Baaghi TV

Category: صحت

  • کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچنے اور ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیولین یونیورسٹی کی سربراہی میں ہونے والی نئی تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں میں ہیموگلوبین اے 1 سی (جو بلڈ شوگر کی سطح کی نشان دہی کرتا ہے) کو کم کرتا ہے۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    جاما نیٹورک اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 40 سے 70 برس کے درمیان 150 افراد شریک ہوئے جن کے بلڈ شوگر کی سطح ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے قبل کیفیت سےذیابیطس میں مبتلا ہونے تک تھی اور ان میں ایسے افراد بھی تھےجو ذیابیطس کی ادویات نہیں لیتے تھے۔

    اس نئی تحقیق میں کم کاربوہائیڈریٹ کی غذا کھانے والے گروپ نے ابتدائی تین ماہ میں 40 گرام سے کم کاربوہائیڈریٹس کی کھپت کا ہدف رکھا اور تین سے چھ ماہ کے دوران یہ ہدف بڑھا کر 60 گرام تک کم کیا گیا۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    عمومی طور پر کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں میں پروٹینز اور بغیر نشاستہ والی سبزیوں پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ اناج، پھل، روٹی، میٹھا اور نشاستہ کی حامل سبزیاں اور پھل کا استعمال محدود کر دیا جاتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق امریکیوں کو دی جانے والی غذائی ہدایات کے مطابق کسی بھی شخص کی جانب سے روزانہ لی جانے والی کیلوری کا 45 سے 65 فی صد حصہ کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں یعی روزانہ 2000 کیلوریز میں 900 سے 1300 تک کا حصہ کاربو ہائیڈریٹس کا ہوتا ہےاس کے برعکس کاربوہائیڈریٹس کو 20 گرام سے 57 گرام تک محدود کرنے سے 80 سے 240 کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔

    معالجین عموماً ذیابیطس کےمریضوں کو کم کاربوہائیڈریٹس والی خوراک کی تجویزدیتے ہیں لیکن آیاکم کاربوہائیڈریٹس کا کھایا جانا ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے افراد جو اس مرض میں مبتلا ہونے والے ہوں میں بلڈ شوگر کو متاثر کرسکتا ہے کہ نہیں، اس متعلق بہت محدود شواہد موجود ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    سِڈنی: آسٹریلیا کے شہر سِڈنی میں قائم جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی عمر کے افراد میں بلڈ پریشر کا کم ہونا ان میں ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیمنشیا ایک ایسا سنڈروم ہے جس میں علمی افعال میں اس سے کہیں زیادہ بگاڑ ہوتا ہے جس کی حیاتیاتی عمر بڑھنے کے معمول کے نتائج سے توقع کی جا سکتی ہے۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق، فی الحال، دنیا بھر میں 55 ملین سے زیادہ لوگ ڈیمنشیا کے ساتھ رہتے ہیں، اور ہر سال تقریباً 10 ملین نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔

    بدھ کو سامنے آنے والی یہ تحقیق پانچ ڈبل بلائنڈ پلیسبو کنٹرول شدہ بے ترتیب آزمائشوں کے تجزیہ پر مبنی ہے جس میں بلڈ پریشر کو کم کرنے والے مختلف علاج استعمال کیے گئے اور ڈیمنشیا کی نشوونما تک مریضوں کو چیک کیا گیا-

    ٹرائلز میں 20 ممالک اور خطوں کے کل 28,008 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 69 سال اور ہائی بلڈ پریشر کی تاریخ تھی۔ فالو اپ کی درمیانی حد صرف چار سال سے زیادہ تھی۔

    سڈنی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور جارج انسٹی ٹیوٹ کے گلوبل برین ہیلتھ میں ڈیمنشیا کے پروگرام کی رہنما روتھ پیٹرزکا کہنا تھا کہ ڈیمینشیا کے علاج میں کوئی اہم کامیابی حاصل نہ ہونے کے باوجود اس بیماری کے لاحق ہونے کے خطرات میں کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

    ڈاکٹر روتھ کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق اس بات کے شواہد پیش کرتی ہے کہ سالوں پر محیط بلڈ پریشر کم کرنے کا علاج ڈیمینشیا لاحق ہونے کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ لیکن جس بات کا ابھی بھی علم نہیں وہ یہ کہ جن کا بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے ان میں بلڈ پریشر کے کم کیے جانے سے یا جو ابتدائی زندگی سے علاج شروع کر دیتے ہیں ان میں ڈیمینشیا کے دیر پا خطرات کم ہوں گے کہ نہیں۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

    روتھ پیٹرز کے مطابق بلڈ پریشر کم کرنے کے فوائد کے حوالے سے متعدد کلینکل ٹرائلز ہوئے ہیں۔ لیکن ان ٹرائلز کے اکثریت میں ڈیمینشیا سے متعلق نتائج کو شامل نہیں کیا گیا اور چند میں فرضی دوا کا استعمال کیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ اکثر ٹرائلز کو بلڈ پریشر کم ہونے کی وجہ سے دل پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے شروع میں ہی روک دیا گیا، جو عموماً ڈیمینشیا کی نشانیوں سے پہلے نمودار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ابھی تک نامعلوم ہے کہ آیا ان لوگوں میں اضافی بلڈ پریشر کو کم کرنا جو پہلے سے ہی اسے اچھی طرح سے کنٹرول کر چکے ہیں یا زندگی میں ابتدائی علاج شروع کرنے سے ڈیمنشیا کے طویل مدتی خطرے کو کم کیا جائے گا۔

    دنیا بھر میں ڈیمنشیا میں مبتلا لوگوں کی بڑی تعداد اور علاج میں اہم پیش رفت کی کمی کو دیکھتے ہوئے، محققین کے خیال میں اس بیماری کے بڑھنے کے خطرے کو کم کرنا ایک خوش آئند قدم ہوگا۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ مطالعہ کے نتائج صحت عامہ کے متعلقہ اقدامات کو ڈیزائن کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    نئی تحقیق میں بلڈ پریشر اور ڈیمینشیا کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس تجزیے کے لیے پانچ ڈبل بلائنڈ، پلیس بو کا استعمال کرتے ہوئے، ٹرائلز کیے گئے جس میں مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے بلڈ پریشر کم کیا گیا۔ مریضوں کی نگرانی اس وقت تک کی گئی جب تک وہ ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں ہوگئے۔

    ڈبل بلائنڈ ٹرائل وہ تجربے ہوتے ہیں جس میں محقق اور تجربے میں شامل شخص کو کسی قسم کی معلومات نہیں دی جاتی تاکہ ان کا رویہ متاثر نہ ہو۔

  • احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے

    احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے

    احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے

    چھاتی کا کینسر خواتین میں اس وقت پھیلتا ہے جب چھاتی میں غیر معمولی تبدیلیاں ہوتی ہیں جو خلیوں کی نشوونما کو منظم کرتی ہیں جو چھاتی کے خلیوں میں تیار ہوتا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پنک پاکستان ٹرسٹ کی صدر ڈاکٹر زبیدہ قاضی نے اقراء یونیورسٹی نارتھ کیمپس کے اشراک سے منعقدہ ”چھاتی کے کینسر سے آگاہی “ سیمینار میںکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ کینسر کے بے قابو خلیات اکثر چھاتی کے صحت مند ٹشو زکو متاثر کرتے ہیں اور چھاتی کے دوسرے حصوں تک چلے جاتے ہیںجو بنیادی راستوںسے کینسر کے خلیوں کو چھاتی کے کئی حصوں میں منتقل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔چھاتی کے کینسر کی علامات میں پوری چھاتی کا سرخ ہوجانا ، چھاتی میں گٹھلی کا بن جانا،چھاتی کے کچھ حصوں میں سوجن ہوجانا،چھاتی سے خون کا خارج ہونا،بازو کے نیچے ایک گانٹھ بن جانا،چھاتی کی جلد کا چھلکا ، شکل اور سائز میں اچانک تبدیلی ہوجانا اور دیگر شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈکٹل کارسنوماجو دودھ کی نالی سے شروع ہوتا ہے اور لوبیولر کارسنوما لوبیولزہوتا ہے پھر بڑھتا چلا جاتا ہے جس سے بچنے کے لیے چھاتی کے کینسر کی تشخیص میمو گرام، الٹراساﺅنڈ، بایپسی ٹیسٹ کے علاوہ اپنے اندر ہونے والی غیر معمولی تبدیلی کا معائنہ گھرمیںخود بھی کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر زبیدہ قاضی کا کہنا تھا کہ چھاتی کے کینسر کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں تاہم کچھ اقدامات سے چھاتی کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتے ہیںجس میںتازہ پھلوں ، سبزیوں اوردیگر صحت مند غذاﺅں کا استعمال ، ورزش کرنا،تابکاری سے بچنا ہے ۔

    ان کا مزید کہنا تھاکہ چھاتی کے کینسرکا علاج مجموعی صحت ، ریڈیشن تھراپی،سرجری اور کیموتھراپی سے بھی کیا جا سکتا ہے احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے ۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر تابندہ اشفاق نے ڈاکٹر زبیدہ قاضی کو شیلڈ اور گلدستہ پیش کیاگیا ۔اس موقع پرڈاکٹر سلیمہ تیجانی،ڈاکٹر حسن وسیم ، ڈاکٹر طوبیٰ محفوظ اور دیگر شامل تھے ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ثوبیہ نے سر انجام دیئے

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر
    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

  • آبادی میں اضافہ. پنجاب میں 23 بڑے سرکاری ہسپتال بنائے جا رہے ہیں

    آبادی میں اضافہ. پنجاب میں 23 بڑے سرکاری ہسپتال بنائے جا رہے ہیں

    وزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد کی زیرصدارت محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن میں اجلاس منعقدہوا۔

    اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ڈاکٹر فرخ نوید،ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرحافظ شاہد لطیف،میاں زاہد الرحمن، وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل،وائس چانسلرکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز،وائس چانسلر یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق،وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزپر وفیسرڈاکٹراحسن وحید راٹھور،پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسرندیم حفیظ،پرنسپل سروسزانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزپروفیسرفاروق افضل،پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹرسردارظفرالفرید،سی ای او پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پروفیسربلال محی الدین،ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسزپروفیسرخالدمحمود،ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹرمحسن رانجھا،ڈائریکٹر چلڈرن ہسپتال پروفیسرمحمدسلیم،ایگزیکٹو ڈائریکٹر برن سنٹر جناح ہسپتال پروفیسرکامران خالد،ڈاکٹرجویریہ آصف،ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹریحییٰ سلطان اور پنجاب کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان اور ایم ایس حضرات نے وڈیولنک کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس کے دوران سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ایمرجنسی پروٹوکولز،ادویات کی فراہمی اور ریفرل سسٹم کے اقدامات کاتفصیلی جائزہ لیا۔وائس چانسلرز،پرنسپلز،ایگزیکٹو ڈائریکٹرزاور ایم ایس حضرات نے ایمرجنسی میں مریضوں کے بہترعلاج معالجہ کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکو قیمتی آراء و تجاویز پیش کیں۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہا کہ آئندہ پنجاب کے کسی بھی سرکاری ٹیچنگ ہسپتال کی ایمرجنسی میں مریضوں کے علاج معالجہ میں غفلت کی صورت میں متعلقہ سربراہ یا ایم ایس کوذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ پنجاب کے کسی بھی سرکاری ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کے علاج معالجہ میں ایک فیصدبھی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ پنجاب کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے پیڈریٹک سرجری میں فوری طورپر 10بسترمختص کئے جائیں۔پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کی ایمرجنسیزمیں مریضوں کے بہترعلاج معالجہ کوبہتربنانے کیلئے خصوصی کمیٹی ایک ہفتہ بعد اپنی تجاویزپیش کرے گی۔عوام کے ٹیکسوں سے بنائے گئے ہسپتال صرف عوام کو بہترعلاج معالجہ فراہم کرنے کیلئے ہیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہاکہ صوبہ بھر کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کیلئے دوبارہ پروٹوکولز جاری کئے جارہے ہیں۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں 90 ہزار سے زائد ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف بھرتی کئے ہیں۔پنجاب کے ہر سرکاری ٹیچنگ ہسپتال میں آنے والے مریض کو علاج معالجہ کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے مزیدکہاکہ آبادی میں اضافہ کے باعث پنجاب میں 23نئے بڑے سرکاری ہسپتال بنائے جارہے ہیں۔ماضی کی کسی حکومت نے آبادی میں اضافہ ہونے پرنئے سرکاری ہسپتال بنانے کا نہیں سوچا تھا۔پنجاب کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان اور ایم ایس حضرات کو آخری وارننگ دی جارہی ہے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہا کہ جناح ہسپتال لاہور میں برن سنٹرکی توسیع کرنے جارہے ہیں۔لاہور میں جنرل ہسپتال،جناح ہسپتال اور سروسزہسپتال کی نئی ایمرجنسیز بنائی جارہی ہیں

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

  • خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز مریضوں میں 2 ماہ 488 افراد کا اضافہ ہوا،اگست 2022 میں تعداد 5ہزار 202 تھی، ستمبر میٰں 5ہزار 690 ہوگئی، دو ماہ میں مزید 4ہزار 4 مرد اور 1301 خواتین موذی مرض میں مبتلا ہوئی ہیں، پشاور کے 50 خؤاجہ سراوں میں ایڈز وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 207 بچوں،128 بچیوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں، پشاور میں3593،کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان میں 1270مریض زیرعلاج ہیں بٹ خیلہ میں 251 مریضوں کا علاج جاری ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق صوبے کے 6 ہسپتالوں میں ایڈز علاج سنٹر قائم کئے گئے ہیں،مریضوں کو مفت ادویات ٹیسٹوں کی سہولت دی جارہی ہے،

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    دوسری جانب وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ٹیسٹنگ اورعلاج نہ ہونا ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات میں بغیر معائنہ کیا ہوا یعنی اَن اسکرینڈ خون کی تھیلیوں کی دستیابی بھی شامل ہے جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے اور ملک میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں

  • صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں  24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہدایت پر محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے صحت سہولت کارڈ سے متعلق اعدادوشمارجاری کردئیے

    اعدادوشمارکے مطابق ابھی تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائدافراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرلی ہے۔ابھی تک پنجاب کی عوام تقریبا 54 ارب 63 کروڑ روپے سے زائد کے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرچکے ہیں۔ صوبائی سیکرٹری صحت عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ پنجاب کی عوام کو صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے 794 سرکاری ونجی ہسپتالوں کو منتخب کیاگیا ہے۔ صوبہ بھر کی عوام صحت سہولت کارڈکے ذریعے187 سرکاری و 607 نجی ہسپتالوں سے علاج معالجہ کی مفت سہولت حاصل کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پنجاب میں ابھی تک 5 لاکھ 26 ہزارسے زائد افراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت ڈائیلسز کروائے ہیں۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    پنجاب میں ابھی تک 54ہزار9سو سے زائدافراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت کورونری انجیوگرافی کی سہولت حاصل کی ہے۔عمران سکندربلوچ نے کہا کہ پنجاب میں ابھی تک صحت سہولت کارڈکے ذریعے 50 ہزار 400 سے زائد خواتین نے نارمل ڈلیوری جبکہ 2 لاکھ 9 ہزار سے زائد خواتین نے سیزیرین آپریشن کی مفت سہولت حاصل کی ہے۔ پنجاب میں ابھی تک 35 ہزار 800 سے زائد افرادنے صحت سہولت کارڈکے ذریعے ہرنیہ کے مفت آپریشن کروائے ہیں۔

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    پنجاب میں ابھی تک 35 ہزار 800 سے زائدافرادنے ابھی تک صحت سہولت کارڈکے ذریعے کیموتھراپی کی مفت سہولت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں اب تک 27 ہزار سے زائدافراد صحت سہولت کارڈکے ذریعے انجیوپلاسٹی کی مفت سہولت حاصل کرچکے ہیں۔ پنجاب میں اب تک 1 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد آنکھوں کے مفت آپریشن کروا چکے ہیں۔صوبائی سیکرٹری صحت عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ صحت سہولت کارڈکے ذریعے پنجاب کی عوام کو زیادہ سے زیادہ علاج معالجہ کی مفت سہولت فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ڈینگی کے مریض بھی اب صحت سہولت کارڈکے ذریعے پنجاب کے منتخب سرکاری ونجی ہسپتالوں سے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کررہے ہیں۔

  • پولیو ورکرز پاکستان کے اصل ہیرو ہیں،سی ای او گاوی

    پولیو ورکرز پاکستان کے اصل ہیرو ہیں،سی ای او گاوی

    برلن: گلوبل الائنس فار ویکسینز اینڈ امیونیزیشن (گاوی) کے سی ای او ڈاکٹر سیٹھ برکلے نے پاکستان کے پولیو ورکرز کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گاوی کے سی ای او ( Dr Seth Berkley ) نے عالمی ادارہ صحت کے زیراہتمام برلن میں پولیو کے خاتمے سے متعلق منعقدہ کانفرنس کے دوران پاکستانی پولیو ورکرز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہا کہ پولیو ورکرز ہی ملک کے اصل ہیرو ہیں۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    عالمی ادارہ صحت کے زیراہتمام برلن میں پولیو کے خاتمے سے متعلق منعقدہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل نے کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ 27 سے زائد پولیو ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کی مہم کی دوران اپنی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں حالیہ بدترین سیلاب کے باوجود حکومت پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لیے کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے شرکائے کانفرنس سے خطاب کے دوران دعویٰ کیا کہ ہم پولیو کے خاتمے کے بالکل قریب ہیں، دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو۔

    عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب نے گلوبل پولیو کے خاتمے کے لیے ایک کروڑ ڈالرز، آسٹریلیا نے 43.55 ملین ڈالرز، بل گیٹس نے 1.2 بلین ڈالرز، فرانس نے 50 ملین یوروز اور کوریا نے 3.2 ملین ڈالرز دینے کے اعلانات کیے ہیں۔

    دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

  • جنرل ہسپتال سے ڈاکٹر کا روپ دھارنے والا نوسر باز گرفتار

    جنرل ہسپتال سے ڈاکٹر کا روپ دھارنے والا نوسر باز گرفتار

    جنرل ہسپتال سے ڈاکٹر کا روپ دھارنے والا نوسر باز پولیس کے حوالے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی میو ہسپتال کے بعد جنرل ہسپتال میں بھی جعلی ڈاکٹر پکڑا گیا،جنرل ہسپتال انتظامیہ ان ایکشن، ڈاکٹر کا روپ دھار نے والے نوسر باز کو رنگے ہاتھوں دھر لیا۔ سیکورٹی سپروائزر علی کے مطابق گزشتہ روز ڈی ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر صارم کو آؤٹ ڈور میں ایک شخص پر شک گزرا جس نے سفید اوورکوٹ زیب تن کیا ہوا تھا اور مریضوں کو چیک کروانے میں مصروف تھا۔

    ڈی ایم ایس نے مذکورہ شخص سے سوال جواب کئے تو وہ گھبرا گیا اور رفو چکر ہونے کی کوشش کی جسے سیکورٹی اہلکاروں نے دبوچ لیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران نوسر باز نے اپنا نام محمد شعیب ولد محمد اسحاق، للیانی کا رہائشی بتایا۔ انتظامیہ نے قانونی کاروائی کیلئے نوسرباز ڈاکٹر کو پولیس چوکی جنرل ہسپتال کے حوالے کر دیا ہے۔

    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ جعلی ڈاکٹر کیسے پہنچا اور وہ ہسپتال میں کیا کر رہا تھا، اسکی تحقیقات ہونی چاہئے کیا جعلی ڈاکٹر کسی گھناؤنے مقصد کے لئے تو ڈاکٹر نہیں بن کر آیا، ہسپتال عملے کی لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے تا ہم یہ بھی خوش آئند ہے کہ ملزم کو جلد پکڑ لیا گیا ہے، ہسپتال میں داخل مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے جرائم پیشہ عناصر سےکسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کرنی چاہئے،

    قبل ازیں چند روز قبل میو ہسپتال سے جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے.جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے، ملزم سفید اوورآل اور سٹیتھو سکوپ لگا کر مریض چیک کر رہا تھا ملک کاشان کرامت ولد محمد صدیق شاہدرہ کا رہا ئشی ہے۔ تھانہ گوالمنڈی نے زیر دفعہ 170، 171 419 ت پ مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ ملزم کو میو ہسپتال کے سیکورٹی عملہ نے پکڑا۔ ڈاکٹر منیر احمد ملک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال نے عبدالروف سپروائزر اور عملہ کو شاباش دی

    ڈاکٹر منیر احمد ملک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال لاہور کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال کا اپنا سسٹم بہتر ہے جس سے اس قسم کے واقعات کی بروقت کاروائی اور روک تھام ہوئی ہے۔ چوریاں بھی کم ہوئی ہیں۔ اس سے قبل میو ہسپتال کے سیکورٹی عملہ نے ادویات کی چوری کو بھی پکڑا تھا۔ تمام جرائم سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

  • ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 32 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اب تک کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا ہے. قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری ٹویٹ میں شیئر کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24گھنٹوں کے دوران 7 ہزار 597 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 32 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں. اسیطرح مثبت کیسز کی شرح 0.42 فیصد رہی ہے۔


    مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 40 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ یونیسف کے مطابق؛ کورونا وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ فصلوں کی باقیات جلانے والے کسانوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم
    آٹھ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا ڈراپ سین،والد لینا چاہتا تھا مخالفین سے دشمنی کا بدلہ
    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی
    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    سویڈن: ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں بعض اقسام کے پروٹین امراض اور جان لیوا کیفیات کی وجہ بھی بن سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سویڈن کے سائنسدانوں نے 4000 افراد پر مسلسل 22 سال تک تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ جن افراد میں پروسٹیسن پروٹین کی مقدار زائد ہوتی ہے ان میں ذیابیطس کی شرح 76 فیصد اور کینسر کی شرح یا اس سے مرنے کا رحجان 43 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    اس سے قبل ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ پروسٹیسن جسمانی جلد کے ایپی تھیلیئل خلیات میں پائے جاتے ہیں اور یوں ان میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اب اگر ذیابیطس اور پروسٹیسن بڑھ جائے تو اس کے بعد کینسر سےمرنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں تحقیق کے نتائج یورپی ایسوسی ایشن کے جریدے ای اے ایس ڈی میں شائع ہوئے۔

    تحقیقی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پروسٹاسن نامی پروٹین کی بلند سطح رکھنے والے افراد میں سرطان کے باعث مر جانے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں عمر، جنس، کمر کی چوڑائی، شراب نوشی اور تمباکو نوشی کے نمونوں، ایل ڈی ایل، سسٹولک بلڈ پریشر اور اینٹی ہائپر ٹینشن ادویات جیسے اہم عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس کےبعد ہی کہا ہے کہ پروسٹیسن پروٹین کی زیادہ مقدار بہت نقصان دہ ہوسکتی ہے-

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    محققین کا کہنا ہے کہ تمام تر عوامل کا جائزہ لینے کے بعد بھی حیرت انگیز طور پر پروسٹیسن نامی پروٹین کے باعث کینسر سے موت کے خدشات یکساں رہے سویڈن میں یہ تحقیق سال 1993 میں شروع ہوئی تھی جسے لیونڈ یونیورسٹی کےماہرین نے انجام دیا تھا جسے اپنی نوعیت کا آج تک کا سب سے جامع تجزیہ قرار دیا جارہا ہے-

    اس طرح ذیابیطس اور کینسر کی ایک نئی وجہ سامنے آئی ہے ذیابیطس اور کئی اقسام کے سرطان مثلاً آنتوں کے کینسر اور بریسٹ کینسر کے درمیان بھی تعلق دیکھا گیا ہے۔ پھر ذیابیطس سے لبلبے اور جگر کے سرطان کا خطرہ بھی دوگنا ہوسکتا ہے اور اس تعلق پر مزید غورکرنا باقی ہے۔

    تحقیق میں شامل پروفیسر گنار اینگسٹروئم کہتے ہیں کہ تحقیق سے ہمیں پروٹین پرغور کرنے سے ہم کینسر اور ذیابیطس کو مزید سمجھنے اور علاج کے قابل ہوسکیں گے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق