں فواد چوہدری میڈیا کو یہ بتا رہے تھے کہ جب سانحہ ہوا تو اس وقت وزیر اعظم نواز شریف تھے ۔ تو شیخ رشید کی پرانی کیسٹ پھر چل پڑی کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ معاملہ مظلوموں کا انصاف دینے کا تھا ۔ ویسے فواد چوہدری کو یہ تو یاد رہا کہ نوازشریف وزیراعظم تھے یہ بھول گئے وزیر اعلی پرویز خٹک تھے اور پوری پی ٹی آئی ڈی چوک پر ناچ رہی تھی ۔ پھر ان تین سالوں میں عمران خان نے کون سا ایسا تیر چلا لیا ہے جو پانچ سال پورے کر لینے پر عوام نے پھر ان کو ووٹ ڈال دینا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے کل اپوزیشن جماعتوں نےقومی اسمبلی میں مل کر اکثریت کے معاملے میں حکومت کو شکست دے دی تھی جس کے باعث حکومت آئینی ترمیمی بل پیش نہ کرسکی۔ کیونکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد حکومتی اراکین سے زیادہ تھی ۔ اس لیے کاش آج یہ وزیر شہداء کے لواحقین کے لیے دو ہمدردی کے بول ہی بول دیتے ۔ تو زیادہ اچھا تھا ۔ ویسے اس تمام معاملے پر پی ٹی آئی کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے آگیا ہے ۔ جب یہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف یا یوسف رضا گیلانی کو عدالت بلاتی تھی تو یہ خوب تعریفوں کے پل باندھا کرتے ہیں اب یہ ہی لوگ سوشل میڈیا پر عدالت کو malign کرنے کی کمپین چلا رہے ہیں ۔ کہ وزیراعظم عمران خان کو بلایا کیوں ؟ سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ناکام ترین حکومت عوام پر ایسا عذاب بن گئی ہے کہ ناانصافی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ یہ عالم آچکا ہے کہ لوگ ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اذانیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں تو کئی ریکارڈ توڑے ہی تھے، وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے انتقامی کاروائیوں، غیر اصولی سیاست، انتخابی دھاندلیوں، قوانین بذریعہ صدارتی آرڈیننس جن میں کئی غیر آئینی اور جموریت کو سبوتاژ کرنے کے نیت یے اس کے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی خوبصورتی یہ ہے کہ بطور اپوزیشن جن حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے تھے اقتدار میں آکر ان سے نجات کی بجائے انہی کو من و عن اپنا لیا ہے۔ بلکہ گزشتہ ادوار کے وہ لوگ اپنی کابینہ میں شامل کر لیے جن کو وہ چور ، ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا کہا کرتے تھے ۔ پھر وزیر اعظم عمران خان روز انصاف کی فراہمی ، کرپشن اور احتساب پر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ۔ پر سب جھوٹ ہے اور سب نظر کا دھوکہ ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ خود کیشوں کی تعداد میں ہی اضافہ نہیں ہو رہا دیگر اخلاقی جرائم بھی منہ زور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایک افراتفری کا عالم ہے اور غریب عوام اب چینی جیسی ہر گھر کی روز کی ضرورت سے بھی محروم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر بجٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ مہنگائی نہیں ہوگی مگر بجٹ پاس ہوتے ہی حکومت مہنگائی خود بڑھا دیتی ہے۔ ہمیشہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا جب کہ ہر حکومتی جھوٹ کا سب سے پہلا اثر ہی عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی جھوٹ بولا جاتا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں غلط بیانیوں، گمراہ کن دعوؤں سے ملک کو جہنم بنا دیا گیا ہے اور نئے نئے ریکارڈ قائم کرا دیے گئے ہیں۔ غیر ملکی امداد اور قرضے پہلے کی نسبت دگنے ہوچکے ہیں۔ پر ہمیشہ صرف یہ بیچا جاتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جہاں جاتا ہے تقریر اور پرسنلٹی کا جادو سب کو رام کردیتا ہے۔ آخر عوام اس چیز پر کتنا کو خوش ہوں ۔ خان صاحب اپنی اپوزیشن کے دنوں میں جس سونامی کا ورد روزانہ کیا کرتے تھے وہ شاید یہی سونامی تھی ۔ جس میں ایک زرعی ملک جو گندم ۔ چینی ۔ چاول اور کپاس میں مکمل طور پر خود کفیل اور خود مختار تھا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج وہ تمام اجناس بیرون ملک سے امپورٹ کر رہا ہے۔ بمپر فصل ہونے کے باوجود ہم اتنے سخی ہوچکے ہیں کہ اپنی فصلیں اور پیداوار تو افغانستان اسمگل کردیتے ہیں اور خود اپنے لیے زرمبادلہ خرچ کرکے چینی اور گندم بڑی مقدار میں درآمد کررہے ہیں۔ ہمارا دشمن جس قسم کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا ہم نے آج اپنے پاکستان کو اُس مقام پر پہنچادیا ہے۔ ہم نے اپنے تمام بڑے بڑے منصوبے اب گروی رکھنا شروع کردیے ہیں۔ ایئرپورٹ اور موٹروے سمیت بہت سے پروجیکٹ اگر نہ ہوتے تو ہم اپنی کون سی چیز گروی رکھ کے یہ قرضے حاصل کرتے۔ اب صرف نیوکلیئر پروجیکٹ باقی رہ گیا ہے جس پر دشمنوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اللہ وہ دن نہ لائے جس دن قوم صبح جب خواب غفلت والی نیند سے بیدار ہو تو اُسے پتا چلے گا کہ ہمارا یہ اثاثہ بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔۔ اُس وقت ہمارے یہ حکمراں شاید یہی کہتے ہوئے دکھائی دینگے کہ ایسے ایٹم بموں کا کیا فائدہ جن کے ہوتے ہوئے قوم بھوک سے نڈھال ہورہی ہے اور وہ اُس کے کام نہ آئیں۔ روپیہ بنگلہ دیش تو کیا خطہ کے کسی اور کمزور ملک کی کرنسی سے مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ چالیس سالوں سے تباہ حال افغانستان کی کرنسی بھی ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ پٹرول آج بھی وہاں ہم سے کم قیمت پر دستیاب ہے۔ طالبان کو جس حال میں حکومت ملی ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اُن کا وہ رونا دھونا نہیں سنا جو ہماری اس حکومت نے ساڑھے تین سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اپنی ہر غلطی اور ناکامی کو پچھلی حکومتوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ ہم نے تو نیب قوانین میں مزید ترمیم کرکے جو تھوڑا بہت اس کا بھرم تھا وہ بھی ختم کردیا ہے ۔ شکریہ تو بنتا ہے اس بات پر کہ اس وقت عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ کیوں کہ یہاں پر جس کا جو دل کررہا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ گلہ کریں تو کس سے اور گریبان پکڑیں تو کس کا۔ صبح و شام چیزوں کے ریٹس مختلف ہیں اور وہ کس ریشو سے بڑھ رہے ہیں اور کیوں بڑھ رہے ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔ قانون سازی اور آرڈیننس سازی میں جو کمالات عمران خان کی حکومت دکھا رہی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا نیب چیئرمین کی مدت میں توسیع کا، بلدیاتی الیکشن کا معاملہ ہو، اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ ہو یا نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا ہر بار نیا کٹا ہی کھولا گیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان مدد لینے دوست ممالک اور قرض کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے جتنے خلاف تھےاب وہ اتنے ہی دھڑلے اور دیدہ دلیری سے ان کے پاس جاتے ہیں اور ایسا کرنے پر ایسی ایسی وجوہات پیش کرتے ہیں کہ لوگ سر پکڑ لیتے ہیں۔ آج معیشت کو دیکھ لیجئے، مہنگائی کا انڈیکس دیکھ لیجئے، کرپشن کے حوالے سے ملک کی رینکنگ دیکھ لیجئے، ایمانداری کے حوالے سے رپورٹیں پڑھ لیجئے۔ صحت کے حوالے سے دیکھ لیجئے۔ ہر چیز حکومت کامنہ چڑا رہی ہے ۔ ایک جانب ڈینگی کنڑول نہیں ہورہا تو ڈینگی بخار کے لیے جو گولی ہے آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے وہ مارکیٹ سے غائب ہے۔ میڈیا یہ رپورٹ کرکر کے پاگل ہوگیا ہے ۔ مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی ۔ حکومت نے اب مہنگائی کنڑول کرنے کا حل یہ نکالا ہے کہ SPI (Sensitive Price index)کا ہفتہ وار دیٹا ہی بند کر دیا ہے ۔ کہ نہ پتہ چلے گا کہ کتنی مہنگائی بڑھی ہے ۔ نہ کوئی رپورٹ کرے گا ۔ یعنی پھر نہ کوئی حکومت کو برا بھلا کہے گا ۔ پھر حکومت میں جو رتن شامل ہیں ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون کس کا ترجمان ہے۔ کیوں کہ ان کے اپنے وزیر اور مشیر اپنی حکومتی پالیسی سے نابلد نظر آتے ہیں اور ہر ایک کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ۔ اب ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود ان کی باتوں اور بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ ملک یہ نہیں بلکہ گزشتہ حکومتیں چلا رہی ہیں اور وہ صرف ان پر بیانات دینے کا فریضہ سر انجام دینے پر مامور ہیں۔ ہم سب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان نے بائیس سالہ جدوجہد میں سب سمجھ لیا ہے کہ مسائل کیا ہیں اور ان کو حل کیسے کرنا ہے۔ اور یہ سب ہم نے بلاوجہ نہیں سمجھا بلکہ ہمیں بار بار یہ باور کرایا گیا کہ روزانہ ملک میں اتنے ارب کی کرپشن ہوتی ہے جو ان کے آنے سے رک جائے گی۔ یہ بتایا گیا کہ ان کے پاس کام کرنے والی ٹیم بالکل تیار ہے جس میں ایسے قابل اور ایماندار لوگ ہیں۔ جو نہ کسی نے کبھی دیکھے ہوں نہ ان کے بارے کبھی سنا ہوگا ۔ ہمیں بتایا گیا کہ نوے دنوں میں یہ ہوجائے گا، دو سال میں یہ ہوجائے گا اور پانچ سال بعد نہ جانے ہمارا ملک ترقی کی کون سے زینے پر قدم رکھ چکا ہوگا۔ پر سچ یہ ہے کہ ملک کو اس حال میں پہنچا دیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والا کوئی حکمراں بھی اُسے سنبھال نہ سکے اور پھر قوم کے پاس موجودہ حکمرانوں کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہے۔ ویسے بھی کچھ لوگوں کی نظر میں موجودہ حکمرانوں کا کوئی متبادل ہی موجود نہیں ہے۔

  • افغانستان پر 8 ممالک کا علاقائی اجلاس بری طرح ناکام:بھارت نامراد اور ناکام ہوگیا

    افغانستان پر 8 ممالک کا علاقائی اجلاس بری طرح ناکام:بھارت نامراد اور ناکام ہوگیا

    نئی دہلی: افغانستان پر 8 ممالک کا علاقائی اجلاس بری طرح ناکام:بھارت نامراد اور ناکام ہوگیا ،اطلاعات کےمطابق بھارت کو افغانستان کی موجودہ صورت حال پر ہونے والے اپنے ہی علاقائی اجلاس میں اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب افغانستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بات کو دیگر فریقین نے مسترد کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت نے افغانستان کی صورت حال پر پڑوسی ممالک کے مشیر قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس کی سربراہی بھارت کے مشیر قومی سلامتی نے کی تھی۔

    اجلاس کے انعقاد سے قبل ہی پاکستان اور چین نے بھارت کی اجلاس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کردیا تھا تاہم روس سمیت ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے مشیران قومی سلامتی نے شرکت کی تھی۔

    ابتدا ہی سے ناکامی کے شکار اس بھارتی اجلاس کا اختتام نہایت مایوس کن رہا، بھارت اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ بھارت کے افغانستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بات کو فریقین نے مسترد کردیا۔

    روس نے بھی بھارتی مؤقف کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اس سے اختلاف کرتے ہوئے اعلامیہ سے الگ بیان بھی جاری کیا۔ ایک اجلاس کے دو بیانات اختلافی مواد کے ساتھ منظر عام پر آنے پر بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    بھارت کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران افغانستان میں دہشت گردی، بنیاد پرستی اور منشیات کی اسمگلنگ سے پیدا ہونے والے خطرات پر خصوصی طور پر توجہ مرکوز رکھی گئی تاہم روس کی جانب سے جاری بیان میں ان چیزوں کا زکر تک نہیں کیا گیا۔

  • حکمران اپنی دھن میں مگن، عوام دن میں تارے دیکھنے پر مجبور

    حکمران اپنی دھن میں مگن، عوام دن میں تارے دیکھنے پر مجبور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسنمبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مشکل وقت میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔ کاش وہ ایسا بیان پاکستانی عوام کے بارے بھی دے دیں ۔ کیونکہ ان کی مشکلات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ حالانکہ انھوں نے کپتان کو ووٹ دیا ۔ انہوں نے ان کو وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کیا ۔ انہوں نے عمران خان کی ہر بات ، ہر دعوے ، ہر وعدے پر یقین کیا ۔ کاش عمران خان اس مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ پر یہ ایک سیراب محسوس ہوتا ہے ۔ خواب لگتا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اردگرد انھیں مافیاز کو اکٹھا کیا ہوا ہے جس سے نجات کے لیے اس عوام نے ملک کی دوبڑی جماعتوں کو پس پشت ڈال کر خیبر سے لے کر کراچی تک تحریک انصاف کو چنا تھا ۔ پر دکھیاری عوام کے ساتھ ہاتھ ہوچکا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پر یاد رکھیں جب یہ عوام عمران خان کے ساتھ ہاتھ کریں تو پھر یہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی انتقام کے آگے تو بڑے بڑے سورما اور ظالم و جابر حکمران ذلیل وخوار ہوچکے ہیں ۔ جس طرح انھوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اس کے بعد عنقریب ایسا ہی حال عمران خان اور ان کی پارٹی کا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں اس وقت سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ سیاسی محاذ بھی گرم ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کو بلوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ کل تک دبکنے والی اپوزیشن اب شیر کی طرح دھاڑ رہی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور دیگر مسائل نے بھی حکومت کو جکڑ لیا ہے۔ ایک مشکل ختم ہوتی نہیں کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ چینی نے تو جان ہی نکال لی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول سب ہی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک صفحہ بھی لگتا ہے کہ پھٹ گیا ہے۔ جس کے اپنے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں تو پورے ملک میں کرائم ریٹ بڑھ چکا ہے پنجاب کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈکیتیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ صرف پنجاب ہی نہیں اسلام آباد جیسا سیف سٹی بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر ہے۔ یہاں تک کہ چند روز پہلے تو ڈاکوؤں نے سیکیورٹی کمپنی کی وہ گاڑی بھی دن دہاڑے دیدہ دلیری سے لوٹی جو بینکوں میں کیش پہنچاتی تھی ۔ کیونکہ ایک رپورٹ کے مطاطق پاکستان انسانی بہبود یعنی انسانی زندگی کی بہتری میں صرف یمن۔ افغانستان اور شام سے بہتر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری اس حکومت سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے غریب پر کچھ رحم کرو، آپ تو عمر بن خطاب کی مثالیں دیتے رہے ہو ۔ پر لگتا ہے کہ اب تو غریب کی صرف اللہ ہی مدد کرے تو کرے حکومت نے تو بھوک سے مار دیا ہے ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں اگر قرضے لئے جاتے تھے تو قوم کو ترقیاتی منصوبہ جات بھی دکھائی دیتے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ پالیسی ٹھیک تھی یا غلط تھی ۔ مگر حالیہ برسوں میں جو قرضے لئے گئے ہیں، ان کے بدلے میں عوام کو سوائے شدید ترین مہنگائی کے اور کیا ملا؟ تیس ہزار ارب سے سنتالیس ہزار ارب تک قرضوں کو پہنچنا عمران خان کا ہی کارنامہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کی کتنی کرپشن کپتان نے پکڑی ؟ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو اخلاقاً انکو کو الزام عائد کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ کیا دوسروں کی عزتوں کو بلاجواز و ثبوت اچھالنا بد اخلاقی کی زمرے میں نہیں آتا؟ جو وہ روز اخلاقیات کے بھاشن قوم کو دیتے ہیں۔ یہ عمران خان کا ہی اپنا فرمان ہے کہ برائی وزیراعظم اور وزیروں سے شروع ہو کر نیچے تک جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے اردگرد کرپٹ ، چور اور دیہاڑی باز ہیں پرعمران خان صادق وامین ہیں ۔ آج جس طرح یہ حکومت اعظم سواتی اور فیصل واڈا والے معاملے میں ننگی ہوکر سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو سارے بھرم ہی ختم کردیے ہیں ۔ واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان کو ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اپنی پارٹی ، اپنے لوگوں کی حکمرانی پسند ہیں ۔ چاہے وہ نہ صادق ہو نہ امین ہو ۔ حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے تیرہ صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا تھا ۔ کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے۔ اور جیسے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا تھا ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ پر عمران خان کو یہ نہ دیکھائی دیا نہ سنائی دیا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال کپتان کو کسی دلیل سے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی وہ اپوزیشن کی دھمکیوں یا عوام کی بدعاوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔ وہ تو اپنی دھن کے بندے ہیں۔ جو من میں آئے کر گزرتے ہیں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپوزیشن جتنا بھی احتجاج کر لے کپتان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ ان کو ملک میں کوئی برائی ۔۔۔ برائی دیکھائی ہی نہیں دیتی ۔ ایسا بے فکر وزیراعظم اور ایسی بے اثرحکومت شاید ہی اس ملک میں پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ اب جنہیں چور کہا جاتا تھا وہ تو کب کے رخصت ہوگئے ہیں لیکن بجلی اور گیس کے بل پہلے کی نسبت نہ صرف بہت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں بلکہ ان میں اضافے کی رفتا بھی کم نہیں ہورہی۔ یہی عمران خان کہتے تھکتے نہیں تھے کہ مہنگائی تب ہوتی ہے جب وزیراعظم کرپٹ ہو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ دیکھیں حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دو روپے 53پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے۔ جس سے تیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ ستمبر کے لئے ہے جو نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ دیکھی جادوگری آپ نے ان کی اعلان اب کیا ہے وصول پچھلے مہینے کےبلوں میں کیا جائے گا ۔ اسی لیے تو دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ آج قوم یہ تمام سوال پوچھ رہی ہے۔ ابھی تو مسجدوں کے منبروں سے سوالات اٹھنا شروع ہوئے ہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ چوکوں ، چوراہوں ، تقریبات ہر جگہ ان سے پوچھے جائیں گے ۔ لوگ ان کے گریبان پکڑیں گے ۔ یہ بڑے ہوشیار اور چالاک بنتے ہیں آپ دیکھیں ڈسکہ کی منظم دھاندلی کے جو باقاعدہ ثبوت سامنے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں اکیلی فردوس عاشق اعوان ہی ملوث تھی؟ کیا وہ محض تنہا اپنے طور اتنی بڑی بڑی چھلانگیں مار سکتی تھیں ؟ سچ سامنے آنا چاہیے کہ اوپر سے ہدایات جاری کرنے والا تلقین شاہ کون تھا؟ عثمان بزدار ، پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کے بغیر یہ ممکن تھا ۔ بالکل نہیں تھا ۔ ڈسکہ میں دھاندلی اس حکومت پر سب سے بڑی چارج شیٹ ہے ۔ کیونکہ عمران خان تو صاف شفاف الیکشن کے سب سے بڑے داعی ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوں تین سال بعد نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نئے پاکستان کا ہر باسی پُرانے پاکستان کی تلاش میں نظرآرہا ہے۔ عوام تو عوام ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خواص کی بھی اپنی ایک الگ سوچ ہوتی ہے اور ہمارے ان خواص کو ملک کی معاشی صورتحال کا پتہ ہوتاہے ۔ وہ حتیٰ الامکان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات جیسے بھی رہیں۔ ان کی ذاتی معیشت ترقی کرتی رہنی چاہیے۔ اس لیے وہ اپنی معیشت کو درست رکھنے کے لیے ملک کی معیشت کو داؤ پرلگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً جب بھی ضرورت پڑتی ہے عوام کی روز مرہ ضرورت کی کسی چیز پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی یوٹیلٹی بل اچانک بڑھ جاتا ہے ۔ لیکن امراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ سرکار کے ملازم بلکہ عوام پر لگائے گئے انھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کو اپنی تنخواہوں۔ الاونئس اور دیگر مراعات میں استعمال کرکے شاہانہ لائف اسٹائل برقرار رکھتے ہیں اور ان کی موجیں یوں ہی لگی رہتی ہیں ۔ ان کی سج دھج وہی رہتی ہے جوہمیشہ سے تھی لیکن اب یہ سج دھج ملک کی توفیق اور استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام دعا مانگ رہے ہیں کہ کوئی عالم غیب سے آئے اور اس لوٹ مار کو بند کر دے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جس ملک کے حکمران بیرونی ممالک سے وصول کردہ تحفوں کی تفصیلات بتانے کو قومی راز اورقومی سلامتی گردانتے ہوں۔ سوچیں وہ اور انکے ساتھ کیا فلم ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی ہاتھ روکنے والا ہی نہیں ہے تو کیوں نہ بڑا ہاتھ مارا جائے اور جہاں تک ضمیر وغیر ہ کا تعلق ہے تو یہ مر چکا ہے۔ اس وقت بالکل واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر طبقے پر کم ٹیکس لگائیں ۔ تاکہ وہ اپنی بچت، یا پھر منافع کو اپنے کاروبار میں وسعت پر لگائے۔ اسی لیے اس حکومت نے امیر طبقہ کو کھربوں روپے کی رعائتیں بھی دی ہیں۔ اللہ نہ کرے وہ دن آئے ۔ کہ ہمارا حال لبنان ، وینزویلا یا سوڈان جیسا ہُو۔ پر یہ چل اسی ڈگر ہر رہے ہیں ۔ جہاں افراطِ زر کی شرح سینکڑوں فیصد میں ہے۔ ۔ یہ تو ہماری زراعت میں اتنی جا ن ہے کہ وہ ہمیں پوری طرح ڈوبنے نہیں دے رہی ۔ کھانے پینے کا سامان ملک میں اتنا موجود رہتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی جیسی تیسی چلتی رہتی ہے۔ ورنہ اس حکومت نے کسر کوئی نہیں چھوڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل اور کرم ہے کہ یہ ملک کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، ہر آنے والا حکمران اپنا چورن بیچ کر چلا جاتا ہے،کوئی قرض اتارنے اور ملک سنوارنے کی بات کرتا ہے تو کوئی نیا پاکستان اور ریاست مدینہ کے خوب دکھاتا ہے۔ ایک ہم عوام ہیں جو خواب دیکھے جارہے ہیں۔

  • کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم

    کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم

    کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے ٹرائیکا پلس کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان کی ملاقات ہوئی

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرائیکا پلس میکنزم کی اہمیت کو اجاگر کیا،وزیراعظم عمران خان نے خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،پاکستان نے ہمیشہ ایک جامع سیاسی تصفیے کی حمایت کی،وزیراعظم عمران خان نے انسانی حقوق کے احترام اور انسداد دہشت گردی کے پرعزم اقدامات کی اہمیت پر زور دیا .وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے بھی اقدامات پر زور دیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرے

    قبل ازیں چین، روس، امریکہ اور پاکستان کے افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اجلاس میں موجود تھے، افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور عالمی برادری سے افغان حکومت سے رابطے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ٹرائیکا پلس اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے ،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اعتدال پسند پالیسیوں کے نفاذ کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے،عالمی برادری افغانستان کو کورونا کیخلاف امداد کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات کرے طالبان افغان عوام کے ساتھ مل کر نمائندہ حکومت کی تشکیل کیلئے اقدامات کریں ،عالمی بینک کی موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے بارے میں رپورٹ بھی سامنے رکھی گئی، رپورٹ کے مطابق پاکستان، بھارت، افغانستان سب سے زیادہ متاثرہ ممالک قرار دیئے گئے اور کہا گیا کہ 2 دہائیوں میں خشک سالی، سیلاب، طوفانوں سے کروڑوں افراد متاثر ہوئے،2 دہائیوں میں ساؤتھ ایشیا ریجن کے 75 کروڑافراد موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ بڑھانے کی ضرورت ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں طالبان کو مدعو کریں گے،جسے قائل کرنا ہے اسے میز پر لانا ہوگا۔پاکستان ذمہ دار ملک ہے،امن و استحکام میں دنیا کیلئے اور علاقائی فوائد ہیں،بگاڑ پیدا ہوا تو کوئی بھی بچ نہیں پائے گا

    وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’ٹرائیکا پلس‘ (تین سے زائد ممالک) کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کیا ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ’ٹرائیکاپلَس‘ کے نویں اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آمد پر آپ سب کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ کی یہاں موجودگی ایک پرامن، مستحکم، متحد، خود مختار اور خوش حال افغانستان دیکھنے کی مشترکہ خواہش کی عکاس ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ آج آپ کی جانب سے غوروخوض کی کاوش، ثمربار ہو۔ ’ٹرائیکا پلَس‘ کا اجلاس تین ماہ کے وقفے سے دوبارہ ہورہا ہے۔ اس عرصے کے دوران افغانستان بنیادی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ کابل میں ایک نئی انتظامیہ فعال ہوئی ہے؛ عبوری کابینہ کی تشکیل ہوچکی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر انخلاء ہوا ہے خوش کن پہلو یہ تھے کہ خوں ریزی نہیں ہوئی، مہاجرین کے بڑے پیمانے پر ہجرت کے جو خوفناک اندیشے لاحق تھے، ان خدشات سے محفوظ رہے ، مستقبل کے اقدام پر طالبان کی طرف سے حوصلہ افزا اعلانات ہوئے اور اہم ترین امر یہ ہے کہ عالمی برادری نے رابطہ استوار رکھا ہے۔ افغانستان کے ساتھ رابطہ نہ صرف بحال رہنا چاہئے بلکہ کئی وجوہات کی بناءپر اس میں اضافہ ہونا چاہئے۔ تاکہ پھر سے یہ ملک خانہ جنگی کی نذر نہ ہو، کوئی بھی دوبارہ ایسا ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا، معاشی انحاط وانہدام کا بھی کوئی خواہاں نہیں، جس سے عدم استحکام بڑھے گا ، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے اندر فعال، والے دہشت گرد عناصر کو موثر انداز سے نمٹاجائے اور ہم سب کی خواہش ہے کہ مہاجرین کے ایک نئے بحران سے بچا جائے۔ افغانستان سے متعلق ہم سب کی تشویش وفکر مندی مشترک ہے جبکہ وہاں امن واستحکام ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ان سب کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ’ٹرائیکا پلَس‘ نے نمایاں اہمیت حاصل کرلی ہے اور اس کا کلیدی کردار ہے جو اسے ادا کرنا ہے۔ہم پُر اعتماد ہیں کہ ’ٹرائیکا پلَس‘ کے نئی افغان حکومت سے امور کار، امن واستحکام کے فروغ ، پائیدار معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کے لئے گنجائش مسدود ہوتی چلی جائے گی۔افغانستان اس وقت معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ عالمی مالی امداد کے نہ ہونے سے تنخواہوں کی ادائیگی تک میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، چہ جائیکہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت ممکن ہوسکے۔ عام آدمی بدترین قحط کے شدید اثرات کا شکار اور اس سے متاثر ہے۔ صورتحال میں مزید تنزلی نئی انتظامیہ کی حکومت چلانے کی استعداد کو بری طرح محدود کردے گی۔ لہذا ناگزیر ہے کہ عالمی برادری ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تحرک کرے ۔ صحت، تعلیم اور شہری خدمات (میونسپل سروسز) کی فراہمی کو فوری توجہ درکار ہے۔ افغانستان کو اپنے مجمند وسائل کی رسائی سے معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے کی ہماری کوششوں کو تقویت ملے گی اور افغان معیشت استحکام اور پائیداری کی طرف گامزن ہوپائے گی۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور اس کے اداروں پر زور دیا جائے کہ وہ عام افغان شہریوں تک رسائی کے طریقے تلاش کریں اور اس صورتحال میں ان کی مدد کریں۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں امن واستحکام قریب ترین ہمسائے کے طورپر پاکستان کے براہ راست مفاد میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان مشترکہ ورثہ اور تاریخ رکھتے ہیں۔ ہم افغانستان کے ہر طبقہ و نسل کو ملک کی حتمی منزل کے لئے اہم تصور کرتے ہیں۔قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے ہم نے گذشتہ چار دہائیوں میں، مہاجرین، منشیات اور دہشت گردی کی صورت میں اس تنازعے اور عدم استحکام کا براہ راست نقصان اٹھایا ہے۔ ہم موجودہ صورتحال کو اس طویل تنازعے اور لڑائی کے خاتمے کا ایک موقع گردانتے ہیں۔ اس سمت میں ہم نے پہلے ہی متعدد اقدامات کئے ہیں تاکہ افغانستان میں عام آدمی کو سہولت ملے۔ ان میں سے چند یہ ہیں ،افغانستان میں کسانوں کی مدد کے لئے کھانے پینے کی اشیاءکو کسٹم ڈیوٹی سے استثنٰی قرار دے دیا ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ،پیدل آمدورفت کی سہولت دی گئی ہے ،ہم نے کورونا وبا کے دوران سرحد کو کھولے رکھا ،بیماروں اور علاج کے لئے آنے والوں کو ان کی آمد پر ویزا کی فراہمی کی سہولت دی گئی ہے ،15 اگست کے بعد سے میں نے مختلف ممالک کے اپنے متعدد ہم مناصب کی میزبانی کی۔ ہم افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہماری علاقائی پلیٹ فارم کی تشکیل کی تجویز کی حمایت کی تاکہ تشویش کے مشترک نکات اور مواقعوں پر بات چیت ممکن ہوسکے۔ دو اجلاسوں سے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور مستقبل کی راہ عمل کی حامل دستاویزات میسرآئی ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک ان تمام رابطوں کے دوران عالمی برادری اور نئی افغان حکومت کو ہمارا ہمیشہ یہ پیغام رہا ہے کہ رابطے استوار رکھے جائیں اور باہمی اتفاق سے آگے کی راہ تلاش کی جائے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ کابل کے میرے دورے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ افغانستان کی نئی حکومت کی عالمی برادری سے کیا توقعات ہیں۔ اس سے ہمیں یہ موقع بھی میسر آیا کہ طالبان قیادت کو ہم اپنی رائے سے آگاہ کریں اور عالمی برادری کی اُن سے توقعات کو اجاگر کریں۔ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان رابطے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا انہیں تسلیم کرے اور ان کی مدد کرے ۔لہذا یہ کلیدی امر ہے کہ عالمی برادری ماضی کی غلطیاں دوہرانے سے بچے اور مثبت رابطہ جاری رکھے ۔اپنے حصے کے طور پر میں امن، ترقی اور خوش حالی کے راستے پر افغانستان کی مدد کرنے کے ہمارے وزیراعظم کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیریوں پر مظالم بند کرے،قریشی کی نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو

    شاہ محمود قریشی کی افغان عبوری وزیراعظم ملاحسن اخوند سے ملاقات

  • امریکا کیساتھ روایتی اور طویل مدتی تعاون کے خواہشمند ہیں: آرمی چیف

    امریکا کیساتھ روایتی اور طویل مدتی تعاون کے خواہشمند ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی:امریکا کیساتھ روایتی اور طویل مدتی تعاون کے خواہشمند ہیں:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ روایتی ،باہمی تعلق اور طویل مدتی تعاون کا خواہاں ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ کی ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعاون اور افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں بارڈرمینجمنٹ کے امور بھی زیرغور آئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی نمائندہ نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ تھامس ویسٹ نے سرحد پر انتظامات، علاقائی استحکام کے لیے بھی پاکستانی کوششوں کی تعریف کی۔ امریکی نمائندہ نے پاکستان کے ساتھ تعلق و تعاون بڑھانے کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ روایتی ،باہمی تعلق اور طویل مدتی تعاون کا خواہاں ہے۔

    سپہ سالار نے افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے دنیا پر تعاون و مدد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا افغان عوام کی معاشی بہتری کے لیے تعاون کرے۔

  • نورمقدم کیس، عدالت کا ایک اور بڑا فیصلہ،ظاہر کی انوکھی خواہش

    نورمقدم کیس، عدالت کا ایک اور بڑا فیصلہ،ظاہر کی انوکھی خواہش

    نورمقدم کیس، عدالت کا ایک اور بڑا فیصلہ،ظاہر کی انوکھی خواہش
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نورمقدم کیس پر اس وقت کافی تیزی سے ٹرائل ہو رہا ہے۔ عدالت میں چار چار گھنٹے کی سماعت ہو رہی ہے۔ پہلے بتایا تھا کہ کیسے جعفر خاندان کے ملازمین کے جھوٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بے نقاب ہوئے تھے اور یہ بھی کہ نور نے درندے کے گھر سے ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاگنے کی کوشش کی تھی جو ملازمین نے ناکام بنا دی تھی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عدالت میں مزید کیا کچھ ہوا سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے عدالت نے کیا فیصلہ کیا، درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کے فرانزک کا کیا بنا، ایک بار پھر عدالت سے ظاہر جعفر کو کیوں نکالا گیا، عدالت کے سامنے وہ کیا منتیں کرتا رہا اور ملازمین کے مزید جھوٹ کون سے جھوٹ سامنے آ گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جس کو حاصل کرنے کے لئے ملزمان کے وکیل پہلے دن سے ہی بہت زور لگا رہے تھے کہ ہمیں فوٹیج دی جائے تاکہ ہمیں اپنا کیس تیار کرنے میں آسانی ہو۔ ویسے تو یہ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج ہے لیکن اس فوٹیج میں سے کچھ اہم حصوں کو الگ کرکے بھی ایک فوٹیج تیار کی گئی ہے۔ ہر سماعت کی طرح حالیہ سماعت میں بھی ملزمان کے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی کاپی دی جائے جس پر شاہ خاور نے کہہ کہ کیوں نہ فوٹیج کو عدالت میں ایک بار دکھا دیا حائے اس کے بعد وکلاء کو دے دی جائے کیونکہ اس پورے کیس میں یہ فوٹیج سب سے زیادہ اہم ہے اور نور کی فیملی اور وکیل یہ نہیں چاہتے کہ عدالت میں فوٹیج چلنے سے پہلے یہ کہیں اور وائرل ہو۔ لیکن اس فوٹیج کے بارے میں آج عدالت نے بالآخر فیصلہ کر دیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی پانچ کاپیاں تیار کی جائیں اور ملزمان کے وکلاء کو دے دی جائیں اس طرح اب جمعہ کے روز فوٹیج ان سب کو مل جائے گی جس پر یہ اپنے کیس کی تیاری کریں گے اس لئے آنے والی سماعتیں اب اور بھی زیادہ اہم ہوں گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور اس پر جو موقف اختیار کیا گیا ہے جب میں نے وہ سنا تو یقین جانیں کہ میں نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اس طرح کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہوا یہ کہ عدالت میں بتایا گیا کہ یہ لیب ٹاپ اور فون پاسورڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھل نہیں سکے اور ان کا ڈیٹا حاصل نہیں ہو سکا۔ اور اب اگر ہم اس پر بار بار غلط پاسورڈ لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا ہی ڈیلیٹ ہو جائے۔ سوچیں ایک کیس انڈیا میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ہوا تھا جس میں انہوں نے واٹس ایپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز بھی Retrieveکروا لئے تھے۔ لیکن ہماری پولیس اور ایف آئی اے کا حال دیکھ لیں کہ انہوں نے صاف جواب ہی دے دیا ہے کہ جی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس طرح کے جواب پر اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس درندے کے خاندان کی طرف سے اس کیس پر خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے۔ کہ پہلے تو پولیس موقع واردات سے موبائل لینا ہی بھول گئی تھی جب موبائل لے لیا گیا تو ٹوٹی ہوئی سکرین کا کہہ کر اسے پڑا رہنے دیا حالانکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ موبائل فون کی سکرین آرام سے تبدیل ہو سکتی ہے لیکن نہیں جب تک ہم نے آواز نہیں اٹھائی اس پر کسی کو دھیان ہی نہیں گیا اور اب جب درندہ ان کے قبضے میں ہے تو اس سے یہ موبائل اور لیب ٹاپ کا پاسورڈ نہیں اگلوا سکے حالانکہ یہ پولیس والے جب اپنی کرنے پر آتے ہیں تو ملزم سے وہ گناہ بھی منوا لیتے ہیں جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن حیرت ہے کہ اسلام آباد پولیس اس درندے سے ایک پاسورڈ نہیں اگلوا سکی۔ ایف آئی اے کی بھی یہ حالت ہے کہ وہ عدالت کو یہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایک بار پھر عدالت سے درندے کو باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہ بار بار گواہوں کی جرح کی کاروائی میں خلل ڈال رہا تھا۔ اس سماعت میں درندے نے نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی کے انچارج محمد عمران کی جرح کے دوران بولنا شروع کردیا اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی سے منت کرنی شروع کر دی۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطاء ربانی، کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ میری بات سن رہے ہیں؟ اس کے بعد درندے نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کر دیا اور کہا کہ جج عطا ربانی، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔اس دوران درندے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی عدالت میں ہی موجود تھیں۔ جس نے پچھلی سماعت پر عدالت کو بہت یقین دلایا تھا کہ درندے کی طرف سے دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہو گی۔ خیر جب جج عطا ربانی کی جانب سے جب کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تو درندے نے ایک بار پھر جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب عطاء ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں۔ اس پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلاء سے پوچھا کیا ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں۔ سوچیں آج یہ راضی نامے کی بات کر رہا ہے عدالت میں بار بار کہتا ہے میری بات سنیں۔ اب کوئی اس درندے سے پوچھے کہ جب نور اس کی اور اس کے ملازمین کی منتیں کر رہی تھی کہ اس کو جانے دیا جائے تب اس نے نور کی بات کیوں نہیں سنی کیوں اس پر تشدد کیا کیوں اسے جانے نہیں دیا۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے کمرے سے کیا کیا شواہد اکھٹے کئے تو اس میں چاقو، پستول جس میں ایک میگزین لگا ہوا تھا اور دوسرا میگزین بھی ساتھ میز پر رکھا تھا، ایک لوہے کا مکا تھا اور چار سگریٹ تھے جو اکٹھے کیے گئے اب ان چیزوں کی موجودگی سے آپ سوچیں اس لڑکی کو جان سے مارنے سے پہلے کتنا تشدد کیا گیا ہو گا۔ اوراس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نورمقدم کا سر کھڑکی کے پاس سے ملا تھا اور چاقو شیلف پر رکھا ہوا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہ درندہ اس کے ماں باپ ملازمین اور تھراپی ورکس والے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ویسے تو اس کیس کے شروع میں ہی جو ایک کام ہوا کہ ان سب کو فورا گرفتار نہیں کیا گیا تھا اس سے ان سب کو موقع مل گیا تھا کہ یہ آپس میں پلان کرکے ایک جیسے بیانات پولیس کو دیں لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے جھوٹ آخر پکڑا ہی جاتا ہے تو جیسے جیسے کیس کی تفصیلات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیل سامنے آ رہی ہے ان کے جھوٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سوچیں جو ملازمین یہ بھی جانتے تھے اگر دروازہ بند ہے تو کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے وہاں سے درندے کے کمرے میں جایا جا سکتا ہے۔ تھراپی ورکس والوں کو سیڑھی بھی انھیں ملازمین نے لا کر دی تو کیا وہ اس لڑکی کی جان بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن نہیں یہ ملازمین تو جان کر گیٹ بند کر دیتے تھے تاکہ نور بھاگ نہ پائے اور اسے پکڑ کر واپس درندے کے حوالے کر دیتے تھے اور تھراپی ورکس والے جو معصوم بن رہے ہیں کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں تھی ہم تو مریض کو لینے گئے تھے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ مریض کو لانے کے لئے کونسی ڈاکٹرز کی ٹیم وکیل کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ کیونکہ تھراپی ورکس والوں کے ساتھ وکیل دلیپ کمار بھی تھا۔ اور اس کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے موقع واردات سے ثبوتوں کو مٹایا جائے، نور کی باڈی کو ٹھکانے لگایا جائے اور کیس کو خراب کیا جائے۔ تاکہ اس درندے کی جان بچ جائے۔ کیونکہ یاد کریں اس درندے نے اپنے باپ کو جب فون پر بتایا تھا کہ میں نے نور کو مار دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ تم پریشان نہ ہو میں سب سنبھال لوں گا۔ ٹیم آ رہی ہے وہ تمھیں یہاں سے نکال لے گی۔ اس لئے تھراپی ورکس والے اپنی پوری تیاری سے گئے تھے اور مجھے تو یقین ہے کہ امجد پر بھی جو حملہ کیا گیا وہ بھی ڈرامہ کیا گیا۔ تاکہ اس کی ذہنی حالت خراب ثابت کی جا سکے۔ ورنہ جس طرح اس کے پاس اسلحہ تھا اگر وہ مارنا چاہتا تو وہ آرام سے امجد کو مار سکتا تھا۔اور جو یہ بیان دیا گیا کہ ظاہر نے اس وقت امجد سے کہا تھا کہ میں تمھیں بھی ماروں گا اور خود بھی خودکشی کروں گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی جان لینی ہوتی تو نور کو مارنے کے فورا بعد اپنی جان لے چکا ہوتا اپنے باپ کو فون نہ کرتا کہ مجھ سے قتل ہو گیا ہے اور مجھے بچا لو۔ ابھی تک جیسے ان کے پہلے والے ڈرامے بے نقاب ہوتے رہے ہیں انشااللہ باقی کے ڈارمے بھی آنے والے دنوں میں پکڑے جائیں گے۔اب عدالت نے اگلی سماعت جو کہ سترہ نومبر کو ہوگی اس پر ہیڈ کانسٹیبل جابر، کمپیوٹر آپریٹر مدثر، اے ایس آئی دوست محمد اور ڈاکٹر شازیہ کو طلب کرلیا ہے اب ان کی گواہی اور اس پر جراح ہو گی۔ اور مزید بہت سے انکشافات اس کیس کے حوالے سے سامنے آئیں جس سے ان درندوں کے جھوٹ مزید بے نقاب ہونگے اورنور کو جلد انصاف مل سکے گا .

  • ایک طرف شہباز شریف سے مدد دوسری جانب شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ

    ایک طرف شہباز شریف سے مدد دوسری جانب شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ

    ایک طرف شہباز شریف سے مدد دوسری جانب شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ

    شہباز شریف کے لئے بڑا جھٹکا،نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کر دی، وفاقی کابینہ شہباز شریف، سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور فواد حسن فواد کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دے گی، باخبر ذرائع کے مطابق ابھی تک کابینہ کو سمری موصول نہیں ہوئی،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف کا نام پہلے بھی ای سی ایل میں ہے

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل پر ڈالنا عمران صاحب کی ترجیح ہے،مہنگائی اور معیشت ٹھیک کرنا نہیں .ایک نہیں، دو نہیں، تین چار دفعہ ای سی ایل پر ڈالو اور آٹا، چینی،بجلی ،گیس،دوائی مافیاز اور اپنے ATMs کو آرڈینس لا کر این آر او دیں عمران صاحب باتیں نہ کریں،اپنے نمبرز پورے کریں

    قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط لکھا ہے اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کو وسیع تر قومی مفاد کو مد نظر رکھنا ہے،مشترکہ مفادات کی اصلاحات پر پارٹی وابستگی سے بالا تر ہوکر وسیع تر قومی مفاد کو مد نظر رکھا جائے الیکشن ترمیمی اور دیگز بلز پر مشاورتی عمل شروع کرنے اور قانون سازی کیلئے تشکیل دی گئی متفقہ کمیٹی کے فورم کو بروئے کار لایا جائے، اپوزیشن لیڈر کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،الیکشن ترمیمی بل 2021 اوردیگر بلز قومی اسمبلی سے پاس ہو چکے ہیں،بلزپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور آنے ہیں ،متفقہ کمیٹی کی طرف سے مشاورتی عمل مکمل نہیں ہو سکا، امید ہے اپوزیشن لیڈر تمام عمل میں اپنا کردار ادا کریں گے،امید ہے شہبازشریف بلز پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں سہولت فراہم کریں گے،

    دوسری جانب شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خط کے حوالہ سے پارٹی رہنماؤں سے مشورہ کیا ہے، باخبر ذرائع کے مطابق اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد کوئی قدم اٹھائیں گے

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

    متحدہ اپوزیشن، بلاول نے آج سب کو بلا لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر

    چاہتے ہیں اگلے الیکشن میں دھاندلی کا رونا نہ ہو،وزیراعظم

  • بازی پلٹ گئی، اتحادیوں کا صاف انکار،حکومت کو اسمبلی میں بدترین شکست

    بازی پلٹ گئی، اتحادیوں کا صاف انکار،حکومت کو اسمبلی میں بدترین شکست

    بازی پلٹ گئی، اتحادیوں کا صاف انکار،حکومت کو اسمبلی میں بدترین شکست
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستانی عوام کی مشکلات میں کہیں سے کوئی کمی نہیں ہو رہی ویسے ہی اب عمران خان کے لئے بھی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن میں کافی حد تک ان کا اپنا ہی عمل دخل ہے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ وہ حاکم وقت ہیں ان کے پاس اقتدار ہے اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوں گے تو دوسروں کو موقع ملے گا کہ وہ بھی عمران خان نے خلاف مشکلات کھڑی کر سکیں اور مشکلات نہ بھی ہوں تو صورتحال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن عمران خان کے حالات کا خوب مزہ بھی لے رہی ہے اور مذاق بھی بنا رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی اور کلبھوشن و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر کو طلب کیا ہوا تھا جس کے حوالے سے پہلے وزیراعظم ہاؤس میں اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ہم ملک کی فلاح کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ انتخابات کو متنازعہ بنانے سے بہتر ہے کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ قانون سازی ذاتی یا سیاسی فوائد کیلئے نہیں کررہے، انتخابی اصلاحات پر قانون سازی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے، جمہوریت پر یقین ہے اس لیے انتخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ اراکین کا خاص ہدایت کی گئی کہ الیکڑونک ووٹنگ مشین کو لانے کے لئے اور اس کا بل پاس کروانے کے لئے جہاد سمجھ کر کرشش کی جائے لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس اجلاس کومؤخر کردیا گیا۔جس کے بارے میں وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہےتاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ اجلاس آخر موخر کیوں کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ کل جس طرح سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اراکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انھیں پتہ لگ چکا ہے کہ اب اگر اپوزیشن سے بات کئے بغیر یہ اجلاس میں کوئی بھی بل پیش کریں گے تو یہ اس کو پاس کروانے میں ناکام رہیں گے اس لئے یہ اجلاس کینسل کرنا پڑا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا یہ تھا کہ اکثریت ہونے کے باوجود حکمران اتحاد کے مقابلے میں اپوزیشن نے ایک ہی دن میں حکومت کو دو مرتبہ ووٹنگ میں شکست دے دی۔ جس کی وجہ سے حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن رکن کا بل پیش ہو گیا جبکہ حکومتی رکن کو بل پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی۔ اور پھر جب بعد میں حکومتی رکن کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کی تو اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ووٹنگ کرائی تو اس میں حکومتی بنچوں کو شکست ہو گئی۔اپوزیشن کی جانب سے سید جاوید حسنین نے بل پیش کیا کہ کوئی منتخب رکن اگر پارٹی تبدیل کرتا ہے تو پابندی ہونی چاہیے کہ وہ آئندہ سات سال تک کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑ سکے لیکن حکومت کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی کہ اس بل کے زریعے آپ کسی بھی رکن سے اس کا جمہوری حق نہیں چھین سکتے ہیں۔اس مخالفت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے کچھ اراکین شاید یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے الیکشن میں اپنی پارٹی تبدیل کرکے اس ٹولے میں شامل ہو جائیں جس کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشنز کے نزدیک ایک مخصوص ٹولہ ہے جو بڑی مہارت سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں اور جو پارٹی ان کو لگتی ہے کہ حکومت بنائے گی اس کے ساتھ جا کر مل جاتے ہیں۔ اور جب اس بل پرووٹنگ کی گئی تو بل کے حق میں 117 ووٹ آئے جب کہ اس کی مخالفت میں 104 ووٹ ڈالے گئے۔اس طرح حکومت کی ایک نہ چلی اور سید جاوید حسنین کا پیش کردہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اہم رکن اسما قدیر کے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کر دی۔ اسما قدیر کی جانب سے خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے پر سزا کی تجویز کا بل پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کی مخالفت میں ووٹ زیادہ ہیں۔ اس لیے بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے دعوی کیا کہ اپوزیشن کے 127 اور حکومت کے صرف 78 ووٹ نکلے تھے۔
    اسمبلی میں اس کامیابی پر بلاول بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد بھی پیش کی تھی اور کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے آج حکومت کو قومی اسمبلی میں شکست دے دی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی، کلبھوشن یادیو کو نظرثانی کی اپیل کا حق دینے کے بل اور دیگر اہم قوانین کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج قومی اسمبلی میں سب نے تبدیلی دیکھ لی ہے۔ مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت کا راستہ روکیں گے۔ جس پر تمام اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔بس اسی اتحاد کے ڈر سے اس اجلاس کو موخر کیا گیا ہے۔
    جس پر مریم نواز نے بھی تنقید کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ۔۔ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ کل کے اراکین مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا ؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے۔ویسے آج سپریم کورٹ میں سانحہ پشاور کے حوالے سے جو پیشی ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم عمران خان کو طلب بھی کیا گیا تھا اس پر بھی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ اور عمران خان کو نشانہ بنایا کہ۔۔
    روٹی مہنگی تو کم کھاؤ،میں کیا کروں؟
    چینی مہنگی تو میٹھا چھوڑ دو،میں کیا کروں؟
    پیٹرول مہنگا توگاڑی مت چلاؤ،میں کیا کروں؟
    خواتین سےزیادتی ہے توگھر بیٹھیں،میں کیا کروں؟
    شہدا کےلواحقین صبرکریں،میں کیا کروں؟
    تم بس ملک پرعذاب بن کر ٹوٹتے رہو! لیکن اب یہ عذاب کے دن بھی ختم ہونے کو ہیں۔
    اور پھر دوسری ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ۔۔
    بے سکون ہو تو قبر میں جاؤ سکون ملے گا میں کیا کروں ؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل ایسا ہی ایک کمنٹ چیف جسٹس پاکستان نے بھی سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا تھا کہ آپ وزیر اعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔اور صحیح بات ہے صرف سانحہ پشاور ہی نہیں اس وقت پوری قوم کے ہی جو بھی حالات ہیں اس کے جواب دہ وزیر اعظم عمران خان ہیں کیونکہ عوام نے ان پر یقین کرکے ان کو منتخب کیا تھا عوام اپنے حالات میں بہتری کی امید لئے ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور کوئی بدلاو نہ آنے پر اپوزیشن ان کا مذاق بنا رہے ہیں ان پر تنقید کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت عمران خان کا پورا زور صرف اور صرف الیکڑانک ووٹنگ مشین پر ہے۔ آج کے ظہرانے میں بھی اس پر تمام اراکین کو خوب لیکچر دیا گیا لیکن عمران خان این اے 75 ڈسکہ پر خاموش ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی صاف چلی شفاف چلی۔۔ تحریک انصاف چلی۔۔ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ دیا ہے۔ کہ پاکستان تحریک انصاف جو ماضی میں خود دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی رہی ہے ہر ہارے ہوئے الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب اپنی بات آتی ہے تو ہار برداشت کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے پینتیس پنکچر کا واویلا کیا بعد میں کہا گیا کہ 35 پنکچر والا بیان تو صرف ایک سیاسی بیان تھا۔ پھر چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر احتجاج شروع کیا جب چاروں حلقے کھولے گئے تو کسی ایک بھی حلقے سے منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے نہ آیا۔ شاید اسی لئے ہار سے بچنے کے لئے ڈسکہ الیکشن میں ہراوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ پوری کی پوری انتظامی مشینری کو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں صاف بتایا گیا ہے کہ دھاندلی کی پلاننگ کے لیے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیراعلی کے ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں ایجوکیشن اور ریٹرننگ افسران کی میٹنگز ہوتی رہیں۔ منظم انداز میں پریزائیڈنگ آفیسرز کو لاپتہ کیا گیا ۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار معاونت فراہم کرتے رہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے افسران جانبداری کا مظاہرہ کرتے رہے اور حکومتی اہلکاروں کے آلہ کار بن کر الیکشن چوری کروانے میں مدد فراہم کرتے رہے۔ پولیس افسران نے دباؤ ڈال کر بیس سے زائد پریزائیڈنگ افسران سے زبردستی نتائج تبدیل کروائے۔ لیکن اب کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا ان تمام لوگوں سے کوئی سوال نہیں کر رہا۔
    یا پھر شاید عمران خان اسی ڈسکہ رپورٹ کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر اتنے غصے میں ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی ہو اور آنے والا الیکشن ہرحال میں مشینوں کے ذریعے ہو۔مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اس وقت جو سیاسی حالات نظر آرہے ہیں اور حکومتی ناکامیوں کی فہرست جتنی لمبی ہوتی جا رہی ہے اس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس موخر کیا گیا تاکہ ٹائم مل سکے نمبرز پورے کرنے کے لئے۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی متحد ہے لیکن دیکھیں آنے والے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے مولانا فضل الرحمان اور مولانا اسعد محمود نےبلاول بھٹو کا استقبال کیا یوسف رضا گیلانی اور قمر زمان کائرہ بھی بلاول بھٹو کے ہمراہ ہیں ،بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی صحت سے متعلق خیریت دریافت کی بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا،بلاول نے مولانا فضل الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بزرگ سیاست دان ہیں، 3 نسلوں سے ہمارا رشتہ ہے، ای وی ایم اور احتساب قوانین پر پارلیمان میں لائحہ عمل کامیابیوں کا سبب بن سکتا ہے،پارلیمان کے ذریعے ہی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے،حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکست اپوزیشن کی کامیابیاں ہیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی حکومت کو پارلیمان میں شکست کا سامنا ہے پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن رات کے اندھیرے میں منسوخ کیا گیا،حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکست اپوزیشن کی بڑی کامیابی ہے، سیاسی جماعتوں نے پوری قوت سےحکومتی کوشش ناکا م بنا دی ،جہوری انداز سے کام کریں گے تو کامیابی ملے گی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور پوری قوم کو نقصان پہنچایا گیا، ہم جعلی اکثریت کو قبول نہیں کرتے، جعلی مینڈیٹ کے ساتھ آئی حکومت کو بھی قبول نہیں کرتے ،ہمارا مطالبہ نئے الیکشن ہیں اپوزیشن ملکر حکومت کے ہتھنکنڈے ناکام بنا رہی ہے، پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تو اپوزیشن ایک بار پھر حکومت کو شکست دے گی ہم جعلی حکومت کو بہت جلد گھر بھجیں گے، دھاندلی زدہ حکومت کو اصلاحات کرنےکا کوئی حق نہیں، میں پی ڈی ایم کا سربراہ ہوں اورتنہا کچھ بھی نہیں کرتا، ہمارا شروع سے ایک ہی مطالبہ نئے انتخابات ہیں، پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کی واپسی پر کوئی بات نہیں ہوئی،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے ن لیگ کی رہنما مریم نواز بھی اسلام آباد پہنچ چکی ہیں، پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کی دوبارہ شمولیت کی بھی کوشش جاری ہیں، پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کے حوالہ سے گزشتہ چند دنوں سے باز گشت جاری تھی ،پی پی رکن اسمبلی سید خورشید شاہ کی رہائی کے بعد وہ متحرک تھے اور انہوں نے اس ضمن میں رابطے بھی کئے تھے تا کہ کسی طرح اپوزیشن ایک بار پھر حکومت کے خلاف متحد ہو اور متحد ہو کر ہی تحریک چلائی جائے

    پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا،اپوزیشن کے تمام فیصلے متفقہ ہوں گے کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں ہوگا،پیپلزپارٹی اپنی موثر حکمت عملی کے ذریعے تمام کارڈز کھیلے گی،اسپیکر اسدقیصر نے آج خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے،اپوزیشن متحد ہوکر مذاکرات سے متعلق اور آگے کی حکمت عملی کا فیصلہ کرے گی،

    دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کی ٹیلیفونک گفتگو کا علم نہیں سعید غنی کا کہنا تھا کہ ہم پی ڈی ایم سے علیحدہ نہیں ہونا چاہتے تھے،پی ڈی ایم کے فیصلے برابری کی بنیاد پر ہونگے،تمام سیاسی پارٹیاں برابر ہیں اور ہم کسی ایک کا دم چھلا نہیں بن سکتے، جو بھی فیصلے ہونگے باہمی مشاورت سے ہونگے،ہم یک طرفہ فیصلوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں ہماری تجاویز پر پی ڈی ایم عمل کرنا نہیں چاہتی،عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلئے ہم قدم اٹھا رہے تھے، کسی بھی جماعت نے استعفٰی دینے کا اعلان نہیں کیا،ہمارے پاس ووٹ آف لو کنفیڈنشن کا آپشن موجود ہے

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ کسی کوعلم نہیں آئی ایم ایف سے کیا بات ہوئی،اسٹیٹ بینک کےمعاملات میں مداخلت ہورہی ہے،آئی ایم ایف سے مذاکرات کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا،پی ٹی آئی کو پارٹی کے اندرہی چیلنجزکا سامنا ہے ،ہمارے لیے بلدیاتی انتخابات کرانا لازمی ہے ،آئین کے مطابق نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں،نااہل حکومت کابوجھ عوام پرپڑ رہا ہے،وزیراعظم ہمیشہ غیرذمہ دارانہ بات کرتےہیں،وزیراعظم کوکسی نے بتایا سندھ کی شوگرملز بند ہونے سے قیمتیں بڑھیں،آصف زرداری کی ایک شوگرمل بھی نہیں ہے،مشیرخزانہ نے خوشخبری سنائی تھی بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھائیں گے،آنے والے دنوں میں گیس بحران پیدا ہوسکتاہے، صرف سندھ میں بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت پوری کی ، پنجاب میں جیسے ہی تحریک انصاف کی حکومت آئی انہوں نے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال کر دیا ، سپریم کورٹ نے سات ماہ قبل بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم دیا مگر اب تک عمل نہ ہوا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی ادارے کئی سال سے کام نہیں کر رہے ۔ سندھ میں دوبارہ بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کی ذمہ داری ہم پر نہیں آتی آئین کے مطابق ہر مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہونی ضروری ہیں یہاں نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں اس لئے انتخابات نہیں ہو سکتے ہم قانون پر کام کر رہے ہیں امید ہے کہ تین سے پانچ ماہ میں سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہوں گے

    واضح رہے کہ گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، شہباز شریف نے متحدہ اپوزیشن کو عشائیہ دیا، تو اگلے روز بلاول نے کھانا دیا، اپوزیشن کی سب کمیٹی بنی ہے جس کا گزشتہ روز اجلاس ہوا، اپوزیشن کو پی ڈی ایم کا اجلاس ملتوی کر نا پڑا تو حکومت کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا، گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں قومی اسمبلی سے عجلت میں منظور کرایا گیا نیب ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میں نیب ترمیمی بل مسترد کرانے کے لیے سینیٹ میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے قرارداد پر اپوزیشن جماعتوں کے دستخط لیے جارہے ہیں،دستخط ہوجانے کے بعد قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی جائے گی کمیٹی نے حکومتی متنازعہ قانون سازی کے خلاف پارلیمنٹ اور عدالتوں میں جانے کا فیصلہ کیا ہے .دوسری جانب اپوزیشن نے ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن پر غور شروع کر دیا، پیپلز پارٹی نے تجویز دی کہ ان ہاؤس تبدیلی مرحلہ وار لائی جائے،چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے آغاز کیا جائے، سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے وہاں سے آغاز کیا جائے،سینیٹ میں کامیابی کے بعد اسد قیصرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی،

    مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کو مشکل میں پھنسا دیا

    اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    ابو نہیں بیٹا بچاؤ مہم آج چلی، شکست پر پاکستانی ٹرمپ کا ردعمل قوم نے دیکھ لیا،مریم نواز

    ہم دیکھیں گے آپ کا وزیراعلیٰ اور اسپیکر کب تک کرسی پر بیٹھیں گے،بلاول

    بزدار کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی،پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کب ہو گی؟ بڑا فیصلہ ہو گیا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

    متحدہ اپوزیشن، بلاول نے آج سب کو بلا لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر

    چاہتے ہیں اگلے الیکشن میں دھاندلی کا رونا نہ ہو،وزیراعظم

    گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی