راولپنڈی:عسکری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہر طرح کے خطرات کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کے لئے مسلح افواج تیار ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس کی صدارت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے کی، اجلاس میں تینوں سروسز چیفس نے شرکت کی۔
خطے میں دیرپا ترقی کے لئے افغانستان میں امن کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ درپیش چیلنجز، تینوں مسلح افواج کے ورک پلان اور آپریشنل تیاریوں پر بھی گفتگوکی گئی اور عسکری قیادت نے دفاعی افواج کی تیاریوں پر مکمل اطمینان اور اعتماد کا اظہارکیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے دوران ہر طرح کے خطرات کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کے لئے مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ندیم رضا نے پاکستان کو درپیش ہر طرح کے دفاعی و سلامتی چیلنجز سے نمٹںے کے لئے مسلح افواج کے مربوط اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز قومی امنگوں کے مطابق کام کررہا ہے۔
اسلام آباد:وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا: مسلح افواج کے سربراہان بھی اجلاس میں شریک ہوں گے ،اطلاعات کے مطابق کالعدم جماعت کے احتجاج کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کل ہنگامی طور پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ کالعدم جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے کل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اس اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق دیگر امور بھی زیر غور آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو 12 بجے ہو گا۔ مسلح افواج کے سربراہان اجلاس میں شریک ہوں گے، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی بھی شریک ہوں گے، وفاقی وزراء بھی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر نور الحق اجلاس کو بریفنگ دیں گے، وزیر داخلہ موجودہ صورتحال پر قومی سلامتی کمیٹی کو اعتماد میں لیں گے، احتاجی مظاہرین سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا، ‘
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کالعدم تنظیم کی غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دی جائے گی، کالعدم تنظیم کے احتجاج سے متعلق کابینہ کےفیصلوں پر بریفنگ دی جائے گی، قومی سلامتی سےمتعلق دیگراموربھی غورکیا جائے گا۔
جو بھی اسٹرکچر ہے، ہم ڈیٹونیٹر سے گرانے کا حکم دیں گے ،چیف جسٹس
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجوری ہائٹس کی اراضی منتقلی کیس کی سماعت ہوئی
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ طے ہوچکا کہ تجوری ہائٹس غیرقانونی ہے،سرکاری محکموں میں ٹائٹل تبدیل ہوا ہوگا مگرقانون کے تحت نہیں، اراضی ریلوےکی ہے یا نہیں،یہ ابھی طے نہیں کررہے، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ کا کیس ری رجسٹریشن کا ہے ہی نہیں ، آپ جواب دیں ، وکیل تجوری ہائٹس نے کہا کہ ایک جگہ ٹائپو ایرر کی وجہ سے 190 لکھا گیا ، چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹائپو ایرر نہیں ہے ہر جگہ 190 لکھا ہے یہ بات نہ کریں ،جسٹس اعجااز الاحسن نے کہا کہ دستاویزات سے ملکیت ثابت نہیں کرسکے ، اراضی ایک سروے نمبر سے دوسرے سروے نمبر میں کیسے منتقل ہوئی ، سرکاری محکموں میں ٹائٹل تبدیل ہوا ہوگا مگر قانون کے تحت نہیں ، سرکاری محکموں پر دعویٰ کریں وہ آپ کی مرضی ہے ۔ سروے نمبر 190 سے اراضی سروے نمبر 188 میں غیر قانونی طور پر منتقل ہوئی ، اراضی منتقلی کا جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ جرم ہے ۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فائنڈنگ دے دیں گے یہ بلڈنگ بھی فارغ ہوگی ،سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویزات میں رد و بدل کیا گیا ہے ،یہ زمین آپ کی نہیں کسی کی بھی ہو ، سپریم کورٹ نے عمارت گرانے سے متعلق وکیل سے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کل تک کلائنٹ سے پوچھ کر بتائیں خود گرائیں گے یا ہم حکم دیں ؟ یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اگر نہیں رکا تو کبھی نہیں رکے گا آپ پیسے دے کر ریونیو سے کچھ بھی کراسکتے ہیں ، جو بھی اسٹرکچر ہے، ہم ڈیٹونیٹر سے گرانے کا حکم دیں گے ،
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پاور آف اٹارنی سے ہٹ کر کوئی ترمیم کا اختیار نہیں تھا ،آپ کو ملکیت منتقل ہی نہیں ہوئی آپ ایک پراپرٹی کی جگہ دوسری پراپرٹی کا ایڈریس کیسے لکھ سکتے ہیں ؟یہ بات ثابت ہے آپ کے پاس صرف 190 کی سیل ڈیڈ تھی
سعد رضوی کی رہائی سے متعلق دائر درخواست پر ہوئی سماعت
لاہور ہائیکورٹ میں کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور درخواست گزار کے وکلاء نے دلائل کے لیے مہلت طلب کرلی ،عدالت نے مہلت کی درخواست منظور کر لی،عدالت نے کیس کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی ،
سعد رضوی کی رہائی کے ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا جسے حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ، سپریم کورٹ نے کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی رہائی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سپریم کورٹ نے کیس واپس ہائیکورٹ کو دوبارہ سماعت کے لیے بھجوا دیا تھا
نو اکتوبر کو سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں فیڈرل ریویو بورڈ کا اجلاس ہوا فیڈرل ریویو بورڈ نے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا ،دوسری طرف اس رہائی میں تاخیرپھرتحریک لبیک کو اپنے پرانے رویے کی طرف مجبورکررہی ہے- وفاقی نظرثانی بورڈ نے حافظ سعد رضوی کی دوسری نظربندی میں توسیع کا ریفرنس مسترد کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ فیڈرل ریویو بورڈ نے حکم دیا کہ سعد رضوی اگر کسی دوسرے کیس میں ملوث نہیں تو رہا کیا جائے
@MumtaazAwan
تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
شہباز گل کے وارنٹ گرفتاری جاری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے خلاف نجی کمپنی کی جانب سے دائر استغاثہ پر سماعت ہوئی ،
عدالت نے عدم پیشی پر شہباز گل کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں، ایڈیشنل سیشن جج حسنین اظہر شاہ نے نجی کمپنی کی جانب سے دائر استغاثہ پر سماعت کی عدالت نے شہباز گل کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں یکم نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا عدالت کی جانب سے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ۔شہباز گل نے نجی ٹی وی پروگرام میں ایک نجی کمپنی پر جھوٹے اور بے بیناد الزامات عائد کئے تھے سیشن کورٹ لاہور نے حکم دیا کہ شہبازگل 30 ہزارروپےکے ضمانتی مچلکے جمع کرائیں۔
شہباز گل کیخلاف درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کمپنی پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جس سے کمپنی کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔درخواست گزارنے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ درخواستگزار کمپنی البیراک گروپ آف کمپنیز کا حصہ ہے،البیراک کمپنی پاکستان، صومالیہ اور دیگر ممالک میں کنسٹرکشن، ویسٹ مینجمنٹ اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار کر رہی ہے،البیراک گروپ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 18 میٹر لمبی میٹرو بس متعارف کروائی. میٹرو بس عام بسوں کے مقابلے میں بہترین بس ہے.ڈاکٹر شہباز گل نے اے آر وائی لے پروگرام اعتراض ہے میں 26 ستمبر 2020ء کو درخواستگزار کمپنی کیخلاف بیان بازی کی، ڈاکٹر شہباز گل نے ذاتی حیثیت میں پلیٹ فارم کمپنی پر بے بنیاد الزامات لگائے، 6 برس قبل میٹرو بس پراجیکٹ پر 3 اعشاریہ 68 ڈالر فی کلومیٹر کے حساب سے ٹھیکہ لینے کا الزام لگایا گیا، شہباز گل نے 1 اعشاریہ 85 ڈالر فی کلو میٹر کے حساب سے سلمان شہباز کو دینے کا بھی الزام عائد کیا،شہباز گل نے لاہور میٹرو بس کے ٹھیکے سے آدھی رقم مسلسل سلمان شہباز کو دینے کا الزام لگایا ہے،درخواستگزار کمپنی کے کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات جھوٹ اور بے بنیاد ہیں،شہباز گل نے درخواستگزار کمپنی پر ثبوتوں کے بغیر کرپشن کا الزام لگایا، شہباز گل کے ٹی وی چینل پروگرام میں الزامات لگانے سے کمپنی کی ساکھ متاثر ہوئی، شہباز گل نے کمپنی کیخلاف سوشل میڈیا مہم بھی چلا رکھی ہے، شہباز گل کے میڈیا اور سوشل میڈیا بیانات کے سبب کمپنی کو ملین ڈالرز کا نقصان ہوا، شہباز گل کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت ہتک عزت کی کارروائی کی جائے،درخواستگزار کمپنی پر بے بنیاد الزامات لگانے پر شہباز گل کو بھاری جرمانہ اور سزا سنائی جائے،
ریاست اپنی ذمہ داری ہر صورت نبھائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا
صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت،معاون خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور،چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ نے اجلاس میں شرکت کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت اجلاس، امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا
اجلاس میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے کئے گئے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا ،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبے میں امن عامہ کے قیام کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے کی ہدایت کر دی، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے عوام کو جو تکلیف اٹھانا پڑی، ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں۔ معمولات زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ریاست اپنی یہ ذمہ داری ہر صورت نبھائے گی۔
قبل ازیں محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے کے 8 اضلاع میں رینجرز کو تعینات کر دیا ہے۔پنجاب کے 8 اضلاع میں رینجرز کے دستے 60 روز کے لیے تعینات کیے گئے ہیں محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی، جہلم، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، لاہور، چکوال، گجرات اور فیصل آباد میں دستے تعینات رہیں گے۔پاکستان رینجرزکی پنجاب میں تعیناتی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے رولز آف انگیجمنٹ طے کر لیے ہیں، محکمہ داخلہ پنجاب رینجرزکی پنجاب میں تعیناتی کا مکمل ذمہ دار ہو گا۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پنجاب میں رینجرز بلانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی پی ایل عسکریت پسند ہو چکی ہے، پنجاب حکوت جہاں چاہیے رینجرز کو استعمال کر سکتی ہے
دوسری جانب راولپنڈی میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانےوالی مرکزی شاہراہیں سیل کر دی گئیں، جس کے بعد متبادل راستوں پر شدید ٹریفک جام ہو گیا ہے۔ رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، راولپنڈی میں صدر سے فیض آباد تک میٹرو سروس معطل ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایکسپریس وے ٹریفک کیلئے کھلی ہے، راولپنڈی بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے، چکلالہ سکیم 3 اور باقی علاقوں سے اسلام آباد آنے کیلئے کوئ رکاوٹ نہیں ہے صرف فیض آباد انٹرچینج بند ہے آئی ایٹ سیکٹر اور انڈسٹریل ایریا جانے کیلئے آئ ایٹ انٹرچینج استعمال کریں
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکیشن، مولانا فضل الرحمان نے بڑا اعلان کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے امیر اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا ہے. صوبہ پختونخواہ میں پی ڈی ایم سے وابستہ سیاسی جماعتوں سے بھی میری مشاورت ہوٸی ہے. اور ہم الیکشن کمیشن کے اِس اقدام پر اپنا رد عمل دینا چاہتے ہیں. ہمارا دوٹوک، واضح اور غیر مبہم موقف چلا آرہا ہے. کہ ہم 2018 کے نتاٸج کو تسليم نہیں کرتے. اور اِن نتاٸج کی بنیاد پر جو حکومتيں قاٸم کی گٸی ہیں وہ ناجائز اور جعلی ہیں. جو حکومت خود دھاندلی کی پیداوار ہو اُس کی نگرانی میں بلدیاتی الیکشن کیسے قبول کٸے جاسکتے ہیں.
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہر چند کہ الیکشن کمیشن یہ کہے کہ ہماری نگرانی میں ہے. لیکن ارباب اقتدار ہر صورت میں موثر ہوتے ہیں. اور وہ اپنے زیر اثر انتظامیہ کو الیکشن میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں. اور سرکاری وساٸل کو استعمال کرسکتے ہیں. پھر الیکشن کمیشن نے خود یہ کہا ہے کہ ہم ووٹر ویریفیکیشن کا ایک سلسلہ شروع کررہے ہیں. اِس کا معنی یہ ہے کہ الیکشن کمیشن خود یہ اعتراف کررہا ہے کہ ووٹر لسٹ مشکوک ہے. اس لیے اسے ویریفیکیشن کی ضرورت پڑ رہی ہے. تو اس طرح مشکوک انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر الیکشن کرانے کا کیا معنی؟ ایسی صورتحال میں عجیب ملغوبہ یہ ہے. کہ ویلج کونسل وہ غیر جماعتی ہونگے اور تحصیل الیکشن وہ جماعتی بنیاد پر ہونگے. ایک ہی بلدیاتی نظام ہے. اس بلدیاتی نظام کے تحت ایک سطح وہ غیر جماعتی ہے اور دوسری سطح جو ہے وہ جماعتی بنیادوں پر ہے. اور پھر یہ بھی کہ جو لوگ کامیاب ہوجاٸینگے. اُن کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں 24 گھنٹے اندر یا 48 گھنٹے کے اندر اندر شامل ہوسکتے ہیں.
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ جو بلدیاتی نظام جس کا کام صرف محلے کی خدمت ہے. اور اس محلے میں اس کو فنڈز کٸے. حکومت پی ٹی آٸی کی ہوگی تو اس کا معنی یہ ہے کہ تمام ممبران کو اس مجبوری کے تحت وہ پی ٹی آٸی میں شامل کرینگے. اور پھر کہین گے کہ ہم سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے ہیں. تو اس لحاظ سے ہم اس بلدیاتی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے. اس سلسلے میں ہم اپنے ماہرین قانون سے بھی مشورہ کررہے ہیں. تاکہ الیکشن کمیشن کی طرف رجوع کیا جاسکے. اور براہ راست ان کے سامنے اپنے تحفظات پیش کیے جاسکے. تاکہ اس سے اگے پھر ہم مذید قانونی کارواٸی کرنے کے پوزیشن میں رہے.تو اس لحاظ سے ہم اپنے آٸینی اور قانونی سے بھی مشورہ کریں گے. ان کے مشورے سے پھر مذید اگے بڑھنا ہے.
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کا باٸیکاٹ وہ ہمارے زیر غور ہے. ہم بالاخر باٸیکاٹ کریں گے. اگر کوٸی اور راستہ نہ ہوا تو. پہلے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انتخابات منسوخ کیے جاٸے. ہم قانونی راستے سے بھی ان کے سامنے اپنے تحفظات رکھنے کو تیار ہیں. لیکن بالفرض وہ ہم پر ایمپوز کرنا چاہتے ہیں اور ایک جعلی حکومت کے چھتری کے نیچے، تو پھر شاٸد یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں.پورا ملک غرقاب ہوگیا ہے. اور ملکی معشیت زمین پر بیٹھ گٸی ہے. اور یہ لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان کو اسلام اباد کی طرف مت انے دو. اسلام اباد تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے. یہاں ناجائز طور پر تم حکمران بیٹھے رہوگے اور کوٸی پاکستانی شہری یہاں اکے احتجاج نہیں کرسکتا. اس وقت پی ڈی ایم جو ہے وہ پورے ملک میں عوام کی شراکت کے ساتھ سڑکوں پر ہے. مہنگائی کے خلاف احتجاج پورے ملک میں ہورہا ہے. اور روزمرہ کے حساب سے اپ دیکھ رہے ہیں کہ ملک کہ دور دراز علاقوں میں روزانہ کے حساب سے مظاہرے ہورہے ہیں. اور تسلسل کے ساتھ ہورہے ہیں. اور یہ عوام کا حق ہے. کیوں کہ ملک میں رہنا ہے تو دو چیزیں ان کو دینی ہوگی ایک امن ایک روزگار.
عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق ”ایسز میٹ 2-2021“ کا جائزہ
"ڈسٹنگوشڈ وزیٹرز ڈے” کی مناسبت سے تینوں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والی عسکری قیادت نے پاک فضائیہ کے آپریشنل ائیر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری فضائی مشق ”ایسز میٹ 2-2021” کا جائزہ لیا۔ معزز مہمانان گرامی میں ائیر وائس مارشل امتیاز ستار (کمانڈر ایئر فورس اسٹریٹجک کمانڈ)، میجر جنرل آصف محمود گورایا(جی او سی 3 ائیر ڈیفنس ڈویژن)، ائیر وائس مارشل شاہد منصور جہانگیری (ڈائیریکٹر جنرل جوائنٹ آپریشنز)، ائیر وائس مارشل کاشف قمر(ڈائیریکٹر جنرل لاجسٹکس)، ائیر وائس مارشل اکرام نور (مشیر برائے ایڈمنسٹریشن سربراہ پاک فضائیہ)، ائیر وائس مارشل عاصم رشید ملک (ڈائیریکٹر جنرل ایرو انجنیئرنگ) اور ریئر ایڈمرل نعیم سرور (ڈائیریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پاک بحریہ) شامل تھے۔ پاک فضائیہ اور ترک فضائیہ 15 اکتوبر، 2021 سے شروع ہونے والی دوہفتوں پر محیط ان فضائی مشقوں میں سرگرمی سے حصہ لے رہی ہیں جبکہ برطانیہ اور ازبکستان کی فضائیہ کو بطور مبصر مشقوں میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
معززین نے مشقوں میں حصہ لینے والی فضائی افواج کی آپریشنل تیاری اور مشقوں کے انعقاد کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مشق شرکاء کے مابین دوستی اور تعاون کو مزید فروغ دے گی۔ مشقوں میں شریک فضائی افواج کے عسکری مہمان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملتان: پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس تربیت یافتہ فوج ہی ملک کا دفاع کر سکتی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوبی کمانڈ ہیڈ کوارٹرز ملتان کا دورہ کیا۔ جنوبی کمانڈ ہیڈکوارٹرز آمد پر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد چراغ حیدر نے خیرمقدم کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو فارمیشن کے آپریشنل، تربیتی اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فیلڈ فارمیشن کی تربیتی مشقوں کا مشادہ کیا اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کی تعریف کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار نے کوٹ عبدالحکیم میں سٹرائیک کور کی انٹیگریٹڈ ٹریننگ کا بھی مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نےکہا کہ مشقیں جوانوں کے اعتماد میں اضافےکا ذریعہ ہیں، چیلنجز کے باوجود ہماری توجہ پاک فوج کی روایتی صلاحیتوں کو بڑھانے پر ہے۔ پاک فوج ملک کو درپیش کسی بھی چلینج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس تربیت یافتہ فوج ہی ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کر سکتی ہے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس، سرویلنس اور ریکانیسنس، ایئر ڈیفنس، سائبر اور میکانائزیشن پر توجہ مرکوز ہے۔ تمام تر چیلنجز کے باوجود ہماری توجہ روایتی صلاحیتوں پر مرکوز ہے۔
فرانس کا سفیر پاکستان میں نہیں، شیخ رشید نے تحریک لبیک کا بڑا مطالبہ پورا کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں غیر قانونی کارروائیاں برداشت نہیں کریں گے،کوئی ریاست کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرے،یہ لوگ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر سڑکوں پر آجاتے ہیںریاست نے ان کیخلاف بہت صبر کا مظاہرہ کیا،ریاست کے صبر کی بھی حد ہوتی ہے،گزشتہ 2 روز کے د وران تین پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں، کوئی بھی ریاست کوکمزورسمجھنے کی غلطی نہ کریں ،کالعدم ٹی ایل پی ایک مذہبی جماعت نہیں عسکریت پسند گروپ ہے، پاکستان نے القاعدہ جیسی تنظیموں کو شکست دی ہے ،
فواد چوھدری کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم بلیک میل کرنےکی جسارت نہ کرے،6 بارتماشال گ چکا ہے،ریاست نے صبرکا مظاہرہ کیا،ہم نہیں چاہتے کہ لوگوں کا ناحق خون بہے،کالعدم تنظیم کیساتھ سیاسی جماعت جیسا برتاؤ نہیں کریں گے،کسی میں جرات نہیں کہ ریاستی رٹ کوچیلنج کرے،سوشل میڈیا پرغلط افواہیں پھیلانے والے ہوش کے ناخن لیں،
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی قیادت سے کافی مذاکرات کیے، چاہتے ہیں کہ ملک میں امن ہو، پاکستان پر کافی دباو ہے، کالعدم ٹی ایل پی عسکریت پسند ہوچکی ہے،کالعدم ٹی ایل پی والوں سے 6 مرتبہ رابطے کیے،سادھوکی کے قریب 3 پولیس اہلکار شہید اور 70سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں ،8 اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے،پنجاب میں 60ر وز کے لیے رینجرز تعینات کررہے ہیں پنجاب حکومت جہاں چاہیے رینجرز کو استعمال کرسکتی ہے،مولانا فضل الرحمان ملک کی سنجیدگی کو سمجھنے کی کوشش کریں، حکومت کہیں نہیں جارہی،مظاہرین کو پرامن طریقے سے روکنے کی کوشش میں 3جوان شہید ہوئے، میں اپنے وعدے پر قائم ہوں یہ خاموشی سے واپس چلے جائیں، فرانس کاسفارتخانہ بند نہیں کرسکتے،فرانس کا سفیر پاکستان میں نہیں ہے،کالعدم تنظیم نے راستے کھولنے کا وعدہ پورا نہیں کیا، وزیراعظم نے سوشل میڈیا پرجھوٹی خبروں کا پھیلاؤروکنےکی ہدایت دی ہے، مولانافضل الرحمان صاحب،حکومت کہیں نہیں جارہی،خدشہ ہے کالعدم قراردی گئی تنظیم عالمی دہشتگردتنظیموں میں نہ آجائے،ان کے کیسزپھرہمارے بس میں نہیں ہوں گے،
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس ختم ہو گیا ہے ،وفاقی کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا وزیراعظم عمرا ن خان نے دورہ سعودی عرب پر کابینہ کو اعتماد میں لیا،وفاقی کابینہ اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے مالی معاونت پر بریفنگ دی گئی، وفاقی کابینہ کو کالعدم جماعت سے متعلق مذاکرات پر بریفنگ دی گئی ،وزیر داخلہ شیخ رشید نے کابینہ کو کالعدم جماعت کے ساتھ ڈیڈ لاک سے آگاہ کیا،وفاقی کابینہ کو معاملہ سے متعلق قانونی امور سے بھی آگاہ کیا گیا ،کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ جانی و ملکی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو رعایت نہیں دینی چاہیے،وفاقی کابینہ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کی تعریف بھی کی
حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت نے پشاور جی ٹی روڈ بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا، مظاہرین کو جہلم سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا ، جہلم پل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے
کابینہ اجلاس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے متعلق معاملات پرغور کیا جائے گا۔ اس معاملے پر تفصیلی حکمت عملی وضع کی جائے گی، انہوں نے کالعدم تنظیم سے بھی کہا کہ وہ اپنے اقدامات کے ذریعے عوام کے مسائل میں اضافہ نہ کریں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا لانگ مارچ ایک بار پھر روانہ ہو چکا ہے، پولیس کی جانب سے زبردست شیکنگ اور رکاوٹوں کے بعد سادھوکی سے کارکنان نے رکاوٹیں ہٹا لی ہیں کنٹینرز ہٹا کر راستہ کلیئر کرلیا گیا اسکے بعد پیدل مارچ کامونکی میں داخل ہو گیا ہے جبکہ گاڑیوں کے لئے مزید راستے کلیئر کروائے جارہے ہیں
حکومت نے تحریک لبیک کے مارچ کو ایک بار پھر روکا تھا ،سادھوکی کے قریب پولیس کی شلینگ سے کئی کارکنان زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ایددھی کے رضا کا ر طبی امداد دے رہے ہیں ، مبینہ اطلاعات کے مطابق سادھوکی میں مزید 4 کارکنان کی موت ہو گئی ہے، جن کارکنان کی موت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا تعلق گجرات سے ہے
دوسری جانب تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا، اب حکومت سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارا کوئی بندہ پولیس کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں چھوڑ دیا جائے، ہمارا پرامن جلوس ہے، پولیس والون کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے رکن شوریٰ و مذاکراتی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان علامہ غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات جو بھی ہوں گے حکومت خود زمہ دار ہوگی ،اداروں سے تصادم نہیں چاہتے پرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہے مذاکرات کا عمل حکومت نے سبوتاژ کیا ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، مارچ کے شرکاء پر عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں، حکومت نے مذاکرات کے نام پر سیاست کی بار بار معاہدوں سے حکومت خود انحراف ہوئی، رکاوٹیں کھڑی کرکے شرکاء مارچ کو روکا نہیں جاسکتا پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن ڈٹ کر ظلم وبربریت برداشت کی مطالبات کی منظوری کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جائیں گے
دوسری جانب تحریک لبیک کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک اور حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے،وزارت داخلہ کے احکامات پر ایف آئی اے سائبر کرائم حرکت میں آگیا تحریک لبیک کے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹویٹر پر تحریک لبیک کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے
لانگ مارچ کو روکنے کے لیے دریا جہلم پل سرائے عالمگير سے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا گیا،ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لئے دریائے جہلم کے پل پر دونوں اطراف حفاظتی دیواریں توڑ دی،جی ٹی روڑ پر دریائے جہلم کا پل 2 اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے،ایک ساٸیڈ سرائے عالمگیر اور دوسری ساٸیڈ پر جہلم واقع ہے،پل کے درميان سرائے عالمگير کی جانب پل کے وسط میں ٹرالر اور کنٹینر کھڑے کردے گٸے،پوليس سرکل سرائے عالمگير کی بھاری نفری پل کے دونوں اطراف تعینات کی گئی ہے،دریائے جہلم کے دونوں اطراف حدود سرائے عالمگير کی جانب خندقیں کھودنے کی تیاری کی جا رہی ہے،علاقہ مکینوں سمیت شہری مسافراور ٹرانسپورٹر حکومت کے اس اقدام سے سخت مشکلات کا شکار ہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ کل شیخ رشید نے جھوٹ بولا کہ معاملات طے پا گئے ہیں،8 بجے رابطے کا بھی جھوٹ بولا کل سے اب تک شیخ سمیت کسی بھی حکومتی ذمہ دار نے رابطہ نہیں کیا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ پوری قوم حکومتی بدنیتی دیکھ لے فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی ہم سرکاری سطح پر اس کا جواب چاہتے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے بھی قاصر ہیں؟ یہ اتنے غلام بن چکے یہود و نصاریٰ کے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سب چھوڑو تم نے معاہدہ کیا فرانسیسی سفیر نکالنے کا اب معاہدہ پورا کرو-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مرتبہ بھی گھنٹے کے کام میں 3 دن دیئے اور معاہدے کی پاسداری کی ہم 40 شہید دے چکے مزید خون بہا تو مطالبات بڑھ جائیں گے- سید سرور شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ اس بد عہد، جھوٹی اور منافق حکومت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے گی بہتر ہے کہ معاہدہ پورا کرو علامہ سعد حسین رضوی آئیں اور ہم دعا کر کے واپس چلے جائیں و رنہ کچھ دیر میں ناموس رسالتﷺ مارچ آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے گا-مرکزی شوریٰ تحریک لبیک کا کہنا تھا کہ قوم کیساتھ جھوٹ نہ بولو ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے جا رہے حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، لیکن اب مزید خون بہایا گیا تو بدلہ لیا جائے گا-
لاہور سے نکلتے وقت پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تحریک لبیک کے آٹھ کارکنان کی موت ہوئی ہے جبکہ دو پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں، مرنیوالوں کی گزشتہ روز مرید کے میں ہی نماز جنازہ ادا کی گئی،مرید کے میں ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان کی آمد جاری ہے، مارچ کے شرکا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
تحریک لبیک کی شوریٰ نے مرید کے کینٹینر سے اعلان کیا ہے کہ خندقیں کھودنا، کنٹینر منگوانا اور افراتفری پھیلانا یہ حکومت کا کام ہے، فورتھ شیڈول، علما پر پرچے، لاٹھی گولی نا منظور ہے، کارکنان جتنا جلد ہو سکے قائد محترم کیلئے مریدکے پڑاؤ ناموس رسالتﷺ مارچ پہنچیں ، تحریک لبیک کی شوریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی واپسی تک وقت مانگا ہے جس پر ہم نے وقت دے دیا ، وزیراعظم سعودی عرب سے واپس آئیں پھر حکومت معاہدہ پورا کرے گی اگر پورا نہ کیا گیا تو پھر اسلام آباد ہی منزل ہے ،حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا اور فورتھ شیڈول سے نام نکالے جائیں گے،
واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے