پاک فضائیہ کا چھوٹا تربیتی طیارہ مردان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا
پاک فضائیہ کا ایک چھوٹا تربیتی طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران مردان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق واقعہ کی وجوہات جاننے کے لئے ائیر ہیڈ کوارٹرز نے ایک اعلیٰ سطحی بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق طیارے کے ملبے کو جائے حادثہ سے جلد اٹھا لیا جائے گا تا ہم حادثے سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں ترجمان پاک فوج کے مطابق حادثے میں طیارے کا پائلٹ بھی شہید ہوگیا ہے ۔
جائے وقوعہ پر مقامی شہری بھی پہنچ گئے تھے تا ہم بعد ازاں سیکورٹی فورسز کے پہنچنے کے بعد جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے ،طیارہ کھیتوں میں گر کر تباہ ہو اہے
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں برس ماہ اگست میں پاک فضائیہ کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہوا، پاک فضائیہ کا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا،دونوں پائلٹ محفوظ ہیں طیارہ حادثے سے زمین پر کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا
متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں،چیف جسٹس
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
نظر ثانی اپیل میں ایڈووکیٹ منیر ملک اور عابد زبیری عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ مختیار کار اور لینڈ ڈپارٹمنٹ کے پروپوزل پر دی گئی جو من گھڑت ہے، سندھی مسلم سوسائٹی نے ہمیں 380 اسکوائر یارڈ کی اجازت دی،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کمشنر کراچی کی رپورٹ کو دیکھ رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھی مسلم سوسائیٹی 380گز آپ کو الاٹ نہیں کر سکتی؟ کمشنر رپورٹ کے مطابق 788 گز کی لیز جو 1957 بتائی جارہی ہےغیر قانونی ہے،
منیر اے ملک نے عدالت میں کہا کہ اگر 1957 کی لیز غیر قانونی قرار دی گئی تو پھر پورا کراچی گرانا پڑیگا، کمشنر کراچی نے سندھی مسلم کی اضافی لینڈ سندھی مسلم کو الاٹ کی، سندھی مسلم سوٹائیٹی نےزمین 23 لوگوں کو الاٹ کی ،80 گز نسلہ ٹاور کو دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلڈر کو اپنا گھر نہیں بنانا ہوتا، وہ غیر قانونی طریقے سے بلڈنگ بناکر بھیج دیتے ہیں
قبل ازیں سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن نے تجاوزات کیس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین عدالت میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ گجر نالہ پیش رفت رپورٹ کہاں ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی ہے،258 ایکڑز اراضی پر متاثرین کو متبادل زمین مختص کردی ہے چھ ہزار سے زائد گھر بنائے جائیں گے سندھ حکومت کے پاس فنڈز کی کمی ہے ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہے سندھ حکومت، کہتے ہیں پیسے نہیں ہیں ورلڈ بینک کے کتنے منصوبے ہیں مگر کچھ نہیں ہو رہا کھربوں روپے کی باہر سے مدد آتی ہے کیا کرتے ہیں مطلب آپ کے پاس پیسے نہیں تو گورنمنٹ فنکشنل نہیں عوام کے لیے پیسے نہیں باقی سارے امور چلا رہے ہیں وزرا اور باقی سب کے لئے فنڈز ہیں
@MumtaazAwan
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ بحریہ ٹاون واجبات سے رقم ملے گی تو منصوبے پر کام شروع کردیں گے،60 ارب روپے اگر سپریم کورٹ ریلیز کردے تو کام شروع کر دیتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ان پیسوں پر امید لگا لی کیا آپ کے پاس پیسے نہیں؟ آپ انتہائی غیر انتہائی ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں آپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں جو پیسے سپریم کورٹ نے وصول کرائے آپ نے ان پر نظر رکھ لی ہے سلمان طالب الدین نے کہا کہ بحریہ ٹاون کے واجبات سندھ حکومت ہی کے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے طے کرنا ہے کہ وہ پیسے کہاں خرچ کرنے ہیں وہ آپ کے نہیں ہیں، ہم نے طے کرنا ہے کہ اس پیسے کا کیا کرنا ہے ایک ایک پیسہ سپریم کور ٹ طے کرے گی کہ کہاں لگے گا کھربوں روپے کے بجٹ سے آپ کے پاس 10 ارب نہیں آپ سندھ حکومت ہیں، ایڈووکیٹ جنرل صاحب یہ سب ذمہ داری آپ کی تھی، سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی پیسے آئے نہیں سارا جہان لینے آگیا،جب گاڑیاں خریدنی ہوتی ہیں تو پیسے آجاتے ہیں اگر زلزلہ یا سیلاب آجائے تو پھر کیا کریں گے؟ کوئی آفت آجائے تو کیا ایک سال تک بجٹ کا انتظار کریں گے ؟ عدالت نے استفسار کیا کہ جنہوں نے زمینیں الاٹ کیں ان کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ جس پرایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ یہ تو 40سال پرانا مسئلہ ہے ، جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسارکیا کہ اس طرح سے شہر چلاتے ہیں؟ ایک انچ کا بھی کام نہیں ہوا ہے، حکمرانی کرنے والے جانتے ہی نہیں کہ شہر کو کیسے چلایا جاتا ہے کچھ پتہ نہیں ہے،غیر قانونی قبضے سڑکیں بدحال، کچھ نہیں ،سندھ حکومت مکمل بینک کرپٹ کی جانب کھڑی ہے اس سب کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے ،سندھ حکومت کو شرم آنی چاہئے جس بلڈنگ کو اٹھاﺅ اس کا براحال ہے،سڑکیں ٹوٹیں، بچے مررہے ہیں، یہ کچھ نہیں کرنے والے،یہی حال سندھ اور وفاقی حکومت کا بھی ہے سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں،سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کے کا م تو کریں،اگر لوگوں کو سروس نہیں دے سکتے تو کیا فائدہ ؟
چیف جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت کے لئے انتہائی سخت ریمارکس دیئے اور کہا کہ شیم آن سندھ گورنمنٹ پورے کراچی کو کچرا بنادیا ہے جا کر دیکھیں،آپ لوگوں نے کراچی شہر کو سیاست کی نذر کردیا شہر میں گڑا ابل رہے ہیں اور تھوڑی سے بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں لوگوں کو کہتے ہیں وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس کے باہر ٹینٹ لگا لیں ،بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو براہ راست حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اطمینان بخش جواب نہ دے سکے متاثرین کی بحالی سندھ حکومت کا کام ہے سندھ حکومت دستیاب وسائل سے بحالی کا کام کرے وزیر اعلیٰ سندھ فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور متاثرین کی بحالی کیلئے رقم کا انتظام کریں
نورمقدم کیس، ایڈووکیٹ جنرل کو کہیں کہ وہ خود آ کر دلائل دیں، عدالت کے ریمارکس
اسلام آباد ہائیکورٹ ،نور مقدم قتل مقدمہ ، ذاکر جعفر اور عصمت جعفر کی ضمانت کیس کی سماعت ہوئی
سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ یہ ضمانت کی درخواست سنگل بینچ کے بجائے ڈویژن بینچ کو سننی چاہیے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالان ایڈیشنل سیشن جج کے پاس فائل ہوا تو معاملہ ڈویژن بنچ میں کیسے جائے گا؟ کس قانون کے تحت ضمانت سنگل بینچ کے بجائے ڈویژن بینچ میں جائے گی؟ اسپیشل کورٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے تو وہ دکھائیں،ایڈووکیٹ جنرل کو کہیں کہ وہ خود آ کر دلائل دیں،ہائی پروفائل کیس میں آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تین دن بحث کی گئی اور آپ کو تیاری کا موقع نہیں ملا؟ چاہتے تھے مدعی کے وکیل شاہ خاور سپریم کورٹ ہیں تو سرکاری وکیل کی بحث ہو جائے اگر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو اسپیشل کورٹ کا درجہ دیا گیا ہے تو نوٹیفکیشن پیش کر دیں،
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے ملازمین کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وکلاء کو کیس کی تیاری کے لیے مہلت دے دی ،جسٹس عامر فاروق نے طاہر ظہور اور دیگر 5 ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کی عدالت نے ملزمان کے وکلاء کی جانب سے کیس کی تیاری کے لیے مہلت کی استدعا منظور کر لی ایڈیشنل سیشن جج نے پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں پر 6 ملزمان کی ضمانت منظور کی تھی مدعی نے ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے
نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت لوئر کورٹ مسترد کر چکی ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے طور پر دائر کیا گیا ہے
@MumtaazAwan
دوسری جانب بدنام زمانہ قاتل ظاہر جعفر کے گھر کے مالی جان محمد اور خانساماں جمیل کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کو مسترد کردیا تھا
واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے
پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،
اسلام آباد: امریکی صحافی گلین بیک کو جوابی خط،وزیراعظم عمران خان نے قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا ،اطلاعات کےمطابق امریکی صحافی کی طرف سے افغانستان میں پاکستان کی بہترین حکمت عملی پرجس طرح خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ، اس پر امریکی صحافی کو جوابی خط میں وزیراعظم عمران خان قرآن کی آیات اورفرمان الٰہی کے حوالے دیئے اس پرجہاں پاکستانی خوش ہیں وہاں امریکی بھی بہت خوش ہیں ،
وزیراعظم عمران خان کا امریکی صحافی گلین بیک کو جوابی خط خط میں وزیراعظم نےحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں ہے جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی اس نے ساری انسانیت کو بچایا، حکومت آپ کو انسانی بنیادوں پر مدد کی فراہمی کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی،
نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی صحافی کی جانب سے موصول ہونے والے خط کا جواب دیتے ہوئے اُس میں قرآنی آیت کا حوالہ دیا۔خط کے متن میں وزیراعظم نے لکھا کہ ’میں آپ کو شکریہ کا جوابی خط لکھ رہا ہوں، آپ کےخیالات ہمارےعقائدکی بہترین نمائندگی کر رہے ہیں، آپ کے خیالات انسانیت اور ہمدردی پر مبنی نظریےکی عکاسی کرتے ہیں‘۔
خط میں وزیراعظم نے لکھا کہ ’قرآن میں ہےجس نے ایک انسان کی زندگی بچائی اس نے ساری انسانیت کو بچایا، ہمارے اقدامات سے وہ لوگ خود کو محفوظ تصورکریں جو ہم پر انحصار کر رہے ہوں، حکومت آپ کو انسانی بنیادوں پر مددکی فراہمی کیلئے ہر ممکن کوشش کرےگی‘۔
وزیراعظم نے لکھا کہ ’کوشش کریں گے ہمارےجذبات، احساسات نئی طالبان حکومت تک بھی پہنچ سکیں، ایک بارپھریقین دلاتاہوں میرا آفس فوری طور پر آپ کی مددکیلئے پہنچےگا‘۔
یاد رہے کہ امریکی صحافی گلین بیک نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی براڈ کاسٹ جرنلسٹ گلین بیک نے وزیر اعظم عمران خان کی مدبرانہ قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے افغانستان سے غیر ملکی انخلا میں اس وقت مدد کی جب انسانی جانیں حقیقی موت کے خطرات سے دوچار تھیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بلیز میڈیا کے سی ای او گلین بیک نے کہا افغانستان سے غیر ملکی انخلا میں عمران خان کے قائدانہ کردار اور افواج پاکستان کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مدد مانگنے پر عمران خان نے فوری مدد کی اور انسانیت کو بچا لیا۔
امریکی صحافی نے کہا تھا کہ ہم نے افغانستان میں مدد کے لیے کئی ممالک اور رہنماؤں سے مدد مانگی تھی لیکن جواب نہیں ملا، وزیر اعظم عمران خان نے مہربانی کر کے ہمیں فوری وقت دیا اور ہمارے مقصد پر سوال بھی نہیں کیا، انھوں نے مذہب، نسل اور ثقافت سے مبرا ہو کر پہل کی۔
گلین بیک کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی مدد کے بعد طالبان کے زیر کنٹرول مزار شریف سے تین طیارے اڑان بھرنے میں کامیاب ہوئے، جن کے ذریعے ایک ہزار کے لگ بھگ لوگوں کو بچایا جا سکا، ان میں بھی بڑی تعداد امریکیوں کی تھی۔ انھوں نے کہا فیفا ارکان، فٹبال ٹیم، اور افغان خواتین کا انخلا صرف وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا، عمران خان کی کوششوں اور افواج پاکستان کی سپورٹ سے طالبان معاہدے پر بھی کاربند رہے۔
امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ عمران خان پر تنقید کرنے والے میڈیا مراکز کا اپنا کوئی ایجنڈا ہو سکتا ہے، لیکن انسانی جانوں کو بچانے کے لیے دنیا بھر کو وزیر اعظم عمران خان کے قائدانہ کردار کا اعتراف کرنا ہوگا، ہم اس لمحے کو فراموش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکی صحافی نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے تعاون نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ان کے وعدوں کو پورا کرنے کے قابل بنایا، میں یہ سب تفصیلات اپنے پروگرام میں بتاؤں گا، آئندہ چند دنوں میں ایسے کئی لوگوں کی کہانیاں بھی سامنے آئیں گی، جن کی جانیں بچانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان کا قیمتی وقت کام آیا۔
دوسری طرف امریکی صحافی کو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے لکھے گئے خط میں قرآنی آیات کے حوالے اس وقت امریکی معاشرے،امریکی میڈیا اوراہم حلقوں میں چھایا ہوا ہے ،
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے اس خط پرامریکہ اوردیگردنیا میں آباد پاکستانیوں نے خوشی کا اظہارکرتےہوئےکہا ہےکہ اللہ کا شکر ہےکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اس وقت ایسی قیادت موجود ہے جواللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کے ذریعے پاکستان کی نمائندگی اور پاکستانی کی سفارتکاری کررہی ہے
واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ ایران اپنے وعدے پورے کرے امریکہ مثبت جواب دے گا۔
باغی ٹی وی :امریکی صدر جوبائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ناختم ہونے والی جنگ کا خاتمہ کر کے سفارتکاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ امریکی صدر نے جامع حکومت سازی اور خواتین کو حقوق دینے کے لیے طالبان پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 100 ارب ڈالر مختص کر رہا ہے۔ ایران جوہری پروگرام پر اپنے وعدے پورے کرے تو امریکہ بھی مثبت جواب دے گا۔
جوبائیڈن نے کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ سرد جنگ نہیں چاہتا بلکہ نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات سے ہٹ کر موسمیاتی تبدیلیوں اور کورونا وائرس جیسے بحرانوں سے متعلق عالمی رہنمائی فراہم کرے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ دنیا کو بلاکس میں تقسیم کرنا نہیں چاہتا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بحال کرنے کی غرض سے چین، فرانس، روس، برطانیہ اور جرمنی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے جوہری معاہدہ بحال کیا جائے جس سے امریکہ 2018 میں دستبردار ہوا تھا۔
اس سے قبل اپنی تقریر میں: امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بطور صدر اپنے پہلے ریمارکس میں اپنے ’’ انتھک ڈپلومیسی کے نئے دور ‘‘ کے عالمی نقطہ نظر کو بیان کیا ، اور دنیا سے مشترکہ چیلنجز پر مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا۔
کوویڈ 19 وبائی امراض کے درمیان اسے "انتہائی درد اور غیرمعمولی امکانات کے ساتھ ملنے والا لمحہ” قرار دیتے ہوئے ، بائیڈن نے کہا کہ "مشترکہ غم ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ہمارا اجتماعی مستقبل ہماری مشترکہ انسانیت کو پہچاننے ، اور مل کر کام کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔”
بائیڈن نے اپنے اس عقیدے کو دہرایا کہ یہ ایک "تاریخ کا موڑ نقطہ” ہے اور "دنیا کے لیے فیصلہ کن عشرہ ہونا چاہیے” کا طلوع فجر ہے۔
انہوں نے اس لمحے کو دنیا کی جمہوریتوں کے لیے ایک موقع کے طور پر مرتب کیا ، اور اس وقت تاریخ میں جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے ایک سوال کے طور پر کہ کیا جمہوریت آمریت پر غالب آ سکتی ہے؟
"کیا ہم اس انسانی وقار اور انسانی حقوق کی تصدیق کریں گے اور ان کی پاسداری کریں گے جن کے تحت سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل قوموں اور مشترکہ کاز نے یہ ادارہ بنایا تھا؟” بائیڈن نے پوچھا۔ انہوں نے مزید کہا ، "یا ، ننگے سیاسی طاقت کے حصول میں ان آفاقی اصولوں کو روندنے اور مروڑنے کی اجازت دیں؟ میرے خیال میں ، ہم اس لمحے ان سوالات کے جواب کیسے دیں گے ، چاہے ہم اپنے مشترکہ مستقبل کے لیے لڑنے کا انتخاب کریں یا نہ کریں ، آنے والی نسلوں کے لیے پھر سے گونجیں گے۔
صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ وبائی بیماری کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کریں اور اگلی وبا کو روکنے کے لیے اقدامات کریں ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کریں ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کو عالمی سطح پر مضبوط کریں ، اور تجارت ، سائبر ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور دہشت گردی کے خطرے پر تعاون کریں۔ .
صدر بائیڈن نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ امریکہ سوویت یونین کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری تعطل کی طرح تنازعات کے عالمی دور میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔
بائیڈن نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ، "امریکہ مقابلہ کرے گا ، اور بھرپور انداز میں مقابلہ کرے گا ، اور ہماری اقدار اور ہماری طاقت کے ساتھ قیادت کرے گا۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے لیے کھڑا ہوگا اور کمزور ممالک پر غلبہ حاصل کرنے والے مضبوط ممالک کی کوششوں کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے طاقت ، اقتصادی جبر اور غلط معلومات کے ذریعے علاقے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیا جو کہ امریکہ کی مذموم سرگرمیوں کی مثال ہے۔ پھر بھی ، انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو جارحیت سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا ، "ہم تلاش نہیں کر رہے ہیں – اسے دوبارہ کہیں ہم نئی سرد جنگ یا سخت بلاکس میں بٹی ہوئی دنیا کے خواہاں نہیں ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ایسی قوم کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے جو مشترکہ چیلنجز کے لیے پرامن حل کی طرف قدم بڑھائے اور اس کا پیچھا کرے ، یہاں تک کہ اگر ہم دوسرے علاقوں میں شدید اختلاف رکھتے ہیں ، کیونکہ ہم سب اپنی ناکامی کے نتائج بھگتیں گے۔
صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے 30 منٹ سے زیادہ کے تبصرے کو سمیٹتے ہوئے عالمی برادری کو ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے پیچھے ایک پرامید اپیل کے ساتھ چیلنجوں کی فہرست سے ملاقات کی جو انہوں نے بطور صدر اپنے پہلے خطاب میں پیش کی تھی۔
بائیڈن نے کہا ، "مجھے واضح ہونے دو ، میں اس مستقبل کے بارے میں ناگوار نہیں ہوں جو ہم دنیا کے لیے چاہتے ہیں۔” "مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو انسانی وقار کو اپناتے ہیں۔ اسے روندنا نہیں۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو اپنے لوگوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں ، نہ کہ ان کو روکنے والے۔
بائیڈن نے کہا کہ جمہوریت پرامن مظاہرین ، انسانی حقوق کے علمبرداروں ، صحافیوں ، بیلاروس ، زیمبیا ، شام اور کیوبا جیسے ممالک میں آزادی کے لیے لڑنے والی خواتین میں رہتی ہے ، جبکہ جمہوریت میں امریکہ کی اپنی جدوجہد کو سراہ رہے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مسئلہ کشمیر پر بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔
باغی ٹی وی : دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ اور پاکستان و بھارت کے درمیان تنازعہ قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے تصفیہ طلب مسئلے کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے پر زور دیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کئی بار ثالثی کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ہر پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بھارت نے مسترد کیا ہے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے پرامن اور بذریعہ مذاکرات حل کی بات کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد پہ زور دیتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف سے ہمیشہ سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک کو آگاہ کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے دورے کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایک دن قبل بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے اور درست وقت میں ہم دونوں ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
سعودی وزیر خارجہ نے یہ انٹرویو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد دیا ہے کہا کہ مذاکرات کے لیے درست وقت کا تعین پاکستان اور بھارت پر منحصر ہے۔
مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا تاہم ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ مسائل کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اسی دورے کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ طالبان حکومت تسلیم کرنے کے لیے انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔
انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
کابل: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طورخم سرحد پرپاکستانی جھنڈے کی بے توقیری کرنے والے افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہےٹرک سے پاکستانی پرچم اتارنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔
باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ٹرک سے پاکستانی پرچم اتارے جانے کی مذمت کرتے ہیں اور اس واقعے پر پوری طالبان قیادت غصے میں ہے لہذا اس میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
واضح رہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاک افغان تعاون فورم کی جانب سے افغانستان کے لیے امدادی سامان سے بھرے کچھ ٹرک افغانستان بھیجے جاتے ہیں لیکن جیسے ہی یہ ٹرک طورخم سرحد عبور کرنے کے بعد افغانستان کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں موجود افغان طالبان ٹرک کو روک کر اس پر لگے پاکستانی پرچم اتار دیتے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے اور درست وقت میں ہم دونوں ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا تاہم ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ مسائل کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔
افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔
انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چین نے کہا تھا کہ افغانستان میں انسانی بحران کے ذمہ دار امریکا اور اتحادی ممالک ہیں،پیغام ہےآئندہ احتیاط سے کام لیں چین کے صدر شی جن پنگ نے افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام اور عالمی برادری کے اعتراضات سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے 3 نکاتی ایجنڈا پیش کردیا۔
تاجکستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے 3 نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں چائنا میڈیا گروپ کے ایک مضمون کے حوالے سے لکھا تھا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرنے، افغان سربراہی میں امن عمل کو جاری رکھنے اور افغان عوام کو خود اپنے ملک کا مستقبل طے کرنے کا موقع دینے کا سہہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔
صدر جن پنگ نے مزید کہا تھا کہ افغانستان میں صورت حال افراتفری سے استحکام کی جانب رواں دواں ہے اور قریبی ہمسائے ہونے کی وجہ سے ہم افغانستان سے لاتعلق نہیں رہ سکتےشنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
چینی صدر نے مطالبہ کیا تھا کہ افغان تنازعے کو تمام ڈھروں سے بات چیت کرکے اور وہاں کی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے جلد سے جلد سیاسی حل کے ذریعے ختم کیا جائے۔
صدر شی جن پنگ نے مزید کہا تھا کہ اسی طرح عالمی برادری میں واپسی کے لیے طالبان حکومت سے بھی بات چیت کی جائے تاکہ ایک ایسا کثیر النسلی حکومتی اور سیاسی ڈھانچہ قائم ہو جو اعتدال پسند اور مثبت خارجہ پالیسیاں اپنائے۔
اس موقع پر چینی صدر نے بحران کے شکار افغان عوام کی مالی امداد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین افغانستان کی انسانی بنیادوں پر امداد اور پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کی ہامی بھر چکا ہے جب کہ وہ ممالک جن کی وجہ سے افغانستان کا آج یہ حال ہے انھیں بھی قدم بڑھانا چاہیئے۔
چینی صدر نے افغانستان کی موجودہ صوت حال کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو قرار دیا تھا-
قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک دھیلے کا بھی منصوبہ نہیں لگایا 50 لاکھ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لوگوں پر زندگی تنگ ہو چکی ہے۔
باغی ٹی وی : قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 50 لاکھ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لوگوں پر زندگی تنگ ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بتایا جائے وہ ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں ؟ غریب کا چولہا ٹھنڈا ہو چکا ہے اور پاکستانی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ بجٹ میں وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اس طرح کا مہنگائی کا طوفان نہیں آیا جبکہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ مسلم لیگ ن کے دور میں ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے قرضے لے کر لوگوں کو مار دیا ہے اور ایک دھیلے کا بھی منصوبہ نہیں لگایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو سزا پانامہ میں نہیں بلکہ اقامہ میں ہوئی تھی۔
بعد ازاں شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آبا چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع پر مشاورت جاری ہے لیکن چیئرمین نیب سے متعلق مجھ سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری پر وزیر اعظم کو خط لکھ دیا ہے جبکہ نواز شریف کی جائیداد ضبطگی نیب نیازی کی ایک اور سازش ہے۔
واضح رہے کہ سلم لیگ ن کے آج ہونے والے اہم اجلاس میں پارٹی صدر شہباز شریف اور حمزہ شہباز پھر شریک نہ ہوئےلاہور میں مسلم لیگ نون بہاولپور ڈویژن کے اجلاس میں مریم نواز، خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی تھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ دونوں رہنماوں نے گزشتہ روز بھی پارٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔
شہباز شریف کی عدم شرکت پر مسلم لیگ ن کے رہنما اویس لغاری نے کہا تھا کہ پارٹی میں بائیکاٹ کی کوئی گنجائش نہیں، شہبازشریف کسی مصروفیت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس میں تنظیم کو گراس روٹ لیول پر منظم کرنے کیلئے پلان مرتب کیا گیا ہے۔ تحصیل کی سطح پر تنظیم کو منظم کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے-
صدر بائیڈن اقتدار سنبھالنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنی پہلی تقریر کی، جہاں وہ عالمی برادری کے لیے اپنا طویل مدتی وژن پیش کرنے ، افغانستان سے انخلاء کا دفاع کرنے اور اتحادوں کی بحالی کی اہمیت پر زور دینے کی توقع رکھتے ہیں۔
باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق نیو یارک میں اسمبلی میں بائیڈن کی پیشی اس وقت ہوئی جب وہ متعدد خارجہ پالیسی کے بحرانوں سے نمٹ رہے ہیں ، جس میں فرانس سے آسٹریلیا کو ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوزیں دینے کا حالیہ معاہدہ ، افغانستان سے افراتفری سے امریکی انخلا اور امریکی ڈرون شامل ہیں۔ کابل میں ہڑتال جس میں افغان شہری ہلاک ہوئے۔
انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کوویڈ 19 ، موسمیاتی تبدیلی ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ، تجارت اور معاشیات ، صاف انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور انسداد دہشت گردی کو ان علاقوں کے طور پر درج کیا ہے جہاں صدر دنیا کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے پیر کو یہ بھی کہا کہ بائیڈن اپنے تبصرے کے دوران "یہ معاملہ پیش کریں گے کہ اگلی دہائی ہمارے مستقبل کا تعین کیوں کرے گی ، نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی برادری کے لیے اور وہ بات کریں گے اور یہ ان کے ریمارکس کا مرکزی حصہ ہوگا پچھلے کئی سالوں سے ہمارے اتحادوں کو دوبارہ قائم کرنے کی اہمیت کے بارے میں بات کریں گے-
صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز کوویڈ 19 وبائی امراض سے دنیا بھر میں ہونے والے بڑے نقصانات کو تسلیم کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم اس سال بڑی عالمی وبا سے نمٹ رہے ہیں ہم نے اس تباہ کن وبائی بیماری سے بہت کچھ کھو دیا ہے جو دنیا بھر میں زندگیوں کا دعویٰ کرتا رہتا ہے اور ہمارے وجود پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ ہم سوگ منا رہے ہیں لاکھوں لوگ ، ہر قوم کے لوگ ، ہر پس منظر سے۔ ہر موت ایک انفرادی دل کی دھڑکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ "ہماری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن دہائی ہے” جو "ہمارے مستقبل کا لفظی تعین کرے گی۔”
وبائی مرض پر ، بائیڈن نے پوچھا: "کیا ہم جان بچانے کے لیے مل کر کام کریں گے ، کوویڈ 19 کو ہر جگہ شکست دیں گے ، اور اگلی وبا کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے ضروری تناؤ لیں گے ، کیونکہ وہاں کوئی اور ہوگا۔ ہمارے اختیار میں جب زیادہ خطرناک قسمیں پکڑ لیتی ہیں؟ ”
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ ماضی کی جنگیں جاری رکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھے گا۔
بائیڈن نے کہا کہ دنیا تاریخ کے ایک موڑ پر ہے۔
"ماضی کی جنگوں کو جاری رکھنے کے بجائے ، ہم اپنے وسائل کو ان چیلنجوں میں لگانے پر توجہ دے رہے ہیں جو ہمارے اجتماعی مستقبل کی کنجی ہیں۔ اس وبائی مرض کا خاتمہ ، آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے ، عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلیوں کا انتظام ، بائیڈن نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ تجارت ، سائبر اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے اہم مسائل پر دنیا کے قوانین کو تشکیل دینا اور دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بائیڈن کہا کہ "ہم نے افغانستان میں 20 سال سے جاری تنازع کو ختم کر دیا ہے ، اور جب ہم مسلسل جنگ کے اس دور کو ختم کر رہے ہیں ، ہم اپنی ترقیاتی امداد کی طاقت کو لوگوں کو اٹھانے کے نئے طریقوں میں سرمایہ کاری کے لیے بے پناہ سفارت کاری کا ایک نیا دور کھول رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ، جمہوریت کی تجدید اور دفاع کرنے ، یہ ثابت کرنے سے کہ ہم چاہے کتنے ہی مشکل یا پیچیدہ مسائل کا سامنا کر رہے ہوں ، حکومت کی طرف سے اور لوگوں کے لیے حکومت اب بھی ہمارے تمام لوگوں کو فراہم کرنے کا بہترین طریقہ ہے-
آخری امریکی فوجی اگست کے آخر میں افغانستان سے نکل گئے۔
صدر نے کہا کہ توجہ ہند بحرالکاہل خطے کی طرف ہو گی ، اور انہوں نے اتحادیوں اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔
"اور جیسا کہ امریکہ ہماری توجہ کو ترجیحات اور دنیا کے خطوں جیسے انڈو پیسفک پر مرکوز کرتا ہے جو آج اور کل سب سے زیادہ نتیجہ خیز ہیں ، ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور کثیر الجہتی اداروں جیسے اقوام متحدہ کے ذریعے ایسا کریں گے ہماری اجتماعی طاقت اور رفتار کو بڑھانے کے لیے ، ان عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہماری پیش رفتار تیز ترین ہو گی-
صدر بائیڈن نے دوبارہ کہا کہ امریکہ بین الاقوامی مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی ، عالمی صحت اور وبائی امراض پر اپنا قائدانہ کردار واپس لے رہا ہے۔
انہوں نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا ، "ہم بین الاقوامی فورمز ، خاص طور پر اقوام متحدہ میں میز پر واپس آئے ہیں ، تاکہ توجہ مرکوز کریں اور مشترکہ چیلنجز پر عالمی کارروائی کی حوصلہ افزائی کریں۔”
انہوں نے اپنے خطاب میں اس اتحاد پر زور دیا جو اس نے اس سال نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن ، یورپی یونین ، ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز اور ہندوستان ، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ "آج اور کل” کے چیلنجوں اور خطرات سے نمٹنے کے لیے "کواڈ” شراکت داری پر زور دیا ہے۔ ”
"ہم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں دوبارہ شامل ہیں ، اور دنیا بھر میں زندگی بچانے والی ویکسین کی فراہمی کے لیے کوویکس کے ساتھ قریبی شراکت میں کام کر رہے ہیں۔ ہم پیرس آب و ہوا کے معاہدے میں دوبارہ شامل ہوئے ، اور ہم اگلے سال انسانی حقوق کونسل میں دوبارہ نشست لینے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں۔ ”
انہوں نے مزید کہا کہ”جیسا کہ امریکہ دنیا کو عمل کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، ہم نہ صرف اپنی طاقت کی مثال لے کر آگے بڑھیں گے بلکہ انشاءاللہ اپنی مثال کی طاقت سے کام کریں گے-
صدر بائیڈن نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کے لیے متحد ہوں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود لوگوں کو یہ بتائیں کہ یہ بحران "سرحد کے بغیر” ہے۔
‘ بائیڈن نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ "یہ سال سرحدوں کے بغیر آب و ہوا کے بحران سے وسیع پیمانے پر موت اور تباہی بھی لے کر آیا ہے۔ موسم کے انتہائی واقعات جو ہم نے دنیا کے ہر حصے میں دیکھے ہیں-اور آپ سب اسے جانتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں-اس کی نمائندگی کرتے ہیں جسے سیکرٹری جنرل نے صحیح کہا ہے ‘ کوویڈ ریڈ برائے انسانیت –
بائیڈن نے اس بات کو دہرایا کہ سائنس دان اور ماہرین دنیا کو بتا رہے ہیں کہ "ہم تیزی سے لفظی معنوں میں واپسی کے نقطہ پر پہنچ رہے ہیں۔”
بائیڈن نے کہا ، "گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے اہم ہدف کو اپنے اندر رکھنے کے لیے ، جب ہم COP26 کے لیے گلاسگو میں ملیں گے تو ہر قوم کو اپنے ممکنہ عزائم کو میز پر لانا ہوگا۔” "اور پھر ہمیں وقت کے ساتھ اپنے اجتماعی عزائم کو بلند کرتے رہنا ہے۔”
امریکی صدر نے آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنی انتظامیہ کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپریل میں ، انہوں نے پیرس معاہدے کے تحت اپنے ملک کے نئے ہدف کا اعلان کیا کہ "امریکہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 50 فیصد سے 52 فیصد تک 2005 کی سطح سے 2030 تک کم کریں۔”
انہوں نے مزید کہا ، "اور میری انتظامیہ ہماری کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ گرین انفراسٹرکچر اور الیکٹرک گاڑیوں میں اہم سرمایہ کاری کی جاسکے جو ہمارے آب و ہوا کے اہداف کی طرف گھر میں ترقی کو بند کرنے میں ہماری مدد کرے گی۔”
صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج "اپنے ، اپنے اتحادیوں اور حملے کے خلاف ہماری دلچسپی” کا دفاع جاری رکھے گی ، انہوں نے مزید کہا کہ مشن "واضح اور قابل حصول ہونا چاہیے۔”
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے ایک ریمارکس میں کہا ، "امریکی فوجی طاقت ہمارا آخری حربہ بننا چاہیے نہ کہ ہمارا پہلا اور نہ ہی اسے ہر اس مسئلے کے جواب کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے جو ہم دنیا بھر میں دیکھتے ہیں۔”
بائیڈن نے مزید کہا: "درحقیقت ، آج ہمارے بہت سے بڑے خدشات کو ہتھیاروں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کا ازالہ کیا جا سکتا ہے کوویڈ 19 یا اس کے مستقبل کی مختلف حالتوں کے خلاف دفاع نہیں کر سکتیں۔ اس وبا سے لڑنے کے لیے ہمیں سائنس کے اجتماعی عمل کی ضرورت ہے۔ ہمیں جتنی جلدی ممکن ہو بازوؤں میں شاٹس لینے اور دنیا بھر میں جان بچانے کے لیے آکسیجن ، ٹیسٹ ، علاج تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امریکی ویکسین بانٹنے کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھر کی کمیونٹیز میں "امید کی تھوڑی مقدار” فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے عالمی کوویڈ 19 کے جواب میں 15 بلین ڈالر سے زیادہ کا تعاون کیا ہے ، "کوویڈ 19 ویکسین کی 160 ملین سے زیادہ خوراکیں دوسرے ممالک کو بھیجیں۔”
انہوں نے کہا کہ اس میں ہماری اپنی سپلائی سے 130 ملین خوراکیں اور فائزر ویکسین کی ڈیڑھ ارب خوراک کی پہلی قسطیں شامل ہیں جو ہم نے کوویکس کے ذریعے عطیہ کرنے کے لیے خریدی ہیں۔
بائیڈن نے کہا کہ کل امریکہ کی میزبانی میں عالمی کوویڈ 19 سربراہی اجلاس میں ، وہ امریکہ کی جانب سے کوویڈ 19 کے خلاف پوری دنیا میں لڑنے کے لیے اضافی وعدوں کا اعلان کریں گے تاکہ "کوویڈ 19 کے خلاف جنگ کو آگے بڑھایا جاسکے اور اپنے آپ کو مخصوص اہداف کے بارے میں جوابدہ ٹھہرائیں۔ تین اہم چیلنجز – اب جان بچانا ، دنیا کو ویکسین لگانا ، اور بہتر تعمیر کرنا۔
منگل کو اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ عالمی تجارت اور اقتصادی ترقی کے نئے قوانین پر عمل کرے گا۔
صدر نے کہا ، "ہم عالمی تجارت اور معاشی ترقی کے نئے قوانین پر عمل کریں گے ، کھیل کے میدان کو برابر کریں گے تاکہ یہ کسی ایک ملک میں دوسروں کی قیمت پر مصنوعی طور پر نہ دیا جائے اور ہر قوم کو منصفانہ مقابلہ کرنے کا حق اور موقع ملے۔”
جوبائیڈن نے کہا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ مزدوروں کے بنیادی حقوق ، ماحولیاتی محافظ اور دانشورانہ املاک محفوظ رہیں اور عالمگیریت کے فوائد ہمارے تمام معاشروں میں وسیع پیمانے پر مشترکہ ہوں۔
جوبائیڈن نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی مصروفیات کی حفاظت جو کہ دنیا بھر کی قوموں کی ترقی کے لیے ضروری ہے نیویگیشن کی آزادی ، بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پابندی ، خطرے کو کم کرنے اور شفافیت بڑھانے کے لیے ہتھیاروں کے کنٹرول کے اقدامات کی حمایت جیسے بنیادی وعدے یہ سب بہت ضروری ہیں-
بائیڈن نے کہا کہ”جیسا کہ ہم ان فوری چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں ، چاہے وہ دیرینہ ہوں یا نئے ابھرتے ہوئے ، ہمیں ایک دوسرے سے بھی نمٹنا چاہیے۔ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کا فرض ہے کہ وہ میرے تعلقات کو احتیاط سے سنبھالیں۔ لہذا وہ ذمہ دار مقابلے سے تنازعہ کی طرف اشارہ نہیں کرتے-
ان کے تبصرے اس وقت آئے جب یورپی رہنماؤں اور وائٹ ہاؤس کے درمیان خراب آبدوز کے معاہدے پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ فرانسیسی حکومت پچھلے ہفتے سے پریشان ہے ، جب آسٹریلیا نے فرانس سے روایتی آبدوزیں خریدنے کے لیے ایک بہت بڑا معاہدہ ترک کردیا۔ اس کے بجائے ، امریکہ اور برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ آسٹریلیا کو نیو سیکورٹی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں حاصل کرنے میں مدد کریں گے۔ NEW YORK, NEW YORK – SEPTEMBER 21: U.S. President Joe Biden addresses the 76th Session of the U.N. General Assembly on September 21, 2021 at U.N. headquarters in New York City. More than 100 heads of state or government are attending the session in person, although the size of delegations is smaller due to the Covid-19 pandemic. (Photo by Timothy A. Clary-Pool/Getty Images)
اس اقدام نے مغربی اتحاد میں ایک نئی دراڑ کھولی ہے اور دیگر یورپی عہدیداروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی عوامی تنقید کو جنم دیا ہے۔
بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اعلان کیا کہ امریکہ بھوک ختم کرنے اور اندرون و بیرون ملک کھانے کے نظام میں سرمایہ کاری کی کوشش کے لیے 10 ارب ڈالر کا وعدہ کرے گا۔
بائیڈن نے کہا کہ”ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تقریبا 3 میں سے 1 افراد کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں ہے ، صرف پچھلے سال ، امریکہ نے اپنے شراکت داروں کو فوری غذائیت سے نمٹنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم کیا ہے کہ ہم آنے والی دہائیوں تک دنیا کو پائیدار خوراک فراہم کر سکیں۔
ایک آزاد یہودی ریاست کے لیے امریکہ کی ’’ واضح ‘‘ حمایت کا اظہار کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیرینہ تنازعے کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں۔
بائیڈن نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ دو ریاستی حل اسرائیل کے مستقبل کو یہودی جمہوری ریاست کے طور پر یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے ، ایک قابل عمل ، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ساتھ امن میں رہنا۔ ہم اس مقصد سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کبھی بھی اپنے آپ کو ترقی کا امکان ترک نہیں کرنے دینا چاہیے۔
فی الوقت اسرائیل کو اقوام متحدہ نے رکن ملک کے طور پر تسلیم کیا ہے اور فلسطینیوں کو "غیر رکن مبصر ریاست” کا درجہ حاصل ہے۔
صدر بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے "وسیع پیمانے پر موت اور تباہی” کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو اعلان کیا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو بحران سے نمٹنے میں مدد ملے۔
انہوں نے کہا کہ نجی سرمائے کی کوششوں کے ساتھ ، یہ قدم ترقی پذیر ممالک میں آب و ہوا کے عمل کو سپورٹ کرنے کے لیے 100 بلین ڈالر جمع کرنے کے ہدف کو پورا کرے گا۔
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے جب بائیڈن نے کہا کہ دنیا آب و ہوا کے بحران میں "واپسی کے نقطہ نظر” کے قریب پہنچ رہی ہے۔
انہوں نے قوموں پر زور دیا کہ وہ اپنے بلند ترین ممکنہ عزائم کو میز پر لائیں ، جب عالمی رہنما چھ ہفتوں میں اسکاٹ لینڈ میں موسمیاتی سربراہی اجلاس میں بلائیں۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکہ کو عالمی اور گھریلو دہشت گردی کے خلاف چوکس رہنا چاہیے۔
بائیڈن نے عالمی رہنماؤں کے سامنے کہا ، "ہمیں دہشت گردی کے خطرے سے بھی چوکس رہنا چاہیے ، جو دہشت گردی ہماری تمام قوموں کے لیے ہے ، چاہے وہ دنیا کے دور دراز علاقوں سے ہو یا ہمارے اپنے گھر کے پچھواڑے میں۔
جو بائیڈن دہشت گردی کا تلخ ڈنک حقیقی ہے ہم نے تقریبا اس کا تجربہ کیا ہے پچھلے مہینے ، ہم نے کابل کے ہوائی اڈے پر ایک دہشت گردانہ حملے میں 13 امریکی ہیروز اور تقریبا 200 معصوم افغان شہریوں کو کھو دیا۔ امریکہ میں ایک پرعزم دشمن ڈھونڈنا جاری رکھیں۔ اگرچہ دنیا آج 2001 کی دنیا نہیں ہے ، اور امریکہ وہی ملک نہیں ہے جب ہم 20 سال پہلے 9/11 پر حملہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خطرات کا پتہ لگانے اور ان کو روکنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہیں اور ہم ان کو پسپا کرنے اور جواب دینے کی صلاحیت میں زیادہ لچکدار ہیں۔
بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بڑی فوجی تعیناتی کی ضرورت کو کم کرے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم آج اور مستقبل میں پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹیں گے ، جو ہمارے لیے دستیاب ٹولز کی مکمل رینج کے ساتھ ہیں ، بشمول مقامی شراکت داروں کے تعاون سے کام کرنا ، تاکہ ہمیں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتیوں پر اتنے انحصار کرنے کی ضرورت نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم طریقے جو ہم مؤثر طریقے سے سیکورٹی بڑھا سکتے ہیں اور تشدد کو کم کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ پوری دنیا کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جائے جو دیکھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں ان کی ضروریات پوری نہیں کر رہی ہیں۔
صدر بائیڈن نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ ان کا ملک مستقبل پر مرکوز ہے ، اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ اس سمت میں آگے بڑھنے کا ایک قدم ہے۔
"یہ وہ چیلنجز ہیں جن کا ہم تعین کریں گے کہ دنیا ہمارے بچوں اور پوتے پوتیوں کے لیے کیسی ہے اور وہ وراثت میں کیا حاصل کریں گے ہم صرف مستقبل کو دیکھ کر ان سے مل سکتے ہیں میں 20 سالوں میں پہلی بار یہاں کھڑا ہوں۔ بائیڈن نے کہا کہ امریکہ جنگ میں نہیں ہے ہم نے صفحہ پلٹ دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ، "ہماری قوم کی تمام بے مثال طاقت ، توانائی اور عزم ، مرضی اور وسائل اب پوری طرح اور مرکوز ہیں کہ ہمارے آگے کیا ہے ، پیچھے کیا نہیں۔”
بائیڈن نے کہا کہ امریکہ عالمی سطح پر قیادت کرنا چاہتا ہے ، لیکن اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی مدد سے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کو بتایا ، "جیسا کہ ہم آگے دیکھتے ہیں ، ہم قیادت کریں گے ، ہم کوویڈ سے لے کر آب و ہوا ، امن و سلامتی ، انسانی وقار اور انسانی حقوق تک اپنے تمام بڑے چیلنجوں کی قیادت کریں گے ، لیکن ہم اکیلے نہیں جائیں گے۔” . "ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اور ان تمام لوگوں کے ساتھ تعاون کریں گے جو یقین کرتے ہیں جیسا کہ ہم کرتے ہیں ، کہ یہ ان چیلنجوں سے نمٹنے ، مستقبل کی تعمیر ، اپنے تمام لوگوں کو اٹھانے اور اس سیارے کو محفوظ رکھنے کے ہمارے اختیار میں ہے۔ لیکن اس میں سے کوئی بھی ناگزیر نہیں ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔
انہوں نے مزید کہا ، "میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ امریکہ کہاں کھڑا ہے ، ہم بہتر مستقبل کی تعمیر کا انتخاب کریں گے ، ہم ، آپ اور میں۔ ہمارے پاس اسے بہتر بنانے کی مرضی اور صلاحیت ہے۔” "خواتین و حضرات ، ہم مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ آئیے کام کریں۔ آئیے اب اپنا بہتر مستقبل بنائیں۔ یہ ہماری طاقت اور ہماری صلاحیت کے اندر ہے۔”
اس سے قبل اپنی تقریر میں: امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بطور صدر اپنے پہلے ریمارکس میں اپنے ’’ انتھک ڈپلومیسی کے نئے دور ‘‘ کے عالمی نقطہ نظر کو بیان کیا ، اور دنیا سے مشترکہ چیلنجز پر مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا۔
کوویڈ 19 وبائی امراض کے درمیان اسے "انتہائی درد اور غیرمعمولی امکانات کے ساتھ ملنے والا لمحہ” قرار دیتے ہوئے ، بائیڈن نے کہا کہ "مشترکہ غم ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ہمارا اجتماعی مستقبل ہماری مشترکہ انسانیت کو پہچاننے ، اور مل کر کام کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔”
بائیڈن نے اپنے اس عقیدے کو دہرایا کہ یہ ایک "تاریخ کا موڑ نقطہ” ہے اور "دنیا کے لیے فیصلہ کن عشرہ ہونا چاہیے” کا طلوع فجر ہے۔
انہوں نے اس لمحے کو دنیا کی جمہوریتوں کے لیے ایک موقع کے طور پر مرتب کیا ، اور اس وقت تاریخ میں جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے ایک سوال کے طور پر کہ کیا جمہوریت آمریت پر غالب آ سکتی ہے؟
"کیا ہم اس انسانی وقار اور انسانی حقوق کی تصدیق کریں گے اور ان کی پاسداری کریں گے جن کے تحت سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل قوموں اور مشترکہ کاز نے یہ ادارہ بنایا تھا؟” بائیڈن نے پوچھا۔ انہوں نے مزید کہا ، "یا ، ننگے سیاسی طاقت کے حصول میں ان آفاقی اصولوں کو روندنے اور مروڑنے کی اجازت دیں؟ میرے خیال میں ، ہم اس لمحے ان سوالات کے جواب کیسے دیں گے ، چاہے ہم اپنے مشترکہ مستقبل کے لیے لڑنے کا انتخاب کریں یا نہ کریں ، آنے والی نسلوں کے لیے پھر سے گونجیں گے۔
صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ وبائی بیماری کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کریں اور اگلی وبا کو روکنے کے لیے اقدامات کریں ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کریں ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کو عالمی سطح پر مضبوط کریں ، اور تجارت ، سائبر ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور دہشت گردی کے خطرے پر تعاون کریں۔ .
صدر بائیڈن نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ امریکہ سوویت یونین کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری تعطل کی طرح تنازعات کے عالمی دور میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔
بائیڈن نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ، "امریکہ مقابلہ کرے گا ، اور بھرپور انداز میں مقابلہ کرے گا ، اور ہماری اقدار اور ہماری طاقت کے ساتھ قیادت کرے گا۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے لیے کھڑا ہوگا اور کمزور ممالک پر غلبہ حاصل کرنے والے مضبوط ممالک کی کوششوں کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے طاقت ، اقتصادی جبر اور غلط معلومات کے ذریعے علاقے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیا جو کہ امریکہ کی مذموم سرگرمیوں کی مثال ہے۔ پھر بھی ، انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو جارحیت سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا ، "ہم تلاش نہیں کر رہے ہیں – اسے دوبارہ کہیں ہم نئی سرد جنگ یا سخت بلاکس میں بٹی ہوئی دنیا کے خواہاں نہیں ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ایسی قوم کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے جو مشترکہ چیلنجز کے لیے پرامن حل کی طرف قدم بڑھائے اور اس کا پیچھا کرے ، یہاں تک کہ اگر ہم دوسرے علاقوں میں شدید اختلاف رکھتے ہیں ، کیونکہ ہم سب اپنی ناکامی کے نتائج بھگتیں گے۔
صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے 30 منٹ سے زیادہ کے تبصرے کو سمیٹتے ہوئے عالمی برادری کو ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے پیچھے ایک پرامید اپیل کے ساتھ چیلنجوں کی فہرست سے ملاقات کی جو انہوں نے بطور صدر اپنے پہلے خطاب میں پیش کی تھی۔
بائیڈن نے کہا ، "مجھے واضح ہونے دو ، میں اس مستقبل کے بارے میں ناگوار نہیں ہوں جو ہم دنیا کے لیے چاہتے ہیں۔” "مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو انسانی وقار کو اپناتے ہیں۔ اسے روندنا نہیں۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو اپنے لوگوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں ، نہ کہ ان کو روکنے والے۔
بائیڈن نے کہا کہ جمہوریت پرامن مظاہرین ، انسانی حقوق کے علمبرداروں ، صحافیوں ، بیلاروس ، زیمبیا ، شام اور کیوبا جیسے ممالک میں آزادی کے لیے لڑنے والی خواتین میں رہتی ہے ، جبکہ جمہوریت میں امریکہ کی اپنی جدوجہد کو سراہ رہے ہیں۔