Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شاہ محمود کی بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سے ملاقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    شاہ محمود کی بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سے ملاقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    نیویارک :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس کے موقع پر، بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محترمہ سوفی ولیمز کے ساتھ ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دوران ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گذشتہ ماہ ہونیوالی ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، بیلجیئم کو یورپی یونین میں پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار سمجھتا ہے-

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی ترجیحات کے ایجنڈے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے وزیر خارجہ نے پاکستان اور بیلجیئم کے درمیان دو طرفہ تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا –

    وزیر خارجہ نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے پاکستان کی حمایت پر بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیادونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی-

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان سمیت پورے خطے کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل ہےافغانستان میں انسانی و اقتصادی بحران کے خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے، عالمی برادری کو چاہیے کہ افغان عوام کی معاونت کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے-

    انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت میں، افغان عوام کی انسانی و معاشی معاونت، عالمی برادری کی طرف سے مثبت پیغام رسانی کا ذریعہ ثابت ہو گی-

    بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محترمہ سوفی ولیمز نے کابل سے بیلجیئم کے سفارتی عملے کے محفوظ انخلا میں پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ خصوصی تعاون پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا-

    دونوں وزرائے خارجہ کا دو طرفہ تعلقات کے استحکام اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا-

  • جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ، وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب

    جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ، وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب

    اسلام آباد : جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ، وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ نئی دہلی جموں وکشمیرتنازعہ کےمعاملے پرخودساختہ آخری حل کی طرف بڑھ رہاہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو مسلم اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نےکہا کہ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی شہیدکی نمازجنازہ میں شرکت کے لیے اہل خانہ کو روکا گیا جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا اور کئی سینئر رہنماؤں کو قید کیا ہوا ہے ۔

    انہوں نےکہا کہ بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنیوا کنونشن کے خلاف ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن کا خواہشمند ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 11ستمبر کے بعد کچھ حلقو ں نے اسلام کودہشت گردی سے جوڑ ا جس کی وجہ سے دائیں بازو کی انتہاہ پسندی بڑھی جبکہ اسلامو فوبیا جیسے رجحان کا ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔

    اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا افغانستان کے معاملے پرامریکا اور یورپ کے کچھ رہنماؤں نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جبکہ افغان جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اس کے علاوہ پاکستان میں اس وقت 30 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں۔

    جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے’

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر کانقصان ہوا جبکہ 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں اور افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے کہا کہ دنیا کو اس وقت کورونا، معیشت اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کاسامنا ہے جبکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں سے ایک ہے۔

    عمران خان نے مزیدکہا کہ قابل تجدید توانائی کا حصول اور جنگلات کا تحفظ ہماری ترجیحات ہیں اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

     

    انہوں نےکہا کہ پاکستان اب تک کورونا پر بڑی حد تک قابو پانے میں کامیاب رہا اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کورونا کے خلاف ہماری منصوبہ بندی کا محور رہے

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ وزیراعظم

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ وزیراعظم

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ وزیراعظم
    وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں آپ کو اقوامِ متحدہ کے چھہترویں اجلاس کیلئے منصبِ صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں
    میں آپ کے پیشرووالکن باسکر کو بھی ان کی کامیابیوں پر خراجِ تحسین پیش کروں گا جنہوں نے مہارت ساتھ کووڈ انیس کی عالمی وباکی وجہ سے درپیش مشکل حالات کے دوران راہنمائی فراہم کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کا کہ دنیا کو کووڈ انیس کے ساتھ ساتھ معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرے کی وجہ سے درپیش خطرات جیسےتین طرفہ چیلنج کا سامنا ہے۔ وائرس اقوام اور لوگوں کے درمیان تفریق نہیں کرتا۔نہ ہی غیر یقینی موسمیاتی رویوں کی وجہ سے آنے والی تباہیاں یہ تفریق کرتی ہیںہمیں درپیش مشترکہ خطرات نہ صرف بین الاقوامی نظام کی نزاکتوں کو آشکار کررہے ہیں بلکہ وہ انسانیت کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے اب تک پاکستان کووڈ کی وبا کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔باہمی تعاون کی ہماری منصوبہ بندی جس کا محور سمارٹ لاک ڈاؤن تھے کی بدولت ہمیں انسانی زندگیوں اور معاش کو چلائے رکھنے میں مدد ملی اور ہماری معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہاہمارے سماجی تحفظ کے پروگرام ’احساس‘ کی بدولت ڈیڑھ کروڑخاندان کورونا بندشوں کی سختیوں سے عہدہ برآہونے میں کامیاب رہے۔جنابِ صدر! موسمیاتی تبدیلی ہماری بقا کو درپیش خطرات میں سے ایک ہے جن کا ہمارے سیارے کو سامنا ہےمضر گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہےاس کے باوجود ہم ان دس ممالک میں سے ایک ہیں جو دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اپنی عالمی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہوئے ہم نےاس بابت ایک انقلابی ماحولیاتی پروگراموں کا آغاز کیا ہے دس ارب درخت لگانے کی سونامی مہم کے توسط سے پاکستان میں نئے سرے سے جنگلات اگا رہے ہیں قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہے ہیں،قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں ،اپنے شہروں سے آلودگی کا خاتمہ کر رہے ہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو تیار کر رہے ہیں کووڈ کی عالمی وبا،اس کے سبب معاشی بدحالی اور موسمیاتی ایمرجنسی کے تین طرفہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئےہمیں ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں پہلے نمبر پرویکسین کی یکساں دستیابی یعنی ہر جگہ، ہر شخص کوکووڈ کے خلاف ویکسین لگنی چاہیےاور جتنا جلدی ممکن ہو لگنی چاہیے۔دوسرا، ترقی پذیر ملکوں کو مناسب فنانسنگ کی سہولت لازماً ملنی چاہیے جسےقرضوں کی جامع ترتیبِ نو، او ڈی اے کا حجم بڑھانے اورغیر استعمال شدہ ایس ڈی آر کی دوبارہ تقسیم اور ایس ڈی آرز کا بڑا حصہ ترقی پذیر ملکوں کو الاٹ کرکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ کی سہولت فراہم کر کےیقینی بنایا جا سکتا ہے ہمیں سرمایہ کاری کی واضح منصوبہ بندیوں کو اختیار کرنا چاہیے جو غربت کے خاتمے، روزگار پیدا کرنے، پائیدارانفراسٹرکچر کی تعمیر، ڈجیٹل تقسیم کاخلا کم کرنےمیں مدد گا ر ہوں میں تجویز دوں گا کہ سیکرٹری جنرل دو ہزار پچیس میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کیلئے سربراہ اجلاس بلائیں جس میں پائیدار ترقی کے اہداف کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ان پر عملدرآمدکیلئےکام کی رفتار تیز کی جائے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کی بدعنوان حاکم اشرافیہ کی لوٹ مار کی وجہ سے امیر اور غریب ملکوں کے درمیان فرق خطرناک رفتارسے بڑھ رہا ہے میں اس پلیٹ فارم سے دنیا کی توجہ دولت کی ترقی پذیر ملکوں سے ناجائز اڑان کی جانب مبذول کرواتا آیا ہوں سیکرٹری جنرل کے اعلیٰ سطحی پینل برائے مالیاتی احتساب،شفافیت اورمکمل دیانتداری جسے فیکٹ آئی کہا جاتا ہے نے حساب لگایا ہے کہ سات ہزار ارب ڈالر کے خطیر چوری شدہ اثاثے محفوظ مالیاتی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں اس منظم چوری اور اثاثوں کی غیر قانونی منتقلی کے ترقی پذیر ملکوں پر دور رس منفی اثرات پڑے ہیں اس عمل سے ان کو دستیاب معمولی وسائل کی حالت مزید پتلی ہوتی جاتی ہے غربت کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ،بطورِ خاص جب منی لانڈرنگ کے ذریعے مال ملک سے باہر لے جایا جاتا ہے اس کے نتیجے میں ان ملکوں کی کرنسی پر دباؤ پڑتا ہے اوراس کی قدر میں کمی ہوتی ہے موجودہ رفتار سے جب کہ فیکٹ آئی پینل نے اندازہ لگایا ہے کہ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر ترقی پذیر ملکوں سے نکال لئے جاتے ہیں نتیجتاً تلاش معاش کیلئے امیر ملکوں کی جانب ہجرت کرنے والوں کا ایک بہت بڑاسیلاب آئےگا جو کچھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھارت کے ساتھ کیا وہی کچھ ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ ان کی بدعنوان اشرافیہ کر رہی ہے وہ دولت لوٹ رہے ہیں اور اسے امیرملکوں کے دارلحکومتوں اور ٹیکس جنتوں میں منتقل کر رہے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ملکوں سے چوری شدہ اثاثوں کی واپسی غریب قوموں کیلئےناممکن ہے امیر ملکوں کے لیے نہ کوئی کشش ہے اور نہ ہی کوئی مجبوری
    کہ وہ یہ غیر قانونی طور پر کمائی ہوئی دولت واپس لوٹائیں یاد رہے کہ غیر قانونی طور پر حاصل شدہ یہ دولت ترقی پذیر ملکوں کے عام عوام کی ملکیت ہے میں دیکھ سکتا ہوں کہ مستقبل قریب میں ایک وقت آئے گا جب امیر ملکوں کو ان غریب ملکوں سے معاش کے لیے بری تعداد میں ہجرت کرنے والوں کو روکنے کیلئے دیواریں تعمیر کرنا پڑ جائیں گی مجھے خوف ہے کہ غربت کے سمندر میں چند امیر جزیرےویسے ہی ایک عالمی آفت کی شکل اختیار کر لیں گے جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی نے کی ہے جنرل اسمبلی کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ پریشانی اور اخلاقی تضادات کا باعث بننے والی اس صورتِ حال سے عہدہ برآ ہوا جاسکے غیر قانونی دولت کیلئے موجود ان جنتوں کا نام لے کر انہیں شرمندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ایک جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے دولت کی غیر قانونی اڑان کو روکا اور اس دولت کو واپس لوٹایا جائے اس انتہائی بڑی معاشی نا انصافی کے خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہےکم سے کم سیکرٹری جنرل کے فیکٹ آئی پینل کی سفارشات پر پوری طرح عمل کیا جانا چاہیے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا ک اسلامو فوبیا ایک اور ایسا خوفناک رجحان ہے جس کا ہم سب کو ملکر مقابلہ کرنا ہے نائن الیون کے دہشت گردی کے حملے کے بعد سے کچھ حلقوں کیجانب سےدہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے اس سے دائیں بازو کےخوفناک اور پرتشدد قومیت پرستی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ،جس کے سبب انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں جنزل اسمبلی کی عالمی دہشت گردی کے خلاف پیش بندی نے ان اُبھرتے خطرات کو تسلیم کیا ہے ہمیں امید ہے کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ ان اسلام مخالف رجحانات اور دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جانب سے لاحق کردہ دہشت گردی کے نئے خطرات کا احاطہ کرے گی میں سیکرٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسلامو فوبیا کا تدارک کرنے کےلئے بین الاقوامی مکالمہ شروع کروائیں ساتھ ہی ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے متوازی کوششیں جاری رکھنی چاہیں اس وقت اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں پنجے گاڑھے ہوئے ہے فاشسٹ آر ایس ایس،بی جے پی حکومت کی جانب سے پھیلائے گئےنفرت سے بھرے ہندوتوا نظریات نے بھارت میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمانوں کےخلاف خوف اور تشدد کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے گاؤ ماتا کے جیالوں نے جتھوں کی صورت میں مسلماںوں کو قتل کرناجاری رکھا ہوا ہے وقفے وقفے سے منظم قتلِ عام کا سلسلہ جاری ہے جیسا کہ نئی دہلی میں گزشتہ برس ہوا شہریت کے امتیازی قوانین جن کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے اور بھارت بھر میں مساجد کو شہید کرنے کی مہم اور اس کی اسلامی تاریخ اور ورثے کو مٹانے کی کوششیں جاری ہیں نئی دہلی کی جانب سے ایک ایسے راستے پر چڑھنا جسے وہ بد قسمتی سے جموں کشمیر کے قضیے کا حتمی حل قرار دیتا ہے بھارت نے پانچ اگست دو ہزار انیس سےمسلسل یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں اس نے نو لاکھ قابض فوج کے ذریعےخوف کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے میڈیا اور انٹر نیٹ پر پابندی لگا رکھی ہے پُرامن مظاہروں کو پر تشدد کارروائیوں سے دبارکھا ہے تیرہ ہزارہ کشمیریوں کو اغوا کررکھا ہے جن میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہوا ہے اس نے جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں کشمیریوں کو قتل کر رکھا ہے اس نے اجتماعی سزائیں دینے کی روش اپنائی ہوئی ہے جس میں پورے پورے گاؤں اور مضافاتی علاقے تباہ کر دئیے جاتے ہیں حال ہی میں ہم نے ایک تفصیلی ڈوزئیز جاری کیا ہے جس میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانے سے غیر قانونی قبضے میں رکھے گئے جموں و کشمیر میں ہوئی منظم اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اس جبر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں کوشش کی جارہی ہے کہ اسے مسلم اکثریتی علاقے سے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے بھارتی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کی جموں و کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں قراردادوں میں صاف وضاحت موجود ہے کہ اس قضیے کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کروائے گئے ایک شفافاور آزادانہ استصوابِ رائے میں خطے کے عوام کو کرنا ہے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی کارروائیاں بین الاقوانی قوانین برائے انسانی حقوق اور انسان دوست قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں بشمول چوتھے جنیوا کنونشن کے اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں یہ بدقسمتی ہے کہ دنیا کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رویہ مساویانہ نہیں ہے اور اکثر بڑی طاقتوں کو علاقائی سیاسی معاملات اورکاروباری مفادات مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اپنے دوست ممالک کی خلاف ورزیوں سے صرفِ نظر کرجاتے ہیں ایسے دوہرے معیارات اور بھارت کی صورت میں سب سے نمایاں یہ کہ جہاں آر ایس ایس ،بی جے پی کی حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے بھارتی بربریت کی تازہ ترین مثال عظیم کشمیر رہنما سید علی شاہ گیلانی کی میت کو ان کے خاندان سےزبردستی چھین لینا ہے انہیں ان کی خواہش کے مطابق ،اسلامی طریقہ کار کے مطابق تدفین کے حق سے محروم رکھا گیا بھارت ظلم و جبر کی حالیہ مثال عظیم کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی لاش کو ان کے خاندان سے زبردستی چھیننا ہے
    ان کی خواہش اور اسلامی روایات کے مطابق باقاعدہ نماز جنازہ اور تدفین نہیں ہونے دی گئی۔ یہ کارروائی جس کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہ تھا بنیادی انسانی حقوق کی شائستگی کے خلاف تھا۔ میں اس جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ سید علی شاہ گیلانی کی باقیات کی باقاعدہ اسلامی روایات کے مطابق شہداء کے قبرستان میں تدفین کا مطالبہ کرے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دیگر ہمسائیوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔ گذشتہ فروری میں ہم نے کنٹرول لائن پرجنگ بندی کے 2003 کے معاہدے کا اعادہ کیا۔ امید یہ تھی کہ اس سے دہلی میں حکمت عملی پر دوبارہ غوروخوض ہوگا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے وہ اس بربریت سے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش میں ہے۔ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول بنائے اور اس کے لیے بھارت کو لازماً یہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ نمبر ایک، 5 اگست 2019 سے کیے گئے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو منسوخ کرے، نمبر دو،کشمیر کے عوام کے خلاف ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے نمبر تین، مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں کی جانے والی تبدیلیوں کو روکے اور منسوخ کرے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ بھارت کی فوجی تیاری، جدید جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور عدم استحکام پیدا کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ملکوں کے درمیان موجود ڈیٹیرنسس کو بے معنی کر سکتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اب میں افغانستان کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ کسی وجہ سے افغانستان کی موجودہ صورتحال یعنی وہاں ہونے والی تبدیلی کے حوالے سے
    امریکہ اور یورپ میں بعض سیستدان پاکستان پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے میں چاہتا ہوں کہ سب جان لیں کہ جس ملک نے افغانستان کے علاوہ سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے وہ پاکستان ہے جب ہم 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ 80 ہزار پاکستانی مارے گئے اور ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور یہ کیوں ہوا؟ اسی کی دہائی میں افغانستان پر غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اول میں تھا۔ پاکستان اور امریکہ نے افغانستان کی آزادی کے لیے مجاہدین کو تربیت دی۔ دنیا بھر سے مجاہدین گروپوں، اٖفغان مجاہدین اور القائدہ کو ہیرو سمجھا جاتا تھا۔ صدر رونلڈ ریگن نے 1983 میں ان کو وائٹ ہاؤس میں دعوت دی ایک نیوز رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان کا موازنہ امریکہ کے بانیوں کے ساتھ کیا۔ 1989 میں سوویت یونین افغانستان سے چلا گیا اور اسی طرح امریکی بھی افغانستان کو چھوڑ کر گئے۔ پاکستان کو 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا گیا۔ ہمارے ہاں مذہبی فرقہ پرستی پھیلانے والے عسکری گروپس آگئے جن کا پہلے کوئی وجود نہ تھا۔ بدترین صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک سال بعد امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں۔ آگے بڑھتے ہیں، ایک بار پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اب امریکہ کی زیر قیادت اتحاد اٖفغانستان پر حملہ کرنے جا رہا ہے پاکستان کی طرف سے لوجسٹیکل سپورٹ کے بغیر ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ وہی مجاہدین جن کو ہم نے غیر مللکی قبضے کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا تھا کہ غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ ایک مقدس فریضہ ہے، ایک مقدس جنگ اور جہاد وہ ہمارے مخالف ہوگئے۔ ہمیں شریک کار گردانا گیا انہوں نے ہمارے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ پھر افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے قبائلی علاقے میں جو پاکستان کا جزوی طور پر خود مختار علاقہ ہے اور جہاں ہماری آزادی کے وقت سے کوئی فوج تعینات نہیں کی گئی تھی ان کی افغان طالبان کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی تھی اس لیے نہیں کہ ان کا مذہبی نظریہ ایک ہے بلکہ پشتون قومیت کی وجہ سے جو کہ بہت مضبوط تعلق ہے۔ پھر 30 لاکھ افغان پناہ گزین اب بھی پاکستان میں تھے، وہ سب پشتون ہیں جو کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ 5 لاکھ پناہ گزینوں کا سب سے بڑا کیمپ اور ایک لاکھ افراد پر مشتمل کیمپس ان سب کی افغان طالبان کے ساتھ ہمدردی تھی، کیا ہوا؟ وہ بھی پاکستان کے خلاف ہو گئے۔ پہلی بار پاکستان میں عسکریت پسند طالبان سامنے آئے انہوں نے بھی پاکستانی حکومت پر حملے کیے۔ ہماری تاریخ میں جب پہلی بار ہماری فوج قبائلی علاقوں میں گئی جب بھی فوج شہری علاقوں میں جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں اور بلا تخصیص نقصان ہوتا ہے۔ اس سے بلا تخصیص نقصان ہوا جس کے نتیجے میں بدلہ لینے کیلئے عسکریت پسندوں کی تعداد دوگنی اور تگنی ہوگئی۔ صرف یہی نہیں، دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ نے پاکستان میں 480 ڈرون حملے کیے ہم سب جانتے ہیں کہ ڈرون حملے اپنے ہدف کو درست نشانہ نہیں لگا سکتے۔
    وہ ان عسکریت پسندوں کے مقابلے میں جن کو وہ نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں زیادہ نقصان کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے پیارے مارے گئے انہوں نے پاکستان سے بدلہ لیا۔ 2004 اور 2014 کے درمیان 50 مختلف عسکری گروپ پاکستان کی ریاست پر حملہ آور تھے۔ ایک وقت تھا جب میرے جیسے لوگ پریشان تھے کہ کیا ہم اس صورتحال کا کامیابی سے مقابلہ کر لیں گے۔ پاکستان میں ہر طرف بمب دھماکے ہو رہے تھے۔ہمارا دارالحکومت ایک قلعے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ اگر ہماری فوج نہ ہوتی جو کہ دنیا کہ انتہائی منظم افواج میں سے ایک ہے اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسی بھی دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان نیچے چلا جاتا۔ جب ہم اس طرح کی باتیں سنتے ہیں جب امریکہ میں انٹرپریٹرز وغیرہ اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے اس کی مدد کی پریشانی ظاہر کی جاتی ہے تو ہمارے بارے میں کیا خیال ہے۔ ہم نے جو اس قدر مشکلات کا سامنا کیا ہے اس کی واحد وجہ یہ ہے ہم افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکی اتحاد کے ساتھ تھے جہاں افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جارہے تھے۔ ہمارے لیے کم از کم تعریف کا ایک لفظ ہی کہا جاتا لیکن سراہنے کی بجائے تصور کریں
    ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے جب ہم پر افغانستان کے واقعات کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی ہے۔ 2006 کے بعد یہ بات ہر اس کے لیے واضح تھی جو افغانستان کو سمجھتا ہے جو افغانستان کی تاریخ سے آگاہ ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہوگا۔ میں امریکہ گیا، میں نے تھنک ٹینکس کے ساتھ بات کی میں نے اس وقت سینیٹر بائیڈن، سینیٹر جان کیری اور سینیٹر جان ریڈ سے ملاقات کی میں نے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی اگر آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو اسے ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں تین لاکھ نفوس پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے اور اس نے مقابلہ نہیں کیا۔ جس لمحے اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں آئے ہیں اور یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا ک اس وقت ساری عالمی برادری کو یہ سوچنا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے۔ ہمارے پاس دوراستے ہیں اگر اس وقت ہم اٖفغانستان کو پس پشت ڈال دیں گے تو افغانستان کے آدھے عوام جن کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اگلے سال تک افغانستان کے نوے فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ ہمیں آگے ایک بہت بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے جس کے سنگین اثرات افغانستان کے ہمسائیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر جگہ ہوں گے اگر غیر مستحکم اور بحران سے دوچار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں کیوں آیا تھا؟ اس لیے آگے جانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم افغان عوام کی خاطر لازمی طور پر موجودہ حکومت کو مستحکم کریں ۔ طالبان نے کیا وعدہ کیا تھا، وہ انسانی حقوق کا احترام کریں گے، وہ ایک مخلوط حکومت بنائیں گے، وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کو استعمال کرنے نہیں دیں گے اور انہوں نے معافی کا اعلان کیا ہے۔ اگر اب عالمی برادری ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے تو یہ سب کے لیے کامیابی ہو گی، کیونکہ یہ وہ چار چیزیں تھیں جب دوحہ میں امریکہ کے طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے اور بات چیت کا محور یہی باتیں تھیں۔ اگر دنیا اس سمت میں آگے بڑھنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو امریکہ اتحاد کی افغانستان میں 20 سال کے دوران کی جانے والی کوششیں ضائع نہیں ہوں گی کیونکہ افغانستان کی سرزمین بین الاقوامی دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔ میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے سب پر زور دوں گا کہ یہ افغانستان کے لیے نازک وقت ہے۔ آپ وقت ضائع نہیں کر سکتے، وہاں امداد کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو اس مقصد کیلئے متحرک کریں، شکریہ۔

  • خاران میں خفیہ معلومات پر آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک

    خاران میں خفیہ معلومات پر آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ:خاران میں خفیہ معلومات پر آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دشمنوں کی طرف سے دہشت گردی کی کارروائیوں کےلیے بھیجے گئے دہشت گرد بالآخراپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں ، آئی ایس پی آر کے مطابق ایف سی بلوچستان نے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کرکے 6 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق فرنٹیر کور (ایف سی) بلوچستان نے خاران کے قریب دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر آپریشن کیا، یہ آپریشن خفیہ اطلاعات پر کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے اپنے ٹھکانے سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اسی دوران ایف سی جوانوں کی جانب سےعلاقے کا محاصرہ کیا جس کے باعث دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایف سی بلوچستان کی جانب سے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو کمانڈروں سمیت 6 دہشتگرد مارے گئے جبکہ بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کمانڈر گل میر، کلیم اللہ بولانی شامل ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ  :خطے اورعالمی حالات پربریفنگ

    وزیراعظم عمران خان کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ :خطے اورعالمی حالات پربریفنگ

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ:خطے اورعالمی حالات پربریفنگ ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، دورے کے دوران تینوں مسلح افواج کے سربراہ بھی ہمراہ تھے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا، دورے کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی اور چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

     

     

    پاکستانیوں کے کپتان وزیراعظم عمران خان کا انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شرکاء کا استقبال کیا۔

    آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں قومی اور عسکری قیادت کو ملکی سلامتی اور افغانستان کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں خطے کے در پیش تبدیلیوں پر بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کو در پیش چیلنجز کے خلاف آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

    اس سے قبل امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان میں بحران ختم کرنے کے لیے امریکا بھی کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان اور امریکا کو افغانستان سے دہشتگردی کو روکنے کی ضرورت ہے، افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے افغانستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ انخلا کے عمل کے دوران امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست تعاون تھا، دوحہ امن عمل کے دوران امریکا نے طالبان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کیا، طالبان امن کے لیے امریکا کے پارٹنر بن سکتے ہیں، امریکا نے افغانستان سے اپنی مرضی سے انخلا کیا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ انخلا سے عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو فرق پڑے گا البتہ کابل سےافرا تفری کی صورتحال میں انخلا سے امریکا پرمنفی اثرات ہوسکتے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا بھی افغانستان کی بحالی اور تعمیر نو میں مثبت کردار ادا کرسکتاہے، امریکا افغانستان میں نئی حکومت سے مل کرمشترکہ مفادات اور خطےکے استحکام کو فروغ دے سکتا ہے، امریکا اور خطے کی تمام بڑی طاقتوں کے درمیان تعاون ہی تباہی سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کورونا اور سابقہ حکومتوں کی ناکامیوں کی وجہ سے افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے، چین افغانستان کو معاشی مدد فراہم کرتا ہے تو افغان اسے قبول کر لیں گے جب کہ طالبان نے سی پیک میں شامل ہونے اور چین سے تعلقات قائم کرنے کے امکانات کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان کے خلاف کالعدم ٹی ٹی پی ہزاروں دہشتگرد حملوں کی ذمے دار ہے۔

  • بھارت زیادہ ہتھیار جمع کرکے پاکستان کو دھمکانا چاہتاہے ،وزیراعظم

    بھارت زیادہ ہتھیار جمع کرکے پاکستان کو دھمکانا چاہتاہے ،وزیراعظم

    بھارت زیادہ ہتھیار جمع کرکے پاکستان کو دھمکانا چاہتاہے ،وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے ،

    وزیراعظم عمران خان کا امریکی جریدے نیوز ویک کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ کابل میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے حکام کے ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا ،افغانستان بحران کا شکارہے ،جس کی بحالی کے لیے کام کرنا ہوگا،طالبان امن کے لیے امریکہ کے شراکت دار ہوسکتے ہیں،خطے میں امن کے لیے امریکہ اور علاقے کی تمام طاقتوں کا تعاون ضروری ہے،امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں عبوری دور مشکل ہے،پورے افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد امن کی امید ہے،افغانستان میں دہشتگرد گروپس کو غیر موثر کرنے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ کام کرنا ہوگا، افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کو غیر موثرکرنے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ کام کرنا ہو گا،

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ دونوں افغانستان سے دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں،پاکستان اور امریکہ کو افغانستان میں استحکام اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مدد دینا ہوگی،امریکہ افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے، افغانستان میں مستقل حکومت کا قیام جلد کئے جانے کی امید ہے،افغانستان میں مستقل حکومت کا قیام جلد کیے جانے کی امید ہے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کافیصلہ ہمسایہ ممالک کی مشاورت سے کریں گے پاکستان کو کالعدم ٹی ٹی پی اوردیگر دہشت گردگروپوں سے لاحق خطرات پر تشویش ہے،بھارت خطے میں اپنی بالادستی چاہتاہے بھارت زیادہ ہتھیار جمع کرکے خطےمیں بالادستی چاہتاہے بھارت زیادہ ہتھیار جمع کرکے پاکستان کو دھمکانا چاہتاہے ہے بھارت کی 70فیصد فوجی قوت پاکستان کے خلاف تعینات ہے،بھارت کو جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیار کی فراہمی سےخطے میں ہتھیاروں کی دور شروع ہوگی،

  • پی آئی اے میں فی جہاز 280 ملازمین، سی ای او پی آئی اے کی معذرت

    پی آئی اے میں فی جہاز 280 ملازمین، سی ای او پی آئی اے کی معذرت

    پی آئی اے میں فی جہاز 280 ملازمین، سی ای او پی آئی اے کی معذرت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف آئی اے کوبھیجے گئے آڈٹ پیروں پر پیش رفت نہ ہونے پر ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرلیا،
    نیب کوبھیجے گئے آڈٹ پیروں پر ایک ہفتہ کے اندرکیس رجسٹرڈ کئے جائیں۔کمیٹی کی ہدایت
    پی آئی اے میں فی جہاز 280 ملازمین کام کررہے ہیں ،سی ای او پی آئی اے
    کروناکے باوجودکل 23جہازوں میں سے 18 جہاز آپریشنل ہیں ،ارشدملک
    2016میں جہازاور آئی پیڈ کرائے پر لینے کی وجہ سے ہونے والے نقصان پر ایف آئی اے سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب
    پی آئی اے پرائمیر سروس کی وجہ4ماہ میں 3ارب 19 کڑور71لاکھ 62ہزار کانقصان ہوا تھا

    اسلام آباد (محمداویس) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف آئی اے کوبھیجے گئے آڈٹ پیروں پر پیش رفت نہ ہونے پر ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرلیا،کمیٹی نے بیب کوہدایت کی کہ نیب کوبھیجے گئے آڈٹ پیروں پر ایک ہفتہ کے اندرکیس رجسٹرڈ کئے جائیں ۔ سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے کمیٹی کوخوشخبری سنائی کے پی آئی اے میں فی جہاز ملازمین کا تناسب کم ہوکر 280 ہوگیاہے ،کرونا کے باوجودکل 23جہازوں میں سے 18جہازآپریشنل ہیں ۔2016 میں جہازاور آئی پیڈ کرائے پر لینے کی وجہ سے ہونے والے نقصان پر ایف آئی اے سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس فائل کرنے کی ہدایت کردی ۔پی آئی اے پرائمیر سروس کی وجہ 4 ماہ میں 3ارب 19 کڑور71 لاکھ 62 ہزار کا نقصان ہوا تھا۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیرمین رانا تنویر حسین کی سربراہی میںپارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹرشیری رحمن،سینیٹر مشاہدحسین سید، منزہ حسن، سید حسین طارق ،سینیٹرطلحہ محمود ،خواجہ شیراز محمود، محمد ابراہیم خان، خواجہ آصف اور ریاض فتیانہ جبکہ نوید قمر نے ان لائن شرکت کی ۔کمیٹی میں سیکرٹری ایوی ایشن سی ای او پی آئی اے ارشد ملک جبکہ آڈٹ حکام نے شرکت کی ۔کمیٹی میں پہلا دن ہونے پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان محمداجمل گوندل کو خوش آمدید کہا گیا۔محمد اجمل گوندل نے کہا کہ آڈٹ رپورٹس میں بہت محنت ہوتی ہے کوشش ہوگی کہ اس نظام کومزید بہترکیا جائے ۔نیب حکام نے کمیٹی کی طرف سے نیب کوبھیجے جانے والے پیروں کے بارے میں بریفنگ دی ۔

    نیب حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ کمیٹی کے آڈٹ رپورٹ کے پیرے براہ راست نیب ہیڈکوارٹر کے پاس جاتے ہیں ۔وہاں سے انکوائری کا حکم دیتے ہیںسب سے پہلے ان کیسوں کا حل کرتے ہیں جس میں ہمارے اپنے ملازمین ملوث ہوتے ہیں اس کے بعد دیگر کیسوں پر کاروائی کرتے ہیں ۔307پیرے پی اے سی سے ہمیں آئے ہیں ۔100ملین کے اوپر والے پیروں پرکیس کرتے ہیں پی اے سی بھیج دے تو اگر کم بھی ہوتو کیس رجسٹرڈ کرتے ہیں۔ 198پیرے پر نیب کے کیس بنے 54پر انکوائری ہورہی ہے ۔91کی تفتیش مکمل ہوکر عدالت میں چلے گئے ہیں۔ 13ریفرنس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ہم پیرے نیب کو بھیج دیتے ہیں مگر ان کا نتیجہ نہیں آرہاہے ۔ ان پیروں کو کیوں حل نہیں کیا جارہاہے ۔دو سال سے لوگوں کو گررفتار کرکے رکھا ہواہے مگر اس پر کیس نہیں ہورہاہے ۔ طلحہ محمود نے کہاکہ دو سال سے تفتیش جاری ہے جو دو سال ان کہ زندگی کے خراب ہوگئے اس کا کون جواب دے گا ۔ نیب حکام نے کہاکہ خورشيد شاہ کے خلاف ریفرنس ایک سال سے عدالت میں ہے چیرمین کمیٹی نے کہا کہ اس کیس پر جتنی بات کریں گے چیرمین نیب کے دوبارہ بننے کا امکان اور زیادہ ہوجائے گا ۔نیب نے کہاکہ ہائی کورٹ سے خورشید شاہ کی دو مرتبہ ضمانت مسترد ہوئی ہے اگر عدالت ان کو ریلیز کرنا چاہے تو کرسکتی ہے ان پر کیس سخت ہے جس کہ وجہ سے ان کہ ضمانت نہیں ہورہی ہے ۔طلحہ محمود نے کہاکہ میرٹ پر چلیں جس کا کیس ہے اس کو ٹرائل کریں ۔نوید قمر نے کہا کہ مجھے نیب نے حراست میں لیا اور سوادو سال قید میں رکھا اور عدالت نے چھوڑ دیا نیب سزا پہلے دیتا ہے اور جرم بعد میں ڈھونڈا جاتا ہے ۔مجھے کہا گیا کہ آپ تھوڑے سے پیسے دے دیں تو آپ کورہا کردیا جائے گا میں نے نہیں دیئے تو سواسال مزید قید رہا۔ منزہ حسن نے کہاکہ گرفتار کرنے سے پہلے آپ کے پاس کیا ثبوت ہوتے ہیں ۔نیب حکام نے کہا کہ گرفتار کرنے کے بعد ہم عدالت میں ملزم کو لے جاتے ہیں عدالت ہمارے ثبوت دیکھتی ہے اور اس کے بعد فیصلہ کرتی ہے ۔چیرمین نے کہا کہ 1عشاریہ 8 کھرب روپے کے ایف بی آر کے کیس سٹے آڈر پر ہیں مگر وکیل صحیح نہیں ہوتے نیب کے تووکیل بھی خفیہ ہوتےہیں۔ نیب حکام نے کہا کہ وکیل خفیہ نہیں ہوتا کیوں کہ وہ عدالت پیش ہوتا ہے کل سپریم کورٹ میں24کڑور روپے کے وکیل کے خلاف ہم نے کیس جیتا ہے 60فیصد کیس میں ہمارے حق میں فیصلہ ہوتا ہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جو کیس ہم نیب کو بھیجتے ہیں اس پر جلد عمل درآمد ہونا چاہیے جس کیس میں کچھ ہوتا وہ نیب کو بھیجتے ہیں ۔ہمارے پیرے اولین ترجیح میں کریں ہمارے پیرے جوہم نیب کوبھیجتے ہیں نیب میں بھی وہ پڑے رہتے ہیں تو اس کا کیا فائدہ۔ہم چاہتے ہیں کہ ان کیسوں میں ریکوری ہو۔آپ ہمارے تین سال کے کیس کولڈ سٹوریج میں ڈال درہے ہیں ۔کیپسٹی کا مسئلہ ہے تو وہ بڑھائیں۔پی اے سی نے نے تین سال میں 480ارب روپے ریکور کیا ہے مجھے نیب کے پاس موجود اختیاردے دیں تو صبح 2 ہزار ارب روپے ریکور کرکے دے دوں گا ۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تقرری غیرآئینی قراردینے کی درخواست،فیصلہ آ گیا

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نیب حکام نے بتایا کہ25ریفرنس دائر کئے 3انڈر ٹرائل ہیں ۔ 2019کے کیس ریفرنس کے لیے تیار پڑے ہیں جلد چیرمین نیب سے منظوری لے کرریفرنس دائرکردیں گےچیرمین کمیٹی نے کہاکہ کمیٹی نے آج تک کیس نیب کو بھیجے ہیں ان کو ایک ہفتہ میں فائنل کریںاور کمیٹی کورپورٹ کریں۔کچن سروس کوبہتربنانے کے لیے ہونے والے معائدے جس سے پی آئی اے کو67 کڑور سے زائدنقصان ہواکو ایف آئی اے کی رپورٹ پر سیٹل کردیاگیا۔سی ای اوپی آئی اے نے کہاکہ کچن سروس کا بہترکرنے کے لیے یہ معائدہ کیا ۔ آڈٹ حکام کے ساتھ ہم بیٹھتے ہیں انہوں نے دو ہزار میں سے تین کیس سیٹل کئے ہیں ۔ایف آئی اے نے کہاکہ 2005میں پی آئی اے بین الاقوامی سطح پر کچن کی سروس نہیں دے رہے تھے اس کے بعد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو سروس فراہم کرنا شروع کیں اس لیے اس کوسیٹل کردیاجائے ۔طلحہ محمود نے کہاکہ اس کو سیٹل کردیں ۔ریاض فتیانہ نے کہا کہ پی آئی اے اور سٹیل مل سفید ہاتھی بن گیا ہے اس کی مکمل نجکاری کردینی چاہیے ۔ ایٹا رولز کی خلاف ورزی پی آئی اے کررہی ہے میں ان کے خلاف استحقاق کمیٹی میں جانا چاہیے میراکنفرم ٹکٹ انہوں نے ای میل کرکے بتایاکہ جہاز نہیں جارہا ہے ایٹا رولز کے تحت اس صورت حال میں متعلقہ کمپنی کودوسرے ائیرلائن میں اپنے مسافروں کوایڈجسٹ کرناہوتاہے جو نہیں کیاگیا ۔

    سی ای اوپی آئی اے نے کہاکہ میں اس پر معذرت کرتاہوں مگر ایٹا رولز نہیں ہیں کہ ہم مسافر کو دوسرے جہاز میں ایڈجسٹ کریں گے ۔چارٹر کمپنی نے معاہدہ پورا نہیں کیا جس کی وجہ سے فلائٹ منسوخ کی گئی ہم اس کے خلاف عدالت میں ہیں ۔2016 میں پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کے لیے شروع کی جانے والی پرائمیر سروس جس کی وجہ سے منافع کے بجائے پی آئی اے کو 3ارب 19 کڑور71 لاکھ 62ہزار کانقصان ہوا پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ مہنگے جہازکرائے پر لینے کی وجہ سے یہ نقصان ہوا اور یہ معاملہ ایف آئی اے میں ہےیہ سروس صرف 4 ماہ ہی چلی جس سے اتنا بھاری نقصان پی آئی اے کوہوا۔ایف آئی اے حکام نے کہاکہ ایک ہفتہ کے اندر کیس فائل کرلیں گے اس معاملے کو شعبہ قانون کوبھیجاہے جس پر کمیٹی نے شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ 2017 سے ایف آئی اے کے پاس ہے ابھی تک کیس کیوں فائل نہیں ہواہے آپ چیزوں کوسردخانہ میں ڈال دیتے ہیں ہمیں آپ کو کہنا پڑتا ہے کمیٹی نے ایف آئی اے کوبھیجے گئے پیروں پر کوئی پیش رفت نہ ہونے پر ڈی جی ایف آئی اے کو اگلے اجلاس میں طلب کرتےہوئے ایک ہفتہ میں رپورٹ طلب کرلی

    ۔2016 میں پی آئی اے میں کرائے پر آئی پیڈ خرایدنے جس کی وجہ سے پی آئی اے کو 9کڑور90 لاکھ 20 ہزار روپے کانقصان ہواپر بھی آڈٹ حکام نے بتایاکہ یہ پیرابھی ایف آئی اے کے پاس ہے جس پر ایک ہفتے میں جواب طلب کرتےہوئے ہدایت دی کہ جلد ازجلداس کاکیس فائل کیا جائے ۔سی ای او پی آئی ا ےارشد ملک نے کمیٹی کوبتایا کہ ہم نے سول ایوی ایشن کے ساتھ ایف بی آر اور پی ایس او کے بقایاجات دینے ہیں ۔افغانستان کے لیے چارٹر فلائیٹ چلا رہے ہیں کرونا کے باوجود پی آئی اے کے بیڑے میں 18 جہازآپریشنل ہیں جبکہ جہازوں کی تعداد23 ہے ہم نے فی جہازملازمین کی تعداد کم کرکے 280 کردی ہے ایک نیاجہاز لیز پر حاصل کرلیاہے مزید ایک چنددن میں پاکستان آجائے گاجبکہ بورڈ سے منظوری کے بعد مزید 4جہاز پی آئی اے میں شامل کریں گے ۔ سکردو کے لیے ڈائریکٹ فلائیٹ شروع کی ہیں۔

  • کون ہو گا نیا چیئرمین نیب؟ وزیر قانون نے اشارہ دے دیا

    کون ہو گا نیا چیئرمین نیب؟ وزیر قانون نے اشارہ دے دیا

    کون ہو گا نیا چیئرمین نیب؟ وزیر قانون نے اشارہ دے دیا

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ نےطلبا پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کی، سینیٹر سردار شفیق ترین نے کہا کہ معاملہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بھیجا جائے،سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا،افغانستان میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے،حکومت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے سے کیوں کترا رہی ہے؟ افغانستان کے معاملہ پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے،

    سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلب زیادہ ہونے کے باعث گندم درآمد کی گئی زرعی اصلاحات کی جارہی ہیں کسان کارڈ کا اجرا کیا جارہا ہے، زراعت میں ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جارہی ہے،روس میں بھی ای وی ایم مشین کے ذریعے انتخاب ہوئے حکومت چاہتی ہے ملک میں صاف شفاف انتخابات ہوں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے دھاندلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے اوورسیز پاکستانی ووٹنگ کا حق استعمال کریں گے،

    سینیٹ میں سینیٹر فیصل جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کرائے گا،ہر صورت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخاب ہونگے ای وی ایم کے حوالے سےکمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے پارلیمنٹ قانون سازی کرے گی

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرڈیننس کا کوئی مسودہ تیار نہیں کیا،چیئرمین نیب کی توسیع پر وزیراعظم کے سامنے 4 سے 5 بارمعاملہ زیر بحث آیا آئندہ ہفتے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کا معاملہ واضح ہوگا ،چیئرمین نیب کے نام کا انتخاب وزیراعظم کی صوابدید ہے،معاملے پر وزیراعظم کو صرف مشورہ دے سکتا ہوں، وزیراعظم چیئرمین نیب کیلئے ایک نہیں مزید ناموں پرغورکریں گے ،وزیراعظم جس امیدوار کومناسب سمجھیں گے وہ چیئرمین نیب ہوں گے،وزیراعظم یواین اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں ،آج مشاورت کرنا مناسب نہیں،

    چیف الیکشن کمشنر پر الزامات، ن لیگ نے بڑا اعلان کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کوحکم دیں کیونکہ تمہارے پاس اس کی بھی ویڈیوز ہونگی،شہری کا مریم نواز کو جواب

    عام انتخابات کی تیاری کی جائے، چیف الیکشن کمشنر کا حکم آ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کی تقرری غیرآئینی قراردینے کی درخواست،فیصلہ آ گیا

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

  • رواں سال نومبر میں پی آئی اے کے لئے آڈٹ ٹیم پاکستان آنے کا امکان

    رواں سال نومبر میں پی آئی اے کے لئے آڈٹ ٹیم پاکستان آنے کا امکان

    رواں سال نومبر میں پی آئی اے کے لئے آڈٹ ٹیم پاکستان آنے کا امکان

    سینیٹ اجلاس میں حریت رہنما سید علی گیلانی کے لیے فاتحہ خوانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا

    سینیٹ میں حریت رہنما سید علی گیلانی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا، اجلاس میں سینئر صحافی سی آر شمسی ، عطا اللہ مینگل اور سیکورٹی فورسز کے شہدا کے لیے بھی فاتحہ خوانی کی گئی وزیر ایوی ایشن ڈویژن غلام سرور نے سینیٹ میں تحریری جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ حیدرآباد ایئرپورٹ آپریشنل ہے،اے ٹی آر 42 لینڈکر سکتے ہیں لیکن ائیرپورٹ کمرشلی وائیبل نہیں ہے،ائیر لائنز پر منحصر ہے کہ وہ مسافروں کو دیکھتے ہوئے ائیرپورٹس سے پروازوں کا آغاز کریں

    وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو 462 ارب روپے خسارے میں ملے،اسے یہی لوگ کھا گئے جو آج سینیٹ میں اعتراض کر رہے ہیں،سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے وزیر ہوابازی کی تقریر پر احتجاج کیا، وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے خسارے میں نمایاں کمی ہوئی ہے،پی آئی اے کونفع بخش ادارہ بنانے کے لئے ہمیں ان روٹس کو بند کرنا ہو گا لاہور اسلام آباد روٹ پر کوئی پرواز نہیں ،لوگ موٹر وے سے جانے کو ترجیح دیتے ہیں ،یورپ سے پی آئی اے پر پابندی عائد تھی ، اپوزیشن کے تحفظات کو دور کیا گیا ،رواں سال نومبر میں آڈٹ ٹیم پاکستان آئے گی اورعائد پابندی ختم ہو جائے گی،

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پی آئی اے کے ہوٹل روزویلٹ کے مالکانہ حقوق کس کے پاس ہیں؟ اسمبلی میں اہم انکشاف

    طالبان کی حکومت،پی آئی اے پہنچنے کابل والی پہلی بین الاقوامی پروازبن گئی

    سینیٹ میں صدر مملکت کے پارلیمان سے خطاب پر شکریہ کی تحریک پیش کر دی گئی صدر مملکت کے خطاب کی تحریک وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کی سینیٹ میں قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کی گئیں قائمہ کمیٹی پیٹرولیم ، داخلہ ، وفاقی تعلیم ،پیشہ ورانہ تربیت ، انسانی حقوق کمیٹیوں نے رپورٹس پیش کیں قومی کمیشن حقوق نسواں ، قائمہ کمیٹی نیشنل ہیلتھ ریگو لیشن اینڈ کوارڈی نیشن نے رپورٹس پیش کیں

    سینیٹ اجلاس میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ وسیلہ روزگار، کرپشن کی وجہ سے بند ہو گیا ، وسیلہ صحت بھی بند ہو گیا وجہ کرپشن تھی ،ہم نے آ کر سب چیک کیا، وسیلہ تعلیم میں ہم نے لڑکیوں کا وظیفہ بڑھایا، این جی اوز کو ٹھیکے نہیں دیئے ہم نے، پہلے ٹھیکے دیئے جاتے تھے ہم نے اسکو روک دیا،

    چیف الیکشن کمشنر پر الزامات، ن لیگ نے بڑا اعلان کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کوحکم دیں کیونکہ تمہارے پاس اس کی بھی ویڈیوز ہونگی،شہری کا مریم نواز کو جواب

    عام انتخابات کی تیاری کی جائے، چیف الیکشن کمشنر کا حکم آ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کی تقرری غیرآئینی قراردینے کی درخواست،فیصلہ آ گیا

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    قومی اسمبلی ، سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش،قرارداد منظور

  • اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اس میں "خطوں کی مساویانہ نمائندگی” میں اضافہ ہونا چاہیے،وزیر خارجہ

    اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اس میں "خطوں کی مساویانہ نمائندگی” میں اضافہ ہونا چاہیے،وزیر خارجہ

    اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اس میں "خطوں کی مساویانہ نمائندگی” میں اضافہ ہونا چاہیے،وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’”United (UFC) for Consensus "‘ کے وزارتی اجلاس سے ورچوئل خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ میں اٹلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے (یو۔ایف۔سی) گروپ کا یہ اہم وزارتی اجلاس آج منعقد کیا۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو درپیش مختلف اقسام کے مسائل کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی ایسی سلامتی کونسل درکار ہے جو زیادہ نمائندہ ، جمہوری، شفاف، موثر اور جوابدہ ہو۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات میں رکن ممالک کا کلیدی مفاد ہے، لہذا اس ضمن میں فیصلے اقوام متحدہ کی رکنیت کی زیادہ سے زیادہ اکثریت کی حمایت یعنی اتفاق رائے سے ہونے چاہیئں۔یہ ہی ہمارے اس گروپ کا نام اور اس کا بنیادی مقصد ہے جو ہمیں متحد کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 23 (1) اور (2) کے مطابق کونسل کی اصلاحات سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اس میں "خطوں کی مساویانہ نمائندگی” میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ایک ایسے قابل قبول فارمولے سے ہی تمام ممالک کو کونسل میں مساوی نمائندگی مل سکتی ہے جس میں غیر مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ ہو اور جمہوری انتخابات کے ذریعے باری باری انہیں یہ منصب تفویض ہو۔علاقائی نمائندگی کے ساتھ باری کے اصول کے مطابق منصب کی تفویض سے ریاستوں کے مختلف گروپس کے ارکان کی مکمل نمائندگی ممکن ہو سکے گی۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں مایوسی و جھنجھلاہٹ پر مبنی اور بین الریاستی مذاکرات میں جی فور کی ساز باز کی کوششیں دیکھنے میں آئیں جس کا مقصد اپنے لئے استحقاق کے نئے مراکز پیدا کرنے کی خاطر دباو استعمال کرنا تھا۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اقوام متحدہ کے ارکان کی بڑی تعداد نے گزشتہ جون میں سامنے آنے والی اس پینترے بازی کی مخالفت کی۔ عجلت میں دی جانے والی ایسی تجاویز کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کے بجائے، جس سے اصلاحاتی نظام پٹڑی سے اتر سکتا ہے اور تنظیم اندر تقسیم کے عمل میں اضافہ ہوگا، ناگزیر امر یہ ہے کہ آئی جی این کے عمل میں بات چیت جاری رکھی جائے۔ رکن ممالک کو مناسب وقت اور گنجائش دی جائے تاکہ وہ تمام امور پر اپنے موقف کو باہم مربوط بناسکیں، وسیع معاملات پر ہم آہنگی پیدا کرسکیں اور اختلافات میں کمی لاسکیں تاکہ اقوام متحدہ کے تمام ارکان کے لئے قابل قبول حل کی راہ ہموار ہو۔ ”سب کے لئے سلامتی کونسل میں اصلاحات“ کی طرف اس سے قابل عمل راہ اور کوئی نہیں۔ تمام عمل کو کچل کر استحقاق کے مناصب کے حصول کے متلاشیوں کا سامنا کرتے ہوئے ہمارے گروپ کے لئے یہ امر ضروری ہے کہ ہم متحد رہیں اور آئی جی این میں بات چیت کے عمل کے دفاع میں باہمی ہم آہنگی سے بھرپور مہم چلائیں۔ہمیں ہر طرح کے منظر ناموں کو سوچتے ہوئے ان کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ ہماری نظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس میں اس گروپ (اتحاد برائے اتفاق) کی ترجیحات میں درج ذیل نکات شامل ہونے چاہئیں اول، ہمیں رکنیت سازی پر مبنی ساکھ کو برقرار رکھنے اور آئی جی این کی مرکزیت کے حامل اصلاحاتی عمل کو قائم رکھنا چاہیے جو تمام رکن ممالک کے مفادات پر مبنی منصفانہ اور شفاف سمجھوتہ سے حاصل ہونے والے حل اور اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی ”ممکنہ طور پر وسیع قبولیت“ کا حامل ہو۔دوم، ہمیں یہ اعادہ کرنا ہوگا کہ یہ عمل ابھی اس مرحلے پر نہیں ہے کہ کوئی ایک ایسا متن وضع ہوسکے جو بات چیت کی ایسی بنیاد مہیا کرے جو رکن ممالک کی اکثریت کی حمایت کا حامل بن سکے کیونکہ متعدد کلیدی پہلووں پر بنیادی اختلاف رائے موجود ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ صدر پر زور دینا چاہئے کہ آئی جی این کے عمل کو اس کی وضع کردہ حدودقیود میں ہی رکھا جائے۔ ہمارا پیغام واضح ہونا چاہئے۔ یک طرفہ یا متازعہ انداز مسلط کرنے کی کوششیں نہ صرف اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کا خطرہ پیدا کریں گی بلکہ بذات خود اصلاحاتی عمل کے اختتام کا باعث بھی بنیں گی۔ سوم، اصلاحاتی عمل پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں میں کی جانے والی صراحت کے مطابق ”ٹھوس‘ اور ”ضابطہ جاتی“ اصلاحاتی عمل کے پہلوﺅں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ ضابطہ جاتی اصلاحاتی عمل میں تبدیلیوں کے لئے رکن ممالک کی رضامندی اور اتفاق رائے درکار ہے۔ مزید برآں ’ضابطہ جاتی‘ درستگیاں ’ٹھوس‘ معاملات کو جواب فراہم نہیں کرسکتیں۔ چہارم، ہمیں افریقہ کے ساتھ اپنی بات چیت کو ازسرنوشروع کرنا ہوگا اور افریقہ کی جائز امنگوں کو پورا کرنے کے راستے تلاش کرنے ہوں گے، تاکہ تاریخی طورپر جو ناانصافیاں ہوئی ہیں، اتحاد برائے اتفاق کی متعین حدود کے اندر رہتے ہوئے ان کی اصلاح کی جائے۔ ہمیں جی فور کی افریقی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فروعی مفادات اور مقاصد کے لئے استعمال کی کوششوں کا بھی تدارک کرنا ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں اصلاحات کے معاملے پر اتحاد برائے اتفاق (یو۔ایف۔سی) اور افریقی یونین کمیٹی آف 10 (سی 10) کے درمیان بات چیت کی ہماری کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ ہمیں چھوٹے ترقی پزیر جزیروں کی حکومتوں تک بھی رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ پنجم، ’یو۔ایف۔سی‘ کا اصلاحات کے معاملے پر اصولی موقف کونسل میں اصلاحات کا ایک ہی عملی حل پیش کرتا ہے۔ رکن ممالک کی اکثریت کی آراءیا تو ’یو۔ایف۔سی‘ کے موقف سے ہم آہنگ ہے یا پھر قریب ہے۔ اس ضمن میں پاکستان ’یو۔ایف۔سی‘ میں سعودی عرب کی شمولیت میں دلچسپی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس گروپ کے رکن کے طورپر سعودی عرب کو بخوشی خوش آمدید کہے گا۔ ہمیں ہم مزاج اور ایک سوچ رکھنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان ممالک کو مکمل یا ایسوسی ایٹ رکنیت دیتے ہوئے اس گروپ کو توسیع دینے اور متنوع بنانے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’یو۔ایف۔سی‘ کے حصے کے طورپر پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کے فروغ کے لئے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا جس کا مقصد کونسل کو عالمی امن وسلامتی قائم کرنے والا ایک جمہوری، زیادہ نمائندہ، جوابدہ، شفاف اور مستعد ادارہ بنانا ہے۔

    @MumtaazAwan

    قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جاپان کے ہم منصب توشی مِٹسو موتیجی کی ملاقات کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ، افغانستان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے سیاسی اور معاشی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان جاپان کو ایک ترقیاتی حوالے سے قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے،آئندہ سال پاک جاپان سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ منانے کا ارادہ رکھتے ہیں،شاہ محمود قریشی نے اپنے جاپانی ہم منصب کو افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا