Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • لوگ باہر بیٹھے تقاریر کرتے پیسہ بنانے کی ایک رسید  بھی پیش نہیں کرسکتے،عمران خان

    لوگ باہر بیٹھے تقاریر کرتے پیسہ بنانے کی ایک رسید بھی پیش نہیں کرسکتے،عمران خان

    لوگ باہر بیٹھے تقاریر کرتے پیسہ بنانے کی ایک رسید بھی پیش نہیں کرسکتے،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے،وزیراعظم عمران خان نے کسان کارڈ تقسیم کر دیئے وزیراعظم نے زرعی یونیورسٹی کا افتتاح بھی کر دیا وزیراعظم نے کمانڈ ایریا پراجیکٹ کے حوالے سے زرعی آلات, موٹر سائیکل اور دیگر آلات تقسیم کر دیئے گئے اس موقع پر وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان اور گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان سمیت وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور, وائس چانسلر گومل یونیورسٹی/زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مسرور الہی بابر, صوبائی وزیر زراعت ,چیف سیکرٹری, آئی جی پی و دیگر بھی ہمراہ ہیں

    وزیراعظم عمران خان نے ڈیرہ اسماعیل میں کسان کارڈ اجرا اور ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں بڑا انقلاب آیا تھا ،ن لوگوں میں نہیں جو مذہب کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں قرآن مجید انسانی فلاح اور بہبود کے لیے ہے مدینہ کی ریاست میرے ایما ن کا حصہ ہے دین کی پیروی نہ کرنے کی وجہ ہمارے ابترحالات ہیں بڑا مافیا کہتا ہے ہمیں این آراو دو،پاکستان کے یہ مافیاز قانون کی بالادستی کے خواہاں نہیں ،ہمیں عظیم قوم بننے کے لیے مضبوط کردار کی ضرورت ہے،مافیا تویہاں کرپٹ نظام سے فائدہ لے رہا ہے ،کچھ اربوں روپے کی جائیداد میں باہر بیٹھے ہوئے ہیں یہ لوگ باہر بیٹھے تقاریرتو کرتے ہیں لیکن پیسہ بنانے کی ایک رسید بھی پیش نہیں کرسکتے،ملک میں گندم کی پیداوار میں اس باراضافہ ہوا،ملکی آبادی کی وجہ ہمیں گندم منگوانی پڑی جو بھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، پیسے مانگتا ہے دنیا اس کی عزت نہیں کرتی بنیادی تعلیم کی فراہمی سے آباد ی کوکنٹرول کیا جا سکتا ہے ،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے وقت ملک کی آباد ی کم اورآ ج بڑھ گئی ہے،قیام پاکستان کے وقت ملک کی آباد ی 4کروڑ تھی ماضی کے حکمرانوں نے ملکی نظام کو مضبوط نہیں ہونے دیا یں تاریخ کا طالب علم ہوں ،دنیا کی تاریخ پڑھی ہے۔پھر اپنی تاریخ تفصیل کے اندر پڑھی ہے دنیامیں قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی مہنگائی ہوئی،تیزی سےبڑھتی آبادی کوروکنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے،50سال بعد پاکستان میں ڈیم بن رہے ہیں ،ہمیں پانی کو محفوظ بنانا ہوگا،آنے والے وقتوں میں پانی کے مسائل پیدا ہوں گے

    @MumtaazAwan

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت جمع، کون کونسی بیماریاں؟ تشویشناک خبر

    نوازشریف کی صحتیابی کی تصویر پر لوگوں کو تکلیف ہوئی،رانا ثناء اللہ

    لندن میں جو نوازشریف کا علاج کر رہا ہے وہ ایک بھارتی ڈاکٹر ہے۔ عمران خان اینکر پرسن

    نواز شریف اخلاقی جواز کھو بیٹھے، انقلاب کا بینڈ باجا پھر بجنا شروع

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    نواز شریف ہوٹل کیوں گئے تھے؟ حسین نواز نے ایسا انکشاف کہ ن لیگی رہنما دنگ رہ گئے

  • خواتین کو وراثت کا حق، سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ دے دیا

    خواتین کو وراثت کا حق، سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ دے دیا

    سپریم کورٹ کا خواتین کی وراثت کے حوالے سے فیصلہ سامنے آ گیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ خواتین کو وراثت میں حق اپنی زندگی میں ہی لینا ہوگا، خواتین زندگی میں اپنے حق نہ لیں تو انکی اولاد دعویٰ نہیں کر سکتی، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون وراثت میں خواتین کے حق کو تحفظ فراہم کرتا ہے دیکھنا ہوگا خواتین خود اپنے حق سے دستبردار ہوں یا دعویٰ نہ کریں تو کیا ہوگا، سپریم کورٹ نے پشاور کی رہائشی خواتین کے بچوں کا نانا کی جائیداد میں حق دعویٰ مسترد کر دیا

    عیسیٰ خان نے 1935 میں اپنی جائیداد بیٹے عبدالرحمان کو منتقل کر دی تھی عیسٰی خان نے دونوں بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا تھا،وراثت نامہ چیلنج نہیں کیا گیا دونوں خواتین کے بچوں نے 2004 میں نانا کی وراثت میں حق دعوی دائر کیا تھا سول کورٹ نے بچوں کے حق میں فیصلہ دیا تھا تا ہم پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے بھی پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    سن لیں، یہ کام کرنیوالوں کو معاف نہیں کیا جائے گا،علامہ طاہر اشرفی کا دبنگ اعلان

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    قبل ازیں خواتین کو وراثت میں حق نہ دینے والوں کےخلاف سخت کاروائی کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے، قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے.قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہ دینے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اگر خواتین کو جائیداد میں سے اپنا حق لینے کےلئے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، خواتین کو حق وراثت سے محروم رکھا اسلامی اصولوں کے بھی خلاف ہے. قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خواتین کو وارثت میں حق نہ دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، حکومت محکمہ مال کے افسران کوخواتین کو ان کا حق دینے کا پابند کریں، محکمہ مال ، ریونیو اور ایل ڈے کے جو افسران خواتین کو حق ورراثت سے محروم کرنے کی کوشش کریں ان کےخلاف بھی کاروائی کی جائے.

    @MumtaazAwan

    رنگ گورا کرنے کیلئے کاسمیٹکس کا استعمال کیسا ہے؟ زرتاج گل نے کیا اہم انکشاف

    اسلام آباد میں پہلی دفعہ یہ "کام” ہو رہا ہے، زرتاج گل نے یہ کیا کہہ دیا؟

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

  • نوازشریف کی ویکسی نیشن کا اندراج حکومتی نظام پر سوالیہ نشان،مریم نواز

    نوازشریف کی ویکسی نیشن کا اندراج حکومتی نظام پر سوالیہ نشان،مریم نواز

    نوازشریف کی ویکسی نیشن کا اندراج حکومتی نظام پر سوالیہ نشان،مریم نواز
    سابق وزیراعظم نواز شریف کی ویکسی نیشن کا جعلی اندراج کردیا گیا

    نواز شریف کے شناختی کارڈ پر ویکسین کا جعلی اندراج ہوا، سابق وزیراعظم کے شناختی کارڈ پر جعلی اندراج نادرا کے پورٹل پر اپ لوڈ بھی ہوگیا نواز شریف کے شناختی کارڈ پر گزشتہ روز ویکسی نیشن کا اندراج کیا گیا اندراج میں نوازشریف کو سائنوویک کی پہلی خوراک لگائی گئی نواز شریف کے شناختی کارڈ کا اندراج لاہور کے کوٹ خواجہ سعید ویکسی نیشن سینٹر میں ہوا، ترجمان محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی ویکسی نیشن معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں،جعلی انٹری کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کس شفٹ میں فیک انٹری کی گئی، تصدیق کی جا رہی ہے

    @MumtaazAwan
    نواز شریف لندن میں ہیں ،علاج کے لئے گئے تھے واپس نہیں آئے، نواز شریف کو کرونا ویکسین لگنے کے حوالہ سے اندراج پر این سی او سی پر بھی سوالیہ نشان بنتا ہے کہ کیسے اور کیوں جعلی اندراج کیا گیا؟ اگرچہ محکمہ صحت نے انکوائری کا آغاز کر دیا ہے

    دوسری جانب ترجمان ن لیگ پنجاب عظمی بخاری نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس حکومت کا روز ایک نیا لطیفہ سامنے آرہا ہے آج کا لطیفہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف لاہور کے کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں ویکسین لگادی گئی ہے مزے کی بات یہ ہے کہ این سی او سی کے ریکارڈ میں اس کو اپ لوڈ بھی کردیا ہے اس سے بڑی ناکامی اور نا اہلی اور کیا ہوسکتی ہے جہاں میاں صاحب کا شناختی کارڈ پہلے ہی بلاک ہے اس پر انٹری کیسے ہوگئی ،

    پنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے شناختی کارڈ پر ویکسی نیشن کے جعلی اندراج سے متعلق معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ نوازشریف کا شناختی کارڈ کس نے استعمال کیا اس پر تحقیقات جاری ہیں نوازشریف ، مریم نواز اور خاندان کے فراڈ کے چرچے بھارت تک ہیں، جس نے بھی بڑے فراڈیئے کا شناختی کارڈ استعمال کیا ہے اس کو سزا ملے گی

    دوسری جانب نواز شریف کی ویکسین کی انٹری کرنے پر ڈیوٹی پرموجود2 اہلکارمعطل کر دیئے گئے، ایم ایس کوٹ خواجہ سعید اسپتال کے مطابق تحقیقات کے بعد دونوں کو معطل کیا گیا ،ڈیوٹی پر موجود نرس یا پیرا میڈکس ا سٹاف انٹری کرتا ہے،عملے کے ملوث ہوئے بغیر انٹری نہیں ہوسکتی،

    مسلم لیگ ن کی رہنما، مریم نواز نے بھی اسلام آباد میں عدالت پیشی کے موقع پر نواز شریف کو ویکسین لگوائے جانے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی ویکسی نیشن سے متعلق خبر مضحکہ خیز ہے،نوازشریف کی ویکسی نیشن کا اندراج حکومتی نظام پر سوالیہ نشان ہے،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے لئے لندن گئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے ,نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ماضی میں میاں نواز شریف کی صحت بارے مسلسل آگاہ کرتے اب ان کے ٹوئٹر پر شاعری،احادیث یا کورونا وائرس بارے معلومات ہی ملتی ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے پارٹی رہنما ،کارکنان اور قوم پریشان مگر تمام ذرائع خاموش ہیں. نواز شریف جلسوں سے خطاب کرتے نظر آتے ہیں اور ساتھ ریسٹورینٹ میں بھی نظر آتے ہیں لیکن ہسپتال میں گئے ایک دن بھی نظر نہیں آئے

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت جمع، کون کونسی بیماریاں؟ تشویشناک خبر

    نوازشریف کی صحتیابی کی تصویر پر لوگوں کو تکلیف ہوئی،رانا ثناء اللہ

    لندن میں جو نوازشریف کا علاج کر رہا ہے وہ ایک بھارتی ڈاکٹر ہے۔ عمران خان اینکر پرسن

    نواز شریف اخلاقی جواز کھو بیٹھے، انقلاب کا بینڈ باجا پھر بجنا شروع

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    نواز شریف ہوٹل کیوں گئے تھے؟ حسین نواز نے ایسا انکشاف کہ ن لیگی رہنما دنگ رہ گئے

  • نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ

    نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ

    نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، دوران سماعت وکیل شاہ خاور نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے تحت نور مقدم کیس کا ٹرائل سپیشل کورٹ میں ہونا چاہئے جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کی مدت اب ختم ہو چکی ہے لگتا ہے آپ ٹرائل میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ میرا قطعاً مقصد کیس کو تاخیر کا شکار کرنا نہیں ہے ہم نے کیس میں غیر ضروری گواہوں کو شامل نہیں کیاملزم ظاہر جعفر واقعے کے روز اپنے والدین سے مسلسل رابطے میں تھا والدین ملزم سے رابطے میں تھے جرم سے ان کا تعلق ہے انتہائی بہیمانہ قتل تھا اس میں ضمانت نہ دی جائے ۔

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ تھراپی ورکس والوں اور درخواست گزاروں کا آپ میں کیا تعلق ہے جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ ظاہر جعفر کی والدہ تھراپی ورکس والوں کیلئے بطور کنسلٹنٹ کام کرتی رہی ہیں

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی نامکمل عبوری چالان عدالت میں پیش کیا گیا،اس ا سٹیج پر کوئی بھی بات اور شواہد کہیں ثابت شدہ نہیں ہیں، اُن شواہد پر ضمانت کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،

    نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت لوئر کورٹ مسترد کر چکی ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے طور پر دائر کیا گیا ہے
    @MumtaazAwan

    دوسری جانب بدنام زمانہ قاتل ظاہر جعفر کے گھر کے مالی جان محمد اور خانساماں جمیل کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کو مسترد کردیا تھا

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم کیس،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی پر نوٹسز جاری

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

    نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    ایف آئی آر میں ظاہر جعفر کے والدین کا کوئی ذکر نہیں،ملزم کیسے بن گئے، وکیل کے عدالت میں دلائل

    قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    نورمقدم کیس، ایڈووکیٹ جنرل کو کہیں کہ وہ خود آ کر دلائل دیں، عدالت کے ریمارکس

  • کشمیری  اور پاکستانی کمیونٹی کا اقوام متحدہ کے سامنے تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان

    کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کا اقوام متحدہ کے سامنے تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان

    کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے اقوام متحدہ کے سامنے تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اس موقع پر کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے اقوام متحدہ کے سامنے تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے-

    مہنگائی ،بے روز گاری جماعت اسلامی کی 24 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال

    ذرائع کے مطابق نریندر مودی کے خلاف احتجاج اس وقت کیا جائے گا جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہوں گے۔

    احتجاجی مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مودی کی تقریر کے دوران مظاہرے کے لیے اقوام متحدہ کے سامنے سیکنڈ اسٹریٹ پر جگہ مختص کروالی گئی ہے جبکہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بھی مظاہرے میں حصہ شریک ہو گی۔

    بی فار یو کمپنی فراڈ:سیف الرحمان کی ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نےگرفتار کر لیا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کا اعلان پاکستانی امریکن کمیونٹی نیویارک کی معروف سماجی شخصیت تنویر چوہدری کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں کیا گیا جس میں کشمیری، پاکستانی، بنگلہ دیشی سمیت دیگر کمیونٹیز کے مقامی قائدین و ارکان کی بڑی تعداد شریک تھی۔

    اجلاس میں پاکستانی اور کشمیری امریکن کمیونٹی کی مختلف اہم سیاسی ، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 70سے زائد قائدین اور ارکا نے شرکت کی تھی۔

    اجلاس میں نہ صرف اقوام متحدہ کے سامنے بڑے احتجاجی مظاہرے کے انعقاد پر متفقہ فیصلہ کیا گیا بلکہ مظاہرے کو کامیاب بنانے کے لیے موقع پر ہی فنڈ ریزنگ بھی شروع کر دی گئی اور تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مظاہرے میں مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے غاصبانہ فیصلے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بھاری ریاستی فورسز کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے گی اور کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

  • قومی ٹیم کی وزیراعظم سےملاقات:اللہ کانام لیکربےخوف ہو    کرکھیلیں:عمران خان کی کھلاڑیوں کووعظ ونصیحت

    قومی ٹیم کی وزیراعظم سےملاقات:اللہ کانام لیکربےخوف ہو کرکھیلیں:عمران خان کی کھلاڑیوں کووعظ ونصیحت

    اسلام آباد:وزیراعظم سےٹی20سکواڈ کی ملاقات:اللہ کا نام لیکربےخوف ہوکرکھیلیں:عمران خان کی قومی کھلاڑیوں کووعظ ونصیحت ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ورلڈکپ سکواڈ میں قومی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کھلاڑیوں کو بے خوف ہو کر کھیلنے کا مشورہ دیدیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزراعظم عمران خان سے ٹی 20 ورلڈکپ سکواڈ میں شامل قومی کھلاڑیوں نے ملاقات کی، ملاقات میں موجودہ کرکٹ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران چیئر مین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجہ نے بھی شرکت کی۔

    ملاقات کرنے والوں میں بابر اعظم، شاداب خان، آصف علی، اعظم خان، حارث رؤف، حسن علی، عماد وسیم، خوشدل شاہ، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، محمد وسیم، شاہین شاہ آفریدی، صہیب مقصود شامل ہیں۔

    ملاقات سے قبل جب قومی کھلاڑی وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو کھلاڑیوں نے سفید قمیض شلوار اور گہرے نیلے رنگ کی ویسٹ کوٹ زیب تن کر رکھی تھی۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان میں ڈومیسٹک سسٹم سمیت کرکٹ کے امور پر بات چیت ہوئی۔

    وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران کھلاڑیوں کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے متعلق ٹپس دیں اور کھلاڑیوں کو بے خوف ہوکر ورلڈ کپ کھیلنے کا مشورہ دیا۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپنے رب پربھروسہ کرکے اس کے نام کے ساتھ کھیلیں ، اللہ آپ کوعزتیں بھی دیں اور خوشیاں بھی عطا فرمائیں گے ،ملک وقوم کی عزت بھی اسی میں ہے

    وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ انگلینڈ کے دورہ منسوخی کا بہترین پرفارمنس سے جواب دیں، پاکستان کھیلوں کےلئے محفوظ ملک ہے، آپ اپنی پرفارمنس بہتر بنانے پر فوکس کریں، انشاء اللہ جلد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ہوگی۔

  • مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تعاون ناگزیرہے: آرمی چیف

    مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تعاون ناگزیرہے: آرمی چیف

    راولپنڈی:مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تعاون ناگزیرہے:،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہترین تعاون، انضمام اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے جدید ترین سنٹر آف انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس بیٹل مینجمنٹ افتتاح کر دیا، کمانڈر آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان نے بریفنگ دی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو ایئر ڈیفنس جنگی انتظام کے طریقہ کار، مرکز کی کارکردگی کے بارے میں بتایا گیا، پاک آرمی ایئر ڈیفنس جدید ترین، انتہائی درست اور مہلک ہتھیاروں سے لیس ہے۔ جدید مرکز، ائیر ڈیفنس جنگ میں اعلی کمان سے انفرادی سطح پر بہترین ہم آہنگی کو تقویت دے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مرکز ہتھیاروں کے نظام کے مابین مطابقت پذیری، موثر اور مربوط ماحول فراہم کرے گا، مرکز میں موجود سیمولیٹر کمپلیکس متحرک منظرناموں کو پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار نے آپریشنل تیاری پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مرکز، ایئر ڈیفنس جنگ کی تازہ ترین پیچیدگیوں، چیلنجز کے مطابق تشکیل اور تیاری میں معاون ہے، پاک فوج کے ایئر ڈیفنس نے گزشتہ سالوں میں غیر معمولی ترقی کی، پاک فوج کا ایئر ڈیفنس نظام ملکی فضائی سرحدوں کے ہمہ وقت تحفظ کے لیے تیار ہے، ایئر ڈیفنس، دشمن کی کسی بھی مہم جوئی سے نمٹنے کے لیے مہلک نظام ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگی پیچیدگیوں، چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہترین تعاون، انضمام اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

  • بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری

    بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری

    بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ وجدل اور خانہ جنگی کیوں بھارت اور امریکہ کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان برے طریقے سے پھنسا ہوا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو پاکستان، چین، روس اور ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔ جبکہ مودی ا س سارتے کھیل میں سب سے گندا کرادار ادار کر رہا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور چین سے انتقام لینا ہے۔ اور افغانستان میں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر آکر طالبان کے گریبان پکڑیں ، ایساوہ کیسے کرے گا اور وہ کیوں خطے کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو بہت ہی دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔ آپ نے کوشش کرنی ہے کہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ تاکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی فتح کو لے کر پورے پاکستان میں جشن کی سی صورتحال تھی، وزیر اعظم سے لے کر مذہبی جماعتوں کے رہنماوں تک ہر طرف سے طالبان کے حق مین بیان آئے۔ ایسا لگا جیسے طالبان نہیں بلکہ پاکستان نے افغانستان میں اٹھائیس ممالک کی فوج اور بھارت کو امریکہ کی لازوال طاقت سمیت دفن کر دیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا پاکستان کے گرد دنیا نے گھیرا تنگ کر نا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی غلامی کی زنجیریں توڑنے والا بیان ہند سے لے کر مغرب تک زبان زد عام ہے۔ اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اب دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جو ہاتھی خریدا ہے اسے چارا کیسے ڈالے گا۔ ہاتھی خریدنا آسان لیکن پالنامشکل ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب اس ہاتھی کے پیچھے پوری دنیا لگی ہوئی ہو۔ اور پاکستان کو اس کا مالک سمجھ کر سارا نزلہ بھی اسی پر گرایا جا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب Defensive دیکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دنیا کا پریشر ہے تو دوسری طرف ہاتھی کے بدکنے کا ڈر۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ طالبان کو دنیا سے کیے وعدے پورے کرنے پڑیں گے، اور پاکستان کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں بین الاقوامی رائے اور اقدار کی جانب حساس ہونا ہوگا۔جبکہ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کانگریس میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو فوری طور پر طالبان کو تسلیم کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتا تھا جسے روس، چین اور پاکستان نے ایران کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت ابھی بھی پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تلا بیٹھا ہے۔اگر طالبان دنیا کی بات نہیں مانتے اورInclusive govt کے سارتھ ساتھ عورتوں کے حقوق پر تعاون نہیں کرتے تو صورتحال بہت گھمبیر ہو جائے گی۔ امریکہ کی اس وقت ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے کہ چین کا راستہ روکا جائے، چاہے انڈیا سے اتحاد ہو یا اسٹریلیا سے جوہری آبدوزوں کا معاہدہ امریکہ کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے چین کو اسے کے ہمسائے میں ہی مصروف رکھا جائے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جہاں چین کے خلاف امریکہ میں نفرت ہے وہیں پاکستان کے خلاف بھی غصہ دیکھائی دے رہا ہے اور پاکستان کو اس شکست کا ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، دنیا کی سپر پاور کس طرح یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ ایک عسکری گروپ کے ہاتھوں ذلیل ہو گی۔اور پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ طالبان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ازبک، تاجک اور ہزارہ کمیونٹی کو حکومت میں حصہ دیں۔ لیکن ایک سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک عسکری گروہ کو محفوظ پناہ گاہیں دی بھی گئی ہیں تو Thirld world country کے تکنیکی مشوروں کا امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے کاونٹر کرنا کتنا مشکل تھا۔ جبکہ امریکہ دو ٹریلین ڈالر افغانستان میں خرچ کر چکا تھا۔ اس وقت افغانستان میں عدم استحکام کئی عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور افغانستان میں 93% لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں تعمیراتی پراجیکٹس پر کام رکنے سے مزدور بے روز گار ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے خوراک کی امداد کی ضرورت ہے ، جسے تیزی سے حاصل کرنا ہو گا۔طالبان نے شاید ملک پر آہنی گرفت قائم کر لی ہے لیکن اس پیمانے پر بھوک مایوس کن غصے کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر یہ سڑکوں پر پھیل گئی تو افغانستان کے نئے حکمرانوں کی طرف سے بربریت کی بدترین شکلیں بھی اس پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔پناہ گزینوں کے ایک اور خروج کے حوالے سے پاکستان کو اس طرح کے کسی بھی دھچکے سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ جسے پاکستان خستہ معاشی حالات میں کسی صورت بھی کنٹرول نہیں کر پائے گا۔وزیراعظم امریکی صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کو جاہل کہہ سکتے ہیں ، لیکن ابھی بھی پاکستان کو معیشت چلانے کے لیےآئی ایم ایف پر انحصار کرناہے امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ لٹک رہی ہے۔ایسے میں امریکہ چاہے گا کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چین کے ہمسائے میں پراکسی کے زریعے پاکستان، چین، روس اور ایران کو مصروف رکھے۔ جبکہ چین اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی عمل سے بھارت کسی صورت نہیں چوکے گا۔ جبکہ طالبان نے اگر مطالبات نہ مانے تو چین جیسا دوست بھی اپنا نزلہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے یہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان اور طالبان کے درمیاں دراڑ ڈالی جائے۔ پاکستان کو اتنا تنگ کیا جائے کہ دونوں میں حالات کشیدہ ہو جائیں۔افغانستان ہمیشہ سے ہی جنگیIdeology کاBreading ground رہا ہے۔ افغانستان میں بہت سے ایسے گروپ ہیں جو طالبان کی آئیڈیالوجی کے خلاف ہیں، اور وہ بیرونی مدد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں عورتوں کی صورت میں Active civil society اور Frustrated urban middle class موجود ہے۔ ایسے میں طالبان کے خلاف کوئی بھی سیاسی یا پرتشدد موومنٹ چل سکتی ہے۔ جبکہ Punjsher resistance اس کے علاوہ ہے۔اس وقت طالبان کے پاس القائدہ ٹی ٹی پی. داعش اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سمیت کئی ایسے ہتھیار ہیں جسے وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ اور بھارت چاہیں گے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان اور چین کی طالبان سے لڑائی کروا کر پورے خطے میں پراکسی شروع کروا دی جائے۔اس سے طالبان کو بیرونی امداد کا لالچ دیا جائے گا۔پاکستان پر تحریک طالبان سے یلغار کروائی جائے گی، داعش خراسان سے ایران پر جبکہ ازبکستان موومنٹ سے چین اور سینٹرل ایشین ممالک سمیت روس کو مشکل میں ڈال دیا جائے گا اور امریکہ اور بھارت دور بیٹھ کر تماشہ دیکھیں گے اور ان کے دشمن ممالک اپنے ہمسائے میں ہی مشکل میں پھنس جائیں گے۔قطر نے طالبان کی سیاسی لیڈر شپ سے اچھے تعلقات بنا لیے ہیں جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات کے طالبان کی ملٹری لیڈر شپ سے پرانے تعلقات ہیں۔اس وقت سعودی عرب اور گلف ممالک جہاں امریکہ کے اتحادی ہیں وہیں بھارت کے ساتھ بھی Streategicتعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط قدم پاکستان کے لیے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے، جبکہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور سی پیک کا مستقبل بھی خطے میں امن سے وابسطہ ہے۔ اب ایسے میں جب کہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ڈپلومیسی کا اس میں اہم کردار ہے، حکومت اسے عوامی نعروں کے لیے استعمال کر رہی ہے، حکومت اسےAbsolutely notاور قومی وقار سے جوڑ رہی ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ سب کچھ Public consumption کے لیے ہے ایک طرف آپ دنیا سے اپنی معیشت چلانے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں، دوسری طرف آپ سر عام انہیں
    Ignorant اور ان کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی چوک چوراہوں پر ترتیب نہیں دیتی اس حوالے سے پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف طالبان آپ کے کہنے پر Inclusive govtنہیں بنا رہے، دوسرے طرف آپ مغرب کو بیانات دے کر ناراض کر رہے ہیں۔ یہی نہیں آپ کے وزیر خارجہ ایسے وقت میں جب آپ قومی وقار کی بات کر رہے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں تو آپ چاہتے کیا ہیں۔ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف مودی امریکہ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ، اس نے SCO میٹنگ میں طالبان کی نہ صرف قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا بلکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اختیار اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر دینے کی بات کی۔ مودی اافغانستان میں ٹانگ اڑا کر امریکہ کے لیے ٹائم حاصل کر رہا ہے تاکہ امریکہ کوئی ایسی اسٹریٹیجی بنائے جس سے امریکہ روس، چین کو افغانستان میں مشکلات سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی عدم استحکام کا نشانہ بنائے اور امریکہ کے اتحادی بھارت کو پاکستان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل جائے۔امریکہ اس وقت طالبان کے فنڈ فریز کر کے، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اگر وہ امریکہ کی مرضی سے کام نہیں کریں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں اور امریکہ ان کی افغانستان میں زندگی کو جہنم بنا دے گا افغانستان کے لوگ غربت اور بھوک سے تنگ آکر ان کی بوٹیاں نوچیں گے اور یہ عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔عمران خان نے RTکو انٹرویو میں کہا تھا کہمیرے خیال میں صرف ایک ہی آپشن ہے کہ طالبان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی مدد کی جائے، تاکہ وہ اپنے وعدو‏ں پر قائم رہیں۔ مشرکہ حکومت کے ساتھ ساتھ عورتوں کو حقوق بھی دیں۔تمام طالبان کو Amnesty دی جائے، یہ حکمت عملی کام کرے گی اور چالیس سال میں پہلی دفعہ افغانستان میں امن قائم ہو گا۔ لیکن مودی کا طالبان کا نام سنتے ہی دماغ بند ہو جاتا ہے وہ انہیں چین اور پاکستان کا ساتھی سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ افغانستان میں امریکہ کو دوبارہ لانا چاہتا ہے تاکہ چین اور پاکستان کو کاونٹر کیا جا سکے۔وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، دیکھیں افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • غریبوں کو تبدیلی کے جھٹکے دینے کا سلسلہ جاری

    غریبوں کو تبدیلی کے جھٹکے دینے کا سلسلہ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے تو پاپی پاپا کے گرد شکنجہ تنگ ہو گیا ہے ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے آٹھ ملین پاؤنڈ کی برآمدگی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔۔ شریک ملزمان میں ملکہ جذبات مریم صفدر کو ساتھ سال قید، دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف پر عائد جرمانے کی رقم کی موجودہ قدر ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اب اس سلسلے میں نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مراسلے بھی جاری ہوچکے ہیں۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نام موجود جائیدادوں میں موضع مانک میں 940
    کنال زرعی اراضی، موضع بدھوکی ثاہنی 299 کنال، موضع مل 103 کنال اور موضع سلطان میں 312 کنال اراضی شامل ہیں۔ ۔ موضع منڈیالی شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں قیمتی رہائشی بنگلہ نمبر 135 بھی برائے فروخت پراپرٹی میں شامل ہے۔ نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو گی۔ جبکہ جرمانہ کی مکمل رقم ریکور نہ ہونے کی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات تلاش کیے جائیں گے۔ یوں پاپی نواز شریف اپنے انجام کی جانب گامزن ہیں ۔ آپکو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے میں ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ نوازشریف اب دوبارہ واپس نہیں آئیں گے چاہے جو بھی جو کچھ مرضی کہیں ۔ پھر کہہ رہا ہوں ۔ یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں ۔ اب نوازشریف کا واپس آنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ تو قدرت کا انصاف ہے مکافات عمل ۔ پر موجودہ حکومت کے تیور اور حرکتیں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنازعہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس پر اتفاق رائے پیدا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی اعتراض سننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپوزیشن کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات ہوں گے۔ یعنی حکومت ڈنڈے کے زور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے زریعے ہی الیکشن کروائے گی ۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن جائے بھاڑ میں ۔ میں تواس پر یہ ہی کہوں گا کہ زبردستی کے فیصلے آمریتوں میں تو ہوسکتے ہیں جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ باقی آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس وقت ملک میں آمریت ہے یا پھر جمہوریت ، قوم یہ تماشا کئی دنوں سے دیکھ رہی ہے۔ حکومتی وزراء کا لہجہ دھمکی آمیز ہے۔ دھمکی آمیز لہجہ اس وقت ہوتا ہے جب دلیل کے ساتھ بات منوانے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنز کے پیچھے بھی وزراء ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے حکومت کی کوئی مج چرا لی ہے ۔ اداروں سے اس طرح کا کھلواڑ تحریک انصاف کے وزراء کی پرانی مشق رہی ہے اور بدقسمتی سے اب اس کا نشانہ الیکشن کمیشن بن گیا ہے۔اعظم سواتی ، بابر اعوان اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے کوئی بدمزاج تھانیدار اپنے ماتحتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ پھر پیٹرول کے بعد بجلی اب قہر بن کر عوام ٹوٹنے والی ہے ۔
    central power purschasing agency کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست دے دی گئی ہے ۔ درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر
    25ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ CPPA کا موقف ہے کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے۔ یوں اب بجلی کی قیمت میں دو روپے سات پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم کی جانب سے فوراً منظور کرلیا گیا۔ اس کہانی کی اصل اسٹوری یہ ہے کہ تابش گوہر پر مقامی ریفائنریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے جبکہ سی سی او اجلاس میں تابش گوہر نے ریفائنریز کے لئے پیشگی مراعات کی تجاویز بھی دی تھیں ۔ پر آپ دیکھیں ایسے اور بہت سے بہروپیے اس حکومت میں مختلف اداروں میں بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں جو کہ حقیقت میں مافیا کے ایجنٹ تھے ۔ پر جب یہ پکڑے گئے تو حکومت نے صرف ان کو گھر ہی بھیجا کبھی مکمل انکوئری یا سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا ۔ اگر حکومت نیب اور ایف آئی اے کو اپوزیشن کے ساتھ ان مافیاز کے ایجنٹوں کے پیچھے لگادیتی تو آج جو اپوزیشن کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے ۔ کبھی نہ ہوپاتی ۔ تابش گوہر جیسے لوگ وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے اداروں اور عام عوام کو اتنے ٹیکے لگوائے ہیں کہ عوام کا تبدیلی پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ۔ کیونکہ ہر بار جب شور زیادہ مچتا ہے یا یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ایجنٹ استعفی دیتے ہیں موج کرتے ہیں ۔ فائلیں ویسے ہی بند ہوجاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نام نہاد حکومت تین سال سے یہ ہی گل کھلا رہی ہے ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے اور کون نہیں ۔ ہر طرف اور ہر سیکٹر میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ۔ ملک میں کوئی ایسا وزیر نہیں جو کرپٹ نہ ہو ۔ پیسے اور دھونس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے ۔ جس مرضی سرکاری ادارے میں چلے جائیں پیسے کی چمک کے بغیر آپکو کوئی گھاس تک نہیں ڈالے گا ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظام بیٹھ چکا ہے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے ختم ہو گئے ہیں ۔ اس وقت شاید ہی معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہو جو کپتان کی حکومت کے لگائے ہوئے زخموں سے چور نہ ہو۔ تحریک انصاف کے وزیر مشیر ہر چیز کے بارے میں فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کام پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پہلی بار عوام کی بھی بس ہوگئ ہے۔ اس بار کابینہ اجلاس میں دو تین لوگوں نے ہمت کرکے کپتان کے منہ پر ہی کہہ دیا ہے۔ کہ اس بار جو آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کا قصووار آپکا چہیتا عثمان بزدار ہے ۔ نہ کہ سندھ حکومت ۔ پرعثمان بزدار کپتان کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ اسی حوالے سے ایک خبر ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے بھی غریبوں کو زیادہ ہٹ کرنا شروع کر دیا۔ جیسے امیروں کو این آر او دے دیا گیا ہو ۔ خبر یہ ہے کہ اس سال کاریں بہت کم اور غریب کی سواری موٹر سائیکلیں بہت زیادہ چوری ہوئیں۔ صرف لاہور میں آٹھ ہزار چھیانوے موٹر سائیکل آٹھ مہینوں میں چوری ہو چکے ہیں۔ یعنی چور ڈاکو بھی ’’تبدیلی‘‘ سے ہم آہنگ ہو گئے۔ تبدیلی کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں۔ اور چوروں کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں ۔ ۔ ادارہ شماریات کے مطابق اشرافیہ ایلیٹ کلاس کی آمدنی بڑھی ہے اور بے تحاشا بڑھی ہے۔ جبکہ غریب ، لوئر مڈل کلاس ، مڈل آف دی مڈل کلاس کی آمدنی کم ہوئی ہے اور بے تحاشا کم ہوئی ہے۔ ۔ یہ جو بدزبان ۔ بدکلام اور بد گفتار وزیر اندھا دھند جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں تو بہت موجیں ہیں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں مختلف ممالک کی مہنگائی کی شرح چار فیصد سے آٹھ فیصد ہے ۔ مطلب بنگلہ دیش میں چار فیصد اور بھارت میں آٹھ فیصد مہنگائی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں 17فیصد ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں بتائے یہ عالمی بینک کے اعدادو شمار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تحفہ اس حکومت کے پاس ہے۔ شبلی فراز فرماتے ہیں کہ مہنگائی کے علاوہ باقی سارے اشاریے مثبت ہیں۔ اس سے حکومت کی پالیسی پتہ چل جاتی ہے کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مٹا رہی ہے۔ ایک اور خوشخبری سن لیں کہ ملکی قرضوں میں ایک مہینے کے دوران بارہ سو ارب کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ اب قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سو فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ اس حکومت کو نواز شریف کو دیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ حساب تو ان کو بھی دینا ہی پڑے گا آج نہیں تو کل ۔۔۔

  • یہ معاشرہ ہے یا درندوں کا جتھا،ریاست مدینہ میں شرمناک واقعات،عزتیں پامال

    یہ معاشرہ ہے یا درندوں کا جتھا،ریاست مدینہ میں شرمناک واقعات،عزتیں پامال

    یہ معاشرہ ہے یا درندوں کا جتھا،ریاست مدینہ میں شرمناک واقعات،عزتیں پامال
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شئیر کروں گا کہ آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیوں ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے میں تو ناکام ہو چکی ہے جس کے لئے اس کے پاس ایک ہزار Reasonsہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بڑے آرام سے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں ابھی بہت کنٹرول میں ہیں ورنہ اصل قیمتیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن میرا سوال ان حکمرانوں سے یہ ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیوں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عورتیں اور بچے نہ گھروں سے باہر محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں کے اندر۔۔۔اب میں آپ کے ساتھ کچھ تازہ ترین واقعات کی خبریں شئیر کروں گا جس سے آپ کو حالات کی سنگینی کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے گا۔ ضلع چنیوٹ کے بھوانہ سرکل میں بدفعلی کا انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دس سالہ یتیم بچے کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ اور زیادتی کرنے والے کوئی دو یا تین فرد نہیں تھے بلکہ سترہ افراد کا ایک پورا گروہ تھا جس نے اس معصوم بچے کے ساتھ یہ حیوانیت اور درندگی کی۔اس بچے کا والد دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے اور وہ اپنے ماموں کے زیر کفالت ہے اب ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریبا سات بجے تین فرد آئے اور اس بچے کو گھر سے بلا کر موٹر سائیکل پر باہر لے گئے۔ فصلوں میں لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا۔ جس کے بعد یہ باری باری اس دس سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور ساتھ میں موبائل فون پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ اور یہ سلسلہ پچھلے کئی دنوں جاری تھا کہ درندوں کا یہ گروپ اس یتیم بچے کو بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں اس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے۔جب اس متاثرہ بچے کے گھر والوں کو اس سب کا علم ہوا تو انہوں نے تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس پورے گروپ میں سے کوئی ایک ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ایک اور تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ زم زم کالونی کے رہائشی احسن نے بھی مقدمہ درج ہوا ہے جس کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکے کو 22 سالہ ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ان واقعات کے بارے میں آپ ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ چھوٹے علاقے ہیں اس لئے وہاں کے حالات خراب ہیں وہاں کی پولیس بھی اتنی Efficientنہیں ہے۔ تو اب میں آپ کو لاہور شہر کا ایک واقعہ بتاتا ہوں جہاں ہوٹل کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ 7 روز تک اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی۔ سوچیں یہ لاہور شہر ہے جس میں ابھی حالیہ چودہ اگست کے واقعات کے بعد پولیس کافی الرٹ ہے اور پھر بھی اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ملت پارک میں ایک ہوٹل کے اندر لڑکی کو ایک تقریب کا جھانسہ دیکر بلایا گیا اس کے بعد سات روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس سے چھ لاکھ روپے بھی چھین لئے گئے۔ لیکن ہوٹل میں اتنے دن تک کسی کا کان و کان خبر نہیں ہوئی کہ بر وقت پولیس کو اطلاع دی جاتی لیکن خیر بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس عورت کی شکایت کے بعد تین میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ لاہور شہر کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ملزم نے ایک عورت کو اس کی کم سن بیٹی کے سامنے ہی گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اور یہ سب کرنے والا ملزم دراصل ان کا ہمسایہ تھا جو پہلے تو ماں بیٹی پر جسم فروشی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا لیکن خاتون کے انکار پر ملزم نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ یہاں تک کہ ملزم نے اس عورت کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔لاہور کا ہی ایک اورحیرت انگیز واقعہ میں آپ کو بتاوں جس میں بے حیائی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئیں۔ گلشن راوی کے علاقے میں ایک ستائیس سالہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈال رہی تھی اس دوران اس کا ہمسایہ اپنے گھر کی چھت پر برہنہ ہوگیا اوراس لڑکی کو ہراساں کرتا رہا۔پولیس کے مطابق اس ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی گلشن راوی کے علاقے میں ایک لڑکی کو نوجوان نے اسی طرح برہنہ ہوکر ہراساں کیا تھا جس کا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔

    https://t.co/GnXeGzyABY?amp=1

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات آئے روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ایک طرف تو لوگ اپنے علاقے والوں اور ہمسایوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی آجکل سامنے آ رہے ہیں جس میں بچیاں اپنے سگے اور قریبی رشتے داروں سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔راولپنڈی کے ایک علاقے میں ماں نے عین موقع پر پہنچ کراپنی 5 سالہ بیٹی کو اس کے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے سے بچا لیامتاثرہ بچی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہمسائی سے ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی لیکن جب واپس پہنچی تو آ کر دیکھا کہ اس کا دیوراس کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں کے شور کرنے پر اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اب سے دو دن پہلے شیخوپوہ میں بھی انتہائی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جہاں ایک کمسن بچی ایک درندے کی درندگی کا نشانہ بن گئی۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں 6 سالہ ہادیہ محلے میں موجود دوکان پر چیز لینے گئی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ اور یہ سب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ دوکاندار ہی تھا اس نے بچی کو اغواء کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل بھی کرڈالا۔ اور درندے نے اپنا جرم مٹانے کے لئے بچی کی لاش کو نہر میں پھینک دیا۔اس کے علاوہ شیخوپورہ کے ہی ایک علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوں نے ماں باپ کے سامنے انکی حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔تین ڈاکوں ڈکیتی کی واردات کے لئے رات گئے گھر میں گھس گئے کاشتکار کے گھر سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے گئے اور ساتھ ہی والدین کو رسیوں سے باندھ کر انکے سامنے ان کی عالمہ اور حافظہ بیٹی کو اجتماعی نشانہ بنایا۔ ان تمام واقعات میں سے ایک یا دو ایسے ہیں جن کے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور تفتیش ہو رہی ہے لیکن میرا سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر کیوں ہماری حکوت اور پولیس اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کیوں یہ درندے دن بہ دن اتنے بےخوف ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی جانیں۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ہماری پولیس ان درندوں کو پکڑ بھی لے تو ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں ہے کہ ان کو فوری سزا سنائی جائے۔ جس کی وجہ سے سالوں سال کے لئے نہ صرف کیسسز لٹک جاتے ہیں بلکہ مظلوم کو بھی تھکا ڈالتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر تو یہ مجرمان اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ ہی عرصے بعد پولیس کی قید سے بھی رہائی حاصل کر لیتے ہیں اور باہر آ کر پھر اسی گھناونے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس لئے میرا تو ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی آپ کے کنٹرول سے باہر ہو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتیں آپ کو اپنے ملک میں چیزیں سستی کرنے سے روک رہی ہوں لیکن خدارہ انسانوں کی عزتیں اور ان کی جانیں اتنی سستی نہیں ہیں۔۔۔ آخر اس میں آپ کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ لوگوں کو نہ تو تحفظ مل رہا ہے اور نہ ہی انصاف۔۔ آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے اور اپنی عزتوں اور جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے آخر کب تک۔۔۔