اسلام آباد :اہل پاکستان کی جانیں،عزتیں اور مال واسباب عزیز:امن بحال برقرار رکھنے کیلئے دو ماہ کیلئے رینجرز طلب ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں دو ماہ کے لیے رینجز طلب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سندھ کی طرح رینجرز کو کہیں بھی تعینات کرسکتی ہے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ ہم عوام کو کسی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑسکتے کالعدم تنظیم نے کلاشنکوف اور خودکار ہتھیاروں سے پولیس اہلکاروں پر براہ راست گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید اور 70 زخمی ہو گئے، فائرنگ سے زخمی 8 اہلکاروں کی حالت نازک ہے۔
شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہل پاکستان کو مطئمن رہنے کا پیغام دیا اور کہا کہ ریاست کو اس وطن میں رہنے والے ہرشہری کی جان ، عزت اور ان کے مال واسباب سب سے زیادہ عزیز ہیں ، ان سب چیزوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اب اس پرہرصورت عمل کرکے دکھائیں گے
وفاقی حکومت نے کالعدم تنظیم کی جانب سے لانگ مارچ کے بعد سیکورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 60 دن کے لیے پنجاب میں رینجرز تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی نے عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے احتجاج کرنےوالوں سےابھی بھی کہتا ہوں ہوش کےناخن لیں فرانس کےسفارتخانےکو بند نہیں کر سکتے ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں فرانسیسی سفیر پاکستان میں نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان کی ہمیشہ عزت کی اور کرتا رہوں گا عالمی صورتحال سامنے ہے مولانافضل الرحمان سنگینی سمجھیں، کوشش ہے معاملات کےحل کیلئےدروازےبندنہ ہوں ٹی ایل پی چھٹی مرتبہ آرہےہیں اورمذہب کانام استعمال کر رہے ہیں جذباتی نعروں سےگریز کریں ذمہ داری کامظاہرہ کریں ملک پراہم وقت ہےجذباتی نعروں کانقصان ہوگا۔
عسکریت پسند گروہ وہ جنہوں نے 126 دن دھرنا دیا ، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیا، ترجمان تحریک لبیک
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فواد چودھری کی پریس کانفرنس کے بعد تحریک لبیک کے ترجمان کا موقف سامنے آیا ہے،
ترجمان تحریک لبیک نے کہا ہے کہ فواد چوھدری صاحب حقائق سے نظریں نہ چرائیں ،ترجمان تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ لاشیں اٹھا کر ہم نے صبر کا مظاہرہ کیا اور ہم کر رہے ہیں ، ہم سیاسی جماعت ہیں جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے ہماری تحریک زیر زمین جدوجہد پر یقین نہیں رکھتی ،ہم اہلسنت پر امن تھے، پرامن ہیں اور پرامن رہین گے،ہمارا ون لائن ایجنڈا ناموس رسالت کا ہے . فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کا معاملہ حکومت نے پارلیمنٹ میں لے جانے کا وعدہ کیا تھا،حکومت اپنے ہر وعدے سے پھر گئی اور تشدد کا راستہ اپنایا ،جی ٹی روڈ پر کینٹنر لگا کر عوام کو تکلیف میں حکومت نے مبتلا کیا ،عسکریت پسند گروہ وہ ہے جنہوں نے 126 دن دھرنا دیا ، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیا ہم ایک مذہبی اور پنجاب کی تیسری بڑی سیاسی قوت ہیں
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں غیر قانونی کارروائیاں برداشت نہیں کریں گے،کوئی ریاست کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرے،یہ لوگ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر سڑکوں پر آجاتے ہیںریاست نے ان کیخلاف بہت صبر کا مظاہرہ کیا،ریاست کے صبر کی بھی حد ہوتی ہے،گزشتہ 2 روز کے د وران تین پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں، کوئی بھی ریاست کوکمزورسمجھنے کی غلطی نہ کریں ،کالعدم ٹی ایل پی ایک مذہبی جماعت نہیں عسکریت پسند گروپ ہے، پاکستان نے القاعدہ جیسی تنظیموں کو شکست دی ہے ،کالعدم ٹی ایل پی مذہبی نہیں عسکریت پسند گروپ ہے
حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت نے پشاور جی ٹی روڈ بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا، مظاہرین کو جہلم سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا ، جہلم پل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے
حکومت نے تحریک لبیک کے مارچ کو ایک بار پھر روکا تھا ،سادھوکی کے قریب پولیس کی شلینگ سے کئی کارکنان زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ایددھی کے رضا کا ر طبی امداد دے رہے ہیں ، مبینہ اطلاعات کے مطابق سادھوکی میں مزید 4 کارکنان کی موت ہو گئی ہے، جن کارکنان کی موت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا تعلق گجرات سے ہے
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
راولپنڈی:خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں دہشتگردوں نے پاک افغان بارڈر عبور کرنے کی کوشش کی اس دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پاک فوج کے دو جوان شہید ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخلے کی کوشش ہوئی، بارڈر پار کرنے کی یہ کوشش 26 اور 27 فروری کی درمیانی رات کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر رد عمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کی پاکستان میں گھسنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، فائرنگ کے باعث دو جوان شہید ہو گئے، شہید ہونے والوں میں لانس نائیک اسد اور سپاہی آصف شہید شامل ہیں۔ لانس نائیک اسد کا تعلق ضلع کرم اور سپاہی آصف کا تعلق ضلع لکی مروت سے ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اپنے سرحدوں کی دفاع کےلیے پرعزم ہے۔ دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ یقینی بنایاجائےگا، ہمارے جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے عبوری افغان حکومت سے پاکستان مخالف سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مارچ ایک بار پھر رک گیا، کامونکی تھانے کو تالے لگ گئے،شرکاء کی تعداد کتنی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کامونکی میں تحریک لبیک نے پڑاؤ کا اعلان کر دیا
تحریک لبیک کا مارچ آج کی رات کامونکی میں گزارے گا، جعمرات کی صبح نماز فجر اور ناشتے کے بعد دعا ہو گی اور قافلے کا رخ پھر اسلام آباد کی جانب ہو گا، مرید کے سے کامونکی تک تقریبا 10 کلو میٹر کا فاصلہ ایک دن میں کارواں نے طے کیا، اس دوران سادھوکی کے قریب پولیس نے چاروں طرف سے گھیر کو مارچ کے شرکاء پر شیلنگ کی، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ سیدھی گولیاں برسائی گئین، ہیلی کاپٹر سے بھی شیلنگ کی گئی، سادھوکی میں تحریک لبیک کے چار کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کے اعدادوشمار نہیں جاری کئے گئے،
باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کے مطابق کامونکی سے گوجرانوالہ تک کا راستہ بالکل کلیئر ہے ،کہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تا ہم لبیک کی شوریٰ نے اعلان کیا ہے کہ اب مارچ کا پڑاؤ کامونکی میں ہی ہو گا کامونکی میں تحریک لبیک کے مارچ کے شرکاء کی تعداد آزاد ذرائع کے مطابق پچیس سے 30 ہزار ہو چکی ہے، چار روز مریدکے میں پڑاؤ کے عرصے کے دوران مختلف شہروں سے کارکنان ما رچ میں شامل ہوئے، جس کی وجہ سے مارچ کے شرکاء میں اضافہ ہوا
دوسری جانب مارچ کے کامونکی پہنچنے پر کامونکی تھانہ صدر کی پولیس تھانے کا تالہ لگا کرغائب ہو گئی ہے، جی ٹی روڈ پر ہی تھانہ صدر کی بلڈنگ ہے، تھانے کو اسوقت تالہ لگا ہوا ہے اور ایک بھی اہلکار تھانے میں موجود نہیں ہے
قبل ازیں حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت نے پشاور جی ٹی روڈ بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا، مظاہرین کو جہلم سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا ، جہلم پل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے
کامونکی میں مارچ کا بھر پور استقبال کیا گیا، کامونکی پہنچنے پر تحریک لبیک پاکستان رکن مرکزی شوری پیر سرور سیفی نے کامونکی پر شرکاء مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چار لوگوں کو سادھوکی میں شہید، سینکڑوں کو زخمی، درجنوں کو اپاہج کیا گیا، میں کہنا چاہتا ہون کہ پاکستان کی عوام اب سڑکوں پر آ جائے، ظلم کی انتہا ہو چکی ہے، سب لوگ اٹھیں اس کارواں میں شامل ہو جائیں،یہ حرمت رسول، ناموس رسالت کا کارواں ہے، ہم اسلام آباد جائیں گے یہ قافلہ رکے گا نہیں، شیلنگ، ظلم و تشدد ،کوئی بھی چیز ہمارا قافلہ نہیں روک سکتی، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں، ہمیں آقا کریم کے نگاہ کرم کی ضرورت ہے، کچھ بھی برداشت کر لیں گے لیکن ختم نبوت یا ناموس رسالت پر حملہ ہو کبھی برداشت نہیں کریں گے، حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ کتنے لوگوں کو مارو گے، ہماری گردنیں حاضر ہیں.پیر سرور سیفی کا کہنا تھا حکومت نے سفیر نکالنے کی بجائے ہمارے لوگوں کو شہید کیا،
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
بہت ظلم ہو چکا، اب قوم سڑکوں پر آ جائے، لبیک شوریٰ کی اپیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا کا مارچ کامونکی پہنچ گیا ہے
کامونکی میں مارچ کا بھر پور استقبال کیا گیا، کامونکی پہنچنے پر تحریک لبیک پاکستان رکن مرکزی شوری پیر سرور سیفی نے کامونکی پر شرکاء مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چار لوگوں کو سادھوکی میں شہید، سینکڑوں کو زخمی، درجنوں کو اپاہج کیا گیا، میں کہنا چاہتا ہون کہ پاکستان کی عوام اب سڑکوں پر آ جائے، ظلم کی انتہا ہو چکی ہے، سب لوگ اٹھیں اس کارواں میں شامل ہو جائیں،یہ حرمت رسول، ناموس رسالت کا کارواں ہے، ہم اسلام آباد جائیں گے یہ قافلہ رکے گا نہیں، شیلنگ، ظلم و تشدد ،کوئی بھی چیز ہمارا قافلہ نہیں روک سکتی، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں، ہمیں آقا کریم کے نگاہ کرم کی ضرورت ہے، کچھ بھی برداشت کر لیں گے لیکن ختم نبوت یا ناموس رسالت پر حملہ ہو کبھی برداشت نہیں کریں گے، حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ کتنے لوگوں کو مارو گے، ہماری گردنیں حاضر ہیں.پیر سرور سیفی کا کہنا تھا حکومت نے سفیر نکالنے کی بجائے ہمارے لوگوں کو شہید کیا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا لانگ مارچ ایک بار پھر روانہ ہو چکا ہے، پولیس کی جانب سے زبردست شیکنگ اور رکاوٹوں کے بعد سادھوکی سے کارکنان نے رکاوٹیں ہٹا لی ہیں کنٹینرز ہٹا کر راستہ کلیئر کرلیا گیا اسکے بعد پیدل مارچ کامونکی میں داخل ہو گیا ہے جبکہ گاڑیوں کے لئے مزید راستے کلیئر کروائے جارہے ہیں
حکومت نے تحریک لبیک کے مارچ کو ایک بار پھر روکا تھا ،سادھوکی کے قریب پولیس کی شلینگ سے کئی کارکنان زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ایددھی کے رضا کا ر طبی امداد دے رہے ہیں ، مبینہ اطلاعات کے مطابق سادھوکی میں مزید 4 کارکنان کی موت ہو گئی ہے، جن کارکنان کی موت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا تعلق گجرات سے ہے
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب صدر پاکستان محمد عارف علوی صاحب اور وزیر اعظم عمران خان صاحب کے نام سجادہ نشین و جانشین حضرت امیر ملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی صاحب نے پیغام جاری کیا ہے-
باغی ٹی وی : پیر سید منور حسین شاہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران کان سے مخاب ہوتے ہوئے کہا کہ جناب والا! کوئی بھی حکومت ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی کیونکہ مظلوم کی آہ سیدھی عرش الٰہی تک پہنچتی ہے کیونکہ پچھلے دو تین دنوں سے جو ظلم و ستم غریب ، مظلوم اور بے کس لوگوں پر ہو رہا ہے اور ان کا کوئی پُر سنا حال نہیں ہے-
انہوں نے کہا کہ خان صاحب اگر نظر بغور دیکھیں گے تو آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں نہ تو آپ کی حکومت سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت یا تنظیم سے کوئی سروکار ہے آپ ان والدین کو ہی دیکھ لیں جو 1 سے 5 سال تک کے بچوں کو ہمراہ لے کر ناموس رسالت کی خاطر اپنے آقا نبی کریم ﷺ کے نام پر دیوانہ وار نکلے ہوئے ہیں اور وہ اپنے نبی ﷺ کے عاشق اور دیوانے ہیں انہیں بچپن سے محبت اور عشق رسول والا سبق ملا اور عشق رسالت مآب ﷺ ان کی گُٹھی میں ہے اُن کو اپنے آقا ﷺ کے نام پر جب بھی کوئی آواز دے گا تو وہ اپنے آقا کریم ﷺ کے نام پر میدان عمل میں ہوں گے-
پیر سید منور حسین شاہ نے ویڈیو میں جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم پاک فوج کو اپنی ماں کا درجہ دیتی ہے اور ماں وہ ہستی ہے جو خود تو دُکھ درد اور تکلیف برداشت کر لیتی ہے مگر اولاد کو ہر طرف سے ہر طرح سے حفاظت کرتی ہے پاک فوج کے ہوتے ہوئے اس لاچار ، بے بس ، بے سہارا اور مظلوم قوم پر ظلم کی انتہا ہو گئی یہ قوم اپنا دُکھ درد اور تکلیف کس کو جا کر بتائے اور انصاف کہاں جا کر تلاش کرے کیونکہ اس ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز تو نہیں ہے –
پیر سید منور حسین شاہ نے کہا کہ اس صرتحال میں آپ خدارا خود چارہ ساز بن کر ان کا مداوا کرین اگر یہ ظلم اسی طرح جاری رہا تو ممکن ہے حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں اور دُشمن کا یہی ایجنڈا ہے اور ففتھ جنریشن وار کا یہی مقصد ہے یہ ملک لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے اور یہ ہمارے اجداد کی میراث ہے اور یہ ملک ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے اس لئے ہم نہیں چاہتے کہ خدانخواستہ اس ملک کو کوئی نقصان پہنچے اور دشمن کامیاب ہو ملک میں انارکی یہ شدت پسندی پھیلے جو کہ دُشمن کا ایجنڈا ہے اس وجہ سے آپ خود درمیان میں آکر مذاکرات سے معاملات حل کروائیں تا کہ ملک میں امن و امان قائم ہو سکے وطن عزیز پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہو یا نہتے عوام دونوں جانب سے ہونے والی شہادتوں پر ہمارے دل چھلنی، دُکھی اور رنجیدہ ہیں لہذا آپ اس مسئلے کو فوراً حل کروائیں کیونکہ پاکستانی قوم کا اپنی فوج پر لازوال اعتماد ہے جسے کسی صورت ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیئے –
بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کا یوم سیاہ،وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج کا دن بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو دبانا چاہتا ہے 7 دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر کے باوجود کشمری عوام کا عزم و جذبہ مضبوط ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ،پاکستان کشمیری عوام کے حق خودا رادیت کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے ،عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے،عالمی برادری کشمیری عوام کو حق دلانے میں کردار ادا کرے ،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے غیرقانونی قبضہ کا مطلب محکوم کشمیریوں کو آزادانہ اپنی خواہشات کے مطابق تسلیم مستقبل کے تعین سے روکا جانا ہے لیکن سات دہائیوں کے بھارتی قابض افواج کی جبر کی حکمرانی کے باوجود کشمیری مضبوط ہیں، ہم کشمیری مرد، خواتین اور بچوں کو ان کے عزم اور حوصلے پر سلام پیش کرتے ہیں، کشمیری دنیا بھر کے آزادی پسندوں کیلئے ایک مثال ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر طویل حل طلب جموں و کشمیر کا تنازعہ جنوری 1948ء سے ہے، یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کا اعادہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی قراردادیں کرتی ہیں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو قبول کرتے ہوئے اور سلامتی کونسل، پاکستان اور دیگر ممالک سے بھارتی حکومت کی جانب سے اس تنازعہ کے حل کے وعدوں کے بعد 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کے خلاف یکطرفہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت عالمی قوانین، عالمی برادری، کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام نہیں کرتا
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن حل ہی خطے میں امن کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے، بھارتی دعووں کے برعکس جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جو سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے،پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عملی اقدامات کرے، پوری پاکستانی قوم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی رہے گی
وزیر مملکت فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان ہر فورم پر کشمیری عوام کی پرامن حمایت جاری رکھے گا،27 اکتوبر 1947 میں بھارتی قابض افواج کشمیر میں داخل کر دی گئیں،مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں بھارت اور مودی سرکار پر ہندوتوا اور آرایس ایس کی سوچ غالب آئی ہوئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے سچے وکیل اور دلیر سفیر ہونے کا ثبوت دیا پہلی مرتبہ مغربی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے،پاکستان کشمیری عوام کی پرامن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر1947 کشمیریوں کے لئے ایک تاریک ترین دن کی حیثیت رکھتا ہے، اس روز اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کی کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزوئوں کا گلا گھونٹتے ہوئے بھارت نے غیرقانونی طورپر جموں وکشمیر پرقبضہ کیا تھا، اس غیرقانونی اقدام کی زہرناکی اور دھوکہ دہی کی کڑوی یاد انسانیت کے ضمیر کو اب تک کچوکے لگا رہی ہے
سادھوکی، مزید 4 لاشیں لئے مارچ اسلام آباد کی جانب چل پڑا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا لانگ مارچ ایک بار پھر روانہ ہو چکا ہے، پولیس کی جانب سے زبردست شیکنگ اور رکاوٹوں کے بعد سادھوکی سے کارکنان نے رکاوٹیں ہٹا لی ہیں کنٹینرز ہٹا کر راستہ کلیئر کرلیا گیا اسکے بعد پیدل مارچ کامونکی میں داخل ہو گیا ہے جبکہ گاڑیوں کے لئے مزید راستے کلیئر کروائے جارہے ہیں
حکومت نے تحریک لبیک کے مارچ کو ایک بار پھر روک لیا ہے،سادھوکی کے قریب پولیس کی شلینگ سے کئی کارکنان زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ایددھی کے رضا کا ر طبی امداد دے رہے ہیں ، مبینہ اطلاعات کے مطابق سادھوکی میں مزید 4 کارکنان کی موت ہو گئی ہے، جن کارکنان کی موت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا تعلق گجرات سے ہے
سادھوکی کے قریب تحریک لبیک مارچ کے شرکاء پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی ،پولیس نے کریک ڈاؤں شروع کر دیا ہے، مرید کے کی جانب سے لاہور کی جانب سے جانیوالی پولیس پہنچ گئی ہے اور مارچ کے شرکا کو گھیر لیا ہے، سادھوکی کے قریب ایک پل کو بھی حکومت نے توڑ دیا ہے تا کہ شرکا آگے نہ جا سکیں،پولیس کی کوشش ہے کہ مارچ کے شرکاء کو آگے نہ جانے دیا جائے، باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کے مطابق تحریک لیک کے مارچ کے شرکا کو اس وقت پولیس نے گھیر لیا ہے
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے ،وفاقی کابینہ اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک کے مارچ بارے خصوصی مشاورت کی جا رہی ہے، کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کابینہ کو تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کے حوالہ سے بریفنگ دی،کابینہ اجلاس میں تحریک لبیک سے پابندی ختم کرنے کے حوالہ سے بھی بات چیت کی جائے گی اور کوئی اہم فیصلہ کیا جائے گا، کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری میڈیا کو بریفنگ دیں گے، شیخ رشید احمد کی جانب سے بھی بریفنگ متوقع ہے ،
دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا ناموسِ رسالت کے حوالے سے جاری لانگ مارچ مریدکے سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو گیا ہے ،مرید کے سے روانگی سے قبل دعا کروائی گئی،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سمیت حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ کئے گئے مذاکرات کی ناکامی کے بعد تحریک لبیک کا مارچ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا ہے، مارچ کے شرکاء جمعہ کو لاہور سے نکلے تھے تا ہم مرید کے پہنچنے پر حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دو روز تک مرید کے میں قیام کریں ہم مطالبات مان لیں گے، مارچ کے شرکاء دو روز تک مرید کے میں رہے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے رہے، گزشتہ شب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم تحریک لبیک کے فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے علاوہ سب مطالبے مان لیں گے تا ہم ابھی تک حافظ سعد رضوی کی رہائی نہیں ہو سکی، نہ ہی مقدمات ختم کئے گئے
تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہونے کی وجہ سے تحریک لبیک کی مجلس شوری نےمارچ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مارچ اب مرید کے سے چل پڑا ہے،
مارچ میں گاڑیاں اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے،نمائندہ باغی ٹی وی فائز چغتائی کے مطابق مارچ کے شرکاء نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، مارچ کا اگلا پڑاو کامونکی یا گوجرانوالہ ہو سکتا ہے، دوسری جانب حکومت نے جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں،راولپنڈی کی رابطہ سڑکیں سیل کر دی گئی ہیں، صدر،لیاقت باغ،شمس آباد،کالج روڈ اور فیض آباد سیل کر دیا گیا ہے
تحریک لبیک کی شوری کی طرف سے پوری قوم کو اہم پیغام دیا گیا ہے کہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ حکومت دوبارہ آپریشن کی تیاری میں ہیں لبیک والوں پر گولیاں برسانا چاہتے ہیں مزید خون بہانا چاہتے ہیں، قوم ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مارچ میں شریک ہو،حکومت نے لانگ مارچ کو شہری آبادی سے باہر روکنے کیلئے سادھوکی میں ہزاروں سیکورٹی اہلکار تعینات کر دیئے ہیں، سادھوکی کے قریب مارچ کو روکا جا سکتا ہے
کالعدم ٹی ایل پی کے ممکنہ مارچ و فیض آباد دھرنا کی سیکورٹی کا معاملہ ،پنجاب کے چار اضلاع کے ڈی پی اوز کی خدمات آر پی او راولپنڈی کے سپرد کر دی گئیں ڈی پی اوز کو اضافی نفری کے ساتھ آج سے آر پی او راولپنڈی کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،اور کہا گیا ہے ڈی پی اوز،ایس ایس پیز اپنے ہمراہ دو دوایس ڈی پی اوز،چارچارایس ایچ اوز سمیت اضافی نفری لائیں گے ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ مجیب الرحمان بگھوی کو دو ڈی ایس پیز اور چار ایس ایچ اوز کے ساتھ آج راولپنڈی پہنچیں گے ڈی پی او میانوالی مستنصر فیروز،ڈی پی او خوشاب محمدنوید،اے آئی جی شکایات اسد سرفراز بھی آج راولپنڈی پہنچیں گے یس پی ڈاکڑ فہد بٹالین ٹو پنجاب کانسٹیبلری روات،ایس پی سی ٹی ڈی ڈاکٹر رضوان بھی آج راولپنڈی پہنچیں گے ڈی پی او بہاولپور فیصل کامران کو بھی راولپنڈی ریجن پہنچنے کی ہدایات،لیاقت باغ کے باہر سیکورٹی ڈیوٹی سر انجام دیں گے آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی آپریشنز پنجاب نے متعلقہ افسران کو مراسلہ بجھوا دیا
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما مفتی وزیر رضوی کا کہنا تھا کہ قوم دیکھ لے کہ اس کپتان وزیراعظم کو قوم یا ملک سے کچھ لینا دینا نہیں مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ 39 نعشیں اس قوم کے افراد کی بچھا کر عمران خان میچ دیکھتے ہوئے کہتا ہے لبیک والوں سے کہو آ جائیں اسلام آباد ،فرانس کی خاطر اپنے ملک کے 39 افراد شہید کر دئیے جس میں سب کم عمر جوان تھے-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک نے کہا کہ قوم جان لے یہ بے ایمان نہ تو ملک کے وفادار ہیں نا قوم کے اور کپتان تو ملک میں افراتفری خانہ جنگی کے لئے پلانڈ ہے مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ ہم تو رک گئے تھے جہلم کے پل کس نے توڑے، کنٹینر سے ملک کس نے بند کیا مزید اگر کوئی خون بہا تو سب کی ذمہ دار عمران خان کی ظالم حکومت ہو گی-انہوں نے خبردار کیا کہ ہم پھر بتا رہے ہیں اب اگر خون بہا تو ذمہ دار حکومت ہو گی، ہم نے 3 مرتبہ پہلے یہ چوتھا معاہدہ کیا ہر مرتبہ پاسداری کی آخری مرتبہ بھی 3 دن مریدکے رکے یہ بے ایمان، بدعہد اور منافق عمران خان اور اسکے چٹو وٹوں کو قوم جان لے-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما مفتی وزیر رضوی کا کہنا ہے کہ قوم دیکھ لے کہ اس کپتان وزیراعظم کو قوم یا ملک سے کچھ لینا دینا نہیں-
باغی ٹی وی :مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ 39 نعشیں اس قوم کے افراد کی بچھا کر عمران خان میچ دیکھتے ہوئے کہتا ہے لبیک والوں سے کہو آ جائیں اسلام آباد ،فرانس کی خاطر اپنے ملک کے 39 افراد شہید کر دئیے جس میں سب کم عمر جوان تھے-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک نے کہا کہ قوم جان لے یہ بے ایمان نہ تو ملک کے وفادار ہیں نا قوم کے اور کپتان تو ملک میں افراتفری خانہ جنگی کے لئے پلانڈ ہے مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ ہم تو رک گئے تھے جہلم کے پل کس نے توڑے، کنٹینر سے ملک کس نے بند کیا مزید اگر کوئی خون بہا تو سب کی ذمہ دار عمران خان کی ظالم حکومت ہو گی-
انہوں نے خبرادرا کیا کہ ہم پھر بتا رہے ہیں اب اگر خون بہا تو ذمہ دار حکومت ہو گی، ہم نے 3 مرتبہ پہلے یہ چوتھا معاہدہ کیا ہر مرتبہ پاسداری کی آخری مرتبہ بھی 3 دن مریدکے رکے یہ بے ایمان، بدعہد اور منافق عمران خان اور اسکے چٹو وٹوں کو قوم جان لے-
قبل ازیں ید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ مرید کے سے روانہ ہوگا اور آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں –
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے-
واضح رہے کہ تحریک لبیک کا لانگ مارچ اس وقت مرید کے میں موجود ہے، حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد لانگ مارچ نے مرید کے میں ہی پڑاؤ ڈال رکھا ہے، لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے-
حریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
خیال رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے-
دوسری جانب فتی منیب الرحمٰن ،پیر پگارااورسندھ بھر کے سیکڑوں علماء و مشائخ نے کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ سابقہ تحریری معاہدوں سے پھر جانے والے نورالحق قادری اور شیخ رشید کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ مریدکے سے روانہ ہو گیا-
باغی ٹی وی : تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کا قافلہ مرید کے میں 3 روز قیام کے بعد حکومت کی جانب سے مذاکرات ناکام ہو نے پر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا یہ بھی خبریں ہیں کہ تحریک لبیک کے ساتھ مزید ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل قافلہ شامل ہو گا-
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں –
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے-
سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما مفتی وزیر رضوی کا کہنا تھا کہ قوم دیکھ لے کہ اس کپتان وزیراعظم کو قوم یا ملک سے کچھ لینا دینا نہیں مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ 39 نعشیں اس قوم کے افراد کی بچھا کر عمران خان میچ دیکھتے ہوئے کہتا ہے لبیک والوں سے کہو آ جائیں اسلام آباد ،فرانس کی خاطر اپنے ملک کے 39 افراد شہید کر دئیے جس میں سب کم عمر جوان تھے-
مرکزی شوریٰ تحریک لبیک نے کہا کہ قوم جان لے یہ بے ایمان نہ تو ملک کے وفادار ہیں نا قوم کے اور کپتان تو ملک میں افراتفری خانہ جنگی کے لئے پلانڈ ہے مفتی وزیر رضوی نے کہا کہ ہم تو رک گئے تھے جہلم کے پل کس نے توڑے، کنٹینر سے ملک کس نے بند کیا مزید اگر کوئی خون بہا تو سب کی ذمہ دار عمران خان کی ظالم حکومت ہو گی-
انہوں نے خبردار کیا کہ ہم پھر بتا رہے ہیں اب اگر خون بہا تو ذمہ دار حکومت ہو گی، ہم نے 3 مرتبہ پہلے یہ چوتھا معاہدہ کیا ہر مرتبہ پاسداری کی آخری مرتبہ بھی 3 دن مریدکے رکے یہ بے ایمان، بدعہد اور منافق عمران خان اور اسکے چٹو وٹوں کو قوم جان لے-