Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعلیٰ کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    وزیراعلیٰ کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    وزیراعلیٰ کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    سندھ ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ سندھ کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے حلیم عادل شیخ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا حلیم عادل شیخ کی درخواست پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے سماعت کی ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں رہے،مراد علی شاہ نے الیکشن میں دہری شہریت چھپائی تھی،درخواست میں مراد علی شاہ پر الیکشن میں دہری شہریت چھپانے کاالزام ہے

    سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ پی ایس 73 سے منتخب ہوئے،جھوٹے حلف نامے جمع کروائے گئے، مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں ،دہری شہریت کے باوجود 2007 میں الیکشن لڑا،مراد علی شاہ کو 2013 میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا،ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مراد علی شاہ کو نااہل قرار دیا جائے،سندھ اسمبلی سے نا امید ہوچکے ہیں وہاں صرف اپنے قوانین بنائے جاتے ہیں کرپٹ وزیر اعلیٰ کے خلاف پٹیشن فائل کی ہے،سندھ میں زرعی پانی کی چوری کے خلاف درخواست دینے جارہے ہیں،کتوں کے کاٹے جانے اور گندے پانی کی فراہمی پرعدالت سے رجوع کریں گے، سندھ میں 43 لاکھ ایکڑ اراضی کی جعلی الاٹمنٹ کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے ،پولیس کے سپاہیوں کو قتل کرنے والے ڈاکو صوبائی وزیر کے محافظ ہیں،کچے کے ڈاکووَ ں کے سرپرست پکے کے ڈاکو ہیں

    دوسری جانب حلیم عادل شیخ کی جانب سے وزیر اعلی سندھ کے خلاف ریٹرنگ آفیسر سینیٹ الیکشن کو تحریری درخواست بھی ارسال کی گئی ہے، حلیم عادل شیخ کی جانب سے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ 14 فروری کو وزیر اعلی نے نیشنل میڈیا کے سامنے سینیٹ انتخابات میں سندھ سے ووٹوں سے زیادہ دس سیٹیں حاصل کرنے کا بیان دیا۔ وزیر اعلی سندھ الیکشن رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں ملوث ہوئے ہیں۔ ووٹوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا بیان دیکر وزیر اعلی کرپٹ پریکٹس میں ملوث ثابت ہوئے ہیں۔

    حلیم عادل شیخ کی جانب سے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی نے سندھ سے دس سیٹیں حاصل کرکے وفاقی حکومت کو سرپرائز دینے کا بیان دیا تھا۔ وزیر اعلی سندھ کے خلاف الیکشن رولز کے تحت کارروائی کرکے ممبر صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے نااہل قرار دیا جائے۔ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا سہارا لینے والی پارٹیاں اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہیں۔ وزیر اعلی سندھ کا سینیٹ انتخابات میں ووٹوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا بیان اعتراف جرم ہے۔حلیم عادل شیخ کی جانب سے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ سینیٹ انتخابات میں خرید فروخت کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ وزیر اعلی کے اس بیان کو سپریم کورٹ میں بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

  • افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں    امریکا

    افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں امریکا

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے مسلسل رابطے میں ہیں پاکستانی رہنماؤں او ر ہم منصبوں کے ساتھ رابطہ جاری ہے پاکستان کے نمائندے گزشتہ ہفتے جرمنی میں بھی موجود تھے۔

    باغی ٹی وی : نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ میں کہا کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان سے گزشتہ 20 برس کے حاصل کردہ فوائد ضائع نہیں ہونے چاہیےخصوصاً افغان خواتین، لڑکیوں کی تعلیم اور اقلیتوں کے حقوق متاثر نہ ہوں اور افغانستان سے حاصل کردہ فوائد کا تحفظ ہم سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

    ترجمان امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی بھی طالبان سے وہی توقعات ہیں جو عالمی دنیا اورامریکہ کی ہیں، توقعات میں افغانستان سے نکلنے والوں کے لیے محفوظ راہداری بھی شامل ہے۔

    نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ پاکستا ن اور خطے کے دوسرے ممالک کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ بیانات اور وعدوں پر قائم رہیں، وعدوں میں افغان عوام کی معاونت بھی شامل ہے، جبکہ رابطوں میں افغانستان کی صورت حال پر تفصیل سےذکر ہوا ہے۔

    دوسری جانب امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ تھا کہ دو ہفتے تک کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔

    امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا ہے کہ 14 اگست کو امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہوا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔

    فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

    زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے دوران اقتدار کی منتقلی عمل میں آنی تھی۔ لیکن اشرف غنی کے اچانک جانے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹ گیا۔اشرف غنی کے ملک سے نکل جانے کے بعد یہ منصوبہ ناکام ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کے نکل جانے سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ ہوا۔طالبان نے اشرف غنی کے جانے کے بعد امریکہ سے کابل کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لینے کا کہا جس پر امریکا کا جواب تھا کہ ہم سیکورٹی کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے اصرار کیا تھا کہ امریکی فوجی صرف امریکیوں اور افغان اتحادیوں کو نکالنے کے لیے کام کریں گے اور امریکہ کی طویل ترین جنگ میں مزید توسیع نہیں کریں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں مزید امریکہ کے قیام کے لیے کوئی عملی آپشن نہیں تھا ۔ ہمیں ایک واضح تاثر دیا گیا کہ اگر امریکہ افغانستان میں موجودگی کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے تو ہمارے سروس ممبرز دوبارہ طالبان تشدد کا نشانہ بنیں گے ۔

    زلمے خلیل زاد نے جنگ کے اس طرح سے خاتمے کی ذمہ داری قبول نہیں کی انہوں نے کہا ہے کہ یہ افغانوں پر منحصر ہے کہ وہ امن معاہدے پر پہنچیں۔

  • طالبان رہنماوں کےدرمیان کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی یہ پراپیگنڈہ ہے:قاری یوسف کی باغی ٹی وی سےگفتگو

    طالبان رہنماوں کےدرمیان کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی یہ پراپیگنڈہ ہے:قاری یوسف کی باغی ٹی وی سےگفتگو

    کابل:طالبان رہنماوں کے درمیان کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی یہ دشمنوں‌ کا پراپیگنڈہ ہے:افغان طالبان رہنما کی باغی ٹی وی سے گفتگو،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے پاکستانی اورعالمی میڈیا پرپھیلائی جانے والی ان خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں پراپیگنڈہ کیا جارہا ہےکہ افغان طالبان رہنماوں میں تلخ کلامی ہوئی ہے

    کابل سے افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے نائب قاری یوسف احمدی نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی استعمار کی چالیں ہیں جن کا مقصد دنیا کوباورکرانا ہے کہ طالبان میں اختلاف رائے ہے ،مگرایسا نہیں ہے

    قاری یوسف احمدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوخبریں چل رہی ہیں‌ کہ نائب وزیر اعظم ملا برادر اور وزیر برائے مہاجرین خلیل الرحمان حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ رہنما بھی ہیں، کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جب کہ صدارتی محل میں موجود دونوں رہنماؤں کے پیروکاروں نے بھی ایک دوسرے سے تکرار کی۔یہ سراسرجھوٹ اورامارت اسلامی کے خلاف پراپیگنڈہ ہے

    یاد رہےکہ کل سے پاکستانی اورعالمی میڈیا پرافغان طالبان رہنماوں کے درمیان اختلافات کے حوالے سے باقاعدہ منصوبہ بندی سے خبریں‌ چلائی جارہی تھیں کہ نائب وزیراعظم ملابرادراورخلیل الرحمن حقانی کے درمیان کسی معاملے پرتلخ کلامی ہوئی ہے

    آج ذبیح اللہ مجاہد کے نائب قاری یوسف احمدی نے باغی ٹی وی سے ان خبیروں کی تردید کی ہے

  • افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی سب کےمفاد میں:دنیا بھرپورساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کوانٹریو

    افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی سب کےمفاد میں:دنیا بھرپورساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کوانٹریو

    اسلام آباد:افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی دنیا کےمفاد میں ہے:دنیا خوشحال افغانستان کےلیےساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کو انٹریو ،اطلاعات کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن ، خوشحالی اورترقی دنیا کے مفاد میں ہے اورپرامن افغانستان کے لیے اب دنیا کوآگے بڑھنا چاہیے ، پاکستان کے ساتھ مل کرایک نئے سفرکا آغازکرنا چاہیے

    افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی دنیا کےمفاد میں ہے:دنیا خوشحال افغانستان کےلیےساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کو انٹریووہاں کیا ہونے والا ہے کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا، افغانستان کی خواتین بہت بہادر اور مضبوط ہیں، وقت دیا جائے وہ اپنے حقوق حاصل کر لیں گی۔ وہاں کی خواتین کو باہر سے کوئی حقوق نہیں دلوا سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کو حقوق مل جائیں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان عالمی سطح پر خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ طالبان چاہتے ہیں عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔خطے کا امن افغان عوام سے جڑا ہے، 20 سال میں وہاں پر عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ دنیا طالبان کو انسانی حقوق کے معاملے پر وقت دے لیکن امداد کے بغیر انتشار کا اندیشہ ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہمیں بتایا تھا کہ افغان طالبان پورے افغانستان پر مکمل قبضہ نہیں کر پائیں گے۔ اگر وہ عسکری طریقے سے کنٹرول حاصل کریں گے تو سول وار ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ہم خوفزدہ تھے کیونکہ پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان برداشت کیا، دنیا کو ایک جائز حکومت بنانے اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے افغانستان میں حکومت کو وقت دینا چاہیے۔

    افغانستان سے انخلاء پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں افغان طالبان کے قبضے کے بعد امریکی صدر جوزف بائیڈن سے ٹیلیفون پر رابطہ نہیں ہوا حالانکہ پاکستان امریکا کا نان نیٹو اتحادی ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ بہت مصروف ہوں گے۔ لیکن امریکا کے ساتھ رشتہ صرف ایک فون کال پر منحصر نہیں ہے اسے کثیر جہتی تعلقات کی ضرورت ہے۔

    ان کاکہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا کیساتھ 20 سال تک ملکر جنگ لڑی، ہم کرائے کے بندوق کی طرح تھے، امریکا سے افغان جنگ جیتا چاہتا تھا۔ جو وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے۔ بار بار امریکی حکام کو خبردار کیا تھا کہ امریکا عسکری طور پر اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 11/9 حملے کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے ہزاروں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے، ایک موقع پر وہاں 50 عسکریت پسند گروہ ہماری حکومت پر حملہ کر رہے تھے، امریکا نے پاکستان میں 480 ڈرون اٹیک کیے۔

    میزبان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان افغان طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں تھا،اس سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی اور کی جنگ لڑنے کے لیے ہم اپنے ملک کو تباہ نہیں کر سکتے۔ افغان طالبان ہمارے ملک پر حملہ نہیں کر رہے تھے۔ اگر اس وقت میں حکومت میں ہوتا تو امریکی انتظامیہ کوبتاتاکہ افغان طالبان کیخلاف ہم اپنی فوج استعمال نہیں کریں گے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور میرے ملک کے لوگ میری ذمہ داری ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں شورش سے پاکستان بھی زیادہ متاثر رہا ہے، وہاں 40 سالوں کے بعد امن قائم ہوسکتا ہے، افغانستان سے متعلق ایک بڑا مسئلہ مہاجرین بھی ہے، عالمی برادری مدد کرے تو افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے، طالبان بحران سے بچنے کے لیے عالمی امداد کی تلاش میں ہیں

  • تبدیلی کا کیڑا دفن، خدا کے واسطے ،پاکستان بچا لو، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    تبدیلی کا کیڑا دفن، خدا کے واسطے ،پاکستان بچا لو، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    تبدیلی کا کیڑا دفن، خدا کے واسطے ،پاکستان بچا لو، مبشر لقمان پھٹ پڑے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ حکومت میری سمجھ سے باہر ہے ۔ بیک وقت انھوں نے مختلف لوگوں سے پنگے لے رکھے ہیں ۔ سب سے بڑا پنگا تو اندھا دھند مہنگائی کرکے عوام سے لیا ہوا ہے جس کا اظہار کل عوام نے پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ڈال کر کھل کر کردیا ہے ۔۔ اور آج تو صحافیوں پر پابندی ہی لگا دی ۔ ہوں کچھ یوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تھا ۔ جس سے صدر عارف علوی نے خطاب کرنا تھا ۔ پر حکومت نے اس اہم موقع پر پارلیمنٹ میں داخلے پر صحافیوں پر پابندی لگادی ۔ یعنی جو سرکاری ٹی وی دیکھائے گا اور بتائے گا وہ ہی دیکھانا اور بتانا ہوگا ۔ ۔ یوں صحافیوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ احتجاج کرتے اور انھوں نے خوب کیا بھی پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی ۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں حکومت کیوں اتنی بضد ہے کہ وہ ڈاکٹرز کو بھی سبق سیکھائے گی ۔ جج بھی اپنی مرضی کے لگوائے گی ۔ الیکشن کمیشن کو بھی اپنی جوتی کی نوک پر رکھے گی اور صحافیوں کو تو ویسے ہی تن کررکھی گی کیونکہ میڈیا نے اس عمران خان اور انکی پارٹی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا تھا ۔ تو بدلہ اتارنا تو بنتا ہے نا ۔۔۔۔۔ میں اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ جوحکومت نہ مہنگائی کنٹرول کر سکے، نہ قرضے کنڑول کر سکے، نہ کابینہ کنٹرول کر سکے، نہ معیشت کنٹرول کر سکے، نہ ڈالر کنٹرول کر سکے۔اور نہ ہی اپنی زبانیں کنٹرول کر سکے وہ اب خواب دیکھ رہی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کریں ۔ یہ دیوانے کا خواب ہے ۔ ۔ یہ اتنا درد پتہ نہیں کیوں اس حکومت کے دل میں جاگ اٹھا ہے ۔ کہ اس کی نظر کرم صحافیوں پر پڑ گئی ہے اور یہ میڈیا اتھارٹی بل لا کر پتہ نہیں کون سا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے ۔حالانکہ اس دورحکومت میں سب سے زیادہ صحافی متاثر ہوئے ہیں ۔ اس دور میں جتنے صحافی بے روزگار ہوئے ہیں شاید پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ جتنی صحافیوں کو اس دور میں مار پڑی ہے پہلے کبھی نہیں پڑی ۔ جتنے صحافی اس دور میں اٹھائے گئے یا غائب کیے گئے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔ جتنے پرچے اس دور میں صحافیوں پر ہوئے ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ ۔ جتنی پابندیاں اس دور میں صحافیوں پر لگی ہیں پہلے کبھی نہیں لگیں ۔ یہ ہے کھرا سچ ۔۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کسی اور کیا بات کرنی ۔ جولائی 2018میں یہ حکومت آئی اور دسمبر 2018سے اب تک میں اور میری پوری ٹیم بے روزگار ہے ۔ پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جس کو میڈیا نے سب سے زیادہ سپورٹ دی ۔ اور آج جو پریس گیلری بند کی گئی یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں سول مارشل لاء لگا ہوا ہے ۔ اس پارٹی کی تمام حرکتیں اور زبان ایسی ہے جو کسی فاشسٹ پارٹی کی ہوتی ہیں ۔ آج صحافیوں کے احتجاج میں بلاول ، شہباز اور فضل الرحمان سب ہی باری باری شریک ہوئے اور اظہار یکجہتی بھی کیا ۔ پھر پارلیمنٹ کے اندر بھی اپوزیشن نے صحافیوں کے حق میں احتجاج بھی کیا ۔ پلے کارڈز بھی اٹھائے اور حکومت کے کالے قوانین کے خلاف خوب نعرے بازی بھی کی ۔ ان سب سے لاکھ اختلاف صحیح لیکن ان کا شکریہ کہ یہ حق اور سچ کی آواز کے ساتھی بنے ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں اس حکومت سے ایف بی آر کا ڈیٹا تو سنبھالا نہیں جاتا اور زور دے رہے ہیں کہ ان پڑھ اور عام عوام الیکٹرانک مشینوں سے ووٹ ڈالیں۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں دن دیہاڑے لوگوں کے ووٹ غائب ہو جاتے ہیں۔ انگوٹھوں کے جعلی نشانوں پر موبائل فون کی سمیں مل جاتی ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل آتے ہیں لیکن چور پھربھی پکڑے نہیں جاتے۔۔ پھرالیکشن کمیشن کا جو حال یہ حکومت کرنا چاہ رہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہار چکی ہے اور اس سے پہلے کے الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ سنائے یہ الیکشن کمیشن کو ہی متنازعہ بننے پر تل گئے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو وفاقی وزراء ان تمام معاملوں میں پیش پیشں ہیں ۔ یہ سب کرائے کے کھلاڑی ہیں یعنی یہ جس کی حکومت ہو اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ جس کا وقت اچھا ہو یہ اس کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کو موقع پرست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ یہ پارٹیاں ایسے بدلتے ہیں جیسے کپڑے بدلے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک آدھ وزیر موصوف تو ایسے بھی ہیں جو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے قابل تو نہیں ، پر ہر بار اپنے پیسے کے زور پر سینیٹر ضرور بنتے ہیں۔ ۔ یہ صرف پیسے کی چمک کا کمال ہے ورنہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوتی کہ کسی آئینی ادارہ کو آگ لگانے کی بات کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ وزراء بی جے پی اور شیو سینا کے بیانات بہت غور سے پڑھتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہاں میں آپکو ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ جنہوں نے اپنے دور کا سب سے تاریخی کام متفقہ آئین بنایا ۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو ایک سخت گیر شخص تھے ۔ اور ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی۔ ۔ لیکن 1973ء کا آئین منظور کروانے کے لئے وہ ہر کسی کے پاس خود چل کر گئے تھے۔ وہ مولانا مودودی سے ملے اور اس وقت کی اپوزیشن کے تمام راہنماؤں کے پاس بھی گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کی نیت بہت اچھی ہے اور ہر حال میں الیکشن ریفارمز کرنا چاہتی ہے ۔ تو وہ دوسروں کی رائے کیوں نہیں لیتی ۔ وہ کیوں ہر معاملہ میں اپنی منوانا چاہتی ہے ۔ پھر چاہے معاملہ صحافیوں کا ہو ، اپوزیشن کا ہو ، وکیلوں کا ہو یا ڈاکٹروں کا ۔۔۔ حکومت صرف یہ کیوں چاہتی ہے کہ اس کی ہی بات مانی جائے ۔ معذرت کے ساتھ ایسا ڈکیٹروں کے دور میں ہوتا ہے جمہوریت میں ایسا کوئی چلن نہیں ہے۔ آخر کیوں وزیراعظم عمران خان اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ وہ چل کر مولانا فضل الرحمان یا شہباز شریف یا بلاول کے پاس جائیں؟عمران خان تو پہلے دن سے ہی ۔۔۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ نعرہ بھی لگا رہے ہیں اور عملی طور پر تمام سیاسی مخالفین سمیت صحافی ، وکلاء ، ڈاکٹرز سب کے خلاف انتقامی کاروائیوں کر رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی طور پر ہزار اختلافات ایک طرف ، لیکن یہ ان کی سیاسی بصیرت تھی کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انہوں نے آئین کا بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے کی بجائے تمام سیاسی قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کیا اور اسے متفقہ آئین کے طور پر منظور کروایا۔ پتہ نہیں یہ حکومت کیوں سیاسی محاذ آرائی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ حالانکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت اس محاذ آرائی سے زیادہ ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سچ یہ ہے کہ حکومت اہم سیاسی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے تصادم کی طرف جانا چاہتی ہے اور متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر کے یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ لانا چاہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری موجودہ قیادت کی سیاسی طور پر گرومنگ نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں یہ کون سا حکیم ہے جو کپتان کو بھی یہ مشورے دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول اور بیورو کریسی میں آئے دن کی اکھاڑ پچھاڑ سے یہ لولا لنگڑا نظام ہمیں نئے پاکستان میں لے جائے گا۔ حالانکہ کے جو کل کینٹ بورڈ انتخابات کا رزلٹ آیا ہے وہ انکی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیئے ۔ کل یہ دو سو سے زائد سیٹوں پر یہ الیکشن ہوا ۔ جس میں پی ٹی آئی نے 63سیٹیں جیتیں ۔ یعنی آدھی سے بھی کم ۔ میری نظر میں یہ الیکشن کے ساتھ ساتھ حکومت کی popularity کا ایک سروے تھا ۔ لوگوں نے ووٹ کی طاقت سے اظہار کر دیا ہے کہ وہ حکومتی کارکردگی سے کس قدر خوش ہیں ۔ اوپر سے حد تو یہ ہے کہ ہار کو تسلیم کرنے کی بجائے یا وجوہات کو جاننے کی بجائے ۔ کل سے وفاقی وزراء ایسے خوشی منا رہے ہیں۔ جیسے پتہ نہیں کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ویسے ہار کے خوشی منانے کا طریقہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پی ٹی آئی کے وزیروں اور مشیروں سے سیکھے ۔ آخر میں بس یہ کہوں گا کہ یہ جو ہم آئے دن حکومت کی گڈ گورننس کا پول کھول دیتے ہیں اور گورننس کا اصل چہرہ کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر حکومت کا یہ خیال ہے کہ یہ سلسلہ میڈیا کو بیڑیاں پہنانے سے تھم جائے گا۔ تو حکومت غلطی پر ہے ۔

  • امریکہ کی پاکستان کو دھمکیاں، لیکن آپ نے گھبرانا نہیں. کیوں، دیکھیں اس ویڈیو میں

    امریکہ کی پاکستان کو دھمکیاں، لیکن آپ نے گھبرانا نہیں. کیوں، دیکھیں اس ویڈیو میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان سے سخت ناراض ہے، اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔امریکہ کی ناراضگی پاکستان کو کتنی مہنگی پڑے گی۔ اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں آپ کو ایک بات کہنا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔ کیوںکیونکہ اس کی وجہ میں آپ کو اس ویڈیو میں بتادوں گا۔ کہ پاکستان کے سامنے دو آپشن تھے ایک پاکستان کی تباہی اور اس کے ٹکڑے اور دوسرا اپنے مفادات کا تحفظ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ Antony blinkinنے گانگریس کے سامنے وہی کچھ کہا جو آپ کو بتایا جا رہا ہے یا صرف گفتگو میں سے ایک فقرہ لے کر پیش کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد میں آپ اصل حقائق سے آگاہ کروں گا کہ پاکستان نے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اس کے نقصان کے ازالے کا پہلے ہی بندوبست کیا ہو گا۔Antony blinkinجو امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پانچ گھنٹے تک تند و تیز سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آنے والے چند روز یا ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔ اور نئے تعلقات کے تعین کے لیے امریکہ پاکستان کا افغانستان میں گزشتہ بیس سال کا کردار دیکھے گا جبکہ یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ پاکستان افغانستان میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو ہم اس سے مستقبل میں چاہتے ہیں۔جب ٹونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ کیا اسے پتا تھا کہ اشرف غنی بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے تو ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ چودہ اگست کی رات کو اس کی اشرف غنی سے بات ہوئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ Fight to the deathاس لیے امریکہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور وہ پندرہ اگست کو بھاگ گیا اور امریکہ کے افغانستان کے انخلا سے دو ہفتے پہلے ہی طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔کانگرس مینBill Keatingنے کہا کہ پاکستان نے دو ہزار دس میں طالبان کوبنایا، انہیں نام دیا اور انہیں ری گروپ ہونے میں مدد دی۔ حقانی گروپ جو امریکیوں کی موت کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے گہرے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی فتح کوCelebrate کیا اور کہا کہbreaking the shackles of slaveryجبکہ کانگریس مینScott Perryکا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی Tax payer کے پیسے سے طالبان کو مدد دی، امریکہ کو پاکستان کو مزید رقم نہیں دینی چاہیے اور اس کا Non-Natto ally status کینسل کرنا چاہیے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس گفتگو میں امریکہ میں بھارت کے سفیرTaranjit Singh Sandhuکی بڑے پیمانے پر امریکی کانگریس مین سے ملاقاتوں کا ذکر بھی آیا۔ اور ایک ریپلکن کانگریس مین Mark Greenکا کہنا تھا کہ کیونکہ Isi نے طالبان اور حقانی گروہ کی مدد کی ہے اس لیے امریکہ کو بھارت سے مضبوط تعلقات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔امریکی کانگریس کے ان ارکان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے امریکیوں کو اپنا موقف پہنچانے میں کتنی محنت کی ہے ، اور پاکستان کتنے گانگریس مین سے ملا۔کیا امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے وہاں پاکستان کے امیج اور مجبوریوں کے حوالے سے کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہیں افغانستان میں بھارت کے کالے کرتوتوں سے اآگاہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ بہر حال آپ نے گھبرانا نہیں۔۔ کیوں میں آپ کو آگے چل کے بتاتا ہوں۔امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے وہ بھی ٹونی بلنکن نے اس سوال جواب کے سیشن میں بتا دیا ہے۔امریکہ نے پاکستان کو کہہ دیا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوشش ہرگز مت کرے۔دنیا کے زیادہ تر ممالک کے ساتھ Line up کرے، اور طالبان کو فورس کرے کہ وہ افغان عوام کے Basic rightsکا خیال رکھے، عورتوں اور بچوں کے حقوق کو شامل کرے، Humanitarian aid کی اجازت دے اور حکومت میں تمام حلقوں کو شامل کرے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک گانگرس ممبر نے کہا کے ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پاکستا ن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات Complicated ہیں لیکن یہ اکثرDuplicitiousہوتے ہیں جس پر ٹونی بلنکن نے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں جو کانگریس مین نے پاکستان کے گزشتہ بیس سال یا اس سے بھی پہلے کے کرادار پر تبصرہ کیا ہے۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسیاں کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ہیں اور کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے مطابق ہیں۔یہ پاکستان ہی ہے جو مسلسل افغانستان کے مستقبل پر Bets لگا رہا ہے، یہی طالبان کے ممبر اور حقانی گروپ کی دیکھ بھا ل کر رہا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جو مختلف مقامات پر امریکہ کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں Involveرہا ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں کردار زیادہ تر بھارت کے خلاف خدشات کی صورت میں ترتیب پاتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تمام ممالک بشمول پاکستان، انٹر نیشنل کمیونٹی کی طالبان سے امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنا اچھا کردار ادا کرے۔اور ہم اسے پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک نے کہا ہے کہ طالبان کو دنیا تسلیم کر سکتی ہے اورمالی مدد بھی کر سکتی ہے اگر وہ اس بات کی گارنٹی دیں کہ وہ اپنے شہریو ں کو Basic right دیں، جس میں خاتون،بچے اور اقلیتیں شامل ہیں۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی سے بڑے پیمانے پر Line up کرے، اور ان کی امیدوں کو پورا کرے۔ یہ تو وہ باتیں تھی جو امریکی کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان کا موقف کون پہنچائے گا۔ کیا 2004تک پاکستان کی مدد سے امریکہ نے طالبان کی کمر نہیں توڑ دی تھی۔ افغانستان مِن الیکشن کے بعد جمہوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔اس وقت طالبان کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آرہا تھا پھرامریکہ نے دوہزار پانچ میں بھارت کے ساتھ سول نیوکلیر ڈیل کا فریم ورک سائن کیا، جب پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تو پاکستان کو کہا گیا کہ وہ اس ڈیل کے لیے قابل اعتبار نہیں ہے۔ اپنے ہزاروں لوگ مروا کر، افغانستان میں اپنے مفادات کی قربانی دے کر بھی اگر پاکستان امریکہ کی دوستی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو پھر پاکستان کے پاس امریکہ کی مزید باتیں ماننے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں امریکہ بھارت کو دوبارہ افغانستان لایا، جس کی پاکستان نے جڑین اکھاڑ دی تھی۔ پھر اس بھارت نے افغانستان میں آکر پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔ امریکہ کی افغانستان میں بنائی ہوئی حکومت صبح شام پاکستان کے خلاف زہر اگلتی تھی، بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان شہروں میں درجنوں کونسلیٹ کھولے ہوئے تھے جو Raw کے ایجنٹوں سے بھرے پڑے تھے۔ بھارت کے66ٹریننگ سینٹر حال ہی میں بند ہوئے ہیں، بھارتی کونسلیٹوں سے اربوں روپے پاکستانی کرنسی کی صورت میں ملے ہیں۔ اسے روکنا کس کی ذمہ داری تھی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے Counter terrorism کے نام پر ہر رات افغانوں کی چادر اور چار دیورای کا تقدس پامال کیا اور افغانوں کے دل میں طالبان کے لیے ہمدردی پیدا کی ۔ کیا یہ پاکستان کا قصور ہے۔کیا پاکستان طاقت ہونے کے باوجود اتنا بے بس ہو جاتا کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیتا۔بھارت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ پشتونستان کا مسئلہ کھڑا کر رہا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں چلوا رہا ہے۔ تو پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھر کے امریکہ بہادر کی جی حضوری میں کھڑا رہتا۔ یہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی روس کو ہرا کر ایک دم سے نکل گیا تھا اور پاکستان میں کلاشنکوف کلچر پھیل گیا تھا۔ پھر الٹا پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئی۔ یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے، جب روس کے خلاف جہاد تھا تو اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک تھے تو دنیا نے رزلٹ دیکھ لیا۔ پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں گھسیٹا گیا، پاکستان بلیک واٹر اہلکاروں کی جنت بن گیا۔امریکہ اپنے اٹھارہ بلین ڈالر کو رو رہا ہے کیا پاکستان ان پیسوں کے لیے پاکستان کے ٹکڑے کروا لیتا۔ پاکستان کا نفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، پاکستان کی معشیت تباہ کر دی گئی، ایک سو پچاس بلین ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا اور اسی ہزار لاشیں پاکستانیوں نے اٹھائی۔ کیا اٹھارہ بلین ڈالر اس کی قیمت چکا سکتا تھا۔ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے جرنیل تک دہشت گردی میں کھودیے، اس کے بعد بھی کیا پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن بچا تھا۔پاکستان کے امریکہ کو چھوڑ کر اپنے مفادات کے تحفط کی کئی وجوہات ہیں‏۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھارت سے جنگ کے دوران امریکی مدد کبھی نہ پہنچی۔ پاکستان کو روس کے خلاف جہاد میں استعمال کر کے نہ صرف امریکہ یہاں سے چپ کر کے نکل گیا بلکہ پاکستان کو الٹا پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ اور پھر جب دوہزار ایک میں واپس آیا تو بات کو سمجھنے کی بجائے دھمکیاں دی کہ۔ You r with us or against us. پاکستان کو پتا تھا کہ دوبارہ امریکہ اپنا مطلب نکال کر یہاں سے نکل جائے گا اور پھر وہی ہوا چین کے خلاف امریکہ نے بھارت سے نا صرف ہاتھ ملا لیا بلکہ بھارت کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی اجازت بھی دے دی۔امریکہ اس خطے میں بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے ایسی صورت میں ایک میان میں دو تلواریں کسی صورت نہیں رہ سکتی۔ امریکہ نے افغان سر زمین افغان طالبان کے لیے تو تنگ کر دی لیکن پاکستانی طالبان کے لیے وہ Safe heaven بن گیا۔ پاکستان بڑے عرصے سے شور مچا رہا ہے کہ امریکہ اپنی زلت آمیز شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ کیا عراق، شام اور دنیا بھر میں امریکی شکست کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے۔ میرا امریکہ کو مشورہ ہے کہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لے۔ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان سر زمین پر قدم بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب پاکستان نے طالبان کی مدد ختم کی تو ان کا بھی وہی حال ہوا تھا جو افغان حکومت کا امریکہ کی مدد کے بغیر ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن جیسے میں نے آپ کو شروع میں کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں، افغانستان میں طالبان اس وقت مغرب کے لیے وہ کڑوا گھونٹ بن چکے ہیں جسے وہ نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔ اگر مغرب طالبان اور پاکستان پر پابندیاں لگائے گا تو انہیں تحفظ فراہم کرنا، اور افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنا ہمارے بس میں نہیں رہے گا۔ ابھی کئی مہینے تک تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیےاپنے شہریوں کی افغانستان سے evacuationکے لیے بہت اہم ہے، اس کے بعد دشت گردی کے خلاف آپریشن بھی پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور طالبان کواس بات پر راضی کرنا کہInclusive govtبنائیں شائد پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکے تو اس لیے ابھی پاکستان دنیا کے لیے بہت اہم ہے اور ایک نیوکلیئر اسٹیٹ کو دنیا اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ اس لیے امریکہ دھمکیاں دے گا لیکن اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا ہم ڈر رہے ہیں۔

  • جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 5 دہشت گرد مارے گئے، 7 جوان وطن پرقربان

    جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 5 دہشت گرد مارے گئے، 7 جوان وطن پرقربان

    راولپنڈی:جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 5 دہشت گرد مارے گئے، 7 جوان وطن پرقربان ،اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 7 جوان شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے آسمان منزا میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے 7 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے سے ہتھیار اور گولیاں برآمد کرلی گئیں، علاقے میں مزید دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی سے متعلق آپریشن جاری ہے۔گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں کلیئرنس آپریشن کے دوران بارودی سرنگ پھٹنے سے 2 جوان شہید ہوگئے تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شہدا میں 25 سال کے سپاہی ضیا اکرم اور 20 سال کے مصور خان شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے علاقے کا محاصرہ کرکے دہشت گردوں کی تلاش شروع کردی، آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فرار ہوتے ہوئے ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔

    پی پی پی چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے 7 جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے پی پی پی چیٸرمین نے شہید جوانوں کے خاندانوں سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی قربانیاں بے مثال ہیں ،دہشتگردی کے خلاف سینہ سپر جوانوں کے پیچھے پوری قوم متحد کھڑی ہے موجودہ حالات میں دہشتگردوں کی حوصلہ شکنی اور دہشتگردی سے ہمیشہ کے لیٸے جان چھڑانے کے لیٸے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ناگذیر بن چکا نااہل و ناکام ترین حکومت کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے

  • مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر

    مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر

    لاہور:مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر، اطلاعات کےمطابق ابھی تھوڑی دیرپہلے لاہور میں مریم نواز کی زیرصدارت اہم اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں ن لیگ کے رہنما پرویزرشید،احسن اقبال ، رانا ثنااللہ سمیت کئی رہنما شریک جبکہ ش لیگ کے سربراہ شہبازشریف ،حمزہ شہبازاورخواجہ آصف اس اجلاس میں نہیں‌ آئے

    اس اہم اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اب ووٹ کو چوری نہیں ہونے دیں گے، مریم نواز نےکہا کہ پارٹی کو نچلی سطح تک آرگنائز کریں گے انتخابات کیلئے ہر وقت تیار ہیں،

    مریم نوازکی زیرصدارت ہونے والے اس تنظیمی اجلاس میں ن لیگ کے رہنما احسن اقبال، پرویز رشید، رانا ثنااللہ سمیت دیگررہنما شریک ہوئے ، اس اجلاس میں کئی اہم ارکان نے میاں شہبازشریف کی غیرموجودگی کے بارے میں پوچھا توان کوجھاڑپلا دی گئی اوریہ بھی کہا گیا ہےکہ آئندہ جوکہا جائے اس پرعمل کیا جائے اورنوازشریف کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے شریف کی ضرورت نہیں

     

    https://twitter.com/GulHassanKhosa2/status/1438114342474551300

    یاد رہےکہ آج لاہورمیں مریم نواز کی زیر صدارت مسلم لیگ ن ڈی جی خان ڈویژن کا تنظیمی اجلاس کے بارے میں کہا جارہاہے کہ اس اجلاس میں میاں شہبازشریف کوسرسری سی دعوت دی گئی ہے اور”گونگواں تومٹی چاہڑی گئی اے”

    ادھرذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہبازشریف اورحمزہ شہبازنے واضح طوراپنی عزت کومجروح نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہےاورآئندہ سوائے اہم اجلاس میں جانے کے وہ پارٹی کے دیگراجلاسوں میں شرکت نہیں کریں‌گے

  • ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی

    ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی

    اسلام آباد:ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ جن پاکستانیوں‌ پاس ایک سے زائد پاسپورٹ ہیں ان کومختلف اندازسے ڈیل کیاجائے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیرصدارت اجلاس ،ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے والوں سے متعلق آج اہم فیصلے ہوئے ہیں‌، اس حوالے سےوزیرداخلہ شیخ رشید احمد کوبریفنگ دی گئی کہ ماضی میں 6 ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے 12 ہزار پاسپورٹ کی کلیرنس کی جا چکی ہے،

    بریفنگ میں شیخ رشید کو افسران نے بتایا کہ اس ایمنسٹی ا سکیم سے ایک سے زائد نام کے پاسپورٹ رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایاگیاکہ موجودہ قانون میں ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے والوں کی سزا کم از کم 3 سال کی جیل ہے

    شیخ رشید کی صدارت میں اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ ایمنسٹی ا سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے افراد کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا دیئے جائیں گے

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسکیم کے تحت ایک سے زائد پاسپورٹ منسوخ کروانے کیلئے 90 روز کی مہلت دی جائے گی،جبکہ دہرے پاسپورٹ ایمنسٹی ا سکیم کیلئے درخواست گزار کو ایک پاسپورٹ رکھنے کی اجازت ہوگی،

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس موقع پر ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو کابینہ کیلئے سمری تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ بہت جلد اس کے نتائج آنے چاہیں .شیخ رشید نے کہا کہ ایمنسٹی کے حوالےسے حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی

    اس موقع پر شیخ رشید کو یہ بھی بتایا گیا کہ دہرے پاسپورٹ سے متعلق درخواستیں پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں،وزارت داخلہ کو دہرے پاسپورٹ کی ایک ہزار 629درخواستیں موصول ہوچکی ہیں،

  • مسجد نبویﷺ میں ڈیڑھ برس بعد آب زمزم کے کولروں کی واپسی

    مسجد نبویﷺ میں ڈیڑھ برس بعد آب زمزم کے کولروں کی واپسی

    مدینہ منورہ میں مسجد نبوری کے امور کی انتظامی ایجنسی نے مسجد کے تمام حصوں میں آب زمزم کے کولروں کو دوبارہ رکھے جانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ” العربیہ ” کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں صحت کے پہلو سے تمام حفاظتی تدابیر اور احتیاطی اقدامات پر عمل درامد کیا جائے گا۔

    یو اے ای نے 15 اداروں سمیت 38 افراد کو بلیک لسٹ کر دیا

    حرمین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی میں ’سقیا زمزم‘ انتظامیہ کے ڈائریکٹر عبدالرحمن الزہرانی کے مطابق زمزم کی لیبارٹری اس پانی کے معیار اور سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم عنصر ہے۔

    پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر نکلنے کے امکانات

    یہ تجربہ گاہ جدید ترین ٹکنالوجی اور آلات سے لیس ہے یہاں متعین خصوصی تکنیکی عملہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف جگہاؤں سے یک دم پانی کے نمونے لے کر ان کی جانچ کرتا ہےالزہرانی نے بتایا کہ گذشتہ برس کے دوران میں آب زمزم کے 7380 نمونوں کی جانچ کی گئی۔

    بغیر اجازت عمرہ کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنا کا اعلان

    واضح رہے کہ کرونا کی وبا کے سبب ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ پہلے ان کولروں کو ہٹا دیا گیا تھا۔

    سعودی عرب: عمرہ زائرین کی یومیہ تعداد بڑھا دی گئی