Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    کابل:اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، ایسے میں افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کو کابل شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    علی احمد جلالی افغانستان کے سابق وزیرِ داخلہ بھی ہیں، وہ جرمنی میں افغان سفیر کےطور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود طالبان عہدے دار کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما ملا برادر افغانستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں۔

    اس موقع پر قائم مقام افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار میر زکوال نے کہا ہے کہ طالبان سے کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    میڈیا کو جاری کیئے گئے بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

    افغان حکام نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت خونریزی کی خواہاں نہیں ہے، کوشش ہے کہ جنگ کے بغیر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔

    اس سے قبل افغان میڈیا پر جاری بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ کابل میں بزورِ طاقت داخل نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف سے مذاکرات جاری ہیں تاکہ کابل میں داخلے کے وقت شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

    طالبان نے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتقام نہیں لے رہے، تمام فوجی اور سویلین اہلکار محفوظ رہیں گے۔

    عرب ٹی وی سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے کہا کہ بزورِ طاقت کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے بات چیت کریں گے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغان دارالحکومت کا کنٹرول پرامن طریقے سے ملے، اس کے لیے چند روز یا ہفتہ بھی لگا تو انتظار کریں گے۔

  • تکبر،عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سےانکاری افغان صدراشرف غنی ذلّت کےساتھ مستعفی

    تکبر،عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سےانکاری افغان صدراشرف غنی ذلّت کےساتھ مستعفی

    کابل :تکبر:عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سے انکارکرنے والا افغان صدراشرف غنی ذلّت کے ساتھ مستعفی ،اطلاعات کے مطابق تاریخ نےآج وہ وقت دیکھا جب افغانستان میں تکبر، غرور اورطاقت کے بل بوتے پرزبردستی حکومت کرنے والا اشرف غنی جو چند دن پہلے نہ صرف مستعفی ہونے سے انکاری تھا بلکہ افغان طالبان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہا تھا آج بڑی ذلت اوررسوائی کے ساتھ جان کی امان مانگتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق 3 بج کر10 منٹ پرافغان صدرصدارتی محل میں بڑی شرمساری اورجان کی امان مانک کراپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوچکے ہیں ،

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان صدارتی محل میں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جہاں فغانستان کے صدر اشرف غنی مستعفیٰ ہوگئے ہیں ،

    جب کہ مذکرات میں کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے ، جس کے تحت طالبان عبوری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے ، علی احمد جلالی نئی حکومت کے سرا راہ مقرر کئے جائیں گے جب کہ اس سارے معاملے میں عبداللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    افغانستان کے قائم مقام وزیرداخلہ عبدالستار مرزا کوال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت کی منتقلی پرامن طریقے سے ہوگی ، کابل کے شہری یقین رکھیں کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔

    اس سے پہلے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ افغانستان میں طالبان افغان دارالحکومت کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہونے لگے ہیں ، وزارت داخلہ نے طالبان کے کابل میں داخلے کی تصدیق کردی ہے جب کہ کابل میں افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے باعث افغان دارالحکومت میں سرکاری عمارتیں خالی کرالی گئیں

    دوسری طرف افغانستان میں طالبان نے طورخم بارڈر کا کنٹرول سنبھال لیا ، طالبان کی جانب سے طورخم بارڈر کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاک افغان سرحد طورخم پر تعینات افغان فوجی فرار ہوگئے جب کہ پاک افغان سرحد طورخم کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ۔

    بتایا گیا کہ ملک کے اکثریتی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی چاروں طرف سے داخل ہونے لگے ہیں ، مجموعی طور پر طالبان اب تک 34 میں سے 25 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر چکے ہیں اور جلال آباد پر بھی طالبان نے قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد افغان حکومت کا کنٹرول صرف کابل تک محدود ہو گیا ہے جب کہ افغان دارالحکومت کابل میں کئی گھنٹوں سے بجلی کا مکمل بلیک آؤٹ ہے ، علاوہ ازیں پاکستانی سرحد کے ساتھ 2 اہم صوبوں پکتیا اور پکتیکا پر بھی طالبان قبضہ کر چکے ہیں، صوبے فاریاب اور کنڑ بھی طالبان کے زیرِ اثر ہیں۔

    اسی طرح طالبان نے ازبک سرحد کے قریب آخری بڑے شہر مزار شریف پر بھی قبضہ کر لیا ہے جہاں وہ اپنے پہلے دور میں قابض نہیں ہو سکے تھے ، شہر کے دفاع پر مامور افغان فورسز، فیلڈ مارشل اور وار لارڈ جنرل عبدالرشید دوستم اور ملیشیا لیڈر عطاء محمد نور وہاں سے فرا ر ہو گئے ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا تاہم اطلاعات ہیں کہ فیلڈ مارشل اور وار لارڈ جنرل عبدالرشید دوستم مزار شریف سے ازبکستان فرار ہوگئے ہیں اور طالبان جنرل رشید دوستم کے گھر بیٹھ کر میں قہوے اور ڈرائی فروٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

  • کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار

    کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار

    کابل:کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار،اطلاعات کے مطابق سقوط کابل ہونے کے قریب ہے اور اس وقت کابل کے ایئر پورٹ پر بڑی عجیب صورت حال دیکھنے کو مل رہی ہے

    کابل سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہا اس وقت ہرطرف افراتفری کا عالم ہے اور‏افغان حکومت کے عہدیدار افراتفری میں ادھرادھربھاگ رہےہیں‌

    کابل ائیرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل کی انتظارگاہ اور پارکنگ صدر اشرف غنی کے مشیر، وزرا، سابق وزرا اور ارکان پارلیمنٹ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے جہاز کو ٹیک آف کی اجازت نہیں مل رہی

    ادھرکابل سے آمدہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا، قائم مقام افغان وزیرداخلہ افغانستان میں اقتدار پرامن طور پرعبوری حکومت کو منتقل ہو گا۔

    افغان میڈیا کے مطابق طالبان کو اقتدارکی منتقلی کیلئےافغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں، علی احمدجلالی کونئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ عبداللہ عبداللہ معاملےمیں ثالث کا کردارادا کر رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا کچھ دیرمیں مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔

    طالبان نے افغانستان کے تمام بارڈرز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ جنگ کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں، جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کو دارالحکومت میں داخلے کے دوران قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جنگجووں کی آمد کی اطلاعات پر افغان شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ، کابل یونیورسٹی سے طالبات گھروں کو جا چکی ہیں، عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

    طالبان صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں بھی داخل ہوگئے، پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی قبضہ ہو گیا، زابل کے گورنر نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ صوبہ دایکندی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے بغیر لڑے قبضہ کرلیا، افغان فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت پناہ کے لئے ایران جانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔

  • ‏طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادرکی افغانستان آنے کی تیاری

    ‏طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادرکی افغانستان آنے کی تیاری

    دوحہ میں طالبان عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا کہ ‏طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر افغانستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دوحہ سے جاری طالبان عہدیدار کے مطابق ‏طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر افغانستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اقتدار کی پر امن منتقلی کیلئے مذاکرات کے لئے افغان طالبان کا وفد افغان صدارتی محل میں داخل ہو گیا ہے جہاں مذاکرات جاری ہیں-

    افغان میڈیا کے مطابق عبداللہ عبداللہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پُرامن ماحول میں ہو گی –

    واضح رہے کہ طالبان کابل میں داخل ہو چکے ہیں قائم مقام وزیر داخلہ نے کہا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا، اقتدار پرامن طریقے سے منتقل ہو گا طالبان کا کہنا ہے لوگ ملک چھوڑ کر نہ جائیں، ہم انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے کابل میں تمام تجارتی ادارے اور بینک اپنا کام جاری رکھیں۔ تجارتی ادارے اور بینکوں میں کام کرنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

  • افغان قومی اسمبلی کے سپیکر اسمبلی میر رحمان رحمانی اسلام آباد روانہ

    افغان قومی اسمبلی کے سپیکر اسمبلی میر رحمان رحمانی اسلام آباد روانہ

    افغانستان کی موجو دہ صورتحال کے پیش نظر افغان قومی اسمبلی کے سپیکر اسمبلی میر رحمان رحمانی اسلام آباد روانہ ہوگئے ۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے قومی اسمبلی کے سپیکر میر رحمان رحمانی اور استاد محمد محقق اورافغان وفد کے دیگراراکین پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے) کی پرواز سے اسلام آباد روانہ ہو ئے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں دو ماہ تک جاری رہنے والی طالبان اور حکومتی فورسز کی لڑائی کے بعد طالبان آج دارالحکومت کابل میں داخل ہو رہے ہیں ، طالبان کی جانب سے اپنے جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ کابل سے باہر جانا چاہتے ہیں انہیں محفوظ راستہ دیا جائے۔

    طالبان کا کہنا ہے کہ وہ طاقت یا جنگ کے زور پر شہر میں داخل نہیں ہوں گے-

    ان کا کہنا ہے کہ ’دارالحکومت کابل ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین طاقت یا جنگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ کابل کے ذریعے پُرامن طریقے سے داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں کسی کی جان، مال اور عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر-

    دوحہ میں طالبان رہنماؤں نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کابل میں پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں، شہر سے باہر نکلنے والوں کو راستہ دیں اور خواتین و بچوں کو حفاظتی مقامات تک پہنچائیں۔

    ترجمان طالبان نے کہا کہ (ہم) اپنی تمام افواج کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کابل کے دروازوں پر کھڑے رہیں، شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔‘

    ترجمان افغان طالبان ‏نے کہا کہ کابل میں تمام تجارتی ادارے اور بینک اپنا کام جاری رکھیں ‏تجارتی اداروں اور بینکوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا افغان طالبان نے حکومت اور فوج میں کام کرنیوالے تمام اہلکاروں کو معاف کردیا ہمارا کسی سے بدلہ لینے کاکوئی ارادہ نہیں کوئی تشدد نہیں ہوگا-

    طالبان نے پاک افغان سرحد طورخم پر تعینات افغان فوجیوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا پاک افغان سرحد طورخم کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے طالبان نے جلال آباد پر بغیر لڑے ہی کنٹرول حاصل کر لیا اور گورنر جلال آباد نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

  • اشرف غنی "تنہا ” رہ گئے، یورپی سفارتی عملے کو کابل میں ہی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا

    اشرف غنی "تنہا ” رہ گئے، یورپی سفارتی عملے کو کابل میں ہی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا

    نیٹو حکام کے مطابق یورپی سفارتی عملے کو کابل میں ہی ایک نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی نے خبر رساں ادارے روئٹرزکے حوالے سے بتایا کہ افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں کابل وہ واحد اہم شہر ہے جو اس وقت افغان طالبان کے قبضے میں نہیں ہے۔

    نیٹو اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ کابل میں یورپی یونین کے ممبران کو ایک نامعلوم حفاظتی مقام پر منتقل کر دیا گیا ہےافغانستان کے دارالحکومت سے سفارتی اور بین الاقوامی عملے کی واپسی کے لیے کوششوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔

    جبکہ بی بی سے نے خبر رساں ادارے اے پی کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کی صبح کئی ہیلی کاپٹروں کو امریکی سفارتخانے آتے دیکھا گیا ہے یہاں بکتر بند گاڑیاں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    بی بی سی کے مطابق نام نہ ظاہر کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں نے اے پی کو بتایا کہ سفارتی عملے کی جانب سے حساس دستاویزات کو جلایا گیا ہے اور سفارتخانے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق کابل میں کچھ دکانیں بند کر دی گئی ہیں اور حکومتی دفاتر خالی کرا لیے گئے ہیں۔ جبکہ سرکاری سطح پر اس کی کوئی وجہ نہیں دی گئی۔

    روئٹرز کے مطابق امریکا کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی جب افغان طالبان نے ملک کے آخری بڑے شہر جلال آباد پر بھی قبضہ کر لیا اس طرح افغان حکومت صرف کابل تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے جبکہ دارالحکومت میں بھی طالبان داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں-

    روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ طالبان کی تیز تر پیش قدمی کے بعد گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ قوم سے خطاب کے لیے سامنے آئے تھے بظاہر لگتا ہے کہ وہ تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ قبائلی سردار جنہوں نے ایک روز قبل ہی صدر غنی سے ملاقات کی تھی، یا تو بھاگ گئے ہیں یا پھر انہوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اس طرح صدر اشرف غنی بغیر کسی ‘فوجی طاقت تنہا رہ‘ گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کو طالبان نے مشرقی شہر جلال آباد کا کنٹرول سنبھال لیا اور اس سے ایک دن قبل انھوں نے مزار شریف پر قبضے کا اعلان کیا تھا جلال آباد میں طالبان اور فوج کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیونکہ گورنر نے سرینڈر کر دیا تھا طالبان نے کل 34 میں سے 23 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

    طالبان سے لڑائی میں افغان فوج کی ناکامیوں کے بعد صدر اشرف غنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان سے استعفی مانگا جا رہا ہے۔ ان کے پاس اب دو ہی راستے ہیں، استعفی دیں یا دارالحکومت پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے لڑائی جاری رکھیں۔

  • طالبان کابل پہنچ گئے، طالبان کا شہر میں ’پُرامن طریقے سے داخلے‘ کا اعلان

    طالبان کابل پہنچ گئے، طالبان کا شہر میں ’پُرامن طریقے سے داخلے‘ کا اعلان

    بریکنگ :طالبان نے چاروں اطراف سے دارالحکومت کابل میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے: افغان وزارت داخلہ

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبررساں ادارے سی این این نے بھی تصدیق کی ہے کہ کہ طالبان کابل میں داخل ہوئے ہیں سی این این کا کہنا ہے کہ طالبان نے چاروں اطراف سے دارالحکومت کابل میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے-

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کابل پہنچ گئے، طالبان نے شہر میں ’پُرامن طریقے سے داخلے‘ کا اعلان کیا ہے-

    افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان نے دارالحکومت کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہونا شروع کر دیا ہے۔ جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ طاقت یا جنگ کے زور پر شہر میں داخل نہیں ہوں گے-

    بی بی سی رپورٹنگ کے مطابق طالبان کو افغان دارالحکومت میں بہت زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے افغان طالبان نے ایک بیان میں کابل میں ’لڑائی نہ کرنے کا اعلان‘ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’دارالحکومت کابل ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین طاقت یا جنگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ کابل کے ذریعے پُرامن طریقے سے داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں کسی کی جان، مال اور عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر طالبان نے اپنے جنگجووں کو کابل میں تشدد سے اجتناب کی بھی ہدایت کی-

    ترجمان طالبان نے کہا کہ (ہم) اپنی تمام افواج کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کابل کے دروازوں پر کھڑے رہیں، شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔‘

    ترجمان افغان طالبان ‏نے کہا کہ کابل میں تمام تجارتی ادارے اور بینک اپنا کام جاری رکھیں ‏تجارتی اداروں اور بینکوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا افغان طالبان نے حکومت اور فوج میں کام کرنیوالے تمام اہلکاروں کو معاف کردیا ہمارا کسی سے بدلہ لینے کاکوئی ارادہ نہیں کوئی تشدد نہیں ہوگا-

    طالبان نے تمام شہریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اور مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا-

  • یوم آزادی کےمبارک موقع پرباغی ٹی وی کی”پشتو” زبان  میں  بھی نشریات شروع

    یوم آزادی کےمبارک موقع پرباغی ٹی وی کی”پشتو” زبان میں بھی نشریات شروع

    لاہور:یوم آزادی کے مبارک موقع پرباغی ٹی وی کی”پشتو”زبان میں بھی نشریات شروع،اطلاعات کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا کے اس دورمیں پاکستان سے دنیا بھرکو خبروں ،تجزیوں اورتازہ ترین حالات سے باخبررکھنے والے معروف چینل”باغی ” ٹی وی نے یوم پاکستان کے مبارک دن کے موقع پرایک اور سنگ میل عبورکرلیا ہے

    باغی ٹی وی جو کہ دنیا بھرکومختلف زبانوں میں‌ حالات حاضرہ ، خبروں اورتجزیوں سے آگاہ رکھ رہا ہے آج اس مبارک دن کے موقع پرباغی ٹی وی کی نشریات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایک اورزبان کا اضافہ کردیا ہے

     

    باغی ٹی وی ہیڈ آفس سے موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ آج یوم آزادی کے اس عظیم موقع پر "پشتو”زبان میں نشریات شروع کرکے ایک ریکارڈ قائم کردیا ہے

    یاد رہےکہ اس سے پہلے باغی ٹی وی قومی زبان اردو کے علاوہ انگلش اوراردوزبان میں اپنی نشریات چلا رہا ہے ، باغی ٹی وی جس کے دنیا بھرمیں چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اب اس تعداد میں پشتوزبان سے تعلق رکھنے والے مزید لاکھوں شائقین اورصارفین کا اضافہ ہوا ہے

    اس مبارک موقع پر باغی ٹی وی ہیڈآفس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ادارہ یوم آزادی کے اس مبارک دن کی مناسبت سے پشتوزبان والوں کے لیے سروس کا آغازکرکے ان کواپنی خوشیوں میں شریک کررہا ہے

  • افغان طالبان کابل سے11 کلومیٹردور:اشرف غنی کا سوفٹ ویئراپ ڈیٹ ہونےلگا:غیرملکیوں کا فرارجاری

    افغان طالبان کابل سے11 کلومیٹردور:اشرف غنی کا سوفٹ ویئراپ ڈیٹ ہونےلگا:غیرملکیوں کا فرارجاری

    کابل :افغان طالبان کابل سے11 کلومیٹردور:اشرف غنی کا سوفٹ ویئراپ ڈیٹ ہونےلگا:غیرملکیوں کا فرارجاری ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان پیش قدمی کرتے کابل سے11 کلومیٹر کی مسافت پر پہنچ گئے، طالبان نے 34 صوبوں میں سے 24 پر قبضہ کرلیا ہے،

    کابل سے معتبرذرائع کا کہنا ہے کہ کابل کے قریب افغان طالبان کے قدموں کی آہٹ سن کراشرفی غنی کا سوفٹ ویئراپ ڈیٹ ہونے لگا ہے اورجواشرف غنی پہلے استعفٰی دینے سے انکاری تھے اب اپنا انجام قریب دیکھ کرافغان صدر اشرف غنی نے استعفے پر غور شروع کردیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کی کابل کی جانب پیش قدمی جاری ہے، طالبان افغان دارلحکومت کابل سے11 کلومیٹر کی مسافت کے قریب پہنچ گئے ہیں، طالبان نے 34 صوبوں میں سے 24 پر قبضہ کرلیا ہے۔

    ا دھر ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت تین صوبوں کے دارالحکومت کے باہرلڑائی ہورہی ہے اوریہ بھی خبریں‌ پہنچ رہی ہیں کہ رات تک ان تینوں صوبوں پرافغان طالبان کا مکمل کنٹرول ہوجائے گا ، ادھر طالبان نے مزید 2 صوبوں پکتیکا اور کنٹر کے دارلحکومتوں پر قبضہ حاصل کرلیا ہے۔

    یہ بھی کہا جارہاہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے چند ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے صدارت سے استعفیٰ دیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اشرف غنی استعفیٰ دینے کے بعد اپنی فیملی سمیت بیرونِ ملک جائیں گے۔

    اسی طرح امریکا نے اتوار تک سفارتخانے کے عملے کو نکالنے کیلئے 3ہزار امریکی فوجی افغانستان پہنچ کرامریکیوں کو بڑی تیزی سے نکال کرہمسائیہ ممالک میں محفوظ مقامات تک پہنچا رہےہیں ۔

    برطانوی فوجی بھی اس وقت بڑی تعداد میں برطانوی شہریوں کو وہاں سے نکال چکے ہیں ،

    امریکا کی ایک میرین بٹالین اور انفنٹری بٹالین کابل میں پہنچ کراہم اورحساس ایسی مشنری تباہ کررہےہیں جن کو امریکہ ساتھ لے جانا مشکل دکھائی دے رہا ہے ،

    کابل سے ذرائع کے مطابق کابل شہر میں ان علاقوں میں جہاں امریکی اوربرطانوی فوجی اوردیگرشہری موجود تھے وہاں سے دھوئیں کے بادل نظرآرہے ہیں اوراس کی وجہ یہی بتائی جارہی ہے کہ امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹا گان کی ہدایت کے مطابق بھاری اورحساس مشنری کوجلایا جارہا ہے تاکہ وہ افغان طالبان کے قبضے کی صورت میں افغان طالبان کے کام نہ آسکیں

    ادھرابھی ابھی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کے ضلع جنوبی وزیرستان کے ساتھ متصل، افغان صوبہ پکتیکا میں واقع انگور اڈے پر قبضہ کرلیا۔

     

    افغان طالبان نے آج تین صوبوں پکتیکا، پکتیکا اور کنڑ کے بڑے شہروں اور مکمل صوبے پر کنٹرول کا دعوی کیا ہے۔

    طالبان ذرائع کے مطابق پاکستان کے ساتھ متصل انگور اڈے کے انتظامات طالبان نے سنبھال لیے ہیں۔

  • پریسبٹرین چرچ نولکھا لاہورمیں جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریب:ہرنسل اورہرمذہب کےماننے والےشریک

    پریسبٹرین چرچ نولکھا لاہورمیں جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریب:ہرنسل اورہرمذہب کےماننے والےشریک

    لاہور:پریسبٹرین چرچ نولکھا لاہورمیں جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریب:ہرنسل اورہرمذہب کےماننے والےشریک،اطلاعات کے مطابق آج پوری قوم آزادی کی نعمت کوشکرانے طورپرمنا رہی ہے اوریہ خوشیاں پاکستان سمیت دنیا بھرمیں منائی جارہی ہیں‌

     

     

    یوم آزادی کی خوشی پاکستان میں رہنے والی تمام نسلیں ، گروہ اورہرمذہب کے ماننے والے منارہےہیں‌ اوریہ سلسلہ خیبر سے لیکرکراچی تک صبح سے جاری وساری ہے

     

    یوم آزادی کی ایک ایسی ہی تقریب لاہور کے نولکھا چرچ میں ہوئی جہاں اس ملک میں رہنےوالےمسیحی بھائیوں‌ کی بڑی کثیرتعداد شریک تھی

    نولکھا چرچ میں جہاں مسیحی کمیونٹی خوشیاں منارہی تھی وہاں آج کے دن پاکستان کی مقتدرشخصیات بھی شامل تھیں‌

     

    پریسبٹرین چرچ نولکھا لاہور میں جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریب میں‌ معروف صحافی سینیئر تجزیہ نگار مبشرلقمان ماڈریٹر مجید ایبل ۔ڈی سی لاہور مدثر ریاض ۔میاں عمران مسعود ۔مولانا محمد عاصم مخدوم ۔پادری شاہد معراج سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شریک ہوئے

     

    ذرائع کے مطابق اس موقع پر تمام شرکائے تقریب ملکر جشن آزادی کا کیک کاٹا ۔پودا لگایا۔ملکی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی

    پریسبٹرین چرچ نولکھا لاہورمیں جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا کہ مجھے آج خوشی ہورہی ہے کہ اس مقام پراس ملک میں رہنے والے تمام مذاہب،ہرنسل اورہرفکرکے لوگ مل کراس بات کی خوشی منارہے ہیں کہ ہم آزاد ہیں اوراس آزادی کے حصول میں جن ہمارے اباواجداد نے قربانیاں دیں ان کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں‌

     

    ڈاکٹر مجید ایبل نے اس موقع پر کہا کہ ہر مذہب و مسلک اور قوم سے تعلق رکھنے والا جشن منا رہا ہے، ڈی سی لاہورمدثرریاض کا کہنا تھا کہ آج خوشیوں کا دن ہے

    مولانا محمد عاصم مخدوم نے کہا کہ آزاد ریاست کے حصول پر اپنے اکابرین کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں