Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امریکاکےپاس کوئی مربوط پالیسی نہیں:طالبان حکومت کوتسلیم نہ کیاتومسائل بڑھیں گے:وزیراعظم

    امریکاکےپاس کوئی مربوط پالیسی نہیں:طالبان حکومت کوتسلیم نہ کیاتومسائل بڑھیں گے:وزیراعظم

    اسلام آباد:امریکاکےپاس کوئی مربوط پالیسی نہیں:طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیا تومسائل بڑھیں گے: اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے مسائل بڑھیں گے۔ افغان طالبان کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔

    روسی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پورے خطے کیلئے اس وقت افغانستان سب سے اہم موضوع ہے، افغانستان اس وقت تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔ 22 کروڑ عوام کیلئے پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 50ارب ڈالر ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ 3 لاکھ افغان فوج لڑی ہی نہیں، کیا پاکستان نے انہیں لڑنے سے منع کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشتگردی کا بھی خطرہ ہے۔ انخلاء سے دو ہفتے قبل افغان آرمی ہتھیار ڈال دیتی ہے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں افغانستان کے تمام ہمسایہ ملک شریک ہیں، پورے خطے کے لیے اس وقت افغانستان سب سے اہم ہے، وہ تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے، 40 سال کی جنگی صورتحال کے بعد استحکام کی طرف بڑھے گا

    عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت مشترکہ حکومت ہے، بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں، طالبان نے 20 سال میں بہت کچھ سیکھا، امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم نہ سے مسائل بڑھیں گے۔ ہمارے وزیر خارجہ کی امریکی وزیر خارجہ سےبات ہوئی ہے۔ تمام ہمسایوں ملک کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، اس وقت امریکا کی افغانستان کے معاملے پر ایک مربوط پالیسی ہے یا نہیں، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ افغانستان غلط سمت چلا گیا تو مہاجرین کا مسئلہ بڑھے گا۔

    انہوں نے کہا کہ سابق افغان حکومت کو افغانیوں کی اکثریت کٹھ پتلی سمجھتی ہے، سابق افغان حکومت کی افغانیوں کی نظر میں کوئی وقعت نہیں تھی۔

    امریکی وزیر خارجہ کی سینیٹ کو حالیہ دی گئی بریفنگ کے سوال پر جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ ریمارکس پر بہت زیادہ افسوس ہے، پاکستان کو افغانستان میں ناکامی کا ذمہ ٹھہرائے جانے کا سننا ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہے، پاکستان وہ ملک ہے جس نے امریکا کی افغانستان میں جنگ کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی، ہمارا ملک کیسے اس جنگ میں مدد فراہم کرسکتا تھا، امریکا نے جنگ میں دو ہزار ارب ڈالر خرچ کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں امریکی چڑھائی کا حصہ بننے کے لیے کہا گیا جبکہ پاکستان کا نائن الیون کےساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا، ہم نے 150 ارب ڈالر گنوائے اور 70 ہزار سے ز ائد لوگ جاں بحق ہوئے۔ کچھ لوگوں نے پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھا لیے اور فوج اور عوام پر خود کش حملے کیے، 50 مختلف مسلح گروہوں نے بٹ کر پاکستانی ریاست پر حملے کرنا شروع کر دیئے، اس وقت اسلام آباد قلعے کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان ایک حقیقت ہیں، دنیا کے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں، افغان طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ہے، افغان طالبان کے ساتھ بات کرنی چاہیے کیونکہ اب اگر پابندیاں لگائی گئیں تو وہاں پر بہت سارے مسائل ہوں گے، افغانستان کا 75 فیصد انحصار غیر ملکی امداد پر ہوتا تھا۔

    بھارت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اچھے دوست ہیں، کرکٹ وہاں سبھی کو بہت پسند ہے، میں نے نیک نیتی کے ساتھ پوری کوشش کی ہمارے تعلقات بھارت سے اچھے ہو جائیں، مگر بدقسمتی سے بھارت میں اس وقت ایک دہشتگرد نظریے کی حکومت ہے۔ جو پاکستان مخالف نظریہ رکھتے ہیں اور جارحانہ رویے کے حامل ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ مشکل ہو رہا ہے کہ کیسے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھاؤں، پھر انہوں نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر دی، کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے، جس کے بعد بھارت کے ساتھ تمام رابطے منقطع ہو گئے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی بہت فکر ہے مگر کشمیریوں پر نظر کیوں نہیں رکھتا جہاں پر 8 لاکھ فوج کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہی ہے، کشمیریوں کے ہر حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، خواتین کے حقوق کی بات نہیں ہو رہی اور ان کی پامالی ہو رہی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی دستاویزات بھی موجود ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان اورتاجک صدرکے درمیان اہم گفتگوپھراعلامیہ بھی جاری  کردیا گیا

    وزیراعظم عمران خان اورتاجک صدرکے درمیان اہم گفتگوپھراعلامیہ بھی جاری کردیا گیا

    دوشنبے:وزیراعظم عمران خان اورتاجک صدرکے درمیان اہم گفتگوپھراعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق آج تاجک صدر سےبات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ تین دہشتگرد گروپ اب بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔

    تاجک صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کے انعقاد پر تاجک صدر کو مبارک باد دیتا ہوں، دونوں ملکوں کے درمیان اہم گفتگو اور افغان صورتحال سے متعلق بات ہوئی، تاجکستان کے ساتھ تجارت، سیاحت، اطلاعات اور ادویہ سازی سمیت مختلف شعبوں پر بھی بات ہوئی۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پنجشیر کی صورتحال پر فکر ہے، پاکستان اور تاجکستان پنجشیر معاملہ مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں، پنجشیر میں تاجک اور طالبان کے درمیان معاملے کے پر امن حل کے لیے ثالثی پر بات ہوئی ہے، صدر امام علی رحمان تاجک گروپوں پر جب کہ پاکستان پشتون گروپوں پر اثرورسوخ استعمال کرے گا۔

    انہوں نے مزید کہاکہ افغانستان میں امن نا صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، 3 دہشتگرد گروپ اب بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے دورہ تاجکستان کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان تاجکستان نے توانائی کے منصوبوں کو مشترکہ مفاد اور تعاون کے تحت بنانے کا فیصلہ کیا ہے، دونوں ممالک نے ہائیڈرو پروجیکٹس اور ٹرانسمیشن لائنز مشترکہ سرمایہ کاری سے بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان اور تاجکستان نے صحت، فارماسیوٹیکل، میڈیکل، قدرتی آفات اور ایمرجنسی سیکٹرز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، پاکستان اور تاجکستان نے مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

  • اللہ کے فضل وکرم سے مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی: آرمی چیف

    اللہ کے فضل وکرم سے مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی: آرمی چیف

    لاہور:اللہ کے فضل وکرم سے مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے یونیورسٹی کے کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے نوجوانوں کی بہترین تربیت پر یونیورسٹی کی انتظامیہ کی تعریف کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوانوں کو قائد کی سوچ کے مطابق سخت محنت کے ذریعہ اعلی ترین مقام حاصل کرنے پر زور دیا۔

     

     

     

    پاک فو ج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی پاکستان کے تعلیمی اداروں کے تاج میں لگا ایک موتی ہے۔ یونیورسٹی نے دنیا میں قابل ترین افراد پیدا کیے ، ان افراد نے اپنے اپنے شعبہ میں بہت نام کمایا

    ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے بہت پرامید ہوں، ہم ایک محتنی قوم ہیں، نوجوان ہمارا حقیقی اثاثہ ہیں، تمام مشکلات کے باجود عظیم قربانیوں دے کر ہم نے ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے ، اب نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو نئی بلندیوں پر لیجانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔

  • پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے باہر:اوربھی خوشخبری سنادی گئی

    پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے باہر:اوربھی خوشخبری سنادی گئی

    اسلام اباد:پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے باہر:اوربھی خوشخبری سنادی گئی،اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت نے بالآخرپاکستان کوریڈلسٹ سے باہرنکال دیا ہے اورساتھ اوربھی خوشخبری سنادی گئی ہے

    برطانوی حکومت نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ نے بڑے غوروخوض کےبعد پاکستان سمیت 8ممالک کوریڈلسٹ سےنکالنےکافیصلہ ہے

    ادھر بر طانوی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پاکستان سےبرطانیہ آنے والے مسافروں کیلئےپی سی آرٹیسٹ کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے

    ادھر پاکسعتان میں برطانوی سفیر کرسچین ٹرنر نے اہل پاکستان کوخوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ 5 ماہ تک بڑی تکلیف دہ صورت حال میں رہنے کے بعد بالآخرپاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے اس دوران بڑی تکلیف کا سامنا کیا

    برطانوی سفیر نے اپنے پیغام میں اسدعمر،ڈاکٹرفیصل سلطان اوردیگر پاکستانی اداروں کواس کی اطلاع دیتے ہوئے خوشخبری سنائی ہے

    یاد رہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو اس سال اپریل سے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے جبکہ نڈیا کو اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا تاہم پاکستان کو اسی فہرست میں برقرار رکھا گیا تھا۔

    کچھ عرصہ پہلے برطانوی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی حکام کورونا وائرس کے اعداد و شمار سے آگاہ نہیں کررہے ہیں لہٰذا پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ ہویا پھرریڈ لسٹ کا معاملہ:امریکہ افغانستان میں رسوائی کا بدلہ لے گا

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ ہویا پھرریڈ لسٹ کا معاملہ:امریکہ افغانستان میں رسوائی کا بدلہ لے گا

    لاہور:نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ ہویا پھرریڈ لسٹ کا معاملہ:امریکہ افغانستان میں رسوائی کا بدلہ لے گا،ہرطرف ایک ہی کہانی سنائی جارہی ہےکہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پرملتوی کردیا ہے

    اس فیصلے کے پیچھے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی مرضی نہیں بلکہ ان قوتوں کا کھیل ہے جو اس وقت عالمی سازشوں کا حصہ ہیں اور پاکستان سے افغانستان میں ہونے والی رسوائی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں ،

    یہ قوتیں جن کو چین مخالف قوتیں بھی کہا جاسکتا ہے اس وقت سخت ہزیمت اٹھا رہی ہیں ، اس بلاک میں امریکہ کے ساتھ یورپ بھی ہے اورکچھ چین کے فطری مخالف ملک جن میں‌بھارت ، جاپان ، آسٹریلیا ، تائیوان اورکچھ نادیدہ ہمسائیگی کی قوتیں ہیں جوچین کوچین سے نہیں دیکھنا چاہتے

    یہ بھی یاد رہے کہ یہ قوتیں چین کی فتح ، ترقی اورخوشحالی کو پاکستان کے مرہون منت سمجھتے ہیں ، ان قوتوں کا خیال ہے کہ اگرپاکستان چین کا ساتھ نہ دے تو چین کبھی اتنا طاقتورنہ بنتا

    ان قوتوں کا یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان ہویا مشرق وسطیٰ کی لڑائی ، بوسنیا ہویا فلسطین میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت ان سب کےپیچھے پاکستان اورنظریہ پاکستان کارفرما ہے

    اب ان قوتوں کوافغانستان میں جوشکست ہوئی اس شکست نے تو ان کی کمرتوڑ دی ،

    اب جوقوتیں کہہ رہی ہیں کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم سیکورٹی مسائل کی وجہ سے پاکستان نہیں آرہی توان عقل کے اندھوں کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ افغانستان سے یورپین ، آسٹریلین ، نیوزی لینڈ اوردیگرملکوں کے شہری پی آئی اے اوردیگرپروازوں کے ذریعے پاکستان میں پناہ تلاش کرتے کرتے پہنچے اورپھرانہوں نے سکھ اورسکون کا سانس لیا اورجاتے جاتے پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ اگرآپ ہمیں پاکستان نہ لاتے توہم مرجاتے

    یہ نادیدہ قوتیں پہلے بھی پاکستان کے خلاف سازشیں کررہی تھیں اوراب بھی کررہی ہیں ، ایف اے ٹی ایف میں یہی توعوامل کارفرما ہیں

    اب ان نادیدہ قوتوں نے نیوزی لینڈ کوپاکستان جانے سے روک کرکئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے
    سب سے پہلے پاکستانی اپوزیشن کوحکومت اوراداروں کے خلاف پراپیگنڈے کا موقع دیا اوراس جلتی ہوئی آگ پرتیل ڈالا ، کیوں کہ یہ قوتیں جانتی ہیں کہ اگرعمران خان رہا تو پھراس خطے میں امریکہ اوراتحادیوں کی نہیں بلکہ چین اورپاکستان کی حکمت عملی چلے گی اس لیے یہ نادیدہ قوتیں پاکستان کی اپوزیشن کو ایسی گراونڈ فراہم کریں گے کہ جسے حکومت کی ناکامی قرار دے کرامریکہ اوراتحادیوں کے مقاصد کی تکمیل کی جائے گی

    دوسرا یہ تاثردینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کے مسائل ہیں لٰہذا غیرملکی دوروں کاسلسلہ رک جائے چاہے وہ کھیل ہویا تجارت ، تاکہ پاکستان کا امیج ڈاون ہواورپاکستانی حکومت عدم استحکام کا شکار ہو

    کس امریکن نے نیوزی لینڈ حکومت اورکرکٹ بورڈ سے پاکستان نہ آنے کا حکم صادرکیا یہ تو پتا چل گیا ہے لیکن کب کیا ہوا اس کے بارے میں‌ سب باتیں بعد میں پیش کی جائیں گی

    مختصریہ کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا پاکستان مخالف قوتوں کوکمک دینے کی ایک گھٹیا سازش ہے جس کی لپیٹ میں سب آجائیں گے ، کیونکہ پاکستان اب ایسی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا عادی ہو گیا اورشیخ رشید جو کہہ رہے ہیں وہ بھی انہیں نادیدہ قوتوں کا ذکرکررہےہیں ،

  • بشریٰ بی بی پاگل خانے کیوں گئی؟ کم عقل وزیروں کا عوام سے انتقام شروع

    بشریٰ بی بی پاگل خانے کیوں گئی؟ کم عقل وزیروں کا عوام سے انتقام شروع

    بشریٰ بی بی پاگل خانے کیوں گئی؟ کم عقل وزیروں کا عوام سے انتقام شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تاریخ کی مہنگی ترین ، بجلی ، گیس ، پیٹرول ، آٹا ، چینی دینے کی حکومتی کارکردگی اپنی جگہ ۔ پر اس پر ڈھٹائی سے یہ کہنا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں خطے میں اب بھی سب سے کم ہیں۔ پتہ نہیں کہاں سے یہ اعداد وشمار نکال کر لاتے ہیں ۔ ان کو شرم نہیں آتی ۔ روز ٹی وی پر آکر جھوٹ بولتے ہیں ۔ بدمعاشیاں کرتے ہیں ۔ کم از کم یہ عوام کو دلاسہ نہیں دے سکتے تو ان کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو وزیر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی قوتِ خرید بھارت سے بہتر ہے۔ اور اصل حکومتی کامیابی یہ ہے کہ 75 فیصد آبادی کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں مستری اور مزدور کی دیہاڑی بھی 3 گنا بڑھ گئی ہے۔ تو کاش یہ کوئی تین مزدور ہی سامنے لے آئیں جو کھل کر حکومت کی تعریف کر دیں ۔ حالت یہ ہے کہ لوگ جھولیاں بھر بھر ان کوبدعائیں دے رہے ہیں اور یہ ہم کو کہانیاں سنا رہے ہیں۔ کسی کی گڈی چڑھی ہے تو صرف آٹا ، چینی اور دوائی مافیا کی چڑھی ہے ۔ دن بدلے ہیں تو وزیروں کے بدلے ہیں ۔ موجیں لگی ہوئیں ہیں تو عثمان بزدار کی لگی ہوئی ہیں ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو کہا کرتے تھے پروٹوکول نہیں لوں گا ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ خاتون اول بشری بی بی پاگل خانے کے دورے پر گئیں ۔ پروٹوکول گاڑیاں آپ خود گن لیں ۔ آپکو ان سے پہلے والے حکمران مسیحا لگنے لگ جائیں گے ۔ وزیروں مشیروں کے گھر اور ان کے اللے تللے تو اس بیچاری دکھیاری قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے پورے ہوجاتے ہیں ۔ ان کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ فرق پڑتا ہے اس بدقسمت ملک کی غریب عوام کو جن کے دکھ ، درد اور تکلیفیں سننے والا کوئی نہیں ۔ ۔ اس وقت ایک پاکستانی ایک لاکھ 60 ہزار روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ تو حکومت اپنے دوست سرمایہ داروں کو رعایت اور مراعات دے رہی ہے۔ جہاں حکومت لوگوں کوملازمتوں سے فارغ کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ تو اپنے وزیروں اور مشیروں کی فوج میں روز بروز اضافہ ہی کرتی جا رہی ہے ۔ اور ہم جب یہ حقائق بتاتے ہیں آئینہ ان کو دیکھاتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ وزیراعظم نے ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ وزیر اعظم نے شوکت خانم بنایا ۔ وزیر اعظم نے نمل یونیورسٹی بنائی ۔ وزیر اعظم باہر سے پڑھ کر آیا ہے ۔ پرمیں بتا دوں اس قوم کو اب مزید ماموں نہیں بنایا جاسکتا ۔ عوام اس سونامی اور تبدیلی سے بیزار ہوچکی ہے ۔ کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ نہ تو وزیراعظم اپنی کہی کسی بات پر قائم رہا ہے نہ ہی اس نے کوئی کارکردگی دیکھائی ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ مغربی معاشروں کی جمہوریت کا راگ تو بڑا الپاتے ہیں پر پتہ ان کو ٹکے کا نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ تو ان سے ٹھیک چل نہیں رہی ہے ۔ صرف اگر پارلیمانی سطح پر حکومتی چیلنجز کا احاطہ کیا جائے تو عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے آنے والے سالوں میں کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس وقت حکومت کے سامنے ایک لمبا چوڑا اصلاحاتی ایجنڈا موجود ہے جس کو وہ آنے والے سال میں مکمل کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔ اور قانون سازی کے لیے دونوں ایوانوں میں اکثریت کا ہونا ضروری ہے جو کہ حکومت کے پاس موجود نہیں۔ پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی بھی لیول پر کوئی ورکنگ ریلیشن شپ قائم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ویسے تو سیاست میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے اندر یہ ایک متفقہ رائے پائی جاتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کسی بھی صورت میں شہباز شریف ہوں یا پھر آصف علی زرداری، ملاقات تو دور کی بات وہ ان سے کبھی رسمی طور پر ہاتھ بھی نہیں ملائیں گے۔ جیسا کہ حکومت ای ووٹنگ اور بیرون ممالک میں موجود پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حوالے سے قوانین اب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ الیکشن کمیشن میں دو ممبران کی تعیناتی کا معاملہ بھی اب پارلیمان کی ایک مشترکہ کمیٹی کے سامنے آنا ہے۔ کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے تجویز کردہ ناموں کو اپوزیشن رد کر چکی ہے۔ لہٰذا اب یہ معاملہ بھی پارلیمان کے ذریعے ہی حل ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہملک پر ایسی ووٹنگ مشینری مسلط کی جا رہی ہے جس کی دنیا کے دیگر ممالک اور الیکشن کمیشن نے مخالفت کی ہے۔ قریب کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ بھارت میں بھی ای وی ایم استعمال ہوچکی ہے پر وہاں اپوزیشن کے حامی جس بھی پارٹی کو ووٹ ڈالتے۔ مشین سے بی جے پی کا ووٹ ہی نکلتا اس لیے یہ مشین قابل اعتماد نہیں۔ اس کا سافٹ ویئر آسانی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس حکومت کی اعلی کارکردگی یہ ہے کہ اس نے ادروں کو بھی آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ نادرا نے آئی ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ 2.4
    ارب روپے کے معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔س حوالے سے نادرا کی جانب سے الیکشن کمیشن کو خط لکھا گیا ۔ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین نادرا کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا کہ نادرا پہلے بتائے اس نے آئی ووٹنگ کا سابق منصوبہ کیوں چھوڑا؟ آئی ووٹنگ کے سابق منصوبے پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے۔ جوابی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر چھوڑے گئے نظام میں کوئی خامیاں تھیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ پھر اکتوبر میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت بھی ختم ہو رہی ہے۔ آئین کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا ہے ۔ مطلب نئے چیئرمین کاتقرر کرناہے۔ لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعے موجودہ چیئرمین کو مزید چار سال دینا چاہتی ہے۔ حالانکہ موجودہ چیئرمین نیب کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے ۔ دھیلے کا پیسہ انھوں نے ریکور نہیں کیا سارا زور پلی بارگین پر ہی رہا ہے ۔ یعنی الٹا چوروں اور ڈاکووں کو کلین چیٹ دی گئی ہے ۔ حکومت میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ایک بااختیار اتھارٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کو فی الحال تمام میڈیا کی تنظیمیں کلی طور پر رد کر چکی ہیں۔ اب یہ کام بھی پارلیمان کے ذریعے ہی ہو گا۔ لہٰذا اب یہ درد سر حکومت کا ہے کہ وہ کیسے قانون سازی کرتی ہے۔ کیونکہ جو مدد حکومت کو حاصل رہا کرتی تھی اب محسوس یہ ہوتا ہے وہ شفقت کا ہاتھ حکومت کے سر سے ہٹ چکا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں ایک اچھی خاصی تعداد میں آزاد امیدواروں کا کامیاب ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حکومت کی کارکردگی کیا ہے ۔ پھر تحریک انصاف نے اپنے تین سالہ دورِ اقتدار میں ہر وہ کام کیا ہے۔ جس کے خلاف اپوزیشن میں رہ کر وہ جدوجہد کرتی رہی۔ ایک زمانہ تھا کپتان بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی بنیاد کہا کرتے تھے۔ اب تین سال ہو گئے ہیں ۔ تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریزاں ہے۔ سپریم کورٹ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کر چکی ہے۔ مگر حکومت نے انہیں بحال نہیں کیا اور نہ ہی نئے انتخابات کرائے۔ اب الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے وہ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں حکم جاری کر رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو اس پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ صاف لگ رہا ہے حکومت بلدیاتی نظام کا رسک نہیں لینا چاہتی،کیونکہ اس میں مسلم لیگ (ن) خاص طور پر پنجاب میں اکثریت حاصل کر سکتی ہے،جو حکومت کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ۔ دوسری طرف بلدیاتی ادارے مسلم لیگی سیاست کا گڑھ بن سکتے ہیں۔ جو 2023ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک بڑی شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔ آپ دیکھیں عمران خان اپوزیشن لیڈر کے طور پر خود کہتے تھے۔ ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے نام پر گرانٹ دینا ایک کرپشن ہے۔ کیونکہ ترقیاتی کام کرانا بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پر عمران خان نے جہاں اور بہت سے یوٹرن لئے ہیں وہاں یہ یوٹرن بھی لے چکے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز بھی ارکان کو دے رہے ہیں اور بلدیاتی ادارے بھی بحال نہیں کر رہے۔ نہ ہی نئے انتخابات کرانے پر آمادہ ہیں۔ میری نظر میں بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے گڈ گورننس بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ کیونکہ جو کام بلدیاتی ادارے کرتے ہیں۔ وہ بیورو کریسی کر ہی نہیں سکتی۔ بیورو کریسی تو مسائل پیدا کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ حل کرنے کے لئے نہیں۔ پھر وزیراعظم عمران خان ہر دوسرے دن کسی نہ کسی شہر کا دورہ کرتے ہیں اور اپنے کھلاڑیوں کو نئے نئے ہدف دے دیتے ہیں ۔ حالیہ لاہور کے دورے پر ایسا ہی کیا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سیاسی اور انتظامی ٹیم نے پرانے اہداف حاصل کر لیے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے فلاسفر ہر مسئلے کو ماضی کی حکومتوں پر ڈال کر نکلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہر خبر کو جھوٹی خبروں کے بیانیے میں دبا کر متنازع بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کو "مافیاز” کے سر ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تین سال گذر چکے ہیں اور حکومت ایک بھی ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکی جس کی بنیاد پر وہ الیکشن میں جا کر ووٹ مانگ سکیں ۔ پھر حکومتی فیصلے ایسے ہیں کہ جن سے عام آدمی کو کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ حکومتوں کا سب سے بڑا ہدف شہریوں کی بہتر زندگی ہونا چاہیے۔

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آج نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے آگاہ کیا ہے کہ انہیں سیکورٹی کے حوالے سے الرٹ کیا گیا ہے اس لئے یکطرفہ طور پر سیریز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پاکستان نے مہمان ٹیم کی سیکورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کررکھے تھے. ہم نے نیوزی کرکٹ بورڈ کو بھی یہی یقین دہانی کرائی تھی. وزیر اعظم نے ذاتی طور پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ ہماری سیکورٹی انٹیلیجنس دنیا کی ایک بہترین ایجنسی ہے اور مہمان ٹیم کو کوئی سیکورٹی تھریٹ نہیں.نیوزی لینڈ ٹیم کے آفیشلز نے حکومت پاکستان کی سیکورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا.

    دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان کر دیا ،سی ای اونیوزی لینڈ کرکٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے دورہ پاکستا ن جاری رکھنا ممکن نہیں ،

    وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی ہم منصب سے رابطہ کیا،وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ ہم منصب کو یقین دلایا کہ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی میسر ہے ،نیوزی لینڈ ماہرین نے پاکستان کے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نےا حتیاط کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں،ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں

    قبل ازیں نیوزی لینڈ اور پاکستان کرکٹ ٹیم تاحال سٹیڈیم نہیں پہنچ سکی ہے اورانہیں ہوٹل کے کمروں میں ہی رہنے کا کہا گیا ہے ،آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے سینئیر افسران کے ہمراہ روٹ اور سرینا ہوٹل کا دورہ کیا دورے کے دوران مہمان کرکٹ ٹیم کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا مہمان کرکٹ ٹیم نے روٹ اور رہائشی علاقے کے فول پروف سیکورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت کی، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کوتاہی لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی

    پاکستانی سکواڈ میں بابراعظم ، عبداللہ شفیق ، فہیم اشرف، فخر زمان ، حارث روف ،حسن علی ، افتخار احمد ، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد حارث، محمد حسنین، محمد نواز، محمدرضوان، عماد وسیم، سعود شکیل ، شاداب خان ، شاہین شاہ آفریدی ، شاہ نواز دھانی، عثمان قادر، زاہد محمود شامل ہیں ۔نیوزی لینڈ کے سکواڈ میں کپتانی کے فرائض ٹام لتھام انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے علاوہ سکواڈ میں ، فن ایلن ، ہمیش بینیٹ ، بریسویل ، کولن دی گرینڈہوم، جیکب ڈفی ، میٹ ہنری ،سکاٹ کوگلیجن ،کولی میکونچی ، ڈرائل مچل، ہنری نکولس، اعجاز پاٹیل ، راچین راویندرا، بلیئر ٹکنر ، ول ینگ۔

    دوسری جانب راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی سیکیورٹی انتظامیہ نے پاکستان اور نیوز ی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے میچ میں شائقین کے موبائل فون سٹیڈیم میں لے جانے پر پابندی عائد کردی۔ نجی ٹی ہم نیوز کے مطابق شائقین کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلے موبائل فون سٹیڈیم میں نہ لانے کے حوالے سے کیوں نہیں بتایاگیا،سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لئے صرف کورونا ویکسی نیشن کارڈ لانے کا کہا گیا تھا کہ مگر یہاں آ کر موبائل فون پر بھی پابندی کا کہا جا رہاہے جس سے پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔

    دوسری جانب پی سی بی حکام نے واضح کیا کہ موبائل فون پر پابندی کا فیصلہ کرکٹ بورڈ کی طرف سے نہیں بلکہ سٹیڈیم میں سیکیورٹی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

  • قومی اسمبلی ، سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش،قرارداد منظور

    قومی اسمبلی ، سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش،قرارداد منظور

    قومی اسمبلی ، سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش،قرارداد منظور

    اسلام آباد (محمداویس)قومی اسمبلی نے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی شہادت پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی،

    بھارتی حراست میں سید علی گیلانی کی شہادت اور ان کی لاش چھیننے پر عالمی اداروں سے نوٹس لینے کی اپیل کردی گئی۔قرارداد کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی اور ایوان سے واک آؤٹ کرگئے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر شام 5بجے تک ملتوی کردیا گیا ، چوتھے پارلیمانی سال کے پہلے دن ہی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا اجلاس شروع ہوا توکشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی و۔دیگر فوت ہونے والوں کے لیے ایوان میں دعا کی گئی دعا مولانا عبداکبر چترالی نے کی

    دعا کے بعد اپوزیشن نے احتجاج کیا جس ہر سپیکر نے کہاکہ کشمیر حریت رہنما سید علی گیلانی کے حوالے سے قرار داد پاس کرنی ہے جس پر سعد رفیق نے کہاکہ جس طرح اجلاس کو چلایا جاریاہے اس پر ہمیں تحفظات ہیں مگر سید علی گیلانی سب کے لیڈر ہیں اس لیے ہم قرار داد پاس ہونے کے بعد ہم احتجاج کریں گے۔نوید قمر نے کہاکہ جس طرح ایوان کو چلایا جارہاہے اس حوالے سے احتجاج کریں گے قرار داد پاس ہونے کے بعد واک آوٹ کریں گے سعد رفیق نے کہاکہ سید علی گیلانی سب کے لیڈر ہیں

    وزیر مملکت علی محمد خان نے سید علی گیلانی کے حوالے سے قرار داد پیش کی ۔علی محمد خان نے کہاکہ پورا ایوان سید علی گیلانی کے ساتھ ہے پورا پاکستان گیلانی صاحب کے ساتھ کھڑا ہے ۔ سید علی گیلانی کی جدوجہد کا سلام پیش کرتے ہیں انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے زندگی وقف کررکھی تھی ۔ظلم کے خلاف آواز بلند کی پوری قوم ان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہے ۔سید علی گیلانی کی لاش چھینے کی شدید مذمت کرتا ہے عالمی برادری اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے روکے ۔مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی جودجہد میں ضرور کامیاب ہوں گے ۔قرار داد متفقہ طور پر پاس ہوگئی۔قرارداد پاس ہونے کے بعد آغارفیع اللہ نے کہاکہ پی آر اے کو بند کرنے کی مذمت کرتا ہوں اور کورم کی نشاندہی کرتا ہوں جس پر سپیکر نے کہاکہ پی آر اے کے حوالے سے میں موقف دے چکا ہوں ۔اور گنتی کا حکم دیا ۔آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کردی اور ساتھ ہی اپوزیشن واک آؤٹ کرگئی۔ جس پر ایوان میں گنتی کی گئی ایوان میں کورم پورا نہیں تھا جس پر کاروائی معطل کردی گئی اس کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا مگر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر شام 5بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اجلاس طریقے سے نہیں چلایا جا رہا،مشترکہ اجلاس کے دورا ن پریس گیلری بند کر دی گئی،عجلت میں اجلاس بلایا گیا،ہم کورم کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں ، ن لیگی رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نوید قمر کی بات سے اتفاق ہے،عجلت میں اجلاس نہیں بلانا چاہیے تھا .اپوزیشن اراکین نے کورم کی نشاندہی کی جس کے بعدکورم مکمل ہونے تک اجلاس کی کارروائی معطل کر دی گئی

    قومی اسمبلی اجلاس میں کراچی سے اکٹھے ہونے والے ٹیکس کی تفصیلات پیش کر دی گئیں ،وزیر خزانہ نے بتایا کہ کراچی سے گزشتہ مالی سال کے دوران 2 ہزار 737 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا،مالی سال 20-2019 میں 2 ہزار 223 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا یہ تمام ٹیکس کراچی کے کریڈٹ پر نہیں ہیں،تمام اہم کمپنیوں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں، کراچی کیلئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں سے جاری فنڈز کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں کراچی کیلئے گزشتہ مالی سال کے دوران 43 ارب 40 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے،مالی سال 20-2019 کے دوران 8 ارب 67 کروڑ روپے جاری کیے گئے،

    آج کے اجلاس کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ حکومت الیکشن ایکٹ ترمیمی بل آج کے اجلاس میں پیش کرنے جا رہی ہے، بل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کیلئے قوانین شامل ہیں

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے 22 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا،وزارت صنعت و پیداوار کے ماتحت اداروں کی ناقص کارکردگی بارے توجہ ولاو نوٹس ایجنڈا پر موجود ہے حکومت کی طرف سے الیکشن ترمیمی بل2021 کو منظوری کے لئے مشترکہ اجلاس میں بھیجنے کی تحریک پیش کی جائے گی،الیکشن دوسرے ترمیمی بل2021 کو بھی سینٹ سے پاس نہ ہونے کی وجہ سے مشترکہ اجلاس بھیجنے کی تحریک پیش کی جائے گی،فیڈرل گورنمنٹ پراپرٹیز منیجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس ایوان کے سامنے پیش کیا جائے گا،پاکستان بیت المال ترمیمی بل2021 منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا،متروکہ وقف املاک منیجمنٹ اینڈ ڈسپوزل ایکٹ 1975 میں ترمیم کا بل بھی پیش کیا جائے گا،گورنمنٹ سیونگز بنک ترمیمی بل ہر قائمہ کمیٹی فنانس کی رپورٹ پیش کی جائے گی، پوسٹ آفس نیشنل سیونگز سرٹیفیکیٹ ترمیمی بل2021 پر قائمہ کمیٹی فنانس کی رپورٹ پیش کی جائے گی،

    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون دستور پاکستان کے آرٹیکل48 میں ترمیم کا بل پیش کریں گے،ہائیر ایجوکیشن ترمیمی بل21 بھی قانون سازی کے لئے پیش کیا جائے گا،وزیر خزانہ آڈیٹر جنرل کی 2020-21 کی آڈٹ رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے

    دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی قومی اسمبلی اجلاس میں بل کی مخالفت کرنے کی بھر پور تیاری کی گئی ہے، ن لیگ ،پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کی سب جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ کو مسترد کر چکی ہیں، الیکشن کمیشن نے بھی اس پر اعتراض اٹھائے ہیں، جس کے بعد وفاقی وزیر اعظم سواتی نے آگ لگانے کا بیان دیا تھا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    چیف الیکشن کمشنر پر الزامات، ن لیگ نے بڑا اعلان کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کوحکم دیں کیونکہ تمہارے پاس اس کی بھی ویڈیوز ہونگی،شہری کا مریم نواز کو جواب

    عام انتخابات کی تیاری کی جائے، چیف الیکشن کمشنر کا حکم آ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کی تقرری غیرآئینی قراردینے کی درخواست،فیصلہ آ گیا

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف درخواست ،عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

  • عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،وزیراعظم عمران خان

    عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،وزیراعظم عمران خان

    افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی،وزیراعظم عمران خان
    وزیرِ اعظم عمران خان نے تاجکستان کے دورے کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی ہے

    وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کےسربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی پرتاجکستان صدر کے مشکورہیں تجارت، سرمایہ کاری، اور روابط کے فروغ کیلئے تنظیم اہم پلیٹ فارم ہے،ہمیں خطے میں عالمی چیلنجز کا سامناہے اور ہم نے ملکر ان مسائل سے نمٹنا ہے خطے پرعالمی حدت ،ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات مرتب ہوئے،ہم نے بہتر ماحول کے فروغ کے لیے شجرکاری مہم شروع کی ہم نےملک کے ہراس حصے میں پودے لگائے جہاں سبزہ نہیں تھا .شجرکاری مہم کو دنیا کے مختلف ممالک میں سراہا گیا،پوری دنیا کی معیشت کورونا سےمتاثر ہوئی، خطے کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، مل کر کام کرنا ہوگا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ،افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی،ہم نے افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ یکساں موقف رکھا افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آچکی ہے افغانستان کو اپنے حال پر چھوڑا نہیں جاسکتا،عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،افغانستان کوتنہا چھوڑا گیا تو مختلف بحران ایک ساتھ جنم لیں گے،پاکستا ن پر امن افغانستان کا خواہاں ہے پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے ،پاکستان سمجھتا ہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں ،افغانستان میں موجودہ صورتحال میں عالمی تعاون کی ضرورت ہے،افغانستان کے پناہ گزین کو تحفظ چاہیے،جس کے لیے دنیا بھر کوآگے آنا ہوگا ،افغانستان کو انسانی بحرا ن ،خوراک ،بنیادی اشیا اور دیگر چیلنجز کا سامناہے مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے،آزاد خود مختار فلسطین کی حمایت کرتے ہیں .

    پاکستانی وفد کے اراکین میٹنگ ہال میں موجود تھے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایس سی او سربراہی اجلاس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سینٹرل ایشیا اور خطے کی صورتحال پر اظہارخیال کریں گے،شنگھائی تعاون تنظیم 20 سال کے عرصے میں مزید فعال ہوئی،تنظیم میں پاکستان سمیت خطے کے اہم ممالک شامل ہیں،تجارت، سرمایہ کاری، اور روابط کے فروغ کیلئے تنظیم اہم پلیٹ فارم ہے،کاسا 1000اور ریل لنک منصوبے خطے کیلئے مفید ثابت ہو سکتے ہیں،

    اجلاس کے بعد ازاں وزیرِ اعظم صدر تاجکستان امام علی رحمن سے ملاقات کیلئے صدارتی محل جائیں گے.صدارتی محل میں وفود کے سطح کی ملاقاتیں، مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط اور دونوں ممالک کے لیڈران کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوگی.

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھدری کا کہنا ہے کہ آج کا دن بہت اہم ہے، وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ تاجکستان اور پاکستان افغانستان کے مختلف نسلی دھڑوں کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کریں

    قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا تھا کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے تاکہ وہاں استحکام آ سکے ،پاکستان دنیا کو باور کرائے گا کہ افغانستان کے ساتھ تعاون ضروری ہےدنیا افغانستان کی بدلتی ہوئی صوتحال پر نظر رکھے،

    افغانستان میں بدھ مت کے مقامات کیا واقعی خطرے میں؟ طالبان کا موقف آ گیا

    پاک افغان بارڈر طورخم مسافروں کے پیدل آمدورفت کے لئے بدستور بند

    کابل، جہاز کے اڑان بھرنے کے بعد 3 افراد گر گئے، 2 کی موت

    طالبان کا کابل پر کنٹرول،چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا

    مشکل وقت میں عالمی صحافیوں کے انخلاء میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے،سٹیون بٹلر

    وزیر خارجہ کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ

    پی آئی اے کا کابل آپریشن معطل

    کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ سے 5 افغانی جاں بحق، ایئر پورٹ بند

    قبل ازیں گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے قزاخستان کے صدر قاسم جومارات تو کایوف نے ملاقات کی ۔ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم عمران خان سے بیلاروس کے صدر لوکا شنکو نے جمعرات کو ملاقات کی۔ یہ ملاقات دوشبنے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی.
    @MumtaazAwan

  • والد کو فون میں کہا نور مقدم کو ختم کر کے اس سے جان چھڑا رہا ہوں،ظاہر جعفر کا اعترافی بیان عدالت میں پیش

    والد کو فون میں کہا نور مقدم کو ختم کر کے اس سے جان چھڑا رہا ہوں،ظاہر جعفر کا اعترافی بیان عدالت میں پیش

    پولیس کی تحویل میں ریکارڈ ملزم کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،نورمقدم کیس میں وکیل کے دلائل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے حوالہ سے ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی

    ملزمان کی جانب سے وکیل خواجہ حارث نے آج تیسرے روز بھی دلائل دیئے،وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس بہت زیادہ پیچیدہ نہیں تھا،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پولیس کو تفتیش کے دوران کڑیاں ملانا نہیں آتا،ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ٹرائل میں تاخیر ہو گی تو ملزم کو ضمانت نہ ملے ضمانت نہ ملنے پر کم از کم ملزم جیل میں یہ سزا تو کاٹے،خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعترافی بیان اور کال ڈیٹا ریکارڈ کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، پولیس کی تحویل میں ریکارڈ کرائے گئے ملزم کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ملزم کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرانا ضروری ہے۔ میمو آف ریکوری میں صرف برآمد کی گئی اشیا بتائی جا سکتی ہیں، ملزم کا بیان نہیں لکھا جا سکتا،

    خواجہ حارث نے ملزم ظاہر جعفر کا اعترافی بیان پڑھ کر سنایا ،ظاہر جعفر کا اعترافی بیان تھا کہ نورمقدم نے شادی سے انکار کیا تو تلخی اور لڑائی ہوگئی،نورمقدم نے دھمکی دی کہ پولیس کیس کرکے ذلیل کراؤں گی، والد کو فون کر کے کہا نور مقدم کو ختم کر کے اس سے جان چھڑا رہا ہوں،خواجہ حارث نے کہا کہ یہ جملہ ظاہر جعفر کے ابتدائی بیان میں شامل نہیں،ابتدائی اعترافی بیان کے مطابق ظاہر جعفر نے قتل کے بعد گھر والوں کو آگاہ کیا، یہ بات ٹرائل کے دوران شہادت میں ثابت ہو گی کہ کون سا بیان درست ہے، کال ڈیٹا ریکارڈ میں صرف ظاہر جعفر کی والدین کو کالز کا ریکارڈ دیا گیا ہے،ظاہر جعفر نے اپنے والد کو کال پر کیا کہا؟ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا،ابھی تک فون پر چیٹ کا کوئی ٹرانسکرپٹ سامنے نہیں آیا،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کال پر بات چیت کا ٹرانسکرپٹ تو تب ہو گا جب کال ریکارڈ ہوئی ہو گی،دنیا بدل رہی ہے، قانون کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ پراسیکیوشن یا ہم ٹرائل کے دوران اس متعلق کوئی شہادت پیش کریں،

    خواجہ حارث نے کہا کہ جرم میں اعانت دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت ہوتی ہے جس میں نیت اور ارادہ شامل ہوتا ہے، اگر والد کو قتل کا علم تھا اور پولیس کو بتانے سے رک سکتا تھا تب بھی یہ اعانت نہیں بلکہ قانون کی الگ دفعات کا اطلاق ہو گا .جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں تو ٹرائل کو ٹیلی وائز بھی کیا جاتا ہے۔ ٹرائل پروسیڈنگ ٹیلی وائز کرنے کے حوالے سے ہمارے ہاں ابھی رولز بننے ہیں۔ سال ڈیڑھ سال پہلے ہمارے قتل ہو جائے تو دہشت گردی کی دفعات لگا دیتے تھے۔ سپریم کورٹ نے تشریح کی تو اب یہ پریکٹس رک گئی ہے،

    نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت پر خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے مدعی کے وکیل شاہ خاور کو 21 ستمبر کو دلائل کی ہدایت کر دی ،شاہ خاور ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ میں ایک گھنٹے سے کچھ زائد وقت لوں گا، خواجہ حارث نے کہا کہ میں مدعی کے وکیل کے دلائل کے بعد جوابی دلائل بھی دینا چاہوں گا،

    نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت لوئر کورٹ مسترد کر چکی ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے طور پر دائر کیا گیا ہے

    دوسری جانب بدنام زمانہ قاتل ظاہر جعفر کے گھر کے مالی جان محمد اور خانساماں جمیل کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کو مسترد کردیا تھا

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    نورمقدم کیس، فارنزک رپورٹ آگئی. وحشی درندہ قتل سے پہلے دو دن نور سے کیا کرتا رہا. دل دہلا دینے والے انکشافات.

    نور مقدم قتل کیس میں نیا موڑ، والدین نے درندے کو بچانے کی کیسے کوشش کی؟

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں مزید توسیع

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم کیس،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی پر نوٹسز جاری

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

    نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    ایف آئی آر میں ظاہر جعفر کے والدین کا کوئی ذکر نہیں،ملزم کیسے بن گئے، وکیل کے عدالت میں دلائل

    قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل