Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کابل، جہاز کے اڑان بھرنے کے بعد 3 افراد گر گئے، 2 کی موت

    کابل، جہاز کے اڑان بھرنے کے بعد 3 افراد گر گئے، 2 کی موت

    کابل، جہاز کے اڑان بھرنے کے بعد 3 افراد گر گئے، 2 کی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد کابل ایئر پورٹ پر رش لگا ہوا ہے

    افغانستان چھوڑنے کے لئے ہزاروں افراد ایئر پورٹ پر موجود ہیں، امریکی فوجیوں نے فائرنگ کی جس سے افغان شہری جاں بحق بھی ہوئے، ایئر پورٹ پر رش اور افرا تفری ہے،ہر شخص پہلے جہاز پر سوار ہونا چاہتا ہے ،ایئر پورٹ پر کئی ممالک کے جہاز موجود ہیں لیکن فائرنگ کے بعد ایئر پورٹ کو بند کر دیا گیا ہے، پی آئی اے نے بھی کابل آپریشن معطل کر دیا ہے



    دوسری جانب باغی ٹی وی کو ملنے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے نکلنے کے لئے جہاز میں چھپ کر بیٹھنے والے تین افراد جہاز کے بلندی پر جانے سے نیچے گر گئے جن میں سے دو کی موت ہو گئی ہے جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہے، یہ واقعہ کابل ایئر پورٹ کے قریب ہی پیش آیا جب جہاز نے اڑان بھری تو تینوں افراد نیچے گر گئے،

    کابل ایئر پورٹ پر یہ صورتحال ہے کہ لوگ بغیر، ویزہ، بغیر ٹکٹ جہاز پر سفر ہونے کی کوشش کرتے ہیں، امریکی طیاروں میں بھی عوام نے چڑھنے کی کوشش کی جس کے بعد امریکی فوج نے فائرنگ کی،

    ہوائی اڈے کی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ہوائی اڈہ اب عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے ,کابل ائیرپورٹ پر شدید رش اور افراتفری کے بعد کابل سے کمرشل پروازوں کو منسوخ کردیا گیا ہے

    قبل ازیں طالبان کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے بلکہ سب کے جان و مال و عزت کی حفاظت کی جائے گی، کوئی کسی کے گھر بغیر اجازت داخل نہیں ہو گا

    بھارت ایسے اقدامات چھوڑ دے، طالبان ترجمان کا مودی سرکار کو پیغام

    طالبان کا لشکر گاہ پر بھی کنٹرول، افغان عوام کا طالبان کا شاندار استقبال

    ٹرمپ کا جوبائیڈن سے استعفیٰ کا مطالبہ

    کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    جنگ ختم،آزادی کا مقصد حاصل کرلیا،طالبان کا عالمی دنیا کو اہم پیغام

    امید ہے طالبان یہ کام نہیں کریں گے، امریکی صدر جوبائیڈن

    مولوی فقیر محمد باجوڑی کو طالبان نے رہا نہیں کیا بلکہ….حقیقت سامنے آ گئی

    جے یو آئی افغان طالبان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے، مولانا فضل الرحمان

    مشکل وقت میں عالمی صحافیوں کے انخلاء میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے،سٹیون بٹلر

    وزیر خارجہ کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ

    پی آئی اے کا کابل آپریشن معطل

    کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ سے 5 افغانی جاں بحق، ایئر پورٹ بند

    افغانستان میں بدھ مت کے مقامات کیا واقعی خطرے میں؟ طالبان کا موقف آ گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان کابل پہنچ گئے ہیں جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو گئے، کابل میں طالبان کا کنٹرول ہے ، دیگراہم سرکاری عمارتون پربھی افغان طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے اس وقت شہرمیں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے اورسڑکوں پرافغان طالبان گشت کررہے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ہدایت بھی کررہے ہیں‌

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے

    پاک افغان بارڈر طورخم مسافروں کے پیدل آمدورفت کے لئے بدستور بند

  • نور مقدم کیس، روک سکو تو روک لو، تھیراپی ورکس کی 2 نمبری پکڑی گئی. ایک اور گرفتاری، کیس سے توجہ ہٹانے کے ہتھکنڈے شروع. بڑا پینڈور بکس کھلنے والا ہے

    نور مقدم کیس، روک سکو تو روک لو، تھیراپی ورکس کی 2 نمبری پکڑی گئی. ایک اور گرفتاری، کیس سے توجہ ہٹانے کے ہتھکنڈے شروع. بڑا پینڈور بکس کھلنے والا ہے

    سیئینر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سب کو یوم آزادی مبارک ہو، بہت خوشی کا دن ہے، اس دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے کتنا ہمیں خوش نصیب کیا کہ ہم بھی اسی طرح ہوتے جس طرح آج ہندوستان میں مسلمانوں کا حال ہے، مودی وہاں پر جس طرح سے ظلم کررہا ہے، اس طرح چودہ اگست کی بہت زیادہ قدر ہوتی ہے، ایک دل خراش بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا ایمان ڈولتا رہتا ہے، کبھی کمزور دل ہوتے ہیں، کبھی مجبور ہوتے ہیں، کسی نہ کسی وجہ سے ایمان ڈولتا رہتا ہے.

    مبشر لقمان نے مزید کہا ہے کہ نور مقدم کیس میں ایک نیا واقعہ سامنے آگیا ہے، تفتیش ہونے کے بعد میں آپ کواس کی تفصیلات دینے جا رہا ہوں، جس میں لگتا ہے کہ پیسے کا زورایک دفعہ چل گیا ہے، اور کہاں پر چلتا ہے اور چلے گا وہ آپ کو بتا دوں‌ گا، ابھی ایک جگہ پر چلا ہے، بھرپور طریقے سے ایک خاندان کی چمک اور دھمک چل گئی ہے، اس کیس میں متعدد پرچے ہونے چاہیں تھے، ایک پرچہ قتل کا جو کہ ہوگیا ہے، دوسرا وحشیانہ قتل کا جو کہ وہ بھی ہے، تیسرا ہپسے بے جا میں رکھنے کا، چوتھا اغواء کا، پانچواں جب تھیراپی ورکس والے آئے تو ان کا ایک لڑکا اوپر گیا تو ظاہر جعفر نے اس پر متعدد چاقو کے وار کیے تھے اس پراقدام قتل کا پرچہ، اس پورے کیس میں وہ پرچہ نہیں‌ ملتا ہے، تھیراپی ورکس کے لڑکے پر چاقو کے وار کرنے کا پرچہ نہیں ہے، اس پرچہ کی رپورٹ ہی نہیں ہے، جب رپورٹ ہی نہیں ہے تو پولیس پرچہ کیسے کرے گی، پولیس کو مدعی چاہیے، کیونکہ یہ انجان جگہ پر ریاست کی مدعیت میں نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے مزید کہنا تھا کہ تھیراپی ورکس والے نے پولیس کو بتایا کہ مجھے ایک نشئی نے مجھے چاقو سے مارا ہے، میں‌ تیھراپی ورکس میں کام کرتا ہوں، میرا کام نشئی افراد سے ڈیل کرنا ہے، اس نے نشئی کا نام نہیں لیا ہے، یہ مجرمانہ کیس نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ چمک دھمک لگ گئی ہے، جب تھیراپی ورکس والا زخمی ہوا تو اسے پہلے پرائیویٹ ہسپتال میں لے گئے تھے، اس کو ایف 10 میں کلثوم ہسپتال میں لے کر گئے تھے، کلثوم ہسپتال کی انتظامیہ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ چاقو کے وار ہیں، مجرمانہ کیس ہے ہم اس کو ڈیل نہیں کرسکتے ہیں، آپ یا تو پولیس کو بلا لیں یا سرکاری ہسپتال لے جائیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ وہاں سے اس کو پیمز ہسپتال لے جایا گیا تھا، جس پر چاقو کے متعدد وار کیے گئے ہیں اس کو جگہ جگہ لے کر جایا جارہا تھا، خدانخواستہ خون کے مسلسل بہنے کی وجہ سے اس کی موت بھی واقع ہوسکتی تھی، لیکن جو حکم ملا ہے وہ پورا کیا جارہا تھا، ہر سرکاری ہسپتال میں پولیس کے کاؤنٹرز موجود ہیں، بلکہ ڈی ایچ کیو میں‌ بھی موجود ہوتے ہیں، پیمز میں‌ ڈاکٹرز کے پوچھنے پر تھراپی ورکس والوں‌ نے کہا کہ ہم نے اس کا میڈیکولیکل ٹیسٹ نہیں کروانا ہے، کیونکہ جب میڈیکولیکل ہوتا ہے تو پولیس اس میں شامل ہوتی ہے اور پولیس اس کی تفتیش بھی کرتی ہے، اس میں پولیس کی کاروائیاں بھی شامل ہوتی ہیں، اس کے بعد انہوں اس کا علاج شروع کردیا تھا، اس وقت بھی وہ آدمی زیرعلاج ہے.

  • کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ سے 5 افغانی جاں بحق، ایئر پورٹ بند

    کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ سے 5 افغانی جاں بحق، ایئر پورٹ بند

    کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ سے 5 افغانی جاں بحق، ایئر پورٹ بند

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر افغانستان چھوڑنے والے شہریوں کا رش ہے

    ایئر پورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں شہری جمع ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں، مختلف ممالک کی ایئر لائنز ایئر پورٹ پر موجود ہیں ، پروازوں کا عمل جاری ہے لیکن رش ختم نہیں ہو رہا،اس رش کے دوران بین الاقوامی نیوز ایجنسی کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے پانچ افغانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر فائرنگ کے بعد ایئر پورٹ کو بند کر دیا گیا ہے امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کا ہجوم بے قابو ہو رہا تھا اور وہ رن وے پر بھاگ رہے تھے ملٹری پروازوں میں افغان عوام کو چڑھنے سے روکنے کیلئے فائرنگ کرنی پڑی

    ہوائی اڈے کی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ہوائی اڈہ اب عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے امریکی حکام کے مطابق ملٹری پروازیں سفارتی عملے اور غیر ملکی اسٹاف کیلئے ہیں

    کابل ائیرپورٹ پر شدید رش اور افراتفری کے بعد کابل سے کمرشل پروازوں کو منسوخ کردیا گیا ہے

    بھارت ایسے اقدامات چھوڑ دے، طالبان ترجمان کا مودی سرکار کو پیغام

    طالبان کا لشکر گاہ پر بھی کنٹرول، افغان عوام کا طالبان کا شاندار استقبال

    ٹرمپ کا جوبائیڈن سے استعفیٰ کا مطالبہ

    کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    جنگ ختم،آزادی کا مقصد حاصل کرلیا،طالبان کا عالمی دنیا کو اہم پیغام

    امید ہے طالبان یہ کام نہیں کریں گے، امریکی صدر جوبائیڈن

    مولوی فقیر محمد باجوڑی کو طالبان نے رہا نہیں کیا بلکہ….حقیقت سامنے آ گئی

    جے یو آئی افغان طالبان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے، مولانا فضل الرحمان

    مشکل وقت میں عالمی صحافیوں کے انخلاء میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے،سٹیون بٹلر

    وزیر خارجہ کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان کابل پہنچ گئے ہیں جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو گئے، کابل میں طالبان کا کنٹرول ہے ، دیگراہم سرکاری عمارتون پربھی افغان طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے اس وقت شہرمیں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے اورسڑکوں پرافغان طالبان گشت کررہے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ہدایت بھی کررہے ہیں‌

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے

    پی آئی اے کا کابل آپریشن معطل

  • افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،وزیراعظم عمران خان

    افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،وزیراعظم عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،

    اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یکساں نظام تعلیم سے معاشرے میں فرق ختم ہوجائے گا،انگلش میڈیم سے معاشرہ تقسیم کا شکارتھا ،میرا 25 سال یکساں نظام تعلیم کا ویژن تھا،جو پیسے والے تھے وہ انگلش میڈیم تعلیم حاصل کررہے تھے،ملک میں انگلش میڈیم والوں کو نوکریاں مل رہی تھیں،انگلش میڈیم سے ایلیٹ طبقے نے ناجائز فائدہ اٹھایا وزارت تعلیم کو یکساں نظام تعلیم کےرائج ہونے کے بعد بھی چیلنجز کاسامنا ہوگا،لوگ کہتے تھے یکساں نظام تعلیم ممکن نہیں ایلیٹ طبقہ جس نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے اس کو تبدیل کرنامشکل ہوتا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ غلامی والے ذہن صرف نقالی کرتے ہیں آگے نہیں بڑھتے ،دوسری قوم کے کلچرکواپنانا ذہنی غلامی ہے،علامہ اقبال سب سےبڑے مسلمان اسکالر تھے ،8ویں،9ویں اوردسویں جماعت میں سیرت نبوی ﷺپڑھائی جائے گی نبی ﷺ کے علاوہ دنیا میں کسی اور کے اتنے اچیومینٹس نہیں سیرت نبوی ﷺسے نوجوانوں کو زندگی کا بہترین ضابطہ ملے گا،ہمارے یہاں جو مغرب سے آئے اس کو اچھا،ذہین اور تعلیم یافتہ سمجھا جاتا ہے تمام مذاہب کی بنیاد انسانیت ہےاور دیگرمذاہب میں بھی اچھائی کے درس موجود ہیں صرف تعلیم کافی نہیں اس کےساتھ انسانیت بھی ضروری ہے،

    جنگ ختم،آزادی کا مقصد حاصل کرلیا،طالبان کا عالمی دنیا کو اہم پیغام

    امید ہے طالبان یہ کام نہیں کریں گے، امریکی صدر جوبائیڈن

    مولوی فقیر محمد باجوڑی کو طالبان نے رہا نہیں کیا بلکہ….حقیقت سامنے آ گئی

    جے یو آئی افغان طالبان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے، مولانا فضل الرحمان

    مشکل وقت میں عالمی صحافیوں کے انخلاء میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے،سٹیون بٹلر

  • کابل فتح، اس وقت افغانستان میں کیا چل رہا ہے؟ امریکہ اور بھارت کے لئے قیامت کا منظر. طالبان کا تاریخی اعلان

    کابل فتح، اس وقت افغانستان میں کیا چل رہا ہے؟ امریکہ اور بھارت کے لئے قیامت کا منظر. طالبان کا تاریخی اعلان

    سیئنیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، بلکہ ہوچکی ہے، کل رات سے اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ طالبان کابل کے اندر آچکے ہیں، لیکن انہوں نے اعلان کیا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا، کابل کے شہری باہر نکل آئے ہیں، وہ انکا استقبال کررہے ہیں، جتنے بھی مغرابی سفارتخانے ہیں انکی دوڑیں لگ چکی ہیں، ائیرپورٹ پر جانے کے تمام راستے اس وقت ٹریفک سے جام ہوگئے ہیں، ائیرپورٹ پر کئی جہاز کھڑے ہیں، جن میں سے دو پی آئی اے کے جہاز ہیں، جو مختلف سفارتکاروں کو لے کر کھڑے ہیں، ان کو ابھی اڑان بھرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، امریکہ کے چار سی 130 اور دو ہیلی کاپٹر رن وے پر ہیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا ہے کہ بگرام کا ہوائی اڈہ طالبان کے قبضہ میں ہے، بابیان کا ہوائی اڈہ اس وقت طالبان کے قبضہ میں ہے، اس کے گورنر ہاؤس پر طالبان نے اپنا جھنڈہ لہرا دیا ہے، انہوں نے جنرل ایمنسٹی کا اعلان کیا ہے، کس کو مارا نہیں جائے گا، کابل کی سب سے بڑی جیل کو توڑ کر اپنے قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے.

    ارشد یوسفزئی نے کہا ہے کہ طالبان کابل شہر کے اندر داخل ہوچکے ہیں، مذاکرات جاری ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ملا برادرز اخند قطر سے روانہ ہوچکے ہیں، جس طرح پہلے سے کہا جارہا تھا کہ اشرف غنی کی حکومت سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جائے گی، طالبان پرامن طریقے سے کابل شہر میں داخل ہونگے، یہ قیاس آرائی آج صبح سے شروع ہوئیں تھیں، اس سے پیچھے طالبان کی جو محنت شامل ہے، وہ کئی مہینوں‌ پر مشتمل ہے، انکے دوعت اور جلب کے جو کمیشن ہے، انہوں نے کئی مہینوں سے حکومتی عہدوں پر قائم افراد پر محنت کی تھی، جن کو دعوت دیتے تھے، ان کے ساتھ مسلسل مذاکرات جاری تھے، طالبان نے کہا ہے کہ حکومتی ادارے سرنڈر کرچکے ہیں، بہت جلد ان کو اپنے قبضے میں کرلیا جائے گا، سرکاری دفاتر خالی کیے جاچکے ہیں، بیس سال کی محنت کے بعد وہ کیوں کسی انٹرن کو قبول کریں گے، اگر کوئی آتا بھی ہے تو وہ کس پر اپنا حکم چلائے گا، فوج لڑنے کیلئے تیار نہیں ہے، افغانستان اس وقت طالبان کے قبضہ میں ہے، حکومتی اہلکار نالاں ہوچکے ہیں، وہ اب کام نہیں کرنا چاہتے ہیں.

    ارشد یوسفزئی نے مزید کہا ہے کہ القاعدہ، ٹی‌ ٹی پی اور داعش کے جو کنڑ اور نورستان میں بیسسز ہیں، ان پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے، طالبان نے بارہا کہا ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اب جب وہ اقتدار میں آچکے ہیں، اب انکو چاہیے کہ اس وعدے کو وفا کریں، اپنی رٹ کو قائم کرنے کیلئے کسی اور کو وہاں مداخلت کی اجازت نہ دیں، وہ لوگ بھاگ کر بارڈرکراس کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان آنا چاہیں گے، اب ان کے پاس وہ سپورٹ نہیں رہی جو پہلے حاصل تھی، اشرف غنی ابھی تک قابل میں ہی ہے، ان کو مارنے کا کسی کا اردہ نہیں ہے، اگر وہ سرنڈر کرتے ہیں تو طالبان انہیں گرفتار کریں گے، جیسے انہوں‌ نے کمانڈر اسماعیل خان اور دوسرے علاقے کے گرنرز کے ساتھ سلوک کیا اچھے طریقے سے پیش آئیں گے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اشرف غنی طالبان کے سامنے سرنڈر کرے گا، میں سمجھتا ہوں کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں گے.

    ارشد یوسفزئی کا مزید کنہا تھا کہ ایک وقت تھا کہ جنرل عبدالرشید دوستم واحد ازبک کمانڈر تھے ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا، آہستہ آہستہ وہ حکومت میں‌ چلتے چلے گئے سہل زندگی کے ساتھ انہیں‌ پیسوں کا شوق پڑگیا تھا، پھر اورعوام ابھرنا شروع ہوگئی تھی، کیساری ان مں سے ایک کمانڈر تھے، امید یہ کی جاتی تھی کہ اگر دوستم نہ لڑیں گے تو کیساری لڑیں گے، جس طرح دوستم اور عطا نور وغیرہ لڑائی سے بھاگ گئے، کیساری نے بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی، اب مسئلپ یہ ہے کہ دوستم اور عطا نور پہلے جہاز سے چلے گئے تھے، ان کیلئے ازبکستان جانا آسان تھا، افغانستان اور ازبکستان کے بارڈر پر جو پل لگتا ہے ازبکستان کی فورسسز نے بیاسی گاڑیاں روک لیں تھیں، موقع پر پہنچ کر طالبان نے ان سب کو گرفتار کرلیا تھا، وہ سب سرنڈر ہوگئے تھے، میں سمجھتا ہوں کہ کیساری نے بہت بڑی غلطی کی کہ وہ روڈ سے جانا چاہ رہا تھا، ان کو چاہیے تھا کہ پہلے جہاز میں بیٹھ کر نکل جاتے.

    ارشد یوسفزئی نے مزید کہا کہ فوج ملک کے دفاع کیلئے لڑتی ہے، فوج میں یہ بات مشہور تھی کہ فوج حکومت کی کرپشن کو بچانے نہیں آئے گی، کرپٹ لوگوں نے فوج کو سپورٹ نہیں کیا تھا، پچھلے ماہ ہلمند میں فوج کو طالبان کیخلاف لڑائی میں کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی تھی، وہ پھر سمجھنے لگ گئے کہ ایسی حکومت کے ساتھ مل کر کسی خلاف لڑنا بے فائدہ ہے.

  • کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابل پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہو چکا ہے

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک بار پھر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏امارت اسلامی افغان نے ایک بار پھر اپنے مجاہدین کو حکم دیا کہ کوئی بغیر اجازت کسی کے گھر داخل نہیں ہوگا، سب کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کی جائے گی۔

    دوسری جانب طالبان نے ملا شیریں کو کابل کا گورنر مقرر کر دیا ہے ملا شیریں ملا عمر کے قریبی ساتھی ہیں اور طالبان کے ملٹری کمیشن کے سربراہ اور ملا عمر کے محافظ کے طور پر ذمہ داری ادا کر چکے ہیں

    کابل کے لیے طالبان کے نامزد گورنر ملا شیرین آخوند نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل کے شہریوں کو ان کی جان و مال کے تحفظ کا یقین دلاتا ہوں،مطمئن رہیں پرسکون و پر امن رہیں۔ طالبان نے بہت قربانیوں کے بعد فتح حاصل کی ہے، اللہ تعالی انھیں قبول فرمائے

    طالبان کا لباس سادہ لیکن وہ انتہائی ذہین اور قابل،اگریہ کام ہو گیا تو پاکستان کو نقصان ہو گا،وزیر خارجہ

    اچھے تعلقات کے خواہشمند، مگر مداخلت کرتے ہیں اور نہ کرنے دیتے ہیں، افغان طالبان کا ترکی کو پیغام

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ان کیمرہ بریفنگ دی

    ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بزوربازو افغانستان میں مسلط ہو،شاہ محمود قریشی

    افغان آرمی چیف کو برطرف کر دیا گیا

    طالبان کا خوف،افغانستان سے اہم حکومتی شخصیت ملک چھوڑ کر فرار

    دسواں دارالحکومت طالبان کے قبضے میں،گورنر غزنی کابل فرار

    بھارت ایسے اقدامات چھوڑ دے، طالبان ترجمان کا مودی سرکار کو پیغام

    طالبان کا لشکر گاہ پر بھی کنٹرول، افغان عوام کا طالبان کا شاندار استقبال

    واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان کابل پہنچ گئے ہیں جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو گئے، کابل میں طالبان کا کنٹرول ہے ، دیگراہم سرکاری عمارتون پربھی افغان طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے اس وقت شہرمیں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے اورسڑکوں پرافغان طالبان گشت کررہے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ہدایت بھی کررہے ہیں‌

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے

    ٹرمپ کا جوبائیڈن سے استعفیٰ کا مطالبہ

  • افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پرطیب اردوان کا وزیراعظم عمران خان کوفون

    افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پرطیب اردوان کا وزیراعظم عمران خان کوفون

    اسلام آباد: افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پرطیب اردوان کا وزیراعظم کوفون،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کوترک صدر طیب اردوان نے فون کرکے افغانستان کی تازہ ترین صورت حال پرگفتگو کی

    وزیراعظم عمران خان کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا اور افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور کابل مین ترک شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بین الاقوامی سفارتی عملے کےکابل سے انخلا میں تعاون کر رہے ہیں،قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغان صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

    اعلامیےکے مطابق دونوں رہنما قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صورتحال پردوبارہ مشاورت کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر سے بات چیت کے دوران افغان تنازع کے سیاسی حل کےلیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

  • افغان طالبان کابل میں صدارتی محل میں داخل:کوئی عبوری حکومت نہیں ہوگی:افغان طالبان کا اعلان

    افغان طالبان کابل میں صدارتی محل میں داخل:کوئی عبوری حکومت نہیں ہوگی:افغان طالبان کا اعلان

    کابل:افغان طالبان کابل میں صدارتی محل میں داخل:کوئی عبوری حکومت نہیں ہوگی:افغان طالبان کا اعلان،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کابل کے صدارتی محل میں داخل ہوگئے ہیں اوراب جس کرسی پراشرف غنی اورحامد کرزئی بیٹھا کرتے تھے اب پاوں سے ننگے طالبان اس کرسی پربیٹھ کرامریکہ اورنیٹو کو اپنی فتح کا یقین دلا رہے ہیں

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ صبح جنگجوؤں کو کابل کے باہر روک دیا تھا لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ کابل میں سرکاری دفاتر خالی ہوگئے ہیں اور پولیس اہلکار بھی بھاگ گئے ہیں۔

    طالبان کی طرف سے یہ واضح پیغام جاری کردیا گیا ہے کہ کسی قسم کی کوئی عبوری حکومت قائم نہیں ہوگی ، کابل اورملک کی عوام کی خواہش کے مطابق نطآم حکومت تشکیل دیں گے

    سب کو ہدایت کردی ہے کہ امن سے رہیں اورکسی کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے ، افغان شہری خوف زدہ نہ ہوں۔

    ترجمان نے جنگجوؤں کو حکم دیا کہ طالبان نہ کسی کے گھر میں داخل ہوں اور نہ ہی کسی کو تنگ کریں۔

    اس اعلان کے بعد طالبان شہر میں داخل ہوگئے اور غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان صدارتی محل کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی آمد سے قبل ہی عملے نے محل خالی کردیا تھا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل طالبان کا کہنا تھا کہ مجاہدین جنگ یا طاقت کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے،کابل کے پرامن سرینڈر کیلئے طالبان کی افغان حکام سے بات چیت جاری ہے۔

    دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح ملک سے چلے گئے ہیں جس کی تصدیق افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بھی کردی ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو بیان میں عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کو سابق صدرکہتے ہوئے تصدیق کی ہےکہ وہ افغانستان سے جاچکے ہیں۔

    عبداللہ عبداللہ نے طالبان سے اپیل کی کہ وہ کابل میں داخل ہونے سے قبل مذاکرات کیلئے وقت دیں، انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی ہےکہ وہ پرامن رہیں۔

    ذرائع افغان وزارت داخلہ کے مطابق طالبان نے کابل کی سب سے بڑی پل چرخی جیل کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور پل چرخی جیل سے اپنے ساتھیوں کو نکال رہے ہیں۔

    ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں بتایا کہ پل چرخی جیل سے پہلے طالبان نے بگرام ائیر بیس کی سب سے اہم جیل پر بھی قبضہ کیا، بگرام ائیر بیس میں موجود تمام قیدیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

  • معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے

    معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے

    کابل:معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے،کابل سےملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کابل میں افغان حکومت کا حاتمہ ہوچکا ہے اورمعزول افغان صدراشرف غنی کسی غیرملکی طیارے میں‌ بیٹھ کرنامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے ہیں

    کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ امکان یہی ہےکہ یہ امریکہ کے طیارے میں فرارہوئے ہیں، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اس سلسلے میں امریکی حکومت کی درخواست پراشرف غنی کو پہلے تاجکستان پہنچایا جائے گا جہاں معاملات کوایڈجسٹ کیا جائے گا

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کابل میں اس وقت غیرملکی کابل ایئر پورٹ کے اندرمحصورہوچکے ہیں اورامریکہ نے افغان طالبان سے ان غیرملکیوں کی جان کی امان افغان طالبان سے مانگی ہے اورکہا ہے کہ ان کو کچھ نہ کہا جائے

    ادھر کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اشرف غنی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ فرار ہوئے ہیں ، اوران کی اگلی منزل کا ابھی تک کسی کو کوئی پتہ نہیں تاہم باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ان کی پہلی منزل تاجکستان ہہے جہاں افغان حکومت کی نئی شکل کے حوالے سے ان کوشریک مذاکرات کیا جائے گا

    دوسری طرف برطانوی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ معزول افغآن صدرفرارہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں

  • سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے

    سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے

    کابل:سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، ایسے میں افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادرکو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کو کابل شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود طالبان عہدے دار کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما ملا برادر افغانستان پہنچنے والے ہیں اور وہ کسی بھی وقت کابل میں پہنچ جائیں گے ۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں۔

    اس موقع پر قائم مقام افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار میر زکوال نے کہا ہے کہ طالبان سے کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    میڈیا کو جاری کیئے گئے بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

    افغان حکام نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت خونریزی کی خواہاں نہیں ہے، کوشش ہے کہ جنگ کے بغیر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔

    اس سے قبل افغان میڈیا پر جاری بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ کابل میں بزورِ طاقت داخل نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف سے مذاکرات جاری ہیں تاکہ کابل میں داخلے کے وقت شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

    طالبان نے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتقام نہیں لے رہے، تمام فوجی اور سویلین اہلکار محفوظ رہیں گے۔

    عرب ٹی وی سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے کہا کہ بزورِ طاقت کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے بات چیت کریں گے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغان دارالحکومت کا کنٹرول پرامن طریقے سے ملے، اس کے لیے چند روز یا ہفتہ بھی لگا تو انتظار کریں گے۔