Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فیس بک ہیک ہو گئی، ڈیڑھ ارب صارفین کا ڈیٹا ہیکرز فورمز پر فروخت کے لئے پیش   روسی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک ہیک ہو گئی، ڈیڑھ ارب صارفین کا ڈیٹا ہیکرز فورمز پر فروخت کے لئے پیش روسی میڈیا کا دعویٰ

    سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک ہیک ہو گئی-

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کےمطابق فیس بُک کو ہیک کر لیا گیا ہے جس کے بعد پلیٹ فارم کے ڈیڑھ ارب صارفین کا ڈیٹا ہیکرز فورمز پر فروخت کے لئے پیش کر دیا گیا ہے-

    روسی میڈیا کے مطابق صارفین کے نام، ای میل ، فون نمبر، لوکیشن اور یوزر آئی ڈی شامل ہیں-

    فیس بُک کمائی کیلئے پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے سابق مینجر کے تہلکہ خیز…

    دوسری جانب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کو شدید نقصان کا سامنا، امریکی اسٹاک ایکسچینج میں فیس بک کے شیئرز کی قیمت 5.7 فیصد گر گئی ہے۔

    دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    پوری دنیا میں فیس بک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کی سروسز گزشتہ کئی گھنٹوں سے تعطل کا شکار ہیں سروسز معطل ہونے کی وجہ سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے صارفین کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    جبکہ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے سروس متاثر ہونے پر صارفین سے معذرت کی گئی ہے۔


    تاہم امریکی اسٹاک ایکسچینج میں اس وقت تک فیس بک کے شیئرز کی قیمت 5.7 فیصد تک گر چکی ہے جس کی وجہ سے اسے تقریباً 50 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کواسٹاک مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر کا نقصان

  • دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں فیس بک کمپنی کی سروسز متاثر ہوئیں تو اکثر پاکستانیوں نے سمجھا کہ شاید پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ کنکشن میں مسئلہ آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک۔ واٹس ایپ اور انسٹاگرام ڈاؤن ہو گئی ذرائع کے مطابق صارفین کو تینوں ایپس اور ویب سائٹس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ڈاؤن ڈیکٹر کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے لوگوں نے سوشل میڈیا ایپس کی بندش کی شکایات درج کرائی ہیں۔

    دوسری جانب دنیا بھر میں فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ٹوئٹر کا رخ کیا ہے جہاں ان تینوں کے ناموں کے علاوہ پی ٹی سی ایل بھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

    فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہوئیں تو پہلے تو بعض صارفین کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے پی ٹی سی ایل کے صارفین نے اپنے راؤٹرز ری سٹارٹ کرنا شروع کردیئے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ اس بار قصور پی ٹی سی ایل کا نہیں بلکہ فیس بک کا ہے تو ٹوئٹر پر میمز کا ایک طوفان برپا ہو گیا-
    https://twitter.com/_munazahmed/status/1445071796319842306?s=20
    https://twitter.com/itishammad/status/1445067710916874250?s=20


    https://twitter.com/awaisahmar/status/1445071318727081986?s=20


    https://twitter.com/MulukFhm/status/1445074497833512966?s=20

  • نظام حکومت کے حوالے سے ہمارا ماڈل ریاست مدینہ ہے         عمران خان

    نظام حکومت کے حوالے سے ہمارا ماڈل ریاست مدینہ ہے عمران خان

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان سے برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی،ملاقات میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان سے برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی ملاقات میں لارڈ واجد خان، ناز شاہ اور محمد یاسین شامل تھے وفد نے وزیر اعظم کو سماجی تحفظ و تخفیف غربت کے لیے اقدما ت اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نظام حکومت کے حوالے سے ہمارا ماڈل ریاست مدینہ ہے جبکہ فلاحی ریاست اور قانون کی بالادستی ریاستِ مدینہ کے سنہری اصول تھے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں انصاف و قانون کی بالادستی مکمل طور پر قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے اور معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کی ترقی پر توجہ دی جائے۔

    پینڈورا پیپرز میں ملوث وزرا کو عمران خان فارغ نہیں کریں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کردیا وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم پاکستان نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطحی سیل قائم کیا ہے۔

    ا نہوں نے کہا کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق اس کمیشن کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے۔ یہ کمیشن آف شور کمپنیوں کے سرمائے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات کرے گا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے نمائندے بھی اس کمیشن کا حصہ ہوں گے۔

    پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کر دیا

  • پنڈورا لیکس میں پاکستانی میڈیا مالکان کے نام بھی سامنے آ گئے

    پنڈورا لیکس میں پاکستانی میڈیا مالکان کے نام بھی سامنے آ گئے

    آئی سی آئی جے کی جانب سے جاری پنڈورا لیکس میں پاکستانی میڈیا مالکان کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پنڈورا لیکس کیلئے کام کرنے والے نمائندوں کے مطابق جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمن ، ڈان میڈیا گروپ کے حمید ہارون کی آف شور کمپنیاں ہیں ، ایکسپریس کے سلطان لاکھانی، گورمے گروپ کے مالکان اور پاکستان ٹوڈے کے مرحوم عارف نظامی کا بھی نام شامل ہے۔ ان دستاویزات میں بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ کا نام بھی موجود ہے۔

    پینڈورا پیپرز میں ملوث وزرا کو عمران خان فارغ نہیں کریں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    ہم نیوز نے "دی نیوز” کے حوالے سے بتایا کہ بعض سرکردہ میڈیا گروپس کے مالکان نے بیرون ملک کمپنیاں بنائی ہیں لیک ہونے والی دستاویزات نے انکشاف کیا کہ جنگ گروپ کے پبلشر میر شکیل الرحمٰن ایک آف شور کمپنی بروک ووڈ وینچرز لمیٹڈ کے مالک ہیں۔

    میر شکیل الرحمن کو 17 اپریل 2008 کو کمپنی کے حصص منتقل کیے گئے۔ مسٹر فرید الدین صدیقی اپریل 2008 میں کمپنی کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔

    ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون رجسٹرڈ ایک آف شور کمپنی بارڈنی لمیٹڈ کے مالک ہیں مرحوم عارف نظامی پاکستان کے معروف صحافیوں میں سے ایک اور ایک انگریزی روزنامہ پاکستان ٹوڈے کے مالک ہیں، برٹش ورجن آئی لینڈ میں نیو مائل پروڈکشن لمیٹڈ کے مالک تھے، کمپنی جولائی 2000 میں شامل کی گئی تھی۔

    پاناما کے بعد نیا ہنگامہ:پنڈورا پیپرز میں کن غیر ملکی سربراہان مملکت کے نام…

    پنڈورا پیپرز کی دستاویزات کے مطابق مرحوم نظامی اور ان کی اہلیہ نوین عارف نظامی کو کمپنی کے فائدہ مند مالک قرار دیا گیا تھا مسٹر اور مسز نظامی دونوں نے اس کمپنی کے ذریعے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک سنگاپور کے ساتھ سرمایہ کاری کی جس میں کیش اکاؤنٹس ، بانڈز ، ایکوئٹی اور میوچل فنڈز شامل تھے۔

    دستاویزات کے مطابق اس وقت ان اثاثوں کی تخمینی قیمت 1.6ملین امریکی ڈالر تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان میں ٹیکس حکام کے ساتھ کمپنی کا اعلان کیا گیا ہے یا نہیں۔

    آمنہ بٹ نامی گورمے گروپ کے ایک ملازم کو بی وی آئی کے دائرہ کار میں ایک آف شور کمپنی گورمے ہولڈنگز لمیٹڈ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ گورمے گروپ پنجاب بھر میں بیکریوں کی ایک بڑی چین کا مالک ہے اس کے علاوہ یہ گروپ ایک نیوز چینل کا بھی مالک ہے۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ کمپنی پاکستانی ٹیکس حکام کے ساتھ ڈکلئیر ہے یا نہیں۔

    ’’کافی کوششیں کی گئیں‌ کہ وزیراعظم عمران خان کا نام آف شور کمپنیز سے جوڑا جائے‘‘…

    میڈیا گروپ ایکسپریس کے مالک سلطان علی لاکھانی بھی ایک آف شور کمپنی سنچری میڈیا نیٹ ورک کے مالک ہیں کمپنی فروری 2005 میں مسٹر لاکھانی ، ایک اور فرد محمد انور عبداللہ کے ساتھ مل کربنائی گئی اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ اس کمپنی کو ٹیکس حکام کے ساتھ قرار دیا گیا ہے یا نہیں۔

    پنڈورا پیپرز میں جعلی ڈگری والی پاکستانی کمپنی ایگزیکٹ کا نام بھی سامنے آیا ہے کمپنی کے مالک شعیب شیخ کی آمدنی ایسے بینک اکائونٹس میں جاتی رہی جو ایک ایسی کمپنی کے تھے جو برٹش ورجن آئی لینڈ میں کھولی گئی تھی۔

    مریم نواز کا داماد، بہنوئی اوربیٹا بھی آف شورکمپنیاں بنانےکےماہرنکلے:مریم نےصرف…

    واضح رہے کہ پنڈورا لیکس کے حوالے سےڈی جی ایف آئی اے نے سائبر کرائم ونگ کو متحرک کر دیا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ تمام تحقیقاتی ادارے بالخصوص آئی بی اور ایف آئی اے چوکس ہیں ۔

    خیال رہے کہ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں جن میں وزیر خزانہ شوکت ترین ، وفاقی وزیر مونس الٰہی، پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا ، پنجاب کے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان، مسلم لیگ نون کے اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار شامل ہیں۔

    پینڈورا پیپرز:مونس الٰہی کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں، ترجمان چوہدری برادران

    اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے اہل خانہ ، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی وقارمسعود کے بیٹے اور بدنامِ زمانہ ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کے نام شامل ہیں۔

    پنڈورا پیپرز کی فہرست میں میڈیا مالکان کے علاوہ کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران، کچھ بینکاروں اور کچھ کاروباری شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی اجازت سے2014میں‌ کمپنیاں ضرورکھلی تھیں:پاناما ہویا پینڈورا،سچا…

  • پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کر دیا

    پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کردیا۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم پاکستان نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطحی سیل قائم کیا ہے۔

    ا نہوں نے کہا کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔

    پینڈورا پیپرز میں ملوث وزرا کو عمران خان فارغ نہیں کریں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اطلاعات کے مطابق اس کمیشن کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے۔ یہ کمیشن آف شور کمپنیوں کے سرمائے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات کرے گا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے نمائندے بھی اس کمیشن کا حصہ ہوں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز جاری ہونے والے پنڈورا پیپرز میں مجموعی طور پر 200 سے زائد ممالک کی 29 ہزار سے زائد آف شور کمپنیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جن میں موجودہ اور سابق وزرا، سابق جرنیل، بیورو کریٹس اور کاروباری شخصیات شامل ہیں ۔

    پینڈورا پیپرز:مونس الٰہی کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں، ترجمان چوہدری برادران

    وزیر اطلاعات رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، مائزہ حمید

    ان پاکستانیوں میں وزیر خزانہ شوکت ترین، سینیٹر فیصل واوڈا، وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیر مونس الہٰی، پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان، سابق وزیر شرجیل میمن، سابق معاون خصوصی خصوصی وقار مسعود، نواز شریف کے داماد علی ڈار، سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول، سابق ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل (ر) نصرت نعیم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

    اس کے علاوہ 45 ممالک کے 130 سے زائد ارب پتی افراد کا بھی پنڈورا پیپرز میں نام شامل ہے۔آئی سی آئی جے نے دو سال کی محنت کے بعد پنڈورا پیپرز تیار کیے ہیں اس سکینڈل کی تیاری میں 117 ملکوں کے 150 میڈیا اداروں سے وابستہ 600 سے زائد صحافیوں نے حصہ لیا یہ انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی صحافتی تحقیق ہے جو ایک کروڑ 19 لاکھ خفیہ دستاویزت پر مشتمل ہے۔

    صحافیوں کی اسی تنظیم نے 2016 میں پاناما پیپرز جاری کیے تھے جس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل تھے انہی کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

    مریم نواز کا داماد، بہنوئی اوربیٹا بھی آف شورکمپنیاں بنانےکےماہرنکلے:مریم نےصرف…

    پاناما کے بعد نیا ہنگامہ:پنڈورا پیپرز میں کن غیر ملکی سربراہان مملکت کے نام…

    عمران خان کے بیان کے بعد سب کو چپ لگ گئی،شیخ رشید

  • شکریہ عمران خان، ہر چیز ڈبل مگر،سگریٹ کی قیمت کئی سال سے نہیں بڑھی

    شکریہ عمران خان، ہر چیز ڈبل مگر،سگریٹ کی قیمت کئی سال سے نہیں بڑھی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر تیسرا شخص سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ ساتھ ہی ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی ہیں۔ جن کے پاس تین وقت کا کھانا کھانے کی اسطاعت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ سگریٹ ضرور پیتے ہیں۔ ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان میں سستے سگریٹس کی دستیابی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں پاکستان میں 20 سگریٹ کے پیکٹ کی اوسط قیمت 38 روپے ہے یعنی تقریباً دو روپے کا ایک سگریٹ۔ اندازہ لگائیں کہ روٹی 10 روپے کی ہے۔ یعنی پاکستان میں روٹی سگریٹ سے پانچ گنا زیادہ مہنگی ہے۔ اگر ملٹی نیشنل برانڈز کی مہنگی سگریٹس کی بات کی جائے تو وہ بھی ایک سگریٹ دس روپے میں مل جاتا ہے یعنی مہنگا ترین سگریٹ بھی روٹی کی قیمت میں مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ پھر نوجوان میں خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں یہ لت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ان میں تمباکو نوشی کی شرح 15 فیصد ہے۔ زیادہ تر مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پھر ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ۔ فی الحال تمباکو نوشی سے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑنے کے علاوہ نوجوانی کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر برطانیہ کی آکسفورڈ اکانومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 ارب سے زائد سگریٹ کی اسٹکس اسموک کی جاتی ہیں۔ جن میں 33 ارب سگریٹ اسٹیکس غیر قانونی ہیں۔ ان غیر قانونی سگریٹ اسٹیکس میں سے ساڑھے 8 ارب اسٹکس اسمگل کی جاتی ہیں جبکہ تقریباً 33 ارب اسٹکس ملک میں غیر قانونی طور پر تیار ہوتی ہیں۔۔ پھر صحت کے حوالے سے دیکھیں تو اتنا تمباکو نوشی سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جتنے اخراجات ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔PAKISTAN INSTITUTE OF DEVELOPMENT ECONOMICSکی اسٹڈی کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلقہ تمام بیماریوں اور 2019 میں ہونے والی اموات کی وجہ سے ہونے والے کل3.85بلین ڈالرز کے اخراجات ہوئے ۔ جو کہ پاکستان کے GDP کا 6.1 فیصد ہے۔جبکہ تمباکو نوشی کی کل ٹیکس collection120بلین روپے تھی جو کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے خرچے کا تقریباً 20فیصد بنتا ہے ۔ پھر اس وقت پاکستان میں کینسر ، دل ، شوگر ، بلڈ پریشر اور سانس کی بیماریوں کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ جو کہ تقریباً 71فیصد بنتی ہے ۔ صرف ان بیماریوں کے علاج پر پاکستان 2.74بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں آپکو خطے کے ممالک اور مختلف اشیاء کے ساتھ comparisonکرکے بتاتا ہوں تاکہ آپکو بات سمجھ میں آجائے ۔۔ اس وقت پاکستان میں گولڈ فلیک نامی سگریٹ سستا ہے اور تقریباً 50 سینٹ میں پیکٹ دستیاب ہے جبکہ یہی سگریٹ بھارت میں چار ڈالر، بحرین میں 4.16 اور متحدہ عرب امارات میں 4.36 ڈالر میں دستیاب ہے۔ اب مہنگے سگریٹ کی قیمت دیکھیے۔ گولڈ لیف سگریٹ کا پیکٹ پاکستان میں 1.13 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.90،بھارت میں 2.48، سعودی عرب میں 3.47 اور سری لنکا میں 6.71 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا میں یہ سگریٹ تقریباً پانچ ڈالر زیادہ مہنگا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں 2019 سے 2021 تک گوشت 32 فیصد، چکن 168 فیصد، انڈے 83 فیصد، دودھ 51 فیصد تک مہنگے ہوئے لیکن اسی عرصہ میں سگریٹ ایک فیصد بھی مہنگے نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ تمباکو کی صنعت بہت ٹیکس دیتی ہے ۔ صرف سکے کا ایک رخ ہے ۔ ۔ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح کا پانچ گنا سختی سے تجویز کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں میں 60 فی صد افراد سگریٹ نوشی سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے محض30 فیصد ہی کو ترک تمباکو نوشی کے مراحل میں ضروری سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں صرف 23 ممالک میں تمباکونوشی چھوڑنے کے خواہش مندوں کا ان کی حکومتیں ساتھ دیتی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب عالمی ادارہ صحت کی طرف سے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہاگیا ہے کہ وہ ٹوبیکو فری ماحول قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے لئے لوگوں کو شعور فراہم کریں، سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مندوں کا ساتھ دیں ، انھیں ایسے ہتھیار فراہم کریں کہ وہ اسے بہ آسانی ترک کرسکیں۔۔ دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو سگریٹ کے دھوئیں سے بیمار ہوتے ہیں حالانکہ وہ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ ان کے قریب کوئی دوسرا فرد سگریٹ پیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ہلاک ہونے والے 70لاکھ افراد تمباکو نوش ہوتے ہیں جبکہ دس لاکھ بیس ہزار افراد بلواسطہ طور پر تمباکونوشی سے متاثر ہوکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ ویسے سگریٹ چھوڑنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو ترک سگریٹ نوشی مشکل نہیں ہے۔ زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں جو سگریٹ نہیں پیتے۔۔ جب سگریٹ کی طلب ہو تو خود سے عہد کریں میں قوت ارادی کا مضبوط ہوں ،میرا فیصلہ ہے میں سگریٹ نہیں پیوں گا ۔ اس کے ساتھ خود ترغیبی کے ذریعے خود کو ہی سگریٹ کے خلاف لیکچر دیں۔ ۔ مراقبہ ، یوگا اور پابندی سے ورزش کرنے سے سگریٹ نوشی سے نجات مل جاتی ہے کیونکہ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے ۔ لیکن سب سے اہم آپ کی قوت ارادی ہی ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق سے تمباکو نوشی کے عادی افراد کیلئے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ چاہے آپ اسے چھوڑنے کی کوشش نہ بھی کر رہے ہو۔ جو افراد آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنے کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے۔ ۔ یاد رکھیں آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی ’حیران کن‘ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے نقصان کی مرمت کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو سگریٹ نوشی کو ترک کرنا پڑے گا۔ اگر معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ نے اس طرف توجہ نہ کی تو شاید کوئی گھر اس تباہی سے نہ بچ سکے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ڈاکٹرز ، پروفیسرز، ٹیچرز ، علماء سب کے سب عوامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کریں۔ تعلیمی اداروں میں مباحثے اور سیمینار منعقد کروائے جائیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے تباہ کن اثرات سے عوام کو آگاہ کرے۔۔ ایسے نعرے اور سلوگن عام کئے جائیں کہ سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے اور ان کا علاج کرکے انھیں زندگی کی طرف واپس لوٹایا جائے۔ ہمارا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ، اس نے ساری انسانیت کو بچالیا۔

  • ٹی وی مساجد میں نہیں ساتھ حجروں میں ہوتا، اسلئے پی ٹی وی 35 روپے فیس لیتا ہے، فواد چودھری

    ٹی وی مساجد میں نہیں ساتھ حجروں میں ہوتا، اسلئے پی ٹی وی 35 روپے فیس لیتا ہے، فواد چودھری

    ٹی وی مساجد میں نہیں ساتھ حجروں میں ہوتا، اسلئے پی ٹی وی 35 روپے فیس لیتا ہے، فواد چودھری
    قائمہ کمیٹی اطلاعات نے نجی ٹی وی چینل کی طرف سے پبلک میسجز نہ چلانے پرپی بی اے کوطلب کرلیا
    کمیٹی کا پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں میں بہت زیادہ تفریق پر حیرت کا اظہار
    پی ٹی وی میں تنخواہوں کے تعین کے نظام اور تفریق کوکم کرنے کے حوالے سے اقدامات پر جواب طلب
    پی ٹی وی میں 2008سے 2021تک بھرتی ہونے والے ملازمین کی لسٹیں مانگ لی
    مساجد سے بجلی بلوں پر 35 روپے فیس سےصوت القرآن پروگرام چلاتےہیں مساجد کے ساتھ حجروں میں ٹی وی ہوتاہے،،فواد چوہدری
    اگر یہ فیس ختم کریں گے تو ہم سوت القرآن پروگرام ختم کردیں گے ہر کام پیسے سے ہوتاہے،
    پارلیمنٹ کی نشریات بھی مفت نہیں ہوں گے پارلیمنٹ ہمیں پیسے دے یا ہم نجی نیوز چینلز سے پیسے لیں گے،
    پی ایم ڈی اے بل کا ڈرافٹ بل چکاہے،پی ایم ڈی اے ہی سے فیک نیوز کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے،وزیراطلاعات
    مساجد میں ٹی وی نہیں ہوتامگر فیس لی جارہی ہے ،ایوان صدر سے پی ٹی وی پر خطبہ جمعہ نشرکرنا اچھااقدام ہے،۔چیرمین کمیٹی
    اطلاعات تک رسائی قانون سے پارلیمنٹ کااستثنیٰ قراردینے کے بل کی حکومت اوراپوزیشن نےمخالفت کردی
    اگر اگلے اجلا س میں محرک نہ آئے تو بل مسترد کردیں گے،ارکان کمیٹی

    اسلام آباد (محمداویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات نے نجی ٹی وی چینل کی طرف سے قانون کے مطابق دس فیصد پبلک میسجز(عوامی آگاہی کے اشتہار )  نہ چلانے پر پیمراسے رپورٹ طلب کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل کی ایسوسی ایشن پی بی اے کوطلب کرلیا۔ کمیٹی نے پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں میں بہت زیادہ تفریق پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی وی میں تنخواہوں کے تعین کے نظام اور اس کوکم کرنے کے حوالے سے اقدامات پر جواب طلب کرتے ہوئے پی ٹی وی میں 2008 سے 2021 تک بھرتی ہونے والے ملازمین کی لسٹیں مانگ لی۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاکہ مساجد سے بجلی بلوں پر 35 روپے فیس سے صوت القرآن پروگرام چلاتے ہیں مساجد کے ساتھ حجروں میں ٹی وی ہوتا ہے اگر یہ فیس ختم کریں گے تو ہم صوت القرآن پروگرام ختم کردیں گے ہر کام پیسے سے ہوت اہے،پارلیمنٹ کی نشریات بھی مفت نہیں ہوں گے پارلیمنٹ ہمیں پیسے دے یا ہم نجی نیوز چینلز سے پیسے لیں گے،پی ایم ڈی اے بل کا ڈرافٹ بل چکا ہے،پی ایم ڈی اے ہی سے فیک نیوز کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔چیرمین کمیٹی فیصل جاوید نے کہاکہ مساجد میں ٹی وی نہیں ہوتا مگر فیس لی جارہی ہے ،ایوان صدر سے پی ٹی وی پر خطبہ جمعہ نشرکرنا اچھا اقدام ہے ۔ کمیٹی میں اطلاعات تک رسائی قانون سے پارلیمنٹ کااستثنیٰ قراردینے کے بل کی حکومت اوراپوزیشن نےمخالفت کردی اگر اگلے اجلا س میں محرک نہ آئے تو بل مسترد کردیں گے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات کا اجلاس چیرمین کمیٹی کی عدم حاضری پر سینیٹرعرفان الحق صدیقی کی سربراہی میں شروع ہوا۔ اجلاس میں عمر فاروق، انور لال دین، نسیمہ عیسیٰ،عون عباس،مصطفیٰ نواز کھوکھر نے شرکت کی ۔کمیٹی میں چند لمحوں بعد چیرمین کمیٹی فیصل جاوید بھی آگئے جبکہ کمیٹی میں  وزیر اطلاعات ونشریات فوادچوہدری ،اور وزیرمملکت فرخ حبیب نے بھی شرکت کی ۔

    وزارت اطلاعات کے حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ پی ٹی وی کی زمین کا تخمینہ لگانے کے لیے ٹینڈر دیا تھا مگر اس میں ایک پارٹی آئی تھی اب دوبارہ ٹینڈردیا ہے 6 اکتوبر کو دوبارہ ٹینڈر کھلے گا ۔اس سارے عمل کومکمل کرنے میں دو سے تین ماہ لگیں گے ۔سیکرٹری وزارت اطلاعات نے کہا کہ پی بی سی کی پراپرٹی کی تفصیل کمیٹی کودے دی ہے کابینہ سے اجازت ملے گی تو کمرشل مقاصد کے لیے اسے دے سکیں گے ۔حکام نے بتایا کہ ایک ماہ میں وزارت اطلاعات کواس کی سمری بھیج دیں گے ۔پی ٹی وی کے کنٹریکٹ ملازمین کی تفصیل فراہم کردی گئی ہے ۔عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ پانچ سال کی لسٹ ہے لسٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ کوئی نظام نہیں ہے کہ کس طرح تنخواہ تعین کرنی ہے ۔ایک ملازمہ نمرہ کی 2016 میں تنخواہ 50 ہزار تھی اور آج بھی 50ہزار ہے جبکہ ایک اور افسر کا 2016میں 4لاکھ پر رکھا ہے اب 9 لاکھ 50ہزار روپے تنخواہ لے رہا ہے۔ایم ڈی پی ٹی وی کیوں نہیں آئے؟ تنخواہ طے کرنے کا کوئی سسٹم نہیں ہے 75ملازمین کو ڈیلی ویجز پر رکھے ہوا ہے 2016 سے یہ ڈیلی ویجز پر ہیں ان کو کنٹریکٹ پر لے آئیں ۔ جس کو چاہتے ہیں کہ 6لاکھ روپے تنخواہ زیادہ کرلیتے ہیں اور کسی کا ایک روپے بھی زیادہ نہیں کیا گیا ۔

    وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی وی کے ساتھ ظلم ہوا ہے 2008 سے 2018 تک 22سو لوگ بھرتی کئے گئے 75سے 80 فیصد نے صرف میٹرک کیا ہوا ہے ۔ تنخواہ سرکاری خزانے سے دینی ہے ۔ وفاقی حکومت اپنا بجٹ مائنس سے شروع کرتی ہے پی ٹی وی میں اگر اوسط نکالی جائے تو220 ملازمین سالانہ بھرتی کئے گئے میں نے ایک بھی بھرتی نہیں کی ۔تحریک انصاف کی حکومت میں64 لوگ ہم نے بھرتی کئے ہیں۔ پہلی بار 1عشاریہ 3ارب روپے منافع میں آئے ہیں ۔سپورٹس اور ڈرامے کا چینل حکومت نہیں چلا سکتی ہے تین ماہ میں سپورٹس کو ایچ ڈی کررہے ہیں پی ٹی وی ہوم اور سپورٹس کو پی پی پی موڈ میں لے کر چلانا چاہتے ہیں کیڈ چینل لارہے ہیں ارتغل ڈرامہ کے علاوہ باقی وقت پی پی پی موڈ پر دیں گے۔ پی ٹی وی بورڈ میں پروفیشنل لوگ لگائے ہیں . ڈیلی ویجز میں لوگ بھرتی کرنا آسان ہے سابقہ حکومتوں نے یہی کیا ہے کہ پہلے ڈیلی ویجز بھرتی کئے اس کے بعد ان کوکنٹریکٹ پر رکھا اور اس کے بعد کمیٹی نے ان کو مستقل کردیا اس طرح ملک نہیں چل سکتے ہیں ۔ میں چیریٹی ادارہ نہیں چلا رہا۔سینٹر عرفان صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ان ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ چاہتے ہیں اپنی تنخواہ ہمیں دے دیں ہم ان کی تنخواہ میں اضافہ کردیں گے ۔عرفان صدیقی نے کہا کہ ایم ڈی کی تنخواہ کیا ہے؟ ان ملازمین کی تنخواہ ملا بھی لیں تو ایم ڈی کی تنخواہ زیادہ بنتی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی تنخواہ مارکیٹ کے مطابق تنخواہ ہے ۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاکہ ملازمین کو بھرتی کرنے کی وجہ سے پی ٹی وی کو نقصان ہوا مگر لسٹ کے مطابق 2018 کے بعد بھی بھرتی کی گئی ہے ان کو پھر بھرتی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ سب کوٹے پر بھرتی کئے ہیں ۔ ایم ڈی نے کہا کہ 64 ملازمین میں سے20 فیصد کوٹے پر باقی پروفیشنل بھرتی کئے ہیں ۔

    چیرمین کمیٹی فیصل جاوید نے کہا کہ تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق ہے اس کو کم کیا جائے کسی کو 18ہزار اور کسی کی 9 لاکھ تنخواہ ہے ۔کمیٹی نے پی ٹی وی کی ملازمین کی 2008سے 2021 تک بھرتی ہونے والوں کی لسٹ مانگ لی ۔فواد چوہدری نے کہاکہ ہمارے پاس بڑی عمارتیں ہیں اور گھاس کاٹنے کے پیسے نہیں ہیں 8 کھرب سے زیادہ مالیت کی وزارت اطلاعات کی عمارتیں ہیں ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ پی ٹی وی شالیمار تو اتنا بڑا ہے کہ وہاں امرودوں کے باغ ہیں ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ عرفان صدیقی صاحب کے دور میں امرود پھل دیتے تھے اور صدیقی صاحب کھاتے بھی تھے جس پر عرفان صدیقی نے کہا کہ جی ہاں آپ کی حکومت میں اب ہر چیز نے پھل دینا بند کردیا ہے جس پر کمیٹی میں سب نے قہقہے لگائے ۔

    سینیٹ کے کارروائی لائیو نہ دیکھنے کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہاکہ پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھانے پر پیسے خرچ ہوتے ہیں پارلیمنٹ سیشن کے پیسے نہیں دے سکتے ہیں جو پرائیویٹ چینل چلارہے ہیں وہ ہمیں پیسے نہیں دیتے ہیں اب یہ بھی فری نہیں ہو سکتا ہے اب ہم پرائیویٹ چینلز سے پیسے لیں گے جو پرائیوٹ چینل پی ٹی وی کی سروس لے گا وہ ہمیں پیسے دے گا وہ اس پر اشتہار چلاتے ہیں جبکہ پی ٹی وی کوکچھ نہیں ملتا ہے ۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایک وقت میں ہوں گے تو ایک چلے گا۔ پارلیمنٹ ہمیں پیسے دے یا پرائیویٹ چینل ہمیں پیسے دیں فری نہیں دے سکتے ہیں ۔چیرمین کمیٹی نے کہا کہ پرائیویٹ چینل کو پارلیمنٹ کی کوریج کی اجازت نہیں ہے ۔ہم سے پیسے مانگے جارہے ہیں نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ہم ارکان پارلیمنٹ سے چندہ لے کر آپ کو دیں تو تب آپ پارلیمنٹ کی کارروائی چلائیں گے ۔ اس طرح تو پارلیمنٹ کو بھی نشریاتی رائٹس پی ٹی وی کو فروخت کرنے چاہیے جس طرح کرکٹ کے فروخت ہوتے ہیں ۔فواد چوہدری نے کہاکہ ہم بزنس ماڈل بنارہے ہیں ہم پیسے نہیں دے سکتے ۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نہیں دیکھایا جاسکتا تو عوام سے پیسے کیوں لے جارہے ہیں ۔فواد چوہدری نے کہاکہ کشمیری، بلوچی ،سرائیکی چینل بند کرنے پڑھیں گے بزنس ماڈل پر یہ چینل نہیں چل سکتے ہیں۔ چیرمین کمیٹی نے کہا کہ لاکھوں مساجد سے بھی 35روپے بجلی کے بل میں لیئے جارہے ہیں ۔جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ مساجد سے جو پیسے لیتے ہیں ان سے صوت القرآن پروگرام کرتے ہیں ہر چیز کوکرنے کے لیے پیسے درکار ہیں 35روپے اگر ختم کرنے ہیں تو ہم صوت القرآن پروگرام بند کردیں گے مسجدوں سے جو پیسے آرہے ہیں وہ وہاں خرچ ہورہے ہیں۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ اگر صوت القرآن کے لیے 35روپے مساجد سے لینا ضروری ہے توپریس ٹاک مفت کرتے ہیں اس کے لیے کون پیسے دیتا ہے ۔ چیرمین کمیٹی نے کہا کہ ایوان صدر سے جو خطبہ جمعہ چلایا جارہا ہے یہ اچھا اقدام ہے کمیٹی اس خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ35 روپے جو لوگوں سے لیے جارہے ہیں ان میں سے واپڈا نے 4 ارب روپے پی ٹی وی کو دینے ہیں ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ مسجد میں ٹی وی نہیں ہے مگر پیچھے حجروں میں ٹی وی ہوتا ہے جس پر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاکہ یہ بات ٹھیک ہے 35 روپے فیس جاری رکھیں ۔

    کمیٹی کے ایجنڈے میں اطلاعات تک رسائی کے قانون میں ترمیم ی بل بھی شامل تھا جس میں سینیٹر منظور کاکڑ اور ولید اقبال نے استدعا کی تھی کہ اطلاعات تک رسائی قانون سے پارلیمنٹ کا استثنیٰ دیاجائے محرک نہ آنے پر کمیٹی نے موخر کردیا۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کاحق کہ کہ ان کو پارلیمنٹ کے بارے میں جو وہ پوچھنا چاہیں وہ معلومات دی جائیں۔ حکومت اس بل کی مخالفت کرتی ہے ۔عوام کو پارلیمنٹ کے بارے میں پوچھنے کاحق ہونا چاہیے مصطفیٰ نواز نے کہاکہ پارلیمنٹ کیوں چھپانا چاہتی ہیں ۔عرفان صدیقی نے کہاکہ ہم اداروں کے لیے قانون سازی کرتے ہیں ہمیں اس کو چھپانہ نہیں چاہیے۔ فواد چوہدری نے کہاکہ پی ایم ڈی اے کا ڈرافٹ بن چکا ہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ نجی ٹی وی چینل قانون کے مطابق پابند ہیں کہ دس فیصد پبلک میسجز چلائیں مگر اس کے باوجود نہیں چلارہے ہیں جس پر فواد چوہدری نے کہاکہ باقی سب چیزوں پر آپ پی بی اے کو بلاتے ہیں اس پر بھی بلاکر پوچھ لیں کہ وہ کیوں نہیں چلارہے ہیں ۔جس پر کمیٹی نے پیمرا سے رپورٹ طلب کرلی کہ کون کون سا ٹی وی چینل کتنے پبلک میسج چلا رہے ہیں جبکہ اگلے اجلاس میں پی بی اے کو طلب کرلیا۔

    فواد چوہدری نے کہاکہ پی ایم ڈی اے ہی سے فیک نیوز کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ موجودہ دور میں جعلی اور اصلی خبر میں فرق کرنا ایک امتحان ہے بزنس مین سیاست دان اور بیوروکریسی کے خلاف سب سے زیادہ فیک نیوز چلائی جاتی ہے ۔

    @MumtaazAwan

    مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

  • سعد رضوی کی رہائی میں نیا موڑ، اصل کہانی کیا، مبشر لقمان نے حقیقت بتا دی

    سعد رضوی کی رہائی میں نیا موڑ، اصل کہانی کیا، مبشر لقمان نے حقیقت بتا دی

    سعد رضوی کی رہائی میں نیا موڑ، اصل کہانی کیا، مبشر لقمان نے حقیقت بتا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حافظ سعد رضوی کے ساتھ جتنا ظلم ہو رہا بہت زیادہ۔اور یہ زیادتی ہے.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا ۔پوری بات کا بیک گراؤنڈ پتہ ہونا چاہئے ۔ زیادتی کیوں ہو رہی بتاتا ہوں .علامہ خادم رضوی بہت شعلہ بیان مقرر تھے انکی پہچان بنی تحریک لبیک وجود میں آئی انکا نعرہ لبیک یا رسول اللہ بہت آسان ہے کوئی مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا اس نعرے سے اسکی عقیدت ہے۔ جو آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق نہیں کرتا اس کو ہم مسلمان نہیں مانتے یہ ہمارا عقیدہ ہے اس پر کسی سے بحث کرنے کی ضرورت نہیں لندن میں ایک چینل پر بحث ہو رہی تھی کہ بکرے پر چھری پھیرا تکلیف دہ عمل ہے میں کہتا ہوں یہ ہمارا ایمان ہے۔ دیں میں دو چیزیں نہیں ہو سکتیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ علامہ خادم رضوی کا انتقال ہوا انکی جگہ سعد رضوی کو مشاورت کے ساتھ بٹھایا گیا میں بطور صحافی اس کو رپورٹ کر رہا ہوں فرانس میں واقعہ ہوا معلون اخبار نے خاکے شائع کیے اس پر احتجاج ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ احتجاج حق یے ہم اور کیا کریں .حکومت نے احتجاج کے دوران ایک معاہدہ کیا۔ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ تھا حکومت نے وقت دیا اور تحریک لبیک نے حکومت کے وقت کو مانا، انتظار کیا،چپ کر کے بیٹھ گئے. لبیک کے کسی کارکن نے کوئی بات نہیں کی۔ جب وقت پورا ہوا تو پھر دوبارہ احتجاج ہوا اور پکڑ دھکڑ ہوئی۔ دوبارہ مذاکرات ہوئے تو قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کی بات کی گئی اور کہا گیا کہ اگر قومی اسمبلی اس قرارداد کو منظور کرتی تو سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ دھرنے ختم کروانے کے لیے حکومت بے پکڑ دھکڑ کی. بے دردی کے ساتھ تشدد کیا گیا سعد رضوی جب نماز جنازہ پڑھا کر آ رہے تھے تو انکو باقاعدہ اغوا کیا گیا کیوں کہ انکو پتہ نہیں تھا کہ کون لوگ لے کر جا رہے اسکے بعد مظاہرے شروع ہو گئے ۔سعد رضوی نوجوان اسکے پاس اسلحہ نہیں پھر بھی دہشت گردی کے پرچے کٹ گئے ۔سپریم کورٹ کی رولنگ ہے کہ دہشت گردی کے پرچے نہیں کٹ سکتے۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لبیک کا نعرہ ایسا ہے کہ کسی کو اس سے یکجہتی کی ضروری نہیں ہر بندہ یہ نعرہ لگاتا یے۔ ایک طرف حکومت نے کالعدم کیا دوسری جانب الیکشن لڑنے کی اجازت دی ۔پھر انکے رہنما کیوں نظر بند ہیں ۔اگر اس وقت سعد رضوی مان لیتے کہ لبیک کا ووٹ حکومت وقت کو پڑے گا تو انہوں نے رہا ہو جانا تھا۔ رہائی کی پیشکش ہوئی تو سعد رضوی نے کہا کہ میرا عدالتوں پر یقین یے پرچہ ہو گیا اب ثابت کریں ۔کل عدالت نے فیصلہ دیا لیکن ابھی تک رہائی نہیں ہوئی۔ تاخیر کی جا رہی ہے کسی اور مقدمے میں پھنسایا جا رہا .سعد رضوی کو آئینی و قانونی حق سے محروم کیا جا رہا ہے کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جس سے دہشت گردی ثابت ہو ۔پرامن لوگ ہیں اب احتجاج بھی نہیں ہو رہا پھر بھی نظر بندی ہے ابھی تک۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حافظ سعد رضوی کے وکیل کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے بضد ہیں کہ سعد رضوی کو رہائی نہیں دینی ۔ پرامن احتجاج کرنے والوں کو دہشت گردی کے پرچے میں مت ڈالیں یہ بہت بڑا ظلم ہے۔

    @MumtaazAwan

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا

    سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے

    علامہ خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت کے عنوان پر مسلمان قوم میں بیداری پیدا کی،مولانا معاویہ اعظم طارق

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    کسی کو نہیں چھوڑیں گے، مذہبی جماعت کیخلاف بڑے فیصلے ہو گئے، شیخ رشید

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    حکومت کیلئے نئی مشکل، تحریک لبیک کا ناموس رسالت مارچ کا اعلان

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی گرفتار،تحریک لبیک کے رہنما کی باغی ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق

    تحریک لبیک کے کارکنان سڑکوں‌ پر نکل آئے،لاہور بند،ملک جام کرنیکا اعلان

    پولیس نے ایک بار پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد تازہ کر دی،کارکنان پر فائرنگ،شیلنگ،اموات

    لاہور سمیت مختلف علاقوں میں تشدد،بلاول بھی میدان میں‌ آ گئے

    کالعدم مذہبی جماعت اور حکومت میں مذاکرات کامیاب،کیا ہوئے فیصلے؟

    فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کیلئے قرارداد ہو گی اسمبلی میں پیش

    فرانسسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد ،بڑی سیاسی جماعت کا اجلاس میں شرکت نہ کرنیکا فیصلہ

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی رہا؟

    کس کس کو رہا کیا جا رہا ہے؟ شیخ رشید کا کالعدم مذہبی جماعت بارے بڑا اعلان

    کالعدم جماعت سے پابندی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    کالعدم تحریک لبیک نے پابندی کیخلاف ایسا کام کر دیا کہ حکومت کو بھی اجلاس بلانا پڑ گیا

    کالعدم تحریک لبیک کی درخواست، وزارت داخلہ میں اجلاس

    کالعدم جماعت کی بھی لیگل ٹیم ہو سکتی ہے؟ سعد رضوی سے ملاقات نہ کروانے کی درخواست پرعدالت کے ریمارکس

    سعد رضوی کی رہائی کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سعد رضوی کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر سماعت،عدالت نے کیا دیا حکم؟

    سعد رضوی کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر سماعت،دلائل مکمل

    باغی ٹی وی سروے،تحریک لبیک پہلے نمبر پر،حافظ سعد رضوی کے حق میں سب سے زیادہ ووٹ

    حافظ سعد رضوی کو فوری رہا کرنے کا حکم

  • پنڈورہ پیپرز میں عسکری قیادت کا بڑا نام، آئی سی آئی جے کا فراڈ،اصل حقیقت کیا

    پنڈورہ پیپرز میں عسکری قیادت کا بڑا نام، آئی سی آئی جے کا فراڈ،اصل حقیقت کیا

    پنڈورہ پیپرز میں عسکری قیادت کا بڑا نام، آئی سی آئی جے کا فراڈ،اصل حقیقت کیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پینڈورہ باکس کھل گیا، بڑے نام آ گئے ہیں، لوگوں نے جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں، کچھ کے جائز اور کچھ کا نہیں پتہ، آفشور کمپنیز ہیں، آئی سی آئی جے کے چھ سو صحافیو‌ں نے اس پینڈورہ پیپرز پر کام کیا، سات سو پاکستانی اس میں شامل ہیں، آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر عمران خان کی حکومت کو بڑا طعنہ دیا گیا ہے کہ عمران خان جو کرپشن کے خلاف بات کرتا تھا اسکی اپنی ٹیم اس میں ملوث ہے، ابھی مزید لسٹ سامنے آتی رہے گی، ایک نام جو میرے لئے حیران کن تھا اور اس لسٹ میں آیا میجر جنرل نصرت نعیم صاحب میں نے انکو دعوت دی ہے میرے ساتھ فون پرہیں

    مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں میجر جنرل ر نصرت نعیم کا کہنا تھا کہ آفشور کمپنی تو کھولی ہے ،افغانستان کے ساتھ ایک سلسلہ شروع کیا تھا،یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کھولی تھی،اس کمپنی کو کھولنے کے بعد آپریٹ کرنے کا ایک طریقہ ہے، جس سے یہ کمپنی لیگل بنتی ہے، مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ کا نام آیا، عمر چیمہ و دیگر لوگ ہیں، انکے خلاف پاکستان میں کیس کریں جس پر جنرل ر نصرت نعیم کا کہنا تھا کہ ہاں میں اس حوالہ سے کام کرتا ہوں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنرل‌ صاحب سے جو سوالات کے جواب لئے گئے وہ سب نہیں بتائے گئے، آفشور کمپنی کی رجسٹریشن کا طریقہ ہوتا ہے، منی ٹریل دیتے ہیں تو پھر وہ لیگل ہے، لیکن جب اسکو چھپاتے ہیں، تو پھر غیر قانونی، پھر آپ غلط کر رہے ہیں

    آئی سی آئی جے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سابق سینیئر فوجی عہدیدار میجر جنرل (ریٹائرڈ) نصرت نعیم ایک بی وی آئی کمپنی افغان آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کے مالک تھے جو ان کی ریٹائرمنٹ کے کچھ ہی عرصے بعد سنہ 2009 میں رجسٹر ہوئی تھی رپورٹ کے مطابق دیکھی گئی فائلوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کمپنی کرتی کیا ہے ایک موقع پر نصرت نعیم کے خلاف سترہ لاکھ ڈالر سے ایک سٹیل مل خریدنے کی کوشش سے وابستہ مبینہ فراڈ کا کیس شروع کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ یہ کیس ختم کر دیا گیا تھا۔

    نصرت نعیم نے بی بی سی کو رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2009 میں انھوں نے ایک افغان آئل اینڈ گیس کمپنی نامی آف شور کمپنی الٹرا ونٹرائزڈ ڈیزل بیچنے کے لیے قائم کی تھی اس کمپنی کے ذریعے انھوں نے مزید کوئی کام نہیں کیا۔ اور اس کمپنی کو اسی برس بند کر دیا یہ کمپنی انھوں نے افغانستان میں الٹر ونٹرائزڈ ڈیزل کی پہلی کھیپ بھجوانے کے بعد قائم کی تھی کیونکہ افغانستان میں موجود کمپنی نے ان سے مستقبل میں مزید کاروبار کرنے کا کہا تھا

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کاروبار میں صرف چار ٹینکر افغانستان بھجوائے تھے جس سے صرف تین لاکھ روپے کمائے اور تمام اخراجات کے بعد ان کے پاس صرف 80 ہزار روپے منافع آیا۔ یہ وہ دور تھا جب افعانستان میں سکیورٹی صورتحال شدید خراب تھی اور ٹینکروں کی سکیورٹی اور بروقت پہنچنے میں مشکلات تھیں جس کے باعث انھوں نے مزید اس کمپنی کے ذریعے یہ کام کرنے کا فیصلہ ترک کر دیا۔

    فیک نیوز کیخلاف قوانین سخت ہوگئے تو عمران خان تقریر کرنی ہی بھول جائے گا،مائزہ حمید

    جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    پینڈورہ پیپرز،فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کرنیوالے حکومتی اراکین فیک نیوز پھیلاتے رہے

  • پینڈورہ پیپرز،فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کرنیوالے حکومتی اراکین فیک نیوز پھیلاتے رہے

    پینڈورہ پیپرز،فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کرنیوالے حکومتی اراکین فیک نیوز پھیلاتے رہے

    پینڈورہ پیپرز،فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کرنیوالے حکومتی اراکین فیک نیوز پھیلاتے رہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پینڈورہ پیپرز گزشتہ شب سامنے آئے تو تہلکہ مچ گیا تا ہم حکومت جو فیک نیوز کے خلاف قوانین لانا چاہتی ہے وہی حکومتی اراکین فیک نیوز کا ہی سہارا لیتے رہے

    پینڈورا پیپرز میں جہاں وفاقی وزراء، صوبائی وزرا کے نام آئے وہیں مریم نواز کے داماد کا نام بھی سامنے آیا، مریم نواز کے داماد کا نام سامنے آنے کے تھوڑی دیر بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھدری نے دعویٰ کیا کہ پینڈورہ پیپرز میں مریم نواز کے بیٹے کا نام بھی شامل ہے اور اسکی پانچ آفشور کمپنیز ہیں ،حکومتی شخصیات کی جانب سے فیک نیوز کا سہارا لیا گیا ہے، گیارہ بج کر دو منٹ پر فواد چوھدری نے ٹویٹ کیا کہ جنید صفدر کی کمپنی سامنے آئی ہی، اسکے بعد شہباز گل نے بھی بغیر تحقیق کے ٹویٹ کی اور سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کا سکرین شاٹ شیئر کیا،فواد چودھری، شہباز گل فیک نیوز پر بغیر تحقیق کے ٹویٹ شیئر کرتے رہے کہ جنید صفدر کی بھی آفشور کمپنیاں نکل آئی ہیں

    پی ٹی وی نے ایسی کوئی بریکنگ نہیں چلائی تھی، شہباز گل نے گیارہ بجکر 17 منٹ پر نجی ٹی وی اے آئی وائی نے دوبارہ جنید صفدر کی خبر دی اور کہا کہ ہماری باجی مریم چوری چکاری میں پیچھے نہیں رہیں انکے بیٹے کی بھی آفشور کمپنی نکلی آئی ہیں’

    فواد چودھری ، شہباز گل کی جانب سے جنید صفدر کی آفشور کمپنیوں کی خبر پر مریم نواز بھی میدان میں آئیں اور ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے عدالت جانے کا اعلان کیا

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نالائق حکومت کو شرم آنی چاہئے، سرکاری ٹی وی کو بھی اپنے پروپیگنڈے میں شامل کر لیا۔ مریم بی بی کا نام جب پنڈورا پیپرز میں نہیں تو ان کی تصویر کس بنیاد پر سکرین پر چلائی جا رہی ہے؟؟؟

    ن لیگی رہنما عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ پینڈورا پیپرز پر کارروائی کی ابتدا فیک نیوز چلانے والے پی ٹی وی اور اے آر وائی کے خلاف اسی مجوزہ قانون کے تحت ہونی چاہیے جو میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے لایا جارہا ہے۔ تا کہ جھوٹی خبر پھیلانے پر تادیبی کارروائی کی مثال قائم ہو۔

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اونگزیب کا کہنا تھا کہ عمران صاحب فوراً ایف آئی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے ذریعے نیشنل کرائم ایجنسی کو تحقیقات کے لئے خط عوام کو دکھاتے. عمران صاحب آپ کی بد قسمتی یہ ہے کہ آپ کو اپنی اپنے اے ٹی ایمز اور مافیا کی چوری چھپانے کے لئے سرکاری چینل پہ نواز شریف کے نواسے کی فیک نیوز چلوانی پڑتی ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی رات سے وضاحت کررہاہے کہ جنید سے متعلق ایسی خبرنہیں چلائی۔ یہ فیک سکرین شاٹ وزیراعظم کےترجمان نے ٹویٹ کی اورابھی تک ڈیلیٹ کرکےمعذرت نہیں کی۔اسی کی بنیاد پرمیڈیا پرسنزنے ردعمل دیا۔گویا ایک فیک نیوزکے ذریعے ایک خاندان،معتبرمیڈیا پرسنزاورخود پی ٹی وی کی کریڈیبیلیٹی کوبھی نشانہ بنایا گیا

    نجم ولی خان نے کہا کہ یہ ایک الگ قانونی مقدمہ ہے کہ ملک کے وزیراطلاعات نے فیک نیوز چلائی اور وزیراعظم کے مشیر نے سرکاری ٹی وی کا فوٹوشاپڈ جھوٹا سکرین شاٹ شئیر کر کے لوگوں کو گمراہ کیا اور یہ لوگ عوام کے سچ جھوٹ کے تھانیدار بننا چاہتے ہیں۔ بات بات پر صحافیوں کو اٹھانے والا FIA کہاں ہے؟

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ اس ملک میں اگرکسی سیاستدان یاحکمران نے سب سے زیادہ فیک نیوز پھیلائے اور پھیلارہےہیں تووہ عمران خان ہیں۔ تبھی توکہتا ہوں کہ موجودہ حکومت فیک نیوزکی سب سے بڑی فیکٹری ہے۔ یقین نہ آئےتو آج پی ٹی وی کی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں۔ یہ امر بھی پیش نظررہےکہ جنید صفدرابھی سیاست میں نہیں آئے۔

    واضح رہے کہ فیک نیوز کے خلاف فواد چوھدری قانون سازی کر رہے ہیں تا اہم وہ خود اب فیک نیوز پھیلانے میں سب سے آگے نظر آئے

    @MumtaazAwan

    فیک نیوز کیخلاف قوانین سخت ہوگئے تو عمران خان تقریر کرنی ہی بھول جائے گا،مائزہ حمید

    جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

     

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا