سرگودھا۔30جولائی (اے پی پی)چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر راؤسلیمان زاہد نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سلانوالی اور دیہی مرکز صحت فروکہ کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے ایمر جنسی، زچہ بچہ وارڈ،گائنی، آؤٹ ڈور وارڈ، این سی ڈی روم، آئی ٹی لیب اور داخل مریضوں کے مختلف وارڈ کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے ایمر جنسی میں فراہم کی جا نے والی طبی سہولیات کاجائزہ لیا اور داخل خارج مریضوں کا رجسٹرڈ چیک کیا۔انہوں نے عملہ کی حاضری اور ڈیوٹی روسٹر کاجائزہ لیااور لیبر روم میں آپریشن کی سہولیات، مشینوں کی کارکردگی بارے دریافت کیا۔ انہوں نے ادویات کا رجسٹراوران کی معیاد چیک کی۔انہوں نے ٹی بی ڈاٹ پروگرام کی سہولیات اور مریضوں کی تفصیلات کاجائزہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے ای پی آئی پروگرام اور بنیادی مرکز ِصحت چک نمبری124 شمالی کا بھی اچانک دورہ کیا اور ڈاکٹروں اورطبی عملہ کی حاضری چیک کی اوردستیاب سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
Category: صحت
جانیے! کس شہر کی پولیس لائن میں ہوا جنرل پریڈ کا اہتمام
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈی پی او شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین کی ہدایت پر پولیس لائن میں پولیس ملازمین کے ڈسپلن اور ٹرن آوٹ کو بہتر بنانے کے لیے جنرل پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈسٹرک پولیس، ٹریفک پولیس ،ایلیٹ فورس اور لیڈیز پولیس کے دستوں نے اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ مارچ پاس کیا۔ پریڈ کی سلامی اے ایس پی توحید الرحمٰن میمن نے لی اور پریڈ کا معائنہ بھی کیا۔
جنرل پریڈ کا مقصد جوانوں کا ڈسپلن اور مورال بلند کرنا اور سماج دشمن عناصر کو یہ باور کروانا ہے کہ ہم ہمہ وقت عوام کی جان ومال کی حفاظت لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
ایچ آئی وی کو روکنے کے لیے ایک ارب کا فنڈ قائم
کراچی: سندھ میںایچ آئی وی کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نےایک ارب روپے سے انڈونمنٹ فنڈ قائم کردیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ سندھ میں ایچ آئی وی کے حوالے سے اسکریننگ کرائی جائے گی اورعلاج معالجہ کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰسندھ مراد علی شاہ نے یہ بات عالمی ادارہ صحت کے اعلیٰ سطحی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ڈبلیو ایچ او وفد کی قیادت ای ایم آر او کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد سلیم سیف المیندھری نے کی۔وفد میں ای ایم آر او کے ڈائریکٹر پروگرام مینجمنٹ ڈاکٹر رانا احمد حجاہ الکیبی اور ڈبلیو ایچ او کے ہیڈ آف مشن ان پاکستان ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا سمیت دیگر شامل تھے۔

عالمی ادارہ کے اعلی سطحی وفتد سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک ارب روپے کی مالیت سے قائم کردہ فنڈ سے متاثرین کی بحالی میں مدد ملے گی اوران کے لیے ضروری ادویات کی خریداری ممکن بنائی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اسپتال کا فضلہ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس بات کو بھی یقیینی بنا رہے ہیں کہ عطائی اور حجام اپنی دکانوں پر کام کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کو لازمی مدنظر رکھیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی ادارہ صحت کے اعلیٰ سطحی وفد کو بتایا کہ اس ضمن میں تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بلڈ بینکوں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے جو قواعد و ضوابط کو پیش نظر نہیں رکھتے ہیں۔
فیصل آباد میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے آگاہی سیمینار کا انعقاد
فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی ) حکومت پنجاب کی ہدایت پر ڈینگی کی روک تھام کے لئے تمام انتظامی مشینری متحرک ہے جس میں محکمہ تعلیم کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن چوہدری ذوالفقار حسین نے انسداد ڈینگی کے موضوع پر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول مندر روڈچنیوٹ میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں ڈی ای او سکینڈری / فوکل پرسن رائے ارشاد‘ مختلف سکولوں کی ہیڈ مسٹریس روبینہ چوہدری‘ رفعت اسماعیل‘ سعدیہ شہاب‘ ٹیچرز مس طاہرہ‘ مدثر نذر اور بڑی تعداد میں محکمہ تعلیم کے دیگر افسران و سٹاف کے ارکان موجود تھے۔ سی ای او ایجوکیشن نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لئے احتیاطی اور حفاظتی تدابیر کو اجاگر کرنے کے لئے تمام محکموں و طبقات نے مل جل کر کام کرنا ہے اور محکمہ تعلیم کو اپنے حصے کا کردار واضح طور پر اداکرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد سکول کھلنے سے قبل سکولوں کی عمارتوں کی چھتوں‘ واٹر پمپس و پانی کی ٹینکیوں کی جگہوں‘ لان اور دیگر تمام حصوں کو اچھی طرح چیک کرکے معیاری صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں کیونکہ بارشوں کے باعث کسی جگہ پانی جمع ہونے کے باعث ڈینگی لاروا کی افزائش کے خدشات ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یکم اگست سے ضلع کے تمام سکولوں کا معائنہ کرکے صفائی ستھرائی کا خود جائزہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کو بھی انسداد ڈینگی کے حوالے سے احتیاطی وحفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کاپابندبنایا جائے اور ڈینگی سے بچاؤ سے متعلق احساس کو اجاگر کرنے کے لئے آگاہی مہم میں ان کی بھرپور معاونت حاصل کریں۔ ڈی ای او سکینڈری رائے ارشاد نے کہا کہ ڈینگی وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر سے متعلق عوامی آگاہی بے حد ضروری ہے لہذا سکولوں میں اسمبلی کے وقت طالب علموں کو احتیاطی تدابیر سے ضرور آگاہ کریں تاکہ وہ اس پیغام کو اپنے گھروں تک پہنچائیں۔ سیمینار سے مختلف سکولوں کی ہیڈمسٹریس‘ ٹیچرز‘ سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ڈینگی ایک سماجی مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے ہر فرد کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہئے اس سلسلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھروں میں صفائی ستھرائی‘ اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے اور ڈینگی لاروا کی افزائش کی ممکنہ جگہوں سے پانی کو خشک کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چھتوں پر کاٹھ کباڑ اور ایسے برتن نہ رکھیں جن میں پانی جمع ہو سکتا ہو جوکہ ڈینگی لاروا کی پیدائش کا باعث بنتا ہے۔سیمینار میں کمپیرنگ کے فرائض مس طاہرہ نے انجام دئیے جبکہ طالبات نے انسداد ڈینگی کے پیغام پر مبنی نغمہ اور ٹیبلو پیش کیا.

بلڈ پریشر اور دل کے دورے کے بارے میں نئی تحقیق سامنے آ گئی
واشنگٹن : بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک سے متعلق نئی تحقیق کے مطابق اوپر اور نیچے والے دنوں طرح کے بلڈ پریشر میں اضافہ دل کی مختلف بیماریوں اور دورے کا سبب بن سکتا ہے۔
امریکہ میںہونے والی اس تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات دل کی بیماریوں اور دورے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ امریکہ میں ہر سال 6 لاکھ افراد اس کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق دل کی ایک چوتھائی بیماریوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام ممکن ہے۔
امریکی ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر پر نظر رکھنے کے لیے اس کی ریڈنگز انتہائی اہم ہیں۔ بلڈ پریشر کو اس کی نچلی اور اوپر کی ریڈنگ کی مدد سے جانچا جاتا ہے اور یہ دونوں ہی بلڈ پریشر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جنہیں قابو کرنا ضروری ہوتا ہے۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق بلڈ پریشر میں اوپر کی ریڈنگز دل کی دھڑکن کے دوران خون کی رفتار کو جانچتی ہے جبکہ نیچے کی ریڈنگ دل کی دھڑکن میں درمیانی وقفے کا بتاتی ہے۔
ادارے کی رپورٹ کے مطابق اگر بلڈ پریشر کی ریڈنگ 120/129 کے درمیان ہو اور 80 سے کم ہو تو وہ بلڈ پریشر میں اضافہ کو ظاہر کرتی ہے اور اگر بلڈ پریشر کی اوپری رفتار 130 سے زیادہ اور نچلی رفتار 80 سے زیادہ ہو تو وہ ذہنی دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ڈاکٹر ہائی بلڈ پریشر کو اس وقت خطرناک قرار دیتے ہیں جب اوپر کی ریڈنگ زیادہ ہو اور خصوصاً بزرگ افراد کے لیے یہ زیادہ نقصان دہ صورتحال ہوتی ہے۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق اس سے قبل کی گئی تحقیق صرف بلڈ پریشر کی اوپر کی ریڈنگ کو خطرناک قرار دیتی تھی تاہم اب نئی تحقیق میں بلڈ پریشر کی نچلی ریڈنگ کو بھی دل کی بیماریوں کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

بالآخر ڈینگی بخار کے توڑ کیلئے ویکیسن تیارکرلی گئی ، کہاں تیار ہوئی ؟ جانیئے
ویتنام : بالآخر سائنسدان ڈینگی بخارکے توڑ کے لیے ویکسین تیار کرلی گئی ہے. یوں بڑے عرصے کے بعد انسان کو مچھر کیخلاف بڑی کامیابی مل گئی .تاہم انسانوں پر استعمال کی منظوری فی الحال نہیں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ویتنام میں کام کرنے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ٹران کے مطابق ویکسین تیار کرنے میں 20 سال لگے اور اسے مختلف تجرباتی مراحل سے گزارا گیا ہے۔
ڈاکٹر ٹران نے بتایا کہ ویکسین کتنی محفوظ ہے اور اس کی تاثیر کے حوالے سے سات سال تک دس ممالک میں کامیاب تجربات کیے گئے جن میں انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ڈینگی بخار کے توڑ کے لیے ویتنام میں 2011 سے 2019 تک 2336 بچوں کو مذکورہ ویکسن دی گئی جن کی عمر دو سے 14 سال کے درمیان تھی اور تمام بچے بغیر کسی طبی پیچیدگی کے محفوظ رہے۔
ڈاکٹر ٹران نے اس ویکسین کے متعلق بتایا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی تجربے کے نتائج حوصلہ افزا رہے جہاں 9 سے 16 سال کے بچوں پر اس ویکسین کو آزمایا گیا ہے۔ 54 ممالک میں اس ویکسین کو استعمال کرنے کی منظوری مل چکی ہے اور متعدد میں اس کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔
یاد رہے کہ ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پاکستان بالخصوص لاہور شہر میں سیکڑوں لوگ بیمار ہوگئے تھے اور چند مریض تو اس کی وجہ سے وفات پا گئے تھے . ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری ہے جو زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہے اور ہر لاکھوں افراد اس سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس سے آگاہی کی مہم ، میوہسپتال میں واک ، ڈاکٹرز بھی شریک
لاہور: ہیپاٹائٹس سے آگاہی کی مہم کا لاہور کے سرکاری ہسپتالوں سے آغاز ہوگیا اس سلسلے میںآج میو ہسپتال میں ہیپاٹائٹس کی آگاہی کے حوالے سے واک کا اہتمام کیا گیا، اس واک میںمیو ہسپتال کے ڈاکٹرز اور دیگرعملے کی بڑی تعداد کی شرکت۔
ہیپاٹائٹس سے آگاہی کی مہم کے سلسلے میں یہ واک میو ہسپتال میں واک گھڑی وارڈ سے شروع ہوئی اس موقع پر شرکا نے ہیپاٹائٹس سے آگاہی کے حوالےسے بینرز اٹھا رکھے تھے، واک میں وی سی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر خالد مسعود گوندل، سی ای او میو ہسپتال پروفیسرڈاکٹراسد اسلم، پروفیسرڈاکٹرارشاد حسین، ڈاکٹر سلمان کاظمی سمیت ڈاکٹرز ، نرسز، پیرا میڈیکس اور ہسپتال کےعملے نے شرکت کی۔
اس موقع پرپروفیسرڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہیپاٹائٹس سے بچاو کے لئے احتیاطی تدابیر اور عوام میں مکمل آگاہی بہت ضروری ہے۔ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہےکہ وہ ہیپاٹائٹس سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ا قد امات اٹھائے

معطل ہونے کا رنج انتقامی کاروائی مہنگی پڑ گئی
ایم ایس سلانوالی کو دھمکیاں دینے اور ہسپتال میں دھاوا بولنے پر سابق ایم ایس ڈاکٹر قلب عباس شیرازی کے خلاف مقدمہ درج
سرگودھا۔26جولائی (اے پی پی)ڈپٹی کمشنر سلوت سعید نے کرپشن کے الزام میں معطل سابق ایم ایس ڈاکٹر قلب عباس شیرازی کا اپنے چار حمایتیوں سمیت تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سلانوالی میں دھاوا بولنے اور موجودہ ایم ایس کی سیٹ پر براجمان ہونے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سابق ایم ایس ڈاکٹر قلب عباس شیرازی سمیت پانچ افراد کے خلاف موجودہ ایم ایس ڈاکٹر تاج محمد چدھڑ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
کرپشن کے الزام میں معطل ایم ا یس ہیڈکوارٹر ہسپتال سلانوالی نے مسلح افراد کے ہمرا ہ ہسپتا ل پر دھاوا بو ل دیا
سرگودہا، سلانوالی۔ 26 جولائی (اے پی پی) کرپشن کے الزام میں معطل ایم ا یس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سلانوالی نے اسلحہ سے مسلح افراد کے ہمرا ہ ہسپتا ل پر دھاوا بو ل دیا کرپشن کے الزام میں معطل ایم ا یس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سلانوالی نے اسلحہ سے مسلح افراد کے ہمرا ہ ہسپتا ل پر دھاوا بو ل دیا۔تفصیلات کے مطا بق کروڑوں روپے کی کرپشن کے الزا م میں معطل ایم ا یس تحصیل ہیڈ کو ارٹرسلانوا لی قلب عباس شیراز ی نے جد ید اسلحہ سے لیس مسلح افراد کے ہمرا ہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتا ل سلانوا لی پر دھاوابول د یا مین گیٹوں کو بندکرا کر اوپی ڈی بھی بندکرا د ی، ڈاکٹروں کو کام سے رو ک د یا اور ایم ا یس آفس میں ا یم ا یس کی سیٹھ پر بیٹھ کر عملہ سے ریکارڈ منگوا کر اس میں ردوبدل کر نے کی کو شش کی۔ موجود ہ ایم ا یس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں د یں۔ سلانوالی پولیس نے سا بقہ ایم ا یس ڈاکٹر قلب عبا س شیراز ی سابقہ میڈیسن سٹور انچار ج اقتدار حسین شاہ سمیت پا نچ افراد کے خلا ف مقد مہ در ج کر لیا۔ موجود ہ ایم ا یس ڈاکٹر تا ج محمد چدر نے محکمہ ہیلتھ سرگودہا کے ضلعی حکا م اور اسسٹنٹ کمشنر سلانوا لی کو حالات سے آگاہ کر د یا ضلعی انتظامیہ نے پولیس کو سیکورٹی دینے کی ہدا یت کی موجود ہ ا یم ا یس ڈاکٹرتاج محمد چدر کی مدعیت میں سابقہ ا یم ا یس ڈاکٹر قلب عبا س شیرازی سمیت 5افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقد مہ کر لیا گیا۔

پولیو کے خلاف جنگ شاید جیت لیں، جی پی ای آئی
پولیو کے خلاف جنگ شاید جیتی جا سکے، پولیو کی بیماری ابھی بھی پاکستان میں جڑیں پکڑے ہوئے ہے.
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے پچھلے ہفتے اس بات کا اظہار کیا کہ پاکستان وہ خطہ ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس کے خطرات موجود ہیں.نائجیریا سے پولیوں کا خطرہ ٹل چکا ہے بس اب افغانستان میں ہی یہ خطرہ موجود ہے.پاکستان جیسے خطے میں پولیو ویکسی نیشن کی مہم چلانا آسان کام نہیں. خصوصا ان علاقوں میں جہاں مذہبی شدت پسندی ہے اور خصوصا خیبر پی کے اور سرحدی علاقوں میں جن کی سرحد افغانستان کے ساتھ ملتی ہے.یہ خطرہ آج بھی جھلک کر سامنے آیا جب والدین نے اپنے ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے روک دیا ہے . پولیو کے خلاف مہم جاری رکھنے والوں کے لیے ایسے مسائل اکثر پیش آتے ہیں.
لیکن جنگ جیتی جا رہی ہے، اور جلد ہی ختم ہوسکتی ہے .ویکسی نیش کی مہم سے بڑی تعداد میں پولیو کے واقعات کم ہوگئے ہیں. اس سال 45 کیس رپوٹ کیے گئے ہیں گزشتہ سال صرف آٹھ تھے. یہ بہت بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ 25 سال پہلے نیشنل ویکسینشن پروگرام کو ختم کیا گیا تھا. اس کے بعد، بیماری نے 30،000 سے زیادہ بچوں کو اپاہچ کیا.
اعداد و شمار حوصلہ افزائی افزا ہیں. گلوبل پولیو کے خاتمے کے نوٹیفکیشن (GPEI) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق – صرف مئی کے مہینے میں 1.07 ملین سے زائد پاکستانی بچوں کو ویکسین کیا گیا تھا. مہم میں مدد کرنے کے لئے 260،000 فرنل لائن کارکن تعینات کیے گئے ہیں، بشمول 2،100 سماجی متحرک افراد. بچوں اور ان کے خاندانوں کی طرف سے 95 فیصد منظوری کی شرح کے ساتھ ویکسین کی کوششوں کو پورا کیا گیا تھا. 400 سے زائد "مستقل ٹرانزٹ پوائنٹس” کے قیام کے سلسلے میں، بچوں میں کامیابیاں بڑھ رہی ہیں. ضلع اور قومی سرحدوں، بس سڑکوں اور ریلوے سٹیشنوں کے ساتھ ویکسین فراہم کرنے کے لئے علاقوں.حکومت کے ساتھ ساتھ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یونیسیف کے دوسرے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ، GPEI ایک ویکسین کے ساتھ "ہر آخری بچہ” تک پہنچنے کے لئے تیار ہے.
لیکن نجی شعبے کی مالی امداد کامیابی کے لئے اہم ہو گی. مثال کے طور پر، سرمایہ کاری اور فلسفہ الشان فیاض نے قائم کیا ہے – حال ہی میں اس بیماری پر نگرانی کو مضبوط بنانے اور روک تھام کے لئے تکنیکی اور طبی امداد کو برقرار رکھنے میں یونیسیف کے کام کی حمایت کرنے کے لئے فنڈز قائم کیے گئے ہیں.








