Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانستان میں‌ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ 20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع

    افغانستان میں‌ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ 20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع

    برلن :افغانستان پر20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اور جرمن وزیرخارجہ ہائکو ماس بدھ کے روز ساتھیوں کے ایک گروپ اور اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا موضوع افغانستان کی صورت حال ہے۔

    رمسٹائین ایئر بیس پر منعقد اس اجلاس میں 20 ممالک شریک ہیں، ​جن امور پر بات ہو رہی ہے، ان میں طالبان کی جانب سے حکومت سنبھالنے کے علاوہ انسانی ہمدری کی نوعیت کی بنیادی امداد جاری رکھنے کی کوششوں پر غور بھی شامل ہے۔

    وزارتی سطح کے اجلاس سے قبل، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس بات کو بھی زیر غور لایا جائے گا کہ آیا طالبان کیے گئے اپنے وعدوں کو وفا کرنے کی بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورے اترنے کی کوشش کریں گے۔

    جرمنی آمد سے قبل، قطر کے دورے کے دوران بلنکن نے اس بات کو نمایاں کیا کہ امریکہ اور دیگر ملکوں نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں اور جس کے پاس سفری دستاویزات موجود ہوں اور وہ افغانستان سے باہر جانے کا خواہش مند ہو انھیں باہر جانے کی سہولت فراہم کی جائے۔

    یہ معاملہ تب سے منظر عام پر رہا ہے جب اگست کے اواخر میں امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کیا جس کے نتیجے میں افغانستان میں دو عشروں سے جاری فوجی موجودگی ختم ہوئی جب کہ ہزاروں افراد کو خصوصی پروازوں کے ذریعے ملک نے باہر لے جایا گیا۔

    تاہم، بہت سے افراد جو افغانستان سے باہر نکلنا چاہتے تھے، وہ امریکی انخلا کی تکمیل سے قبل ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ بدھ کو ہونے والے اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے معاملات کے علاوہ افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کے امور کی سربلندی کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا

  • دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:پاکستان

    دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:پاکستان

    اسلام آباد: دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے اعلان پر پاکستان کا ردعمل آ گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان افغانستان میں حکومت سازی کاجائزہ لے رہا ہے امید ہے ‏عبوری افغان حکومت امن وسلامتی کیلئےکام کرے گی۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان عوام کی فلاح وبہبودعبوری حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے، پاکستان پرامن، ‏مستحکم اورخودمختارافغانستان کاحامی ہے۔

    طالبان حکومت کے قیام سے متعلق عالمی طاقتیں اور دیگر ممالک اپنے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں اور دنیا ‏بھر سے ردعمل آنے کا سلسلہ برقرار ہے۔

    چینی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت اور سربراہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کیلئے تیار ہیں، ‏ہم افغانستان کی خومختاری ، آزادی اورسالمیت کا احترام کرتے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ‏تھا اور کہا تھا کہ طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں، ان کے اقدامات سے پرکھیں گے۔

    ترجمان نے کہا تھا لپ فہرست میں صرف طالبان کےرکن یا ان کے ساتھی ہیں کوئی خاتون نہیں ، کابینہ کےکچھ ‏افراد کی وابستگیوں اور ٹریک ریکارڈ پربھی فکرمند ہیں۔

    گذشتہ روز افغان طالبان نے عارضی حکومت تشکیل دیتے ہوئے وزرا اور کابینہ اراکین کے ناموں کا اعلان کیا تھا، ‏جس کے مطابق سربراہ محمد احسن اخوند کو منتخب کیا گیا تھا۔

    ملاعبد الغنی برادر کو معاون سرپرست ریاست اور وزرا کا عہدہ دیا گیا ہے، اسی طرح مولوی محمد یعقوب مجاہد ‏وزیردفاع، سراج حقانی کو وزیرداخلہ تعینات کیا گیا ہے۔

  • وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کمانڈاتھارٹی کااجلاس  :نیوکلیئرسیکیورٹی کےلیےجاری اقدامات پراظہاراطمنان

    وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کمانڈاتھارٹی کااجلاس :نیوکلیئرسیکیورٹی کےلیےجاری اقدامات پراظہاراطمنان

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں سٹرٹیجک اثاثوں کی حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا25واں اجلاس ہوا، اجلاس سٹرٹیجک پلان ڈویژن کے ہیڈ کوارٹرز میں ہوا۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا اہم اجلاس ہوا، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ شوکت ترین اور وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی شرکت کی۔

    نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شرکاء تغ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ این سی اے کو خطےمیں جاری تنازعات اور علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے دوران تربیت کےاعلیٰ معیار، سٹریٹیجک فورسز کی آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہاگیا جبکہ مقاصد کے حصول میں کوشش کرنے والے سائنسدانوں و انجینئرز کی تعریف کی گئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ اتھارٹی کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات کو بہتر بنانے کی عالمی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    اعلامیے کے مطابق نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو خطےمیں جاری تنازعات پربھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس پر شرکا نے روایتی اور اسٹریٹجک سطح پر بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

    این سی اے کا اعلامیہ میں کہنا تھا کہ ’پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کو بہتربنانےکیلئےکردار ادا کرتا رہے گا‘۔

    این سی اےنے پاکستان کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں کی رفتارپربھی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت کےاعلیٰ معیار، اسٹریٹجک فورسزکی آپریشنل تیاریوں کوبھی سراہا جبکہ مقاصدکےحصول میں کوشش کرنے والےسائنس دانوں اور انجینئرز کی تعریف بھی کی۔

    این سی اے کے مطابق ہتھیاروں کی دوڑ سے پیدا صورتحال خطے میں امن اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان خطے میں اسٹرٹیجک استحکام، امن، سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔

  • مسرت عالم بٹ کو حریت کانفرنس کا نیا چیئرمین تعینات کرنے پرپاکستان کا خیر مقدم

    مسرت عالم بٹ کو حریت کانفرنس کا نیا چیئرمین تعینات کرنے پرپاکستان کا خیر مقدم

    اسلام آباد: پاکستان نے آل پارٹی حریت کانفرنس کی جانب سے مسرت عالم بٹ کو نیا چیئر مین اے پی ایچ سی اور شبیر احمد اور غلام احمد گلزار کو وائس چیئرمین تعینات کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے آل پارٹی حریت کانفرنس (اے پی ایچ) سی قیادت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی حیثیت سے ،اے پی ایچ سی قیادت ان کی امنگوں کی حقیقی آواز ہے۔

     

     

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایچ سے برسوں سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حق کیلئے جدوجہد جہد میں پیش پیش ہے۔بغیر کسی شک و شبہ کے انہیں جموں و کشمیر کے ایک حصہ پر غیر قانونی بھارتی تسلط کیخلاف کشمیریوں کی جدوجہد کی مشعل بردار کی حیثیت سے کشمیری عوام کی حمایت حاصل ہے۔

    اپنے حصے کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی جائز جدوجہد میں کشمیری عوام کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی جاری رکھے گا۔

     

     

    جموں و کشمیر مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے مسرت عالم بھٹ اپنی 50 برس کی زندگی میں سے 24 سال انڈین جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ انھیں انڈین حکام کی جانب سے 38 مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ اس وجہ سے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنگاپور کے ڈاکٹر چائی تھائے پوش کے بعد ایشیا میں طوﯾل ﻋرﺻﮯ ﺗﮏ سیاسی قیدی رہنے والی شخصیت ہیں۔

     

     

     

    انھیں کشمیر میں حق ﺧود ارادیت اور آزادی ﮐﯽ جنگ کے لیے سرگرم ہونے پر جموں و کشمیر پبلک سیفٹی اﯾﮑٹ 1978 ﮐﮯ ﺗﺣت 38 ﺑﺎر ﺣراﺳت ﻣﯾں لیا گیا ﮨﮯ اور وہ کسی اﻟزام ﯾﺎ ﻣﻘدﻣﮯ ﮐﯽ سماعت ﮐﮯ بغیر چوبیس سال جیلوں میں رہے ہیں۔

    جون 1971 میں سری نگر میں پیدا ہونے مسرت عالم بھٹ اگرچہ پہلی بار 19 سال کی عمر میں گرفتار ہوئے تاہم 2008 سے قبل کشمیری ان کے نام سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے۔

     

    وہ 2008 میں اس وقت مزاحمتی رہنما کے طور پر ابھرے جب انہوں نے کشمیر کی زمینوں کو آل ہندو شرائن بورڈ کو منتقل کیے جانے کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور عملی جدوجہد شروع کی جس کے بعد انھیں گرفتار کرلیا گیا اور انھیں کشمیر سے باہر بھی انڈین جیلوں میں رکھا گیا۔

     

     

    26مئی 2008 کو کشمیر میں انڈین ﺣﮑﺎم ﻧﮯ 99 اﯾﮑڑ ﺟﻧﮕﻼت ﮐﯽ زمین کو اﻣرﻧﺎﺗﮭ ﻣزار ﺑورڈ کو منتقل ﮐردﯾﺎ۔ اس پر تنازع پیدا ہوا اور زمین کی منتقلی کے خلاف کشمیر میں مظاہرے شروع ہوگئے اس دوران 60 سے زائد افراد کو قتل کیا تو کشمیر میں اﯾﮏ ﮨﯽ رﯾﻠﯽ میں لاکھوں افراد امڈ اور ﺑﺎﻵﺧر منتقلی روک دی گئی۔

    دو ﺳﺎل بعد جون میں مسرت عالم ﮐﯽ ﺣراﺳت کو کشمیر ﮐﯽ اﯾﮏ اﻋﻠﯽٰ عدالت ﻧﮯ منسوخ ﮐردﯾﺎ اور رﮨﺎ ﮐردﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔ کچھ دن روپوش رہنے کے بعد انہوں ﻧﮯ ’کشمیر ﭼﮭوڑ دو‘ تحریک ﮐﺎ اﻋﻼن ﮐﯾﺎ۔

    کشمیر میں پہلی بار پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا تو مسرت عالم کا نعرہ ’گو انڈیا، گو بیک‘ نے پورے کشمیر میں گونجنے لگا جس کے بعد انھیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا اور وہ تب سے زیر حراست ہیں۔

    ﻣﺳرت عالم زمانہ طالب علمی سے مزاحمتی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ جب انھیں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا اس وقت ان کی عمر 19 برس تھی۔ اور ان کو ﺣزب ﷲ کا رکن ہونے کے الزام میں دو اکتوبر 1990 کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔

    انھیں نومبر 1991 ﻣﯾں رﮨﺎ کیا گیا ﺗﺎﮨم 1993 ﻣﯾں ﭘﮭر ﺣراﺳت ﻣﯾں ﻟﯾﺎ ﮔﯾﺎ اور1997 تک جیل میں رکھا گیا۔ رہائی کے چھ ماہ بعد ستمبر 1997 میں پھر گرفتار کیا گیا جبکہ چوتھی بار مئی 2000 ﺗﮏ ﮔرﻓﺗﺎر ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔

    ﺟﻧوری میں 2001 ﻣﯾں پھر گرفتار ہوئے اور اﮔﺳت 2003 میں دو ﻣﺎه ﮐﮯ لیے رﮨﺎ ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔ انہیں دوﺑﺎره اﮐﺗوﺑر 2003 ﻣﯾں ﺣراﺳت میں ﻟﯾﺎ ﮔﯾﺎ اور 2005 ﻣﯾں رﮨﺎ ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔

     

     

    اس دوران اے پی ایچ ﺳﯽ ﮐﮯ اﯾﮏ حصے ﻧﮯ اس وقت کے وزﯾراﻋظم ڈاﮐﭨر ﻣن ﻣوﮨن ﺳﻧﮕﮭ کے ساتھ کشمیر کے تنازع کے حوالے سے ﺑﺎت ﭼﯾت شروع ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ اس بنیاد پر منموہن ﺳﻧﮕﮭ ﻧﮯ پبلک سیفٹی ایکٹ اور پوٹا کے تحت گرفتار کیے جانے والے کشمیری قائدین کو رہا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    22 اپریل 2007 کو مسرت عالم کو اس لیے رہا کیا گیا تاکہ ان کو پھر سے گرفتار کیا جا سکے۔ اس دفعہ مسرت عالم کے اہل خانہ نے پہلی بار ﻧظرﺑﻧدی ﮐﮯ ﺣﮑم ﮐو ﭼﯾﻠﻧﺞ ﮐﯾﺎ۔ اس سے قبل انہوں نے کسی بھی انڈین عدالت میں درخواست دینے سے انکار کیا تھا

     

    انہوں نے 1990 ﺳﮯ 2005 ﮐﮯ درﻣﯾﺎن 15 برسوں ﻣﯾں ﺳﮯ 12 سال کسی ﺑﮭﯽ مجرمانہ اﻟزام ﯾﺎ ﻣﻘدﻣﮯ ﮐﯽ ﺳﻣﺎﻋت ﮐﮯ ﺑﻐﯾر ﻧظرﺑﻧدی ﻣﯾں ﮔزارے۔

    2015 ﻣﯾں عدالت نے ان کی 33 وﯾں ﻧظرﺑﻧدی منسوخ کرتے ہوئے 45 روز کے لیے رہا کیا ﻟﯾﮑن ﺑﯽ ﺟﮯ ﭘﯽ ﻧﮯ ان ﮐﯽ رﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺧﻼف انڈین ﭘﺎرﻟﯾﻣﻧٹ ﻣﯾں اﯾﮏ ﮨﻧﮕﺎمہ ﮐﮭڑا ﮐردﯾﺎ اور حکمران طبقے کی ایما پر سری نگر سے مسرت عالم کو پھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ ﻣﺳرت ﺗب ﺳﮯ ﺟﯾل ﻣﯾں ہیں۔

    1990 ﮐﮯ ﺑﻌد ﺳﮯ اب تک ﻣﺳرت عالم ﮐﯽ 38 نظربندیوں نے انہیں نہ ﺻرف ﮐﺷﻣﯾر ﻣﯾں بلکہ پورے اﯾﺷﯾﺎ ﻣﯾں طوﯾل ﻋرﺻﮯ ﺗﮏ حراست میں رہنے والا سیاسی قیدی بنا دیا۔ سنگا پور کے ڈاﮐﭨر ﭘوش ﮐﮯ ﺑﻌد وہ طویل ترین حراستیں برداشت کرنے والے رہنما ہیں، ڈاکٹر پوش ﺳﻧﮕﺎﭘور ﮐﮯ ﻧﺎم ﻧﮩﺎد داﺧﻠﯽ ﺳﻼﻣﺗﯽ اﯾﮑٹ ﮐﮯ ﺗﺣت اﮐﺗوﺑر 1966 ﮐﮯ ﺑﻌد 22 ﺳﺎل ﺗﮏ ﻧظرﺑﻧد رہے۔

    ﻣﺳرت 1990 ﮐﮯ ﺑﻌد ﺳﮯ محض 54 ﻣﺎه ﺟﯾل ﺳﮯ ﺑﺎﮨر رہے۔ ان کی بہن کا 2016 میں انتقال ہوا تو انہیں جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ مسرت عالم کا تعلق ﺳری ﻧﮕر ﮐﮯ مشہور کاروباری خاندان سے ہے۔

     

    سیاست میں آنے کے بعد ان کے خاندان کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا لیکن خود مختاری کے لیے اس سودے پر مسرت کو کوئی افسوس نہیں ہے۔

  • جنگلات کی ہزاروں ایکڑزمین پرقبضہ:لینڈ ریکارڈ کے بعد شہری اپنا پلاٹ گھربیٹھا دیکھ سکےگا:وزیراعظم

    جنگلات کی ہزاروں ایکڑزمین پرقبضہ:لینڈ ریکارڈ کے بعد شہری اپنا پلاٹ گھربیٹھا دیکھ سکےگا:وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پیسہ بنانے والے انتہائی طاقتور بن چکے، ناقص سسٹم کے باعث ردوبدل انتہائی آسان، اوور سیز پاکستانی ناجائز قبضوں سے زیادہ متاثر، مافیا نہیں چاہتا کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو، ٹیکنالوجی قبضہ گروپوں کو شکست دے گی۔

    وزیراعظم کا لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور کیڈیسٹریل میپنگ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے ہر کوئی اپنے پلاٹ کو کمپیوٹر پر دیکھ سکے گا۔

    وزیراعظم عمران خان نے لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جنگلات کی ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہوا ہے۔

    اسلام آباد میں لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن اینڈ کیڈسٹریل میپنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ کام ہوگیا کیونکہ اس میں دلچسپی لینے والے بہت گروپس تھے جو چاہتے نہیں تھے کہ یہ ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو بہت پہلے کمپیوٹرائز ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹرائز نہ کرنے سے انٹرسٹ گروپس کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نہ کرنے سے طاقتور لوگوں کو فائدہ ہوتا رہا۔ جائیدادوں پر ناجائز قبضے سے سب سے زیادہ بیرون ملک مقیم پاکستانی متاثر ہو رہے تھے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اگر مناسب ماحول فراہم کر دیں تو وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں گے۔

    عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے ملک میں قانون کا یکساں نفاذ ضروری ہے۔ پچاس فیصد عدالتوں میں کیسز قبضہ گروپوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں لوگ زمینوں کا انتقال گھر بیٹھے آن لائن کرا سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تین سالوں میں اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر قبضے چھڑائے۔ اسلام آباد میں 300 ارب کی زمین پر قبضے تھے۔ جنگلات کی ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضے ہوئے تھے۔ ریکارڈ ڈیجیٹلائز ہونے سے قبضوں کا پتا چل جائے گا۔ زمین کی ٹرانسفرکرانے کا مرحلہ ایک عذاب ہوتا ہے لیکن اب لوگوں کو آسانیاں ہونگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمندرپار پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں اور اگر ہم انہیں سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں اور مواقع پیدا کریں تو پاکستانیوں کا باہر اتنا پیسہ پڑا ہوا ہے وہ یہاں آئے گا اور ہمیں آئی ایم ایف سے قرضے لینے اور ڈالر کی قیمت اوپر جانے، روپیہ کاگرنا اور مہنگائی سب اس سے جڑے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں لوگوں کو قانون کی وہ بالادستی نہیں دی کہ لوگ باہر سے آکر سرمایہ کاری کریں، قانون کی بالادستی ہوتی ہے تو سرمایہ کاری آتی ہے۔

  • آرمی چیف سےسفیریورپی یونین کی ملاقات،افغانستان میں پاکستانی حکمت عملی کی تعریف

    آرمی چیف سےسفیریورپی یونین کی ملاقات،افغانستان میں پاکستانی حکمت عملی کی تعریف

    راولپنڈی:آرمی چیف سےسفیریورپی یونین کی ملاقات،افغانستان کی صورتحال پرتبادلہ خیال،پاکستانی حکمت عملی کی تعریف ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یورپی یونین کی سفیر کی ملاقات ہوئی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یورپی یونین کی سفیر اینڈرولا کیمینارا نے اہم ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین باہمی تعاون کے فروغ کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

    ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورتحال بھی پر بھی غور جبکہ باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یورپی یونین کی سفیر نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان باہمی مفاد پر مبنی کثیر الجہتی تعاون کا فروغ چاہتا ہے۔ پاکستان یورپی ممالک سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

    یاد رہے کہ پچھلے کئی ماہ سے دنیا بھرکی عالمی شخصیات پاکستان کا دورہ کررہی ہیں اورافغانستان میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے اورپاکستان سے افغانستان میں تعاون مانگا ہے

  • افغان طالبان کی حکومت ، بھارت صدمے سےچور:امریکی خفیہ ایجنسی CIA کے سربراہ کی اجیت ڈوول کوتسلیاں

    نئی دہلی : افغان طالبان کی حکومت ، بھارت صدمے سےچور:امریکی خفیہ ایجنسی CIA کے سربراہ کی اجیت ڈوول کوتسلیاں ،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں افغان طالبان کے اقتدار میں‌ آنے کے بعد بھارت پرجس طرح خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں ، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ بھارت کوطفل تسلّیاں دینے کے لیے بھارت پہنچ گئے ہیں‌

    ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ ولیم جے برنز ان دنوں افغانستان کے دورہ کے بعد بھارت پہنچ گئے۔ بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول سمیت اعلیٰ بھارتی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں

    رپورٹ کے مطابق ولیم جے برنز نے افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر اجیت دوول سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر نے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔اگرچہ بھارتی اور امریکی عہدیداروں نے اس دورے کے حوالے سے چپ سادھ رکھی ہے،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت افغان طالبان کی طرف سے مقبوضہ کشمیرکی صورت حال پرکشمیریوں کی اخلاقی مدد کے اعلان کے بعد سخت پریشان ہے اوریہ بھی کہا جارہا ہے کہ بھارت نے امریکہ سے مدد مانگ لی ہے اورافغان طالبان کی حکومت کوتسلیم کرنے کومشروط کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے جس میں کشمیر جیسے مسائل پرمداخلت نہ کرنے کا عہد لینے کی کوشش کی جائے گی

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق سی آئی اے چیف کل 9 ستمبرکوپاکستانی قیادت سے ملاقات کرنے کا پروگرام بنا چکے ہیں اورہوسکتا ہے کہ وہ افغانستان کی تازہ ترین صورت حال سے متعلق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے بھی ملاقات کریں

    ۔ یادرہےسی آئی اے سربراہ نے گذشتہ ماہ ملا عبدالغنی برادر سمیت طالبان قیادت سے ملاقات کے لیے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب طالبان کے ملک پر کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد افغانستان سے امریکیوں اور دیگر غیر ملکیوں کا انخلا امریکیوں کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا۔

  • #تمباکونوشی_زہر_قاتل ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    #تمباکونوشی_زہر_قاتل ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    #تمباکونوشی_زہر_قاتل ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف جاری مہم اگلے مرحلے میں پہنچ گئی

    تمباکو نوشی کے خلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے ٹویٹس کیں جس کے بعد #تمباکونوشی_زہر_قاتل ٹرینڈ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈز میں آ گیا، تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے مہم جاری ہے، پہلے مرحلے میں باغی ٹی وی پر تمباکو نوشی کے خلاف چالیس سے زائد بلاگز شائع کئے گئے

    اب اگلے مرحلے میں تمباکو نوشی کے خلاف جاری اس مہم میں صارفین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا، صارفین نے تمباکو نوشی کے نقصانات پر ٹویٹس کیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا

    پاکستان میں83 ارب سگریٹ بنائے جاتے ہیں اور وہ ہر سال پھونک دیئے جاتے ہیں پاکستان کو سگریٹ بنانے کی اجازت ہے کہ انڈسٹری ہمیں کیا فائدہ دے رہی ہے اکانومی پر کیا اثر ہے کیا اس سے نوکری مل رہی ہے حکومت ٹیکس کیوں نہیں لگاتی سگریٹ نوشی ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہی ہے ایک لاکھ ستر ہزار اموات ہر سال تمباکو سے ہوتی ہیں اور اسکا متبادل نوجوان سگریٹ نوشی کر دیتے ہیں بچوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ہمیں بچوں کو بچانا ہے-

    https://twitter.com/OfficialTeamMAJ/status/1435508628547645440

    ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی میں مبتلا ہونے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی جن میں سے سر فہرست ڈپریشن ہے ،بعض اوقات والدین کی زرا سی غفلت اور تربیت میں لاپرواہی کی وجہ سے بھی بچے سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔

    https://twitter.com/M_H__321/status/1435513405465583617

    https://twitter.com/DSI786/status/1435491201004810244?s=09

    https://twitter.com/AgentPak1979/status/1435499848195837953?s=20

    https://twitter.com/Fatii_PTI/status/1435496798693507072?s=09

    https://twitter.com/irumrae/status/1435510716929384449

    https://twitter.com/hansbadvi/status/1435490671100628995

    https://twitter.com/MalikZamad_/status/1435488035941101578

    https://twitter.com/RajaArshad56/status/1435337516706582532

    https://twitter.com/aworrior888/status/1435441450028871686

    https://twitter.com/MonstrBck/status/1435493936785674240

    https://twitter.com/pakistanZ786/status/1435407910960521223

  • شہباز شریف سے اہم شخصیت کا رابطہ،نیشنل ڈ ائیلاگ کا دیا مشورہ

    شہباز شریف سے اہم شخصیت کا رابطہ،نیشنل ڈ ائیلاگ کا دیا مشورہ

    شہباز شریف سے اہم شخصیت کا رابطہ،نیشنل ڈ ائیلاگ کا دیا مشورہ

    ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ معاملات کی بہتری کے لیے نیشنل ڈ ائیلاگ کرنا چاہیے،پارٹی موجودہ حالات کو دیکھتے ہوے فیصلے کرے مشاورت اور فیصلے جلد ہونے چائیے کیونکہ انتخابات قریب ہیں موجود صورتحال میں ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے پیپلزپارٹی کے ساتھ مشترکہ لائحہ بنانا ہے تو سیاسی ساکھ کو دیکھ کر بات کرنی چاہیے

    نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے جلد پارٹی اجلاس اور فیصلے لینے کا عندیہ دے دیا ،جلد مسلم لیگ ن مزید بہتر انداز میں عوام کے ساتھ ہوگی نواز شریف سے پارٹی کو بہتر اندازمیں چلانے کے لیے مشاورت کی جائے گی

    اور پولیس نے عائشہ اکرم کو واقعی گرفتار کر لیا؟

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، لڑکی کے ساتھ کا ہوا میڈیکل،عائشہ کے پھٹے کپڑوں بارے بھی حکم آ گیا

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، 350 افراد کی نشاندہی ہو گئی

    خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز وائرل،بزدار سرکار کا بڑا حکم

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

    اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

    مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

    دوسری جانب مسلم لیگ ن نے رواں ماہ ہونے والے پی ڈی ایم اجلاس کے لیے تجاویز تیار کر لیں،سربراہی اجلاس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے مشاورت کی جائے گی،سربراہی اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر مشاورت ہوگی، افغان امور اور معیشت بھی اجلاس میں ایجنڈے پر ہوگی،ن لیگ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے پنجاب کو مرکز بنانے پر زور دے گی ن لیگ پنجاب میں50 سے زائد جلسوں کا شیڈول اجلاس میں پیش کرے گی، حکومت کی بیڈ گورننس، مہنگائی اور ملکی معیشت کو جلسوں میں اجاگر کیا جائے گا حکومت کی کشمیر اور فارن پالیسی کی ناکامیوں کو بھی جلسوں میں اجاگر کیا جائے گا،روڈ کارواں کے حوالے سے بھی سربراہی اجلاس میں مشاورت کی جائے گی، اجلاس میں مسلم لیگ ن کے وفد کی قیادت شہباز شریف کریں گے اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی بھی شرکت کا امکان ہے

  • افغانستان میں نگران سیٹ اپ کے اعلان پر ردِ عمل دینا قبل از وقت ہو گا      فواد چوہدری

    افغانستان میں نگران سیٹ اپ کے اعلان پر ردِ عمل دینا قبل از وقت ہو گا فواد چوہدری

    وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اافغانستان میں نگراں سیٹ اپ کے اعلان پر ردعمل دینا قبل از وقت ہوگا اس لیے ہمیں کچھ انتظار کرنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے برطانوی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ کابل میں تھے، میڈیا سے ہی پتہ چلا کہ ترکی اور قطر کے انٹیلی جنس سربراہان بھی کابل میں تھے افغانستان کا کوئی وزیرِ خارجہ نہیں، ہم اپنے وزیرِ خارجہ کو بھیجتے تو وہ وہاں کس سے ملاقات کرتے؟

    افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس آج ہو گا

    فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کی عدم موجودگی میں فریم ورک کی ضرورت ہوتی ہے جہاں درپیش مسائل پر بات کر سکیں کابل میں حکومت کی عدم موجودگی میں انٹیلی جنس ادارے فریم ورک تشکیل دیتے ہیں ماضی میں ہمیں افغانستان کے ساتھ سنگین مسائل در پیش رہے ہیں جن میں داعش، پناہ گزینوں کے مسائل اور ٹی ٹی پی کی مائیگریشن شامل ہیں تاہم طالبان کے ساتھ ہماری بات چیت ہوتی رہی ہے۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا مزید کہنا کہ پاکستان نے طالبان امریکہ مذاکرات میں سہولت فراہم کی افغانستان میں غیر ملکی شہریوں کے انخلاء میں پاکستان نے مدد فراہم کی۔

    افغانستان میں ایسی جامع حکومت بنائی جائے جوتمام طبقات کی نمائندگی کرے قاسم…

    فواد چوہدری نے کہا کہ سال 2007 اور 2011 میں ہم جو کہہ رہے تھے وہ صحیح ثابت ہوا اور اگر ہماری بات مان لی جاتی تو آج افغانستان میں صورتحال مختلف ہوتی افغان جنگ میں ہمیں 80 ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا اور ہمارا 150 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوا۔

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کر رہا ہے، بھارتی میڈیا نے ویڈیو گیم کی لڑائی کو پنج شیر میں پاکستان کی کارروائی کہا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کے تمام ٹاک شوز میں پنجشیر کی کہانی بنائی گئی اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں مارکیٹنگ ایجنسیاں کس طرح کام کرتی ہیں۔ بھارت کے گھناونے اقدامات سے عام آدمی پروپیگنڈے سے متاثر ہوتا ہے-

    طالبان نے دنیا اور اپوزیشن کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی ، نئی حکومت پر سلیم صافی کا…