Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرلےکہ اب طالبان افغانستان کے حقیقی حکمران ہیں،، افغان وزیرخارجہ

    دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرلےکہ اب طالبان افغانستان کے حقیقی حکمران ہیں،، افغان وزیرخارجہ

    کابل :دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرلےکہ اب طالبان افغانستان کے حکمران ہیں،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اور اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

    عہدہ سنبھالنے کے بعد کابل میں پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولوی امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ جن ملکوں نے افغانستان کی مدد کی ان کے شکر گزار ہیں، افغانستان کی مدد کرنے والے ملکوں سے تعاون کریں گے، مہاجرین کی واپسی کیلئے بھی کوشش کریں گے۔

    انہوں نے اپیل کی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں جبکہ ڈونرممالک سے بھی درخواست ہے کہ افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں۔

    عالمی برادری کومخاطب ہوتے ہوئے افغان وزیرخارجہ مولوی امیرخان متقی نے کہاکہ سابقہ حکومت کے افغان عوام کے مفادمیں طے شدہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری کریں گے، وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں نامکمل پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے فنڈز بحال کیے جائیں۔

    امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ مطلوبہ دستاویز رکھنے والے افغان شہریوں کوبیرون ملک سفرکی اجازت ہوگی، ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے ۔ان کا کہنا تھاکہ ہم چاہتے ہیں دوسرے ممالک افغانستان پر دباؤ نہ ڈالیں، دباؤ سے افغانستان کو فائدہ ہوگا اور نہ ان ممالک کو جبکہ سب ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

    افغان وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی کا کہنا تھاکہ طالبان نے امریکا سمیت غیرملکیوں کے کابل سے انخلا میں بھرپور تعاون کیا لیکن طالبان کی تعریف کے بجائے امریکا نے ہمارے قومی اثاثے منجمد کرکے مشکلات پیدا کیں، امریکا سمیت عالمی برادری کو معلوم ہوناچاہیےکہ انتشارکی پالیسی کارگر نہیں ہوگی۔

    اس موقع پر انہوں نے پھراس پیغام کو دہرایا کہ طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اور اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے۔وزیرخارجہ مولوی امیر متقی کا کہنا تھاکہ افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق منفی اور تعصب پرمبنی پالیسیوں کاخاتمہ ہوناچاہیے۔

    جنیوا کانفرنس سے متعلق افغان عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ جنیواعالمی کانفرنس میں مدد کا اعلان کرنے والے ملکوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ امداد کا اعلان کرنے والے ممالک کی فراہم کردہ رقم افغان بینک سے مستحقین تک پہنچائی جائے گی۔

    انہوں نے کہاکہ صحت، تعلیم اور شہروں میں انفراسٹرکچر میں مدد کی ضرورت ہے لہٰذا امید ہے کہ عالمی برادری افغانستان کو امداد سیاسی عزائم ومقاصد سے مشروط نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھاکہ جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے ہیں، انہیں چاہیے مکمل کریں۔

    افغان طالبان کی عبوری حکومت سے متعلق عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں افغانستان کے تمام گروہوں کو نمائندگی دی جائے گی لیکن ضروری نہیں وسیع قومی حکومت میں سابق حکومت کے وزراکوبھی شامل کیاجائے۔سابقہ حکومت کے افغان عوام کے مفادمیں طے شدہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔

    افغانستان میں غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مولوی امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ افغانستان میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری کو کوئی خطرات درپیش نہیں، چین کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے افغان عوام کوروزگار ملے گا جبکہ تاجراور سرمایہ کار اپنے کاروبار شروع کریں، خود بھی منافع کمائیں اور عوام کو بھی فائدہ دیں۔

    عبوری وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ بیرون ملک گئے افغان شہری باحفاظت اور وقار کے ساتھ واپس لوٹ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ افغانستان سے جانے یا آنے والوں کے پاس سفری دستاویزات ہونی چاہیئیں۔

  • "خان جی تہانوں منّ گیا آں،تُسیں واقعی لیڈر جے”روسی صدرولادیمیرپوتن کا وزیراعظم کوفون

    "خان جی تہانوں منّ گیا آں،تُسیں واقعی لیڈر جے”روسی صدرولادیمیرپوتن کا وزیراعظم کوفون

    لاہور:”خان جی تہانوں منّ گیا آں،تُسیں واقعی لیڈر جے”روسی صدرولادیمیرپوتن کا وزیراعظم کوفون ،اطلاعات کے مطابق روسی صدرولادی میرپوتن نے وزیراعظم عمران خان کو فون کیا ہے اورخیریت بھی دریافت کی ہے ،

    روسی صدر ولادی میرپوتن نےاس موقع پروزیراعظم عمران خان کی افغانستان میں بہترحکمت عملی پرخراج تحسین پیش کیا اورعمران خان کی صلاحیتوں کا اعتراف بھی

    ذرائع کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کر کے افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کیا ہے۔

    روسی صدر ولادی میرپوتن اوروزیراعظم عمران خان کے درمیان افغانستان کی موجودہ صورتحال، دو طرفہ تعاون اور شنگھائی تعاون تنظیم سے متعلق بات چیت کی گئی۔

    وزیراعظم عمران خان نے علاقائی سلامتی اور خوشحالی کیلئے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    شہباز گل کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کیساتھ 25 اگست 2021ء کے ٹیلیفونک رابطے کی بات چیت کو دہرایا۔

    پی ایم آفس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں مزید تعاون اور افغانستان کے معاشی بحران سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کے حوالے سے کردار ادا کرے، عالمی برادری اس اہم موڑ پرافغان عوام کو تنہا نہ چھوڑیں۔ عالمی برادری کوافغانستان کے ساتھ رابطوں میں رہنا چاہیے، افغانستان کوفوری طورپرانسانی بنیادوں پرامداد کی ضرورت ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان افغانستان کی صورت حال میں قریبی رابطہ اور مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ افغانستان میں امن واستحکام علاقائی امن وخوشحالی کے لیے ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے روس کے ساتھ تعلقات کے مزید فروغ کے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبہ میں روس کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

    اعلامیہ کے مابق وزیراعظم نے گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا، عمران خان صدر پیوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    صدر پیوٹن نے بھی وزیراعظم عمران خان کو دورہ روس کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    یاد رہے کہ 25 اگست 2021ء کو بھی وزیراعظم عمران خان اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں جامع سیاسی تصفیہ ہی امن کا ضامن ہے۔ پرامن اور محفوظ افغانستان پاکستان اور خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے زور دیا کہ عالمی برادری افغانستان کے عوام کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ انہوں نے افغانوں کے تحفظ، سلامتی اور انسانی حقوق پر زور دیا۔

    عمران خان اور روس کے صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے تجارت، توانائی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے روسی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوے دی۔

  • اپوزیشن کی جگہ الیکشن کمیشن آف پاکسستان نے لے لی:حکومت کوٹف ٹائم دینےکا فیصلہ

    اپوزیشن کی جگہ الیکشن کمیشن آف پاکسستان نے لے لی:حکومت کوٹف ٹائم دینےکا فیصلہ

    اسلام آباد :اپوزیشن کی جگہ الیکشن کمیشن آف پاکسستان نے لے لی:حکومت کوٹف ٹائم دینےکا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں حکومت کو کئی محاذوں پرسخت مزاحمت کا سامنا ہے اوراب توصورت حال یہ ہوچکی ہے کہ اپوزیشن کی جگہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لے لی ہے اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے ،

    اس سلسلے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر ریلوے اعظم سواتی کو نوٹس دینے کا فیصلہ کرلیا۔

    اعلامیے کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں ممبران الیکشن کمیشن نثاردرانی، شاہ محمد جتوئی اوردیگر افسران نے شرکت کی اورحکومتی وزرا اوردیگراہم شخصیات کوسبق سکھانے پراتفاق کیا ہے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس اہم اجلاس میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنرپرالزام تراشی پر وزیراطلاعات فوادچوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق اعظم سواتی کے الیکشن کمیشن پر عائد الزامات پر اُن سے ثبوت مانگنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوادچوہدری نے پریس بریفنگ میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنرپرالزام تراشی کی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں وزرا کو نوٹس جاری کیے جائیں تاکہ مزیدکارروائی کی جاسکے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور میں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر یلغار کردی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن حکومت کا مذاق اڑا رہا ہے اس نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔

    اس کے بعد وفاقی وزرا نے بھی پریس کانفرنس کی تھی جس میں بھی الزام تراشی کی گئی تھی۔جس کےبعد الیکیشن کمیشن نے فرنٹ فُٹ پرکھیلنے کا فیصلہ کیا ہے اوراس سلسلے میں حکومت مخالف پی ڈی ایم اوردیگرجماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کوحمایت بھی ملنا شروع ہوگئی ہے

  • چین میں زیرتعلیم پاکستانی طالب علموں کامستقبل تاریک،طالب علم بےچین،حکمران خاموش تماشائی

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی طالب علموں کامستقبل تاریک،طالب علم بےچین،حکمران خاموش تماشائی

    لاہور:چین سے کورونا کے سبب واپس آنے والے پاکستانیوں کامستقبل تاریک،طالب علم بےچین،حکمران خاموش تماشائی،بچپن میں‌ سنا کرتےتھے کہ تعلیم حاصل کریں‌ خواہ تمہیں چین جانا پڑے ، بعد میں کچھ محققین آئے اوران کا کہنا تھا کہ یہ کہاوت درست نہیں مگرپھردنیا نے دیکھا کہ چین واقعی علم کا گڑھ بن گیا اوردنیا بھرسے علم کے پیاسے چین کا رخ کرنے لگے

     

     

     

     

     

     

     

    چین کی طرف جانے والوں میں پاکستانی بھی بڑی تعداد میں شامل تھے اوراب بھی یہی شامل ہونے کی خواہش کرتے ہیں‌

    اب جب دنیا بھرسے آئے ہوئے طالب علم چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے موجود تھے تو اس دوران اکتوبر، نومبر 2019 میں چین میں کورونا وبا نے سراٹھا لیا اورپھردیکھتے ہی دیکھتے اس وبا نے پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا

    اس دوران دنیا بھرکی حکومتوں نے چین سے اپنے طالب علموں کو نکالنے کےلیے ہنگامی بنیادوں‌ پر خصوصی پروازیں بھیجیں اوراپنے طالب علموں کو وہاں سے نکال کے واپس لے ائے

    چینی حکومت نے تمام ملکوں سے درخواست کی تھی کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں بہت جلد اس وبا پرقابوپالیا جائے گا اورپھرسے تعلیمی سلسلہ شروع کردیا جائے گا

    اس دوران چین نے پاکستانی طلبا کوخصوصی درخواستیں کی کہ یہ آپ کا اپنا گھر ہے ہمیں‌ آپ بہت عزیز ہیں اورکبھی تنہائی کا احساس نہیں ہوگا ، آپ پاکستان نہ جائیں اوراپنے تعلیمی سلسلے جاری رکھیں‌،

     

    اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ وہ طالب علم متاثرہوئے جوچینی تعلیمی اداروں میں چھٹیوں‌ کے باعث پاکستان آئے تھے، کیوں اکثرطالب ایسے تھے جودسمبرمیں پاکستان واپس آئے تھے اوران کا خیال تھا کہ وہ جنوری فروری میں‌ واپس چین جا کراپنے تعلیمی سلسلے شروع کرسکیں‌ مگرایسا نہ ہوسکا

    ایسے طالب علموں‌ کی تعداد ہزاروں میں ہے ، جن کا مستقبل اب چین کی خواہشات میں دب کررہ گیا ہے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اگرچین نے اس موقع پرواقعی پاک چین دوستی کا حق ادا نہ کیا تواس کا پاکستانیوں‌ پر منفی اثرپڑے گا

    ہاں چین سے واپس آنے والے کچھ ایسے بھی طالب علم تھے جوکورونا کی تباہ کاریوں سے ڈرتےہوئےآئے تھے، اگرطالب علم چین میں ہے تو وہ بھی بے چین تھا اورپیچھے سے اس کے والدین بہن بھائی اوردیگررشتہ دار بھی بے چین تھے ،

    ہرکوئی حکومت سے مطالبہ کررہا تھا کہ ہمارے بچوں کو نکال کر پاکستان لے ،کچھ طالب علموں‌ کی مائیں‌ میڈیا پرآآکر روتی تھیں کہ میرے بیٹے چین میں پھنسے ہوئے ہیں ، وہاں کورونا سے دیکھتے ہی دیکھتے ہرکوئی مرتا جارہا ہے ، کوئی کہتا تھا کہ میری لخت جگرچین میں پھنسی ہوئی ہے ، غرض یہ کہ ہرطرف لوگوں کی آہ وبکا کی آوازیں آرہی تھی ،

    اس وقت عجیب صورت حال تھی ، کیونکہ کورونا وبا کے آغاز میں جب چین میں ہرطرف تباہی پھیلتی نظرآرہی تھی تو اس وقت چین میں‌ بیھٹے کچھ پاکستانی طلبا اپنے پیاروں ، اپنے والدین ، بہن بھائیوں‌ کو ایسے دردناک مناظروہاں سے بھیج رہے تھے اور اس ان مناظرکو بنیاد بنا کرایسی دہائیاں دے رہے تھے کہ ان کی بے بسی کودیکھ ہرآنکھ سے آنسو جاری تھے

    حتی کہ حکومتی اہلکار بھی اس موقع پراپنے جزبات پرقابونہ پاسکے اورعوام کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان کے پیاروں کو بہت جلد چین سے پاکستان پہنچایا جائے گا اورپھر ایسے ہی ہوا

    اس بے بسی ، بے چینی اورآہ و بکا کے دوران ایسے لوگ بھی سامنے آئے جن کی کہی ہوئی باتیں‌آج سچ ثابت ہورہی ہیں ، ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ وبا دنیا بھر میں پھیل رہی ہےاورجب یہ پاکستان میں‌ پھیلے گی توپھریہ طالب علم کدھرجائیں گے اس پربعض والدین نے جزباتی ہوکرسخت تنقید بھی کی

    لیکن آج وہ الفاظ واقعی سچ ثابت ہوئے جب پاکستان میں اس وبا نے پنجے گاڑھے اورپھردیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم کورونا کی وبا میں پھنس کررہ گئی ہے

    اس دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی سید ذوالفقارعرف ذلفی بخاری کی کوششوں سے چین میں پھنسے پاکستانی طلبا کو خصوصی پروازوں کے ذریعے نکال کرپاکستان لانے میں اہم کردارادا کیا

    ان غیرملکی طالب علموں کی بےچینی کوختم کرنے کے لیے چین کے وزیر خارجہ وانگ ونبین نےانہی دنوں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چینی حکومت غیر ملکی طلبہ کے حقوق اور جائز مطالبات کا ہر صورت خیال رکھے گی، اس وقت چینی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ پاکستانی طالب علم چین کواپنا دوسرا گھرسمجھیں گھبرائیں نہ یہ مشکل وقت گزرجائےگا اورجومشکل وقت میں ثابت قدم رہے وہ کامیاب بھی ہوجائیں گے

    ان میں سے کچھ ایسے پاکستانی طالب علم جو چین میں ثابت قدم رہے اوربے چینی میں اپنے آپ کو سنبھالا اورپاکستان میں آنے کی بجائے وہاں رہ کراحتیاطی تدابیراختیارکیں وہ آج سب سے زیادہ خوشنصیب ہیں ، جن کی تعلیم بھی ضائع نہ ہوئی اورنہ ہی ان کوکسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش آیا

    اس پر چینی حکومت نے پاکستانی حکومت کے ان فیصلوں‌ کو بہت سراہا جس میں پاکستانی حکومت نے عوام الناس کومطئمن کیا تھا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں چین میں پاکستانی طلبا محفوظ اوران کو تمام سہولیات دی جارہی ہیں‌

    اس کا کچھ اظہارکراچی میں‌ اس وقت چین کے قونصل جنرل لی بیجیان نے کہا تھا کہ پاکستان کا چین سے اپنے شہریوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ ’بہت ہی مشکل لیکن اچھا‘ ہے۔

    لی بیجیان کا کراچی پریس کلب میں ’میٹ دی پریس‘ پروگرام واضح طورپرکہا تھا کہ چین سے شہریوں کو واپس لانے یا وہاں رکھنے کا فیصلہ بہت ہی مشکل تھا لیکن حکومت نے شہریوں کو نہ لانے کا مشکل فیصلہ کیا ہے

     

    پاکستان میں چینی حکام کی طرف سے یہ کہا تھا کہ پاکستانی طالب علموں کو چین میں بہتر سہولیات دی جاری ہے۔

    ’ہماری حکومت ان کو ہر وہ سہولت دے رہی ہے جس کی انہیں کورونا سے بچاؤ کے لیے ضرورت ہے۔ انہیں بہترین سہولیات بشمول حلال گوشت مفت میں مل رہا ہے، ان کے ساتھ ہم اپنے بچوں کی طرح خیال رکھ رہے ہیں‌
    بیجیان کے مطابق 50 ہزار پاکستانی ورکرز اور طالب علم چین میں رہ رہے ہیں اور ان کو نکالنے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ تھا

    بہر کیف بات ہورہی ہےکہ اس کے بعد بڑی تعداد میں پاکستانی طلبا بضد پاکستان واپس پہنچ گئے اورپھروہی کچھ ہوا جن کے خدشات ظاہرکیے جارہے تھے ، وہی طالب علم جن کو چین میں کورونا سے بچاو کے لیے بہترین حفاظتی انتظامات میسر تھے جب پاکستان میں آئے اورکورونا نے ہرطرف تباہی مچادی تو پھریہی طالب علم رونے دھونے لگے اور پھراپنے اس فیصلے پراپنے آپ کو کوسنے لگے کہ بہترہوتا آج چین میں ہوتے اورجس طرح چین سے وبا پر قابو پالیا گیا ہے وہ بھی محفوظ رہتے

    اب اس کے بعد جب چین نے کورونا وبا پرقابو پالیا تو جوپاکستانی طلبا واپس پاکستان آچکے تھے اب ان کو چین میں وہ اعلٰی سہولیات اوران کی اعلیٰ‌ تعلیم کی تکمیل کی خواہش بے چین کررہی تھی ، جب یہ بے چینی حد کوبڑھ گئی توان طلبا نے حکومت پاکستان کی منتیں کرنا شروع کردیں کہ ان کو واپس چین بھیجا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں

    لیکن اس دوران جہاں دنیا بھرمیں کورونا وبا کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا تھا پاکستانی حکومت بھی ان میں سے ایک ہے جس کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ،آبادی زیادہ ہے لوگوں میں شعوربہت کم اوروسائل بھی بہت کم ان حالات میں پاکستانی حکومت کے لیے فی الفوران طالب علموں کوچین بھیجنا بہرحال مشکل دکھائی دے رہا تھا ،

    چینی تعلیمی اداروں میں دسمبر کی تعطیلات کی وجہ سے جو 5000 سے زائد پاکستانی طلبا پاکستان آگئے تھے اب اس وقت واپس چین جانے کی اجازت کے منتظر ہیں۔ بظاہر تو ہمسائیہ ملک چین قریب قریب کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور غیر ملکی طلبا کو تعلیم مکمل کرنے کی اجازت بھی دے چکا ہے۔لیکن یہ مشروط اجازت اکثرکی پہنچ سے باہر ہے

    اگرپاکستان بھرسے اس بات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ زیادہ تر پاکستانی طلبا کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں واپس چین پہنچ جانا چاہیے تھا.

    لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ تاخیر کی وجہ سے ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان طلبا نے پاکستانی اور چینی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی واپسی کے نظام الاوقات کو حتمی شکل دیں لیکن ابھی تک دونوں جانب سے کوئی پیش رفت دیکھی نہیں گئی۔

    اگریہ دیکھا جائے کہ چین میں کتنے پاکستانی مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی کررہے تھے یا کررہے ہیں تو ان کی تعداد جو پچھلے مہینے پاکستان چین ایمبیسی نے ایک گوگل شیسیٹ کے ذریعے چین سے واپس پاکستان آنےوالے طلبا کے سے معلومات لی تھیں ، وہ تعداد 6 ہزار سے زائد ہے

    مسئلہ تعداد کا اپنی جگہ مگردیکھنا یہ ہے کہ پی ایچ ڈی اوروہ بی پاکستانی طلبا کی فائنل مراحل میں اگراس میں مزید تاخیرہوتی ہے یا حکومتی سستی کی وجہ سے یہ وقت بھی گزرجاتا ہے تویہ کتنی بڑی بدقسمتی ہوگی

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے حکومت کے پاس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں ہے ، حکومت وعدوں پرٹرخارہی ہے اورصرف سیاسی بیان بازی سے ان بے بس طالب علموں کوللچارہی ہے

    دوسری طرف طالب علموں‌ کا یہ کہنا ہے کہ اگرحکومت اس موقع پرکوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتی تو اس سے سے 2016 اور 2017 کے پی ایچ ڈی والے طالب علموں کی ساری محنت ضائع ہوجائےگی ،

    اس حوالے سے چین سے واپس آئے ہوئے ایک پاکستانی طالب علم ضیاالحق کہتے ہیں کہ چونکہ پی ایچ ڈی کے لیے چار سال کا پہلے ایک معینہ مدت ہوتی ہے پھراس میں دوبارایکسیٹینشن ہوتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ ان دوسالوں والے طلبا کا یہ ایکسٹینشن کا پریڈ بھی اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اوراگرحکومت نے کوئی بندوبست نہ کیا توپھران کی ساری زندگی کی محنت مشقت ضائع چلی جائے گی

    ادھر چین میں‌ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جانے والے پاکستانی طلبہ کے مسائل کے حوالے سے وزارت سمندر پار پاکستانیزنے چند ماہ قبل یہ کہا تھا کہ ’یہ مسئلہ ہمارے علم میں ہے اور اس حوالے سے طلبہ سے بات چیت بھی کی گئی تھی لیکن یہ مکمل طور پر دفتر خارجہ کا کام ہے اور دفتر خارجہ ہی اس حوالے سے کچھ بتا سکتا ہے۔‘

    جبکہ دوسری جانب دفتر خارجہ کے حکام اپنی جان چھڑانے کے لیےیہ کہتے ہیں کہ ’چین کی جانب سے سفری پابندیاں صرف پاکستان پر نہیں بلکہ دیگر ممالک پر بھی عائد کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ہم چینی حکومت سے رابطے میں ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے کوئی حل نکل آئے گا۔‘

    یاد رہے کہ اس معاملے پرتیسرا فریق یا سہولت کار پاکستان پی آئی اے ہے جس کے ترجمان عبد اللہ حفیظ نے چین کی فلائٹس کے حوالے سے بتا چکے ہیں‌ کہ چین کی جانب سے سفری پابندیوں کے باعث صرف خصوصی پروازیں چلائی جارہی ہیں۔ اگر حکومت چین سے خصوصی اجازت دلواتی ہے تو پی آئی اے پروازیں چلا سکے گی۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت پی آئی اے کا چین کے لیے محدود آپریشن جاری ہے جو کہ خصوصی اجازت کے بعد ہی آپریٹ کیا جارہا ہے جس میں بزنس اور ری یونین ویزہ رکھنے والوں کو سفر کرنے کی اجازت ہے۔

    اس موقع پر یہ بات بھی یاد رہے کہ چین میں زیادہ تر پاکستانی طلبا چینی حکومت کے وظیفوں پر تعلیم مکمل کرنے چین گئے ہوئے ہیں۔ اب ان کے وظیفے بھی بیجنگ حکومت نے گزشتہ ایک برس سے روک رکھے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق کسی ایک پاکستانی طالب علم کو چین کی جانب سے 70 ہزار سے 90 ہزاربطور وظیفہ دیا جاتا ہے۔

    2018 کے اعدادوشمار کے مطابق چین میں 28 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو چین میں غیر ملکی طلبہ کی تیسری بڑی تعداد ہے۔

    سب سے زیادہ تعداد پچاس ہزار شمالی کوریا کے طلبہ ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر تھائی لینڈ ہے جس کے 28 ہزار 608 طلبہ چین میں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    چین میں مجموعی طور پر 196 ممالک کے چار لاکھ 92 ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور 2018 کے مقابلے میں 2019 میں اس تعداد میں 0.62 فیصد اضافہ ہوا ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ اس حوالے سے باغی ٹی وی مسلسل چین میں‌ زیرتعلیم پاکستانیوں کے دل کی آواز بنتا رہا ہے اورچین سے آئے ہوئے ہزاروں پاکستانی طالب علموں کی اس دکھ بھری داستان اوران کی آواز کو وزیراعظم پاکستان اورچینی حکومت تک پہنچانے کے لیے معروف سینیئرتجزیہ نگار،ممتازصحافی مبشرلقمان بھی پہنچا چکے ہیں اورابھی بھی وہ اس سلسلے میں ان اپنے معماروں کے محفوظ مستقبل کے لیے ہرفورم پراس مسئلے کواٹھا رہے ہیں‌

  • لوگ سرمایہ کاری کرنے آتے ان کے خلاف تحقیقات شروع ہوجاتی ہیں ،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    لوگ سرمایہ کاری کرنے آتے ان کے خلاف تحقیقات شروع ہوجاتی ہیں ،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    پیٹرولیم میں جب لوگ سرمایہ کاری کرنے آتے ہیں تو ان کے خلاف تحقیقات شروع ہوجاتی ہیں ،چیرمین اوگرا کا کمیٹی میں انکشاف
    جس کی وجہ سے وہ کمپنیاں واپس چلی جاتی ہیں ،
    پیٹرول کی اصل قیمت 94 روپے ہے 11 روپے ٹیکس لیتے ہیں باقی ڈیلراور کمپنی کا منافع ہے ۔
    بجلی کی قیمت پر سرفراز بگٹی اور کامل علی آغا کے درمیان چھڑپ ہوگئی سرفراز بگٹی نے کامل علی آغا کو اپوزیشن میں بیٹھنے کامشورہ دے دیا
    پیپرا کے رولز جو ایل این جی کے حوالے سے ہیں وہ دنیا کے رجحان سے مطابقت نہیں رکھتے حکام

    اسلام آباد(محمد اویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ میںچیرمین اوگرا نے کمیٹی میں انکشاف کیاکہ پیٹرولیم میںجب لوگ سرمایہ کاری کرنے آتے ہیں تو ان کے خلاف تحقیقات شروع ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کمپنیاں واپس چلی جاتی ہیں ،پیٹرول کی اصل قیمت 94روپے ہے 11روپے ٹیکس لیتے ہیں باقی ڈیلراور کمپنی کا منافع ہے ۔بجلی کی قیمت پر سرفراز بگٹی اور کامل علی آغا کے درمیان چھڑپ ہوگئی سرفراز بگٹی نے کامل علی آغا کو اپوزیشن میں بیٹھنے کامشورہ دے دیا۔ حکام نے بتایاکہ پیپرا کے رولز جو ایل این جی کے حوالے سے ہیں وہ دنیا کے رجحان سے مطابقت نہیں رکھتے امید ہے کہ اس حوالے سے ہم پیپرا رولز تبدیل کریں گے ۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس سینیٹر رانا مقبول کی زیر صدارت ہوا ۔کمیٹی میں سرفراز بگٹی ،رخسانہ زبیری،خالدہ اتیب،سعدیہ عباسی،مشتاق احمد،کامل علی آغا،طلحہ محمود، نصیب اللہ بازائی نے شرکت کی جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ سیکرٹریٹ چیرمین پیپرااور اوگرا نے شرکت کی ۔اجلاس میں نیپرا کے حوالے سے ایجنڈے پربحث کی گئی۔ چیِئرمین کمیٹی رانا مقبول نے کہا کہ کے الیکٹرک کو جو جرمانہ کیا گیا اس کا کیا ہوا؟ چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے کہاکہ کے الیکٹرک نے 16 کروڑ روپے کا جرمانہ جمع کرا دیا ہے،24 سال میں پہلی مرتبہ حکم امتناع لینے کی بجائے کے الیکٹرک نے جرمانہ ادا کیا۔چئیرمین کمیٹی رانا مقبول نے کہاکہ بلز میں کیوں بار بار اضافہ کیا جا رہا ہے ، آپ صارفین پر اتنا ظلم کر رہے ہیں جس پر چئیرمین نیپرا نے کہاکہ روپیہ کی قدر میں کمی کی وجہ سے بجلی ریٹ پر فرق پڑ رہا ہے ، فیول بہت مہنگا آ رہا ہے، آئی پی پیز کو ہمیں طے شدہ ریٹ لازمی ادا کرنے ہوتے ہیں ، چاہے بجلی استعمال کریں یا نہ کریں،پاکستان میں 24 ملین لوگ کو سبسڈی دی جاتی ہے ، گردشی قرضہ سبسڈی کی وجہ سے ہی اتنا پہنچا ہے۔

    مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ لوگوں کی جیبیں کاٹ رہے ہیں اور انھیں کہ رہے ہیں کہ خیرات دے رہے ہیں ،لوگوں کو گالی دے رہے ہیں کہ انھیں خیرات دے رہے ہیں ۔رانا مقبول نے کہا کہ بجلی پر کیا سبسڈی دی جاتی ہے اس کا بریک اپ دیں ۔کامل علی آغا نے کہاکہ جو بجلی چوری نہیں کرتے ان سے بجلی چوروں کا بل وصول کیا جاتا ہے ، سرفراز بگٹی نے کہا کہ آغا صاحب چیئرمین نیپرا عزت دار افسر ہیں آپ ان کو ڈانٹ نہیں سکتے، آپ کی جماعت حکومت کا حصہ ہے وزیر اعظم سے بات کریں،آغا صاحب خیرات اور سبسڈی میں زمین آسمان کا فرق ہے، سرفراز بگٹی کا چیئرمین نیپرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ فیصلے وزیر نے کرنے ہوتے ہیں اس غریب کوکیا پتہ؟فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں نیپرا نے تو صرف ان پر عملدرآمد کرنا ہے۔

    چئیرمین اوگرا مسرور خان نے کمیٹی کوبتایا کہ قدرتی گیس اور ایل این جی کی قیمت کے تعین کا طریقہ کار مختلف ہے دونوں قدرتی گیس کمپنیاں قیمت میں اضافے کی درخواست کرتی ہیں اوگرا اعدادوشمار کا جائزہ لے کر قیمت تجویز کر کے حکومت کو بھیجتا ہے حکومت طے کرتی ہے کہ صارفین پر کتنا بوجھ ڈالنا ہے حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ غریب صارفین پر بوجھ نہ پڑے قدرتی گیس کی قیمت سال میں دو بار طے ہوتی ہے ٹیرف میں 90 فیصد تک گیس کی قیمت شامل ہے ایسا نہیں کہ دیگر اخراجات کو گیس ٹیرف میں شامل کیا جاتا ہے۔ایل این جی کاروبار کی عمر ہی پانچ سال ہے ، ہمارا ملک میں یہ phenomenon نیا ہے ایل این جی کے دنیا میں امپورٹرز، ساٹھ سے ستر فیصد پانچ دس پندرہ سال کے کنٹریکٹ کرتے ہیں پیپرا کے رولز جو ایل این جی کے حوالے سے ہیں وہ دنیا کے رجحان سے مطابقت نہیں رکھتے امید ہے کہ اس حوالے سے ہم پیپرا رولز تبدیل کریں گے ۔

    فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کی ایک اور درخواست پرعدالت نے فیصلہ سنا دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کا گستاخانہ خاکوں کے ردعمل میں بڑا اعلان،دل جیت لئے

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    یہاں کسی ماں بہن کیخلاف بات ہوتی ہے تو پروگرام بند ہو جاتے ہیں،سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیوں؟ عدالت برہم

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    دوسروں کی ویڈیو لیک کرتے کرتے حریم شاہ کی اپنی ویڈیو لیک، تہلکہ مچ گیا

    گستاخانہ مواد کی تشہیر کو کب تک نہیں روکا جا سکتا ؟ ڈی جی پی ٹی اے کا عدالت میں اظہار بے بسی

    رانا مقبول نے کہاکہ کیا وقت پر ایل این جی کی بکنگ کرانی چاہیے تھی ، سینیٹر مشتاق نے کہاکہ اگست میں پہلے بھی ایل این جی بک ہو جاتی تھی ، اس بار کیوں بک نہیں ہوئی۔ سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہاکہ ہمارے پاس ایل این جی اسٹور کرنے کے ٹرمینل نہیں ہیں ۔چئیرمین اوگرا نے کمیٹی کوبتایاکہ ہم نے اشتہار دیا ہے کہ کمپنیاں آ کر پاکستان میں ایل این جی اسٹوریج ٹرمینل قائم کریں کچھ کمپنیوں نے ایل این جی اسٹوریج قائم کرنے میں دلچپسی ظاہر کی ہے دو نئے ایل این جی ٹرمینل کے لیے لائنسس دیے ہیں ۔پیٹرول کی (امپورٹ پرائس ) ex refinery قیمت 94 روپے 38 پیسے ہیں آئی ایف ای ایم فارمولا یعنی پییٹرول کرایہ 3 روپے 65 پیسہ ہے۔پیٹرول پر ڈسٹریبیوشن مارجن 2 روپے 11 پیسے ہیں ۔جنرل سیلز ٹیکس 11 روپے 28 پیسے ہے۔کمپنی کا پرافٹ 2 روپے 97 پیسے ہے پاکستان میں پیٹرول سارے ریجن میں سب سے سستا ہے۔تمام پیٹرولیم کمپنوں کو کہا ہے کہ نئی اسٹوریج بنائیں پاکستان میں پانچ آئیل ریفائنری ہیں ، انھیں سپورٹ کرنا چاہیے اگر سپورٹ نہیں کریں گے تو ریفاننری یورو فائیو کی requirement کو پورا نہیں کر پائیں گی اور بند ہو جائیں گی پھر ہمیں زیادہ پیٹرولیم مصنوعات باہر سے امپورٹ کرنا پڑے گی اکثر سرمایہ کاروں کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی جاتی ہے جو کمپنیاں سرمایہ کاری میں دلچپسی لیتی ہیں وہ پیچھے ہٹ جاتی ہیں ۔رانا مقبول نے کہاکہ کیا یہ نیب کرتا ہے ؟ ۔چئیرمین اوگرا نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا ، حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے، پیٹرولیم اور گیس بھی ہماری قومی سیکورٹی کا حصہ ہیں ۔

    سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر،عدالت نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

  • مشہور مصنف طارق اسماعیل ساگر رضائے الہی سے وفات پا گے ہیں. إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ,

    مشہور مصنف طارق اسماعیل ساگر رضائے الہی سے وفات پا گے ہیں. إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ,

    معروف ناول نگار محقق اور ادیب طارق اسماعیل ساگر صاحب کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے-

    کالم نگار معروف ادیب، ناول نگار، محقق اور کالم نگار متعدد قومی اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کئی درجن کتابوں اور ناولوں کے مصنف ہیں ساگر صاحب نے اپنے زندگی کا سار عرصہ قلمی جہاد کرتے ہوئے گزارا۔ کچھ عرصہ پہلے اُنھوں نے اپنی ایک سرگزشت وہ مجھے کھا گئے کے نام سے لکھی یقینی طو ر پر ایک صاف سچے کھرئے انسان کو معاشرئے میں اپنا کام کرنے کے لیے بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ ساگر صاحب کے ساتھ بھی ہواکہ وہ لوگ جو صحافت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ساگر صاحب کی سرگزشت پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا اصل چہرہ کیا ہے۔

    ساگر صاحب کی کتابیں نوجوان نسل میں اتنی مقبول ہیں کہ اپنی مثال آپ ہیں۔پاک فوج کے ساتھ ساگر صاحب کی محبت پاکستان سے محبت ہے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ پاک فوج کی قربانیوں کا ذکر ساگر صاحب کے ناولوں اور کالموں میں بجا طور پر ملتا ہے۔ انتہائی نیک انسان ہیں اﷲ پاک سے ڈرنے والے تھے اور روایتی صحافت سے بہت دور تھے-

    مادر وطن کے لیے اپنے زندگی کو ہر طرح کی مشکلات میں ڈالے رکھا۔ ساگر صاحب یوسف زئی پٹھان ہیں یوں ساگر صاحب نے پاک وطن کی حرمت کے لیے واقعی ہمیشہ ایک بہادر سپاہی کا کردار ادا کیا ہے مرحوم نے کٸی گمنام آفسران پر کتابیں بھی لکھیں ان کو سکھ مذہب پر مکمل عبور حاصل تھا-

    ساگر صاحب نے بے شمار کتابیں لکھیں ہیں میں ایک جاسوس تھا۔ کمانڈو،وطن کی مٹی گواہ رہنا، وادی لہو رنگ، را، بے شمار ناول، کتابیں ہیں جو کہ ہمارئے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں بھارت میں گمنامی کی زندگی گزارنے کے دوران گرفتار ہوگۓ تھے اور پہر کامیابی سے بھارتی قید سے فرار بھی ہوئے تھے

    ہماری حکومت کو چاہیے کہ جناب ساگر صاحب جیسی شخصیت کے مقام کو سراہے اور اُن کی لازوال خدمات پر اُنھیں صدارتی تمغہ دے۔ کیونکہ ساگر صاحب کھرے انسان ہیں ِاس لیے اُن سے چاپلوسی نہیں ہوتی ساگر صاحب کی کتابوں سے اقتباسات کو ہمارئے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ساگر صاحب کی خدمات کو بطور سٹریٹجک اِنالسٹ لینا چاہیے۔

    انکی نماز جنازہ عصر کے بعد ان کی رہائش گاہ 189 سی، اقبال ایونیو فیز 3 کینال روڈ نزد شاہ کام چوک بحریہ ٹاؤن لاہور میں ادا کی جائے گی ۔

  • اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے           امریکا

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے امریکا

    امریکا کے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے پاکستان کوافغانستان سے متعلق کیا کردار ادا کرنا ہوگا اس معاملے کوبھی دیکھ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی :امریکا کے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے امریکی کانگریس کے سامنے پالیسی بیان میں بتایا کہ افغانستان کےمستقبل پر پاکستان سے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔ پاکستان کوافغانستان سے متعلق کیا کردار ادا کرنا ہوگا اس معاملے کوبھی دیکھ رہے ہیں۔

    طالبان کے لیے اہم ہےکہ دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کریں نائب وزیراعظم قطر

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان پرعالمی تقاضے پورے کرنے کےلیے دباؤ بڑھائے پاکستان نےدہشت گردی کےخلاف مختلف مواقعوں پرامریکا سےتعاون کیا ہے۔ امریکا آنے والے ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔

    بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے مفادات کا ٹکراؤ بھی رہا ہے پاکستان کا افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے کردار رہا ہے۔

    عورتوں کا لباس پہن کر طالبان کے خلاف احتجاج کرنے والے شہری پکڑے گئے پھر کیا ہوا؟…

    امریکی وزیرخارجہ نے الزام لگایا کہ پاکستان طالبان کی سرپرستی بھی کرتا رہا اورہمارا اتحاد ی بھی رہا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے-

    امریکا کے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے بتایا کہ افغانستان میں سفارتی مشن شروع کردیا گیا ہے افغانستان میں کسی بھی خطرےپرنظررکھیں گے کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری ردعمل دیں گے۔

    افغان شہریوں کی مدد کرتے رہیں گے اقوام متحدہ حکام سےافغان عوام کی مددسےمتعلق بات چیت ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان سےانخلامیں توسیع سےمزیدجانی نقصان کاخدشہ تھا۔

    متحدہ عرب امارات کا مسافروں کو وزٹ ویزہ آن آرائیول کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان

  • کن اضلاع میں تعلیمی ادارے کھلیں گے؟ اسد عمر نے اعلان کر دیا

    کن اضلاع میں تعلیمی ادارے کھلیں گے؟ اسد عمر نے اعلان کر دیا

    کن اضلاع میں تعلیمی ادارے کھلیں گے؟ اسد عمر نے اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، این سی او سی کی جانب سے کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے نئی بندشیں لگائی جاتی ہیں

    آج وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے نئی بندشوں کے حوالہ سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ کورونا کیسز میں اضافے کے باعث اسپتالوں پر دباو ہے کوشش ہے کہ آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آئے لاپرواہی اور ایس اوپیز کو نظر انداز کرنا کورونا کیسز میں اضافے کا باعث بنی 5300مریض اسپتالوں میں آکسیجن پر موجو دہیں،گزشتہ چند ہفتوں میں آکسیجن کی مانگ میں دوگنا اضافہ ہوچکاہے،صورتحال بہتر بھی ہوئی اور خطرہ ختم نہیں ہوا، ہم نے 24 اضلاع میں 4 ستمبر کو کچھ بندشیں لگائی تھیں،24 اضلاع میں سے 18 میں بہتری نظر آ رہی ہے،6 اضلاع میں انتہا درجے کی بندشیں قائم رہیں گی، پنجاب کے 5اضلاع لاہور ، فیصل آباد، ملتان سرگودھا اور گجرات میں بندشیں قائم رہیں گی،

    اسد عمر نے تعلیمی اداروں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 16 ستمبرسے 50 فیصد حاضری کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے ،پنجاب کے 5 اور خیبر پختونخوا کے ایک ضلع میں بندشیں برقرار رہیں گی،کاروبا ر کی مکمل بندش کی طرف نہیں جارہے انٹر سٹی بس سروس کےلیے 50فیصد سواریوں کے ساتھ اجازت ہوگی، حکومت کی کوشش ہے کہ حالات کو معمول پر لے کر آئیں 6 اضلاع میں آؤٹ ڈورڈائننگ کا ٹائم بڑھا کر 10 بجےتک کیا جا رہا ہے،پارکس اور جمز مکمل ویکسینیٹڈ افراد کے لیےکھول دیئے جائیں گے عوام کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ویکسی نیشن کرائیں،

    دوسری جانب این سی او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ویکسین کی دوسری ڈوز لگوانے والے اہل افراد کو اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ تمام افراد جن کی دوسری ڈوز کا مقرر وقت ہو چکا ہے وہ ہفتے کے ساتوں دن میسج کا انتظار کیئے بغیر کسی بھی ویکسین سینٹر سے اپنی دوسری ڈوز لگوا سکتے ہیں اتوار کا دن خصوصی طور پہ دوسری ڈوز کے لیے مقرر ہے

    کرونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا،شہری عدالت پہنچ گیا

    کورونا ویکسین لگنے سے 500 کے قریب بھارتیوں کی حالت بگڑ گئی

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

  • سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر،عدالت نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر،عدالت نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر،عدالت نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر روکنے سےمتعلق متفرق درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کیلئے ذمہ دار افسر مقرر کریں،عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ افسر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی

    قبل ازیں ایک سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی اے کے وکیل کو پی ٹی اے کے موجودہ رولز عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے پی ٹی اے کے وکیل کو پی ٹی اے رولز میں مجوزہ ترمیم کا ڈرافٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی اے رولز میں گستاخانہ مواد کی تشہیر کی روک تھام کا کیا کوئی حل موجود ہے، بھارت، بنگلہ دیش اور ان جیسے دوسرے ممالک سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کے روک تھام کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں، وکیل پی ٹی اے نے عدالت میں کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حوالے سے کافی سخت اقدامات اٹھائے ہیں، بھارت اور بنگلہ دیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے دفاتر اور مجاز افسرز ہمارے ممالک میں مقرر کریں،بھارت اور بنگلہ دیش یقینی بنا رہے ہیں کہ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے دفاتر نہیں کھولیں گے، وہ انہیں اپنے ملک میں بند کر دیں گے،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زبردستی کرونا ویکسین لگائے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جیوریسٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے .جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کہاں پر زبردستی ویکسی نیشن ہو رہی ہے؟ وکیل نے کہا کہ ویکسین نہ لگوانے والوں پر بہت سی پابندیاں لگانے کا کہا گیا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے دلائل مکمل کرنے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کی ایک اور درخواست پرعدالت نے فیصلہ سنا دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کا گستاخانہ خاکوں کے ردعمل میں بڑا اعلان،دل جیت لئے

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    یہاں کسی ماں بہن کیخلاف بات ہوتی ہے تو پروگرام بند ہو جاتے ہیں،سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیوں؟ عدالت برہم

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    دوسروں کی ویڈیو لیک کرتے کرتے حریم شاہ کی اپنی ویڈیو لیک، تہلکہ مچ گیا

    گستاخانہ مواد کی تشہیر کو کب تک نہیں روکا جا سکتا ؟ ڈی جی پی ٹی اے کا عدالت میں اظہار بے بسی

  • پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر نکلنے کے امکانات

    پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر نکلنے کے امکانات

    پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر نکلنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی آن لائن اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے کچھ عرصہ قبل کورونا کے خدشات کے پیش نظر پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا تھا جس کے باعث پاکستانی شہری برطانیہ کا سفر نہیں کرسکتے۔ تاہم پاکستان کے رواں ہفتے ریڈ لسٹ سے نکلنے کے امکانات ہیں۔

    برطانیہ رواں ہفتے ریڈ لسٹ پر نظر ثانی کرے گا جس میں پاکستان اور مصر سمیت 24 ممالک کے ریڈ لسٹ سے نکلنے کے امکانات ہیں۔

    پی سی ٹرویل ایجنسی کے سی ای او پال چارلس نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کورونا کی کوئی نئی قسم سامنے نہیں آئی جب کہ برطانیہ میں کورونا کے ڈیلٹا قسم پر بھی کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے موجودہ حالات کی روشنی بہت سارے ممالک کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ سفری شعبے کو مضبوطی سے بحال کرنے میں مدد دینے کے لئے اس فہرست حجم تیزی سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اب کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے جس پر سفر کو روکا جائے۔

    یاد رہے کہ اپریل میں برطانیہ نے پاکستان سمیت کئی ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا تھا برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ ان ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کو کورونا وائرس کی نئی اقسام سے بچایا جا سکے۔

    کورونا وائرس: سعودی عرب کا یو اے ای سمیت 3 ممالک سے سفری پابندیاں اٹھانے کا اعلان

    برطانوی حکومت نے اس فیصلے کے حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ممالک سے آنے والے ایسے افراد جن کے پاس برطانیہ یا آئرلینڈ کی شہریت موجود ہو یا کسی تیسرے ملک کے ایسے شہری جن کے پاس برطانیہ کا ریزیڈنسی ویزا موجود ہو، انھیں برطانیہ پہنچے پر 10 دن تک سرکاری طور پر منظور شدہ ہوٹل میں لازمی قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

    خیال رہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق پاکستان سے آنے والوں پر 10 روزہ ہوٹل قرنطینہ کی پابندی لازم ہے ، جس کے پیش نظر قرنطینہ میں رہنے والے افراد کو 2 ہزار پاؤ نڈ یعنی پانچ لاکھ پاکستانی روپے کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعد ازاں برطانیہ نے ہوٹل میں قرنطینہ کے اخراجات میں بھی تقریباً 400 پاؤنڈ کا اضافہ کر دیا تھا جو قرنطینہ کرنے والوں کو خود ادا کرنے ہوں گے۔

    حکومت اور روزمرہ زندگی میں شرعی قوانین کا اطلاق ہو گا ، سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ