Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارت سن لے ! کشمیری مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنیکا حق رکھتے ہیں: طالبان ترجمان

    بھارت سن لے ! کشمیری مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنیکا حق رکھتے ہیں: طالبان ترجمان

    کابل: بھارت سن لے ! کشمیری مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنیکا حق رکھتے ہیں:اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغان طالبان مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

    بی بی سی کے ساتھ زوم انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکا کے ساتھ ہونے والے دوحہ معاہدے کی شرائط کو یاد کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی کسی بھی ملک کے خلاف مسلح آپریشن کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

    دوحہ سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین نے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ ان کا حق ہے کہ کشمیر، بھارت اور کسی بھی دوسرے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائیں۔ ہم اپنی آواز بلند کریں گے اور یہ کہیں گے مسلمان آپ کے اپنے لوگ ہیں، آپ کے اپنے شہری ہیں۔ آپ کے قانون کے تحت وہ برابری کے حقوق کے مستحق ہیں۔ بھارت پر دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں 2014ء سے وزیر اعظم نریندرا مودی کے دور حکومت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں اس الزام کی تردید کرتی ہیں۔ تین پڑوسی ممالک سے غیر قانونی طور پر آئے ہوئے غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے متنازع قانون کو بھی مسلمانوں کو ہدف بنانے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

    1999ء میں اغواء ہونے والے جہاز کے الزام پر جواب دیتے ہوئے سہیل شاہین نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے طیارے کے اغوا میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اس حوالے جو مدد فراہم کی اس پر بھارتی حکومت کو شکرگزار ہونا چائیے۔

    بھارت نے ہمیں درخواست کی کہ طیارے میں فیول کم رہ گیا ہے اور اس کے بعد پھر ہم نے محصور مسافروں کی رہائی کے لیے مدد فراہم کی۔سہیل شاہین نے طالبان مخالف پروپیگنڈے کا الزام بھارتی میڈیا پر عائد کیا ہے۔

    سہیل شاہین نے حقانی نیٹ ورک سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ حقانیوں کے خلاف پروپیگنڈہ محض دعوؤں پر مبنی ہے۔ حقانی کوئی گروپ نہیں ہے۔ وہ افغانستان کی اسلامی امارت کا حصہ ہیں۔ وہ اسلامی امارت افغانستان ہیں۔

  • ایک آئیڈیے نے زندگی بدل دی، ڈالروں کی بارش،حیران کن کارنامہ

    ایک آئیڈیے نے زندگی بدل دی، ڈالروں کی بارش،حیران کن کارنامہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ افریقہ میں ivory coastایک چھوٹا سا ملک ہے ۔ مگر یہاں پر ایک ایسا جزیرہ ہے جو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ جہاں سیاحوں کا جم گھٹا لگا رہتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تیرا ہوا جزیرہ ہے ۔ آپ اس کو سمندر میں جہاں مرضی لے جائیں اور جو مرضی نظارے کریں ۔ یہ انسان نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ۔ دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا جزیرہ ہے۔ یہ عابدجان lagonکے مرکز میں واقع ہے۔ ۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ جزیرہ پانی کی خالی بوتلوں سے بنا ہے اور اس میں تمام وہ سہولیات موجود ہیں ۔ جو کسی اچھے اور بڑے ہوٹل میں ہوتی ہیں ۔ بلکہ یہ کسی بڑے ہوٹل سے بھی زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ ماحول دوست ہے ۔ یہاں تک کہ انسانی فضلہ بھی اس جزیرے پر recycle کیا جاتا ہے ۔پھر جو کچھ آپ کسی ہوٹل میں انجوائے کرتے ہیں اور اس میں کر سکتے ہیں جیسا کہjackozi poolrelaxations areasbarsResturantWIFIAC۔ یہ ہوٹل واقعی ایک مصنوعی جزیرہ ہے جو تیرتا ہے۔ اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگی منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مصنوعی جزیرہ یا ہوٹل کو تعمیر کرنے میں 8 لاکھ خالی پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال ہوا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے اس کو تعمیر کیا ہے وہ ایک فرانسیسی ہے اس کا نام ہے ۔Eric Beckerاور اب یہ اس وقت ایک کامیاب کاروبار کر رہا ہے ۔ericکا کہنا ہے کہ اس جزیرہ کو بنانے میں چھ سال لگے ہیں ۔ 2018میں یہ مکمل ہوا تھا ۔ یہ تیرتا جزیرہ ایک ہفتے میں 100سے زائد لوگوں کی مہمان داری کرتا ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے ماحولیاتی ادارے ، میگزین اور نیوز چینلرز اس شخص پر ڈاکیومینٹری بنا چکے ہیں ۔ کیونکہ اسکا یہ آئیڈیا ایک جانب تو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا رہا ہے دوسرا اس آئیڈیا کی وجہ سے coastal lineکی صفائی ہورہی ہے ۔ eric مسلسل beachesسے کچرا خود بھی اکٹھا کرتا ہے اور اس میں اسکی لوکل لوگ مدد بھی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس پلان اس جیسے اور بہت سے جزیرے بنانے کا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب جو مقامی باشندے ہیں وہ eric beckerکو “Eric plastic jug”کہہ کر پکارنا شروع ہوگئے ہیں ۔ ivory coast پر Mr. Eric Becker آئے تو کوئی کام دھندہ کرنے مگر ان کو یہاں گند اور غلاظت ہی دیکھائی دیا ۔ ایک کے بعد ایک تیرتی ہوئی خالی بوتل انکو پانی میں دیکھائی دیتی تھی۔ پھر ایک دن اس نے اسی کوڑے کرکٹ کو استعمال کرکے ایک جنت نما تیرتے ہواجزیرہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس نے اپنے غیر معمولی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی تقریبا ہر چیز بیچ دی۔ شروع میں لوگ اس کو پاگل اور بے وقوف سمجھتے تھے ۔ پر جب یہ جزیرہ بن گیا تو سب حیران بھی ہوئے ۔ اور یہ ہی حیرانی ericاوراسکے جزیرے کی شہرت کا باعث بنی ۔۔ اس جزیرے کی تعمیر میں اس کا پہلا قدم اتنا زیادہ تیرتا ہوا کچرا ڈھونڈنا شامل تھا جتنا کہ وہ اپنے ہاتھ میں اٹھا سکتا تھا – ۔ اس کو بنانے کے لیے eric becker نے تیرتی ہوئی ہر چیز کو اکٹھا کیا۔ پلاسٹک کی بوتلیں ، polystyrene scraps, tap shoes وغیرہ ۔ یہ ایک محنت طلب مشق تھی جو بالآخر اس معاملے میں مہارت کی صورت اختیار کر گئی ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس جزیرے کی عمارتیں پلاسٹک سے بنے پنجروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئیں۔ اس کے بعد انہیں لکڑی اور سیمنٹ کی ہلکی پرت سے ڈھانپ دیا گیا۔ جس سے پوری چیز لکڑی کی تعمیر کا تاثر دیتی ہے ۔ پلاسٹک کا فضلہ صرف زمین کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 260 میٹر لمبا circular bridge کشتیوں کے لیے ساحل کا کام کرتا ہے۔ اس کا کل وزن 200 ٹن ہے۔ اس جزیرہ میں موجود عمارت کو توانائی فراہم کرنے کے لیے سولر پینل اور جنریٹر نصب کیے گئے ہیں ۔ پینے کے پانی کے لیےعمارت کو زمین سے جوڑنے کے لیے پائپ لگائے گئے ہیں۔ جزیرے میں ایک بار ریستوران ، دو سوئمنگ پول ، ایک چھوٹا سا پل ، گھروں میں دو کھلے بنگلے ، مختلف درخت ، اور ایک walk way ہے جو تیرتے ہوئے ڈھانچے کے مرکز سے باہر نکلتا ہے ۔ جو 1000 مربع میٹر پر محیط ہے۔۔ اس resortپر لوگوں کو کشتی کے ذریعے جزیرے پر لایا جاتا ہے۔ اس جزیرے پر ایک دن کا کرایہ 100ڈالر چارج کیا جاتا ہے – جس میں کھانا اور فیری ٹرپ بھی شامل ہے -۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مختلف قسم کا جزیرہ ہے۔ نہ صرف اس کی تیرتی فطرت کی وجہ سے ، بلکہ اس کے بنیادی مواد کی وجہ سے بھی۔ یہ مصنوعی جزیرہ ایک حقیقی تجسس ہے ۔ ۔ اگر دیکھا جائے تو eric نے صرف ایک آئیڈیا سے سوچ کا انداز بدلنے کے ساتھ ساتھ ۔ بڑھتی آلودگی سے نمٹنے کا ایک ایسا فارمولہ دے دیا ہے جس سے دنیا بھر کی آبی گزرگاہوں ، جھیلوں ، ندی نالوں اور جزیروں کو نہ صرف صاف کیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ اس پلاسٹک فضلے سے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں بنائی جاسکتی ہیں ۔ جو فائدہ بھی دے سکتی ہیں اور کارآمد بھی ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ خوبصورتی یہ ہے کہ ہم پلاسٹک کی بوتلوں سے کسی آلودگی کو کسی اچھی چیز میں بدل دیں۔ plastic waste recycling plants بنائے جاسکتے ہیں ۔ جوبہت سے چیزیں بنانے میں کام آسکتا ہے ۔ جب آپ پلاسٹک کی بوتلوں سے جزیرے بنا سکتے ہیں تو کشتیاں بھی بنائی جاسکتی ہے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں ہونگی یقینی طور پر جو بنائی جاسکتی ہوں ۔ ایک چیز جو میں نے بھی اور آپ نے بھی اکثر گھروں میں دیکھی ہو گی کہ لوگ پلاسٹک کی بوتلوں کو پودے لگانے کے لیے بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے بہت سی turtorial videos بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں ۔ Eric Becker کی ایک کہاوت ہے کہ “One man’s trash is another man’s treasure,”یعنی "ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ ہے”۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ eric نے ماحول کو صاف کرنے اور ناممکن کو ممکن کرنے کے علاوہ بہت لوکل لوگوں کو روزگار بھی مہیا کر دیا ہے اور اس چھوٹے سے آئیڈیا کی بدولت اور اس کے جزیرے کی بدولت ivory coast کو دنیا بھر میں مشہور کروادیا ہے ۔ سبق ہم سب کے لیے یہ ہے کہ انسان اس دنیا کو بہتر بنانا چاہے تو صرف ایک پلاسٹک کی خالی بوتل ہی کافی ہے

  • عاصمہ، حامد میر پر غداری کا مقدمہ میں نے نہیں ہونے دیا،ابصار عالم صحافی نہیں، وفاقی وزیر

    عاصمہ، حامد میر پر غداری کا مقدمہ میں نے نہیں ہونے دیا،ابصار عالم صحافی نہیں، وفاقی وزیر

    عاصمہ، حامد میر پر غداری کا مقدمہ میں نے نہیں ہونے دیا،ابصار عالم صحافی نہیں، وفاقی وزیر

    اسلام آباد(محمد اویس)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اٹھارٹی کے مجوزہ بل پر سب کمیٹی بنادی ،پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اٹھارٹی پر وزیر فواد چوہدری نے کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بل پر میڈیا ورکر کی جاب سیکورٹی اور فیک نیوز کے علاوہ پر چیز پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں ،اینکر پرسن پر غداری کے مقدمات میں نے ہونے نہیں دیئے پاکستان میں میڈیا آزاد ہےایک ایجنڈے کے تحت پاکستان میں پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ،بین الاقوامی قانون ملکوںکے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں ۔پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اٹھارٹی پر سب سے بات ہوئی ہے پہلی بار بل لانے سے پہلے متعلقہ قائمہ کمیٹی کوعتماد میں لیاہے ،پولیس حکام نے بتایا کہ صحافیوں پر حملوں کے کیس میں نادرا نے جواب دے دیا ہے کہ تصویراور فنگر پرنٹ میچ نہیں ہوسکے کیسوں کوحل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس چیرمین میاں جاوید لطیف کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں رکن صائمہ، آفتاب جہانگیر، مولانا اکبر چترالی، ناصر خان، مریم اورنگزیب، ندیم عباس، ذولفقار علی، اکرام چیمہ، سعد وسیم ،طاہر اقبال کنول شوزب ودیگر نے شرکت کی ۔ کمیٹی میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری ،وزیر مملکت فرخ حیبب سیکرٹری اطلاعات آئی جی اسلام آباد پولیس ودیگر حکام کے علاوہ صحافیوں نے بھی شرکت کی ۔

    آئی جی اسلام آباد نےکمیٹی کوبتایا کہ کسی صحافی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے پولیس صحافیوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف مکمل کام کیا جارہاہے ۔پولیس حکام نے بتایا کہ اسد طور کے کیس میں نادرا سے جواب آگیا ہے نومیچ کا رزلٹ آیا ہے اس کیس کو ہر اینگل سے دیکھ رہے ہیں ۔جیو فینسنگ کے حوالے سے ٹائم لگے گا۔چیرمین کمیٹی میاں جاوید لطیف نے کہاکہ صحافیوں پر حملوں کے حوالے سے کیسوں کی کیا پیش رفت ہے مطیع اللہ جان ،حامد میر، ابصار عالم کے کیس کا کیا بنا اسلام آباد میں ملزم کا پتہ نہیں ملتا تو باقی جگہوں پر کیا ہوگا جوہر ٹاؤن کا واقع 48 گھنٹوں میں حل ہوگیا تھا وہاں پہنچ سکتے ہیں تو یہاں اسلام آباد میں کیوں نہیں پہنچ سکے ۔4 کیسوں میں سے ایک پر بھی ہیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔آئی جی اسلام آباد نے بتایاکہ اسلام آباد میں 19سو کیمرے لگے ہیں 70فیصدعلاقے کو یہ کیمرے کور کرتے ہیں مزید کیمرے لگائے جارہے ہیں امید ہے کامیابی ہوگی ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہا کہ جب کیمرے نہیں لگے تھے تو بھی ملزمان تک پہنچتے تھے مگر اب کیمرے ہیں مگر ملزم نہیں پکڑا جا رہا ہے کسی ایک کیس میں بھی پیش رفت نہیں ہورہی ہے اور مزید واقعات ہورہے ہیں ۔یہ صرف صحافیوں کے ساتھ کیوں ہورہاہے میڈیا کے وہ لوگ جو تنقید کرتے ہیں وہی کیوں ٹارگٹ ہورہے ہیں ؟آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ ہم کوشش کررہے ہیں ہم پورے کیس کو ری ویو کریں گے ۔ابصار عالم نے آئی جی پولیس سے سوال کیاکہ کیا مجھے محفوظ تصور کرنا چاہیے حامد میر کی گاڑی پر بم لگایا مگر کیس حل نہیں ہوا مطیع اللہ جان، اسد طور، ودیگر پر حملہ ہوئے مگر کوئی حل نہیں ہوا ۔ 19سوکیمرے جن سیکٹروں میں لگے ہیں وہاں پر کیس ہوئے ہیں اس کے باوجود کوئی کلو نہیں مل رہا ہے مجرمان آئی جی صاحب آپ کو چیلنج کررہے ہیں ۔ آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہاکہ ہم حفاظت کرنے کی مکمل کوشش کریں گے کرائم کو روکنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جتنے وسائل ہیں اتنی کوشش کی جارہی ہے۔

    وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ صحافیوں پر حملوں کے حوالے سے تمام متعلقہ حکام سے میٹنگ کی ہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمدصحافی اسد طور کے کیس میں کہ چکے ہیں کہ ہم ملزمان کے قریب پہنچ گئے ہیں مگر ابھی بھی اس حوالے سے کچھ نہیں ہوا ہے کیا وزیر نے خبر بنانے کے لیے کہاتھا ؟ وزارت داخلہ حکام نے کہا کہ دو ہفتوں کا وقت دیا جائے سب اداروں کو اکٹھا کرکے کیس کو دیکھیں گے ۔صحافی اسد طور نے کہاکہ پولیس نے کہا تھا کہ آپ کے کیس میں سب سے زیادہ شواہد ہیں مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے ہمیں ایف آئی اے سے نوٹس ہورہے ہیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اگر سیکرٹری وزارت داخلہ آنا پسند نہیں کرتے تو اگلا اجلاس ان کے دفتر میں بلالیتے ہیں ۔چھوٹے وزیر آگئے ہیں بڑے وزیر بھی آجائیں گے ۔اگر صحافیوں کا تحفظ نہیں کرسکتے تو کہ دیتے ہیں کہ آپ کا اللہ ہی حافظ ہے اور ہاتھ کھڑے کردیتے ہیں ۔صائمہ ندیم نے کہاکہ بتایا جائے نادرا کے رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟پولیس نے بتایاکہ ویڈیو اور فنگر پرنٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ نو میچ یعنی کہ شناخت نہیں ہوسکی

    رکن سعد وسیم نے کہاکہ صحافیوں کےکیس حل کرنے میں ادارے مخلص نہیں ادارے گیند ایک سے دوسرے ادارے کی طرف پھینک رہے ہیں اس کمیٹی میں ہماری توہین کی جارہی ہے ۔ سیکرٹری پی ایف یوجے ناصرزیدی نے کہاکہ صحافیوں کے کیس کو جان بوجھ کر خراب کیا جارہاہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ پچھلا اجلاس بھی وزیر اطلاعات کے کہنے پر رکھ گیا مگر آج بھی اجلاس میں سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ چھوٹا وزیر بھی لیٹ آتاہے اور بڑے وزیر 12 بج رہے ہیں مگر ابھی تک نہیں آئے ۔ناصر خان نے کہا کہ آج کا چھوٹا اوربڑا وزیر انٹرسٹ نہیں لے رہا تو 9سال پہلے حامد میر پر حملہ ہو تو اس پر وقت آپ کی حکومت تھی تو اس وقت یہ مسئلہ کیوں حل نہیں ہوا۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ یہ میٹنگ ایسے ہی ہوگی پارلیمنٹ میں یہ رپورٹ پیش کرنی چاہیے کہ صحافیوں پر حملے کی یہ اپڈیٹ ہے اس طرح اس کا حل تلاش کیا جائے اس ایجنڈے پر 6میٹنگ ہوگئی ہیں۔ چیرمین نے کہاکہ 6 میٹنگ ہوگئی ہیں مگر اس کا کوئی حل نہیں نکلا ہے حامد میر پر حملے ہمارے دور میں ہواتھا ہمارے وزیر اعظم حامد میر کے پاس گئے تھے اور کہا تھا کہ ہم قلم کے ساتھ ہیں اور اس کا نتیجہ ہم نے بھکتا تھا۔ہم بات کرتے ہیں تو ڈان لیکس بن جاتی ہے اور کوئی اور وہی بات کرتا ہے کہ پہلے گھر کو صاف کیا جائے تو وہ قومی مفاد کی بات بن جاتی ہے ۔12سال پہلے کیس کا فیصلہ نہیں ہواتو غلط ہواتھا ۔

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ بم کیس 2012 کا کیس ہے اور پیپلزپارٹی کے دور ہوا تھا ۔بم جس نے لگایا اس کا نام احسان اللہ احسان تھا جس نمبر سے اس کو کال گئی وہ بھی پتہ چل گیا مگر پولیس نے کہا کہ ہم نہیں پکڑ سکتے ۔ احسان اللہ احسان پکڑا گیا اور دوبارہ بھاگ بھی گیا ۔مسلم لیگ ن کے دور میں حملہ ہوا تھا اس دور میں میرے چینل پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا اور معافی منگوائی گئی حالانکہ میں نے معافی نہیں مانگی اگر اسلام آباد پولیس کو مضبوط کیا جائے تو اس کیس کو حل کیا جاسکتا ہےجس پر چیرمین کمیٹی میاں جاوید لطیف نے کہاکہ ہماری حکومت میں کچھ لوگ بہت طاقتور تھے اور وہ یہ کام کررہے تھے۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ اسد طور کی ایف آئی آر درج کرنے میں فواد چوہدری نے کردار ادا کیا ۔یہ معاملات وزارت داخلہ سے متعلقہ ہیں صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے بل کمیٹی میں ہے تین ماہ سے کمیٹی میں ہے اور اگے نہیں بڑ رہاہے ۔ صحافیوں کے حوالے سے کیسوں پر ہم سنجیدہ ہیں کہ ان کو حل کیا جائے۔

    بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

    میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    تحریک انصاف کے خلاف ن لیگ کے اشتہارات کی ادائیگی کس نے کی؟ فیصل جاوید کا انکشاف

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    فواد چوہدری نے کہاکہ ہم نے پچھلی مرتبہ اجلاس بلایا تھا مگر ارکان نہیں آئے صحافیوں پر حملے کے زیادہ کیس سندھ میں ہوئے ہیں ۔ابصار عالم صحافی نہیں وہ تو ٹی وی پر کہے چکے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن کے کارکن ہیں ۔رکن کمیٹی ندیم عباس نے کہاکہ اسلام آباد میں صحافیوں پر حملہ ہوا اس پر بات کی جائے جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ(ابصارعالم) صحافی نہیں ہیں اس طرح تو سارے کریمنل کیس کمیٹی میں لے آئیں ۔اینکر عاصمہ اور حامد میر صحافی ہیں ان پر غداری کا مقدمہ میں نے ہونے نہیں دیا ۔پاکستان میں صحافت آزاد ہے ۔اسد طور بھی کیا صحافی ہے؟ رکن کمیٹی جوریہ نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا کوئی قانون ہے اگر نہیں ہے تو کیا کررہے ہیں۔فواد چوہدری نے کہاکہ ابصار عالم کا کیس داخلہ کمیٹی میں لے جائیں ۔ اگر اس کو کمیٹی میں لیتے ہیں تو تمام کریمنل کیس اس کمیٹی میں آنا چاہیے ۔صحافی کو پی آئی ڈی سے کریٹیڈ ہونا چاہیے وہی صحافی ہوگا ۔

    ابصار عالم نے کہاکہ پی آئی ڈی میں رجسٹر صحافی صحافی نہیں ہوتا ہے ۔جو ٹویٹر استعمال کررہا ہے اور فری لانس کررہاہے وہ بھی صحافی ہی ہے ۔فواد چوہدری نے کہا کہ آگر آپ کی تعریف مان لیں تو پاکستان کے تمام لوگ صحافی بن جاتے ہیں رپورٹر اصل صحافی ہوتا ہے پی ایف یو جے کے چھ سے سات دھڑے ہیں رپورٹر صحافت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔پاکستان میں سب سے زیادہ آزادی ہے حامد میر پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ جو بات پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندی کی بات کرتے ہیں وہ بین الاقوامی ایجنڈے ہے تاکہ ایف اے ٹی ایف اور جی ایس پی پلس سٹیسٹس واپس لینے کے لیے ہورہاہے ۔

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    عظمیٰ گل کی جانب سے سینئر صحافیوں کا ڈیٹا مخصوص افراد کو دینے پر صحافتی تنظیموں کا اظہار تشویش

    رمضان اور پھرعید،صحافیوں کے بچوں کو بھوکا نہ ماریں ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کس کو کیا طلب؟

    رکن کمیٹی آفتاب جہانگیر نے کہاکہ یہ معاملہ داخلہ کمیٹی کو بھیج دیں ۔رکن ناصر خان نے کہاکہ کمیٹی کا وقت ضائع کیا گیا ہمیں قانون سازی کرنی چاہیے جو ہمارا اصل کام ہے ہماری کمیٹی میں وقت ضائع کیا جارہاہے ۔کمیٹی کا اس پر خرچ ہوتا ہے اگر اگلے اجلاس میں یہی ایجنڈا ہوگا تو ہم اگلے اجلاس میں نہیں آئیں گے ۔ رکن سعد وسیم نے کہاکہ جرم جرم ہے پہلےسدباب نہیں ہوسکا تو بھی غلط تھا اور آج نہیں ہو رہا تو وہ بھی غلط ہے ۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ فواد چوہدری نے جو بات کی ہےاس کی مذمت کرتی ہوں۔ کمیٹی جن کو صحافی سمجھتی ہےان کو مدعو کیا ہے ۔کمیٹی کس کو بلائے گی وہ کمیٹی کا استحقاق ہے ۔ وزیر کے مطابق تمام صحافی محفوظ ہیں کوئی سنسر شپ نہیں ہے اور یہ عالمی سازش ہےجو باتیں ہورہی ہیں ۔ پوری رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں صحافیوں کے ساتھ رویہ پر مذمت کرتی ہوں،وزیر کی بات( اور بلاؤ ہڑ آرام اے) کے مصداق ہے وزیر ہونا بعض اوقات بدقسمتی ہوتی ہے ۔

    فواد چودھری، تھپڑ کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں، ،متنازعہ ترین بیانات،کیا واقعی کرائے کا ترجمان ہے؟

    صحافیوں نے کیا پنجاب اسمبلی سمیت دیگر سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان

    بلاول کا آزادی صحافت کا نعرہ، سندھ میں 50 سے زائد صحافیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج

    فردوس عاشق اعوان نے سنائی صحافیوں کو بڑی خوشخبری جس کے وہ 19 برس سے تھے منتظر

    2020 میڈیا ورکرز کی آسانیوں کا سال، فردوس عاشق اعوان نے سنائی بڑی خوشخبری،کیا قانون لایا جا رہا ہے؟ بتا دیا

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    صحافی آصف بشیر نے کہاکہ ہمارے سینیئر کے بے عزتی کی گئی صحافیوں پر حملے کرنے والے نادیدہ قوتوں کا سنا تھا آج ان کے ساتھیوں کا بھی پتہ چل گیا ہے ہمارا مذاق اڑایا جارہاہے ۔اسی بات پر تحریک انصاف کے ارکان نے شور مچاناشروع کردیا جس پر مریم اورنگزیب نے کہاکہ ان کو بولنا دیں پی ٹی آئی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا کہ ممبران کی بات سنی جائے ۔ جاوید لطیف نے کہاکہ چیر کو مخاطب کریں زیادہ بولنے سے آپ اپنی بات کسی دوسرے پر مسلط نہیں کرسکتے چیر کی اجازت کے بغیر بات نہیں ہوگی اپنی باری پر بات کریں ۔ جویہاں ہواہےاس پر شرمندہ ہوں۔ممبر طاہر اقبال نے کہاکہ جب صحافیوں کو کوڑے مارے گئے ان کے ساتھی آج بھی موجود ہیں ۔ یہ حملے ہوتے رہے ہیں جب تک سیاست پر خاندانوں کا قبضہ ہو اس قبضے کو ختم کریں گے تو مسائل حل ہوں گے ۔نادیدہ قوتیں جن کا ذکر ہوتا ہے وہ بھی چاہتے ہیں کہ جماعتوں میں جمہوریت لائی جائے ۔پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔وزیر اطلاعات نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اٹھارٹی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ میڈیا جو باتیں چل رہی ہیں وہ سابقہ دور کا بل تھا جس پر نام ہمارے بل کا دیا گیا ۔ آج ہم حکومت میں ہیں کل اپوزیشن میں ہوں گے پہلی دفع بل پارلیمنٹ سے پہلے کمیٹی میں آرہاہے بین الاقوامی قانون کا ملک کے خلاف استعمال کیا جارہاہے اس کی مثال فیٹف ہے کہ قربانیں ہم نے دی مگر ہم پر الزام لگایا جارہاہے اور پندوستان کو کوئی پوچھ نہیں رہاہے ۔ڈبل گیم ہمارے ساتھ ہورہی تھی بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو افغانستان میں جگہ دی گئی پاکستان کے خلاف سازشیں ہوئی ۔ووسال میں150ٹویٹر ٹرینڈ پاکستان کے خلاف بنائے گئے اور اس میں بھارت کے تین شہروں سے ٹویٹ کئے گئے سازشوں کو مل کر مقابلہ کرنا ہے ۔ آج کے دور میںفیک نیوز اور اصل خبر کو الگ کرنا اصل کامیابی ہے ۔پاکستان پر پابندی لگانے کا ٹرینڈ افغانستان سے چلایا جارہاہے ۔ افغانستان کی سابقہ این ڈی ایس نے 17سو لوگ بھرتی کرکے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا تھا۔سی پیک کے خلاف ہر رو دو تین کالم لکھے جارہے ہیں ۔

    وزیرا عظم عمران خان بھی جھوٹی خبروں پر خاموش نہ رہ سکے، ٹویٹر پر پیغام دے دیا

    آزادی اظہار کی دعویدار ٹویٹر انتظامیہ کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن رہنما پی ٹی آئی

    بھارتی اقدام قابل مذمت، باغی ٹی وی کو دباؤ میں نہیں آنا چاہیئے،خرم نواز گنڈا پور

    پروپیگنڈے کرنیوالی مودی سرکار باغی ٹی وی کا "سچ” برداشت نہ کر سکی،باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی درخواست کر دی

    بلاول کا آزادی صحافت کا نعرہ، سندھ میں 50 سے زائد صحافیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج

    انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی قیادت نےبل پڑھے بغیر مسترد کردیا اب پتہ نہیں آپ کی کیا رائے ہوگی ۔دو چیزوں پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا میڈیا ورکر اور فیک نیوز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا ہوں ۔ ایک ٹی وی چینل نے خبر چلائی کہ تحریک انصاف کے ایک خاتون ترجمان نے کہاہے کہ وہ افغانستان سے مل کر کشمیر آزاد کرائیں گے جو بعد میں بھارتی چینل نے اٹھا لیا ۔ذمہ دار صحافت کوفروغ دیں گے آج صحافیوں کو فورس کرکے چینل نے نوکری پر رکھا ہواہے ۔پاکستان میں سیٹلائٹ چینل تعداد114ہیں بہت سے چینل نے انٹرٹینمنٹ چینل کا لائسنس لیے ہیں مگر چل نیوز چینل رہے ہیں ۔258ریڈیو چینل ہیں 2کڑور صارفین کیبل پر چلے گئے ہیں ۔1172اخبارات رجسٹرڈ ہیں نیوز ایجنسی 399ہیں بہت بڑی تعداد ڈمی اخبارات کی ہے ۔

    جاوید لطیف نے کہا کہ ایسا قانون نہیں بنانا چاہیے جس سے آزادی صلب ہو۔پی ایم ڈی اے پر سب کمیٹی بنا دیتے ہیں وہاں پر سب کوسن لیاجائے گا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیا ریگولیشن ہونی چاہیے یہ ضروری ہے ۔چیرمین کمیٹی نے مریم اورنگزیب کی سربراہی میں کمیٹی بنادی جس کی رکن کنول شوزب اور نفیسہ شاہ رکن ہوںگی۔ اکرم چیمہ نے کہا کہ سب کمیٹی نہ بنائی جائے مرکزی کمیٹی میں ہی اس پر بات کی جائے ۔

    کراچی جلسہ میں بلانے والی پیپلز پارٹی نے کیپٹن ر صفدر کی گرفتاری پر ہاتھ کھڑے کر دیئے

    مریم کے شوہر کی گرفتاری پر ن لیگ کیا کرنیوالی ہے؟ مریم کے ترجمان نے بتا دیا

    مریم نواز کے ترجمان کیپٹن ر صفدر کو تھانے ملنے گئے تو کیا ہوا؟

    کیپٹن ر صفدر کی گرفتاری میں کس کا ہاتھ؟ کامران خان نے نام بھی بتا دیا

    پولیس نے کیپٹن ر صفدر کو ناشتے میں کیا دیا؟

    کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

    ملک میں دروازے توڑنا مزاج بن گیا،کیپٹن ر صفدر نے کیا ڈی جی آئی ایس آئی سے بڑا مطالبہ

    ہوٹل سے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو لیک کرنے والے صحافی لاپتہ

    ایف آئی اے کوسافٹ وئیراپڈیٹ کے لیے استعمال کیا جا رہا ،اب میں یہ کام کروں گی،خاتون اینکرز کا قائمہ کمیٹی میں بڑا اعلان

  • سرداراخترمینگل کے والد محترم عطااللہ مینگل وفات گئے

    سرداراخترمینگل کے والد محترم عطااللہ مینگل وفات گئے

    کوئٹہ :سرداراخترمینگل کے والد محترم عطااللہ مینگل وفات گئے ،اطلاعات کے مطابق بزرگ بلوچ رہنما عطااللہ مینگل انتقال کر گئے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ عطااللہ مینگل مقامی اسپتال میں انتقال کر گئے۔اہلخانہ کے مطابق عطااللہ مینگل ایک ہفتے سے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

    عطااللہ مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کے والد تھے۔ سیکرٹری اطلاعات بی این پی نے عطاءاللہ مینگل کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔عطاءاللہ مینگل عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

    عطااللہ مینگل کے انتقال پر سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عطااللہ مینگل کی سیاسی میدان میں خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    عطااللہ مینگل ایک زیرک سیاستدان اورہمیشہ مثبت سیاست کے داعی رہے ہیں ، جبکہ ان فرزند ارجمند اخترمینگل ان کے برعکس نظریات کے حامی ہیں‌

  • قائمہ کمیٹی سے انٹی ریپ بل پاس، کتنے ماہ میں ہو گا کیس کا فیصلہ؟

    قائمہ کمیٹی سے انٹی ریپ بل پاس، کتنے ماہ میں ہو گا کیس کا فیصلہ؟

    قائمہ کمیٹی سے انٹی ریپ بل پاس، کتنے ماہ میں ہو گا کیس کا فیصلہ؟
    اسلام آباد :سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون انصاف نے انٹی ریپ(انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل)بل 2021 کو ترامیم کے ساتھ پاس کرلیا،

    سابق چیرمین میاں رضاربانی کی سپیشل کورٹ کے خلاف ووٹ کے دوران پیپلزپارٹی نے ہی ان کاساتھ نہیں دیا اور ترامیم پاس ہوگئی ،کمیٹی پونے چار گھنٹے لگاتار چلتی رہی ایک وقت میں آدھے سے زائد ارکان کمیٹی سیگریٹ پینے باہر چلے گئے اس دوران کامران مرتضی او ر اعظم نذیر تاڑار ہی کمیٹی میں بیٹھے رہے ،بل اپوزیشن اور حکومتی سینیٹر کے اتفاق رائے سے ترامیم کے ساتھ پاس کرلیاگیا،بل کے تحت صرف جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کا ہی نادرا میں ڈیٹا بینک رکھا جائے گا،ملزم کو صفائی کاحق حاصل ہوگا،ججوں کولگانے کااختیار صوبائی چیف جسٹس کودے دیاگیا جبکہ وزیر اعظم کااختیار ختم کرکے وفاقی سیکرٹری قانون انصاف کودے دیاگیا۔کیس کا فیصلہ 4 ماہ میں کیا جائے گا کیس کے سماعت کے دوران دومرتبہ ہی عدالتی کارروائی معطل کرنے کی درخواست کی جاسکے گی۔ سینیٹر اعظم نزیرتاڑر نے کہا کہ غلط استعمال گھرسے بھاگ کرشادی کرنے والوں پر ہوگا ،

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون انصاف کااجلاس چیرمین کمیٹی سید علی ظفر کی سربراہی میں  پارلیمنٹ لاجز میں ہوا ۔اجلاس میں اعظم نذیر تاڑار، کامران مرتضی، اعظم سواتی، منظور احمد خان کاکڑ، ولید اقبال ،فاروق ایچ نائیک ،مصطفیٰ نواز کھوکھر ،رضا ربانی اور سینیٹر شبلی فراز نے شرکت کی ۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ ولیدا قبال نے کتاب لکھی ہے اس پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ولید اقبال نے کہا کہ میں اپنا کتابچہ کمیٹی کو بھیج دوں گاتمام ارکان کمیٹی کووہ دے دیاجائے ۔فروغ نسیم نے کہاکہ وزارت قانون کی کمیٹی روم آپ استعمال کرسکتے ہیں سینیٹ میں کمیٹی روم کامسئلہ ہوتاہے انٹی ریپ بل پر بات کرتے ہوئے

    انہوں نے کہاکہ خواجہ سراؤں کو بچوں اور خواتین کے قانون میں نہ ڈالیں خواجہ سراؤں کے ساتھ مظالم ہوتے ہیں مگر وہ جسمانی طور پر زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں ۔ خواجہ سرا دیگر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اس لیے خواجہ سراؤں کے کیس کو عام عدالت میں چلایا جائے ۔ خواجہ سرا اگر 18سال سے کم ہوتو اس بل کے تحت ان کے کیس سپیشل کورٹ میں آئیں گے۔ اعظم نذیرتاڑار نے کہاکہ قانون ایسا ہونا چاہیے کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاکہ خواجہ سرا معاشرے کے سب سے لاچار طبقہ ہے ان کی زندگی بہت تلخ ہے ۔ فروغ نسیم نے کہاکہ اس قانون کے تحت خواتین اور بچوں کاتحفظ چاہتے ہیں ۔اگر عدالت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ خواجہ سراء ہوں تو ماحول میں فرق ہوگا ۔چیرمین علی ظفر نے کہاکہ قانون میں صرف بچوں اور خواتین کے لیے ہے ۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاکہ خواتین خواجہ سرا ہوتو اس کو کس طرح اس قانون کے تحت ریلیف دیں گے ۔

    فروغ نسیم نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ان عدالتوں کے جج تعینات کریں گے ۔فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ریٹائرڈ ججوں کے بجائے حاضر سروس ججوں کو ان عدالتوں میں لگایا جائے ۔ کامران مرتضیٰ نے کہاکہ سپیشل کورٹ نے تباہی ہی کی ہے ۔فروغ نسیم نے کہاکہ ایسا نہیں ہے سپیشل کورٹ نے اچھے فیصلے بھی کئے ہیں۔میاں رضا ربانی نے کہاکہ سپیشل کورٹ جو اس وقت عدالتی نظام میں کام کررہے ہیں مگر ان کی کارکردگی وہی ہے جو پہلے تھی ۔ایک نیا سپیشل کورٹ سے مسائل حل نہیں ہوں گے اس سے اخراجات میں اضافہ ہوگا ایک کورٹ کا کم ازکم سٹاف 15سے 20لوگ ہوں گے ۔ جو عدالتیں چل رہی ہیں ان میں ترمیم لائی جائے ۔

    ملیکہ بخاری نے کہاکہ زیادتی کے جرائم میں سزا بہت کم ہوتی ہے عدالتی ماحول کو ٹھیک کرنا ہے ۔ ان عدالتوں سے خواتین اور بچوں کو انصاف ملےگا۔ فروغ نسیم نے کہاکہ مالی اخراجات مسئلہ نہیں ہے ۔ چائلڈ کوٹ کے پی کے میں چل رہی ہیں اور ان کا ماحول بھی اچھا ہے ہم نے ججوں سٹاف اور پراسیکیوٹر کو بھی ٹرین (تربیت)کرنا ہے ۔ دنیا میں سپیشل کورٹ بنائے جارہے ہیں۔ کامران مرتضیٰ نے کہاکہ کیا پہلے جو سپیشل کورٹ ہیں ان سے مسائل حل ہوگئے ہیں ۔رضا ربانی نے کہاکہ اس قانون کی افادیت ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ سپیشل کورٹ کی ضرورت ہے ۔یہ بات بھی درست نہیں کہ نظام خواتین اور بچوں کے خلاف ہے اور اس قانون سے وہ ان کے حق میں ہوجائے گا ۔یہ پہلے کی طرح بنائی جانے والی سپیشل کوٹس کی طرح بن جائے گا ۔سپیشل کورٹس نے مسئلہ حل نہیں کیا ہے یہ بھی مہیا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے ۔

    اعظم سواتی نے کہاکہ خواتین اور بچوں کے مسائل اور حالت خراب ہے یہ معاشرے میں پیس رہے ہیں اس میں کام ہوگا عدالتی نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔علی ظفر نے کہاکہ سپیشل کورٹ وقت کی ضرورت ہے اس کے بغیر انصاف فراہم کرنا مشکل ہے ۔اعظم نذیر تاڑار نے کہاکہ ماضی میں سپیشل کورٹ بنائی گئیں مگر وہ چل نہیں سکیں پہلے اس کو حل کریں تو پھر اآگے چلیں ۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاکہ ہمارے ماضی کے تجربات موجود ہیں لیگل سسٹم چوک ہوچکا ہے اورہم اصلاحات نہیں کر سکے ۔ سپیشل کورٹ میں مقدمات کے حوالے سے رپورٹنگ پارلیمنٹ میں آئے تو اس سے تجزیہ کیا جائے گا ۔شبلی فراز نے کہاکہ سائبر کرائم میں ہم نے کہاکہ پارلیمنٹ کو رپورٹ دیں مگر 6سال بعد بھی اس کی رپورٹ نہیں آئی ۔جس قانون پر عمل نہ ہوسکے وہ قانون سازی نہ کی جائے ۔

    رضاربانی نے کہاکہ میں سپیشل کورٹس کے خلاف ہوں یہ تجربہ پہلے بھی فیل ہوچکا ہے ۔ ولید اقبال نے کہاکہ اس قانون کی دھجلیاں نہ اڑائی جائیں ۔اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ قانون یہی رکھیں اور سیشن کورٹ میں الگ عدالت بنائے جائیں ۔فروغ نسیم نے کہاکہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ رضاربانی کیوں سپیشل کورٹ کی مخالفت کررہے ہیں۔ سپیشل کورٹ کا مطلب فیلیر(ناکامی ) نہیں ہے ۔ اعظم سواتی نے دیکھا کہ کمیٹی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد زیادہ ہے تو انہوںنے چیرمین کمیٹی کوکہاکہ اس بل پردوبارہ سوچنے کا موقع دیں ساتھ ہی انہوں نے منظور کاکڑ کے بارے میں کمیٹی سٹاف سے کہا کہ وہ کہاں ہیں جس پر کمیٹی سٹاف نے وزیر کوبتایاکہ وہ چلے گئے ہیں جس پر انہوں نے کمیٹی سٹاف کی بے عزتی کردی کہ وہ کیوں چلے گئے ہیں جس پر انہوں نے بتایاکہ ہم کسی سینیٹر کو کمیٹی میں روک نہیں سکتے ہیں جس پر انہوں نے شدید برہمی کااظہارکرتےہوئے کمیٹی سٹاف کو کہاکہ وہ منظورکاکڑکو کال کرکے واپس بلائیں جس پر کمیٹی سٹاف نے کال کرکے منظورکاکڑ کوکہاکہ سینیٹر اعظم سواتی کہ رہے ہیں کہ واپس کمیٹی میں آئیں جس پر سینیٹر منظور کاکڑ کچھ وقت کے بعد واپس کمیٹی میں آگئے ۔

    چیرمین کمیٹی علی ظفر نے کہا کہ ہمیں نے اس بل کو پاس کرنا ہے یا مسترد کرنا ہے ہمارے پاس دوسرا طریقہ نہیں ہے ۔سپیشل کورٹ کے حق میں مصطفیٰ نواز کھوکھر اور فاروق ایچ نائیک نے حمایت کردی جبکہ رضاربانی کامران مرتضیٰ اور اعظم نزیر تاڑار نے مخالفت کی اس طرح حکومت اور حکومت کے تین اور پیپلزپارٹی کے دو ووٹ ملا کرحق میں 5ووٹ آئے جس کی وجہ سے سپیشل کورٹ کے قیام کے حوالے سےترامیم پاس ہوگئی ۔

    ہم کیوں جانوروں سے متعلق اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟ عدالت

    بیچارے بلاول کو آگے کرکے شہباز شریف، مریم نے چپ کا روزہ رکھ لیا،زرتاج گل

    خیال نہیں رکھ سکتے تو پنجروں میں قید کیوں، چڑیا گھر کے جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا جائے؟ عدالت

    پاکستان ایک انتہائی غیر محفوظ ممالک میں سے ایک ہے،زرتاج گل کے بیان پر وزیراعظم حیران

    نوجوانوں کو گوگل پر سرچ کرنے کی بجائے کیا کرنا چاہئے؟ زرتاج گل نے دیا مشورہ

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    رنگ گورا کرنے کیلئے کاسمیٹکس کا استعمال کیسا ہے؟ زرتاج گل نے کیا اہم انکشاف

    اسلام آباد میں پہلی دفعہ یہ "کام” ہو رہا ہے، زرتاج گل نے یہ کیا کہہ دیا؟

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    اپوزیشن ارکان کے کہنے پر بل میں ترامیم کرکے جج کی عمر 65سال کردیں اور صوبائی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ فیڈرل حکومت سے مشاورت کرکے جج لگائے جائیں۔جج کو تبدیل کرنے کا اختیار چیف جسٹس ہائی کوٹس کو دے دیاگیا۔جو پہلے چیف جسٹس سپریم کورٹ تھا۔ ان عدالتوں میںآنے والے کیسوں کافیصلہ 4ماہ میں کیاجائے گا ۔دوان سماعت کیسوں میں وکیل دومرتبہ ہی کسی وجہ سے مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرسکے گا اس پہلی دفع مفت جبکہ دوسرے مرتبہ عدالت کاخرچ ملتوی کرنے کی درخواست کرنے والا وکیل دے گا،بل کے تحت صرف جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کاہی نادرا میں دیٹا بینک رکھاجائے گا،ملزم کو صفائی کاحق حاصل ہوگا،ججوں کولگانے کااختیار صوبائی چیف جسٹس کودے دیاگیاجبکہ وزیر اعظم کااختیار ختم کرکے وفاقی سیکرٹری قانون انصاف کودے دیاگیا۔سپیشل کورٹس میں ریٹائرڈ جج لگایاجائے گا جبکہ اس کی عم 65 سال سے زائد نہیں ہونی چاہیے ،وفاقی وزارت قانون انصاف کے سیکرٹری انٹی ریپ کرائسس سیل بنائیں گے ،خواتین اور بچوں کے حوالے سے جرائم پر متعلقہ صوبے کا آئی جی جے آئی ٹی بنانےحکم دے سکے گا۔

    واردات کے دوران خاتون سے زیادتی کرنیوالے باپ بیٹا گرفتار

    ڈکیتی کے دوران زیادتی کیس، پولیس کی ایماء پر ملزم پارٹی کی دھمکیاں، صلح کے لئے بیوہ پر دباؤ

    6 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کیس، عدالت نے ملزم کو سزا سنا دی

    حاملہ بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والا بے رحم شوہر گرفتار

    لاہور میں مردہ جانوروں کے گوشت کی سپلائی کا انکشاف

    لاہور میں مردہ جانوروں کا گوشت عوام کو کھلانے والے ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    خاتون نے 20 ہزار کے لالچ میں 22 سالہ چچا زاد بہن کو فروخت کر دیا

    لاک ڈاؤن، سخت سیکورٹی ،پھر بھی لاہور میں ڈکیت گروپ متحرک

    صلح کے بہانے مطلقہ بھابھی کو جیٹھ نے قتل کر دیا

    پولیس وردی میں ملبوس ڈکیت گروپ کی دلہن کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    شادی شدہ خاتون سے سات افراد کی اجتماعی زیادتی،ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے

    کمیٹی اجلاس کے دروان ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کمیٹی میں صرف دوارکان بیٹھے رہے جس میں ایک کامران مرتضی اور دوسرے اعظم نذیز تاڑارتھے جبکہ چیرمین کمیٹی اور فاروق ایچ نائیک واش روم گئے تو باقی کامران مرتضی اور دوسرے اعظم نذیز تاڑارکوچھوڑ کرسیگریٹ پینے چلے گئے مختصر وقت کے لیے کمیٹی چیرمین کے بغیر چلتی رہی ا سکےبعد تمام ارکان واپس آگئے اور کمیٹی چلناشروع ہوئی کمیٹی زیادہ لمبی ہونے کی وجہ سے سینیٹر رضاربانی اور فاروق ایچ نائیک چلے گئے اور باقی ارکان کمیٹی میں رہے ۔کمیٹی نے تمام 31 شقوں کی منظوری دے کر بل کوترامیم کے ساتھ پاس کرلیا کمیٹی ارکان نے کہاکہ بل کی فائنل ڈارفٹ کمیٹی ارکان کو دیکھا کر سینیٹ میں پیش کیا جائے وزیر قانون انصاف اس بات کو یقینی بنائیں کے 11ستمبر سے پہلے سینیٹ کااجلاس ہواور اس میں اس کو پیش کیا جائے تا کہ بل لیپس نہ ہواور ہماری محنت ضائع نہ ہوجائے ۔کمیٹی پونے چار گھنٹے چلنے کے بعد بل پاس کرکے ختم ہوئی جس پر چیرمین کمیٹی نے تمام ارکان کاشکریہ اداکیا۔

  • اسلام آباد میں سید علی گیلانی کی نماز جنازہ، صدر مملکت سمیت اہم شخصیات کی شرکت

    اسلام آباد میں سید علی گیلانی کی نماز جنازہ، صدر مملکت سمیت اہم شخصیات کی شرکت

    معروف کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے ایصال ثواب کیلئے غائبانہ نماز جنازہ کشمیر کمیٹی کے زیر اہتمام قومی اسمبلی کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی.

    نماز جنازہ صدر پاکستان ڈاکتر عارف علوی چئرمین سینٹ صادق سنجرانی ، چئیرمین کشمیر کمیٹی ، حریت کانفرنس کے رہنما اور اراکین پارلیمنٹ شریک ہوئے ،نماز جنازہ حریت رہنما غلام محمد صفی نے پڑھائی

    قبل ازیں پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے سید علی گیلانی کا جسد خاکی قبضے میں لینے کی شدید مذمت کی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ علی گیلانی کا جسد خاکی اس وقت قبضے میں لیا گیا جب تدفین کی تیاری کی جا رہی تھیترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی قابض فورسز کے دستے نے سرینگر میں سید علی گیلانی کے گھرپر چھاپہ مارا ، اور ان کے خاندان کو ہراساں کیا ۔ بھارتی قابض فورسز اہل خانہ سے سید علی گیلانی کا جسد خاکی چھین کر لے گئیں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سید علی گیلانی کے اہلخانہ کے مطابق انہیں سری نگر کے شہدا قبرستان میں سپرد خاک کیا جانا تھا مگر کٹھ پتلی انتظامیہ نے اجازت نہ دی ، بھارتی حکومت سید علی گیلانی سے ان کی موت کے بعد بھی خوفزدہ ہےعلی گیلانی کے ساتھ ان کی موت کے بعد بھی غیر انسانی رویہ روا رکھا جا رہا ہے یہ رویہ بھارتی قابض فورسز کے غیضح و غضب ظلم و بربریت کا غماز ہے ۔بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام سول اور انسانی اقدار کو پامال کر رکھا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی میڈیا سید علی گیلانی کی تدفین اور وادی میں کرفیو کے نفاذ کی خبریں دے رہا ہے ، عالمی برادری مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے اس ناروا رویے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے غیر انسانی رویے پر بھارت کا احتساب کرے

    سابق وزیر اعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی وفات پر دلی افسوس اور دکھ ہے ، تحریک آزادی کشمیر کے رہنما سید علی گیلانی نے پوری زندگی کشمیر میں رہ کر پاکستانی کا مقدمہ لڑا, بھارتی مظالم کے خلاف ان کی ہمت اور بہادری کشمیر کی آزادی کی جنگ میں ہمیشہ حوصلہ افزائی کا کام کرے گی۔ اللہ انکو جنت میں اعلیٰ درجات سے نوازے اورانکی جدوجہدکا مقصد جلد پورا ہو, سید علی گیلانی نے ہمیشہ پاکستان کا پرچم لہرایا اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگایا, سید علی گیلانی ایک محب وطن کشمیری تھے, یسید علی گیلانی کو انڈیا کا جبر اور زیادتی نہ جھکا سکے اور نہ اپنے موقف سے ہٹا سکے,

    سید علی گیلانی اپنے آبائی شہر سپرد خاک

    کشمیر یوتھ الائنس کی مرکزی کابینہ کا سید علی گیلانی کا مشن جاری رکھنے کا عزم

    بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون

    حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا

    وزیراعظم عمران خان کا سید علی گیلانی کے انتقال پر شدید دُکھ کا اظہار،آج پاکستانی…

    سید علی گیلانی کی وفات پر صدر مملکت۔بلاول۔ سراج الحق سمیت قومی قائدین کا اظہار افسوس

    کشمیری آج یتیم ہو گئے، علی گیلانی کی وفات پر مشعال ملک کا جذباتی پیغام

    قابض بھارتی فوج کی جانب سے سید علی گیلانی کی رات کے اندھیرے میں تدفین پر دباؤ ، تیاری جاری

    سید علی گیلانی کی قربانیاں اور مسلسل جدوجہد بھارتی قبضے کے خلاف ناقابل تسخیرعزم کی علامت ہے…

    آزادکشمیر حکومت کا سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان

    پاکستان کے مختلف شہروں میں سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی

  • ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کیلئے آبپاشی کے متبادل طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے    صدر مملکت

    ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کیلئے آبپاشی کے متبادل طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے صدر مملکت

    ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کیلئے آبپاشی کے متبادل طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی : صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ۔کراچی میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایوارڈ ز تقسیم کرنے کی تیرھویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمختلف فصلوں خصوصاً چاول اور کپاس کی پیداوار میں اضافے کیلئے بہتر معیاری بیج کی تیاری کے بارے میں تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    دوران خطاب انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے یہ فصلیں علاقائی و عالمی منڈیوں میں مسابقت کی دوڑ میں شامل ہو سکیں گے۔

    تربیلا ڈیم کا بھر جانا زراعت اور ہائیڈل بجلی بنانے کے لیے اچھا شگون ہے…

    صدر نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی منڈی میں حقوق دانش کے لئے کوششیں کر کے پاکستانی باسمتی چاول کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کیلئے آبپاشی کے متبادل طریقے اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کھاریا ں موٹروے اہم منصوبہ ہے اور زیادہ آبادی کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت زیادہ ہے۔ جب تک ملکی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو گا ہم قرضے نہیں اتار سکتے –

    انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتوں کی ضرورت ہے اور صنعتوں کے بغیر ملکی ترقی کی رفتار سست رہتی ہے ہم نے چھوٹے اور درمیانی صنعتوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔سڑکیں، اسکولز اور دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز استعمال کیے جاتے ہیں لیکن صنعتوں کو سہولتیں دیئے بغیر ملکی دولت میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔

    ملکی دولت بڑھانے کے لیے صنعتوں اور سیاحت پر توجہ دینی ہو گی عمران خان

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں سیاحت کا شعبہ بڑا اور اہم ہے جبکہ موٹرویز سے سیاحت کے شعبے کو مزید فروغ حاصل ہو گا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے پہلے ادوار میں بنائی گئی موٹرویز سے ملک کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا ڈالرز بڑھانے کے لیے صنعتوں اور سیاحت پر توجہ دینی ہو گی۔

  • ملکی دولت بڑھانے کے لیے صنعتوں اور سیاحت پر توجہ دینی ہو گی      عمران خان

    ملکی دولت بڑھانے کے لیے صنعتوں اور سیاحت پر توجہ دینی ہو گی عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں صنعتوں کی ضرورت ہے اور صنعتوں کے بغیر ملکی ترقی کی رفتار سست رہتی ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کھاریا ں موٹروے اہم منصوبہ ہے اور زیادہ آبادی کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت زیادہ ہے۔ جب تک ملکی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو گا ہم قرضے نہیں اتار سکتے –

    انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتوں کی ضرورت ہے اور صنعتوں کے بغیر ملکی ترقی کی رفتار سست رہتی ہے ہم نے چھوٹے اور درمیانی صنعتوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔سڑکیں، اسکولز اور دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز استعمال کیے جاتے ہیں لیکن صنعتوں کو سہولتیں دیئے بغیر ملکی دولت میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔

    تربیلا ڈیم کا بھر جانا زراعت اور ہائیڈل بجلی بنانے کے لیے اچھا شگون ہے…

    وزیر اعظم نے کہا کہ اس علاقے میں ہم بڑے پیمانے پر صنعتیں لگا سکتے ہیں اور موٹروے بھی اسی روٹ پر بننا چاہیے تھا سوات موٹروے کے ذریعے عید کے دنوں میں 27 لاکھ گاڑیاں گئیں ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم ان موٹرویز سے کس طر ح ریونیو حاصل کرسکتے ہیں سوات سے دیر اور دیر سے چترال اور گلگت موٹروے بہترین منصوبہ ثابت ہو گا۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں سیاحت کا شعبہ بڑا اور اہم ہے جبکہ موٹرویز سے سیاحت کے شعبے کو مزید فروغ حاصل ہو گا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے پہلے ادوار میں بنائی گئی موٹرویز سے ملک کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا ڈالرز بڑھانے کے لیے صنعتوں اور سیاحت پر توجہ دینی ہو گی۔

  • تربیلا ڈیم کا بھر جانا زراعت اور ہائیڈل بجلی بنانے کے لیے اچھا شگون ہے         وزیراعظم

    تربیلا ڈیم کا بھر جانا زراعت اور ہائیڈل بجلی بنانے کے لیے اچھا شگون ہے وزیراعظم

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم کا بھر جانا زراعت اور ہائیڈل بجلی بنانے کے لیے اچھا شگون ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ارسا نے تربیلا ڈیم کے مکمل بھر جانے کی تصدیق کی تھی۔ ارسا کے مطابق تربیلا ڈیم کا آبی ذخیرہ ایک ہزار 550 فٹ کی انتہائی حد تک پہنچ گیا ہے اور تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی حد بھی ایک ہزار 550 فٹ تک ہے۔

    ارسا کا کہنا تھا کہ بارشوں اور پہاڑوں پر برف پگھلنے سے ڈیم میں پانی کی آمد بڑھی ہے تاہم وافر پانی کی دستیابی سے کاشتکاری اور فصلوں کو فروغ ملے گا۔


    ارسا کی اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ الحمداللہ رواں سال غیر معمولی موسم کے باوجود گزشتہ روز تربیلا ڈیم مکمل بھر گیا ہے تربیلا ڈیم کا بھر جانا زراعت اور ہائیڈل بجلی بنانے کے لیے اچھا شگون ہے۔

    وزیراعظم کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے جاری اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل…

    وزیر اعظم عمران خان نے متعلقہ اداروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہترین واٹر ریگولیشن پر واپڈا اور ارسا کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ تربیلا ڈیم کے دورے کے دوران پانچویں توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ‏تربیلا توسیعی منصوبے سے ایک ہزار 530 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہو گی۔ جس کے بعد تربیلا کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 6418 میگا واٹ ہو جائے گی۔

  • بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے میرے بابا کا جسد خاکی چھین کر زبردستی تدفین کی،سید نسیم گیلانی

    بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے میرے بابا کا جسد خاکی چھین کر زبردستی تدفین کی،سید نسیم گیلانی

    بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے میرے بابا کا جسد خاکی چھین کر زبردستی تدفین کی،سید نسیم گیلانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حریت رہنما سید علی گیلانی کی تدفین کر دی گئی ہے

    سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارتی فوج نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا تھا، سرینگر کی جانب آنے والے تمام راستے بند کر دیئے تھے ، سید علی گیلانی کی رہائشگاہ کو سیل کر دیا گیا تھا ،بھارتی فوج کی جانب سے اہلخانہ پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ تدفین آدھے گھنٹے میں کر دیں، سید علی گیلانی کی وفات پر کشمیر بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے، پاکستان نے بھی ایک روزہ سوگ کا اعلان کا کیا ہے،

    سید علی گیلانی کی نماز جنازہ محلہ حیدر پورہ کی جامع مسجد میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں سید علی گیلانے کے بیٹوں ڈاکٹر نعیم گیلانی اور سید نسیم گیلانی کے علاوہ 50 کے قریب افراد نے شرکت کی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، سید علی گیلانی کی نماز جنازہ کے موقع پر ہم کیا چاہتے آزادی، کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے،

    سید علی گیلانی کی وفات کے بعد جموں کشمیر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی جو ابھی تک معطل ہے،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے سرینگر کی جانب آنے والے تمام شاہراہوں کو سیل کر دیا ہے، سید علی گیلانی کی وفات کے بعد جموں کشمیر کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے ان کی حمایت میں نعرے لگائے گئے

    دوسری جانب سید علی گیلانی کے بیٹے نسیم گیلانی نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے میرے بابا کا جسد خاکی چھین کر زبردستی تدفین کی، اس وقت فیملی میں سے کوئی بھی وہاں نہیں تھا، ہم نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن انہوں نے ہماری ایک نہیں سنی بلکہ خواتین کو بھی زدو کوب کیا خاندان نےسرینگر کے مرکزی شہداء کے قبرستان میں تدفین کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پولیس نے اسے قبول نہیں کیا

    سید علی گیلانی اپنے آبائی شہر سپرد خاک

    کشمیر یوتھ الائنس کی مرکزی کابینہ کا سید علی گیلانی کا مشن جاری رکھنے کا عزم

    بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون

    حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا

    وزیراعظم عمران خان کا سید علی گیلانی کے انتقال پر شدید دُکھ کا اظہار،آج پاکستانی…

    سید علی گیلانی کی وفات پر صدر مملکت۔بلاول۔ سراج الحق سمیت قومی قائدین کا اظہار افسوس

    کشمیری آج یتیم ہو گئے، علی گیلانی کی وفات پر مشعال ملک کا جذباتی پیغام

    قابض بھارتی فوج کی جانب سے سید علی گیلانی کی رات کے اندھیرے میں تدفین پر دباؤ ، تیاری جاری

    سید علی گیلانی کی قربانیاں اور مسلسل جدوجہد بھارتی قبضے کے خلاف ناقابل تسخیرعزم کی علامت ہے…

    آزادکشمیر حکومت کا سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان

    پاکستان کے مختلف شہروں میں سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی