Baaghi TV

Category: صحت

  • ڈینگی وائرس کنٹرول سے باہر: پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ڈینگی وائرس کنٹرول سے باہر: پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    لاہور: ڈینگی کی روک تھام کے لیے پنجاب بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈینگی وائرس کی روک تھام کے لئے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لئے شہری میاں صابر نے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

    درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ حکومت نے ڈینگی کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے، حکومت کی جانب سے ڈینگی اسپرے بھی نہیں کروایا گیا، عدالت حکومت کو فوری ڈینگی اسپرے کروانے کے احکامات جاری کرے اور صوبے میں فوری ڈینگی پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کروانے کے لیے حکومت کو ہدایات جاری کرے۔

    لاہور کے بعد پشاور میں بھی ڈینگی دوا کی قلت

    خیال رہے کہ ڈینگی اور دوا کی قلت دونوں پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوگیا بخار کی جن دواؤں کی قلت پیدا ہوئی ہے ان کی متبادل دوائیں بھی نایاب ہوگئی ہیں جس کے باعث مریض اور ان کے اہل خانہ پریشان ہیں۔

    چوبیس گھنٹوں میں پنجاب میں ڈینگی سے 371 افراد متاثر ہوئے 283 کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے تاہم اسلام آباد میں ڈینگی کیسز کم ہونے کا رجحان جاری ہے جہاں ایک دن میں 45 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی گزشتہ روز کے پی میں ڈینگی کے 150 سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے، پشاور میں 10 مریض وینٹی لیٹرز پر زیر علاج ہیں-

  • لاہور کے بعد پشاور میں بھی ڈینگی دوا کی قلت

    لاہور کے بعد پشاور میں بھی ڈینگی دوا کی قلت

    لاہور کے بعد پشاور میں بھی ڈینگی بخار کی دوا کی قلت پیدا ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈینگی اور دوا کی قلت دونوں پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوگیا بخار کی جن دواؤں کی قلت پیدا ہوئی ہے ان کی متبادل دوائیں بھی نایاب ہوگئی ہیں جس کے باعث مریض اور ان کے اہل خانہ پریشان ہیں۔

    دوسری جانب چوبیس گھنٹوں میں پنجاب میں ڈینگی سے 371 افراد متاثر ہوئے 283 کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے تاہم اسلام آباد میں ڈینگی کیسز کم ہونے کا رجحان جاری ہے جہاں ایک دن میں 45 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    گزشتہ روز کے پی میں ڈینگی کے 150 سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے، پشاور میں 10 مریض وینٹی لیٹرز پر زیر علاج ہیں-

    ڈینگی کیا ہے ؟اس کی علامات:

    ڈینگی ایک بخار ہے جس کی کچھ عام علامات میں قے، شدید سر درد، متلی، خارش، جوڑوں کا درد، پٹھوں میں درد، آنکھوں میں درد اور سوجن شامل ہیں۔

    علامات کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو تھکاوٹ، قے میں خون، مسلسل قے، مسوڑھوں سے خون بہنا، بے چینی اور پیٹ میں شدید درد جیسے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈینگی کا کوئی خاص علاج دستیاب نہیں ہے، علاج میں فی الحال علامات کو سنبھالنا شامل ہے۔

    ڈینگی بخار میں مفید غذائیں:

    میتھی:

    میتھی ایک طاقتور درد کش دوا ہیں۔ آپ اسے رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور اگلی صبح وہ پانی پی لیں، اس سے آپ کو ڈینگی بخار سے جلد صحتیاب ہونے میں مدد ملے گی۔

    موسمی کا جوس:

    ہم سب جانتے ہیں کہ وٹامن سی قوت مدافعت بڑھانے میں حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ موسمی کا جوس پینے سے آپ کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور آپ کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد ملے گی۔

    نیم کے پتے:

    نیم کے پتے اپنی دواؤں کی خصوصیات کے لیے مشہور ہیں، یہ جسم میں وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ سفید خون کے پلیٹلیٹ کی تعداد کو بڑھانے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ آپ نیم کے کچھ پتوں کو پانی میں پیس سکتے ہیں اور اس کا پانی پی سکتے ہیں۔

    پپیتے کے پتے:

    پپیتے کے پتے ڈینگی بخار کے علاج کے لیے بہترین علاج ہیں۔ یہ ان علامات کو دور کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور پلیٹلیٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آپ اس کے پتوں کو پیس کر دن میں دو بار پی سکتے ہیں۔

    ناریل پانی:

    ڈینگی الٹی کا باعث بن سکتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو پانی کی کمی ہوسکتی ہے، اس سے بچنے کے لیے آپ اپنی غذا میں ناریل کا پانی شامل کر سکتے ہیں۔

  • ڈینگی کیسز میں کمی مگر پولیس اہلکاروں میں ڈینگی تیزی سے پھیلنے لگا

    ڈینگی کیسز میں کمی مگر پولیس اہلکاروں میں ڈینگی تیزی سے پھیلنے لگا

    ڈینگی کیسز میں کمی مگر پولیس اہلکاروں میں ڈینگی تیزی سے پھیلنے لگا

    ڈینگی مچھر سے 5 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف تحریک التواء پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی

    تحریک التواء مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت کی جانب سے جمع کرائی گئی۔ جس کے متن میں کہا گیا کہ ناقص سپرے ،گندے واش روم تھانوں میں ڈینگی وائرس سے پولیس اہلکاروں کی زندگیاں غیر محفوظ ہوگئیں ،افسران کی بجائے پولیس اہلکار سب سے زیادہ ڈینگی مچھر سے متاثر ہو رہے ہیں ڈینگی کے باعث لاہور پولیس کے 5 اہلکار زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تھانوں میں صفائی کے ناقغ انتظامات کے باعث ڈینگی کی افزائش ہورہی ہے۔ ڈینگی سے مرنے والوں میں لایور پولیس کے 4 کانسٹیبل اور ایک ہیڈ کانسٹیبل محمد ارشد شامل ہیں۔ پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق ڈینگی سے متاثر ہونے والے اہلکاروں کی مجموعی تعداد 225 ہے۔ ان میں 130 ٹریفک وارڈن بھی شامل ہیں۔ تھانوں کے واش روم میں صفائی کے نامناسب انتظامات کے باعث پولیس اہلکاروں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے

    دوسری جانب گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے ڈینگی کے 371 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز لاہور سے ڈینگی کے 283 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔گذشتہ روز راولپنڈی سے ڈینگی کے 21، گوجرانوالہ میں 13 جبکہ قصور میں 2 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ گذشتہ شیخوپورہ اور سیالکوٹ میں 7 سات جبکہ ملتان اور سرگودھا سے ڈینگی کے 6 چھ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز فیصل آباد اور اٹک میں 4 چار، حافظہ آباد میں 3 جبکہ قصور اور خانیوال میں 2 دو مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ رواں سال پنجاب بھر سے اب تک ڈینگی کے کیسز کی تعداد 20,558 ہو چکی ہے۔ رواں سال لاہور سے اب تک ڈینگی کے 14​872 کیسز سامنے آئے ہیں۔رواں سال پنجاب بھر میں ڈینگی بخار کے باعث 86 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ گذشتہ روز پنجاب میں ڈینگی بخار کے باعث 3 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ گذشتہ روز ڈینگی بخار سے ہلاک ہونے والے 1فرد کا تعلق گوجرانوالہ جبکہ 2 افراد کا تعلق لاہور سے تھا صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 1،993 مریض داخل ہیں۔ لاہور کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 1,357 مریض داخل ہیں۔ لاہور کے علاوہ صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 636 مریض داخل ہیں۔پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں اس وقت ڈینگی کے لئے 5,512 بستر مختص کئے گئے ہیں۔

    ڈینگی کے مریضوں کی آسانی کیلئے لاہورکے ٹیچنگ ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیادپر بستروں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔پنجاب میں ڈینگی کےلئے مختص کئے گئے 1,193 بستروں پر مریض زیر علاج ہیں۔لاہور میں ڈینگی کےمختص کئے گئے 1,357 بستروں پر مریض زیر علاج ہیں۔ گذشتہ روز محکمہ صحت کی ٹیموں نے پنجاب بھر میں 37,1767 ان ڈور مقامات کو چیک کیا۔ گذشتہ روز پنجاب بھر میں محکمہ صحت کی ٹیموں نے 87,545 آؤٹ ڈور مقامات کوچیک کیا.گذشتہ روز پنجاب بھر میں 956 ان ڈور اور آوٹ ڈور مقامات سے لاروا تلف کیا گیا۔ گذشتہ روز محکمہ صحت کی ٹیموں نے لاہور میں 57،171 ان ڈور مقامات کو چیک کیا۔ گذشتہ روز محکمہ صحت کی ٹیموں نے لاہور میں 8,686 آؤٹ ڈور مقامات کوچیک کیا. گذشتہ روز لاہور میں 728 ان ڈور اور آوٹ ڈور مقامات سے لاروا تلف کیا گیا۔

    دوسری جانب لاہور میں فضائی آلودگی میں اضافے کا معاملہ مسلم لیگ(ن) نے لاہور میں مصنوعی بارش کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے لاہور میں ایئر کوالٹی انڈکس اسوقت 468پر پہنچ چکا ہے شہریوں کو سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ایئر کوالٹی میں اضافہ ماہرین نے خطرے کی علامت قرار دے دیا ہے اے کیو آئی 200سے تجاوزکرجائے تو خطرے کی گھنٹی بچ جاتی ہے لیکن لاہور کا ایئر کوالٹی انڈکس اب 468تک پہنچ چکا ہے لاہور شہر میں فوری طور پر مصنوعی بارش کی جائے

    ٹرمپ میرے خواب میں آئے ،بھارتی شہری نے ٹرمپ کے دورہ بھارت سے قبل ایسا کام کیا کہ سب حیران

    متنازعہ شہریت بل پر امریکا میدان میں آ گیا،ٹرمپ کریں گے مودی سے کشمیر، شہریت بل پر بات

    ٹرمپ کا کریں گے بھارتی فنکار استقبال،28 سٹیج تیار، طلبا کیا کریں گے؟ ڈیوٹی لگا دی گئی

    بھارت میں کھڑے ہوکر ٹرمپ نے پاکستان بارے ایسا کیا کہہ دیا کہ مودی کو پسینے چھوٹ گئے

    ٹرمپ کو ویلکم کرتے وقت مودی نے ایسے نام سے پکارا کہ ٹرمپ منہ دیکھتے رہ گئے، دیا کھرا جواب

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی کا ڈنگ تیز، ہسپتال بھر گئے

    لاہور میں ڈینگی کیسز کی شرح میں کمی

  • سندھ: ڈینگی کے وار جاری،مزید 24 کیسز رپورٹ

    سندھ: ڈینگی کے وار جاری،مزید 24 کیسز رپورٹ

    سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 55 ڈینگی کے کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 24 کیسوں کا تعلق کراچی سے ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ کے مطابق24گھنٹوں کے دوران حیدرآباد میں 25، مٹیاری اور عمرکوٹ میں 2،2، تھرپارکر اور گھوٹکی میں ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا، سندھ بھر میں ماہ نومبر میں 501 کیس رپورٹ کیے گئے ہیں، سندھ میں اکتوبر میں 1864 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    سندھ میں ماہ ستمبر میں ڈینگی کے 603 کیس رپورٹ ہوئے، سندھ میں جنوری تا اگست ڈینگی کے 1365کیس رپورٹ ہوئے تھے، سندھ میں رواں سال ڈینگی کے کیسوں کی تعداد 4209 سے تجاوز کرچکی ہے، رواں سال سندھ میں ڈینگی کے باعث اب تک 15 اموات ہوچکی ہیں۔

    ڈینگی کیا ہے ؟اس کی علامات:

    ڈینگی ایک بخار ہے جس کی کچھ عام علامات میں قے، شدید سر درد، متلی، خارش، جوڑوں کا درد، پٹھوں میں درد، آنکھوں میں درد اور سوجن شامل ہیں۔

    علامات کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو تھکاوٹ، قے میں خون، مسلسل قے، مسوڑھوں سے خون بہنا، بے چینی اور پیٹ میں شدید درد جیسے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈینگی کا کوئی خاص علاج دستیاب نہیں ہے، علاج میں فی الحال علامات کو سنبھالنا شامل ہے۔

    ڈینگی بخار میں مفید غذائیں:

    میتھی:

    میتھی ایک طاقتور درد کش دوا ہیں۔ آپ اسے رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور اگلی صبح وہ پانی پی لیں، اس سے آپ کو ڈینگی بخار سے جلد صحتیاب ہونے میں مدد ملے گی۔

    موسمی کا جوس:

    ہم سب جانتے ہیں کہ وٹامن سی قوت مدافعت بڑھانے میں حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ موسمی کا جوس پینے سے آپ کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور آپ کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد ملے گی۔

    نیم کے پتے:

    نیم کے پتے اپنی دواؤں کی خصوصیات کے لیے مشہور ہیں، یہ جسم میں وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ سفید خون کے پلیٹلیٹ کی تعداد کو بڑھانے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ آپ نیم کے کچھ پتوں کو پانی میں پیس سکتے ہیں اور اس کا پانی پی سکتے ہیں۔

    پپیتے کے پتے:

    پپیتے کے پتے ڈینگی بخار کے علاج کے لیے بہترین علاج ہیں۔ یہ ان علامات کو دور کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور پلیٹلیٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آپ اس کے پتوں کو پیس کر دن میں دو بار پی سکتے ہیں۔

    ناریل پانی:

    ڈینگی الٹی کا باعث بن سکتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو پانی کی کمی ہوسکتی ہے، اس سے بچنے کے لیے آپ اپنی غذا میں ناریل کا پانی شامل کر سکتے ہیں۔

  • 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں ویکسین ضرور لگوائیں۔ ثاقب منان

    12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں ویکسین ضرور لگوائیں۔ ثاقب منان

    فیصل آباد(عثمان صادق)سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب ثاقب منان نے ہدایت کی کہ ریچ ایوری ڈور(ریڈ)کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں بھی 12 سال سے زائد عمر کے رہ جانے والے افراد کو ویکسین لگانے کے لئے ٹیمیں سرگرم عمل رہنی چاہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ویکسینیٹ ہونے سے وباء کی روک تھام یقینی ہو۔انہوں نے یہ ہدایت ڈی سی آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ریڈ مہم کے اہداف پر بریفنگ دی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹرکاشف محمود،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز امداد اللہ چوہدری، سیکرٹری آرٹی اے محمد سروراور محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے مہم کے اہداف اور حاصل کردہ ٹارگٹس کا تفصیلی جائزہ لیا اور سرکاری ونجی سکولوں وکالجوں میں طالب علموں کی کوریج کو تیز کرنے کی تاکید کی۔انہوں نے آؤٹ ریچ اور فکسڈ ٹیموں کو متحرک رکھنے اور ابھی تک کم پروفارمنس والے علاقوں پر فوکس کرکے ہدف حاصل کرنے کی ہدایت کی۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے بتایا کہ ضلع میں ریڈ مہم تیز رفتاری سے جاری ہے اور اب تک مہم کے دوران ساڑھے 7 لاکھ افراد کی کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کی جاچکی ہے جبکہ مہم کے اختتام تک 10 لاکھ افراد کی ویکسینیشن ہوجائے گی جبکہ مہم سے قبل بھی ویکسینیشن کا عمل بلا تعطل جاری تھا اور 12 نومبر تک ضلع میں مجموعی طور پر 50 لاکھ افراد ویکسینٹ ہوجائیں گے۔انہوں نے میڈیا کے توسط سے عوام الناس سے پرزور اپیل کی کہ رہ جانے والے افراد اپنی قومی ذمہ داری اداکرتے ہوئے ویکسین لگوائیں کیونکہ کورونا ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ریڈ کمپین کے دوران ضلع زیادہ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگوانے کے حوالے سے ٹاپ اضلاع میں شامل ہے جس کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے انتظامیہ کو تاکید کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے بتایا کہ ضلع کے 48 سرکاری اور 85 نجی کالجز کے تمام طالب علموں کو تقریبا دونوں ڈوزلگ چکی ہیں تاہم فرسٹ ایئر اور تھرڈ ایئر میں داخلہ کے لئے اپلائی کرنے والوں (ویکسینیشن نہ ہونے کے حامل) کو فیس ووچر دینے سے قبل ویکسین لگائی جارہی ہے۔بعدازاں سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے محلہ شریف پورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاکر آؤٹ ریچ وفکسڈ ٹیموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔

  • والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد

    والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد

    فیصل آباد(عثمان صادق)ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کہا ہے کہ والدین صحت مند معاشرے کے قیام کے سلسلے میں 15 نومبر سے شروع ہونے والی خسرہ روبیلا کیچ اپ مہم میں 9 ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگواکر بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں۔مہم کی کامیابی کے سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل ہیں تاہم میڈیا نمائندگان والدین کو بچوں میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کیلئے خسرہ وروبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن لازمی کرانے کا پیغام عام کریں تاکہ قوم کے مستقبل کی صحت کا تحفظ یقینی ہوسکے۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کے اشتراک سے ”خسرہ وروبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم میں ذرائع ابلاغ کے کردارو ذمہ داری“پر منعقدہ مشاورتی سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر کامران رشید، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر کاشف محمود،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،یونیسف کی ریجنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر سرینا،ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر مدثر،پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ سے ڈاکٹر مشتاق،چیئرمین پرائیویٹ سکولز الائنس صداقت لودھی، ہیلتھ ایجوکیشن آفیسر شفیق احمد آصف اور محکمہ صحت کے دیگر افسران کے علاوہ میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ والدین میں ان کے بچوں کوخسرہ اورروبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے میڈیا اپنا اہم اور جاندار کردار اداکرے کیونکہ لوگ ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دیگر آگاہی پروگرامز کادائرہ بھی وسیع کیا جائے تاکہ ہر والدین میں 9ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسینیشن کرانے کا احساس برقراررہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانا ایک قومی فرض بھی ہے لہذا 15.نومبر سے شروع ہونے والی خصوصی مہم کے سلسلے میں میڈیا سے وابستہ حضرات معاشرے تک یہ ذمہ داری ادا کرنے کا پیغام اجاگر کریں تاکہ تمام بچوں کی ویکسینیشن یقینی ہو۔ڈپٹی کمشنر نے میڈیا ورکشاپ کے انعقاد کو سراہا اور مہم کی کامیابی کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ڈی ایچ او نے ملٹی میڈیا بریفنگ کے ذریعے خسرہ اور روبیلا کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ویکسینیشن لازمی کرانے پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران 2500 ویکسینیٹرز فرائض انجام دیں گے اور33 لاکھ بچوں کو ٹیکے لگانے کے لئے فکس پوائنٹ بنانے کے ساتھ سکولوں میں انتظامات جبکہ ہیلتھ مراکز پر بھی یہ سہولت بلامعاوضہ دستیاب ہوگی۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ مہم کی سو فیصد کامیابی کے لئے تعاون کریں۔عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے نمائندہ نے بتایا کہ اس مہم کے بعد روبیلا کا انجکشن بھی روٹین کے ای پی آئی پروگرام میں شامل ہوگا جبکہ خسرہ کا ٹیکہ پہلے بھی 9 ماہ اور 15 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو لگایا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 15 سال تک کے بچوں کو ٹیکے لگانے کا مقصد نئی نسل کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خسرہ روبیلا مہم کے دوران 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ والدین کو بچوں کی مفت ویکسینیشن کا پیغام پہنچائیں تاکہ وہ قریبی مرکز صحت سے یہ سہولت حاصل کرسکیں۔ڈاکٹر سرینا نے بتایا کہ یونیسف بچوں کی صحت پر خدمات انجام دینے والا عالمی ادارہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ حفاظتی ٹیکہ جات موثر ہیں لہذا والدین کے شک وشہبات دور کرنے کے لئے بھی مہم کو وسیع کیا جائے۔سی ای او ہیلتھ نے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ورکشاپ کے انعقاد کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مہم کے دوران بھی والدین کی آگاہی کے لئے تمام تر تشہیری ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    پاکستان کے کئی شہروں میں ڈینگی کے کیسز بڑھ رہے ہیں جس سے صورتحال تشویشناک ہورہی ہے ڈینگی ایک بخار ہے جو اس وقت ایک وبائی بیماری کی شکل۔اختیار کر چکا ہے یہ بات عام ہے کہ ڈینگی مچھر کی افزائش صاف پانی میں ہوتی ہے لیکن آج کل گندگی کا ڈھیر اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ ہر جگہ مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے پاکستان کے کئی شہروں اور علاقوں میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور اموات واقع ہو رہی ہیں اور یہ عام بیماری مہلک بیماری میں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے –

    ڈینگی بخار کو بریک بون فیور بھی کہتے ہیں کیونکہ اس بخار کے دارون ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے اس سے جسم میں انفیکشن ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر اسحے بروقت کنٹرول نہ کیا جائےتو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اس بخار کا ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہوتا ہے ڈینگی مچھر کے کاٹنے کے بعد اس کی علامات ٣ سے چار دن میں ظاہر ہونے لگتی ہیں وہ علامات درج ذیل ہیں-

    جسم میں ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہونا کمزوری محسوس ہونا جسم میں پانی کی کمی ہونا مستقل بخار رہنا جسم کے اعضاء کا صحیح کام نہ کرنا چکر اُلغی اور متلی آناجس کی کچھ عام علامات میں قے، شدید سر درد، متلی، خارش، جوڑوں کا درد، پٹھوں میں درد، آنکھوں میں درد اور سوجن شامل ہیں اگر ان علامات کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو تھکاوٹ، قے میں خون، مسلسل قے، مسوڑھوں سے خون بہنا، بے چینی اور پیٹ میں شدید درد جیسے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ڈینگی کا کوئی خاص علاج دستیاب نہیں ہے تاہم کچھ موثر گھریلو علاج ہیں جو آپ کو ڈینگی بخار سے تیزی سے صحتیاب ہونے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    موسمی کا جوس:
    وٹامن سی قوت مدافعت بڑھانے میں حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ موسمی کا جوس پینے سے آپ کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور آپ کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد ملے گی۔

    پپیتے کے پتے:
    پپیتے کے پتے ڈینگی بخار کے علاج کے لیے بہترین علاج ہیں یہ ان علامات کو دور کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور پلیٹلیٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد کرتا ہے آپ اس کے پتوں کو پیس کر دن میں دو بار پی سکتے ہیں۔

    ناریل پانی:
    ڈینگی الٹی کا باعث بن سکتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی کمی ہوسکتی ہے، اس سے بچنے کے لیےاپنی غذا میں ناریل کا پانی شامل کر سکتے ہیں۔

    میتھی:
    میتھی ایک طاقتور درد کش دوا ہیں۔ آپ اسے رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور اگلی صبح وہ پانی پی لیں، اس سے آپ کو ڈینگی بخار سے جلد صحتیاب ہونے میں مدد ملے گی۔

    نیم کے پتے:
    نیم کے پتے اپنی دواؤں کی خصوصیات کے لیے مشہور ہیں، یہ جسم میں وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ سفید خون کے پلیٹلیٹ کی تعداد کو بڑھانے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ آپ نیم کے کچھ پتوں کو پانی میں پیس سکتے ہیں اور اس کا پانی پی سکتے ہیں۔

  • خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    خمیر شدہ سویابین کی غذائی مصنوعات سے دمے کی علامات اور شدت میں کمی آتی ہے-

    باغی ٹی وی : تجربات کے دوران چوہوں کو خمیری سویابین سے بنا ہوا ایک غذائی سپلیمنٹ کھلایا گیا جو ’’اِمیوبیلنس‘‘ کے نام سے دستیاب ہے اس سپلیمنٹ میں ’آئسوفلیوونز‘ کہلانے والے اہم غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جنہیں نظامِ ہاضمہ کے علاوہ دماغ اور ہڈیوں کےلیے بھی مفید سمجھا ہے جبکہ یہ کینسر کی بعض اقسام کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    حالیہ برسوں میں کچھ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا تھا کہ سویابین کے استعمال سے دمے کی شدت بھی کم ہوتی ہے، لیکن اس حوالے سے 2015 میں شائع ہونے والی ایک طویل طبّی آزمائش بے نتیجہ ثابت ہوئی۔

    اسی تسلسل میں ریسرچ جرنل ’’نیوٹریئنٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ سویابین والے فوڈ سپلیمنٹ کے استعمال سے چوہوں میں سانس کی نالی میں الرجی کم ہوتی دیکھی گئی تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان نتائج کی انسانوں میں تصدیق ہونا باقی ہے۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    اس کے علاوہ، دمے سے متعلق خون کے سفید خلیات (اِیوسینوفلز)، پھیپھڑوں کی رگوں میں سوزش اور بلغم بننے کی مقدار میں بھی کمی کا مشاہدہ ہوا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دمہ اور سانس کی دیگر تکالیف میں خمیر شدہ سویابین میں شامل فائبرز کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس حوالے سے انہوں نے مزید محتاط اور فیصلہ کن انسانی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دمے کی صورت میں سویابین کے فوائد کی حتمی طور پر تائید یا تردید ہوسکے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    دمہ کیا ہے ؟
    دمہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو آپ کے پھیپڑوں پر اثر انداز ہو تی ہے۔ دمہ کی سب سے عام علامت سانس سے سیٹی کی آوازوں کا نکلنا ،کھانسی ہونا اور سانس لینے میں دشواری پیش آنا ہے،یہ علامتیں صحت کے کسی اور مسئلے کے باعث بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے پہلی مرتبہ آپکے ڈاکٹر کے لئے اس مرض کی تشخیص تھوڑی مشکل ہو گی،بالخصوص شیر خوار اور بہت چھوٹے بچوں میں۔

    دمہ آپ کےپھپھڑے عمر بھر کے لئے متاثر کر سکتا ہے۔ کبھی تو آپ اس سے نجات پر سکون محسوس کریں اور کبھی آپ کی حالت دمہ کے باعث بہت خراب ہو جائے گی۔

    دمےکے شناخت کی کئی علامتیں ہیں جیسےسانس لیتے وقت سیٹی کی آواز آنا، کھانسی،سانس پھولنا، سینے کا درد،نیند میں بے چینی یا پریشانی ہونا،تھکان اور بچوں کو دودھ پینے میں تکلیف ہونا وغیرہ۔اندرونی وبیرونی الرجی،دھول مٹی ،موسم کی تبدیلی اورسانس کی نالیوں میں انفیکشن سے دمہ اور بیڑی سگریٹ کے استعمال اورہوائی آلودگی ۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    دمے کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے مگر اسے مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔جسمانی جانچ اور میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے سے دمے کی پہچان ہوتی ہے۔خون کی جانچ،ایکسرے،خون میں آکسیجن کی مقدار ،پھیپھڑوں کی حرکت کی جانچ،اسپائرومیٹری اور الرجی ٹیسٹ کے ذریعے دمے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

    دمے کی روک تھا م دو طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ایک علاج اور دوسرے احتیاط سے۔احتیاط یہ ہے کہ مریض کو اپنے روزمرہ کے معمولات تبدیل کرنا ہوں گے۔اگر وہ کسی بھی قسم کے نشے کا عادی ہوتو فوراًاسے چھوڑ دے،دھول، مٹی اورفضائی آلودگی سے بچیں اور موسم کی تبدیلی سے نقصان ہوتا ہوتو اس کے لیے محفوظ اقدامات اختیار کریں۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    ساتھ ہی ایک بات یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نہ صرف سگریٹ چھوڑنا ہے بلکہ اسے استعمال کرنے والے افراد کی صحبت سے بھی بچناہوگا ،کیوں کہ اس کا دھواں دوسروں کے لیے بھی مضرہے۔

    دمے کے علاج کے لیے سب سے زیادہ دو چیزیں استعمال ہوتی ہے۔ایک میٹرڈ ڈوز اِن ہیلر اور دوسرے پاؤڈر اِن ہیلر۔ان دواؤں میں امید افزا بات یہ ہے کہ ان کے مضراثرات نہیں ہوتے۔اس لیے کہ اِ ن ہیلر (دمہ کا پمپ)سے دی جانے والی ادویہ کی بہت کم مقدار خون میں شامل ہوتی ہے۔سانس کی نالی جس جگہ خراب ہوتی ہے یہ دوائیں اسی جگہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ اِن ہیلر سانس کی نالیوں کو مزید خراب ہونے سے روکتا ہے۔

    اگر اِن ہیلر بند کردیاجائے اور فوری طور پر آرام کے لیے گولی و انجیکشن کا استعما ل بار بار کیاجائے ،جسے اسٹیرائیڈ کہا جاتا ہےتو ذہن نشین رہے کہ یہ ادویہ خون میں شامل ہوکر مزیدنقصان کا سبب بنتی ہیں ، جیسےہڈیوں کمزور ہونا،دیگراعضائے جسمانی کا متاثر ہونا وغیرہ ۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

  • مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے      نئی تحقیق

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    سویڈن: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ مسلسل بے خوابی سے عین اسی طرح کا فالج ہوسکتا ہے جو تمباکونوشی اور بلند بلڈ پریشر سے لاحق ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : فالج کی ایک قسم نازک دماغی رگ یا رگوں میں خون کا جمع ہونا ہے جس سے رگ غبارے کی طرح پھول جاتی ہے پھر یہ رگ پھٹ جاتی ہے اور ہیمریج یا جریانِ خون لاحق ہوجاتا ہے جو کئی مرتبہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے طبی زبان میں اسے انٹرکرینیئل انیوریزم بھی کہا جاتا ہے۔

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تین فیصد بالغان اس عمل سے گزرتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے صرف ڈھائی فیصد کیسز میں رگ پھٹ پڑتی ہے جسے ہم ایک قسم کا فالج کہہ سکتے ہیں اس میں رگ سے خون بہہ کر دماغ اور کھوپڑی کےدرمیان جمع ہوتا رہتا ہے اور اکثر جان لیوا ہوتا ہے۔

    اسٹاک ہوم میں واقع کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر سوسانہ لارسن اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ دیگر کئی وجوہ میں بے خوابی بھی شامل ہے جو اس خطرے کو بڑھاسکتی ہے۔

    "گھی” جلد کو شفاف اور چمکدار بناتا ہے ،جانئے گھی سے خوبصورتی بڑھانے کا…

    سائنسدانوں نے 6300 اور پھر 4200 کیسز ایسے دیکھے جن کا جینیاتی تعلق تھا یعنی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جریانِ خون والا فالج ہوا تھا محتاط اندازے کےبعد معلوم ہوا کہ 24 فیصد جین کا تعلق اس جین سے نکلا جو نیند کی کمی کی وجہ بنتے ہیں۔

    اس سے قبل بے خوابی اور ہیمریج کے درمیان تعلق سامنے نہیں آیا تھا تاہم اس تحقیق سے اتنا ضرور پتا چلا ہے کہ خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہےتاہم ماہرین نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

    تاہم 2016 میں ہی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک سائنسی جائزے کے بعد کہا گیا تھا کہ نیند کی کمی اور خرابی نیند سے بلڈ پریشر میں اضافہ ضرور ہوسکتا ہے –

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ۔
    2019 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نیورالوجسٹ ڈاکٹر نتالیہ راسٹ کا کہنا ہے کہ بے خوابی اور دل کے دورے کے درمیان تعلق پر یہ سب سے بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق ہےانہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک مکمل نتائج پر نہیں پہنچے لیکن اب تک کی تحقیق کے مطابق نیند پوری کرنا اشد ضروری ہے۔

    بے خوابی کی تین بڑی علامات

    امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے رسالے میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 5 لاکھ چینیوں سے بے خوابی کی تین بڑی علامات کے متعلق سوال کیے گئے۔

    1۔ کیا انہیں نیند آنے اور اسے برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے؟

    2۔ کیا وہ صبح بہت جلدی اٹھ جاتے ہیں اور دوبارہ نہیں سو پاتے؟

    3۔ کیا نیند کی کمی کے باعث وہ دن کو کام پر پوری توجہ نہیں دے پاتے؟

    دس سال بعد ریسرچرز نے تحقیق میں حصہ لینے والوں کے دل کی صحت کا معائنہ کیا، انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد میں یہ تینوں علامات موجود تھیں انہیں دل کی تکلیف کے 22 فیصد امکانات زیادہ تھے جبکہ 10 فیصد کو دل کے دورے کا امکان ان افراد کی نسبت زیادہ تھا جو اچھی نیند لیتے تھے سگریٹ نوشی، جسمانی طور پر متحرک ہونے اور شراب نوشی جیسے معاملات کو بھی اس تحقیق میں شامل کیا گیا پھر بھی نتائج میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

    سائنسدانوں نے ایک ایک سوال کے حوالے سے الگ تحقیقات کیں تو یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ نیند کی کمی کے باعث کام پر توجہ مرکوز نہیں کر سکتے تھے ان میں 13 فیصد کے دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے امکانات تھے۔

    جن افراد نے جلدی اٹھا جانے اور پھر نیند نہ آنے کا جواب ہاں میں دیا تھا ان میں 7 فیصد جبکہ جنہوں نے سونے اور نیند کو برقرار رکھنے میں مشکلات کی شکایت کی تھی ان میں 9 فیصد کو دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کا امکان ان لوگوں کی نسبت زیادہ سامنے آیا جو نیند پوری کرتے تھے۔

    تحقیق کرنے والوں میں شامل پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر لمنگ لی کا کہنا ہے کہ بے خوابی کی علامات اور دل کے دورے کے درمیان تعلق نوجوانوں میں اور نارمل بلڈ پریشر والوں میں اور بھی زیادہ تھا۔

    2017 میں سونے میں مشکلات کے شکار ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کا تجزیہ کیا گیا تھا تو ان میں سے 27 فیصد میں دل کی تکلیف یا دورے کے امکانات پائے گئے تھے۔

    بے خوابی دور کرنے کے آسان ترین ٹوٹکے:

    گرم دودھ اور شہد کا استعمال
    رات کو سونے سے قبل ایک گلاس شہد ملا گرم دودھ بہترین نیند لانے کا زبردست گھریلو ٹوٹکا ہے۔ دودھ میں ایک امینو ایسڈ ٹرائیپٹوفان موجود ہوتا ہے جو ایک ہارمون سیروٹونین کی مقدار بڑھاتا ہے جو دماغ کو نیند کے سگنلز بھیجتا ہے۔ کاربوہائیڈیٹس جیسے شہد اس ہارمون کو تیزی سے دماغ میں پہنچاتے ہیں۔

    نیند دوست ماحول بنانا
    جو لوگ بے خوابی کا شکار ہوں، ان کے لیے پرسکون اور نیند والا ماحول بہتر ثابت ہوتا ہے، اس کے لیے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت تمام تر ڈیوائسز کو کمرے سے باہر یا کم از کم بستر سے دور رکھ دیں، کیونکہ ان پر آنے والے نوٹیفکیشن نیند میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔

    ورزش کو آزمائیں
    اگر کسی قسم کی بے چینی رات کو جگائے رکھتی ہے تو یوگا، مراقبہ یا ڈائری لکھنے کی کوشش کریں، تائی چی بھی ذہنی تناؤ میں کمی لانے والی طاقتور ورزش ہے، ایک تحقیق کے مطابق اس ورزش کی عادت لوگوں کو جلد سلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    سونے کا وقت طے کرلیں
    اگر آپ اکثر رات کو جاگتے رہتے ہیں تو آپ کے آسان ترین گھریلو نسخہ وقت طے کرلینا ہے، یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور صبح اٹھنے کو ترجیح بنالیں، اسی طرح سونے سے قبل مطالعہ یا موسیقی سننا بھی دماغ کو سکون پہنچا کر نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔

    نیم گرم پانی سے نہانا
    ویسے یہ طریقہ گرمیوں میں تو کارآمد نہیں تاہم سردیوں میں سونے سے ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے گرم پانی سے نہانے کی عادت اچھی نیند کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    ادویات کو دیکھیں
    متعدد ادویات نیند پر اثرانداز ہوکر بے خوابی کا باعث بنتی ہیں، اگر آپ کسی مرض کا شکار ہیں اور اکثر آپ کو نیند کا مسئلہ درپیش ہے تو اپنے ڈاکٹر سے بات کرکے ادویات یا ان کی مقدار میں تبدیلی کا مشورہ لیں۔

  • لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی خوفناک حد تک پھیل گیا

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی خوفناک حد تک پھیل گیا

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں سال ڈینگی کے 15 ہزار 789 کیسز سامنے آئے ۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت پنجاب نےبتایا کہ گزشتہ روز لاہورسمیت پنجاب بھرمیں ڈینگی کے 493 کیسز سامنے آئے ، صرف لاہور سے ڈینگی کے 358 کیسز رپورٹ ہوئے ، لاہور میں اب تک 11 ہزار 705 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 51 افراد جاں بحق ہوئے ۔

    راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹے میں مزید 71 افراد ڈینگی میں مبتلا ہوئے جس کے بعد شہر میں ڈینگی متاثرین کی تعداد دو ہزار 311 ہو گئی ، نجی ٹی وی کے مطابق ہولی فیملی ہسپتال میں 27 ، بینظیر بھٹو ہسپتال میں 19 ، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 25 مریض زیر علاج ہیں ۔ الائیڈ ہسپتال کے 274 بستروں پر 208 ڈینگی مریض موجود ہیں ۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔