Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • توہین عدالت کیس:مسلسل غیر حاضری پر عدالت فردوس عاشق اور فواد چوہدری پر برہم، کیا ریمارکس دیئے؟

    توہین عدالت کیس:مسلسل غیر حاضری پر عدالت فردوس عاشق اور فواد چوہدری پر برہم، کیا ریمارکس دیئے؟

    پشاو ر ہا ئی کورٹ نے توہین عدالت کے کیس میں پیش نہ ہونے پر فواد چوہدری اور فردوس عاشق اعوان پر برہمی کا اظہار کیا.

    باغی ٹی وی : پشاورہائی کورٹ میں سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی سزا کے خلاف وفاقی وزرا کی توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی عدالت کی جانب سے سماعت کے دوران پیش نہ ہونے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور سابق ترجما ن پنجاب حکومت فردوس عاشق اعوان پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تین بار نوٹس جاری کئے مگر یہ پیش نہیں ہوئے کیوں نہ ان کے خلاف وارنٹ جاری کردیئے جائیں ۔

    پشاورہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ لوگ جان بوجھ کر پیش نہیں ہورہے یا پھر شرم آرہی ہے،توہین آمیز زبان استعمال کرکے پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کی گئی جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال ناقابل برداشت ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم ، شہزاد اکبر اور سابق اٹارنی جنرل توہین آمیز رویہ پر معافی مانگ چکے ہیں لیکن فواد چوہدری اور فردوس عاشق اعوان کی معافی کو قبول کرنا ہے یانہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

    وکلا کی جانب سے آئندہ سماعت پر دونوں کی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعدعدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی ۔

  • برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لسٹ پر رکھنے پر کابینہ میں بحث

    برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لسٹ پر رکھنے پر کابینہ میں بحث

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا

    وفاقی کابینہ نے متعدد ایجنڈا آئٹمز کی منظوری دیدی .برطانیہ کے ساتھ مجرمان کی حوالگی کیلئے ایم او یو کی سمری پر تفصیلی بحث کی گئی وفاقی وزرا نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لسٹ پر رکھنے پر اعتراض کیا 9ستمبر کو چارٹر طیارے کی پاکستان لینڈنگ کی منظوری روک دی گئی، تفصیلی بحث کے بعد وفاقی کابینہ نے سمری ملتوی کر دی وفاقی وزرا اسد عمر، بابر اعوان اور شیخ رشید کے اعتراضات سامنے آئے، وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کو چھوڑ کر پاکستان کو ریڈ لسٹ پر برقرار رکھا گیا،برطانیہ کی جانب سے بتائی گئیں ریڈ لسٹ وجوہات غیر تسلی بخش ہیں حکومت پاکستان ریڈ لسٹ کے معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھائے،

    قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

    مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    وفاقی کابینہ اجلاس میں کورونا، ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا چیف سیکریٹری اورآئی جی پنجاب کوتبدیل کرنےکی منظوری دے دی گئی چیف سیکریٹری پنجاب کیلئے کامران علی افضل کی منظوری دی گئی آئی جی پنجاب کیلئے راؤسردارکی منظوری دی گئی کامران علی افضل اس وقت وفاقی سیکریٹری انڈسٹریزہیں

    وزیراطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سردارعلی خان کونیا آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ہے ،اسلام آباد میں غریبوں سےزمینیں حاصل کرکےان کا استحصال کیا گیا اسلام آباد میں زمینوں کے حصول اورالاٹمنٹ کے معاملے پرذیلی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی وزیراسدعمرکی سربراہی میں کمیٹی جامع پالیسی مرتب کرے گی،نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان آرہی ہے ،نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی آمدپرسیکیورٹی پلان کو تشکیل دیا ہے ،اصلاحات کےذریعے اداروں کومنافع بخش بنانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں ،پاکستان کو ریڈلسٹ میں رکھنے سے متعلق برطانیہ سے بات ہوئی ہے ،70کی دہائی میں ملک میں780سینما تھے اب 78رہ گئے،پاکستان میں سینماکی بحالی کیلئےعملی اقدامات اٹھا رہے ہیں،

    فواد چوھدری کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نےنیوزی لینڈکرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی پلان کی منظوری دی بلدیاتی انتخابات کیلئے 21 کروڑاضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی،روزویلٹ ہوٹل نیویارک کے واجبات کی ادائیگی کیلئے فنڈزکی منظوری دی گئی پاکستان نے 16کروڑموبائل فون سموں کوفنگرپرنٹس کے ساتھ رجسٹرڈ کیا،پاکستان واحدملک ہے جس نے سب سے پہلے 20 کروڑ شناختی کارڈجاری کیے،

    آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی کے تبادلے کا فیصلہ کرتے راؤ سردار علی خان کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا تھا راؤ سردار علی مینجنگ ڈائریکٹر سیف سٹیز اتھارٹی پنجاب ہیں،سیکرٹری صنعت و پیداوار ڈویژن کامران علی کا تبادلہ کرتے انہیں چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کیا گیا ہے

  • ہم وزیراعظم اور وزیراعلی کا استعفی لینے نکلے تھے، اپنے استعفوں کی بات شروع ہوگئی،بلاول

    ہم وزیراعظم اور وزیراعلی کا استعفی لینے نکلے تھے، اپنے استعفوں کی بات شروع ہوگئی،بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سے ملتان میں صحافیوں کی ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ لوگ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں،ہماری تیاری لانگ مارچ کے لیے ہے جیسے ہی اپوزیشن تیار ہوئی تحریک عدم اعتماد لے آئیں گے الیکٹرانک ووٹنگ مشین متنازعہ معاملہ ہے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ بات چیت سے حل ہو گا،لوڈ شیڈنگ کے ماحول میں الیکٹرانک ووٹنگ کی بات ہو رہی ہے،شہباز شریف کا بیان آتا ہے، پیچھے سے آواز آتی ہے یہ ان کا ذاتی بیان ہے ہم وزیراعظم اور وزیراعلی کا استعفی لینے نکلے تھے، اپنے استعفوں کی بات شروع ہوگئی،

    قبل ازیں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سے پیپلزسیکریٹریٹ میں ملاقات کے بعد میلسی سے تعلق رکھنے والے عمران ممتاز بھابہ نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیآ

    دوسری جانب محمد تنویر کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری آج دورہ کہروڑپکا کریں گے، تمام انتظامات مکمل 600 سے زائد افراد سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے، بڑے بڑے پینافلکس، ہولڈنگ، جھنڈوں سے شہر کو سجادیا گیا بھر پور استقبال کیا جائے گا، 4 ایکڑ پر مشتمل پنڈال، ایک ایکڑ پر سٹیج، 6 ایکڑ کی پارکنگ، 5 ہزار کرسیاں لگائی جائیں گئیں، ضلعی پیپلز سیکٹریٹ کا افتتاح بھی بلاول بھٹو زرداری کریں گے تفصیل کے مطابق 7 ستمبر 6 بجے شام کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری ضلعی صدر امداد اللہ عباسی کی دعوت پر ورکرز کنونشن سے خطاب کریں گے دورہ کے موقعہ پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں جن میں پنجاب پولیس کے دو سو جوان وآفیسر کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری کے 4 سو سے زائد ذاتی سیکورٹی گارڈ پنڈال سمیت تمام اندرونی سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے

    کل شام سے ہی سیکورٹی نے جلسہ گاہ سمیت دیگر مقامات پر سیکورٹی کے انتظامات سنبھال لیے ہیں 4 ایکڑ پر مشتمل پنڈال، 5 ہزار کرسیاں، 1 ایکڑ پر سٹیج، 6 ایکڑ پر پارکنگ بنائ گئی ہے بلاول بھٹو زرداری کا شاندار تاریخی استقبال کیا جائے گا شہر میں داخلہ کے راستوں کو خوبصورت ہولڈنگز، پینافلکس اور پارٹی کے جھنڈوں سے سجادیا گیا ہے بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی، سابق گورنر مخدوم احمد محمود، سابق وزیر اعلی دوست محمد کھوسہ ودیگر رہنما تشریف لائیں گے پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر امداد اللہ عباسی کے مطابق اس موقعہ پر علاقہ کی قد آور شخصیات پیپلز پارٹی میں شمولیت کا باقائدہ اعلان بھی کریں گئیں امداد اللہ عباسی سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا تاریخی استقبال کریں گے بلاول بھٹو زرداری ضلعی پیپلز سیکٹریٹ، وآفس امداللہ عباسی کا افتتاح بھی کریں گے بلاول بھٹو زرداری کے مختصر قیام کے لیے بھی کمرے کی زیب وارائش مکمل کرلی گئی ہے

  • مسرت عالم بھٹ سید علی گیلانی کی جگہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے نئے سربراہ مقرر

    مسرت عالم بھٹ سید علی گیلانی کی جگہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے نئے سربراہ مقرر

    مسرت عالم بھٹ کو سید علی شاہ گیلانی کی جگہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے

    یہ فیصلہ آج سرینگر میں حریت کانفرنس کے خصوصی اجلاس میں کیا گیا اس سے قبل وہ سید علی گیلانی کے ساتھ حریت کانفرنس کے سیکرٹری کی حیثیت میں کام کر رہے تھے ،کل جماعتی حریت کانفرنس کا ایک غیر معمولی اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا،کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اجلاس میں بابائے حریت سیدعلی گیلانی کی وفات پر حریت قائدین نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے اس کو پر کرنا مشکل ہے تاہم بابائے حریت کے مشن کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے کہاکہ اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد اس بات کو محسوس کیا گیا کہ بابائے حریت کی وفات کے بعد حریت کانفرنس کے چیئرمین کا عہدہ خالی ہے اور اس کو پر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تمام حریت قائدین نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ سینئر حریت رہنماء مسرت عالم بٹ کو حریت کانفرنس کا چیئرمین ، شبیر احمد شاہ اور غلام احمد گلزار کو وائس چیئرمین اور مولوی بشیر احمد عرفانی بدستور جنرل سیکریٹری ہوں گے اور دیگر کمیٹیوں کے ذمہ داران بھی اپنی جگہ بدستور کام کرتے رہیں گے ۔

    حریت ترجمان نے کہاکہ یہ فیصلہ حریت کانفرنس کو مزید متحرک اور فعال بنانے کیلئے کیاگیا ہے اور مستقبل میں حالات میں بہتری کے بعد باضابطہ طورپر حریت کانفرنس کے آئین کے مطابق الیکشن کے ذریعے تمام ذمہ داروں کو انتخاب کیاجائے گا۔ اس موقع پر اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    مقبوضہ کشمیر، مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل

  • پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ نے ملک بھر میں اپنے تمام ائیر بیسز اور تنصیبات پر 07 ستمبر یوم شہداء کے طور پر منایا۔ دن کا آغاز 1965 اور 1971 کی جنگوں کے شہداء اور ان تمام افراد کے لیے خصوصی دعاؤں اور قرآن خوانی سے کیا گیا جنہوں نے پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر اب تک مادرِ وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

    اسی سلسلے کی مرکزی تقریب ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں منعقدکی گئی۔ سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ 07 ستمبر کے یادگار اور تاریخی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ائیر چیف نے پاک فضائیہ کے ان تمام ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ہمیشہ بے مثال بہادری کے ساتھ قوم کی آواز پر لبیک کہا اور عظیم مقصد کے لئے دوسروں سے آگے بڑھ کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    ایئر چیف نے کہا کہ پاک فضائیہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال سے باخبر ہے اور پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کے لئے مکمل تیار ہے۔ اس خاص دن کے موقع پر انہوں نے ان تمام کشمیریوں سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا جنہوں نے آزادی کی خاطر لڑتے ہو ئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مدد کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے ائیر چیف نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ تقریب میں پرنسپل اسٹاف آفیسرز، افسران، ائیر مین اور سویلینز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    ہمیشہ امن کے لئے کھڑے ہیں، پاکستان کے کپتان نے مودی سمیت دنیا کو دیا اہم پیغام

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    ُٓقبل ازیں اس تاریخی دن کی مناسبت سے کراچی میں پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کی قبر پر ائیر وائس مارشل زعیم افضل، ائیر آفیسر کمانڈنگ، سدرن ائیر کمانڈ نے سربراہ پاک فضائیہ کی جانب سے پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ ملک بھر میں پاک فضائیہ کے دیگر شہداء کی قبروں پر بھی اسی طرح کی تقاریب منعقد کی گئیں۔

  • مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے

    مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے

    مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 25سال پہلے پارٹی کا آغاز کیاتو اس کا نام انصاف کی تحریک رکھا

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاست میں اس لیے آیا کہ ملک کے لیے کچھ کرسکوں خواہش تھی کہ تعلیم ،صحت اور انصاف کا نظام مضبوط ہو،خوش قسمت تھا دنیا کی ہر نعمت میسرتھی،سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی بھارت میں اتنی غربت تھی جوکسی اورملک میں نہیں تھی،آج بھارت ،بنگلہ دیش اوردیگر غریب ممالک آگے نکل گئے،وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جہاں قانون کی بالادستی ہو،سیرت النبی ﷺ پر عمل سے ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں گے ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا میری بیٹی بھی چوری کریں تو ہاتھ کاٹ دیا جائے،پرویزمشرف نے این آر او دیکر سب سے بڑا جرم کیا،ہم نے وکلا کی تحریک میں حصہ لیا جو ایک تاریخی جدوجہد تھی،وکلا کی تحریک کے جونتائج آنے چاہیے تھے وہ بدقسمتی سے نہیں آئے، اب تو سارے اکٹھے ہوکر کہتے ہیں ہمیں این آراو دیں،ملک میں خوشحالی اس وقت آئے گی جب قانون کی بالادستی ہوگی،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی قیمتی اثاثہ ہیں،یہ جب پلاٹ لیتے ہیں تو قبضہ گروپ قبضہ کرلیتے ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بہترین فیصلے دیئے گرین ایریاز میں ہمیں چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی ضرورت ہوتی ہے،طاقت ور کبھی انصاف نہیں مانگتا ،کمزور ہی طاقت ور سے انصاف کی جنگ لڑتا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام پہلے ہی ہونا چاہیے تھا

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

    میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس، وکلاء مشکل میں پھنس گئے

    ہم سب ٹرائل پرہیں، اللہ بھی ہمیں دیکھ رہا ہوں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے مشکل سے آزادی حاصل کی،سستا اور فوری انصاف ہرشہری کا بنیادی حق ہے،ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام انتہائی اہم تھا، جب سچی گواہی ناپید ہوجائے توانصاف کی فراہمی میں مشکل پیش آتی ہے قانون کی بالادستی ہوگی تو کمزور طبقوں کو انصاف فراہم ہوسکے گا سٹرکٹ کورٹس کے بغیر ججز اوروکلا کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،کسی بھی شہری کوسستے اور فوری انصاف سے محروم نہیں ہونے دیں گے یقیناً آپ اس بات کے مستحق ہیں کہ جو کام گذشتہ چھ دہائیوں سے نہ ہوسکا آج وہ آپ کے ہاتھوں سرانجام پارہا ہے۔جناب وزیراعظم صاحب 2007 کی وکلاء تحریک میں آپ کا کردار نہایت اہم اور کلیدی تھا۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ج اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا ،ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت 93 کورٹس پر مشتمل ہوگی۔ اسلام آباد میں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے مارکیٹ ایریا کو عدالت بنایا ہوا ہے جہاں نہ تو جج صاحبان کے لیے کوئی سہولت ہے اور نہ ہی سائلین انصاف کے لیے۔ موجودہ سیٹ اپ میں سیکورٹی کے خدشات ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سی ڈی اے نے ڈسٹرکٹ کورٹس کی تعمیر کی ذمہ داری لی۔گذشتہ پی سی ون6.5 ارب روپے پر مبنی تھا۔ اب نہ صرف ڈیزائن کو بہتر کیا گیا ہے بلکہ تعمیراتی لاگت میں تقریبا ڈیڑھ ارب کمی لائی گئی ہے۔اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی برؤے کار لاتے ہوئے چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔چار دہائیوں کے بعد موجود حکومت کی جانب سے ایک بنیادی ضرورت کو پورا کیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سائلین اور وکلا کی سہولت کے لیے بھی علیحدہ انتظام کیا جا رہا ہے۔

    ستر سال سے کچھ نہیں ہوا،موجودہ حکومت نے بہت کچھ کیا،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

  • امریکہ سے سپر پاور کا تمغہ چھن چکا،انقلاب کے لیے تیار رہو، آگے بڑھنا ہے ،مولانا فضل الرحمان

    امریکہ سے سپر پاور کا تمغہ چھن چکا،انقلاب کے لیے تیار رہو، آگے بڑھنا ہے ،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں آئین کی بالا دستی چاہتے ہیں،

    لیاقت باغ راولپنڈی میں قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن نےختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرامی قدر جناب حضرت ناصرد الدین خاکوانی صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں جناب مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرات علمائے کرام راولپنڈی کے تاجر تنظیموں کے قائدین جناب شرجیل میر صاحب، جناب شاہد غفور پراچہ صاحب، ملک ارشد اعوان صاحب، شمع رسالت کے پروانوں تاجدار ختم نبوت آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کے لیے قربانی دینے والوں کلمہ حق کی سربلندی کے لئے خون کا نذرانہ پیش کرنے والوں، میرے بزرگوں، میرے جوانوں، میرے دوستو اور بھائیو! میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آج انہوں نے اس مقدس عنوان پر جو عظیم الشان کانفرنس منعقد کی، مجھے بھی اس قابل سمجھا کہ میں ان کے اس اجتماع میں شریک ہوجاؤں اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدرا بن جاؤں۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میرے محترم دوستو! مجھے اعتراف ہے اس بات کا کہ عقیدہ ختم نبوت کے قلعے میں نقب لگانے والوں کو روکنے اورعقیدہ ختم نبوت کے سرحدات کی تحفظ کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکن ہمیشہ ایک چوکیدار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ امت غافل ہوجائے تب بھی یہ جاگتے رہتے ہیں۔ آج چھ ستمبر کے حوالے سے جب ہم سن 1965 کے ہندوستان کی جارحیت کے مقابلے میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں نے، جن کے ضرب مومن نے ہندوستان کو دندان شکن جواب دیا تھا اور پاکستان کے جغرافیائی سرحدات کا تحفظ کیا تھا، آج اسی مناسبت سے میں ختم نبوت کے ان پروانوں کو خراج عقیدت پیش کرتاہوں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے نظریاتی سرحدات کے لیے چوکیداری کا کردار ادا کیا ہے، سپاہی کا کردار ادا کیا ہے۔ برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ جب قا د یان کی سرزمین سے اٹھا تو اس کے سرکوبی کے لیے پنجاب کے علماء میدان میں نکلے، اور اس طبقے کے سرخیل حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ میدان میں آئے اور اس فتنے کو للکارا اور پوری قوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا۔ پارلیمنٹ میں جب مسئلہ حل ہوا، قا د یا نی ہو یا لا ہوری، غیر مسلم قرار دیے گئے یقیناً ان تمام اکابرین کی روح کو تسکین ہوئی ہوگی جنہوں نے اس عقیدے کی تحفظ کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی تھی اور آج کا اجتماع بھی ان کی پاک ارواح کی تسکین کا سبب بنے گا، اللہ تعالیٰ ایسا ہی فرمادیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مولانا اللہ وسایا صاحب نے پچھلے حکمرانوں کا تذکرہ کیا، مختلف ادوار کا تذکرہ کیا لیکن جس سنجیدگی کے ساتھ آج کے اس دور میں، موجودہ حکمرانوں کے دور میں ہم پر امتحان آیا، شاید اس بڑا امتحان اس سے پہلے نہیں آیا تھا، جس کے ایجنڈے پر یہ بات موجود ہو کہ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے، جن کے ایجنڈے پر یہ بات موجود ہو کہ قا د یا نیو ں کی غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی شق ختم کیا جائے یا انہیں غیر مؤثر بنایا جائے، ہم سیاسی کارکن ہیں اور ہم ان سیاسی غلام گردشوں میں ایک زمانے سے اوارہ گردی کرکے نظر آرہے ہیں، ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ان غلام گردشوں کے کس کوچے میں کون کیا کر رہا ہے، ان کے مقاصد کیا ہیں، ہم اللہ کے شکر گزار ہیں، اور میں علی الاعلان آپ کے سامنے اپنے رب العالمین کا شکر ادا کرتے ہوئے آپ کو اطمینان دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے ان کے ایجنڈے کو ناکام بنایا ہوا ہے۔ اب وہ بڑی معصومیت کے ساتھ اپنا چہرہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہمارا تو ایسا کوئی پروگرام نہیں تھا، تمہیں جتنا میں جانتا ہوں شاید کوئی نہیں جانتا، تمہاری اندر کی خباثتوں کو، اور تمہاری ذہنی غلاظتوں کو جتنا میں سمجھتا ہوں شاید کوئی دوسرا مولوی اتنا سمجھتا۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ عالمی سطح پر تمہارے پشت پر کون ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ کس لابی کی تم یہاں نمائندگی کرکے آئے، کس عالمی قوت کی دباؤ پر تمہیں دھاندلی کرکے اقتدار حوالے کیا گیا، ہمیں یہ سب معلوم تھا لیکن عالمی قوتوں کے مقابلے میں ان فقیروں کی جماعت نے اپنے رب العالمین پر اعتماد کرکے عالمی آقاؤں کو بھی چیلنج کیا، اور تمہیں بھی چیلنج کیا اور تمہارے عالمی آقاؤں کے ایجنڈے کو بھی پاکستان میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ برطانوی پارلیمنٹ نے 42 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخطوں سے جو ایک زخین کتاب رپورٹ کی صورت میں شائع کی، سن 1954 سے یعنی سن 1953 کی تحریک کے بعد سے سالانہ رپورٹ آج تک تفصیل کے ساتھ شائع کی، اس روپورٹ میں یہ نہیں کہا کہ جمعیت علماء نے کیا کیا؟ اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ احرار اسلام نے کیا کیا؟ اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا کہ عالمی مجلس تحفظ نے کیا کیا؟ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ کونسی مذہبی جماعت نے کیا کیا؟ اس میں کہا گیا کہ پاکستان کے ریاست نے قا د یانیو ں کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں اور جبر کیا ہے اور ظلم کیا ہے۔ پاکستان کو بحیثیت ریاست ذمہ دار قرار دینے کی رپورٹ آئی، ہم نے بار بار کہا کہ ریاست جواب دیں میری ریاست اور اس کی نمائندہ حکومت کیوں چپ ہے کیوں ان کی زبان کو گھن لگ گیا ہے؟ مسئلے کو زرا سمجھنے کی کوشش کریں ہم جلوسوں میں جواب دے رہے ہیں، جبکہ وہ ذمہ دار ریاست کو قرار دے رہے ہیں اور ریاست کیوں خاموش ہے؟ یہ خاموشی ایک مجرمانہ خاموشی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب ہم ایسی باتیں کرتے ہیں تو ایک طبقہ پاکستان میں موجود ہے جو فوراً ہماری طرف مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ یہ مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں، مذہبی کارڈ کیا ہوتا ہے؟ مذہب ایک نصب العین ہے، دین اسلام ہمارے ایک نصب العین ہے، یہ کارڈ نہیں ہے، یہ نظریہ ہے، یہ عقیدہ ہے اور اس کے غلبے کی جنگ لڑتے رہیں گے، کسی کا باپ بھی ہمیں اس نظریے سے دستبردار نہیں کرسکتا۔ہم تو پاکستان میں ہمیشہ میدان عمل میں رہے ہیں، کبھی پیچھے نہیں ہٹے، لیکن عالمی قوتوں نے اف غا نستا ن پر یلغار کیا، وہاں کی حکومت اور اما رت اسلا میہ کا خاتمہ کیا، بیس سال جنگ لڑی گئی، اور بیس سال کے بعد اب عالمی قوتیں شکست کھا کر چلی گئی، کچھ ہمیں سیاسی نتائج اخذ کرنے ہونگے، برطانیہ نے اف غا نست ان پر قبضہ کیا، وہاں شکست کھائی، شکست کھانے کے بعد وہ ہندوستان پر اپنے قبضے کو برقرار نہیں رکھ سکا۔ مسئلہ صرف افغا نستا ن کا نہیں، جس طاقت کے غلبے کا غرور لے کر تم ایک کمزور قوم پر چھڑائی کرتے ہو، کمزور قوم صرف اپنی استقامت دکھاتی ہے، اور اپنے رب پر توکل کرتی ہیں۔ سویت یونین آیا، اس نے اف غا نستا ن پر قبضہ کیا لیکن شکست کھائی نتیجہ آپ نے دیکھا کہ سویت یونین اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکا۔ آج ہم یہی پیغام امریکہ کو بھیجنا چاہتے ہیں اور علی الاعلان کہتا ہوں کہ افغا ن ستان میں امریکہ شکست کھاجانے کے بعد اور شکست کھا کر بھاگ جانے کے بعد اس کو اب حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو دنیا کی سپر طاقت کہہ سکے، سپر طاقت کا تمغہ اس کے سینے سے اتر چکا ہے۔ پاکستانیوں ڈرتے کیوں ہو؟ جب ہم آپ کے سٹیج پہ آتے ہیں، تو تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ختم نبوت ایک غیر سیاسی مسئلہ ہے خالصتاً عقیدے کا مسئلہ ہے اور پھر ساتھ ساتھ آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ہم نے قا دیا نیو ں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا، تو پھر سیاست سے جڑا ہوا مسئلہ ہے نا۔ اور میں تو صرف پاکستان کی پارلیمنٹ کا مثال نہیں دونگا، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم نبوت کا تذکرہ سیاست کی ذیل میں کیا، فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے، سیاست کا معنیٰ ملک کی ملی اور اجتماعی امور کا انتظام اور انصرام، یہ انبیاء کے ہاتھ میں ہوتا تھا، ایک پیغمبر جاتے تھے دوسرا ان کی جگہ لیتا تھا، اور اب میں آخری پیغمبر ہوں یعنی اب دنیا کے انتظام و انصرام اور ان کا سیاسی نظام اب میرے ہاتھ میں ہے، میرے بعد نبی نہیں آئے گا البتہ میرے نائب آئیں گے، خلیفہ آئیں گے اور بڑی تعداد میں آئیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی ختم نبوت کا ذکر سیاست کی ذیل میں فرمائے، ہم بھی پاکستان میں اپنی فتح کے جھنڈے اٹھاتے ہیں، پارلیمنٹ کے حوالے سے اٹھاتے ہیں، اور پھر جب الیکشن ہوتا ہے تو راولپنڈی والے ایک بھی مولوی کو ووٹ دینے کو تیار نہیں! تو پھر ہمارا حق بنتا ہے آپ کے اوپر یا نہیں؟ میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں، تمام تاجروں سے کہنا چاہتا ہوں، سیاسی قوت بناؤ، سیاسی قوت نہیں ہوگی تو ساری زندگی غلام ابن غلام ابن غلام بن کر رہو گے۔ آزادی و حریت یہ میری تاریخ ہے، آزادی و حریت کے لیے قربانیاں یہ میرے اکابرین سے ملی ہیں اگر میں اپنی آزادی اور حریت پر کمپرومائز کرتا ہوں تو مجھے اپنے اکابر کا نام لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ایک کمٹمنٹ ہونی چاہیے، کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا، جدوجہد ہماری ذمے ہے نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن استقامت ہے نتیجے میں اللہ کامیابی ضرور عطاء کرتا ہے۔

    فغان طالبان کے ساتھ پاکستان سے کون کونسی جماعت نے رابطہ کیا؟ اہم انکشاف

    خبردار،یہ کام کیا تو سختی سے نمٹیں گے، طالبان ترجمان، روسی سفیر کے ساتھ ملاقات طے

    ترکی افغان پناہ گزینوں کو روکے گا،طالبان کا سرکاری ملازمین کو بڑا پیغام

    اشرف غنی کو اقتدار کی منتقلی کا منصوبہ نہ بنانے پر معاف نہیں کرسکتے،سربراہ افغان مرکزی بینک

    امریکا کا طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے مشروط رضا مندی کا اظہار

    وزیر خارجہ کا چینی ہم منصب سے رابطہ،افغانستان کی بدلتی صورتحال پرتبادلہ خیال

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اور آج تو پاکستان میں پارلیمنٹ بھی ایسی پارلیمنٹ ہے کہ کسی سنجیدہ مجلس میں اس کا تذکرہ کرنے پر ہنسی آتی ہے، ڈمی قسم کا پارلیمنٹ اور ڈمی قسم کی حکومت اور قوم کے لیے ایک شرمندگی، اب خود کہتا ہے کہ امریکہ کا صدر مجھے فون نہیں کرتا، اور پھر خود کہتا ہے کہ مودی میرا فون نہیں اٹھاتا۔ یہ ہے خارجہ پالیسی؟ یہ ہے دنیا کی نظروں میں پاکستان کی اہمیت؟ اور آج جب اف غا نستا ن کی صورتحال بدلی، تو ظاہر ہے کہ پاکستان اس خطے کا اہم ترین سٹیک ہولڈر ہے لیکن سلامتی کونسل کا فوری اجلاس جو اف غا نستا ن کے حوالے سے بلایا گیا، پاکستان کے مندوب کو اس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی ہے؟ ہم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن میں ایک قرارداد پیش کی اور قوم کو کیا کہا؟ قوم سے کہا گیا ہمارے پاس 57ممالک کا ووٹ ہیں، 57 ممبر ہمارے ساتھ ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس فورم کے انسانی حقوق کمیشن کے کل اراکین ہی 47 ہے 57 ہے ہی نہیں۔ یہ ان کی صلاحیتیں ہیں اور ان صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ قوم کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ اور پھر پتہ چلا کہ 47 ممالک میں اور اس فورم پر صرف 16 ممبران کے دستخط چاہئیے تب جا کر قرارداد پیش کی جاسکتی ہیں، ہمیں قرارداد پیش کرنے کے لیے 16 اراکین بھی نہ ملے۔ کہاں کھڑے ہیں ہم لوگ؟ ہم نے اپنے گرد و پیش کو ناراض کیا ہے، ہمیں ایک مستحکم نظام چاہیے جو آپ کے عقیدے کابھی تحفظ کرے اور پاکستان کی مفادات کا بھی تحفظ کرے۔ صرف نعروں سے کام نہیں چلتا، زبانی گفتگو کسی کام کی نہیں ہوتی جب تک کہ اس زبانی گفتگو کے پیچھے آپ کا عقیدہ نہ ہو اور آپ کا عہد و پیمان نہ ہو۔ ہم ملک کو کمزور رہے ہیں، پاکستان کی معیشت جو پچھلی حکومت نے سالانہ ترقی کا تخمینہ ساڑھے پانچ فی صد اور اگلے سال کے لیے ساڑھے چھ فی صد رکھا گیا تھا، حکومت تبدیل ہوئی اور ہمارا سالانہ ترقی کا تخمینہ زیرو سے نیچے آگیا۔ یہ دن بھی ہم نے دیکھے ہیں، معیشت کمزور اور آپ دنیا میں تعلقات قائم بناسکیں گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، غلام بن کر رہو گے۔ تو اس اعتبار سے ہمیں ہمہ جہت دیکھنا ہوگا، ہمیں ملک کی ترقی کا سوچنا ہوگا، ہم پوری ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں، آئین کے اسلامی دفعات کا تحفظ یہ ان شاءاللہ ہماری ذمہ داری ہوگی اللہ کے فضل و کرم سے یہ جنگ لڑتے رہیں گے۔ ہر ملک اور ہر قوم کی ایک شناخت ہوتی ہے، ہمارے پاکستان کی شناخت دین اسلام ہے، مذہبی کارڈ کا کیا معنیٰ؟ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پاس ہوتی ہے جس کا مسودہ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں اور وہ قرارداد نواب زادہ لیاقت علی خان پیش کرتے ہیں وزیر اعظم پاکستان، جس میں اللہ کی حاکمیت کا عہد و پیمان کیا جاتا ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بات ہوتی ہے، قوم کے نمائندے اللہ کی نیابت کا مقام اس میں دیا گیا ہے، لیکن مستقل آئین ہمیں ملا سن 1973 میں، سن 1973 میں اسلامی نظریاتی کونسل بنی اور اس لیے بنی تاکہ ان کی سفارشات پر قانون سازی کی جائے جہاں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون ہے اس کو تبدیل کیا جائے، سن 1973 سے لے کر آج تک، آج تک وہاں پر کوئی دوسری قانون سازی نہیں ہوئی اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کے مطابق۔ اسمبلی ان لوگوں سے بھر دی جاتی ہے کہ جن کو قرآن و سنت میں دلچسپی ہی نہیں ہوتی، تو کیسا آئے گا نظام؟ کیسے آئیگی تبدیلی؟ اور پھر آپ ملک کو مظبوط بنائیں گے، اقتصادی طور پر مظبوط ہونگے تو ساری دنیا آئی گی دوستی کرنے کے لیے ساری دنیا اپ سے دوستی کرنے کو آئیگی، اور آپ قلاش ہونگے تو ساری دنیا تمہیں فتح کرنے کے لیے آئیگی، یہ فرق ہے۔ ہندوستان میں یہی بی جے پی کی حکومت تھی، آپ کی معیشت مظبوط تھی تو واجپائی ان کا وزیر اعظم بس میں سفر کرکے آپ کے لاہور آئے اور آپ سے کہا تھا کہ ہم تجارت کرنا چاہتے ہیں، آلو کا، ٹماٹر کا، پیاز کا تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آج وہی بی جے پی ہے اور اس کا وزیر اعظم مودی ہے آپ بتائے کہ پاکستان کے ساتھ اس کا کیا رویہ ہے؟ کشمیر کا کیا حشر نشر ہم نے کیا؟ آج میں آپ کے ا س اجتماع کی وساطت سے مجا ہد ین کشمیر، حریت کانفرنس کے قائدین اور بالخصوص جناب سید علی گیلانی کی وفات پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان شاءاللہ اسی عہد کے ساتھ ہم نے آگے بڑھنا ہے اور حوصلہ نہیں ہارنا، ہمت نہیں ہارنا اور انقلاب کے لیے تیار رہو، آگے بڑھنا ہے اور ان شاءاللہ اس پاکستان پر اسلام کا عَلم لہرانا ہے، یہ آپ کی اور ہمارا عہد ہونا چاہیے ان شاءاللہ آگے بڑھیں گے، اللہ اس کانفرنس کو قبول فرمائے، اس میں ہماری شرکت کو قبول فرمائے اور خاکوانی صاحب آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا

    افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا

    کابل: افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں بین الا قوامی امداد کی ضرورت ہے افغانستان میں بین الاقوامی امداد کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم افغانستان کے لیے امداد شرائط سے پاک ہونی چاہیے۔

    گزشتہ روز ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نے پنجشیر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    افغان میڈیا کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پنجشیر میں جھڑپوں کے دوران کئی باغی جنگجو ہلاک اور کئی فرار ہو گئے ہیں جس کے بعد پنجشیر کے عوام باغی کمانڈروں کی شر سے آزاد ہو گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجشیر پر کنٹرول کے بعد افغانستان جنگ سے پاک ہو گیا ہے اور افغان عوام اب امن کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ پنجشیر کے عوام ہمارے بھائی ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجشیر میں امن کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں۔ افغانستان میں امن کے لیے ہم نے کوششیں کیں۔ جرگوں اور مذاکرات سے کامیابی نہ ہوئی تو پنجشیر میں طاقت کا استعمال کیا۔

    کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان کی جانب سے پاکستان، چین، ترکی، ایران، قطر اور روس کو نئی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی ہے حکومت سازی کس دن ہو گی اس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا البتہ ان ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، ان ممالک کی جانب سے تقریب میں شرکت کی حامی بھی بھری گئی ہے، حکومت سازی کی تقریب کابل میں ہو گی-

    افغانستان میں حلف اٹھانے والی نئی حکومت کی تقریب میں شرکت کی دعوت طالبان کی جانب سے اس وقت دی گئی ہے کہ جب وادی پنجشیر میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے گوکہ مزاحتمی فورس نے اس دعوے کی نفی کی ہے۔

    حکومت سازی کی تقریب، کن ممالک کو افغان طالبان نے دعوت نامے بھجوا دیئے؟

    اس حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی. جبکہ افغان میڈیا نے یہ بھی دعوی کیا کہ نئی حکومت کے لیے بات چیت مکمل ہو گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں جلد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت سازی کے لیے اقدامات مکمل ہیں صرف تکنیکی معاملات زیرغور ہیں،کسی سے مشروط امداد قبول نہیں کریں گے۔ جو بھی ہمارے معاملات میں مداخلت یا امداد فراہم کرنے کے بدلے اپنے مطالبات مسلط کرنا چاہتا ہے، ہم اسےمسترد کرتےہیں ، اور ان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسی مشروط امداد فراہم کرنے کے بارے میں نہ سوچیں۔ چند روز قبل معاون ترجمان افغان طالبان بلال کریمی نے کہا تھا کہ نئی حکومت کا جلد اعلان کریں گے تاخیر نہیں ہو گی۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    پیرس حکومت طالبان سے مذاکرات کررہی یا نہیں؟ فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتا دیا

  • روس نے طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے شرط عائد کردی

    روس نے طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے شرط عائد کردی

    ماسکو:طالبان کی جانب سے پاکستان، چین، ترکی، ایران، قطر اور روس کو نئی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی ہےتاہم روس نے طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے شرط عائد کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس حوالے سے کہا ہے کہ افغان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت اور طالبان حکومت کی معاونت صرف اسی صورت میں کریں گے جب حکومت سازی میں تمام دھڑوں کو شامل کیا جائے گا۔

    حکومت سازی کس دن ہو گی اس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا البتہ ان ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، ان ممالک کی جانب سے تقریب میں شرکت کی حامی بھی بھری گئی ہے، حکومت سازی کی تقریب کابل میں ہو گی

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    افغانستان میں حلف اٹھانے والی نئی حکومت کی تقریب میں شرکت کی دعوت طالبان کی جانب سے اس وقت دی گئی ہے کہ جب وادی پنجشیر میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے گوکہ مزاحتمی فورس نے اس دعوے کی نفی کی ہے۔

    اس حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی. جبکہ افغان میڈیا نے یہ بھی دعوی کیا کہ نئی حکومت کے لیے بات چیت مکمل ہو گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں جلد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

    کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت سازی کے لیے اقدامات مکمل ہیں صرف تکنیکی معاملات زیرغور ہیں،کسی سے مشروط امداد قبول نہیں کریں گے۔ جو بھی ہمارے معاملات میں مداخلت یا امداد فراہم کرنے کے بدلے اپنے مطالبات مسلط کرنا چاہتا ہے، ہم اسےمسترد کرتےہیں ، اور ان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسی مشروط امداد فراہم کرنے کے بارے میں نہ سوچیں۔ چند روز قبل معاون ترجمان افغان طالبان بلال کریمی نے کہا تھا کہ نئی حکومت کا جلد اعلان کریں گے تاخیر نہیں ہو گی۔

    حکومت سازی کی تقریب، کن ممالک کو افغان طالبان نے دعوت نامے بھجوا دیئے؟

    دوسری جانب طالبان نے صوبہ پنجشیر کے صدر مقام بازارک پر قبضہ کرتے ہوئے اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ طالبان نے اتوار کی رات پنج شیر کے صوبائی دارالحکومت بازارک پر قبضہ کرلیا ہے طالبان سے لڑائی میں قومی مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان فہیم دشتی اور جنرل عبدالودود سمیت اہم کمانڈرز گل حیدر خان اور منیب امیری ہلاک ہوئے ہیں-

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    پیرس حکومت طالبان سے مذاکرات کررہی یا نہیں؟ فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتا دیا

    واضح رہے کہ افغانستان پر 15 اگست کو طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا کابل میں داخلے کے بعد غیر ملکی افواج کے انخلا کا سلسلہ تیز ہو گیا تھا، 31 اگست تک امریکی فوج کابل سے نکل گئی جس کے بعد طالبان نے نئی حکومت بنانے کا اعلان کیا، طالبان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کی تشکیل میں سب کو شامل کیا جائے گا، گزشتہ روز جمعہ کے بعد نئی حکومت کا اعلان ہونا تھا تا ہم اسے موخر کر دیا گیا، اب امکان ہے کہ نائن الیون کے موقع پر طالبان اپنی حکومت کا اعلان کر سکتے ہیں

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے-

  • طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان میں یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر کے مطابق بعض کلاسز میں طلبہ اور طالبات کے درمیان پردہ لگایا گیا ہے خبر ایجنسی کے مطابق کابل، قندھار اور ہرات میں طالبات کو الگ کلاسز میں پڑھانے یا کیمپس کے مخصوص مقامات تک محدود کرنے سے متعلق اطلاعات ملی ہیں اس حوالے سے طالبان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ طالبان نے نجی کالجوں اور جامعات کوآج پیر سے کھولنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز یا کم از کم انہیں ایک پردے سے الگ کیا جائے، جب کہ طالبات کے لیے عبایا اور ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جن سے آنکھوں کے علاوہ ان کا پورا چہرہ چھپ جائے۔

    طالبان نے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی

    طالبان کی وزارت تعلیم کی جانب سے نوٹیفیکیشن کے مطابق طالبات کو صرف خواتین ہی پڑھا سکتی ہیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اچھے کردار کے حامل کسی بوڑھے شخص کو اس کام کے لیے رکھا جائے یہ حکم نامہ ان تمام نجی کالجز اور جامعات پر لاگو ہوتا ہے جن کی تعداد میں 2001 کے بعد طالبان کا پہلا دور اقتدار ختم ہونے کے بعد بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور کل سے انہیں دوبارہ کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    احکامات کے مطابق خواتین پر شٹل کاک برقعہ ( سر کے بال سے پیر کے ناخن تک کو ڈھاپنے والا برقعہ) پہننا لازم قرار نہیں دیا گیا تاہم گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کے لیے ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیں۔