Baaghi TV

Category: صحت

  • السی سے بیماریوں کے علاج

    السی سے بیماریوں کے علاج

    لسی کا چھاٹا سا بیج بہت سی خصوصیات کا حامل ہے اللہ تعالیٰ نے بہت سے اجزا پیدا کئے ہیں جو انسان کے لئے نہایت کارآمد ہیں مگر ان میں سے بہت سے ایسے قدرتی اجزا ہیں جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں انہی میں سے السی کے بیج بھی شامل ہیں السی کے بیج اپنے اندر جادوئی خصوصیات رکھتے ہیں اس کی بیج دو طرح کے ہوتے ہیں سنہری اور براؤن دونوں ہی بہت فائدہ مند ہیں السی کی تاثیر گرم ہرتی ہے بہتر بیج وہ ہوتے ہیان جو تازہ اور موتے ہو تے ہیں ایران میں اس کے پودے کی چھال سے کپڑے بنتے ہیں جسکو کتان کہتے ہیں

    السی کے بیج پیس کر دن میں کسی بھی وقت ایک چمچ کھانا صحت کے لیے بےحد مفید ہے السی کے بیج نقاہت اور تھکاوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں دل کو صحتمند بناتے ہیں جسمانی کمزوری دور کرتے ہیں اور شوگر سے بھی محفوظ رکھتے ہیں السی کے بیجوں میں فائبر بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے جو معدہ کو مضبوط اور طاقتور بناتا ہے السی کے بیج نظام انہضام کو درست رکھتے ہیں اس سے معدہ اپنے فعال بہترین طریقے سے سرانجام دیتا ہے

    السی کے بیج کے استعمال دل کی مختلف مہلک بیماریوں سے بچاتے ہیں اور کولیسٹرول نارمل رہتا ہے ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کولیسٹرول کے لئے ادویات کھانے سے کولیسٹرول لیول اتنا کم نہیں ہوتا جتنا کم السی کے بیج کھانے سے ہوتا ہے السی کے بیج جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار بڑھاتے ہیں جن کی وجہ سے انسان کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے السی کے بیج ورم سوجن بلغمی کھانسی جلدی امراض اور گردے مثانے کی پتھری میں بے حد مفید ہیں جو لوگ کسی وجہ سے مچھلی اورگوشت نہیں کھا سکتے وہ السی کھا لیں-

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کا پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو از سر نو فعال کرنے کا اعلان

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو از سر نو فعال کرنے کا اعلان

    لاہور: خون کی منتقلی کو محفوظ سے محفوظ تر اور آسان بنانے کے لیے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر راشد یاسمین نے پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو ازسرنوفعال کرنے کااعلان کردیا۔ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی ری ویمپنگ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے میاں منشی ہسپتال میں انسداد ہیپاٹائٹس فری سکریننگ کیمپ کے دورہ کے موقع پر کہاکہ تین روزہ کیمپ سے 51000 افراد مستفید ہوئے، جس میں 327 میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوئی، باقی افراد کی مفت ویکسینیشن بھی کر دی گئی دیگر علاقوں میں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیمپ لگائے جائیں گے۔

    محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے لاہور کے میاں منشی ہسپتال ، میٹرنٹی ہسپتال چوہان روڈ ، مزنگ ہسپتال ، ڈائیگناسٹک سنٹر سنت نگر، بلال گنج فلٹرکلینک میں ہیپاٹائٹس کے تشخیصی و آگاہی کیمپ کا انعقاد کیا گیا، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے میاں منشی ہسپتال میں جاری کیمپ کا دورہ کیا اور سکریننگ کیمپ پرٹیسٹ کرانے کیلئے آنےوالوں سے میڈیکل سٹاف کی کارکردگی سے متعلق دریافت کیا۔

  • ہسپتالوں کے ایم ایس، ڈائریکٹر ہیلتھ اور ڈسٹرکٹ افسران کے میڈیا کو انٹرویوز دینے پر پابندی

    ہسپتالوں کے ایم ایس، ڈائریکٹر ہیلتھ اور ڈسٹرکٹ افسران کے میڈیا کو انٹرویوز دینے پر پابندی

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بڑا قدم اٹھایا گیا ہے جس پر میڈیا کے مختلف حلقوں‌ کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں کےایم ایس، ڈائریکٹرہیلتھ اورڈسٹرکٹ افسران پرمیڈیا کوانٹرویوز دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے، ڈاکٹر مسعود سولنگی کا کہنا ہے کہ فیصلہ اعلیٰ حکام کی ہدایات کےبعدکیاگیاہے،

    ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ متعلقہ افسران بغیراجازت کسی میڈیا نمائندے کوانٹرویو دینے کے مجازنہیں، محکمہ صحت سندھ کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام پر ڈآکٹرز کی جانب سے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے،

  • امریکی ماہرین نےخواتین میں چھاتی کینسر کا علاج  آسان اور سستا طریقہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    امریکی ماہرین نےخواتین میں چھاتی کینسر کا علاج آسان اور سستا طریقہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    نیویارک:خواتین میں کینسر کی بیماری جس طرح عام ہورہی ہے اس پر تحقیقات کا سلسلہ بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے. امریکی یونیورسٹی ’جانز ہاپکنز‘ کے ماہرین نے بریسٹ کینسر کے علاج کے لیے کولڈ ڈرنکس سمیت دیگر مشروبات میں استعمال ہونے والے کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو استعمال کرکے علاج کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سائنس جرنل ’پلوس ون‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جس میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے اور یہ آلہ بریسٹ کینسر کے ٹیومر کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    امریکی طبی ماہرین کے مطابق ان کی جانب سے تیار کیے گئے آلے سے بریسٹ کینسر کے ٹیومر ختم نہیں ہوتے بلکہ ٹیومر جم جاتے ہیں جو آہستہ آہستہ خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔

    امریکی طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ چوں کہ کاربن ڈائی آکسائڈ دنیا بھر میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہے اور اس گیس کو چیزوں کو گرم کرنے سمیت ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اسی گیس کی بدولت انسان اور پودوں کو سانس لینے میں آسانی ملتی ہے، اس لیے اس گیس کی مدد سے بریسٹ کینسر کا علاج ممکن ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کی بھاری مقدار کو آلے میں شامل کرکے تجربات کیے اور بریسٹ کینسر کی شکار خواتین کے ٹیومر کو منفی سینٹی گریڈ کی ٹھنڈک سے منجمد کیا گیا۔

    ماہرین نے دعویٰ کیا کہ بریسٹ کینسر کے ٹیومرز کو کاربن ڈائی آکسائڈ کی مدد سے انتہائی منفی سینٹی گریڈ کی ٹھنڈک سے منجمند کرکے کینسر کے جراثیم کو کمزور کیا جا سکتا ہے جو بار بار منجمد کیے جانے کے بعد خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اس نئے طریقہ کار سے کم آمدنی اور غریب ممالک کی خواتین کو فائدہ پہنچے گا اور وہ انتہائی کم خرچ پر کینسر جیسے موضی مرض کا علاج کروا سکیں گی۔

    اگرچہ ماہرین نے اس طریقے کو درست قرار دیا، تاہم انہوں نے تجویز دی کہ ابھی اس پر مزید تحقیق کرکے کام کیا جا سکتا ہے اور اس طریقے میں مزید آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔

  • پودینہ کے حیران کن بیش بہا فوائد

    پودینہ کے حیران کن بیش بہا فوائد

    پودینہ ایک خوشبودار سبزی ہے اس کی منفرد خوشبو ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتی ہے اس کی پتیاں کھانے کو خوشبودار لذیذ اور ذائقے دار بناتی ہیں قدرت نے پودینے میں بے شمار خصوصیات چھپا رکھی ہیں پودینہ اللہ پاک کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے عام طور پر پودینے کو ایک معمولی سبزی سمجھا جاتا ہے مگر یہ سستی اور معمولی سمجھی جانے والی سبزی اپنے اندر بہت سے طبی خزانے چھپائے ہوئے ہے

    پودینے کی بہت سی اقسام ہیں عام گھروں میں استعمال ہونے والے پودینے کو منٹ گارڈن یا پودینہ بوستانی کہتے ہیں یہ پودینہ پاکستان ہندوستان عرب ممالک یورپ اور امریکہ میں کثرت سے پایا جاتا ہے پودینے کی ایک اور قسم جاپانی پودینہ بھی ہے اس سے مینتھال حاصل کیا جاتا ہے یہ چائنہ اور جاپان میں کاشت کیا جاتا ہے جبکہ پودینے کی ایک قسم پتھریلی اور نرم جگہوں پر آبشاروں کے کناروں پر اگتی ہے اسے خودرو کہا جاتا ہے

    نہروں کے کنارے اگنے والے پودینے کو نہری پودینہ یا مارش منٹ بھی کہتے ہیں یہ صابن کو خوشبودار بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے سر درد کی صورت میں اسکا روغن لگانےسے آرام ملتا ہے

    پودینے کی تاثیر گرم اور خشک ہے پیٹ کے امراض کے لئے بہت شافی دوا ہے کھٹی ڈکاروں سے نجات ملتی ہے پودینہ سانس میں بدبو پیدا کرنے والے بیکٹیریاز کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے اسکو زہر کا توڑ بھی کہا جاتا ہے بچھو شہد کی مکھی بھر وغیرہ کے کاٹنے پر پودینے کا لیپ لگانے سے آرام ملتا ہے

    پودینہ زودہضم معدہ اور آنتوں کو طاقت دینے والی سبزی ہے معدہ اسے دو سے تین گھنٹوں میں ہضم کر لیتا ہے پودینہ بد ہضمی ڈکاروں کی کثرت گیس اور منہ کی بدبو دور کرنے کے لئے انتہائی مفید ہے پودینے کا رائتہ بھی انتہائی خوش ذائقہ ہوتا ہے اور شوق سے کھایا جاتا ہے پودینہ جسم اور دماغ کو متحرک رکھتا ہے اسکے استعمال سے دماغ کو سکون حاصل ہوتا ہے اور جسم توانائی محسوس کرتا ہے

    چہرے کے داغ دھبے کیل مہاسے اور تل ختم کرنے کے لئے تازہ پودینہ پیس کر لیپ لگانے سے فائدہ ہوتا ہے اور جلد کی رنگت بھی نکھرتی ہےہیضے میں پودینے کی خشک پتیوں کو ایک کپ پانی میں ابال کر اس میں لونگ ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے مرچ مصالحے اور روغنی کھانا کھانے کے بعد پودینے کی چند پتیاں کھا لینے سے کھانا جلدی ہضم ہو جاتا ہے

  • ڈاکٹروں کی عید ہوگئی  ،حکومت نے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا

    ڈاکٹروں کی عید ہوگئی ،حکومت نے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا

    لاہور:ہر روز ہڑتالیں‌کرنے والے ڈاکٹرز کا مطالبہ حکومت نے مان کر ان کو مستقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے. کیا یہ ڈاکٹرز اب مریض کے لیے مسیحا بنیں گے یا پھر روایتی ہٹ دھرمی پر رہتے ہوئے آئے روز بائیکاٹ کرکے مریضوں کو تڑپتے ہی رہنے دیں‌گی ، بہر کیف ڈاکٹروں کے لیے اچھی اور خوشی کی خبر یہ ہے کہ حکومت نے4 سال کنٹریکٹ مدت والے ہزاروں ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے4 سال کنٹریکٹ مدت والے ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کا فیصلہ کرلیا، محکمہ پرائمری ہیلتھ نے سرکاری ہسپتالوں کو مراسلہ بھی جاری کردیا، مستقل ڈاکٹروں کیلئے تین سال تک دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینا لازمی ہوگا،سپیشل پے پیکج پر کام کرنے والوں کو مستقل نہیں کیا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکستان میں اب یہ کلچر بن کر رہ گیا ہے کہ ڈاکٹرز آئے روز کوئ نہ کوئی ایشو بناکر ہسپتالوں کا بایئکاٹ کرتے ہیں جس سے مریضوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

  • چین میں‌مچھر فیکٹری قائم ،چینی سائنسدان نے جینیاتی تجربے کے ذریعے خطرناک مچھر کی نسل ہی ختم کردی

    چین میں‌مچھر فیکٹری قائم ،چینی سائنسدان نے جینیاتی تجربے کے ذریعے خطرناک مچھر کی نسل ہی ختم کردی

    بیجنگ:چین نے مچھروں کے خلاف آپشریشن شروع کردیا .اطلاعات کے مطابق چین میں دنیا کے خطرناک اور حملہ آور مچھروں کی نسل میں سے ایک کو انتہائی کامیابی سے ختم کردیا گیا۔یہ تجربہ صوبے گوانگ ڈونگ کے دوجزائر پر کیا گیا ہے جس کی زیادہ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس کاوش میں ایشیائی ٹائیگر مچھر کی 94 فیصد ماداؤں کو ختم کیا گیا ہے اور انسانوں کے کاٹنے کی شرح میں 97 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    مچھروں کی خطرناک اقسام کو ختم کرنے کے لیے کچھ عرصہ پہلے برطانیہ میں امپیریل کالج لندن کے سائنس دانوں نے بھی ایسے ہی کچھ تجربات کیے تھے۔ بہت بڑی تعداد میں مادہ مچھروں کو بے ضرر بنا کر چھوڑ دیا گیا تھا اور اس جینیاتی تبدیلی کو نرمچھروں نے آگے بڑھایا اور یوں ایسے مچھر پیدا ہوئے جو مرض پھیلانے کے کسی قابل نہ رہے۔

    چینی میڈیا کے مطابق چینی تحقیق میں شامل پروفیسر شائی زائی یونگ نے جنوبی چین میں ایک مچھر فیکٹری قائم کی ہے۔ اس سے قبل وہ نر مچھروں میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنے کا کامیاب مظاہرہ کرچکے ہیں جو مادہ سے ملاپ کرتے ہیں اور اس سے بے ضرر مچھر جنم لیتے ہیں۔

    چینی میڈیا نے پروفیسر شائی زائی یونگ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح وہ برے مچھروں سے لڑنے والے اچھے مچھر پیدا کرنے میں کامیابیاں حاصل کرچکے تھے تاہم اب نئی تحقیق کے مطابق انہوں نے مادہ اور نر مچھروں میں نسل خیزی کو اتنا سست کیا ہے کہ ان کی تعداد کم ہوکر تیزی سے ختم ہوجاتی ہے۔

    چینی پروفیسرہے کہ اس نے مادہ مچھروں کو اشعاع (ریڈی ایشن) کے ذریعے بانجھ بنایا گیا اور نر مچھروں میں وولباخیا بیکٹیریا متعارف کرایا گیا پھر ان کی بڑی تعداد کو نسل خیزی کے موسم میں دو جزائر میں چھوڑ دیا گیا۔

    چینی سائنسی ماہرین نے بھی اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ دونوں جزیروں پر مادہ مچھروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ بین الاقوامی ماہرین نے اس تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیائی ٹائیگر مچھروں کو ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ بہت تیزی سے اپنی تعداد بڑھاتے ہیں

  • ایلوویرا کے فوائد

    ایلوویرا کے فوائد

    قدرت نے اس دنیا میں مختلف انواع اقسام کے پودے اور جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں ہر جڑی بوٹی اور پودا اپنی افادیت میں اپنی مثال آپ ہے اور ان میں مختلف بیماریوں سے شفا موجود ہے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہر چیز میں اسکی حکمت و دانائی چھپی ہوئی ہے ہر شے کو پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے اور ہر چیز الگ الگ خصوصیات کی حامل ہیں انہی میں سے ایلو ویرا جسے گھیکوار اور کور گندل بھی کہتے ہیں ایک ایسا پودا ہے جس کے اندر بے شمار طبی فوائد کا خزانہ ہے اس میں کیلشئم پوٹاشئیم آئرن کاپر کرمیم زنک مگنیز پائی جاتی ہیں جو انسانی جسم کے لئے انتہائی مفید ہیں اسمیں وٹامن بی 12 کی اے بی سی ای اور فولک ایسڈ بھی پائے جاتے ہیں ایلوویرا کا باقاعدہ استعمال ان معدنیات اور وٹامنز کی کمی کو پورا کرتا ہے

    ایلوویرا پر یورپ میں بہت سی تحقیقات کی گئیں جن سے اس کے بہت سے فوائد سامنے آئے ایلوویرا معدے کی خرابی اور دانت کے درد کو دور کرتا ہے سر کی جلد کے کئے بھی ایلوویرا نہایت مفیدہے یہ جلد کو ٹھنڈک کا احساس دلاتا ہے ہفتے میں ایک مرتبہ سر پہ لگانے سے نہ صرف بال گھنے چمکدارہوجاتے ہیں بلکہ سر کی خشکی بھی دور ہو جاتی ہے اسکے علاوہ بال جھڑنا بھی بند ہو جاتے ہیں

    ایلوویرا جوڑوں کے درد اور پٹھوں کی کمزوری بھی دور کرتا ہے اور جگر کے لئے اور تلی کی بیماری کے لئے بہت مفید ہے نزلہ زکام کھانسی اور جوڑوں کے درد کے لئے بھی بہت مفید ہے اور متعدد غدودوں کو فعال بنانے میں بھی مدد دیتا ہے جلد کے امراض اور معدے کی خرابی دور کرنے کے لئے بھی اور غذائی سپلیمنٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے

  • ہیپاٹائٹس کی آگاہی کے لیے  محکمہ صحت پنجاب نے کمر کس لی ،بھر پور مہم چلانے کا فیصلہ

    ہیپاٹائٹس کی آگاہی کے لیے محکمہ صحت پنجاب نے کمر کس لی ،بھر پور مہم چلانے کا فیصلہ

    لاہور :ملک میں‌ہیپا ٹائٹس کے پھیلتے ہوئے مرض کے خلاف آگہی پیدا کرنے کے لیے محکمہ صحت پنجاب نے کمر کس لی ہے. ذرائع کے مطابق ہیپاٹائٹس کی آگاہی کے حوالے سے صوبے بھر میں مہم چلانے کا فیصلہ کر لیا۔ مہم کے دوران بیوٹی سیلون اور حجام کی دکانوں کی خصوصی طور پر رجسٹریشن کی جائے گی اور انہیں حفطان صحت کے اصولوں کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ٹریننگ بھی دی جائے گی۔

    اعداد و شمار کے مطابق پنجاب سمیت ملک بھر میں دس فیصد شہری ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں اسی لئیے اٹھائیس جولائی کو ہیپاٹائٹس کے عالمی دن سے پہلے پنجاب بھر میں ہیپاٹائٹس آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر محمد ہارون جہانگیر کا کہنا ہے کہ غیر معیاری انتقال خون، آلودہ آلات جراحی اور حجامت کے لئے استعمال ہونے والے اوزار ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلنے کی وجہ ہیں،، احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہیپاٹائٹس جیسے مہلک مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام پنجاب کے مینجر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ تاحال پچپن ہزار سے زائد بیوٹی سیلون اور حجام کی دکانوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔ اس مہم کے دوران نہ صرف مزید رجسٹریشنز کی جائیں گی بلکہ انہیں ٹریننگ بھی دی جائے گی۔ہیپاٹائٹس کے حوالے سے آگاہی دینے کے لئے معروف سماجی رہنما منیبہ مزاری نے کہا کہ اس مہلک مرض سے نجات کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    ہیپاٹائٹس آگاہی مہم کے دوران صوبے بھر میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کی اسکریننگ اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن بھی کی جائے گی۔یاد رہے کہ ہیپا ٹائٹس کے حوالے سے حکومت کے علاوہ کئی رفاعی تنظیمیں بھی کام کررہی ہیں. لیکن اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں‌ہورہا.

  • سبز چائے کے طبی فوائد

    سبز چائے کے طبی فوائد

    سبز چائے کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہے اسکا مشروب ذائقے میں اچھا اور صحت کے لئے انتہائی مفید ہے سبز چائےکا ذائقہ لیموں اور شہد کے ساتھ دوبالا ہو جاتا ہے سبز چائے ڈائٹ کرنے والوں کے لئے بہت مفید ہے ویسے تو اس کے بہت سے فوائد سامنے آتے رہتے ہیں تاہم ایک تحقیق کے مطابق سبز چائے کے استعمال سے کینسر سے بچاؤ بھی ممکن ہے یہ معدہ بڑی آنت جگر نرخرا چھاتی اور پھپھڑوں کے کینسر سے بچاتی ہے تحقیق میں سبز چائے کے فوائد پر خاصا زور دیا گیا-

    سبز چائے خون میں پھٹکیاں بننے کے عمل کو روکتی ہے کو لیسٹرول لیول کم کرتی ہے خون کو پتلا کرتی ہے جس وجہ سے دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرات کم ہو جاتے ہیں الزائمر اور بلڈ پریشر سمیت بہت سی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفید ہے بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کے نظام کی نشوونما کرتی ہے جسکی وجہ سے گٹھیا کا مرض پیدا نہیں ہوتا- سبز چائے فوڈ پوائزننگ اور دانتوں میں پلاک کا سبب بننے والے بیکٹیریا کے خلاف بھی مزاحمت کرتی ہے-