Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شہید وطن پاک میجرعزیزبھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کےعزم کو تقویت دیتی ہے:آئی ایس پی آر

    شہید وطن پاک میجرعزیزبھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کےعزم کو تقویت دیتی ہے:آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: شہید وطن پاک میجرعزیزبھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کے عزم کو تقویت دیتی ہے،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے میجر عزیزبھٹی شہید نشان حیدرکا56واں یوم شہادت آج ہے۔

     

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے میجر عزیز بھٹی کے 56ویں یومِ شہادت کے حوالے سے پیغام جاری کیا۔

     

    انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’پوری قوم میجر عزیزبھٹی شہیدکوسلام پیش کرتی ہے، عزیزبھٹی شہید نے مثالی قیادت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، انہوں نے 1965کی جنگ میں بھارتی فوج کوبھاری نقصان پہنچایا‘۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میجرعزیزبھٹی کی قیادت میں بھارت کے لاہور حملےکو کامیابی سے پسپا کیا گیا، عزیزبھٹی کی بہادری ہمیں وطن کےدفاع کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔

     

    یاد رہے کہ سنہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر اگلے مورچوں پر تعینات میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بہادری سے دشمن فوج کا مقابلہ کیا تھا۔راجہ عزیز بھٹی کون تھے؟

     

    شہید راجہ عزیز بھٹی 6 اگست1923 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے ، وہ اکیس جنوری 1948 میں پاک فوج میں شامل ہوئے تو انہیں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن دیا گیا، انہوں نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیرِاعزازی و نارمن گولڈ میڈل حاصل کیا اور ترقی کرتے ہوئے انیس سو چھپن میں میجر بن گئے۔

     

     

    سن 1965 میں بھارت نے پاکستان کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو قوم کا یہ مجاہد سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوا، سترہ پنجاب رجمنٹ کے 28 افسروں اور سپاہیوں سمیت عزیز بھٹی شہید نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

     

    راجہ عزیز بھٹی شہید اس عظیم خاندان کے چشم و چراغ تھے کہ جس سے دو اور مشعلیں روشن ہوئیں، ایک نشان حیدر اور نشان جرات پانے والے واحد فوجی محترم میجر شبیرشریف جب کہ دوسرے جنرل راحیل شریف جو سابق آرمی چیف رہ چکے ہیں اور اب 41 ملکوں کے اسلامی اتحاد کی قیادت کررہے ہیں۔

     

     

     

  • فکرنہ کریں سب اچھاہی ہوگا:چین،ایران،روس،تاجک انٹیلی جنس چیفس کی جنرل فیض حمید سےملاقات

    فکرنہ کریں سب اچھاہی ہوگا:چین،ایران،روس،تاجک انٹیلی جنس چیفس کی جنرل فیض حمید سےملاقات

    اسلام آباد: فکرنہ کریں سب اچھا ہی ہوگا:چین،ایران، روس،تاجکستان کے انٹیلی جنس چیفس کی جنرل فیض حمید سے ملاقات، اطلاعات کے مطابق آج کا دن اسلام اباد میں بہت اہم قراردیا جارہا ہے ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ وفاقی دارالحکومت میں چین، ایران، روس اور تاجکستان کے انٹیلی جنس چیفس نے اہم ملاقات کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق اسلام آباد میں ایران، روس، چین اور تاجکستان کے انٹیلی جنس چیفس نے ملاقات کی، ملاقات ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی میزبانی میں ہوئی۔

    ذرائع کے کہنا ہے کہ اس ملاقات میں افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ خطے میں دیرپا امن و سلامتی کی صورتحال پربھی بات چیت کی گئی۔

    واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے تھے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ایک اعلی سطح کا وفد بھی کابل گیا تھا۔ جنرل فیض حمید کی کابل ایئرپورٹ پر تصویر بھی سامنے آئی جس میں انہوں نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا ہوا تھا۔

    اس موقع پر کابل میں صحافی نے سوال پوچھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے، افغانستان میں اب کیا ہو گا، اس پر جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا کہنا تھا کہ فکرنہ کریں سب اچھا ہوگا۔

    کابل میں پاکستانی سفیر نے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم افغانستان میں امن واستحکام کیلئےکام کر رہے ہیں

  • کابینہ میں ردوبدل سے پہلے ہی صوبائی وزیر نے وزیراعظم کو استعفیٰ بھجوا دیا

    کابینہ میں ردوبدل سے پہلے ہی صوبائی وزیر نے وزیراعظم کو استعفیٰ بھجوا دیا

    کابینہ میں ردوبدل سے پہلے ہی صوبائی وزیر نے وزیراعظم کو استعفیٰ بھجوا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کابینہ کے ردوبدل کی خبریں سامنے آ رہی تھیں ،اب خبر آئی ہے کہ سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے وزارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے

    نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ چند روز قبل عبدالعلیم خان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں اپنا استعفی پیش کر دیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کو استعفیٰ واپس کرتے ہوئے کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا تا ہم اب دوبارہ علیم خان نے استعفیٰ بھجوایا ہے،اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جواب کا انتظار ہے،اس حوالہ سے عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ذاتی وجوہات کی بناپر وزارت کی ذمہ داری ادا نہیں کرسکتا ،استعفیٰ دے دیا، حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کرینگے،ان پر پورا اعتمادہے، عمران خان ہی ہمارے لیڈر ہیں وزیراعظم جب استعفیٰ منظور کرلیں گے تو عہدہ چھوڑ دوں گا،

    واضح رہے کہ عبدالعلیم خان کو نیب نے آف شور کمپنی کیس میں گرفتار کیا تھا ،جس کے بعد علیم خان نےا سعتفیٰ دیا تھا ،علیم خان کو لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت دی ،اسکے بعد وہ دوبارہ سینئر صوبائی وزیر بنائے گئے ، اب دوبارہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے،علیم خان کوگرفتاری کے دوران انسانی حقوق و اقلیتی امور سمیت اسپیشل کمیٹی چھ کا ممبر بنایا گیا تھا ، عبدالعلیم خان پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو کے بھی ممبر تھے۔ تمام کمیٹیز کی رکنیت سے بھی عبدالعلیم خان نے استعفیٰ دے دیا تھا

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

    علیم خان اتنے بااثرکہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس

    کوئی ایم پی اے ہے یا وزیر؟ قانون سے بالاتر نہیں،علیم خان اراضی قبضہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس

  • اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات سرانجام دینے والا پاک فوج کا جوان شہید

    اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات سرانجام دینے والا پاک فوج کا جوان شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات سرانجام دینے والا پاک فوج کا جوان شہید ہو گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یواین امن مشن دارفور میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے لانس نائیک عادل جان شہید ہو گئے، شہید لانس نائیک عادل جان کا تعلق ایف سی بلوچستان سے تھا،لانس نائیک عادل کی عمر 38 سال تھی اور وہ لکی مروت کے رہائشی تھے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شہید اقوام متحدہ کے مشن ڈارفور کا حصہ تھے جو شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی سہولت کے لیے ذمہ دار تھا۔ بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے اب تک 161 پاکستانی عالمی امن مشن کے لئے جانیں دے چکے ہیں۔

    پاکستان نے 30ستمبر1947ء کو اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں شمولیت اختیار کی ،یہ ایک نامور دور کا آغاز تھا جس کی تاریخ بے مثال ہے ،پاکستان نے 28 ممالک میں 2 لاکھ سے زائد افواج کے ہمراہ 46 مشترکہ مِشنز میں حصہ لیا ،یو این امن مِشنز میں 161جوانوں بشمول 24 افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس نائیک محمد نعیم رضا شہید کو اَقوامِ مُتحد ہ کا خصوصی میڈل عطاکیا گیا ،پاکستان اقوامِ متحدہ کے حوالے سے بہترین خدمات سر انجام دے رہا ہے،اقوام متحدہ کی قیادت نے پاکستان کی پر امن فوج کی کارکردگی کو تسلیم کیا ہے

    بھارتی آئیڈیالوجی نفرت پر مبنی،اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے سامنے وزیراعظم نے کیا مودی کو بے نقاب

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے لئے یہ کام کرے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کی اپیل

    اقوام متحدہ امن مشن میں کتنی پاکستانی خواتین اہلکار ہیں؟ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتا دیا

    افغانستان میں جنگ بہت ہو چکی، اب امریکا کی کیا خواہش ہے؟ زلمے خلیل زاد بول پڑے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی خواتین بھی اقوامِ متحدہ امن مشن کانگو میں امن کے لیے سر گرم عمل ہیں،امریکی نائب معاون وزیر خارجہ بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے،ایلس ویلز نے پاکستانی خواتین کے امن کردار کو سراہا،اقوامِ متحدہ چھتری تلے تاحال83پاکستانی خواتین امن مشن کا حصہ ہیں،پاکستان 19جون2019میں کانگو میں خواتین دستے تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے

  • ہمارے معاملات میں کوئی مداخلت نہ کرے، افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا اجلاس سے خطاب

    ہمارے معاملات میں کوئی مداخلت نہ کرے، افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا اجلاس سے خطاب

    ہمارے معاملات میں کوئی مداخلت نہ کرے، افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا اجلاس سے خطاب

    افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی زیر صدارت عبوری کابینہ کا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں آرمی چیف قاری فصیح الدین ، مولوی عبدالحکیم حقانی ، شیخ شہاب الدین دلاور نے شرکت کی،افغانستان کے مشرق اور مشرقی زون کے سربراہ شیخ انوارالحق کی بھی اجلاس میں شرکت ہوئی،قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیادت ذمہ داری اور امانت ہے،ہماری پالیسی واضح ہے،ہم اپنی سرزمین پر قبضہ ختم کرنا چاہتے تھے تمام پڑوسی ممالک اور دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں کسی کے معاملات میں مداخلت کریں گے نہ کوئی ہمارے معاملات میں مداخلت کریں،افغان عوام مظلوم ہیں ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا جائے ،طالبان نے جو معافی دی ہے وہ سیاسی نہیں شرعی قانون ہے ،سابق افغان افسران کیلئے نامناسب الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے،

    سراج الدین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ ذمہ داری اور قیادت ہر کسی کا حق نہیں ،اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکامات کی روشنی میں اہل افراد کو سونپی جاتی ہے

    سراج الدین حقانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کی تصویر سامنے آئی ہے، تصویر میں سراج الدین حقانی کو پچھلی سائیڈ سے دکھایا گیا ہے، ابھی تک سراج الدین حقانی کے چہرے کی تصویر سامنے نہیں آ سکی ،باقی طالبان رہنماؤں کی تصاویر سامنے آ چکی ہیں

    قبل ازیں ز طالبان نے افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کر دیا ترجمان طالبان ذبیح اﷲ مجاہد نے نئی افغان حکومت اور کابینہ کا اعلان کرتے کہا کہ نئی اسلامی حکومت کے قائم مقام وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند ہوں گے۔ ملا عمر کے بیٹے عبدالغنی برادر قائم مقام نائب وزیراعظم‘ ملا امیر خان متقی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔ مولوی یعقوب مجاہد قائم مقام وزیر دفاع‘ قاری دین حنیف قائم مقام وزیر خزانہ‘ ملا عبدالحق وثیق این ڈی ایس کے سربراہ بنا دیئے گئے۔ قاری فصیح الدین افغانستان کے چیف آف آرمی سٹاف‘ سراج الدین حقانی قائم مقام وزیر داخلہ‘ ملا ہدایت اﷲ وزیر مالیات ہوں گے۔

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    افغانستان کی سالمیت، خود مختاری کا احترام کرتے ہیں،وزیر خارجہ

    افغانستان میں طالبان کی حکومت،پاکستان توجہ کا مرکز بن گیا، آج بھی اہم شخصیت آ رہی ہے پاکستان

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے

    افغانستان کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے ملک میں استحکام ضروری ہے،سہیل شاہین

  • نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

    نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

    نور مقدم قتل کیس،پولیس نے نامکمل عبوری چالان عدالت میں پیش کردیا

    ایف آئی اے سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون کےحوالے سے رپورٹ پر ضمنی چالان داخل ہو گا ،چالان کے مطابق ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کا اعترافی بیان دیا، ڈی این اے رپورٹ سے زیادتی ثابت ہو گئی ملزم ظاہر جعفر کے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے اعترافی بیان کو بھی چالان کا حصہ بنایا گیا ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کر کے سر دھڑ سے الگ کرنے کا بیان دیا ملزم نے انکشاف کیا کہ نور مقدم نے شادی سے انکار کیا تو اسے زبردستی کمرے میں بند کر دیا،ملزم نے نور مقدم کو قتل کر کے اس کا موبائل دوسرے کمرے میں چھپا دیا، نور مقدم کا موبائل ملزم کی نشاندہی پر اسی کے گھر کی الماری سے برآمد کیا، ملزم نے والد کو قتل کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں،

    چالان کے مطابق ملزم کےوالد نے کہا ہمارے بندے آ رہے ہیں جو لاش ٹھکانے لگادیں گے، اگر ذاکر جعفر بروقت پولیس کو اطلاع دیتا تو نور مقدم کا قتل بچ سکتا تھا،ملزم کے والد نے وقوعہ میں بیٹے کی مدد کی ہے ملزم نے کہا تھراپی ورکس کے امجد محمود کے ساتھ غلط فہمی میں جھگڑا ہوا، تھراپی ورکس ملازمین نے شہادت ضائع کرنے کی کوشش کی ، تھراپی ورک کے زخمی ملازم نے وقوعہ کا اندراج بھی نہیں کرایامیڈیکل سلپ میں روڈ ایکسیڈنٹ درج کرایا،ڈی وی آر میں محفوظ شدہ تصاویر اور فنگر پرنٹس بھی ملزم کے ہی ہیں،نور مقدم واش روم سے چھلانگ لگا کر بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئی تو چوکیدار نے سہولت نہیں دی مالی نے بھی نور مقدم کے لیے گیٹ نہیں کھولنے دیا ،ملزم نے 19 جولائی کو امریکا کی فلائٹ بک کرا کھی تھی لیکن سفر نہیں کیا ،کیس میں 12ملزمان کے خلاف شہادت و ثبوت ہیں ان کی حد تک چالان جمع کرایا گیا ،

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

    نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    نورمقدم کیس، فارنزک رپورٹ آگئی. وحشی درندہ قتل سے پہلے دو دن نور سے کیا کرتا رہا. دل دہلا دینے والے انکشافات.

    نور مقدم قتل کیس میں نیا موڑ، والدین نے درندے کو بچانے کی کیسے کوشش کی؟

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں مزید توسیع

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم کیس،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی پر نوٹسز جاری

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

  • شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:1 دہشت گرد ہلاک 6 گرفتار

    شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:1 دہشت گرد ہلاک 6 گرفتار

    راولپنڈی : شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:1 دہشت گرد ہلاک 6ہلاک ،اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پردہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کیا ہے

    پاک فوج کے ترجمان ادارے کی طرف سے اس حوالے سے بتایا گیا ہےکہ شمالی وزیرستان کے ضلع میر علی ، حسو خیل میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آئی بی او کیا۔ دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 1 دہشت گرد ہلاک اور 6 دہشت گرد پکڑے گئے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کورڈن اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

    یاد رہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے جوانوں کا آپریشن جاری ہے اوراس حوالے سے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہےکہ پاک وطن سے آخری دہشت گرد کے ‌خاتمے تک مشن جاری رہے گا

  • افغان طالبان نے11ستمبر کوکابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی: روسی میڈیا کادعویٰ

    افغان طالبان نے11ستمبر کوکابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی: روسی میڈیا کادعویٰ

    ماسکو:افغان طالبان نے11ستمبر کوکابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی: روسی میڈیا کادعویٰ ،اطلاعات کے مطابق روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے 11 ستمبر کو افغانستان کی عبوری کابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی۔

    گزشتہ دنوں طالبان نے افغانستان کی عبوری حکومت کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق ملا محمد حسن اخوند افغانستان کے عبوری وزیراعظم ہوں گے جب کہ ملا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی نائب وزرائے اعظم ہوں گے۔

    ان کے علاوہ بھی طالبان کی جانب سے وزرا اور اداروں کے سربراہان کی فہرست جاری کی گئی تھی۔اس کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ نئی افغان حکومت نائن الیون کے 20 سال مکمل ہونے کے روز حلف اٹھائے گی۔

    تاہم اب روسی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے 11 ستمبر کو عبوری کابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی ہے۔

    دوسری جانب طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں 11 ستمبر کو تقریب حلف برداری کی خبر کو افواہ قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کابینہ کا اعلان منسوخ کیا گیا تھا اور پھر بعدازاں قیادت کی منظوری کے بعد نئی کابینہ کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔

    انعام اللہ سمنگائی کا کہنا تھا کہ کابینہ نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور 11 ستمبر کو تقریب حلف برداری کی خبریں درست نہیں۔

    یاد رہےکہ آج پاکستان کے سابق وزیرداخلہ سینیٹررحمان ملک بھی ان خدشات کااظہارکرچکے ہیں کہ امریکا افغان طالبان کی حلف برداری کی تقریب پرحملہ کرکے طالبان لیڈروں کا مارسکتا ہے ،

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے شاید یہی وہ وجوہات ہوسکتی ہیں جن کی بنا پریہ تقریب ملتوی کی گئی ہے

  • انتخابی اصلاحات مسترد :الیکشن کمیشن اوراپوزیشن اتحاد جیت گیا:حکومت ہارگئی

    انتخابی اصلاحات مسترد :الیکشن کمیشن اوراپوزیشن اتحاد جیت گیا:حکومت ہارگئی

    اسلام آباد:انتخابی اصلاحات مسترد :الیکشن کمیشن اوراپوزیشن اتحاد:حکومتی اراکین کوواک آؤٹ کرنا پڑگیا ،اطلاعات کے مطابق انتخابی اصلاحات، حکومت اور اپوزیشن میں ٹھن گئی۔ انتخابی ا صلاحات سے متعلق ترامیمی بلز مسترد کر دیئے گئے،

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن اعتراضات پر جواب د ینے کی اجازت نہ ملنے پر حکومتی اراکین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس سے واک آوٹ کر دیا۔

    چیئرمین تاج حیدر کی صدارت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس ہوا، حکومتی اور الیکشن کمیشن اراکین نے کمیٹی اجلاس سے واک آوٹ کر دیا، اپوزیشن کی یکطرفہ ووٹنگ، انتخابی اصلاحات سے متعلق ترامیمی بلز مسترد کر دیئے۔

    مشیرپارلیمانی امورڈاکٹر بابراعوان کو الیکشن کمیشن کے اعتراضات پر جواب اور ثمینہ ممتاز کو آن لائن وو ٹنگ کا حق نہ ملنے پر حکومت نے کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اپوزیشن ارکان نے یکطرفہ ووٹنگ کرکے چھ ووٹ بلز کی مخالفت میں دئیے۔

    الیکٹرانک ووٹنگ ،سینیٹ الیکشن اوپن کرانے ،بیرون ملک پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے اور ساٹھ روز میں حلف نہ اٹھانے پر سیٹ خالی ہونے سے متعلق ترامیمی بلز مسترد کردیئے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں، پتہ نہیں کیسے الیکٹرانک مشین سے متعلق 37 اعتراضات عائد کردیئے، جواب دینا ہوگا الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کی طرف کیوں نہیں جانا چاہتا۔

    ادھر وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک سیاسی جماعت بن گیا ہے جس کے رویے کی وجہ سے قوم کی خواہشات کے باوجود انتخابی اصلاحات میں ترامیم رکی ہوئی ہیں‌

  • پاکستان کی لاٹری نکل آئی، سی آئی سے کے ڈائریکٹر پاکستان کیا لینے آئے؟

    پاکستان کی لاٹری نکل آئی، سی آئی سے کے ڈائریکٹر پاکستان کیا لینے آئے؟

    پاکستان کی لاٹری نکل آئی، سی آئی سے کے ڈائریکٹر پاکستان کیا لینے آئے؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت جہاں افغانستان پوری دنیا کا مرکز بنا ہوا ہے وہیں پاکستان میں پوری دنیا کی اہم شخصیات اور وزرائے خارجہ کی آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں۔اورپورے خطے کی صورتحال بہت ہی دلچسپ موڑ پر ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ ایک سنسنی خیز فلم سے کم نہیں۔ جہاں ہر لمحہ فلم ایک نیا موڑ لے لیتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ان دوروں کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟ اور اس وقت امریکہ کیسے پاکستان کو استعمال کر کے اپنی عزت بچانا چاہتا ہے؟ اور اب کون سے ممالک مستقبل میں ایک دوسرے کے قریب آنے والے ہیں؟ پاکستان کی کایا کیسے پلٹی اور کیسے وہ ممالک جو پاکستان کو منہ نہیں لگا رہے تھے اب پاکستان کا شکریہ ادا کرتے نظر آرہے ہیں اور مستقبل میں سفارتی محاز پر پاکستان کے حالات کیا ہونے والے ہیں؟ پاکستان میں اس وقت جس اہم شخصیت کے دورے کا چرچہ ہے وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹرWilliam Joseph Burnsکا دورہ ہے۔اس دورے کا مقصد کیا ہے۔ کیوں بار بار CIA کے چیف پاکستان کے چکر لگا رہے ہیں۔؟ اس دورے میں ان کی ملاقات چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ان کی ایک بہت ہی اہم ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔اور یہ ملاقات صرف اور صرف افغانستان کی موجودہ صورتحال سے متعلق تھی۔ اور جو لوگ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے کرداد کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کرتے تھے وہ یہ جان لیں کہ سی آئی اے کے سربراہ نے پاکستان کے افغانستان میں کردار اور انخلا کے اقدامات کو بہت سراہا۔اور سرہاتے بھی کیوں نہ انہیں پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہے انہی کی ایجنسی ماضی میں پاکستان پر ڈبل گیم کے الزامات لگاتی رہی ہے۔ انہیں اتنا تو پتا ہو گا کہ پاکستان اب افغانستان کے معاملات میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اور ساتھ ہی امریکی چیف انٹیلی جنس افسر نے ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے صدر ابھی تک پاکستان سے خفا ہیں۔اور یہاں پر میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ یہ سی آئی کے سربراہ کا پہلا دورہ پاکستان نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے جسے New york Timesنے خود رپورٹ کیا تھا۔ لیکن اس دورے کے باوجود بھی پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور پاکستانی حکام نے یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان سی آئی اے کے ڈرون حملوں کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اور اگر دے گا تو اس سے کیے جانے والے آپریشنز کی اجازت بھی پاکستان ہی دے گا کہ وہ پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اور طالبان پر حملے کی اجازت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ موقف تھا جو شاید کوئی بھی امید نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اس کا فائدہ آج ہمیں نظر آ رہا ہے۔ کہ اب امریکہ اپنی عزت بچانے کے لئے ایک بار پھر پاکستان کا سہارا لینا چاہتا ہے۔جس کی ایک تو صاف صاف وجہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے جن لوگوں کو چھوڑ کر چلا گیا انہیں افغانستان سے ایک محفوظ طریقے سے باہر نکالنا ہے۔ افغانستان میں اس وقت جو ایمبیسی Fully functionalہے وہ پاکستان کی ہے اس لئے اب غیر ملکیوں کے پاس یہی آپشن ہے کہ وہ پاکستانی ایمبسی سے رابطہ کریں پاکستان کا ویزا لگوا کر پہلے پاکستان آئیں اور اس کے بعد یہاں سے وہ اپنے ملک واپس جائیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ صرف امریکہ ہی نہیں تمام مغربی ممالک کے لئے ایک دم سے پاکستان بہت اہم ہو گیا ہے۔ابھی چند روز پہلے برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے تھے۔ اس سے پہلے نیدر لینڈ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی اگست میں افغان حکومت گرنے کے بعد پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ اور نیدرلینڈ کے کسی بھی وزیر خارجہ کا یہ پندرہ سال میں پہلا دورہ تھا۔ویسے تو یہ بہت سادہ سی بات لگتی ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی پاکستان آئیں اور یہاں سے اپنے ملک چلے جائیں اور یہ کام پہلے ہی ہو بھی رہا ہے اور اس عمل کے زریعے پاکستان نے اب تک افغانستان سمیت چوبیس ممالک کے دس ہزار سے زائد شہریوں، جن میں بین الاقوامی اداروں کے ملازمین اور میڈیا ورکرز بھی شامل ہیں، ان کے انخلا میں معاونت کر چکا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کا کیمپ نہیں بننا چاہتا کیونکہ پاکستان میں پہلے کئی لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ ویسے بھی وہ افغان جن کے پاس اسپیشل انٹرسٹ ویزا ہے یا جنھوں نے افغانستان میں اتحادی افواج کے ساتھ کام کیا، وہ انھی ممالک کی ذمہ داری ہیں اس لئے ان افغان شہریوں کو مغربی ممالک منتقل کیا جانا چاہیے نہ کہ پاکستان میں۔ اس لئے مختلف ممالک کے حکام پاکستان کے دورے کرکے اور رابطے بڑھا کر پاکستان کو اپنی بات منوانے کے لئے راضی کرنا چاہتے ہیں۔ اور پاکستان ان سے کہہ رہا ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے وہ قیمت ادا کرو اور اپنا کام کروا لو۔۔ کسی کو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے نکلوایا جائے، کسی کو FATF سے نکالنے میں مدد کی یقین دہانی لی جا رہی ہے۔ تو کسی سے IMFکو فنڈ ریلیز کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔پاکستان سے پہلے امریکی سی آئی اے کے سربراہ William johns burnsنے بھارت کا بھی دورہ کیا ہے۔ دراصل امریکا بھارت سے یہ چاہتا ہے کہ بھارت چند ہزار افغان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں پناہ دے کرامریکہ کا بوجھ کم کرنے میں مدد کرے کیونکہ تمام افغانوں کو امریکا منتقل کرنا آسان نہیں ہے اور پاکستان پہلے ہی امریکہ کو جواب دے چکا ہے۔ ویسے بھی بھارت کی افغانستان میں کی گئی اتنے سالوں کی Investmentجس طرح سے ڈوبی ہے وہ امریکہ کے لئے اب اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ بلکہ وہ خود اپنے لئے بھی روس کی شکل میں نئے اتحادی ڈھونڈ رہا ہے تاکہ خطے میں اپنی پوزیشن کو بہتر کیا جا سکے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس بات کا ایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ روسی مشیر قومی سلامتی Nikolai Platonovich کی نئی دہلی میں اجیت دیول کیساتھ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سربراہ نے بھی بھارت کا دورہ کیا تھا۔روسی مشیر قومی سلامتی کے دورے کے 2 مقاصد ہیں ایک تو شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے مشاورت اور دوسرا افغانستان کے حوالے سے بات چیت کیونکہ بھارت کو بھی نظرآرہا ہے کہ اب امریکہ وہ سپر پاور نہیں رہا جو پہلے تھا اس لئے وہ اب روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
    روس میں بھارتی سفیر ڈی بی ورما بھی کہہ چکا ہے کہ طالبان کیساتھ دوحہ بات چیت کے خاطر خواہ نتائج نہیں ملے ۔ اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ بھارت اور روس افغانستان کے حوالے سے مل کر کام کریں۔کیونکہ اگر طالبان کیساتھ تعلقات قائم نہ ہو سکے تو بھارت کو مستقبل میں بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے پاکستان اس لئے بھی بہت اہم ہو گیا ہے کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کابل میں ایک جامع حکومت لانے کے لیے اہم کردار ادا کرے کیونکہ طالبان کی طرف سے جس عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا ہے اس میں گروپ کے پرانے سپاہی ہی غالب ہیں۔اور امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ Antony Blinkunکہہ چکے ہیں کہ امریکہ وعدے اور فرائض پورے کرنے پر طالبان حکومت کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ورنہ ایسا نہیں ہوگا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی آئندہ حکومت بنیادی انسانی حقوق برقرار رکھے گی تو یہ وہ حکومت ہوگی جس کے ساتھ ہم کام کرسکتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔لیکن یہاں پر میں آپ کو بتاوں کہ امریکہ ابھی بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے اس کو افغانستان کے ہمسائے میں کوئی نہ کوئی ایسا ملک چاہیے ہے کہ جہاں سے وہ افغانستان اور اس خطے پر نظر رکھ سکے۔ کیونکہ وہ چین کو اپنے لئے ایک بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔موجودہ صورتحال میں بال کافی حد تک پاکستان کے کورٹ میں ہے جیسا کہ شیخ رشید نے بھی کچھ دن پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس وقت کوئی بھی سپر پاور خطے میں پاکستان کو بائی پاس نہیں کر سکتی۔ اس لئے اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اپنے مفادات کا تحفظ کیسے کرسکتے ہیں تاکہ کوئی بھی ملک اس بار بھی ماضی والا طریقہ کار نہ اختیار کرسکے کہ جب پاکستان کی ضرورت ہے تو تعلق بہتر کر لیا جائے اور جب اپنا مفاد پورا ہوجائے تو نظریں پھیر لی جائیں۔ ہم خود دیکھ چکے ہیں کہ جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا تو کوئی ملک اس جنگ میں ہمارا مضبوط اتحادی ثابت نہیں ہوا تھا۔اس لئے ہمیں دیکھنا ہے کہ جو اعلان اور وعدے کیے جا رہے ہیں کیا یہ ممالک ان پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں ان کی ضرورت، مفاد اور حکمت عملی پر نظر رکھ کر آنے والے دنوں میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ پاکستان کہ پاس یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ خود پر سے پابندیاں ہٹوا سکے، ایف اے ٹی ایف سے خود کو گرے لسٹ سے نکلوا سکے، مسئلہ کشمیر کا حل ہو سکے یا سفارتی مدد مل سکے، معاشی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے ایک اہم مقام حاصل کیا جا سکے۔ای وقت تھا جب امریکی Intelligence agency کے کئی کئی سو لوگ افغانستا ن میں موجودف تھے لیکن امریکی انخلا کے بعد اب وہاں اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت CIAچاہتی ہے کہ پاکستان Counter terrorism کے معاملات میں امریکہ سے مدد کرے اور اس کی اس Deficiency کو کسی نہ کسی طریقے سے پورا کرے۔ ایک طرف امریکہ پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف اس کے صدر بائیڈن پاکستان کو اکڑ دیکھا رہے ہیں دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن پاکستان اس دفعہ ان حالات کو پاکستان کی خوشحالی، امن ا مان اوراپنی Reputation بہتر کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔