Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امریکہ سے اہم شخصیت کا دورہ پاکستان، آخر ایجنڈہ کیا ہے؟

    امریکہ سے اہم شخصیت کا دورہ پاکستان، آخر ایجنڈہ کیا ہے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیسے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔آنے والے دنوں میں کونسی اہم شخصیت پاکستان کا دورہ کرنے آ رہی ہیں؟کیا پاکستان اب امریکی دباو برداشت کرے گا یا ہمیں کوئی نئی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کرنی ہو گی؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس خطے میں جب بھی کوئی تناو کی صورت حال ہوتی ہے یا شدت پسندی سر اٹھاتی ہے تو اس کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اس لئے اس حوالے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ امریکی حکام پہلے بھی پاکستان پر کئی بار دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن ہمارے وزيراعظم عمران خان اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہوئے ہمیشہ ہی یہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان خود شدت پسندی سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔اپنے حالیہ ترک ٹی وی کو دئیے جانے والے انٹرویو میں بھی عمران خان نے بار بار یہی بات دہرائی تھی کہ سرد جنگ میں پاکستان امریکہ کے ساتھ تھا افغان جنگ میں ہمیں 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اپنی غلطی سے نظریں ہٹانے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرا بنانا تکلیف دہ ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ صدرجوبائیڈن اس وقت بہت زیادہ دباﺅ میں ہیں امریکہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد پریشانی کا شکار ہے اور امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں لگے ہیں۔ایک اور اہم بات جو وزیر اعظم عمران خان پچھلے کافی عرصے سے دہرا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میں جنگ سے مسئلے کے حل کا مخالف ہوں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں ہمارے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق تو اس وقت افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہیں اس کے بعد جو طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں گے تو انہیں معافی مل سکتی ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ کی ہم سے جو توقعات ہیں وہ اس کے بالکل الٹ ہیں وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کریں۔ یہاں تک کہ پاکستان کوDo moreکے لئے مجبور کرنے امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپٹی سیکرٹریWendy Shermanپاکستان کے دورے پر بھی تشریف لا رہی ہیں وہ سات اور آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گی۔ جو بائیڈن کے صدر بننے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے کسی امریکی عہدیدار کا یہ اسلام آباد کا پہلا دورہ ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ Wendy Shermanاپنے اس طویل دورے کے لیے امریکا سے نکل چکی ہیں اور اس سلسلے میں ابھی وہ سوئٹزر لینڈ میں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان اور ازبکستان کا دورہ بھی کرنا ہے۔جبکہ پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی صحافیوں سے بات چیت کے دوران وہ ہمیں سنا چکی ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے اور ہم تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز تسلسل کے ساتھ کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔ویسے تو انہوں نے پاکستان کے موقف کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی سے پاکستان کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ ہمارے دونوں ممالک دہشت گردی کی لعنت سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہم تمام علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے کے لیے تعاون کی کوششوں کے منتظر ہیں۔مطلب ہماری تعریف کے ساتھ ساتھ ہمیں آنکھیں بھی دکھائی جا رہی ہیں اور کچھ دن پہلے امریکی سینیٹ میں جو بل پیش ہوا تھا وہ بھی آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے خلاف پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں تو اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے ہم پر پریشر ڈالنا چاہتا ہے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے پیچھے ایجنڈا کیا ہے؟ دراصل امریکہ افغانستان سے نکل تو گیا ہے لیکن جانے سے پہلے اس نے سوچا تھا کہ افغان فوج جس کو ہم ٹریننگ دیتے رہے ہیں اورافغان حکومت جس کو ہم اتنے سالوں تک پالتے رہے ہیں تو یہاں سے جانے کے بعد بھی ہم اس فوج اور حکومت کے زریعے افغانستان میں اپنا تسلط برقرار رکھیں گے یہاں سے ان فوجیوں کے زریعے انھیں ہر طرح کی جاسوسی ہوتی رہے گی۔ لیکن امریکہ کے نکلتے ہی معاملہ الٹ گیا وہ فوج بھی ڈھیر ہو گئی۔ حکومتی عہدیداران بھی فرار ہو گئے اور تمام جاسوسوں کے اڈے بھی بند ہو گئے حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ صرف امریکہ ہی نہیں امریکہ کے چمچے انڈیا کو بھی دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ تو امریکہ کا انڈیا والا بھی راستہ بند ہو گیا۔حالانکہ انڈیا دوبارہ سے اپنی اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے وہ انڈیا جانے والے افغانوں کو ٹریننگ دے کر اپنے جاسوس کے طور پر دوبارہ افغانستان بھیجنا چاہتا ہے۔ لیکن میں بتا دوں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ ایک وقت تک امریکہ یہ سوچتا رہا کہ شاید یہ کوئی فیک اکاونٹ ہے یا پھر صرف نام استعمال کرکے یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کراس اکاونٹ کو چلایا جا رہا ہے۔ لیکن وہ کبھی ذبیح اللہ مجاہد کو ٹریس نہیں کر سکے۔ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا وہ بیس سال میں اگر طالبان کو کنٹرول نہیں کر سکا تو انڈیا کس کھیت کی مولی ہے۔ اس لئے اب انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان کے خلاف اس طرح کی سازشیں کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ان کے پاس اپنا ایک انٹیلیجنس کا نیٹ روک ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کیونکہ انڈیا بھی افغانستان سے باہر ہو گیا تو امریکہ کو پاکستان نظرآگیا۔۔ پاکستان کے تعلقات بھی طالبان کے ساتھ بہتر ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے اب امریکہ سوچ رہا ہے کہ کیوں نہ اب اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو استعمال کیا جائے۔اور سب سے بڑا مفاد جو امریکہ اس وقت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت میں دیگر دھڑوں کو بھی حکومت کا حصہ بنایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر رہا اور اس کا سیدھا سا مقصد یہ ہے کہ طالبان کی حکومت زیادہ طاقتور نہ ہو سکے ظاہری بات ہے جب کئی گروپس مل کر مخلوط حکومت بنائیں گے تو طالبان اپنے نظریات کو اس طرح سے لاگو نہیں کر سکیں گے جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی اندرونی لڑائیوں میں الجھے رہیں گے جس کے بعد امریکہ کہہ سکے گا کہ دیکھا ہم نے بیس سال تک جو جنگ کی وہ بالکل ٹھیک تھی کیونکہ طالبان امن پسند لوگ نہیں ہیں۔اور امریکہ کی اس تشویش کے پیچھے بھی اصل میں بھارت ہے۔ کیونکہ اسے ڈر ہے کہ طالبان کے افغانستان میں آنے سے کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو بھی طاقت ملے گی۔ اس لئے وہ امریکہ کے زریعے دباو ڈلوا رہا ہے کہ پاکستان کو تمام انتہا پسند گروہوں کے خاتمے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہمیں دوبارہ سے ایک جنگ میں جھونک دیا جائے اور ہمارے خلاف ہر جگہ پراپیگنڈہ کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تمام دباو پاکستان کے چین سے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقات کی سزا بھی ہے کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی نہ تو امریکہ کو برداشت ہے اور نہ ہی انڈیا کو۔مغربی ممالک کو ویسے ہی آجکل یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں افغانستان پھر سے شدت پسندوں کا ٹھکانہ نہ بن جائے۔ حالانکہ طالبان کی قیادت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس لئے ہمیں اپنے تجربات سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے افغان سوویت جنگ میں سوویت یونین کی شکست کا یقین ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنے قریب ترین اتحادی پاکستان پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اسے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی اس وقت بھی پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں تھا۔ افغانستان کے حوالے سے امریکا پاکستان کے کردار پر نہ صرف تنقید کرتا رہا ہے بلکہ امریکی حکام ہم پر یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور انٹیلیجنس سروس افغان طالبان کی درپردہ مدد کرتی رہی ہے۔ حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لئے ہی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے اس خطے میں جاری کھیل کا خمیازہ ہمیشہ پاکستان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ معاملہ سنجیدگی کے ساتھ زیر غور لایا جائے کہ امریکہ کی جانب سے ہر بار پاکستان سے قربانیاں لے کر اسی کو کیوں پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ہم کب تک اس طرح امریکہ کی مدد کرنے کے باوجود مشکلات کے میں پھنستے رہیں گے۔باقی جو باتیں کی جاتی ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کا احترام ہو، خواتین کو کام اور لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ سب باتیں صرف اس لئے کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کو بھی ساتھ ملایا جا سکے اور ان کو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے روکا جا سکے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس مرتبہ پھر اس خطے کواسی جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے جس میں اس نے 90 کی دہائی میں دھکیلا تھا۔ باقی اب پاکستان پر ہے کہ وہ ڈومور کے اس امریکی دباو کو کتنا برداشت کرتا ہے جو پاکستان مخالف بل کی صورت میں امریکی سینیٹرز کے ذریعے ہم پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب وہی دباو Wendy Shermanبھی پاکستان پر ڈالنے آ رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے جو اندرونی معاملات ہیں اور پاکستان معاشی طور پر جتنا کمزور ہو چکا ہے تو ہمیں جو بھی فیصلہ کرنا ہو گا وہ بہت محتاط ہو کر کرنا ہوگا۔

  • جنرل فیض حمید کی جگہ کون بنا ڈی جی آئی ایس آئی؟ اعلان ہو گیا

    جنرل فیض حمید کی جگہ کون بنا ڈی جی آئی ایس آئی؟ اعلان ہو گیا

    جنرل فیض حمید کی جگہ کون بنا ڈی جی آئی ایس آئی؟ اعلان ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج میں معمول کے تقررو تبادلے کئے گئے ہین

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کئے گئے ہیں لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کور کمانڈر کراچی تعینات کئے گیے ہیں لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی تعینات کئے گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل عاصم ملک کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے ہر ترقی ہوئی ہے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک پاک فوج کے ایجوڈنٹ جنرل تعینات کئے گئے ہیں

    قبل ازیں آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تبادلہ کر دیا گیا ہے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کر دیا گیا،لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کر دیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا ہے،

    @MumtaazAwan

    لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ڈی جی آئی ایس آئی تعینات۔

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    پاکستان بین الاقوامی سیاحت، کھیل اورکاروباری سرگرمیوں کے لئے محفوظ ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی رائل نیول فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

  • وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات

    وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات

    وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات
    وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں ملک کی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، آرمی چیف کی وزیر اعظم سے ملاقات میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا آرمی چیف نے وزیر اعظم کو کور کمانڈر کانفرنس اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی ۔

    قبل ازیں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعظم عمران خان سے الوداعی ملاقات کی ، وزیر اعظم عمران خان نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی خدمات کی تعریف کی اور نئی پوسٹنگ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے کرغزستان میں پاکستان کے سفیر سردار اظہر طارق خان کی ملاقات ہوئی ہے وزیراعظم کو پورے وسط ایشیائی خطے خصوصا کرغزستان کے ساتھ اقتصادی سفارتکاری کے امکانات سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کرغزستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے علاقائی روابط کو مستحکم کیا جائے،

    قبل ازیں وزیرِ اعظم عمران خان سے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق، خالد مقبول صدیقی، سینیٹر فیصل سبزواری اور وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر شریک تھے،ملاقات میں مردم شماری اور سندھ میں جاری وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو کی گئی،شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت اور اتحادی جماعتیں مل کر سندھ اور بالخصوص کراچی کی ترقی کیلئے مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں. وفد نے وفاقی حکومت کے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے منصوبوں پر وزیرِ اعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا.وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا.موجودہ دورِ حکومت میں ادارے آزاد ہیں. الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابی عمل میں شفافیت لے کر آئے گی. پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے انتخابی عمل پر مثبت اثرات کے بارے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے.

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ (این ایف ایس آر) سید فخر امام کی ملاقات ہوئی ہے ۔وزیر اعظم کو کپاس ، گندم ، چاول ، گنے اور مکئی کی فصلوں کی پیداوار کے حوالے سے اب تک کے حوصلہ افزا رجحانات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ 30 ستمبر 2021 تک پاکستان نے کپاس میں 38.5 ملین گانٹھ کی پیداوار حاصل کی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 27 ملین گانٹھ حاصل ہوئیں۔مزید برآں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ہم گندم ، چاول ، گنے اور مکئی کی پیداوارمیں پچھلے سال کے پیداواری اعداد و شمار بالترتیب 27.5 ملین ٹن ، 8.4 ملین ٹن، 81 ملین ٹن اور 8.4 ملین ٹن سے باآسانی تجاوز کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔وزیراعظم نے وزارت خوراک کی کارکردگی کو سراہا جو کہ آم اورترش پھلوں (سٹرس فروٹ) کی برآمد میں ریکارڈ برآمدی اہداف بالترتیب 150،000 ٹن اور 463،000 ٹن حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیراعظم نے زراعت کے شعبے میں تاریخی نمو اور برآمدی اہداف کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہا۔

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) کی ملاقات ہوئی ہے،وزیراعظم کو واپڈا کے زیر نگرانی مختلف منصوبوں بشمول دیامر، بھاشا اور مہمند ڈیمز کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے ملک میں بجلی کی پیداوار اور پانی کے تحفظ کے منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے واپڈا کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    قبل ازیں کرغزستان میں تعینات پاکستانی سفیر سردار اظہر طارق خان کی وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی ہے سردار اظہر طارق نے گذشتہ دو سال کے دوران اٹھائے گئے سفارتی اقدامات، روابط کے فروغ کیلئے کی گئی کاوشوں اور سفارتخانے کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر خارجہ کو مفصل بریفنگ دی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین خوشگوار تعلقات ہیں، پاکستانی طلباء کی کثیر تعداد کرغزستان میں زیر تعلیم ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہود ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،

    وزیر خارجہ نے اقتصادی سفارت کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے، پاکستان اور کرغزستان کے مابین تجارتی و اقتصادی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا کرغزستان میں تعینات پاکستانی سفیر سردار اظہر طارق خان نے خصوصی ہدایات پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، پاکستان اور کرغزستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کے استحکام کیلئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کا یقین دلایا

    @MumtaazAwan

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    ٹرین حادثہ، ن لیگ نے قومی اسمبلی میں بڑا قدم اٹھا لیا

    حادثہ کا ذمہ دار وزارت ریلوے نہیں، ریلوے حکام نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    ٹرین حادثہ معمولی نہیں تھا بلکہ…وفاقی وزیر ریلوے کے تہلکہ خیز انکشافات

    سانحہ گھوٹکی ، دوماہ گزر گئے، زخمیوں کوانشورنس کی رقم نہ مل سکی ،

    پاکستان ریلوے نے بھارت سے پکڑے جانے والے وارٹرافی انجن کا حلیہ ہی بگاڑ دیا

    گھبرانے کی کوئی بات نہیں، فوج تعینات اور موبائل سروس بند کرنے کا شیخ رشید نے کیا اعلان

    پاکستان کے خلاف وار فیئر قائم کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ،شیخ رشید نے کیا بے نقاب

    شہبازشریف کے خاندان میں وراثت کی لڑائی ہے، دم درود کرائیں، شیخ رشید

    جب تک مساجد مدارس آباد ہیں، پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، شیخ رشید

    ہمیں پتہ گڈ کون اور بیڈ کون،ملک کے دشمنوں سے کونے کونے میں نمٹیں گے ،شیخ رشید

    شیخ رشید نے نواز شریف کو ایک بار پھر بڑی آفر کر دی

  • 20 لاکھ امریکی ڈالرزروزانہ پاکستان سے افغانستان اسمگل ہورہا ہے:کسٹم حکام کا انکشاف

    20 لاکھ امریکی ڈالرزروزانہ پاکستان سے افغانستان اسمگل ہورہا ہے:کسٹم حکام کا انکشاف

    لاہور:20 لاکھ امریکی ڈالرزروزانہ پاکستان سے افغانستان اسمگل ہورہا ہے:کسٹم حکام کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق کسٹم کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تقریبا 20 لاکھ امریکی ڈالر روزانہ کی بنیاد پر افغانستان اسمگل کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پرکسٹم افسر نے انکشاف کیا کہ تقریبا 15000 مزدور روزانہ کی بنیاد پر چمن اور طورخم کے راستے سرحد عبور کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک 10،000 سے 30،000 امریکی ڈالر افغانستان لے جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ ماضی قریب میں بہت زیادہ بڑھ گئی تھی

    دوسری طرف یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ اچانک بحال ہوگئی۔

    وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین امریکی ڈالر کی شرح میں اضافے پر قابو پانے کے لیے پرامید ہیں لیکن ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

    ذرائع نے بتایا کہ ہوائی اڈوں کے ذریعے امریکی کرنسی کی اسمگلنگ نہ ہونے کے برابر ہے ، خاص طور پر دبئی جانے والی تمام پروازوں میں مسافروں کی تفصیلی پروفائلنگ کی وجہ سے ڈالرکی اسمگلنگ رک گئی ہے

    پاکستان کسٹمز اس صورتحال پر بہت توجہ دے رہا ہے اور اس نے تمام مسافروں کے لیے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اس ناجائز غیر قانونی سرگرمی کو روکنے کے لیے خودکار عمل کے ذریعے مکمل ذاتی جانچ پڑتال اور 100 فیصد کرنسی کو ظاہر کریں‌

    ذرائع نے مزید بتایا کہ ٹرک ڈرائیور امریکی ڈالرز کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کی ڈالر مارکیٹ افغانستان سمگلنگ کے لیے امریکی ڈالر کی فروخت کے حوالے سے ہاٹ سپاٹ بن چکی ہے۔

    پشاور میں کارخانہ بازار اور یادگار چوک دو دوسری جگہیں ہیں جہاں سے امریکی ڈالر اسمگلنگ کے مقاصد کے لیے خریدے اور فروخت کیے جاتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کسٹم حکام نے امریکی کرنسی کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ترجمان کے مطابق ایف بی آر نے ہوائی اڈوں پر سخت نفاذ کے اقدامات کیے ہیں تاکہ اس طرح کے غیر اخلاقی عمل کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔

    ادھر وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ پاکستان سے روزانہ کی بنیاد پر 15 ملین ڈالر سے زائد رقم افغانستان جا رہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ڈالر کی قلت ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے روپے کی بے قدری بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اتنی تیزی سے ملک میں ڈالر کم ہوتے ہیں تو پھر اپنی کرنسی اسی طرح گراوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا تخمینہ ہے کہ اگر اسی رفتار سے ڈالر گھٹتے چلے گئے تو یہ رقم کئی بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ شوکت ترین نے کہا کہ 15 ملین ڈالر کی رقم ایک اندازے کے مطابق ہے اس سے کم یا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان قانون کے مطابق وہاں 10 ہزار ڈالر تک رقم کیش کی صورت میں ساتھ لیجائی جا سکتی ہے۔ اگر یہ اسی طرح چلتا رہا تو ملک میں ڈالر کی قلت پیدا ہو سکتی ہے جس کا نتیجہ زیادہ اچھا نہیں ہو گا۔

    جب ان سے اس مسئلے کے حل سے متعلق پوچھا گیا تو وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ اس حوالے سے قانون سازی کر رہے ہیں جس طرح بھارت کے ساتھ بھی قانون موجود ہے کہ کوئی شخص صرف ایک ہزار ڈالر تک اپنے ساتھ لیجا سکتا ہے۔ اگر اس طرح ہوتا ہے تو صورتحال جلد تبدیل ہو جائے گی۔

  • پاک فوج میں معمول کے تقرر و تبادلے،ڈی جی آئی ایس آئی بھی تبدیل

    پاک فوج میں معمول کے تقرر و تبادلے،ڈی جی آئی ایس آئی بھی تبدیل

    پاک فوج میں معمول کے تقرر و تبادلے،ڈی جی آئی ایس آئی بھی تبدیل
    پاک فوج میں معمول کے تقرر و تبادلے کئے گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تبادلہ کر دیا گیا ہے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کر دیا گیا،لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کر دیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا ہے،

    @MumtaazAwan

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    پاکستان بین الاقوامی سیاحت، کھیل اورکاروباری سرگرمیوں کے لئے محفوظ ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی رائل نیول فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    کورکمانڈرز کانفرنس میں پاکستان کو عدم استحکام کرنے کی سازشیں ناکام بنانے کا عزم

  • عمران خان کی بل گیٹس سے افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کی درخواست

    عمران خان کی بل گیٹس سے افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کی درخواست

    وزیراعظم عمران خان نے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس سے افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مائیکرو سا فٹ کے بانی نے آج عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اس دوران وزیراعظم اوربل گیٹس نے افغانستان میں صحت کے نظام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ افغانستان کی آدھی سے زائد آبادی غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہی ہے افغانستان کو مالی امداد کی اشد ضرورت ہے بل گیٹس افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کریں افغانستان پاکستان کے ساتھ دنیا کا دوسرا ملک ہے جو پولیو کا شکار ہے وزیراعظم اور بل گیٹس نے افغانستان میں انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کرنے پرزور دیا۔

    وزیراعظم نے بل گیٹس کو پاکستان میں پولیوکےخاتمے کےلیےکوششوں سے آگاہ کیا اور پولیو کے خاتمے کے لیے بل اینڈ ملینڈاگیٹس کےتعاون کی تعریف کی وزیراعظم نے بل گیٹس کا پاکستان کے ساتھ فاوٴنڈیشن کی قیمتی شراکت داری پر شکریہ ادا کیا۔

    عمران خان نے بتایا کہ پاکستان میں رواں سال پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا پاکستان میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے پولیو سے نمٹنے کےلیے کوششیں ابھی جاری ہیں حکومت ملک میں پولیو کے خاتمے کےلیے پرعزم ہے۔

    دوسری جانب بل گیٹس نے پولیو کے خلاف کوششوں پر وزیراعظم عمران خان کی تعریف کی بل گیٹس نے پولیو خاتمے کےلیے پروگرام اورتعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی کہا کہ بچوں کو محفوظ رکھنے کےلیے پولیو خاتمے کےلیے پروگرام جاری رکھیں گے۔

  • وفاقی کابینہ نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے نیب آرڈیننس میں ترامیم کی منظوری دی،آرڈیننس کا مسودہ آج شام تک صدر عارف علوی کو بھجوائے جانے کا امکان ہے صدر مملکت کی جانب سے آج ہی آرڈیننس جاری کیے جانے کا امکان ہے

    مجوزہ آرڈیننس کے مطابق صدر کو 4 سالہ مدت مکمل ہونے پردوبارہ چئیرمین نیب کو تعینات کرنے کا اختیار مل گیا ہے،ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا ہوگا، نئے مستقل چیئرمین نیب کیلئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے نام پر بھی غور ہوسکے گا، مجوزہ آرڈیننس کے تحت موجودہ چیئرمین نیب نئے کی تعیناتی تک برقرار رہیں گے، چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں پارلیمانی کمیٹی پہلی بار شامل کی جا رہی ہے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مشاورت کریں گے، نیب ترمیمی آرڈیننس کےلیے قائم کمیٹی میں اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کی تجویز دی تھی۔

    نیب کے اختیارات میں کمی سمیت مجموعی طور پر نیب قانون کی 11 شقوں میں ترامیم ہوں گی نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کے ذریعے ٹیکس کیسز، اجتماعی فیصلہ سازی، طریقہ کار کی غلطی نیب دائرہ اختیار سے نکل جائیں گے، وفاقی و صوبائی کابینہ، کمیٹیوں، کونسلز، کمیشنز اور بورڈ فیصلوں پر نیب اختیار ختم ہوگا، اچھی نیت سے سرکاری امور نمٹانے، براہ راست مالی فائدہ نہ لینے کے کیسز بھی نیب اختیار سے خارج ہوں گے مجوزہ آرڈیننس کے ذریعے احتساب عدالت کے ججوں کو ہائیکورٹ کے جج کی مراعات ملیں گی جب کہ جج احتساب عدالت کو ہٹانے کے لئے صدر و چیف جسٹس کی مشاورت لازمی قرار دینے کی تجویز بھی آرڈیننس کے مسودے میں شامل ہے اس کے ساتھ ساتھ کرپشن کیسز کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کرنے اور 6 ماہ میں فیصلے سنانے کی تجویز ہے۔ احتساب عدالت میں آڈیو ویڈیو آلات سے بیانات بھی ریکارڈ ہوں گے ریفرنس سے پہلے اور ریفرنس دائر ہونے کے بعد چئیرمین نیب کو مقدمہ ختم کرنے کا اختیار ہوگا، دوبارہ چئیرمین نیب تعیناتی اور موجودہ چئیرمین نیب کو کام جاری رکھنے کی تجویز بھی آرڈیننس کا حصہ ہے۔

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • امریکی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد پر جسمانی تلاشی نہ لی جائے،وزارت خارجہ کا حکم

    امریکی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد پر جسمانی تلاشی نہ لی جائے،وزارت خارجہ کا حکم

    امریکی نائب وزیر خارجہ 2 روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے

    امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین 7 رکنی وفد کے ہمراہ ہوں گے امریکی وفد کے استقبال کے لیے ایوی ایشن ڈویژن کو انتظامات کا مراسلہ ارسال کر دیا گیا ،وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی وفد کی اسلام آباد آمد پر جسمانی تلاشی نہ لی جائے امریکی نائب وزیر خارجہ کے وفد کی تصاویر بھی نہ بنائی جائیں،امریکی وفد کی آمد اور روانگی پر اسٹیٹ لاونج مختص کیا جائے ،امریکی وفد کی آمد پر پی سی آر ٹیسٹ سے استثنیٰ دی جائے ،وزرات خارجہ اور امریکی سفارتخانے کے 5،5 افراد انٹری پاس جاری کیا جائے، امریکی نائب وزیر خارجہ 2 روزہ دورے پر پاکستان آئیں گی امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین 7 رکنی وفد کے ہمراہ ہوں گی

    امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کا پہلا اہم دورہ سی آئی اے کے چیف نے کیا اور ان کے بعد یہ کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا دوسرا دورہ ہوگا امریکی نائب وزیر خارجہ سوئٹزرلینڈ سے انڈیا اور ازبکستان جائیں گی جہاں سےاسکے بعد وہ پاکستان پہنچیں گی ، چار روز قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام شدت پسند گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے ہم پاکستان سے انسداد دہشت گردی پر مضبوظ شراکت کے خواہاں ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وہ مستقل بنیادوں پر تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مستقل بنیادوں پر بلاامتیاز کارروائی کرے

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور قتل کیس، وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

    نور قتل کیس، ملزم کی عدالت پیشی،مزید جسمانی ریمانڈ منظور

  • پی ٹی آئی کے 3 سال: سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ

    پی ٹی آئی کے 3 سال: سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ

    وزارت خزانہ کے قرضہ مینجمنٹ ونگ کی جانب سے تیار کیے گئے سالانہ قرضہ جائزہ اور سرکاری قرض بلیٹن برائے سال 2020-21 کے مطابق پی ٹی آئی کے 3 سالوں میں مجموعی قرضوں میں 149 کھرب روپے اضافہ ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے "جنگ نیوز” کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018 میں مجموعی قرضہ 249 کھرب 53 ارب روپے تھا، جو کہ 30 جون، 2021 تک 398 کھرب 59 ارب روپے ہوگیا تھا۔

    وزارت خزانہ کے قرضہ مینجمنٹ ونگ کی جانب سے تیار کیے گئے سالانہ قرضہ جائزہ اور سرکاری قرض بلیٹن برائے سال 2020-21 کے مطابق، وفاق کا بنیادی خسارہ (سرپلس) 967 ارب روپے تھا ، سود کی ادائیگی 2750 ارب روپے اور شرح مبادلہ کی گراوٹ (ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر) سے 665 ارب روپے مالی سال 2020-21 میں اضافہ ہوا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف آر ڈی ایل ایکٹ، 2005 کے مطابق، مجموعی سرکاری قرض کا مطلب وہ قرضہ جو حکومت نے لیا ہو جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت شامل ہیں تاہم، اس میں مجموعی ادائیگیاں شامل نہیں ہیں۔ مالی سال 2018 کے اختتام تک مجموعی سرکاری قرض اور ادائیگیاں 298 کھرب روپے تھی، جو کہ ستمبر 2021 تک 478 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے دور حکومت میں 2013 سے 2018 تک مجموعی سرکاری قرض اور واجبات 140 کھرب روپے سے بڑھ کر 290 کھرب ہوئے جبکہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں مجموعی سرکاری قرضے اور واجبات 60 کھرب روپے سے بڑھ کر 140 کھرب روپے ہوئے تھے۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کے اس تیزی سے بڑھتے بوجھ سے واضح ہوتا ہے کہ سرکاری قرضے اور واجبات سپر سونک رفتار سے بڑھے ہیں جو مکمل تباہی کی جانب جارہے ہیں مجموعی سرکاری قرضوں میں مقامی قرضوں کا حجم 66 فیصد ہے، جبکہ 34 فیصد غیرملکی قرضہ ہے۔

    ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ چار اہم ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے مجموعی مقامی قرضے 262 کھرب 65 ارب روپے تھے، جس میں سے مستقل قرضے 159 کھرب 11 ارب روپے،گردشی قرضے 66 کھرب 80 ارب روپے اور غیرفنڈڈ قرضے 37 کھرب 64 ارب روپے تھے جبکہ مجموعی غیرملکی قرضے جون 2021 کے اختتام تک 86.4 ارب ڈالرز تھے، جس میں سے بیرونی سرکاری قرضہ 79.031 ارب ڈالرز اور آئی ایم ایف 7.384 ارب ڈالرز ہوچکا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ سالانہ بلیٹن میں بھی بتایا گیا تھا کہ رواں برس جون کے اختتام پر سرکاری قرضے 399 کھرب روپے تک پہنچ گئے پچھلے 3 برسوں میں سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔

    اسٹیٹ بینک کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ 2018 سے 2021 تک سرکاری قرضوں میں ہر سال 20 فیصد کی شرح سے 60 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا پی ٹی آئی حکومت کا 3سال میں لیا گیا قرض مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے 10سالہ دور میں لیے گئے قرضوں کے 82 فیصد مساوی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مالی سال 2018-19 سے لے کر 2020-21 کے اختتام پر سرکاری قرضے جی ڈی پی کے 83.5 فیصد ( 399 کھرب روپے ) تک پہنچ گئے۔ تاہم معیشت کا حجم جی ڈی پی کے 11 فیصد سے زیادہ ہے قرض میں اضافے کو اگر یومیہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت نے روزانہ 13.6 ارب روپے کا سرکاری قرض لیا۔ یہ اوسط مسلم لیگ ن کے دور کی اوسط (5.8 ارب روپے) سے دگنی ہے۔

  • ایئر پورٹ سے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

    ایئر پورٹ سے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

    ایئر پورٹ سے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
    سینیٹ میں قائد حزب اختلاف،سابق وزیراعظم ، پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

    یوسف رضا گیلانی اٹلی میں کانفرنس میں شرکت کے لیے جارہے تھے،یوسف رضا گیلانی کا نام ای سی ایل میں ہونے کے باعث روکا گیا، اسٹاف کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ سے امیگریشن کروائی تو کہا گیا یوسف رضا گیلانی نے کا نام ای سی ایل میں ہے،نجی ٹی وی کے مطابق ایئر پورٹ ذرائع کاکہنا ہے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور بیٹی کو بھی باہر جانے سے روکا گیا،

    پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی انٹر پارلیمانی یونین اجلاس میں وفد کی سربراہی کیلئے روم جارہے تھے،یوسف رضا گیلانی کے ساتھ 5 اراکین قومی اسمبلی اور 5سینیٹرز بھی اٹلی جارہے تھے،یوسف رضا گیلانی ای سی ایل میں نام ہونے کی تصدیق کے بعد ائیرپورٹ نہیں گئے، سزا یافتہ مجرموں کو باہر جانے دیا جاتا ہے مگر پیپلزپارٹی رہنماؤں پر قدغنیں ہیں، ای سی ایل سے نام ہٹا کر پیشیاں بھگتنے والوں کو بھی ملک سے باہر جانے دیا گیا،یوسف رضا گیلانی ملک کی نمائندگی کیلئے جانا چاہتے تھے مگر انہیں روک دیا گیا،ملک میں ایک نہیں دو نظام ہیں،جیالوں کے لیے بھی الگ قانون ہے ،

    واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو بھی ایک بار لاہور ایئر پورٹ سے بیرون ملک جانے سے روکا گیا تھا،شہباز شریف دوحہ جا رہے تھے ایئرپورٹ پر موجود ایف آئی اے امیگریشن اہلکار نے انہیں روکا حکام نے شہباز شریف سے کہا تھا کہ ہمارے سسٹم میں آپ ابھی تک بلیک لسٹ ہیں عطا تارڑ نے ایئرپورٹ حکام کو معاملے سے آگاہ کیا، عطا تارڑ نے حکام کو عدالتی حکمنامہ پڑھ کر بھی سنایا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے حکام سے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر ہے، ون ٹائم ٹریول کی اجازت دی ہے جس پر انہیں بتایا گیا کہ امیگریشن سسٹم پر کلیئرنس اپ ڈیٹ ہونے تک آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ شہباز شریف نے ایئرپورٹ حکام کو عدالت کے احکامات بھی دکھائےآف لوڈ فارم کی تحریر کے مطابق شہبازشریف کے حوالے سے سسٹم ابھی اپ ڈیٹ نہیں ہوا ہے سسٹم میں کلیئرنس جاری نہیں ہوئی

    گزشتہ برس سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیٹے کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے روک دیا گیا تھا،عبداللہ خاقان عباسی کو ایف آئی اے امیگریشن حکام نے آف لوڈ کیا،عبداللہ خاقان عباسی پرواز ای کے 613 سے دبئی جارہے تھے، دوران امیگریشن ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کے بیٹے کا نام سٹوپ لسٹ میں پایا گیا

    شہباز شریف کو باہر جانے دیا تو "مک مکا” کا الزام لگ جائے گا،وفاقی وزیر

    شہباز شریف خاندان کے کتنے افراد اشتہاری قرار دے دیئے گئے؟