Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فروری 2019 میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا        شاہ محمود قریشی

    فروری 2019 میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں زیر تربیت افسران سے خطاب کیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خطاب کا موضوع "پاکستان کی خارجہ پالیسی اور درپیش چیلنجز، تھا مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں زیر تربیت افسران کے ساتھ بات چیت کرنا ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے مجھے کئی دوست ممالک کے باسی شرکاء کو پاکستان کے سول اور فوجی افسران کے ساتھ اکٹھے دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم واقعی "دلچسپ دور” سے گزر رہے ہیں۔ جہاں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہم، اپنے قومی مفادات کو فروغ دینے اور ان کو پہنچنے والے نقصانات کو روکنے کے لیے نئے حقائق سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمہ وقت چوکس رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا،وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہے۔ اس لیے ہمارے اقتصادی مفادات کو فروغ دینے اور اپنے ثقافتی اور تاریخی تعلقات کو زندہ رکھنے کے لیے بہتر رابطہ ضروری ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ کنیکٹیویٹی حوالے سے سی پیک، ایک اہم اقدام ہے پاکستان اس فریم ورک کو نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کے لیے بھی گیم چینجر کے طور پر دیکھتا ہے۔

    گوادر پورٹ CPEC فریم ورک کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے اس سلسلے میں گوادر اتنا اہم کیوں ہے؟ سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ اول، یہ دنیا کی واحد قدرتی گہری سمندری بندرگاہ ہے، دوسرا، یہ بی آر آئی اور شاہراہ ریشم کے منصوبوں کو جوڑتی ہے-

    تیسرا، وسطی ایشیا اور افغانستان کے لیے مختصر ترین راستہ ہونے کی وجہ سے یہ خطے کے لیے گیٹ وے کے طور پر کام کرنے کے لیے موزوں ہے چوتھا، یہ یورپ سے یوریشیا تک ایک ممکنہ علاقائی تجارتی مرکز ہےلہٰذا، ہم گوادر کو علاقائی تعاون اور مشترکہ اقتصادی فوائد کے بے پناہ امکانات کے مرکز کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے سی پیک میں شرکت کیلئے دلچسپی ظاہر کی ہے پاکستان سی پیک کے تحت ساتھ بنائے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کرنے والے دیگر ممالک کو خوش آمدید کہے گا اس طرح علاقائی روابط اور مشترکہ ترقی کے ہمارے وژن کو عملی شکل ملے گی

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے خطاب میں مزید کہا کہ ہمارا مقصد روزگار کے مواقعے اور علاقائی تجارتی روابط کا فروغ ہے ہم سی پیک کو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ خطے کے لیے بھی گیم چینجر سمجھتے ہیں افغانستان مشترکہ ذمہ داری کا حصہ ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں مذاکرات اور مفاہمت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے-

    محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا تھا کہ افغانستان کی جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ایک پرامن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے ہم افغانستان کی مدد میں متحرک رہے ہیں 15 اگست کے بعد، ہم نے 37 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے 30,000 سفارتی اور این جی او کے عملے اور میڈیا کے افراد کو نکالنے میں سہولت فراہم کی-

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بین الاقوامی افواج کا انخلاء، بین الاافغان مذاکرات میں پیشرفت کے ساتھ، ذمہ دارانہ ہونا چاہیے پاکستان کا خیال ہے کہ اس وقت سب سے بڑا موقع افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے عالمی برادری کا اتحاد ہے بدقسمتی سے، امن مخالف عناصر، ایک بار پھر پاکستان کے خلاف بیانیے کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہندوتوا کے نظریے کی پیداوار ہے،فروری 2019 میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا ہمارا ردعمل اشتعال کا مقابلہ کرنے، روکنے اور اس آگ کو بجھانے والا تھا۔ ہم یہ تینوں مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

    ہم نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور کسی بھی بیرونی مہم جوئی کو ناکام بنانے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا پاکستان کا مسلسل موقف رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل پر منحصر ہے پاکستان کے ساتھ بامعنی اور نتیجہ خیز تعلقات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

    5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے تحت، ہم نے دنیا بھر میں کشمیر کاز کو ایک نئے جوش اور عزم کے ساتھ اٹھایا، اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا ہم نے تمام دستیاب فورمز پر بھارتی جارحیت کے باعث بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کو واضح کیا۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 55 سال کے وقفے کے بعد ایک سال میں تین مرتبہ کشمیر کی صورتحال زیر بحث آئی پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز اور ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت ان کو حاصل نہیں ہو جاتا۔

    بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے نومبر 2019 میں کرتار پور راہداری کو کھول دیا جس میں بھارت سمیت پوری دنیا میں مقیم سکھوں کو ان کے مقدس ترین مقامات تک رسائی دی گئی عمران خان کا خطے اور پاک بھارت تعلقات کے لیے وژن، پرامن بقائے باہمی، بین المذاہب ہم آہنگی اور تنازعات کے پرامن حل پر مشتمل ہے۔

    خطے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم کے درمیان رابطے، دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں پاکستان کے دیگر علاقائی شراکت داروں جیسے نیپال اور سری لنکا کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں جو باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے اور مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو بہت قابل قدر اور باہمی طور پر فائدہ مند ہیں-

    ہم امریکہ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور اپنے تعلقات کو عملی اور غیر جذباتی انداز میں آگے بڑھاناچاہتے ہیں جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، پاکستان نے ہمیشہ پُل کا کردار کرنے اور بات چیت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، ہم نے بحرین، ایران، ملائیشیا، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اپنی روایتی شراکت داری کا دائرہ وسیع اور مزید گہرا کیا ہے۔

    مئی 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد میں اضافے کے بعد، پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے ترکی، سوڈان اور فلسطین کے ساتھ کاوشیں کیں، پاکستان نے ہمیشہ 1967 سے پہلے کی سرحدی پوزیشن اور القدس الاشریف بطور دارالحکومت، ایک قابل عمل، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے لیے اپنی اصولی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    او آئی سی کے بانی رکن کے طور پر، پاکستان تنظیم کے ساتھ فعال طور پر منسلک رہا ہے اور اس کے مختلف اداروں کو مضبوط بنانے کیلئے کوشاں رہا ہے پاکستان OIC کے دو اہم اداروں، یعنیCOMSTECH (وزارتی کمیٹی برائے سائنسی اور تکنیکی تعاون) اور اسلامک چیمبرز آف کامرس، انڈسٹری اور ایگریکلچر کی میزبانی کرتا ہے-

    پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں ۔ ہمارے تعلقات روحانی نوعیت سے لے کر اسٹریٹجک اور اقتصادی نوعیت تک پھیلے ہوئے ہیں سعودی عرب اور خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات میں مقیم ہمارے پاکستانی ہم وطن ریکارڈ ترسیلات زر کے ساتھ پاکستان کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

    ایران کے ساتھ ہمارے دوطرفہ تعلقات تاریخی ، مذہبی ، ثقافتی اور گہری روحانی وابستگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے مختلف دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ مسلسل بہترین تعلقات قائم رکھے ہیں پاکستان نے کئی افریقی ممالک کی، ان کی جدوجہد آزادی میں حمایت کی پاکستان گزشتہ 7 دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے ذریعے امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے-

    اب Engage Africa Initiative کے تحت، ہم اپنے افریقی دوستوں کے ساتھ اقتصادی سفارت کاری اور باہمی تعاون کے لیے نئی راہیں کھول رہے ہیں جنوری 2020 میں نیروبی میں پاکستان افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس کا انعقاد اس سلسلے میں ایک اہم اقدام تھاپاکستان نے افریقہ میں پانچ نئے مشن کھولے، نائجر اور تنزانیہ میں مشنز کو سفیر کی سطح تک اپ گریڈ کیا-

    وزیر اعظم عمران خان نے کرونا وبا کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کی ضرورت پر زور دیا ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو روکنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں پاکستان اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے اور اس کے خلاف سب سے زیادہ آواز اٹھانے والا ملک ہے۔

    پاکستان نے اس مسئلے کو مختلف اعلیٰ سطحی پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا ہم اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی نظام کو آگے بڑھانے اور اصلاحات کے ضمن میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق، ہم اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔

    ایف ایم پورٹل کو اس ماہ وسعت دی گئی ہے تاکہ پاکستانیوں کی سہولت اور مدد کی جا سکے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی مشنز کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے ہم قونصلر طریقہ کار کو بھی آسان بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔مخدوم شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ نے اس موقع پر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں زیر تربیت افسران کے سوالات کے جوابات بھی دیئے اور ان کی علمی جستجو کو سراہا-

  • وفاقی وزیر فواد چودھری نے الیکشن کمیشن سے معذرت کرلی

    وفاقی وزیر فواد چودھری نے الیکشن کمیشن سے معذرت کرلی

    الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات سے متعلق کیس کی سماعت ،وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن کے متعلق اپنے بیانات پر معذرت کرلی ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات پر وفاقی وزیر فوادچودھر ی کو طلبی کا نوٹس جاری ہواتھا الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امید ہے الیکشن کمیشن میری وضاحت کو مثبت انداز میں لے گا۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کے حیثیت سے میں جو بھی بات کرتا ہوں وہ حکومت اور کابینہ کی پالیسی ہوتی ہے، وہ میری ذاتی رائے نہیں ہوتی۔

    ان کا کہنا تھا میں الیکشن کمیشن کو بتایا کہ جو بات کرتا ہوں بطور وزیر اطلاعات کرتا ہوں، میں وفاقی کابینہ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ امید ہے الیکشن کمیشن میری باتوں کو مثبت لے گا۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ ایک وکیل ہیں اور جج اور اداروں کا احترام کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کااجلاس کل طلب کرلیاگیاہے ای وی ایم کا معاملہ پی ٹی آئی کا نہیں قومی ایجنڈا ہے بل تمام اتحادیوں کے ساتھ ملکر پاس کرارہے ہیں انتخابی اصلاحات ضروری ہیں، اپوزیشن تجاویز دیں، کھلے دل سے قبول کر لیں گے-

    وفاقی وزیر کا سابق چیف جسٹس کے بیانات کے معاملے پر کہنا تھا کہ نوازشریف یا مریم نوازکی عدالت پیشی ہوتی ہے کوئی نہ کوئی معاملہ اٹھایاجاتاہےن لیگ نے عدالتوں کے خلاف ایک مہم شروع کی ہےعدالتوں پر حملہ ن لیگ کی روایات کاحصہ ہےگزشتہ روز جعلی حلف نامہ سامنے آیا جس کی فیس شریف فیملی نے اداکی سابق جج لندن میں نواز شریف کے خرچے پر رہ رہے ہیں-

    واضح رہے کہ حکومت نے بالآخر بدھ کے روز پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایمز) کے استعمال سے متعلق بل سمیت متنازع بلز منظور کرائے جاسکیں۔

    جبکہ اس سے قبل قانون سازی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے پیر کو حکومتی اتحادیوں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل-ق) کا اجلاس طلب کیا تھا۔

  • امریکی اور چینی صدور کے درمیان پہلی ورچوئل ملاقات، دونوں رہنماوں کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

    امریکی اور چینی صدور کے درمیان پہلی ورچوئل ملاقات، دونوں رہنماوں کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

    امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان پہلی ورچوئل ملاقات میں دونوں رہنماوں نے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ملاقات خوشگوار رہی اور دونوں نے گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کو سلام کیا۔ چینی صدر نے کہا کہ وہ اپنے “پرانے دوست” بائیڈن کو دیکھ کر خوش ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ بطور قائدین ذمہ داری ہے کہ دونوں ممالک تنازعات کی طرف نہ جائیں ہم دونوں نےہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت ایمانداری اور صاف گوئی سے بات چیت کی ہے، ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ دوسرے کیا سوچ رہے ہیں شاید مجھے زیادہ باضابطہ طور پر بات شروع کرنی چاہیے حالانکہ میں اور آپ کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ اتنے رسمی نہیں رہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک کو رابطے اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے چینی صدر نے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ مل کر چلنے پر زور دیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور کوویڈ 19 جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مضبوط چین امریکہ تعلقات کی ضرورت ہے۔

    صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ انسان ایک گلوبل ویلج میں رہتے ہیں اور ہمیں مل کر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین اور امریکہ کو رابطے اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے انہوں نے امریکی صدر سے کہا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھانے کے لیے میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ ہمارے ممالک کے درمیان مقابلہ کسی تنازع کی طرف نہ جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اب تمام ممالک کو یکساں اصولوں کے مطابق چلنا ہوگا۔ امریکہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے مفادات کے لیے کھڑا رہتا ہے۔

    امریکی صدر نے اتحادیوں کے مفادات کی بات کرتے ہوئے تائیوان مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے گزشتہ عرصے سے امریکہ اور چین کے درمیان تناو بڑھنے کی وجہ تائیوان کا معاملہ رہا ہے امریکی صدر نے چین کو وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکہ بھر پور جوابی کارروائی کرے گا۔

    وائٹ ہاوس سے امریکی اور چینی صدور کی ملاقات کا شیڈول جاری

    یاد رہے کہ چین اور امریکی صدور کے درمیان انتہائی اہم ملاقات ایسے وقت پرہوئی ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تائیوان، تجارت اور انسانی حقوق جیسے مسائل پر تناؤ بڑھ رہا ہے-

    واضح رہے کہ امریکہ اور چین میں طویل سرد مہری کے بعد ستمبر میں صدر جابائیڈن اور صدر شی جن پنگ میں پہلا ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا ۔ دونوں رہنماوں نے مسائل کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا صدر شی جن پنگ نے تائیوان سے متعلق معاہدے کی پاسداری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    چینی صدر نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر تعاون جاری رکھیں گے چین سے متعلق امریکی پالیسی نے سنگین مشکلات پیدا کی ہیں دونوں صدور نے تنازع کی طرف جانے والے راستے سے دور رہنے پر زور دیاتھا۔

    خیال رہے کہ تائیوان نے چینی طیاروں کی در اندازی پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے حملے کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے چند روز قبل 38 چینی فوجی طیاروں نے تائیوان کی دفاعی زون میں پروازیں کی تھیں، جو بیجنگ کی طرف سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق ان طیاروں میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیارے بھی شامل تھے، جو دو مرحلوں میں تائیوان کی فضائی دفاعی شناختی زون میں داخل ہوئے جبکہ تائیوان کی جانب سے اپنے جیٹ طیاروں اور میزائل سسٹم کے ساتھ اپنا دفاع کیا گیا۔

    چینی صدر شی جن پنگ کا رتبہ ماؤزے تنگ کے برابر قرار

    فضائی دفاعی شناختی زون کسی بھی ملک کے علاقے اور فضائی حدود سے باہر کا علاقہ ہوتا ہے لیکن یہاں آنے والے غیر ملکی طیاروں کو شناخت، نگرانی اور قومی سلامتی کے مفاد میں کنٹرول کیا جاتا ہے چین اور تائیوان 1940 کی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران تقسیم ہوئے لیکن بیجنگ کا اصرار ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس جزیرے کو کسی وقت طاقت کے ذریعے دوبارہ حاصل کیا جائے گا۔

  • کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    بھارتی حکومت نے سکھوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے اور بالآخر کرتار پور راہدراری17 نومبر سے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارت نے کوروناوائرس کے پیش نظر 16 مارچ 2020 کو راہداری کو بند کر دیا تھا۔ جب کہ 2 اکتوبر 2020 کو پاکستان کی طرف سے راہداری دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

    پاکستان کی طرف سے متعدد بار بھارت کو خطوط لکھے گئے اور راہداری کھولنے کے حوالے سے فیصلہ لینے کی اپیل کی گئی۔ بھارت میں سکھوں کی تمام تنظیموں نے بھی راہداری کھولنے کے لئے بھارتی حکومت پر دباو ڈالا لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔

    گزشتہ ہفتے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے سکھ ارکان پارلیمینٹ کے ایک وفد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور انہیں کرتارپور راہداری کھولنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے مودی نے گورونانک دیو کی 552 ویں سالگرہ کے موقعہ پر راپداری کھولنے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے بھارتی دفتر خارجہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کو سرکاری طور پر مطلع کیا جارہا ہے۔

    پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عامر نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر سرکاری طور پر اس بات کا علم ہے کہ بھارت کرتارپور راہداری17 نومبر کو کھولنے کے انتظامات کررہاہے تاہم بھارت کی طرف سے ابھی تک سرکاری طور پر مطلع نہیں کیا گیا انہوں نےکہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ راہداری کو فوری طور پر کھولا جائے۔ 

  • عشقِ رسول کا سب سے بڑا ثبوت نبی ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہے     وزیراعظم عمران خان

    عشقِ رسول کا سب سے بڑا ثبوت نبی ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہے وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت رحمت للعالمین اتھارٹی کا جائزہ اجلاس ہوا اجلاس میں وزیر اعظم کو اتھارٹی کے قیام پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مذکورہ اجلاس میں وفاقی وزیر نورالحق قادری، شفقت محمود، اعجاز اکرم، خالد مسعود و دیگر نے شرکت کی جب کہ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    اجلاس میں وزیر اعظم کو دی گئی بریفنگ میں کہا گیا کہ اتھارٹی کے لیے جامع میڈیا پلان آئندہ ہفتے پیش کر دیا جائے گا اور اسلامو فوبیا کا سدباب کرنے کے لیے سفارتخانوں کو آن بورڈ لیا جائے گا-

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید طریقہ کار سے نوجوانوں اوربچوں اور نوجوانوں کی سیرت طیبہ کی روشنی میں کردار سازی پر توجہ دی جائے گی نصاب میں سیرت طیبہ کی روشنی میں اخلاقیات کی تدریس شامل کی جائے گی جبکہ اسلام اور سائنس میں ہم آہنگی اجاگر کرنے کے لیے تحقیق اور اقدامات بھی اتھارٹی کے مقاصد میں شامل ہے۔

    اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست مدینہ اصول پسندی اور اخلاقیات کا عملی نمونہ تھی جبکہ میثاق مدینہ انسانی حقوق کا محافظ تھا اسلامی معاشرہ اپنے دور کا سب سے جدت پسند معاشرہ تھا صوفیائے کرام نے سیرت کی روشنی میں مقامی لوگوں کو ان کی زبان میں دین کی تعلیمات دیں اور مذہبی تہواروں کو کردار سازی کا ذریعہ بنانے پر زور دیا جائے گا۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جامعات میں تحقیق اور غورو فکر سے سیرت کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا پاکستان کا ہر شہری عاشقِ رسولﷺ ہے اور عشقِ رسول کا سب سے بڑا ثبوت نبی ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہے۔

    وزیرِ اعظم نے اتھارٹی سے متعلق تمام اقدامات کو جلد عملی جامع پہنانے کی ہدایات جاری کیں۔

  • پی ڈی ایم کا حکومتی متنازعہ قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج  کرنے کا فیصلہ‏

    پی ڈی ایم کا حکومتی متنازعہ قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ‏

    پی ڈی ایم کے اجلاس کا اعلامیہ جاری‏ کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اعلامیے کے مطابق لانگ مارچ کی تاریخ کیلئے پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کو تجاویز کی تیاری کی ہدایت‏ کی ہے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اپوزیشن نے حکومتی متنازعہ قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ‏ کیا ہے –

    جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی، کامران مرتضی، عطاءاللہ تارڑ کو قانونی تجاویز کی تیاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ‏22نومبر کو پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے-

    23نومبر کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی جائے گی‏ کوئٹہ اور پشاور میں پی ڈی ایم کےجلسے منعقد کرنے کی منظوری دی گئی-

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ عوام کے ساتھ اس ظلم کا ذمہ دار وزیراعظم ہے،حکومت مہنگائی کی تلوار سے عوام کو روز قتل کر رہی ہےمہنگی چینی بھی انتہائی غیرمعیاری ہے-

    پی ڈی ایم اعلامیہ‏ کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو مسترد کرتے ہیں مہنگی ہونے کے باوجود ملک میں گیس بحران نےعوام اور صنعتی شعبے کی نیندیں اڑا دیں‏ سردیوں کی آمد سے قبل ہی عوام ایک نئی اذیت میں مبتلا ہوگئے-

    3سال میں حکومت عوام کو راشن کارڈ اور 3 وقت گیس کی فراہمی کی بھیک پر لے آئی ، کرپٹ ، نااہل اور ووٹ چور حکومت نے عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے-

    واضح رہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ورچوئل اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں پی ڈی ایم کی رکن جماعتوں کے رہنماؤں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ جن رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی ان میں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، آفتاب احمد خان شیرپاؤ، حافظ عبدالکریم، اختر مینگل، اویس نورانی، محمود خان اچکزئی، حافظ حمد اللہ، احسن اقبال، سردار اختر جان اور میر کبیر شامل تھے۔

  • ن لیگ عدالتوں پراثراندازہونےکی تاریخ رکھتی ہے،مگراب ایسا انہیں چلے گا:یہ خود پھنسیں گے، وزیراعظم

    ن لیگ عدالتوں پراثراندازہونےکی تاریخ رکھتی ہے،مگراب ایسا انہیں چلے گا:یہ خود پھنسیں گے، وزیراعظم

    اسلام آباد:ن لیگ عدالتوں پر اثرانداز ہونے سے متعلق تاریخ رکھتی ہے،مگراب ایسا انہیں چلے گا: یہ خود پھنسیں گے، وزیراعظم کے بیان نے ن لیگ کے کالے کرتوں کوایک بارپھربےنقاب کرنے کا اشارہ دے دیا ،گلگت بلتستان کی سپریم ایپلٹ کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم کے انکشافات کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عدالتوں پر اثرانداز ہونے سے متعلق تاریخ رکھتی ہےاور انہوں نے ہمیشہ ریاستی اداروں پر حملہ کیا۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں گلگت بلتستان کے سابق جج کے بیان حلفی کے معاملے پر غور کیا گیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر اورسینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے معاملے کے قانونی نکات پر بریفنگ دی۔

    شہزاد اکبر نے بریفنگ میں بتایا کہ بظاہر لگتا ہے اس پلان کے پیچھے مسلم لیگ ن ہے، بیان حلفی کا مقصد مسلم لیگ ن کے قائدین کے خلاف کیسز کو متنازع بنانا ہے۔بیرسٹرعلی ظفرکا بریفنگ میں کہنا تھاکہ عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے پر توہین عدالت بنتی ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن عدالتوں پر اثرانداز ہونے کے بارے میں اپنی تاریخ رکھتی ہے اور ن لیگ نے ہمیشہ ریاستی اداروں پر حملہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ سیاسی مافیا اپنے کیسز سے بچنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے، ن لیگ اس معاملے میں خود پھنسے گی، معاملہ عدالت میں ہے وہی اسے دیکھے گی۔

    اتحادیوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ اتحادیوں کے تحفظات جلد دور ہو جائیں گے، اتحادی ہماری فیملی کی طرح ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ن لیگ قیادت کو بتایا گیا ہے کہ ایسے الزامات سے ن لیگ کوفائدہ ہونے کی بجائے نقصان پہنچ سکتا ہے اوراگریہ چیز ثابت نہ کرسکےتو ن لیگ کی سیاسی موت کےساتھ عدالتی موت بھی ہے اور اگراس حد تک کوئی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا توپھراس سے حکومت یا سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکوکوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا کیوں کہ بحیثیت ایک چیف جسٹس کے وہ کسی بھی کیس کے قانونی پہلووں پررائے دے سکتے ہیں

  • روسی-ایس400 ڈیفنس سسٹم حاصل کرنےکےبعد بھارتی آرمی چیف جدید خطرناک اسلحہ لینے اسرائیل پہنچ گئے

    روسی-ایس400 ڈیفنس سسٹم حاصل کرنےکےبعد بھارتی آرمی چیف جدید خطرناک اسلحہ لینے اسرائیل پہنچ گئے

    نئی دہلی :روسی- ایس 400 ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے کے بعد بھارتی فوج آرمی چیف جدید خطرناک اسلحہ لینے اسرائیل پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق روس سے دنیا کا خطرناک ترین ایس 400 ڈیفنس سسٹم لینے کے بعد بھارتی آرمی چیف اسرائیل پہنچ گئے ہیں ، اچانک بہت بڑی تبدیلی اور حالات کے تناظر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ خطے میں خطرناک دوڑ شروع ہوچکی ہے

    ادھر بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لداخ اور ہماچل پردیش میں چینی فوج کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نروانے صیہونی ریاست سے مدد اور مشورہ لینے کے لیے پانچ روزہ دورے پر اسرائیل روانہ ہو گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آرمی چیف کا یہ دورہ اسرائیل کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینے کے لئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور سیکرٹری دفاع اجے کمار کے دوروں کے چند ہفتوں بعد ہورہا ہے۔

    سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ جنرل نروانے دونوں ممالک کے درمیان مجموعی فوجی تعاون کو فروغ دینے کے بارے میں اسرائیل کے اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کریں گے۔بھارت اور اسرائیل نے منگل کو ڈرون، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات مشترکہ طور پر تیار کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    بھارت اسرائیل کے ملٹری ہارڈ ویئر کا بڑا خریدار رہا ہے۔ اسرائیل گزشتہ چند سالوں سے بھارت کو مختلف ہتھیاروں کے نظام، میزائل اور بغیر پائلٹ کے جہاز فراہم کر رہا ہے لیکن یہ لین دین زیادہ تر پردے کے پیچھے ہی رہ جاتاہے۔

  • بھائی کی فوتگی پررانا شمیم کے پاس عدالت کے لئے وقت نہیں مگر لندن جانے کا وقت ہے   اٹارنی جنرل

    بھائی کی فوتگی پررانا شمیم کے پاس عدالت کے لئے وقت نہیں مگر لندن جانے کا وقت ہے اٹارنی جنرل

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر لگائے گئے الزامات پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی سماعت چیف جسٹس اظہرللہ نے کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ وکیل صاحب نے بتایا کہ 6 نومبر کو سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے بھائی وفات پا گئے مگر اس کے بعد وہ لندن گئےبھائی کے فوتگی کے بعد لندن جا کر 10 تاریخ کو بیان حلفی بنایا-

    اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ بھائی کی فوتگی کے لئے عدالت کے لئے وقت نہیں مگر لندن جانے کا وقت ہے،کل سے تمام میڈیا پر صرف ایک ہی ایشو چل رہا ہے یہ کوئی عام معاملہ نہیں اسکے بہت سنجیدہ نتائج ہوں گے-

    عدالت نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت میں وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں-

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، صحافی انصار عباسی کیخلاف توہین عدالت کیس کی ازخود سماعت میں چیف ایڈیٹر دی نیوز میر شکیل الرحمان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچےاسلام آباد ہائیکورٹ میں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ،اخبار کے چیف ایڈیٹر، ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور رپورٹر بھی پیش ہوئے جبکہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت سے غیر حاضر رہے رانا شمیم کے بیٹے والد کی جگہ عدالت میں پیش ہوئے نئے والد کی غیر خاضری کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ والد رات اسلام آباد پہنچے، طبعیت ٹھیک نہیں ہے-

    رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے عدالتی عملے سے کمرہ عدالت میں ویڈیو چلانے کی اجازت مانگ لی کہا ہم ایک ویڈیو عدالت میں چلانا چاہتے ہیں، لیپ ٹاپ لا سکتے ہیں؟ جس پر عدالتی عملے نے کہا کہ جج صاحب کی اجازت سے لیپ ٹاپ لا سکتے ہیں-

    دوارن سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا رانا شمیم عدالت میں پیش ہوئے ہیں ؟ جس پر رانا شمیم کے وکیل نے کہا کہ رانا شمیم کے بھائی کا انتقال ہوا ہے، انہیں پیش ہونے کیلئے وقت دیا جائے امریکہ میں ایک کانفرنس میں شریک ہونے کیلئے گئے تھے رات کو ہی واپس آئے ہیں-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر وہ جعلی ہوتا ہے تو پھر شائع کرنے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟ رانا شمیم کے وکیل نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیں جواب جمع کرائیں گےعدالت نے حکم دیا کہ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کو زاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا۔

    وکیل رانا شمیم نے دعخواست کی سینیٹر فیصل واڈا کو اس کیس میں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بے شک درخواست دائر کریں مگر اس کیس میں کسی کو شامل نہیں کریں گے-

    دوران سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر مجھے اپنے ججز پر اعتماد نہ ہوتا تو یہ توہین عدالت کی کارروائی نہ کرتا، انہوں نے کہا کہ اس عدالت نے کہا کہ ججز کا احتساب ہونا چاہیے اور ان پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے-

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ‏میرشکیل صاحب آپ سامنے روسٹرم پر آجائیں عدالت نے آپ کو نہ چاہتے ہوئے بلایا چیف جسٹس اطہر من اللہ نے میر شکیل الرحمن سے استفسار کیا کہ آپ ایک لیڈنگ میڈیا آرگنائزیشن کے مالک ہیں اگر کوئی اپنا بیان حلفی نوٹرائز کراتا ہے تو آپ اسکو اخبار کی لیڈ بنا دینگے؟اگر لوگوں کا اعتماد عدالت پر ختم ہو جائے تو افراتفری پھیلتی ہے، اور آپ نے یہ کیا کیا ہے؟کیا عدالت میں کوئی شخص میرے ججز پر الزام عائد کر سکتا ہے کہ وہ کسی سے ہدایات لیتے ہیں؟ کیا لوگوں کا عدالتوں سے اعتماد اٹھایا جا رہا ہے؟-

    چیف جسٹس نے انصار عباسی سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پوچھا کہ یہ بیان حلفی برطانیہ میں نوٹرائز ہوا؟ آپ انویسٹی گیٹو صحافی ہیں اور میں آپکا احترام کرتا ہوں جس بینچ نے سماعت کی وہ کس نے بنوایا تھا؟ چیف جسٹس نے انصار عباسی سے سوال کیا-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ کو سائلین کیلئے قابل احتساب سمجھتا ہوں احتساب عدالت نے 6 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی تھی، 16جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر ملک سے باہر تھے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی تھی،دونوں ججز ملک بھر کے قابل احترام ججز ہیں، آپ ہائیکورٹ سے پوچھ لیتے کہ کونسا بینچ اس وقت کیس کی سماعت کر رہا تھا-

    انہوں نے استفسار کیا کہ آپ نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ کیا کیس الیکشن سے پہلے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست کی تھی؟ خواجہ حارث پیشہ ور وکیل ہیں انہیں معلوم تھا کہ یہ طریقہ کار نہیں ہوتا،کسی وکیل سے پوچھ لیں، ایک دن اپیل دائر ہو اور سزا معطل ہو جائے یہ نہیں ہوتا،ایک سال کیلئے ڈویژن بینچ تھے جنہوں نے اس ہائیکورٹ کو چلایاجج کے نام کی جگہ خالی چھوڑ کر آپ نے ساری ہائیکورٹ پر الزام عائد کر دیا-

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ہائیکورٹ سے لوگوں کا اعتماد اٹھانے کیلئے سازشیں شروع ہو گئیں،میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسی بات کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ کر دیدوں گا،چیف جسٹس ایک چیف جسٹس کے سامنے ایسی بات کرے اور وہ 3سال خاموش رہے،اچانک سے ایک پراسرار حلف نامہ آ جائے اور ایک بڑے اخبار میں شائع ہو جائے ملک کے بڑے اخبار نے فرنٹ پیج پر ایسی سٹوری کی جس سے عوام کا اعتماد اٹھاتا ہے، ہم پر تنقید کرے مگر لوگوں کا اعتماد عدالتوں پر بحال ہونے دے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ یعنی ایک آزاد عدلیہ کا معاملہ ہے،انہوں نے چیف ایڈیٹر کو دی نیوز کی ہیڈ لائن پڑھنے کی ہدایت کی جس پر چیف ایڈیٹر جنگ نے کہا کہ میری عینک کئی رہ گئی ہے،جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ انصار عباسی آپ پڑھیں، جس پر انہوں نے کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پہلے آپ ہیڈ لائن پڑھیں-

    انصار عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ اب کیا کہیں گے، جو نقصان کرنا تھا وہ آپ کر چکے انصار عباسی نے کہا کہ اس پر ضرور کاروائی کریں کیوں کہ یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اہم ترین عہدہ رکھنے والا شخص 3 سال بعد ایسا بیان حلفی کیسے دے سکتا ہے؟افواہیں ہیں کہ وہ بیان حلفی جعلی ہے اگر وہ جعلی ہوتا ہے تو پھر شائع کرنے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟

    چیف جسٹس نے عامر غوری سے استفسار کیا کہ ایڈیٹر کی حیثیت سے آپکی پالیسی اس خبر کو چھاپنے کی اجازت دیتی ہے ؟ جس پر عامر غوری نے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی دستاویزات ہو تو آپ سٹوری کرسکتے ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ کونسے دستاویزات؟ جو کسی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں آپ سوچتے ہیں کہ آپ کا کام صرف ایک میسنجر کا ہے۔دی نیوز انٹرنیشنل اور سوشل میڈیا میں کیا فرق بچا ؟پورے سال سے دو بنچز ہی کام کرتے رہے، تب کس نے بنچ بنایا۔

    عدالت نے تمام فریقین کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دنوں کے اندر جواب طلب کر لیا اور تمام فریقین کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی اور عدالت نے کیس کی سماعت 26 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی-

    نواز شریف اور مریم نواز کے متعلق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کے انکشافات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لیا ہے۔
    اخبار کے ایڈیٹرانچیف، ایڈیٹر اور رپورٹر کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے-

    عدالتی حکمنامے کے مطابق خبرزیر التوا کیس سے متعلق ہے، عدالت سے باہر کسی قسم کا ٹرائل عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے، فریقین بتائیں کہ کیوں نہ ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    واضح رہے کہ جنگ اخبار کی آج شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ’وہ اس واقعہ کے گواہ ہیں جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریٹائرڈ جسٹس رانا شمیم کے بیان کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ ثاقب نثار نے ہم نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے جنگ اخبار کی خبر کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا۔

    سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کا کہنا ہے کہ انصارعباسی سےکی گئی باتوں پرقائم ہوں سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکے پاس میری توسیع کا اختیار ہی نہیں جی بی اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس سپریم کورٹ پاکستان کے ماتحت نہیں جی بی اور آزاد کشمیرکی سپریم کورٹس کے چیف جج کوتوسیع دینے کا اختیار وزیراعظم کا ہے۔

    صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نوازشریف اورمریم کونشانہ بنانےکےپس پردہ سازش بےنقاب ہوگئی۔

    اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق خبر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف اورمریم کونشانہ بنانےکےپس پردہ سازش بےنقاب ہوگئی-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کاسچائی منکشف کرنےکااپناطریقہ ہے خبرعوامی عدالت میں نواز شریف اور مریم کی بےگناہی کاایک اورثبوت ہےالحمدللہ!

    وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق خبر کو لطیفہ اور معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے پروپیگنڈا قرار دے دیا۔

    معاون خصوصی شہباز گل نے خبر پر رد عمل دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ نااہل لیگ کو خبروں میں رہنے کیلئے روز کسی پروپیگنڈے کی ضرورت ہوتی ہے جسٹس قیوم کو فون پر فیصلے لکھوانے والوں کی اخلاقی پستی ملاحظہ کیجیئے قوم کو سرٹیفائیڈ جھوٹوں سے سچائی کی امید نہیں-

    معاون خصوصی شہبازگل کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپنے کا وقت ہوا چاہتا ہے سستے پولیٹیکل سٹنٹ سے منی لانڈرنگ اور کرپشن جیسے داغ نہیں دھوپائیں گے پاکستان کو لوٹنے والے دنیا میں مقام عبرت بنیں گے-


    فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا کہ انصار عباسی صاحب کی ایک حیرت انگیز اسٹوری نظر سے گزری جس میں ایک گلگت کے جج صاحب فرماتے ہیں کہ جب وہ ثاقب نثار صاحب کے پاس چائے پینے بیٹھے تو جج صاحب نے فون پر ہائیکورٹ کے جج کو کہا کہ نواز شریف کی ضمانت الیکشنوں سے پہلے نہیں لینی!


    انہوں نے مزید لکھا کہ کیسےکیسے لطیفے اس ملک میں نواز شریف کو مظلوم ثابت کرانے کی مہم چلا رہے ہیں، اندازہ لگائیں کے آپ کسی جج کے پاس چائے پینے جائیں وہ آگے سے فون ملا کر بیٹھا ہے کہ آپ کے سامنے ہی ایسی ہدایات جاری کرے کہ کسی ملزم کی ضمانت لینی ہے یا نہیں لینی!ملزم بھی کوئی عام آدمی نہیں ملک کاوزیر اعظم-


    فواد چوہدری نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ بیوقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنےکی بجائے یہ بتا دیں نواز شریف نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جو بعد میں مریم نواز کی ملکیت میں دے دئیے گئے ان کے پیسے کہاں سےآئے؟ مریم نے کہا میری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں اب اربوں کی جائیداد سامنے آ چکی جواب اس کا دیں-

    دوسری جانب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہائی نہ دینے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے-

    پاکستان کے سینئیر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی چیف جسٹس(ر) ثاقب نثار نے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کی ہے-


    انہوں نے بتایا کہ میری ثاقب نثار صاحب سے تھوڑی دیر پہلے بات ہوئی۔ وہ انصار عباسی کے دعووں میں کسی بھی سچائی کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ تاہم انصار صاحب اب اتنے سالوں کے بعد ایوان فیلڈ اپارٹمنٹس کے پیچھے اصل حقیقت کا پتہ لگا سکتے ہیں اگر دیگر زمینیں اور جائیداد نہیں تو؟

    نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہائی نہ دینے سے متعلق خبر کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ ہیں جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔


    رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کا یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021ء کو دیا گیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

    تاہم اب سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جو خبر چھپی ہے وہ بے بنیاد ہے میں نے کسی کے لئے کوئی سفارش نہیں کی تھی ۔

    ہم نیوز کے مطابق سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ یہ خبر حقائق کے منافی ہے رانا شمیم عہدے پر توسیع مانگ رہے تھے جو میں نے نہیں دی رانا شمیم چاہتے تھے کہ ان کو بطور چیف جسٹس عہدے پر توسیع دی جائے ان کی توسیع قانون کے مطابق نہیں بنتی تھی۔

  • رمیش کمار پر قاتلانہ حملہ، سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی

    رمیش کمار پر قاتلانہ حملہ، سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی

    رمیش کمار پر قاتلانہ حملہ، سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی
    سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک کی غیر قانونی فروخت کا نوٹس لے لیا سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو فوری طلب کر لیا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے ساری جائیدادیں فروخت کر دی ہیں، کس قانون کے تحت متروکہ وقف املاک کی پراپرٹی فروخت کی گئی؟متروکہ املاک کو فروخت کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، لاکھوں کے حساب سے یہ جائیدادیں فروخت کر کے کھا گئے ہیں، اسطرح تو املاک بورڈ کو بنانے کا مقصد فوت ہوگیا،متروکہ املاک وقف بورڈ اپنی ذ مہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگیا،

    ڈی جی ایف آئی اےعدالتی حکم پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ،چیئرمین متروکہ وقف املاک اور ڈی جی ایف آئی سے تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں .چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متروکہ وقف املاک کے افسران نے اقلیتی پراپرٹیز کو ذاتی ملکیت بنایا ہوا ہے،دوران سماعت پیٹرن ان چیف ہندو کونسل رمیش کمار کا اپنے اوپر ہوئے حملے کا تذکرہ کیا، رمیش کمار نے عدالت میں کہا کہ کراچی میں مجھ پر حملہ کیاگیا ، عدالت نوٹس لے، سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ سے رمیش کمار پر حملے کی رپورٹ طلب کرلی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ آئی جی سندھ کل تک رمیش کمار پر حملے کی رپورٹ جمع کرائیں ،آئی جی سندھ یقینی بنائیں کہ مستقبل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں کرک مندر ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی ،ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ کرک مندر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے ،حملہ کرنے والوں نے 31 لاکھ 77 ہزارروپے کی رقم ادا کردی ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا سے استفسار کیا کہ ریکور کیا گیا پیسہ کہاں جمع کرایا گیا؟ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں جواب دیا کہ ریکور کی گئی رقم خزانے میں جمع کرائی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ کرک مندر کے اطراف پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پائپ لائن بچھائی جائے، کرک مندر کے علاقے میں نکاسی آب کے لیے سیوریج سسٹم فراہم کیا جائےعلاقے میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب کا پانی کھڑا نہ ہو یقینی بنایا جائے،

    خیبر پختوںخواہ کے علاقے کرک میں مشتعل افراد نے ہندوؤں کے ایک مندر کو جلا کر مسمار کر دیا،کرک کے علاقے ٹیری میں قائم قدیم ترین ہندو مندر میں توسیعی کام جاری تھا کہ سینکڑوں مشتعل افراد وہاں پہنچے اور مندر کو آگ لگادی، جس کے بعد عمارت کے زیادہ تر حصے کو بھی مسمار کردیا گیا، مشتعل افراد کئی گھنٹوں تک مندر کے اطراف موجود رہے۔اس موقع پر مقامی پولیس بھی موجود تھی لیکن پولیس نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ,ہندو رہنما روہت کمار ایڈووکیٹ نے الزام لگایا کہ علاقہ مکینوں نے امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندر کو مسمار کیا ہے۔

     

    قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

    مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس