Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانوں کو تنہا نہ چھوڑیں شاہ محمود قریشی کی عالمی برادری کو تنبیہہ

    افغانوں کو تنہا نہ چھوڑیں شاہ محمود قریشی کی عالمی برادری کو تنبیہہ

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلسل کہہ رہا تھا کہ امن عمل، مذاکرات اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کا عمل ساتھ ساتھ چلنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سکائی نیوز کودئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ہم ذمہ دارانہ انخلاء کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ عدم تحفظ کا احساس پیدا نہ ہوہماری خواہش تھی کہ انخلاء کے ساتھ ساتھ افغان عوام کے ساتھ انگیجمنٹ جاری رکھی جائے –

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عجلت میں انخلاء،افغان عوام کو تنہا چھوڑنے کے مترادف ہے،یہی وہ غلطی تھی جو نوے کی دہائی میں کی گئی ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اس غلطی کو نہ دہرائے اور افغانوں کو تنہا نہ چھوڑے-

    عالمی برادری کو افغان طالبان کو انگیج رکھنا چاہیے،وزیر خارجہ

    انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ عالمی دہشت گرد تنظیموں کو اپنی موجودگی بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے طالبان قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات حوصلہ افزا ہیں عالمی برادری میں ان بیانات کے حوالے سے اعتماد کا فقدان ہے-

    وزیر خارجہ نے کہا کہ میری رائے میں عالمی برادری کو چاہیے کہ اعتماد کی بحالی کیلئے انہیں جانچ لیں اگر وہ اپنے بیانات کی عملی طور پر پاسداری کرتے ہیں تو ان پر اعتماد کیا جائے طالبان کو بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا طالبان کو بین الاقوامی قوانین اور روایات کا احترام یقینی بنانا ہوگا –

    شیخ رشید سے جاپانی سفیر کی ملاقات، مترجم افغانیوں کے انخلا میں پاکستان سےمدد کی درخواست

    انہوں نے کہا کہ افغانوں کی انسانی و مالی معاونت کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اقتصادی طور پر دیوالیہ نہ ہو پائیں، دیوالیہ ہونے کی صورت میں نتائج مزید خطرناک ہو سکتے ہیں، یہ مت بھولیے کہ لاکھوں افغان مہاجرین پچھلی چار دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہیں-

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی چیئرمین پی آئی اے کو مبارکباد

    شاہ محمود نے کہا کہ طالبان کی کابل آمد سے افغان مہاجرین کے اندر وطن واپسی کی امید کا پیدا ہونا اور ان کی جانب سے مسرت کا اظہار، فطری بات ہے، پاکستان پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان، نے خلوص نیت کیساتھ، افغانستان میں قیام امن کی عالمی کاوشوں میں معاونت کی الزامات لگانے والوں کو یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیئے کہ طالبان پہلے سے افغانستان میں موجود تھے طالبان قیادت دوحہ میں مذاکرات کر رہی تھی، افغانستان کے چالیس سے پنتالیس فیصد علاقہ پر طالبان کی عملداری، پہلے سے تھی-

    پیپلز پارٹی کا حکومت سے افغانستان کے معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

  • وزیراعظم کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے جاری اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے جاری اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے متعلقہ معاملات پر جائزہ اجلاس ہوا-

    باغی ٹی وی : اجلاس میں وزیر تعلیم شفقت محمود ، وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین ، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر ، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن اور دیگرسینئر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ رواں مالی سال 2021-22 کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کوملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے 168 منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے 42 ارب روپے مختص کیے گۓ ہیں۔ان منصوبوں میں 29 ارب روپے مالیت کے 128 جاری منصوبے جبکہ 12 ارب روپے مالیت کے 40 نئے منصوبے شامل ہیں۔

    وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

    ملکی وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کی غرض سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اعانت سے چلنے والے وظائف کے پروگرام کا جائزہ لینے کی ہدایت
    وزیر اعظم کی صوبوں میں وفاقی حکومت کی معاونت سے چلنے والی مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ معیار تعلیم کو یقینی بنانے اوروفاق کی جانب سے مہیا کردہ مالی وسائل کے بہترین استعمال کے حوالے سے نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی-

    نظام تعلیم اور یونیورسٹیوں کے حوالے سے بھی جزا و سزا کا نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی تاکہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسیوں کا موثر طریقے سے نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیمی نظام کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق علم و ہنر سے آراستہ کرکے موجود مواقع سے استفادہ کرنے کے قابل بنایا جا سکے-

  • بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون

    بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون

    سری نگر: بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون-

    باغی ٹی وی : حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طبیعت شدید ناساز تھی سید علی گیلانی کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی، انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات تھیں تاہم کشمیری تحریک کے عظیم لیڈر سید علی گیلانی صاحب آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 92 سالہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا انتقال سری نگر میں ہوا کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کی رحلت کی تصدیق خاندان کے ایک فرد نے کی ہے۔

    سید علی شاہ گیلانی ،مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما ، کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے ہے 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والے 88 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر 72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا آواز ہیں۔ اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کا آغاز جماعت اسلامی کشمیر کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن رہے جبکہ انہوں نے جدوجہد آزادی کے لیے ایک الگ جماعت "تحریک حریت” بھی بنارکھی ہے جو کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔

    بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی معروف عالمی مسلم فورم "رابطہ عالم اسلامی” کے رکن ہیں۔ حریت رہنما یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنما تھے ان سے قبل سید ابو الاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی شخصیات برصغیر سے "رابطہ عالم اسلامی” فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔

    مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے اور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح ہیں۔ وہ اپنے دور اسیری کی یادداشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کی جس کا نام "روداد قفس” ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔

    پاکستان کے 73یوم آزادی کے موقع پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب میں عطا کیا۔ یہ اعزاز اسلام آباد میں حریت رہنماؤں نے وصول کیا۔

  • پیپلز پارٹی کا حکومت سے افغانستان کے معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

    پیپلز پارٹی کا حکومت سے افغانستان کے معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

    چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات ہیں اور پاکستان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے پیپلز پارٹی ہمیشہ قومی معاملات مشترکہ اجلاس بلا کر یکجہتی پیدا کرتی تھی-

    بلاول بھٹو کی ہدایت پرپنجاب میں پی پی کی تنظیم سازی، قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور سمیت دیگر ارکان…

    شیری رحمان نے مزید کہا کہ قومی یکجہتی کا کوئی متبادل نہیں، ساری دنیا دیکھے گی کہ پاکستان کے پارلیمان کی آواز ہے پیپلز پارٹی کے دور میں پارلیمان کی شراکت دار فعال تھی، اس شراکت داری کو بحال کرنے کی ضرورت ہے-

    انہوں نے کہا کہ مہاجرین اور دیگر معاملات پر گفت و شنید ہونی چاہئے افغانستان میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں افغانستان میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی طے ہوئی تھی-

    بجلی مہنگی کرنے کی تیاریاں، فی یونٹ حیران کن اضافے کا امکان

  • طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کو غیر ملکی دورے کی اجازت دیدی، ٹیم کس ملک کے دورے پر جائے گی؟

    طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کو غیر ملکی دورے کی اجازت دیدی، ٹیم کس ملک کے دورے پر جائے گی؟

    کابل: طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حامد شنواری نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی ٹیم کو آسٹریلیا بھیجنے کی منظوری مل گئی ہے۔دونوں ٹیموں کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ آسڑیلوی شہری ہوبارٹ میں ٹی 20 کرکٹ ورلڈکپ کے بعد شیڈول ہے۔

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    انہوں نے بتایا کہ افغانستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ گذشتہ برس 27 نومبر سے یکم دسمبر تک کھیلا جانا تھا تاہم کورونا کی وجہ سے اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔

    حامد شنواری کے مطابق آسٹریلیا کے دورے سے قبل افغان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی شرکت کرے گی جو متحدہ عرب امارات میں 17 اکتوبر سے 15 نومبر 2021 تک شیڈول ہے۔

    امریکیوں کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف

    واضح رہے کہ کابل پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں عالمی دنیا اور افغان قوم کو اہم پیغام دیے، کابل میں حالات زندگی معمول پر ہیں، تعلیمی ادارے، بازار کھلے ہیں، خواتین بھی دفاتر میں کام کر رہی ہیں، طالبان میں اس بار بدلاؤ آیا ہے اور خواتین کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، طالبان کی جانب سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی،کابل سے نمائندہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے شہریوں سے  اسلحہ جمع کیا اور کہا کہ اب حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، طالبان نے ریڈیو ،ٹی وی کے دفاتر سمیت مختلف مقامات کا بھی دورہ کیا اور ملازمین سے بات چیت کی،

    افغان طالبان کی جانب سے شہریوں کو مسلسل پیغامات دیئے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے کام معمول کے مطابق جاری رکھیں، دوسری جانب افغان شہریوں کی جانب سے بھی طالبان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، افغان شہری طالبان کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ تصور کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ امریکی فوج نے31 اگست کی رات افغانستان سے اپنا انخلاء مکمل کر لیا تھا۔ امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے دوران تقریبا ڈھائی ہزار امریکی فوجی، 2 لاکھ 40 ہزار افغان شہری ہلاک ہوئے اور اس پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔ امریکا اور اس کے اتحادی گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک وسیع مگر افراتفری والی ایئرلفٹ کے ذریعے کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے

    طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا امریکی فوج کے انخلا کے بعد کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، غیرملکیوں کو نکالنے کیلئے ہم نے جہاد اورسیاسی راستہ بھی اختیار کیا، دوحہ معاہدے کے تحت غیرملکی افواج نے نکلنے کا فیصلہ کیا،حکومت کے قیام کے بعد قومی فوج کی تیاری پر بھرپور توجہ دینگے، دوحہ معاہدہ اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، اب کوئی جواز نہیں کہ کوئی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کریں۔ ہ اگر ہم سپر پاورز کو ہرا سکتے ہیں تو کوئی گروپ بھی ہمارے لیے مسئلہ نہیں، کابل سے جوحکم جاری ہوگا وہ پورے افغانستان پرلاگو ہوگا، پہلے ہم بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہم میں ملٹری صلاحیت ہے، حقانی صاحب امارت اسلامی کے ڈپٹی امیر ہیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا افغانستان میں بری طرح ناکام ہوا، افغانستان پر بری نظر رکھنے والے امریکی انجام کو دیکھیں۔

    طالبان کا وادی پنجشیر کے باشندوں کے لئے براہ راست پیغام، احمد مسعود پریشان

  • افغان طالبان کا خوف یا کچھ اور، مودی سرکار کی نئی چال سامنے آ گئی

    افغان طالبان کا خوف یا کچھ اور، مودی سرکار کی نئی چال سامنے آ گئی

    افغان طالبان کا خوف یا کچھ اور، مودی سرکار کی نئی چال سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی افغان طالبان کے سامنے جھکنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں

    اس ضمن میں مودی نے ایک اعلیٰ سطح کا وفد تشکیل دیا ہے جو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے گا مودی کی زیر صدارت اجلاس میں تشکیل دیئے جانے والے وفد میں بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں

    مودی کی زیر صدارت اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ بھارت سرکار نے افغانستان میں سرمایہ کاری کی تھی اب طالبان کی حکومت آنے کے بعد سرمایہ کاری ڈوبنی نہیں چاہئے، اس ضمن میں افغان طالبان کے ساتھ رابطے ضروری ہیں،یہ وفد روزانہ ایک میٹنگ کرے گا اور افغانستان کی صورتحال پر جائزہ رپورٹ بنا کر بھارتی وزیراعظم مودی کو پیش کرے گا، اب تک اس گروپ کے پانچ اجلاس ہو چکے ہیں،

    مودی کی زیر صدارت اجلاس میں اس بات پر بھی ٍغور کیا گیا کہ طالبان کے ساتھ روابط اسلئے بھی ضروری ہیں کہ وہ کہیں کشمیر کی طرف نہ آ جائیں، اگر طالبان نے کشمیر کا رخ کر لیا تو پھر انہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا

    افغانستان کی صورتحال پر مودی سرکار کیا کر رہی ہے اس ضمن میں بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کو بھی مودی سرکار نے اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے،

    دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق مودی اور اسکی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان حکومت بنا لیتے ہیں تو انکے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کئے جائیں گے تا ہم افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا، اس ضمن میں مودی کو اسکے مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کو دیکھ کر پھر ہی بھارت کوئی فیصلہ کرے،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار ضرورت پڑنے پر طالبان حکومت سے رابطہ کرے گی اور ممکنہ طور پر یہ رابطہ کسی دوسرے ملک کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے، مودی کی خواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں تا کہ بھارت کو کوئی خطرہ نہ ہو ،دوسری جانب مودی کو اسکے ایڈوائیزر محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں،

    دوسری جانب قطر میں تعینات بھارتی سفیر دیپک متل کی طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات ہوئی ہے،اس ملاقات میں بھارتی سفیر نے اپنے ملک کے شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لئے بات چیت کی،ملاقات میں بھارتی سفیر نےافغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے خدشے کا اظہار کیا جبکہ طالبان رہنما نے انہیں مسائل کے مثبت حل کی یقین دہانی کروائی ۔ طالبان ترجمان کی جانب سے ابھی تک اس ملاقات کے حوالہ سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    افغانستان سے غیر ملکی صحافیوں کا انخلا ،وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس

    افغان طالبان نے حکومت سازی کے حوالہ سے اہم اعلان کر دیا

    مودی افغان طالبان کے سامنے "جھکنے” کو تیار

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    واقعی طالبان کشمیر پہنچ گئے؟ بھارتی فوج کی دوڑیں لگ گئیں

  • دوحہ میں جو معاہدہ طے ہوا وہ سب طالبان نے کر دکھایا ،دنیا اب ان کے ساتھ تعاون کرے            علماءمشائخ کنونشن کا مطالبہ

    دوحہ میں جو معاہدہ طے ہوا وہ سب طالبان نے کر دکھایا ،دنیا اب ان کے ساتھ تعاون کرے علماءمشائخ کنونشن کا مطالبہ

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کے زیر اہتمام علماءمشائخ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں پیر چراغ الدین شاہ، علامہ عارف حسین واحدی سمیت علماءو مشائخ شریک ہوئے –

    باغی ٹی وی : علامہ طاہر محمود اشرفی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیاکہ افغانستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کے موقف کی تائید کرتا ہےعالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں وہ افغانستان کو اس صورت میں تنہا نہ چھوڑیں ۔عافیہ صدیقی آج بھی امریکہ میں قید ہے، اس پر گزشتہ ہفتے حملہ ہوا ہے، اپنے بھی گریبان میں بھی جھانکیں،جب افغانستان میں جنگ ہی ختم ہوگئی ، جب کروڑوں کے سروں کی قیمتیں لگانے والوں سے معاہدہ کرلیا تو عافیہ کیوں قید ہے ؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فوری رہا کیا جائے-

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بھی دل کی آواز ہے، حکومت بھی اپنی کوششیں کررہی ہے،یہ کنونشن حکومت پاکستان، وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا جائے ،ہم یو این او، امریکہ، او آئی سی اور برطانیہ سے کہتے ہیں کہ مظلوم عورت کو رہا کیا جائے ،اب کوئی جواز نہیں ہے عافیہ صدیقی کو پابند سلاسل رکھا جائے ۔

    انہوں نے کہاکہ دوحہ میں جو معاہدہ طے ہوا وہ سب افغان طالبان نے کرکے دکھایا ہے ،دنیا طالبان کے ساتھ اب تعاون کرے تاکہ اس خطے میں امن آئے افغانستان کا امن پاکستان کا امن ہے، پاکستان کا امن افغانستان کا امن ہے، افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، طالبان کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں-

    اعلامیے میں کہا گیا کہ 20 سال سے افغانستان میں بیٹھ کر ہندوستان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کروا رہا تھا،پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر محرم سمیت پورے سال عمل کرایا جائے ، اب ہندوستان پاکستان کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی سازشیں کررہا ہے ،کابل پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،پاکستان کے علما و مشائخ طالبان کی عام معافی اور انصاف پر مبنی حکومت کے قیام کے اعلان کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ افعانستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کا موقف درست سمت اور عوامی امنگوں کے مطابق ہے ،اس حوالے سے سپہ سالار پاکستان جنرل باجوہ کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، حزب اختلاف اور حزب اقتدار کو قومی معاملے پر قومی مفاہمت کی دعوت دیتے ہیں، حرمین شریفین پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے او آئی سی کو کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، او آئی سی کا فوری اجلاس بلاکر پر افغانستان کے معاملے پر متفقہ موقف اپنایا جائے ،جمعہ کو یوم وحدت کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں خواتین کے حوالے سے ہونے والے واقعات تشویشناک ہیں ،نور مقدم اور مینار پاکستان والے کیسز سمیت 10 کیسز کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے ، خواتین کے ساتھ زیادتی کی کیسز کے سپیڈی ٹرائل کرکے مجرموں کو سر عام سزائیں دی جائیں ،اسلام نے مرد و عورت دونوں کو حقوق اور انہیں تنبیہ بھی کی ہے ،فیک نیوز ایک بڑا مسئلہ ہے، اس کا تدارک ضروری ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ ہم آزادی اظہار کے قائل ہیں، تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت سے قانون سازی کی جائے،یکم ستمبر تا 10 ستمبر تک عشرہ شہدائے ملت کے طور پر منائیں گے ، یکم جنوری 2022ء میں عالمی علماء کانفرنس کا انعقاد ہوگا جبکہ اکتوبر میں بڑے علما و مشائخ کنونشن کا انعقاد ہوگا۔

    کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد الحق حقانی نے کہاکہ افغانستان میں طالبان نے پرامن طریقے سے کنٹرول حاصل کرلیا ہے ،افغان طالبان دوچار روز میں حکومت سازی کرلیں گے ،روس کے بعد امریکہ کی شکست نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے افغانستان سپرپاورز کا قبرستان ہے ، آج پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کے نکل جانے پر خوشی کا سماں ہے ،طالبان ایسی حکومت قائم کریں گے جس میں تمام مسالک اور قبائل شامل ہوں گے ،حکومت پاکستان افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہے ،افغان طالبان بدلے ہوئے طالبان ہیں ،افغانستان کی طرح کشمیر اور فلسطین بھی جلد آزاد ہوں گے۔

  • طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں   غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ

    طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان ایرانی طرز حکومت اپناتے ہوئے سپریم لیڈر چنیں گے-

    باغی ٹی وی :افغانستان میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں کئی باتیں منظرعام پر آرہی ہیں مگر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان ایرانی حکومت کی طرح اپنے گروپ کے سربراہ ہبت اللہ اخوانزادہ کو سپریم لیڈر نامزد کریں گے۔

    طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں جس میں صدر اور کابینہ تو موجود ہوتے ہیں مگر سپریم لیڈر بطور مذہبی رہنما تمام اختیارات اپنے پاس رکھتے ہیں سپریم لیڈر صدر کے احکامات کو بھی ناقص العمل قرار دے سکتے ہیں اور وہی تمام فیصلوں میں سب سے طاقت ور آواز رکھتے ہیں۔

    امریکیوں کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف

    واضح رہے کہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہناتھا کہ ملا ہبت اللہ افغانستان کے صوبے قندھار میں موجود ہیں، اور وہ شروع سے وہیں مقیم ہیں-

    رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے حکومت کے قیام کے حوالے سے اہم ترین فیصلے کرلیے ہیں حکومت سازی کے متعلق اہم فیصلے طالبان کی سپریم کونسل کے منعقدہ اجلاس میں کیے گئے۔

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس ضمن میں ’ٹوئٹر‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سپریم کونسل کا تین روزہ اجلاس امیر طالبان ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی سربراہی میں قندھار میں ہوا جو ہفتے سے پیر تک جاری رہا۔

    اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی فرارہوجائےگا،افغان طالبان کی ڈیڈ لائن کا احترام نہ…

    دوسری جانب طالبان رہنما عباس ستانکزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کا اعلان آئندہ 24 سے 48 گھنٹے میں متوقع ہے. انہوں نے کہا ہے کہ طالبان حکومت میں پرانے چہرے شامل نہیں ہوں گے ہرقومیت کے نئے اہل افراد کو نئی حکومت کا حصہ بنایا جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت میں سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی ہو گی-

    طالبان کی حمایت میں بولنے پر بھارت میں دو مقدمے درج

    حامد کرزئی،عبداللہ عبداللہ سے طالبان رہنماؤں کی ملاقات، بڑی یقین دہانی کروا دی

    طالبان رہنما متحرک، حامد کرزئی کے بعد گلبدین حکمت یار سے ملاقات

    امریکا اور اس کے حواریوں کی طرح بھارت بھی کشمیر سے بھاگے گا، سید علی گیلانی

    افغان طالبان کا خواتین سمیت سب شہریوں کو اپنی ملازمتوں پر جانے کی ہدایت

    ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

    امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    افغانستان سے غیر ملکی صحافیوں کا انخلا ،وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس

    افغان طالبان نے حکومت سازی کے حوالہ سے اہم اعلان کر دیا

    مودی افغان طالبان کے سامنے "جھکنے” کو تیار

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    پیرس حکومت طالبان سے مذاکرات کررہی یا نہیں؟ فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتا دیا

     

    افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان کی مکمل توجہ نئی حکومت بنانے کی طرف ہے جبکہ امریکیوں کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف سامنے آیا ہےخبر رساں ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی باشندوں کا بحفاظت انخلا طالبان کی مدد اور نگرانی میں ہوا،امریکی فوج نے افغان طالبان سے خفیہ مذاکرات کیے،طالبان امریکی باشندوں کو ایئرپورٹ کے خفیہ دروازوں پر چھوڑ گئے-

    امریکی اسپیشل فورسز نے کابل ایئر پورٹ پر خفیہ دروازہ اور کال سینٹرز قائم کیے تھے،خفیہ دروازہ اور کال سینٹرز کے ذریعے امریکیوں کو انخلا کا طریقہ کار سمجھایا گیا،کال سینٹرز پرامریکیوں کو ایئرپورٹ کے قریب خفیہ مقام پر جمع ہونے کا کہا گیا تھا، طالبان نے امریکیوں کی شناختی دستاویزات چیک کرکے انہیں خفیہ دروازے تک پہنچایا، دروازہ خصوصی طور پر امریکیوں کے ایئر پورٹ کے لیے بنایا گیا تھا،طالبان کی مدد سے انخلا کے ایک دن میں کئی مشن سرانجام دیئے گئے-

  • نواز شریف اخلاقی جواز کھو بیٹھے، انقلاب کا بینڈ باجا پھر بجنا شروع

    نواز شریف اخلاقی جواز کھو بیٹھے، انقلاب کا بینڈ باجا پھر بجنا شروع

    نواز شریف اخلاقی جواز کھو بیٹھے، انقلاب کا بینڈ باجا پھر بجنا شروع
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔ جلسے جلوسوں، احتجاجوں اور مظاہروں سے نہ تو اسے کوئی فرق پڑتا ہے نہ حکومت ان کو اتنی اہمیت دیتی ہے ۔ کیونکہ حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔۔ اب اس صورتحال میں پی ڈی ایم دوبارہ سے احتجاجی تحریک شروع کرنے جارہی ہے ۔ یہ تھوڑا سمجھ سے باہر ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیونکہ آپ دیکھیں ایک جانب وکلاء احتجاجی تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کی پولیس سے مڈبھیڑ شروع ہو چکی ہے۔ مہنگائی اور گورننس کی تو کیا بات کرنی ۔ اس کو چھوڑ ہی دیں ۔ یہ ہماری سیاسی اشرافیہ کامسئلہ ہی نہیں ہے ۔ پر اس سب کے باوجود حکومت کو کوئی فرق پڑتا نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ کسی سے بھی پوچھ لیں حکومت اپنے پیروں پر مضبوط کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ پر اپوزیشن جماعتوں کے جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم اپنی تحریک کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پی ٹی ایم میں دراڑ تو کافی عرصے پہلے کی پڑی ہوئی ہے ۔ س حوالے سے حکومت کو مریم نواز اور نواز شریف کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ کہ انھوں نے ناممکن کو ممکن کر دیکھایا ۔ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے بغیر پی ڈی ایم ایسی ہی ہے جیسے کھیر میٹھاس کے بغیر ہو۔ اب آپ دیکھیں جہاں حکومت پی ڈی ایم کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے تو پیپلزپارٹی والے تو ان کی بینڈ بجاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب پی ڈی ایم کا حالیہ کراچی جلسہ تو کافی بڑا تھا ۔ اسلام آباد مارچ کا بھی اعلان ہوچکا ہے ۔ شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان ، نواز شریف اور دیگر نے بلند و بانگ دعوے بھی خوب کیے ہیں ۔ مگر قوم دوبار پہلے بھی ان کی احتجاجی تحریکوں اور اسلام آباد پر چڑھائی کو دیکھ چکی ہے ۔ اس لیے حکومت سے شکایتیں اپنی جگہ پر اپوزیشن کی کارکردگی بھی کوئی خاص خاطر خواہ نہیں رہی ۔ یوں پی ڈی ایم بارے یہ کہنا کہ آج بھی یہ ایک مقبول سیاسی اتحاد ہے تو مجھے اس پر کچھ خاص بھروسہ نہیں رہا ۔ ایک سیاسی تحریک کے لئے جو ایندھن چاہیے ہوتا ہے ۔ وہ اس وقت موجود ہے اور یہ خود حکمرانوں نے فراہم کیا ہے۔ پر اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں کے پاس ایک لگثرری ہوتی ہے کہ یہ جب چاہیئں یہ کہہ کر موقف بدل لیتے ہیں کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا ۔ تو اس بار بھی ممکن ہے کہ یہ پی ڈی ایم والے سجی دیکھا کر کھبی مار جائیں اور عوام یوں ہی منہ تکتے رہ جائیں ۔ تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ورکرز وغیرہ تو نکلیں گے ۔ خوب ہلہ گلہ بھی ہوگا ، تقریریں بھی ہوں گی ۔ میڈیا پر برینگنگ نیوز کے پھٹے بھی چلیں گے ، تجزیے بھی ہوں گے ۔ مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ حکومت جہاں کھڑی تھی وہاں ہی کھڑی رہے گی اور پانچ سال عزت کے ساتھ پورے کر گی ۔ بلکہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بن جائیں جو اپنے پانچ سال پورے کرے ۔ اس طرح کرکٹ کے ساتھ ساتھ وہ سیاست میں بھی ایک نیا ریکارڈ بناتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ آپ پراپیگنڈہ کہہ لیں ۔ میڈیا ہینڈلنگ کہہ لیں ۔ عمران خان کی حکومت اس معاملے میں کامیاب ضرور دیکھائی دیتی ہے کہ لوگوں کو اب بھی اس سے امیدیں وابستہ ہیں ۔ چاہے مہنگائی ریکارڈ توڑ رہی ہے ۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔ گورننس کی صورتحال خراب ہے ۔ پر اس سب کے باوجود ابھی تک عوام اپوزیشن کے بیانیے کو own کرتے دیکھائی نہیں دیتی ۔ الٹا سوشل میڈیا پر تو اکثر خوب تنقید کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ یوں لوگ ابھی بھی ملک لوٹنے والوں اور احتساب کے قصے پھنسے دیکھائی دیتے ہیں ۔ حالانکہ احتساب ہوتا کہیں دیکھائی نہیں دیتا ۔ اور شاید لوگوں نے یہ بھی کڑوی گولی سمجھ کر نگل لی ہے کہ جہاں تین سال عثمان بزدار اور محمود خان کے ساتھ گزارا کر لیا ہے اگلے دو سال بھی کر لیں گے ۔ کہ ایک بار اس حکومت کو پانچ سال پورے کر ہی لینے دیں ۔ پھر ان سے کارکردگی کا حساب مانگیں گے ۔ پھر ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم اپنا تمام اخلاقی جواز تب کھو بیٹھتی ہے جب نواز شریف تقریر کرنے آتے ہیں ۔ ان کی توپوں کو جو رُخ اسٹبلشمنٹ کی جانب ہوتا ہے ۔ اس سے ہر بار شہباز شریف کی جانب سے کی ہوئی محنت پر پانی تو پھر ہی جاتا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرا آپ لاکھ توجیہات دے دیں لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ نوازشریف بیماری کا بہانہ کرکے باہر بیٹھے رہیں اور خواہش ان کی ہو کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں یا ان کی پارٹی کو حکومت مل جائے ۔ اس سوشل میڈیا کے دور میں لوگوں کو یوں بے وقوف بنانا ممکن نہیں ۔ میرے خیال میں اگر نواز شریف یوں دن دیہاڑے بیماری کا بہانہ کرکے نہ بھاگتے اور پاکستان میں ہی رہتے تو ن لیگ کی سیاست کو زیادہ فائدہ پہنچتا ۔ باہر جا کر انھوں نے ایک تو حکومت کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ سیاسی پوائنٹ سکورننگ کریں ۔ پھر جو وہ کبھی کافی پیتے ، چل قدمی کرتے ، پیزے کھاتے ، پولو میچ دیکھتے اور کبھی نواسے کی شادی پر ہٹے کٹے دیکھائی دیتے ہیں تو پھر لوگوں نے تو سوال کرنے ہی ہیں ۔ یعنی اب نوازشریف کے پاس چاہے کہنے کو بہت کچھ ہو۔ پر لندن میں بیٹھ کر کچھ بھی کہنے کا ہر اخلاقی جواز وہ کھو چکے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک حوالہ مریم نواز کا بھی ہے ۔ آپ دیکھیں جہاں جہاں مریم گئیں ۔ اس چیز کا بیٹرو غرق ہی ہوا ۔ چاہے ن لیگ کی اپنی حکومت ہو ۔ گلگت بلتسان ، کشمیر اور ضمنی الیکشن ہوں ۔ غرض جس جس معاملے میں مریم نواز آگے ہوئیں وہاں وہاں ن لیگ کو سبکی ہوئی ۔ دیکھا جائے تو پی ڈی ایم کا زوال بھی لاہور جلسے سے ہوا ۔ کیونکہ یہ کافی مایوس کن کارکردگی تھی ۔ لوگ بہت کم تعداد میں آئے ۔ جس کا نقصان پی ڈی ایم کی تحریک کو ہوا ۔ لوگوں نے اس وقت ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ مریم نے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ اب کی بار یہ مریم کو ہٹا کر شہباز شریف کو آگے تو لےآئیں ہیں ۔ پر لگتا نہیں ہے کہ اکیلے شہباز شریف خود کچھ کر پائیں گے ۔ کیونکہ مریم اور نواز شریف نے اپنی spoilerکا کردار ادا کرنے والی جبلت سے رکنا نہیں ۔ پر اس سب میں مولانا فضل الرحمان کی پوزیشن دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے تو سب سے اہم بیان اور حوالہ شیخ رشید کا ہی دیا جاسکتا ہے ۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں studentsکی آمد سے کسی کا کچھ بنے یا نہ بنے ۔ مولانا فضل الرحمان کو البتہ ریلیف ملتا دیکھائی دیتا ہے ۔ یقیناً ان کے قد کاٹھ میں بھی مزید اضافہ ہوا ہے ۔ جس کا فائدہ ان کو آنے والے الیکشن میں ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کچھ تو یہ کہہ بھی رہے ہیں کہ شاید 2023کے بعد کے پی کے یا بلوچستان میں سے کسی ایک صوبے میں مولانا حکومت بھی بنا لیں ۔ مگر یہ چیز ابھی قبل ازوقت ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ پی ڈی ایم کا اس وقت کوئی چانس نہیں ہے کہ وہ حکومت کوکوئی ڈینٹ ڈال سکے ۔ ہاں البتہ جنرل الیکشن میں شاید یہ کوئی نقب لگانے میں کامیاب ہوجائیں تو علیحدہ بات ہے ۔ اس لیے مجھے پی ڈی ایم کا یہ نیا ریلا حکومت گرانے سے زیادہ الیکشن تیاری لگتا ہے ۔ حکومتی محاذ پر دیکھا جائے تو وزیرِ اعظم عمران خان ،حکومتی وزیر و مشیر اورپی ٹی آئی کے حامی ،سب کے نزدیک ملک ترقی کررہا ہے اور پی ٹی آئی حکومت گذشتہ ادوار میں قائم ہونے والی حکومتوں سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے ملک چلا رہی ہے۔یہ بہت حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی ہے کیونکہ جب آپ کو ہر چیز ہی ٹھیک دیکھائی دے گی تو آپ بہتری کیا لائیں گے۔ حالانکہ کوئی عوام سے ان کے دل کا حال پوچھے تو وہ بتائیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوں اگر موجودہ حکومت کے اِن تین برس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ ایک جو سب سے بڑا مسئلہ اس حکومت کا رہا ہے کہ وہ یہ ہے کہ عمران خان ہر مسئلہ پر تجزیہ تو پیش کرتے رہے مگرمسئلہ کے حل کی جانب بڑھتے دکھائی نہیں دیے۔ پھر جن مسائل کی کی طرف بڑھنے کی کوشش بھی کی تو وہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو کر رہ گیا۔ بعض سماجی سطح پر جنم لینے والے اَلمیوں پر ایسے سخت بیانات اور ایسا ردِعمل دیا کہ خود کو فریق بنابیٹھے۔ اس کی مثال ہزارہ برادری پر ٹوٹنے والی قیامت کی دی جاسکتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اِن تین سالوں میں منصوبے ضرور بنائے ہیں۔ پر ان پر عمل نہیں کرسکے۔ جیسے وزیر اعظم نے ہسپتال تعمیر کیے،سڑکیں بنائیں،پُل بنائے ،ٹرانسپورٹ کا نظام درست کیا، تعلیمی ادارے قائم کیے ،فیکٹریاں کھڑی کیں،زراعت کے شعبے کو ترقی دی ،نوجوانوں کو نوکریاں دیں،بے روزگاری کا خاتمہ کیا،غربت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بیانات کی حد تک تو ہوا ہے ۔ گراونڈ پر کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔ دیکھا جائے تو حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ہی اپنی گیم کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ عوام سیاست سے بیزار ہوچکے ہیں۔ یوں حکومت تین سال کاجشن منا چکی ہے اب اگلے دوسال مکمل کرنے پر ’’عظیم کامیابی‘‘کا جشن منایا جائے گا اور اپوزیشن اپنے رٹے جملوں کو دُہرائے گی اور سمجھے گی کہ عوام کی ترجمانی کا خوب حق ادا کیا۔

  • آرمی چیف سے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی ملاقات

    آرمی چیف سے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی ملاقات

    آرمی چیف سے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اولمپئنز کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ہمیشہ کھیلوں کو سپورٹ کیا ہے، اولمپکس میں آپ کی شرکت نے پاکستانی قوم بالخصوص نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔ آرمی چیف نے زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی نہ صرف آپ کے لیے اعزاز ہے بلکہ یہ قوم کے لیے باعث فخر بھی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں مستقبل کی کوششوں میں پاک فوج کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کھلاڑیوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوی کی جانب سے حوصلہ افزائی پر اظہار تشکر کیا آرمی چیف سے ملاقات کرنیوالوں میں ارشد ندیم، طلحہ طالب شامل تھے، آرمی چیف سے ملاقات کرنیوالوں میں حوالدار محمدخلیل، سپاہی گلفام جوزف شامل تھے

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج