Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تعاون ناگزیرہے: آرمی چیف

    مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تعاون ناگزیرہے: آرمی چیف

    راولپنڈی:مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تعاون ناگزیرہے:،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہترین تعاون، انضمام اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے جدید ترین سنٹر آف انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس بیٹل مینجمنٹ افتتاح کر دیا، کمانڈر آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان نے بریفنگ دی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو ایئر ڈیفنس جنگی انتظام کے طریقہ کار، مرکز کی کارکردگی کے بارے میں بتایا گیا، پاک آرمی ایئر ڈیفنس جدید ترین، انتہائی درست اور مہلک ہتھیاروں سے لیس ہے۔ جدید مرکز، ائیر ڈیفنس جنگ میں اعلی کمان سے انفرادی سطح پر بہترین ہم آہنگی کو تقویت دے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مرکز ہتھیاروں کے نظام کے مابین مطابقت پذیری، موثر اور مربوط ماحول فراہم کرے گا، مرکز میں موجود سیمولیٹر کمپلیکس متحرک منظرناموں کو پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار نے آپریشنل تیاری پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مرکز، ایئر ڈیفنس جنگ کی تازہ ترین پیچیدگیوں، چیلنجز کے مطابق تشکیل اور تیاری میں معاون ہے، پاک فوج کے ایئر ڈیفنس نے گزشتہ سالوں میں غیر معمولی ترقی کی، پاک فوج کا ایئر ڈیفنس نظام ملکی فضائی سرحدوں کے ہمہ وقت تحفظ کے لیے تیار ہے، ایئر ڈیفنس، دشمن کی کسی بھی مہم جوئی سے نمٹنے کے لیے مہلک نظام ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہترین تعاون، انضمام اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

  • بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری

    بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری

    بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ وجدل اور خانہ جنگی کیوں بھارت اور امریکہ کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان برے طریقے سے پھنسا ہوا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو پاکستان، چین، روس اور ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔ جبکہ مودی ا س سارتے کھیل میں سب سے گندا کرادار ادار کر رہا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور چین سے انتقام لینا ہے۔ اور افغانستان میں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر آکر طالبان کے گریبان پکڑیں ، ایساوہ کیسے کرے گا اور وہ کیوں خطے کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو بہت ہی دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔ آپ نے کوشش کرنی ہے کہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ تاکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی فتح کو لے کر پورے پاکستان میں جشن کی سی صورتحال تھی، وزیر اعظم سے لے کر مذہبی جماعتوں کے رہنماوں تک ہر طرف سے طالبان کے حق مین بیان آئے۔ ایسا لگا جیسے طالبان نہیں بلکہ پاکستان نے افغانستان میں اٹھائیس ممالک کی فوج اور بھارت کو امریکہ کی لازوال طاقت سمیت دفن کر دیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا پاکستان کے گرد دنیا نے گھیرا تنگ کر نا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی غلامی کی زنجیریں توڑنے والا بیان ہند سے لے کر مغرب تک زبان زد عام ہے۔ اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اب دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جو ہاتھی خریدا ہے اسے چارا کیسے ڈالے گا۔ ہاتھی خریدنا آسان لیکن پالنامشکل ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب اس ہاتھی کے پیچھے پوری دنیا لگی ہوئی ہو۔ اور پاکستان کو اس کا مالک سمجھ کر سارا نزلہ بھی اسی پر گرایا جا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب Defensive دیکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دنیا کا پریشر ہے تو دوسری طرف ہاتھی کے بدکنے کا ڈر۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ طالبان کو دنیا سے کیے وعدے پورے کرنے پڑیں گے، اور پاکستان کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں بین الاقوامی رائے اور اقدار کی جانب حساس ہونا ہوگا۔جبکہ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کانگریس میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو فوری طور پر طالبان کو تسلیم کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتا تھا جسے روس، چین اور پاکستان نے ایران کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت ابھی بھی پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تلا بیٹھا ہے۔اگر طالبان دنیا کی بات نہیں مانتے اورInclusive govt کے سارتھ ساتھ عورتوں کے حقوق پر تعاون نہیں کرتے تو صورتحال بہت گھمبیر ہو جائے گی۔ امریکہ کی اس وقت ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے کہ چین کا راستہ روکا جائے، چاہے انڈیا سے اتحاد ہو یا اسٹریلیا سے جوہری آبدوزوں کا معاہدہ امریکہ کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے چین کو اسے کے ہمسائے میں ہی مصروف رکھا جائے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جہاں چین کے خلاف امریکہ میں نفرت ہے وہیں پاکستان کے خلاف بھی غصہ دیکھائی دے رہا ہے اور پاکستان کو اس شکست کا ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، دنیا کی سپر پاور کس طرح یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ ایک عسکری گروپ کے ہاتھوں ذلیل ہو گی۔اور پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ طالبان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ازبک، تاجک اور ہزارہ کمیونٹی کو حکومت میں حصہ دیں۔ لیکن ایک سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک عسکری گروہ کو محفوظ پناہ گاہیں دی بھی گئی ہیں تو Thirld world country کے تکنیکی مشوروں کا امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے کاونٹر کرنا کتنا مشکل تھا۔ جبکہ امریکہ دو ٹریلین ڈالر افغانستان میں خرچ کر چکا تھا۔ اس وقت افغانستان میں عدم استحکام کئی عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور افغانستان میں 93% لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں تعمیراتی پراجیکٹس پر کام رکنے سے مزدور بے روز گار ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے خوراک کی امداد کی ضرورت ہے ، جسے تیزی سے حاصل کرنا ہو گا۔طالبان نے شاید ملک پر آہنی گرفت قائم کر لی ہے لیکن اس پیمانے پر بھوک مایوس کن غصے کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر یہ سڑکوں پر پھیل گئی تو افغانستان کے نئے حکمرانوں کی طرف سے بربریت کی بدترین شکلیں بھی اس پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔پناہ گزینوں کے ایک اور خروج کے حوالے سے پاکستان کو اس طرح کے کسی بھی دھچکے سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ جسے پاکستان خستہ معاشی حالات میں کسی صورت بھی کنٹرول نہیں کر پائے گا۔وزیراعظم امریکی صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کو جاہل کہہ سکتے ہیں ، لیکن ابھی بھی پاکستان کو معیشت چلانے کے لیےآئی ایم ایف پر انحصار کرناہے امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ لٹک رہی ہے۔ایسے میں امریکہ چاہے گا کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چین کے ہمسائے میں پراکسی کے زریعے پاکستان، چین، روس اور ایران کو مصروف رکھے۔ جبکہ چین اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی عمل سے بھارت کسی صورت نہیں چوکے گا۔ جبکہ طالبان نے اگر مطالبات نہ مانے تو چین جیسا دوست بھی اپنا نزلہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے یہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان اور طالبان کے درمیاں دراڑ ڈالی جائے۔ پاکستان کو اتنا تنگ کیا جائے کہ دونوں میں حالات کشیدہ ہو جائیں۔افغانستان ہمیشہ سے ہی جنگیIdeology کاBreading ground رہا ہے۔ افغانستان میں بہت سے ایسے گروپ ہیں جو طالبان کی آئیڈیالوجی کے خلاف ہیں، اور وہ بیرونی مدد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں عورتوں کی صورت میں Active civil society اور Frustrated urban middle class موجود ہے۔ ایسے میں طالبان کے خلاف کوئی بھی سیاسی یا پرتشدد موومنٹ چل سکتی ہے۔ جبکہ Punjsher resistance اس کے علاوہ ہے۔اس وقت طالبان کے پاس القائدہ ٹی ٹی پی. داعش اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سمیت کئی ایسے ہتھیار ہیں جسے وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ اور بھارت چاہیں گے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان اور چین کی طالبان سے لڑائی کروا کر پورے خطے میں پراکسی شروع کروا دی جائے۔اس سے طالبان کو بیرونی امداد کا لالچ دیا جائے گا۔پاکستان پر تحریک طالبان سے یلغار کروائی جائے گی، داعش خراسان سے ایران پر جبکہ ازبکستان موومنٹ سے چین اور سینٹرل ایشین ممالک سمیت روس کو مشکل میں ڈال دیا جائے گا اور امریکہ اور بھارت دور بیٹھ کر تماشہ دیکھیں گے اور ان کے دشمن ممالک اپنے ہمسائے میں ہی مشکل میں پھنس جائیں گے۔قطر نے طالبان کی سیاسی لیڈر شپ سے اچھے تعلقات بنا لیے ہیں جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات کے طالبان کی ملٹری لیڈر شپ سے پرانے تعلقات ہیں۔اس وقت سعودی عرب اور گلف ممالک جہاں امریکہ کے اتحادی ہیں وہیں بھارت کے ساتھ بھی Streategicتعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط قدم پاکستان کے لیے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے، جبکہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور سی پیک کا مستقبل بھی خطے میں امن سے وابسطہ ہے۔ اب ایسے میں جب کہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ڈپلومیسی کا اس میں اہم کردار ہے، حکومت اسے عوامی نعروں کے لیے استعمال کر رہی ہے، حکومت اسےAbsolutely notاور قومی وقار سے جوڑ رہی ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ سب کچھ Public consumption کے لیے ہے ایک طرف آپ دنیا سے اپنی معیشت چلانے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں، دوسری طرف آپ سر عام انہیں
    Ignorant اور ان کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی چوک چوراہوں پر ترتیب نہیں دیتی اس حوالے سے پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف طالبان آپ کے کہنے پر Inclusive govtنہیں بنا رہے، دوسرے طرف آپ مغرب کو بیانات دے کر ناراض کر رہے ہیں۔ یہی نہیں آپ کے وزیر خارجہ ایسے وقت میں جب آپ قومی وقار کی بات کر رہے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں تو آپ چاہتے کیا ہیں۔ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف مودی امریکہ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ، اس نے SCO میٹنگ میں طالبان کی نہ صرف قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا بلکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اختیار اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر دینے کی بات کی۔ مودی اافغانستان میں ٹانگ اڑا کر امریکہ کے لیے ٹائم حاصل کر رہا ہے تاکہ امریکہ کوئی ایسی اسٹریٹیجی بنائے جس سے امریکہ روس، چین کو افغانستان میں مشکلات سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی عدم استحکام کا نشانہ بنائے اور امریکہ کے اتحادی بھارت کو پاکستان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل جائے۔امریکہ اس وقت طالبان کے فنڈ فریز کر کے، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اگر وہ امریکہ کی مرضی سے کام نہیں کریں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں اور امریکہ ان کی افغانستان میں زندگی کو جہنم بنا دے گا افغانستان کے لوگ غربت اور بھوک سے تنگ آکر ان کی بوٹیاں نوچیں گے اور یہ عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔عمران خان نے RTکو انٹرویو میں کہا تھا کہمیرے خیال میں صرف ایک ہی آپشن ہے کہ طالبان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی مدد کی جائے، تاکہ وہ اپنے وعدو‏ں پر قائم رہیں۔ مشرکہ حکومت کے ساتھ ساتھ عورتوں کو حقوق بھی دیں۔تمام طالبان کو Amnesty دی جائے، یہ حکمت عملی کام کرے گی اور چالیس سال میں پہلی دفعہ افغانستان میں امن قائم ہو گا۔ لیکن مودی کا طالبان کا نام سنتے ہی دماغ بند ہو جاتا ہے وہ انہیں چین اور پاکستان کا ساتھی سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ افغانستان میں امریکہ کو دوبارہ لانا چاہتا ہے تاکہ چین اور پاکستان کو کاونٹر کیا جا سکے۔وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، دیکھیں افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • غریبوں کو تبدیلی کے جھٹکے دینے کا سلسلہ جاری

    غریبوں کو تبدیلی کے جھٹکے دینے کا سلسلہ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے تو پاپی پاپا کے گرد شکنجہ تنگ ہو گیا ہے ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے آٹھ ملین پاؤنڈ کی برآمدگی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔۔ شریک ملزمان میں ملکہ جذبات مریم صفدر کو ساتھ سال قید، دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف پر عائد جرمانے کی رقم کی موجودہ قدر ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اب اس سلسلے میں نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مراسلے بھی جاری ہوچکے ہیں۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نام موجود جائیدادوں میں موضع مانک میں 940
    کنال زرعی اراضی، موضع بدھوکی ثاہنی 299 کنال، موضع مل 103 کنال اور موضع سلطان میں 312 کنال اراضی شامل ہیں۔ ۔ موضع منڈیالی شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں قیمتی رہائشی بنگلہ نمبر 135 بھی برائے فروخت پراپرٹی میں شامل ہے۔ نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو گی۔ جبکہ جرمانہ کی مکمل رقم ریکور نہ ہونے کی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات تلاش کیے جائیں گے۔ یوں پاپی نواز شریف اپنے انجام کی جانب گامزن ہیں ۔ آپکو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے میں ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ نوازشریف اب دوبارہ واپس نہیں آئیں گے چاہے جو بھی جو کچھ مرضی کہیں ۔ پھر کہہ رہا ہوں ۔ یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں ۔ اب نوازشریف کا واپس آنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ تو قدرت کا انصاف ہے مکافات عمل ۔ پر موجودہ حکومت کے تیور اور حرکتیں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنازعہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس پر اتفاق رائے پیدا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی اعتراض سننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپوزیشن کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات ہوں گے۔ یعنی حکومت ڈنڈے کے زور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے زریعے ہی الیکشن کروائے گی ۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن جائے بھاڑ میں ۔ میں تواس پر یہ ہی کہوں گا کہ زبردستی کے فیصلے آمریتوں میں تو ہوسکتے ہیں جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ باقی آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس وقت ملک میں آمریت ہے یا پھر جمہوریت ، قوم یہ تماشا کئی دنوں سے دیکھ رہی ہے۔ حکومتی وزراء کا لہجہ دھمکی آمیز ہے۔ دھمکی آمیز لہجہ اس وقت ہوتا ہے جب دلیل کے ساتھ بات منوانے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنز کے پیچھے بھی وزراء ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے حکومت کی کوئی مج چرا لی ہے ۔ اداروں سے اس طرح کا کھلواڑ تحریک انصاف کے وزراء کی پرانی مشق رہی ہے اور بدقسمتی سے اب اس کا نشانہ الیکشن کمیشن بن گیا ہے۔اعظم سواتی ، بابر اعوان اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے کوئی بدمزاج تھانیدار اپنے ماتحتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ پھر پیٹرول کے بعد بجلی اب قہر بن کر عوام ٹوٹنے والی ہے ۔
    central power purschasing agency کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست دے دی گئی ہے ۔ درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر
    25ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ CPPA کا موقف ہے کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے۔ یوں اب بجلی کی قیمت میں دو روپے سات پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم کی جانب سے فوراً منظور کرلیا گیا۔ اس کہانی کی اصل اسٹوری یہ ہے کہ تابش گوہر پر مقامی ریفائنریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے جبکہ سی سی او اجلاس میں تابش گوہر نے ریفائنریز کے لئے پیشگی مراعات کی تجاویز بھی دی تھیں ۔ پر آپ دیکھیں ایسے اور بہت سے بہروپیے اس حکومت میں مختلف اداروں میں بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں جو کہ حقیقت میں مافیا کے ایجنٹ تھے ۔ پر جب یہ پکڑے گئے تو حکومت نے صرف ان کو گھر ہی بھیجا کبھی مکمل انکوئری یا سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا ۔ اگر حکومت نیب اور ایف آئی اے کو اپوزیشن کے ساتھ ان مافیاز کے ایجنٹوں کے پیچھے لگادیتی تو آج جو اپوزیشن کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے ۔ کبھی نہ ہوپاتی ۔ تابش گوہر جیسے لوگ وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے اداروں اور عام عوام کو اتنے ٹیکے لگوائے ہیں کہ عوام کا تبدیلی پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ۔ کیونکہ ہر بار جب شور زیادہ مچتا ہے یا یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ایجنٹ استعفی دیتے ہیں موج کرتے ہیں ۔ فائلیں ویسے ہی بند ہوجاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نام نہاد حکومت تین سال سے یہ ہی گل کھلا رہی ہے ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے اور کون نہیں ۔ ہر طرف اور ہر سیکٹر میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ۔ ملک میں کوئی ایسا وزیر نہیں جو کرپٹ نہ ہو ۔ پیسے اور دھونس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے ۔ جس مرضی سرکاری ادارے میں چلے جائیں پیسے کی چمک کے بغیر آپکو کوئی گھاس تک نہیں ڈالے گا ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظام بیٹھ چکا ہے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے ختم ہو گئے ہیں ۔ اس وقت شاید ہی معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہو جو کپتان کی حکومت کے لگائے ہوئے زخموں سے چور نہ ہو۔ تحریک انصاف کے وزیر مشیر ہر چیز کے بارے میں فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کام پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پہلی بار عوام کی بھی بس ہوگئ ہے۔ اس بار کابینہ اجلاس میں دو تین لوگوں نے ہمت کرکے کپتان کے منہ پر ہی کہہ دیا ہے۔ کہ اس بار جو آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کا قصووار آپکا چہیتا عثمان بزدار ہے ۔ نہ کہ سندھ حکومت ۔ پرعثمان بزدار کپتان کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ اسی حوالے سے ایک خبر ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے بھی غریبوں کو زیادہ ہٹ کرنا شروع کر دیا۔ جیسے امیروں کو این آر او دے دیا گیا ہو ۔ خبر یہ ہے کہ اس سال کاریں بہت کم اور غریب کی سواری موٹر سائیکلیں بہت زیادہ چوری ہوئیں۔ صرف لاہور میں آٹھ ہزار چھیانوے موٹر سائیکل آٹھ مہینوں میں چوری ہو چکے ہیں۔ یعنی چور ڈاکو بھی ’’تبدیلی‘‘ سے ہم آہنگ ہو گئے۔ تبدیلی کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں۔ اور چوروں کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں ۔ ۔ ادارہ شماریات کے مطابق اشرافیہ ایلیٹ کلاس کی آمدنی بڑھی ہے اور بے تحاشا بڑھی ہے۔ جبکہ غریب ، لوئر مڈل کلاس ، مڈل آف دی مڈل کلاس کی آمدنی کم ہوئی ہے اور بے تحاشا کم ہوئی ہے۔ ۔ یہ جو بدزبان ۔ بدکلام اور بد گفتار وزیر اندھا دھند جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں تو بہت موجیں ہیں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں مختلف ممالک کی مہنگائی کی شرح چار فیصد سے آٹھ فیصد ہے ۔ مطلب بنگلہ دیش میں چار فیصد اور بھارت میں آٹھ فیصد مہنگائی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں 17فیصد ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں بتائے یہ عالمی بینک کے اعدادو شمار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تحفہ اس حکومت کے پاس ہے۔ شبلی فراز فرماتے ہیں کہ مہنگائی کے علاوہ باقی سارے اشاریے مثبت ہیں۔ اس سے حکومت کی پالیسی پتہ چل جاتی ہے کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مٹا رہی ہے۔ ایک اور خوشخبری سن لیں کہ ملکی قرضوں میں ایک مہینے کے دوران بارہ سو ارب کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ اب قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سو فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ اس حکومت کو نواز شریف کو دیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ حساب تو ان کو بھی دینا ہی پڑے گا آج نہیں تو کل ۔۔۔

  • یہ معاشرہ ہے یا درندوں کا جتھا،ریاست مدینہ میں شرمناک واقعات،عزتیں پامال

    یہ معاشرہ ہے یا درندوں کا جتھا،ریاست مدینہ میں شرمناک واقعات،عزتیں پامال

    یہ معاشرہ ہے یا درندوں کا جتھا،ریاست مدینہ میں شرمناک واقعات،عزتیں پامال
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شئیر کروں گا کہ آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیوں ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے میں تو ناکام ہو چکی ہے جس کے لئے اس کے پاس ایک ہزار Reasonsہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بڑے آرام سے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں ابھی بہت کنٹرول میں ہیں ورنہ اصل قیمتیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن میرا سوال ان حکمرانوں سے یہ ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیوں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عورتیں اور بچے نہ گھروں سے باہر محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں کے اندر۔۔۔اب میں آپ کے ساتھ کچھ تازہ ترین واقعات کی خبریں شئیر کروں گا جس سے آپ کو حالات کی سنگینی کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے گا۔ ضلع چنیوٹ کے بھوانہ سرکل میں بدفعلی کا انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دس سالہ یتیم بچے کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ اور زیادتی کرنے والے کوئی دو یا تین فرد نہیں تھے بلکہ سترہ افراد کا ایک پورا گروہ تھا جس نے اس معصوم بچے کے ساتھ یہ حیوانیت اور درندگی کی۔اس بچے کا والد دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے اور وہ اپنے ماموں کے زیر کفالت ہے اب ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریبا سات بجے تین فرد آئے اور اس بچے کو گھر سے بلا کر موٹر سائیکل پر باہر لے گئے۔ فصلوں میں لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا۔ جس کے بعد یہ باری باری اس دس سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور ساتھ میں موبائل فون پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ اور یہ سلسلہ پچھلے کئی دنوں جاری تھا کہ درندوں کا یہ گروپ اس یتیم بچے کو بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں اس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے۔جب اس متاثرہ بچے کے گھر والوں کو اس سب کا علم ہوا تو انہوں نے تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس پورے گروپ میں سے کوئی ایک ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ایک اور تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ زم زم کالونی کے رہائشی احسن نے بھی مقدمہ درج ہوا ہے جس کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکے کو 22 سالہ ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ان واقعات کے بارے میں آپ ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ چھوٹے علاقے ہیں اس لئے وہاں کے حالات خراب ہیں وہاں کی پولیس بھی اتنی Efficientنہیں ہے۔ تو اب میں آپ کو لاہور شہر کا ایک واقعہ بتاتا ہوں جہاں ہوٹل کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ 7 روز تک اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی۔ سوچیں یہ لاہور شہر ہے جس میں ابھی حالیہ چودہ اگست کے واقعات کے بعد پولیس کافی الرٹ ہے اور پھر بھی اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ملت پارک میں ایک ہوٹل کے اندر لڑکی کو ایک تقریب کا جھانسہ دیکر بلایا گیا اس کے بعد سات روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس سے چھ لاکھ روپے بھی چھین لئے گئے۔ لیکن ہوٹل میں اتنے دن تک کسی کا کان و کان خبر نہیں ہوئی کہ بر وقت پولیس کو اطلاع دی جاتی لیکن خیر بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس عورت کی شکایت کے بعد تین میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ لاہور شہر کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ملزم نے ایک عورت کو اس کی کم سن بیٹی کے سامنے ہی گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اور یہ سب کرنے والا ملزم دراصل ان کا ہمسایہ تھا جو پہلے تو ماں بیٹی پر جسم فروشی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا لیکن خاتون کے انکار پر ملزم نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ یہاں تک کہ ملزم نے اس عورت کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔لاہور کا ہی ایک اورحیرت انگیز واقعہ میں آپ کو بتاوں جس میں بے حیائی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئیں۔ گلشن راوی کے علاقے میں ایک ستائیس سالہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈال رہی تھی اس دوران اس کا ہمسایہ اپنے گھر کی چھت پر برہنہ ہوگیا اوراس لڑکی کو ہراساں کرتا رہا۔پولیس کے مطابق اس ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی گلشن راوی کے علاقے میں ایک لڑکی کو نوجوان نے اسی طرح برہنہ ہوکر ہراساں کیا تھا جس کا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔

    https://t.co/GnXeGzyABY?amp=1

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات آئے روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ایک طرف تو لوگ اپنے علاقے والوں اور ہمسایوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی آجکل سامنے آ رہے ہیں جس میں بچیاں اپنے سگے اور قریبی رشتے داروں سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔راولپنڈی کے ایک علاقے میں ماں نے عین موقع پر پہنچ کراپنی 5 سالہ بیٹی کو اس کے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے سے بچا لیامتاثرہ بچی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہمسائی سے ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی لیکن جب واپس پہنچی تو آ کر دیکھا کہ اس کا دیوراس کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں کے شور کرنے پر اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اب سے دو دن پہلے شیخوپوہ میں بھی انتہائی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جہاں ایک کمسن بچی ایک درندے کی درندگی کا نشانہ بن گئی۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں 6 سالہ ہادیہ محلے میں موجود دوکان پر چیز لینے گئی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ اور یہ سب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ دوکاندار ہی تھا اس نے بچی کو اغواء کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل بھی کرڈالا۔ اور درندے نے اپنا جرم مٹانے کے لئے بچی کی لاش کو نہر میں پھینک دیا۔اس کے علاوہ شیخوپورہ کے ہی ایک علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوں نے ماں باپ کے سامنے انکی حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔تین ڈاکوں ڈکیتی کی واردات کے لئے رات گئے گھر میں گھس گئے کاشتکار کے گھر سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے گئے اور ساتھ ہی والدین کو رسیوں سے باندھ کر انکے سامنے ان کی عالمہ اور حافظہ بیٹی کو اجتماعی نشانہ بنایا۔ ان تمام واقعات میں سے ایک یا دو ایسے ہیں جن کے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور تفتیش ہو رہی ہے لیکن میرا سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر کیوں ہماری حکوت اور پولیس اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کیوں یہ درندے دن بہ دن اتنے بےخوف ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی جانیں۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ہماری پولیس ان درندوں کو پکڑ بھی لے تو ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں ہے کہ ان کو فوری سزا سنائی جائے۔ جس کی وجہ سے سالوں سال کے لئے نہ صرف کیسسز لٹک جاتے ہیں بلکہ مظلوم کو بھی تھکا ڈالتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر تو یہ مجرمان اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ ہی عرصے بعد پولیس کی قید سے بھی رہائی حاصل کر لیتے ہیں اور باہر آ کر پھر اسی گھناونے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس لئے میرا تو ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی آپ کے کنٹرول سے باہر ہو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتیں آپ کو اپنے ملک میں چیزیں سستی کرنے سے روک رہی ہوں لیکن خدارہ انسانوں کی عزتیں اور ان کی جانیں اتنی سستی نہیں ہیں۔۔۔ آخر اس میں آپ کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ لوگوں کو نہ تو تحفظ مل رہا ہے اور نہ ہی انصاف۔۔ آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے اور اپنی عزتوں اور جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے آخر کب تک۔۔۔

  • پاک فضائیہ کا چھوٹا تربیتی طیارہ مردان کے قریب گر کر تباہ

    پاک فضائیہ کا چھوٹا تربیتی طیارہ مردان کے قریب گر کر تباہ

    پاک فضائیہ کا چھوٹا تربیتی طیارہ مردان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا

    پاک فضائیہ کا ایک چھوٹا تربیتی طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران مردان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق واقعہ کی وجوہات جاننے کے لئے ائیر ہیڈ کوارٹرز نے ایک اعلیٰ سطحی بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق طیارے کے ملبے کو جائے حادثہ سے جلد اٹھا لیا جائے گا تا ہم حادثے سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں ترجمان پاک فوج کے مطابق حادثے میں طیارے کا پائلٹ بھی شہید ہوگیا ہے ۔

    جائے وقوعہ پر مقامی شہری بھی پہنچ گئے تھے تا ہم بعد ازاں سیکورٹی فورسز کے پہنچنے کے بعد جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے ،طیارہ کھیتوں میں گر کر تباہ ہو اہے

    واضح رہے کہ اس سے قبل رواں برس ماہ اگست میں پاک فضائیہ کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہوا، پاک فضائیہ کا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا،دونوں پائلٹ محفوظ ہیں طیارہ حادثے سے زمین پر کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا

    یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ

    اپنے طیاروں کا انجام دیکھ لیں،بھارتی وزیر داخلہ کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے دیا منہ توڑ جواب

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 نئے ریڈار کیساتھ مارچ 2020ء تک آپریشنل ہوگا،سربراہ پاک فضائیہ

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

  • متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں،چیف جسٹس

    متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں،چیف جسٹس

    متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    نظر ثانی اپیل میں ایڈووکیٹ منیر ملک اور عابد زبیری عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ مختیار کار اور لینڈ ڈپارٹمنٹ کے پروپوزل پر دی گئی جو من گھڑت ہے، سندھی مسلم سوسائٹی نے ہمیں 380 اسکوائر یارڈ کی اجازت دی،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کمشنر کراچی کی رپورٹ کو دیکھ رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھی مسلم سوسائیٹی 380گز آپ کو الاٹ نہیں کر سکتی؟ کمشنر رپورٹ کے مطابق 788 گز کی لیز جو 1957 بتائی جارہی ہےغیر قانونی ہے،

    منیر اے ملک نے عدالت میں کہا کہ اگر 1957 کی لیز غیر قانونی قرار دی گئی تو پھر پورا کراچی گرانا پڑیگا، کمشنر کراچی نے سندھی مسلم کی اضافی لینڈ سندھی مسلم کو الاٹ کی، سندھی مسلم سوٹائیٹی نےزمین 23 لوگوں کو الاٹ کی ،80 گز نسلہ ٹاور کو دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلڈر کو اپنا گھر نہیں بنانا ہوتا، وہ غیر قانونی طریقے سے بلڈنگ بناکر بھیج دیتے ہیں

    قبل ازیں سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن نے تجاوزات کیس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین عدالت میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ گجر نالہ پیش رفت رپورٹ کہاں ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی ہے،258 ایکڑز اراضی پر متاثرین کو متبادل زمین مختص کردی ہے چھ ہزار سے زائد گھر بنائے جائیں گے سندھ حکومت کے پاس فنڈز کی کمی ہے ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہے سندھ حکومت، کہتے ہیں پیسے نہیں ہیں ورلڈ بینک کے کتنے منصوبے ہیں مگر کچھ نہیں ہو رہا کھربوں روپے کی باہر سے مدد آتی ہے کیا کرتے ہیں مطلب آپ کے پاس پیسے نہیں تو گورنمنٹ فنکشنل نہیں عوام کے لیے پیسے نہیں باقی سارے امور چلا رہے ہیں وزرا اور باقی سب کے لئے فنڈز ہیں

    @MumtaazAwan

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ بحریہ ٹاون واجبات سے رقم ملے گی تو منصوبے پر کام شروع کردیں گے،60 ارب روپے اگر سپریم کورٹ ریلیز کردے تو کام شروع کر دیتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ان پیسوں پر امید لگا لی کیا آپ کے پاس پیسے نہیں؟ آپ انتہائی غیر انتہائی ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں آپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں جو پیسے سپریم کورٹ نے وصول کرائے آپ نے ان پر نظر رکھ لی ہے سلمان طالب الدین نے کہا کہ بحریہ ٹاون کے واجبات سندھ حکومت ہی کے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے طے کرنا ہے کہ وہ پیسے کہاں خرچ کرنے ہیں وہ آپ کے نہیں ہیں، ہم نے طے کرنا ہے کہ اس پیسے کا کیا کرنا ہے ایک ایک پیسہ سپریم کور ٹ طے کرے گی کہ کہاں لگے گا کھربوں روپے کے بجٹ سے آپ کے پاس 10 ارب نہیں آپ سندھ حکومت ہیں، ایڈووکیٹ جنرل صاحب یہ سب ذمہ داری آپ کی تھی، سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی پیسے آئے نہیں سارا جہان لینے آگیا،جب گاڑیاں خریدنی ہوتی ہیں تو پیسے آجاتے ہیں اگر زلزلہ یا سیلاب آجائے تو پھر کیا کریں گے؟ کوئی آفت آجائے تو کیا ایک سال تک بجٹ کا انتظار کریں گے ؟ عدالت نے استفسار کیا کہ جنہوں نے زمینیں الاٹ کیں ان کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ جس پرایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ یہ تو 40سال پرانا مسئلہ ہے ، جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسارکیا کہ اس طرح سے شہر چلاتے ہیں؟ ایک انچ کا بھی کام نہیں ہوا ہے، حکمرانی کرنے والے جانتے ہی نہیں کہ شہر کو کیسے چلایا جاتا ہے کچھ پتہ نہیں ہے،غیر قانونی قبضے سڑکیں بدحال، کچھ نہیں ،سندھ حکومت مکمل بینک کرپٹ کی جانب کھڑی ہے اس سب کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے ،سندھ حکومت کو شرم آنی چاہئے جس بلڈنگ کو اٹھاﺅ اس کا براحال ہے،سڑکیں ٹوٹیں، بچے مررہے ہیں، یہ کچھ نہیں کرنے والے،یہی حال سندھ اور وفاقی حکومت کا بھی ہے سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں،سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کے کا م تو کریں،اگر لوگوں کو سروس نہیں دے سکتے تو کیا فائدہ ؟

    چیف جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت کے لئے انتہائی سخت ریمارکس دیئے اور کہا کہ شیم آن سندھ گورنمنٹ پورے کراچی کو کچرا بنادیا ہے جا کر دیکھیں،آپ لوگوں نے کراچی شہر کو سیاست کی نذر کردیا شہر میں گڑا ابل رہے ہیں اور تھوڑی سے بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں لوگوں کو کہتے ہیں وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس کے باہر ٹینٹ لگا لیں ،بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو براہ راست حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اطمینان بخش جواب نہ دے سکے متاثرین کی بحالی سندھ حکومت کا کام ہے سندھ حکومت دستیاب وسائل سے بحالی کا کام کرے وزیر اعلیٰ سندھ فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور متاثرین کی بحالی کیلئے رقم کا انتظام کریں

    مزار قائد کے اطراف میں کیا کام کریں؟ چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو بڑا حکم دے دیا

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا کرپٹ اور نااہل افسران کو فارغ کرنے کا حکم

    انگریزی بول کر ہمارا کچھ نہیں کر سکتے،غیرقانونی تعمیرات گرائیں، چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مزار قائد کے سامنے فلائی اوور کیسے بن گیا؟ شاہراہ قائدین کا نام کچھ اور رکھیں، چیف جسٹس کا حکم

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

  • نورمقدم کیس، ایڈووکیٹ جنرل کو کہیں کہ وہ خود آ کر دلائل دیں، عدالت کے ریمارکس

    نورمقدم کیس، ایڈووکیٹ جنرل کو کہیں کہ وہ خود آ کر دلائل دیں، عدالت کے ریمارکس

    نورمقدم کیس، ایڈووکیٹ جنرل کو کہیں کہ وہ خود آ کر دلائل دیں، عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،نور مقدم قتل مقدمہ ، ذاکر جعفر اور عصمت جعفر کی ضمانت کیس کی سماعت ہوئی

    سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ یہ ضمانت کی درخواست سنگل بینچ کے بجائے ڈویژن بینچ کو سننی چاہیے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالان ایڈیشنل سیشن جج کے پاس فائل ہوا تو معاملہ ڈویژن بنچ میں کیسے جائے گا؟ کس قانون کے تحت ضمانت سنگل بینچ کے بجائے ڈویژن بینچ میں جائے گی؟ اسپیشل کورٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے تو وہ دکھائیں،ایڈووکیٹ جنرل کو کہیں کہ وہ خود آ کر دلائل دیں،ہائی پروفائل کیس میں آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تین دن بحث کی گئی اور آپ کو تیاری کا موقع نہیں ملا؟ چاہتے تھے مدعی کے وکیل شاہ خاور سپریم کورٹ ہیں تو سرکاری وکیل کی بحث ہو جائے اگر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو اسپیشل کورٹ کا درجہ دیا گیا ہے تو نوٹیفکیشن پیش کر دیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے ملازمین کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وکلاء کو کیس کی تیاری کے لیے مہلت دے دی ،جسٹس عامر فاروق نے طاہر ظہور اور دیگر 5 ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کی عدالت نے ملزمان کے وکلاء کی جانب سے کیس کی تیاری کے لیے مہلت کی استدعا منظور کر لی ایڈیشنل سیشن جج نے پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں پر 6 ملزمان کی ضمانت منظور کی تھی مدعی نے ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے

    نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت لوئر کورٹ مسترد کر چکی ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے طور پر دائر کیا گیا ہے
    @MumtaazAwan

    دوسری جانب بدنام زمانہ قاتل ظاہر جعفر کے گھر کے مالی جان محمد اور خانساماں جمیل کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کو مسترد کردیا تھا

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم کیس،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی پر نوٹسز جاری

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

    نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    ایف آئی آر میں ظاہر جعفر کے والدین کا کوئی ذکر نہیں،ملزم کیسے بن گئے، وکیل کے عدالت میں دلائل

    قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    والد کو فون میں کہا نور مقدم کو ختم کر کے اس سے جان چھڑا رہا ہوں،ظاہر جعفر کا اعترافی بیان عدالت میں پیش

  • امریکی صحافی گلین بیک کو جوابی خط،وزیراعظم عمران خان نے قرآنی آیات کا حوالہ :پاکستانی خوش ہوگئے

    امریکی صحافی گلین بیک کو جوابی خط،وزیراعظم عمران خان نے قرآنی آیات کا حوالہ :پاکستانی خوش ہوگئے

    اسلام آباد: امریکی صحافی گلین بیک کو جوابی خط،وزیراعظم عمران خان نے قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا ،اطلاعات کےمطابق امریکی صحافی کی طرف سے افغانستان میں پاکستان کی بہترین حکمت عملی پرجس طرح خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ، اس پر امریکی صحافی کو جوابی خط میں وزیراعظم عمران خان قرآن کی آیات اورفرمان الٰہی کے حوالے دیئے اس پرجہاں پاکستانی خوش ہیں وہاں امریکی بھی بہت خوش ہیں ،

    وزیراعظم عمران خان کا امریکی صحافی گلین بیک کو جوابی خط خط میں‌ وزیراعظم نےحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں ہے جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی اس نے ساری انسانیت کو بچایا، حکومت آپ کو انسانی بنیادوں پر مدد کی فراہمی کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی،

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی صحافی کی جانب سے موصول ہونے والے خط کا جواب دیتے ہوئے اُس میں قرآنی آیت کا حوالہ دیا۔خط کے متن میں وزیراعظم نے لکھا کہ ’میں آپ کو شکریہ کا جوابی خط لکھ رہا ہوں، آپ کےخیالات ہمارےعقائدکی بہترین نمائندگی کر رہے ہیں، آپ کے خیالات انسانیت اور ہمدردی پر مبنی نظریےکی عکاسی کرتے ہیں‘۔

    خط میں وزیراعظم نے لکھا کہ ’قرآن میں ہےجس نے ایک انسان کی زندگی بچائی اس نے ساری انسانیت کو بچایا، ہمارے اقدامات سے وہ لوگ خود کو محفوظ تصورکریں جو ہم پر انحصار کر رہے ہوں، حکومت آپ کو انسانی بنیادوں پر مددکی فراہمی کیلئے ہر ممکن کوشش کرےگی‘۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ ’کوشش کریں گے ہمارےجذبات، احساسات نئی طالبان حکومت تک بھی پہنچ سکیں، ایک بارپھریقین دلاتاہوں میرا آفس فوری طور پر آپ کی مددکیلئے پہنچےگا‘۔

    یاد رہے کہ امریکی صحافی گلین بیک نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی براڈ کاسٹ جرنلسٹ گلین بیک نے وزیر اعظم عمران خان کی مدبرانہ قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے افغانستان سے غیر ملکی انخلا میں اس وقت مدد کی جب انسانی جانیں حقیقی موت کے خطرات سے دوچار تھیں۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بلیز میڈیا کے سی ای او گلین بیک نے کہا افغانستان سے غیر ملکی انخلا میں عمران خان کے قائدانہ کردار اور افواج پاکستان کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مدد مانگنے پر عمران خان نے فوری مدد کی اور انسانیت کو بچا لیا۔

    امریکی صحافی نے کہا تھا کہ ہم نے افغانستان میں مدد کے لیے کئی ممالک اور رہنماؤں سے مدد مانگی تھی لیکن جواب نہیں ملا، وزیر اعظم عمران خان نے مہربانی کر کے ہمیں فوری وقت دیا اور ہمارے مقصد پر سوال بھی نہیں کیا، انھوں نے مذہب، نسل اور ثقافت سے مبرا ہو کر پہل کی۔

     

    گلین بیک کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی مدد کے بعد طالبان کے زیر کنٹرول مزار شریف سے تین طیارے اڑان بھرنے میں کامیاب ہوئے، جن کے ذریعے ایک ہزار کے لگ بھگ لوگوں کو بچایا جا سکا، ان میں بھی بڑی تعداد امریکیوں کی تھی۔ انھوں نے کہا فیفا ارکان، فٹبال ٹیم، اور افغان خواتین کا انخلا صرف وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا، عمران خان کی کوششوں اور افواج پاکستان کی سپورٹ سے طالبان معاہدے پر بھی کاربند رہے۔

    امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ عمران خان پر تنقید کرنے والے میڈیا مراکز کا اپنا کوئی ایجنڈا ہو سکتا ہے، لیکن انسانی جانوں کو بچانے کے لیے دنیا بھر کو وزیر اعظم عمران خان کے قائدانہ کردار کا اعتراف کرنا ہوگا، ہم اس لمحے کو فراموش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    امریکی صحافی نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے تعاون نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ان کے وعدوں کو پورا کرنے کے قابل بنایا، میں یہ سب تفصیلات اپنے پروگرام میں بتاؤں گا، آئندہ چند دنوں میں ایسے کئی لوگوں کی کہانیاں بھی سامنے آئیں گی، جن کی جانیں بچانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان کا قیمتی وقت کام آیا۔

    دوسری طرف امریکی صحافی کو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے لکھے گئے خط میں قرآنی آیات کے حوالے اس وقت امریکی معاشرے،امریکی میڈیا اوراہم حلقوں میں چھایا ہوا ہے ،

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے اس خط پرامریکہ اوردیگردنیا میں آباد پاکستانیوں نے خوشی کا اظہارکرتےہوئےکہا ہےکہ اللہ کا شکر ہےکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اس وقت ایسی قیادت موجود ہے جواللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کے ذریعے پاکستان کی نمائندگی اور پاکستانی کی سفارتکاری کررہی ہے

  • ایران جوہری پروگرام پر اپنے وعدے پورے کرے تو امریکہ بھی مثبت جواب دے گا    جوبائیڈن

    ایران جوہری پروگرام پر اپنے وعدے پورے کرے تو امریکہ بھی مثبت جواب دے گا جوبائیڈن

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ ایران اپنے وعدے پورے کرے امریکہ مثبت جواب دے گا۔

    باغی ٹی وی :امریکی صدر جوبائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ناختم ہونے والی جنگ کا خاتمہ کر کے سفارتکاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ امریکی صدر نے جامع حکومت سازی اور خواتین کو حقوق دینے کے لیے طالبان پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا کہ امریکہ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 100 ارب ڈالر مختص کر رہا ہے۔ ایران جوہری پروگرام پر اپنے وعدے پورے کرے تو امریکہ بھی مثبت جواب دے گا۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ سرد جنگ نہیں چاہتا بلکہ نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات سے ہٹ کر موسمیاتی تبدیلیوں اور کورونا وائرس جیسے بحرانوں سے متعلق عالمی رہنمائی فراہم کرے گا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ دنیا کو بلاکس میں تقسیم کرنا نہیں چاہتا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بحال کرنے کی غرض سے چین، فرانس، روس، برطانیہ اور جرمنی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے جوہری معاہدہ بحال کیا جائے جس سے امریکہ 2018 میں دستبردار ہوا تھا۔

    یہ ہماری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن دہائی ہےجو ہمارے مستقبل کا لفظی تعین کرے گی جوبائیڈن

    اس سے قبل اپنی تقریر میں: امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بطور صدر اپنے پہلے ریمارکس میں اپنے ’’ انتھک ڈپلومیسی کے نئے دور ‘‘ کے عالمی نقطہ نظر کو بیان کیا ، اور دنیا سے مشترکہ چیلنجز پر مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا۔

    کوویڈ 19 وبائی امراض کے درمیان اسے "انتہائی درد اور غیرمعمولی امکانات کے ساتھ ملنے والا لمحہ” قرار دیتے ہوئے ، بائیڈن نے کہا کہ "مشترکہ غم ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ہمارا اجتماعی مستقبل ہماری مشترکہ انسانیت کو پہچاننے ، اور مل کر کام کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔”

    بائیڈن نے اپنے اس عقیدے کو دہرایا کہ یہ ایک "تاریخ کا موڑ نقطہ” ہے اور "دنیا کے لیے فیصلہ کن عشرہ ہونا چاہیے” کا طلوع فجر ہے۔

    انہوں نے اس لمحے کو دنیا کی جمہوریتوں کے لیے ایک موقع کے طور پر مرتب کیا ، اور اس وقت تاریخ میں جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے ایک سوال کے طور پر کہ کیا جمہوریت آمریت پر غالب آ سکتی ہے؟

    "کیا ہم اس انسانی وقار اور انسانی حقوق کی تصدیق کریں گے اور ان کی پاسداری کریں گے جن کے تحت سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل قوموں اور مشترکہ کاز نے یہ ادارہ بنایا تھا؟” بائیڈن نے پوچھا۔ انہوں نے مزید کہا ، "یا ، ننگے سیاسی طاقت کے حصول میں ان آفاقی اصولوں کو روندنے اور مروڑنے کی اجازت دیں؟ میرے خیال میں ، ہم اس لمحے ان سوالات کے جواب کیسے دیں گے ، چاہے ہم اپنے مشترکہ مستقبل کے لیے لڑنے کا انتخاب کریں یا نہ کریں ، آنے والی نسلوں کے لیے پھر سے گونجیں گے۔

    صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ وبائی بیماری کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کریں اور اگلی وبا کو روکنے کے لیے اقدامات کریں ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کریں ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کو عالمی سطح پر مضبوط کریں ، اور تجارت ، سائبر ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور دہشت گردی کے خطرے پر تعاون کریں۔ .

    صدر بائیڈن نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ امریکہ سوویت یونین کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری تعطل کی طرح تنازعات کے عالمی دور میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

    بائیڈن نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ، "امریکہ مقابلہ کرے گا ، اور بھرپور انداز میں مقابلہ کرے گا ، اور ہماری اقدار اور ہماری طاقت کے ساتھ قیادت کرے گا۔”

    انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے لیے کھڑا ہوگا اور کمزور ممالک پر غلبہ حاصل کرنے والے مضبوط ممالک کی کوششوں کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے طاقت ، اقتصادی جبر اور غلط معلومات کے ذریعے علاقے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیا جو کہ امریکہ کی مذموم سرگرمیوں کی مثال ہے۔ پھر بھی ، انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو جارحیت سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا ، "ہم تلاش نہیں کر رہے ہیں – اسے دوبارہ کہیں ہم نئی سرد جنگ یا سخت بلاکس میں بٹی ہوئی دنیا کے خواہاں نہیں ہیں۔”

    انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ایسی قوم کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے جو مشترکہ چیلنجز کے لیے پرامن حل کی طرف قدم بڑھائے اور اس کا پیچھا کرے ، یہاں تک کہ اگر ہم دوسرے علاقوں میں شدید اختلاف رکھتے ہیں ، کیونکہ ہم سب اپنی ناکامی کے نتائج بھگتیں گے۔

    صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے 30 منٹ سے زیادہ کے تبصرے کو سمیٹتے ہوئے عالمی برادری کو ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے پیچھے ایک پرامید اپیل کے ساتھ چیلنجوں کی فہرست سے ملاقات کی جو انہوں نے بطور صدر اپنے پہلے خطاب میں پیش کی تھی۔

    بائیڈن نے کہا ، "مجھے واضح ہونے دو ، میں اس مستقبل کے بارے میں ناگوار نہیں ہوں جو ہم دنیا کے لیے چاہتے ہیں۔” "مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو انسانی وقار کو اپناتے ہیں۔ اسے روندنا نہیں۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو اپنے لوگوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں ، نہ کہ ان کو روکنے والے۔

    بائیڈن نے کہا کہ جمہوریت پرامن مظاہرین ، انسانی حقوق کے علمبرداروں ، صحافیوں ، بیلاروس ، زیمبیا ، شام اور کیوبا جیسے ممالک میں آزادی کے لیے لڑنے والی خواتین میں رہتی ہے ، جبکہ جمہوریت میں امریکہ کی اپنی جدوجہد کو سراہ رہے ہیں۔

  • پاکستان کا  سعودی وزیر خارجہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

    پاکستان کا سعودی وزیر خارجہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مسئلہ کشمیر پر بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ اور پاکستان و بھارت کے درمیان تنازعہ قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے تصفیہ طلب مسئلے کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے پر زور دیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کئی بار ثالثی کی۔

    مسائل کے حل کے لئے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے سعودی وزیر خارجہ

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ہر پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بھارت نے مسترد کیا ہے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے پرامن اور بذریعہ مذاکرات حل کی بات کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد پہ زور دیتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف سے ہمیشہ سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک کو آگاہ کرتا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے دورے کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایک دن قبل بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے اور درست وقت میں ہم دونوں ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی ہائی کمشنر

    سعودی وزیر خارجہ نے یہ انٹرویو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد دیا ہے کہا کہ مذاکرات کے لیے درست وقت کا تعین پاکستان اور بھارت پر منحصر ہے۔

    مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا تاہم ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ مسائل کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اسی دورے کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ طالبان حکومت تسلیم کرنے کے لیے انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

    یہ ہماری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن دہائی ہےجو ہمارے مستقبل کا لفظی تعین کرے گی جوبائیڈن

    افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔

    انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔