Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات، کھل کرہوئی دوطرفہ بات

    وزیراعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات، کھل کرہوئی دوطرفہ بات

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات، کھل کرہوئی دوطرفہ بات ،طلاعات کے مطابق دوشنبے میں وزیراعظم عمران نے کہا ہےکہ 40 سال بعد ا فغانستان میں جنگ کے خاتمے کا موقع ملا ہے۔

    تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں وزیراعظم عمران خان اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے درمیان ملاقات ہوئی ، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، خطے اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیراعظم نے ایران میں صدارتی الیکشن جیتنے پر ابراہیم رئیسی کو مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، تجارت، اقتصادی شعبے اور علاقائی رابطے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

     

     

    عمران خان نے اپنے معاشی تحفظ کے ایجنڈے اور پاکستان کی جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف تبدیلی پر روشنی ڈالی اور ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر ایران کی مسلسل حمایت پر صدر ابراہیم رئیسی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کا منصفانہ اور اصولی موقف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے لڑنے کے لیے طاقت کا ذریعہ ہے۔

    انہوں نے پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان میں پاکستان کی اہم دلچسپی پر زوردیتے ہوئے کہا کہ 40 سال بعد افغانستان میں تنازع اور جنگ کو بالآخر ختم کرنے کا موقع ہے۔ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو مستحکم کرنے، انسانی بحران کو روکنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ضروری تھا۔

    عمران خان نے کہا کہ استحکام کی کوششوں کو افغان معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق اور جامع سیاسی ڈھانچے کے احترام سے تقویت ملے گی۔

    عمران خان نے مثبت پیغام رسانی اور تعمیری عملی اقدامات کے ذریعے افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی اسی طرح ابراہیم رئیسی نے عمران خان کو دورہ ایران کی دعوت دی۔

    دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان اور قازقستان کے صدر کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر بات چیت کی۔

  • اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی آرمی چیف سے ملاقات:افغانستان کوانسانی بحران سے بچانے پراتفاق

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی آرمی چیف سے ملاقات:افغانستان کوانسانی بحران سے بچانے پراتفاق

    راولپنڈی:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی آرمی چیف سے ملاقات:افغانستان کوانسانی بحران سے بچانے پراتفاق،اطلاعات کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے اقدامات کرے۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے جی ایچ کیوراولپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین سے ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی اور افغانستان کی نئی صورت حال پر تبادلہ خیال اور افغانستان میں انسانی بنیادوں پرامدادی کاموں پربھی تبادلہ خیال کیاگیا۔

    ہائی کمشنرسے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے زور دیا کہ افغانستان میں انسانی بحران سےبچنےکیلئےعالمی برادری کوششیں کرے۔ آرمی چیف نے یو این ایچ سی آر کی بحران میں کلیدی کردارکی تعریف کی۔

    یواین ہائی کمشنر نے چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کی خدمات کو سراہا اور اقدامات کی تعریف کی۔ یاد رہے کہ گزشتہ 4 دہائیوں (چالیس سالوں) کے دوران پاکستان نے 40لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔

  • خطے کا امن برباد، بھارت نے شرلی چھوڑ دی، حقانی اور ملابرادر لڑائی کی وجہ کیا تھی؟

    خطے کا امن برباد، بھارت نے شرلی چھوڑ دی، حقانی اور ملابرادر لڑائی کی وجہ کیا تھی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈِیو میں آ پ کو بتائیں گے کہ ملا براد زخمی تھے یا ناراض۔ جبکہ بھارت نے ایک اور شرلی چھوڑ دی ہے اس کی کیا حقیقت ہے اور طالبان کے خلاف نہ صرف بغاوت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ امریکہ نے بھی شور مچانا شروع کر دیا ہے القاعدہ دو سال میں افگانستان میں قدم جما لے گی۔ اس کے علاوہ دیگر چیزوں پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت پھر بھونڈے حربوں پر اتر آیا، دہلی پولیس نے الزام لگایا ہے کہ اس نے پاکستان کا بھارت میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ اور چھ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جس میں سے دو کا تعلق پاکستا ن سے ہے۔ یہ بھارت کا پرانا حربہ ہے کہ وہ پاکستان پر پریشر ڈالنے کے لیے جھوٹے لزام لگاتا رہتا ہے ۔بھارتی پولیس کے ایسے متعدد دعوے ماضی میں بے بنیاد ثابت ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی اور منظم جرائم کے اسپیشل سیل کے کمشنر نیرج ٹھاکر کے مطابق چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جو ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ ان میں سے دو پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر کے آئے تھے۔ان حملوں کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر پاکستان سے کی جارہی تھی اور اس کا مقصد آنے والے تہواروں کے دوران بھیڑ بھاڑ والے مقامات کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانا تھا۔ ہندوؤں کے دو بڑے تہوار درگا پوجا اور دیوالی اکتوبر اور نومبر میں آنے والے ہیں۔گرفتار کیے گئے کون لوگ ہیں؟دو افراد کو دارالحکومت دہلی سے، تین کو اترپردیش سے اور ایک شخص کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ان کے پاس سے دو دستی بم، دو آئی ای ڈی، ایک کلوگرام آر ڈی ایکس اور اطالوی ساخت کا ایک پستول برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔بھارت نے الزام لگایا ہے کہ ان میں سے دو افراد مبینہ طور پر عمان کے راستے پاکستان گئے تھے اور وہاں انہوں نے ہتھیار چلانے اور دھماکہ خیز مادوں کو استعمال کرنے کی تربیت حاصل کی تھی، ان لوگوں کو پاکستان میں پندرہ دنوں تک ایک فارم ہاؤس میں رکھا گیا تھا، جہاں پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے انہیں اے کے 47 جیسے ہتھیار چلانے کی تربیت دی۔ بھارت داود ابراہیم کو ہمیشہ سے ہی بھارت میں آئی ایس آئی کے فرنٹ میں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہی پرانے کہانی دہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔داؤد ابراہیم سے تعلق کا دعوی پولیس نے دعوی کیا کہ انڈر ورلڈ مفرور ڈان داؤد ابراہیم کا بھائی انیس ممکنہ حملوں کی تیاری میں مدد کر رہا تھا۔ وہ اپنے رابطوں کا استعمال کر کے تقرری، مالی امداد، ٹرانسپورٹ اور دیگر لاجسٹک کی فراہمی میں تعاون کر رہا تھا۔
    اور تو اور سب سے بڑا مزاق یہ ہے کہ بھارتی پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان میں سے دو نے تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں تربیت حاصل کی تھی اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشارے پر کام کر رہے تھے۔اس سے پہلے بھارت گرفتار کیے گے لوگوں کو سالوں سال تک جیلوں میں رکھنے کے باوجود اپنے ہی لگائے ہوئے الزامت، اپنی پولیس ،عدالتوں اور اپنے سسٹم میں ثابت نہیں کر پائے۔گزشتہ مارچ میں عدالت کے حکم کے بعد 129 مسلمانوں کو 19 برس کے بعد رہائی نصیب ہو سکی تھی، جن کے خلاف گجرات پولیس نے دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات دائر کیے تھے۔ اس وقت بھارت کے افغانستا ن میں پر چل چکے ہیں، مودی منہ چھپاتا پھر رہا ہے اور اجیت ڈوول کو ڈوبنے کے لیے چلو بھر پانی دستیاب نہیں کہ وہ تاریخی شرمندگی پر اس میں ڈوب مرے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ ملا برادر زخمی نہیں بلکہ ناراض ہیں اور قندھار میں ملا ہیبت کے پاس ہیں۔طالبان کے مطابق وہ بہت جلد واپس کابل آجائیں گے۔ بی بی سی یہ اسٹوری خدائے نور ناصر نے رپورٹ کی ہے ۔ جنہیں دوحہ اور کابل میں دو زرائے نے کنفرم کیا ہے کہگذشتہ جمعرات یا جمعے کی رات کو ارگ میں ملا عبدالغنی برادر اور حقانی نیٹ ورک کے ایک وزیر خلیل الرحمان حقانی جو سراج الدین حقانی کے چاچا ہیں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ان کے حامیوں میں اسی تلخ کلامی پر ہاتھا پائی ہوئی تھی جس کے بعد ملا عبدالغنی برادر نئی طالبان حکومت سے ناراض ہو کر قندھار چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق جاتے وقت ملا عبدالغنی برادر نے حکومت کو بتایا کہ انھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی۔اسٹوری کے مطابق اگرچہ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری طالبان کے درمیان ایک عرصے سے اختلافات موجود تھے اور ان اختلافات میں کابل پر کنٹرول کے بعد مزید اضافہ ہوا۔اب عمری یا قندھاری طالبان کے اندر بھی ملا محمد یعقوب اور ملا عبدالغنی برادر کے الگ الگ گروہ ہیں اور دونوں طالبان تحریک پر قیادت کے دعویدار ہیں۔جبکہ دوسری جانب حقانی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ دوسری مرتبہ اسلامی امارت ان کی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئی ہے اس لیے زیادہ حق حکمرانی حقانی نیٹ ورک کا حق بنتا ہے۔
    بی بی سی ک کے مطابق دوحہ اور کابل میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر نے نئی حکومت بننے کے بعد کہا کہاُنھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی جس میں صرف اور صرف مولوی اور طالبان شامل ہو۔اُنھوں نے 20 سال میں کئی تجربے حاصل کئے ہیں اور قطر کے سیاسی دفتر میں بین الاقوامی برادری سے وعدے کئے گئے تھے کہ ایک ایسی حکومت بنائیں گے جس میں تمام اقوام کے لوگوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی بھی نمائندگی ہو۔ملا برادر وہ لیڈر ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی جس کے بعد دوحہ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اور ملابرادر کو امریکہ کے پریشر پر پاکستان نے رہا کیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن میں ایک بات بتادوں کہ بھارتی میڈیا نے اس معاملے کوسب سے پہلے اچھالا تھا، یہ بھارت اور مغرب کی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ لڑ پڑیں۔ اس واقعہ کو ڈی جی ISI کے دورہ کابل سے ایک دن پہلے سے رپورٹ کیا جا رہا ہے اور کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر وہ طالبان کے اختلافات دور کروانے گئے تھے ۔ لیکن ملا برادار نے اس کی تردید کر دی ہے۔ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ نرم اور سخت گیر طالبان میں کشمکش ضرور چل رہی ہے۔ کیونکہ دنیا نے اپنی مدد کو مطالبات سے مشروط کر دیا ہے۔ گزشتہ طالبان کے دور میں طالبان نے ایسی سختیوں کا سامنا کیا تھا کہ افغانستان کے پاس پٹرول خریدنے اور بجلی کے بلوں کے پیسے نہیں تھے۔ جن لوگوں نے وہ وقت دیکھا ہے اور اس کے بعد قطر میں وقت گزارہ ہے وہ طالبان کو اپنے سخت گیر مطالبات سے پیچھے ہٹنے، عورتوں کے حقوق اور INCLUSIVE GOVT کے لیے زور دے رہے ہیں، جبکہ سخت گیر طالبان کہتے ہیں کہ ہم نے بیس سال اس لیے قربانیاں دیں کہ دنیا کہ کہنے پر اپنی حکومت بنائیں۔اب طالبان کے ساتھ وہی شامل ہو گا جو ان کے خیالات سے اتفاق کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایران کی خواہش پر شیعہ رہنماوں کو اپنی کابینہ میں شامل کرنے سے انکار کرت ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایران نے گزشتہ چالیس سال میں کسی سنی رہنما کو وزیر بنایا ہے۔جبکہ ایران کے حمایت یافتہ افغان کمانڈر اسماعیل خان نے دوبارہ اعلان جنگ کر دیا ہے اور انہوں نے پنجشیر مزاہمت کا ساتھ دینے کا اشارہ دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پورے ملک سے لوگ اس مزاحمت میں شامل ہونے کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔ اور بہت جلد یہ مزاحمت زار پکڑ لے گی۔ اسماعیل خان وہ کمانڈر ہیں جنہوں نے ہرات میں طالبان کے سامنے سرنڈر کیا تھا اور طالبان نے انہیں معاف کر دیا تھا جس کے بعد وہ ایران چلے گئے تھے۔ اس وقت ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ اس کے حمایت یافتہ لیڈروں کو نئی حکومت میں شامل کیا جائے تاکہ وہ کابل میں ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔جبکہ امریکی انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ ایک سے دو سال کے اندر امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
    امریکا کے انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے افغانستان میں القاعدہ کی واپسی کی ابتدائی علامات دیکھی جاسکتی ہیں، لیفٹیننٹ جنرل سکاٹ بیریئر کا کہنا تھا کہ القاعدہ ایک سے دو سال میں اتنی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے کہ امریکا کو دھمکی دے سکے، القاعدہ کی واپسی کے ابتدائی دن پر نظر رکھیں گے۔ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے ڈیوڈ کوہن نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ القاعدہ جلد امریکا پرحملہ کرسکتی ہے۔امریکہ نے گذشتہ ماہ کے آخر میں افغانستان پر فضائی حملے میں القاعدہ دہشتگرد کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا، تاہم امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے اس حالیہ اعتراف کے بعد کہ وہ نہیں جانتے کہ افغانستان میں ڈرون حملے میں امدادی کارکن کی ہلاکت ہوئی یا دہشت گرد کی پر چین سمیت عالمی برادری نے امریکا سے ڈرون حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان سے تاجکستان میں اہم شخصیات کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان سے تاجکستان میں اہم شخصیات کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان سے تاجکستان میں اہم شخصیات کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں کاروبار اور سرمایہ کاری مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے ممالک بالخصوص تاجکستان کے سرمایہ کار ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،

    پاکستان تاجکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ علاقائی اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی حکومت ہر ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی جس سے نہ صرف معیشت بلکہ عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا پاکستان سے 67 مختلف کمپنیاں تاجکستان آئی ہیں۔ دونوں ممالک کے تاجروں کو سہولیات دینے سے متعلق اقدامات اٹھائے جائیں گے اور کاروبار میں آسانی پیدا کی جائے گی تاجکستان میں توانائی بالخصوص پن بجلی کے حوالے سے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بجلی مہنگی ہے۔ ہم صاف ،سستی پن بجلی سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں 80 ملین ڈالر کی باہمی تجارت دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کاروبار کے لئے مناسب سہولیات فراہم کررہی ہے اور اس سلسلہ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ دوطرفہ تجارت سے نہ صرف معیشت بلکہ عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ 40 سال کی جنگ کے بعد امن قائم ہو ا ہے ۔ جامع حکومت کے قیام سے آپس میں رابطے بڑھیں گے

    مشکل وقت میں عالمی صحافیوں کے انخلاء میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے،سٹیون بٹلر

    وزیر خارجہ کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ

    پی آئی اے کا کابل آپریشن معطل

    کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ سے 5 افغانی جاں بحق، ایئر پورٹ بند

    افغانستان میں بدھ مت کے مقامات کیا واقعی خطرے میں؟ طالبان کا موقف آ گیا

    پاک افغان بارڈر طورخم مسافروں کے پیدل آمدورفت کے لئے بدستور بند

    کابل، جہاز کے اڑان بھرنے کے بعد 3 افراد گر گئے، 2 کی موت

    طالبان کا کابل پر کنٹرول،چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا

    بزنس فورم میں سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان اور مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کاروباری شخصیات کے سوالات کے جوابات دیئے اور پاکستان اور خطے میں کاروباری مواقع کو اجاگر کیا ،اس موقع پر مشیر تجارت عبدالرزاق دائود بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ دوطرفہ تجارت بڑھانے کے حوالے سے اہمیت کا حامل فورم وزارت تجارت، سرمایہ کاری بورڈ اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تعاون سے منعقد ہوا۔ فورم میں 67 پاکستانی جبکہ 150 تاجک کمپنیاں شریک ہو ئیں۔فورم میں شریک کمپنیوں کا تعلق ٹیکسٹائل، چمڑے کی صنعت، فارماسیوٹیکل، ایگریکلچر، مائننگ، ٹورازم، لاجسٹکس کے شعبے سے ہے۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے قزاخستان کے صدر قاسم جومارات تو کایوف نے ملاقات کی ۔ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم عمران خان سے بیلاروس کے صدر لوکا شنکو نے جمعرات کو ملاقات کی۔ یہ ملاقات دوشبنے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی.

    وزیراعظم پہنچے تاجکستان.ہوں گی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

  • چین کی بحری ناکہ بندی:امریکا اوربرطانیہ کا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز ٹیکنالوجی دینے کا فیصلہ:چین سخت ناراض

    چین کی بحری ناکہ بندی:امریکا اوربرطانیہ کا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز ٹیکنالوجی دینے کا فیصلہ:چین سخت ناراض

    لاہور: چین کی بحری ناکہ بندی کےلیے امریکا اور برطانیہ کا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز ٹیکنالوجی دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی گھیرا بندی میں ناکام ہونے کے بعد امریکا نے چین کی بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کرلیا ہے اوراس خطرناک منصوبے کےلیے امریکا اور برطانیہ نے آسٹریلیا کو جوہری آبدوز ٹیکنالوجی دینے کا فیصلہ کیا ہے

    چین کی بحری ناکہ بندی کے اس امریکی منصوبے میں بھارت اورجاپان بھی شامل ہیں اوراس مقصد کےلیے بہت جلد ایک معاہدے کا اعلان بھی ہونے جارہا ہے

    دوسری طرف چین نے امریکا اور برطانیہ کی جانب سے آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کی ٹیکنالوجی دینے کے معاہدے کی شدید مذمت کی ہے۔چین کا کہناہے کہ یہ معاہدہ علاقائی امن واستحکام کیلئےسنگین خطرہ ہے،اس سے اسلحہ کی دوڑ میں اضافہ ہوگا۔

    ترجمان چینی وزارت خارجہ کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ امریکا،برطانیہ ایٹمی برآمدات کو جیوپولیٹیکل گیمز کے آلےکےطورپراستعمال کرتے ہیں، آسٹریلیاکو جوہری آبدوز کی ٹیکنالوجی برآمدکرنا، امریکا اور برطانیہ کے دوہرے معیار کا عکاس ہے اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔

    خیال رہے کہ امریکا، برطانیہ اورآسٹریلیا نے بحر ہند اور بحرالکاہل کے پانیوں میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے نیا سکیورٹی اتحاد بنا لیا ہے۔

    تینوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت امریکا اوربرطانیہ ایٹمی توانائی سے چلنےوالی آبدوزیں بنانےمیں آسٹریلیا کی مدد کریں گے، تینوں ممالک نے علاقے میں دیرپا امن یقینی بنانے کے عزم کا اظہارکیاہے۔

    دوسری جانب فرانس نے بھی آسٹریلیا کی جانب سے برطانیہ اور امریکا سے معاہدے کو ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔فرانس کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا نے پہلے ہم سے جوہری آبدوزوں کا معاہدہ کیا تھا لیکن اچانک امریکا اور برطانیہ کے پاس چلا گیا۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ آسٹریلیا کو وضاحت دینی ہوگی کہ وہ اس معاہدے سے کیسے نکلے گا، اتحادیوں کا آپس میں یہ رویہ نہیں ہونا چاہیے۔

  • تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد (محمداویس ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی میں انکشاف ہواہے کہ چینی سفیر نے شکوہ کیا ہے کہ تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا ہے ،چینی کمپینوں کی بات کوئی نہیں سنتا وہ رورہے ہیں ،شعبہ توانائی کے منصوبوں میں حکومت کی طرف سے 1عشایہ 2ارب ڈالر کی عدم ادائیگی پر چینی کمپنیوں نے کام روک دیا ہے۔وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کمیٹی کوبتایا کہ سی پیک پر جتنا کام ہوناچاہیے تھا وہ نہیں ہوا ،مختلف منصوبے اب پی پی پی موڈ میں لے کرجا رہے ہیں ۔حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ گوادر میں وکیشنل ٹریننگ سنٹر بن گیا ہے مگر وہاں سٹاف نہیں ہے۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ گوادرکے عوام کوصاف پانی دستیاب نہیں ہے پانی کے بغیر کوئی منصوبے نہیں لگ سکتا سب سے پہلے پانی کا بندوبست کیاجائے ۔کمیٹی نے سی پیک منصوبوں کی پیش رفت پر عمل درآمد کے لیے گوادر کا دورہ کرنے کافیصلہ کیا۔

    باغی ٹی وی کے اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلا س چیرمین سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں ہوا ،اجلاس میں سینیٹردنیش کمار،سینیٹر طاہر بزنجو،سینیٹرپلواشہ،سینیٹر ہدایت اللہ نے شرکت کی ۔اجلا س میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر ،معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے شرکت کی ۔چیرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چینی سفیر نے میرے ساتھ ملاقات میں کہا کہ تین سال سے سی پیک کوبند کیا ہوا ہے سی پیک منصوبوں کا بیڑاغرق کردیا گیا ہے چینی کمپینوں کے ساتھ بھی رویہ ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کومسائل ہیں توانائی شعبے کے منصوبوں کی 1عشاریہ 2ارب ڈالر حکومت نے چینی کمپنیوں کوادائیگی کرنی ہے ادائیگی نہ ہونے پر چینی کمپنیوں نے توانائی کے شعبوں پر کام بند کردیا ہے اور کہا ہے کہ جب ادائیگی ہوگی توکام کریں گے ۔

    وفاقی وزیراسد عمر نے کہا کہ سی پیک کے جو منصوبے لگے ہیں وہ پاکستان کے لیے ہیں سی پیک میں کام زیادہ ہونا چاہیے خصوصی طور پر سی پیک پر کام بلوچستان میں زیادہ ہوا ہے۔بلوچستان کے لیے 560ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام شروع اس حکومت نے کئے ہیں ۔بلوچستان کو زیادہ فائدہ انڈسٹری زون سے ہوگا۔ گوادر میں بھی انڈسٹری زون بنایا جائے گا۔وہاں پر سرمایہ کاروں کو لانا ہمارے لیے چیلنج ہے زراعت پر کام کررہے ہیں۔ میرانی ڈیم کے ساتھ زراعت کے حوالے سے کام ہورہا ہے۔سینیٹردنیش کمار نے کہاکہ گوادر کے عوام کو پانی دینا کس کی ذمہ داری ہے کیا چین سے یہ نہیں کہے سکتے ہیں کہ آپ پانی کا منصوبہ گوادرمیں بھی لگائیں۔ اسد عمر نے کہا کہ گوادر میں صاف پانی دینا بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے۔چین کی ذمہ داری نہیں ہے کہ پانی دے گوادر پاکستان کاحصہ ہے۔ ترقیاتی بجٹ کی منظوری این ای سی کی منظوری سے ایوان میں لاتے ہیں منظوری کے بعد ہم تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں۔ بلوچستان کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے اس میں سب سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں اپنی سفارشات دیتے ہیں۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

    کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سینیٹرطاہر بزنجو نے کہا کہ صنعتی زون پانی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔بجلی گھر سے بلوچستان کو فائدہ نہیں ہے کیونکہ ٹرانسمیشن خراب ہے ۔گوادر میں پانی پینے کے قابل نہیں ہے گوادر کے عوام کو ائیرپورٹ سے زیادہ ضرورت صاف پانی کی ہے اس سے وہ خوش ہوں گے۔ مچھلیاں پکڑنے کے غیرقانونی ٹرالر نے مائی گیروں کی روٹی چھین لی ہے۔ غیر قانونی ماہی گیری میں افسران اور بڑے لوگ ملوث ہیں۔ بلوچستان کے لیے فنڈ دیئے جاتے ہیں عمل نہیں ہوتا ہے موٹروے دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں کیوں نہیں بن سکتی ہے۔ کراچی سے چمن جانے والی سڑک پر ہر سال 4ہزار لوگ حادثات میں مرجاتے ہیں۔35سال پہلے یہ ہائی وے بنایا گیا اب یہ بلوچستان کی مصروف ترین شاہراہ ہے۔وفاقی وزیراسد عمر نے کہاکہ کراچی سے چمن تک شاہراہ کو پی پی موڈ میں بنایا جارہاہے ایک حصہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہے۔ مشرف بھی بنانا چارہاتھا مگر نہیں بناسکے۔ وفاقی حکومت اربوں روپے گوادر میں پانی کے لیے خرچ ہوچکے مگر پانی نہیں مل رہا اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے پانی مہیا کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ گوادر نیشنل گریڈ کے ساتھ منسلک ہی نہیں ہے۔ایران سے بھی اضافی بجلی لینے جارہے ہیں۔ گوادر کو نیشنل گریڈ سے منسلک کررہے ہیں۔

    معاون خصوصی سی پیک خالد منصور نے کہاکہ گوادر کے پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دومزید ڈیموں سے لائن گوادر لانے کا منصوبہ ہے۔ گوادر میں 14گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ۔ گوادرمیں پانی کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ چینیوں کی سیکورٹی کے لیے اقدامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں سخت سیکورٹی کی وجہ گوادر میں خود کش حملہ آور چینیوں کے پاس نہیں پہنچ سکا۔جس کی وجہ سے کوئی چینی جان بحق نہیں ہوا۔چین پاکستان کے سیکورٹی انتظامات سے مطمئن ہے۔

    چیرمین کمیٹی نے انکشاف کیاکہ چینی سفیر مجھے شکایت کی ہے کہ تین سال میں سی پیک کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے چینی کمپنیاں بھی خوش نہیں ہیں کہ سی پیک کو بند کردیا گیا ہے پتہ نہیں چینی سفیر آپ سے ملاقات میں کیا کہتا ہے ۔خالد منصور نے کہا کہ چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کررہا ہوں اور ان کے مسائل بھی حل کررہا ہوں۔ وکیشنل ٹریننگ سنٹر گوادر میں بن گیا ہے مگر استاد نہیں ہیں۔ گوادر ہسپتال بن رہاہے مگروہاں ڈاکٹروں و سٹاف کی تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہورہاہے اس طرح ہسپتال بن جائے گا مگر کوئی ہوگا نہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ گوادر میں ماں بچے کا ہسپتال ہی نہیں ہے جہاں ڈلیوری کی سہولت ہو۔سی پیک حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے کا 6فیصد کام رہتا ہے اکتوبر یہ موٹروے کھل جائے گا۔

    سینیٹرہدایت اللہ نے کہاکہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے میں جب میں اس کمیٹی کاچیرمین تھا اس وقت بھی 6فیصد کام رہتاتھا اب بھی اتنا رہتا ہے اس کی کیا وجہ ہے یہ مکمل کیوں نہیں ہورہاہے ۔کمیٹی نے سی پیک مغربی روٹ پر کام کرنے والے کنٹریکٹر کی لسٹ مانگ لی۔چیرمین نے کہاپاکستان میں کام کرنے والے چائینز رورہے ہیں۔خالد منصور نے کہاکہ 1.2ارب ڈالر ادائیگی چین کے کمپنیوں کو ادائیگیاں کرنی ہیں جس کی وجہ سے کچھ پروگرام رکھے ہوئے ہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جب تک پاور کے منصوبوں کے لیے 1.2ارب ڈالر ادا نہیں کریں گے کام شروع نہیں ہوگا۔ایم ایل ون اہم منصوبہ ہے۔چین کہتا ہے کہ 9ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور پاکستان کہتا ہے کہ 6ارب کا منصوبہ ہے۔جس کی وجہ سے اس کے لون کی منظوری نہیں ہورہی ہے۔دوسری طرف وزیر ریلوے اعظم سواتی کہتے ہیں کہ ریلوے کو ہی بند کردیں ۔حکام سی پیک نے کہاکہ ایم ایل ون پر ابھی کوئی کام شروع نہیں ہوا لون کی منظوری ہوگی تو اس پر بیڈز جاری کریں گے۔پاکستان میں 137چینی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

  • فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبریں تو بہت ہیں لیکن اس حکومت کے لیے مسئلہ نمبر ون میڈیا بنا ہوا ہے ۔ آج کی بھی خبریں اور وزراء کے بیانات صرف یہ ہی تھے کہ کیسے بے لگام میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ یہ حکومت اپنی کارکردگی ، وزراء اور مشیروں کا احتساب کرنے کو تیار نہیں ۔ پر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ معیشت کو ٹھیک کرنے اور پاکستان کو پتہ نہیں کیا بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اعلی کارکردگی سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 170روپے کے قریب پہنچ گیا ۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں 1کھرب ڈوب گئے ہیں ۔ جی ہاں ایک کھرب روپے ۔ یہ وہ خبر ہے جو حکومت سمجھتی ہے کہ فیک نیوز ہے ۔ ایسے جب پیڑول ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے تو حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بھی فیک نیوز ہے ۔ بجلی آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی حکومت فیک نیوز کی نظر دے دیکھتی ہے ۔ حقیقت اور کھرا سچ یہ ہے کہ یہ حکومت ہی فیک ہے۔ اس کے کنڑول میں نہ تو اس کے اپنے وزیر ہیں نہ ہی بیوروکریٹ ۔ اور مافیاز تو اس حکومت کو استعمال کرتے ہیں ۔
    ۔ ان کو کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس میں نہیں یہ سچ آپ بتائیں گے تو آپکو غداری سے لے کر پٹواری جیالے سمیت پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیے جائیں گے ۔ آپکو کہا جائے گا کہ آپ بھارت چلے جائیں ۔ آپ ایجنٹ ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور کرائم بڑھ رہا ہے ۔ آپ کہیں گے کہ عثمان بزدار اورمحمود خان ٹکے کا کام نہیں کررہے۔ تو یہ اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں آپکے پیچھے لگا دیں گے جو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپکو لعن طعن کریں گے ۔ یہ آپکو لفافہ کہیں گے ۔ یہ آپکو ننگی گالیاں دیں گے ۔ یہ آپکی ایسی کردار کشی کریں گے کہ آپ اپنی ہی نظروں میں گر جائیں گے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے رتی برابر بھی نہ خوف ہے نہ ڈر ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال پی ٹی آئی نے کیا۔ بلکہ باقی جماعتوں نے ان کی دیکھا دیکھی میڈیا سیل بنائے ۔ یہ واحد جماعت تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکائونٹس سے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے۔ ملک کے اندر مختلف اہم لیڈروں نے سوشل میڈیا کے اپنے اپنے سیٹ اپ بنائے ۔ جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی تنظیم کے سوشل میڈیا کے سیٹ اپس اس کے علاوہ تھے ۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فیک ٹرولنگ سے مجھے کوئی فرق پڑے گا تو یہ غلطی پر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز حکومتی پارٹی خود پھیلاتی ہے ۔ میرا کام ہے یہ بتانا کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ کن اذیتوں میں مبتلا ہیں ۔ اور میں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ۔ آپ جا کر میری گزشتہ ویڈیوز دیکھیں لیں ۔ کمنٹس پڑھ لیں ساری کہانی آپکو معلوم ہوجائے گی ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن اسکینڈلز سے لے کر بری گورننس کو ایکسپوز کیا جب وہ حکومت میں تھے ۔ ہم آج بھی کئی کیس اس دور کے بھگت رہے ہیں ۔ ہم پر حملے ہوئے ۔ ہم نوکریوں سے نکالے گئے ۔ لفافے لینے ہوتے تو نواز شریف سے زیادہ کون دے سکتا تھا ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اکیلے مریم کے میڈیا سیل کو ٹکر دیے رکھی ۔ تو میں اور میری ٹیم ان سے نہیں ڈری تو یہ جو جھوٹی ٹرولنگ میری کی جارہی ہے ۔ یا مجھے اور میری ٹیم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں میں سچ بولوں گا ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مالشیوں اور پالشیوں کی تو ہی دور میں ہی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ میں یہ نہیں کروں گا ۔ یہ میں بتادوں کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے میڈیا کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ۔ اگر یہ قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ صرف اخبار نہیں اور الیکٹرونک چینلز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کالے قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔ شائد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بارعوام نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے بے دریغ اور بلا جھجک الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پیسے لینے کی سنگین تہمت عائد کی ہے۔ کیا وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے ۔ اپوزیشن سمیت سب عوام اس الزام پر ہل کر رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اُس سیاسی جماعت کا نام بتائے جس نے الیکشن کمیشن کو بطورِ رشوت پیسے دیے ہیں۔ اس پرحکومتی وزیر کہتے ہیں کہ ہم کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خلاف میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں آٹا ، چینی ، گھی ، بجلی ، دوائیوں ، پیٹرول مافیا پر اس حکومت کے بیانات اور فیک نیوز کی ایک داستان ہے جس پر اگرکوئی کتاب لکھنے بیٹھے تو صحفے کم پڑجائیں ۔ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں ۔ قانون بنا دے کہ ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے ۔ آج بھی تمام حکومتی وزیر ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ حکومت کو غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جب کہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کیسے لگائیں گے کہ فیک نیوز کونسی ہے؟ کیا فیک نیوز وہ ہوگی جسے حکومت کہہ دے کہ یہ فیک نیوز ہے۔ یعنی حکومت جسے سچ قرار دے، وہ ہی سچ ہو گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے بھی کون سا صحافی ہے جو چاہے گا کہ وہ فیک نیوز دے ۔ اس ملک میں خبر کی حرمت کی خاطر صحافیوں نے صرف ماریں نہیں کھائیں اپنے گلے تک کٹوائے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی شکل بگاڑنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ۔ اُن سے کون واقف نہیں۔ کئی چینل و اخبارات سخت مالی دباؤ کا شکار ہوکر بند ہوگئے ہیں ہزاروں صحافی بے روز گار ہوگئے اور کئی ادارے مقروض ہوگئے۔ پاکستان صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 138ویں پوزیشن سے145ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے خود ایک فیک نیوز کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اس حکومت میں جو جتنا جھوٹ بولے ۔ جو جتنے اچھےطریقے سے مخالفین کو لتراڑے اس کو اتنا ہی اچھا عہدہ مل جاتا ہے ۔ اس حکومت نے چن چن کر بدتمیز ، اخلاق سے گری گفتگو کرنے والوں ، رنگ بازوں اور نااہلوں کی فوج کو جمع کر رکھا ہے ۔ جس کا کام بس روز دن میں دس دفعہ میڈیا پر آکر لوگوں کی کردار کشی کرنا ہے ۔یعنی جتنا لُچا اتنا اُچا۔ میڈیا پر اس قدر پابندیاں تو شاید ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں لگی تھیں جتنی آج لگائی جا رہی ہیں ۔ لہٰذا حکومت، عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ کیونکہ نہ یہ حکومت صدا رہنے ہے ۔ نہ عہدے صدا رہنے ہیں ۔ نہ کرسی صدا رہنی ہے ۔ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ اس خواہش کا عملی اظہار پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی کر دیا تھا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران بھی خان صاحب کی حکومت ملکی میڈیا کو زیرکرنے اور اپنے ڈھب پر کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہے۔ کئی صحافی اور میڈیا ورکرز لمبے حکومتی ہاتھوں کا ہدف بنے ہیں۔ یہ میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ساری قیادت اور ملک کی نمایاں وکلا تنظیموں نے بھی میڈیا ورکرز کے اس احتجاج میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ وعدہ کہاں تک ایفا ہوتا ہے ۔

  • ہوشیار، کرونا ویکسین کا گھن چکر شروع،ویکسین نہ لگوائی تو زندگی رک جائے گی

    ہوشیار، کرونا ویکسین کا گھن چکر شروع،ویکسین نہ لگوائی تو زندگی رک جائے گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟
    اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کے
    Carrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ
    Carrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZeneca
    Sinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
    وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

  • قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    اسلام آباد ہائیکور ٹ میں نور مقدم قتل کیس ،ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    وکیل خواجہ حارث نے چالان سے ملزم ظاہر جعفر کا اعترافی بیان پڑھا ،خواجہ حارث نے کہا کہ پولیس چالان کے مطابق ظاہر جعفر اپنے والدین سے رابطے میں تھا، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی نے پولیس کو اپنے بیان میں کیا کہا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ میں پولیس نے دونوں ملزمان سے کچھ پوچھا ہی نہیں،تھراپی ورکس کو 7 بج کر 5 منٹ پر ذاکر جعفر نے کال کی، عدالت نے کہا کہ اگر تھراپی ورکس کو کال کی گئی تو واقعہ ساڑھے 6 سے 7 کے روران ہو سکتا ہے،وکیل نے کہا کہ ذاکر جعفر نے پولیس کو کال کی اورکہا ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں اسے لے جائیں،

    جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیکھنا کہ موکلین کا کیس میں کیا کردار ہے؟ اگر تھراپی ورکس کو کال کی گئی تو واقعہ ساڑھے 6 سے 7کے دوران ہو سکتا ہے،برطانیہ میں سسٹم ہے جہاں 20،20 سال بعد کیس کا فیصلہ سنایا گیا ہمارے یہاں تو شواہد محفوظ کرنے کا کوئی سسٹم نہیں، وکیل نے کہا کہ چالان کے ساتھ ریکارڈ میں نہیں لکھا گیا کہ وقوعہ کی اطلاع پولیس کو کس نے دی ؟ عدالت نے استفسار کیا کہ موکلین نے7 بجکر 5 منٹ پر تھراپی ورکس کو کال کی اور ظاہر جعفر کو ریسکیو کا کہا؟ وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کے حوالے سے ہسٹری موجود ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا تھراپی ورکس کے 5 افراد بھی ملزم ہیں؟ جس پر وکیل نے عدالت میں بیان دیا کہ تھراپی ورکس کے ملازمین پر بھی شواہد مٹانے کا الزام ہے، پہلے تو یہ معلوم ہی نہیں کہ ظاہر جعفر نے والدین کو قتل کا بتایا تھا یا نہیں، اگر یہ معلوم بھی ہو اور تھراپی ورکس والے ثبوت مٹانے گئے ہوں پھر بھی یہ کیس نہیں بنتا،

    خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مقدمہ میں یک طرفہ تفتیش کی، تفتیش کے عمل میں گرے ایریاز ہیں، پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ ذاکر جعفر نے تھراپی ورکس والوں کو لاش ٹھکانے لگانے بھیجا۔ اگر انہیں قتل کے بعد موقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ پولیس چالان کے مطابق ظاہر جعفر اپنے والدین سے رابطے میں تھا، والدین سے کیا بات ہوئی؟ محض مفروضے پر بات نہیں ہوسکتی۔ پراسیکیوشن کے مطابق والد نے لاش ٹھکانے لگانے تھراپی ورکس والوں کو بھیجا۔ بغیر کسی ثبوت کے ایسی بات خود سے ہی کیسے کہی جا سکتی ہے؟

    نور مقدم قتل مقدمہ ،ظاہر جعفر کے والدین ضمانت کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ،جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیکھنا کہ موکلین کا کیس میں کیا کردار ہے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی پر اس الزام میں بھی قابل ضمانت دفعات لگتی ہیں،چالان میں ہے کہ ظاہر جعفر نے قتل کے بعد والدین کو آگاہ کیا،مالی اور چوکیدار پر نور مقدم کو گھر سے باہر جانے سے روکنے کا الزام ہے،شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ہوتا ہے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کالزپر شواہد مٹانے کا کہا گیا یا نہیں یہ تو پولیس کو ثابت کرنا ہے،ہمارے یہاں تفتیش کا عمل موثر نہیں،

    نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت لوئر کورٹ مسترد کر چکی ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے طور پر دائر کیا گیا ہے

    دوسری جانب بدنام زمانہ قاتل ظاہر جعفر کے گھر کے مالی جان محمد اور خانساماں جمیل کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے گزشتہ روز فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کو مسترد کردیا تھا

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    نورمقدم کیس، فارنزک رپورٹ آگئی. وحشی درندہ قتل سے پہلے دو دن نور سے کیا کرتا رہا. دل دہلا دینے والے انکشافات.

    نور مقدم قتل کیس میں نیا موڑ، والدین نے درندے کو بچانے کی کیسے کوشش کی؟

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں مزید توسیع

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم کیس،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی پر نوٹسز جاری

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

    نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    ایف آئی آر میں ظاہر جعفر کے والدین کا کوئی ذکر نہیں،ملزم کیسے بن گئے، وکیل کے عدالت میں دلائل

  • عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،بلاول

    عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،بلاول

    عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،بلاول
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پیٹرول 5 روپے مزید مہنگا ہوگیا، قوم کے اچھے دن کب آئیں گے؟ پیٹرول بلند ترین سطح پر پہنچا کر عمران خان نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مارا ، ڈالر اور پیٹرول بلند ترین سطح پر ہوں گے تو ہر شے عوام کی دسترس سے نکل جائے گی،عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،عمران خان چین کی بانسری بجارہے ہیں، بجٹ کے بعد عوام کو ریلیف پہنچانے کے وہ دعوے کہاں گئے؟اقتدار میں آنے والے آج مہنگا ترین پیٹرول بیچ کر اس کا دفاع بھی کررہے ہیں،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے جمع رقم حکومت کرپشن میں اڑا دے گی،

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی ہے ،قرارداد مسلم لیگ(ن)کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کرتا ہے پیٹرول کی قیمت میں 5روپے اضافہ قابل مذمت ہے عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے ہر پندرہ دن بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام دشمن حکومت کا واضع ثبوت ہے وزیرخزانہ شوکت ترین بھی اسد عمر اور حفیظ شیخ کی پالیسیوں پر گامزن ہیں موجودہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے .

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ہوشربا اضافہ قابل مذمت ہے، تبدیلی سرکار نے گزشتہ 3 سال تیل کی قیمتوں میں 28 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے،اب دعوی کریں گے کہ اوگرا نے عوام پر بڑا بم گرانے کو کہا تھا ہم نے چھوٹا گرایا ہے،

    امیر جماعت اسلامی غربی لاہور عبدالعزیز عابد نے پٹرولیم مصنوعات اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کرتی ہےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ ریاست مدینہ میں کیسا ظالمانہ نظام نافذ کیا جارہا ہے۔ پٹرول، گھی آٹے اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر نکل گئی ہیں۔ جماعت اسلامی اس ہوشربا مہنگائی کے خلاف مہم چلائے گی۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لے۔کرونا وباء کی وجہ سے متوسط طبقہ پہلے ہی دو وقت کی روٹی سے تنگ ہے۔

    دوسری جانب یٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا پٹرول کی قیمت میں اضافے سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے حکومت چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک زندگی گذارنے کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں کے حوالے سے بہتر حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،عدالت نے کیا جواب طلب