Baaghi TV

Category: صحت

  • لاہور: ڈینگی شدت اختیار کر گیا، اسپتالوں میں مریضوں سے90 فیصد بیڈز بھر گئے

    لاہور: ڈینگی شدت اختیار کر گیا، اسپتالوں میں مریضوں سے90 فیصد بیڈز بھر گئے

    لاہورمیں ڈینگی کی صورتحال شدت اختیار کر نے لگی سرکاری اسپتالوں میں 90 فیصد تک بیڈز مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایکسپو سینٹرڈینگی فیلڈ اسپتال میں بھی49 مریض داخل ہوگئے ہیں 3 روز میں ڈینگی کے500 سے زائد مصدقہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں گزشتہ24 گھنٹوں میں پنجاب بھر میں 262 جبکہ لاہور میں184 مریض رپورٹ ہوئے۔

    بڑھتے کیسز کے پیش نظر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ایکسپوسنٹر میں 280 بیڈز پر مشتمل ڈینگی فیلڈ اسپتال فعال کر دیا ہے جناح، گنگارام اور جنرل اسپتال میں مریضوں کے لئے کوئی بیڈ موجود نہیں، دیگر اسپتالوں میں بھی ڈینگی کیلئے مختص کیے گئے بیڈ 90 فیصد تک بھر چکے ہیں۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ شہری پہلے ریسکیو ہیلپ لائن پر کال کریں اور پھر کسی اسپتال جائیں، تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے محکمہ صحت کے مطابق ایکسپو سینٹر میں سی بی سی سمیت تمام علاج معالجہ مفت ہے، جبکہ نجی لیبارٹریز کو ڈینگی مشتبہ مریضوں کا ٹیسٹ90 روپے میں کرنے کا مراسلہ جاری کر رکھا ہے۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں –

    پنجاب میں ڈینگی کے مزید 73 کیسز رپورٹ

  • ورزش سے  کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا       تحقیق

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : نئی تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش سے انسانی جسم میں میوکائنز جیسے پروٹین کا اخراج بڑھ جاتا ہے جس سے کینسر کی رسولیاں سکڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔

    پین اسٹیٹ یونیورسٹی میں کینسر میں مہارت رکھنے والے پبلک ہیلتھ کی پروفیسر کیتھرین شمٹز کا خیال ہے کہ ورزش اور کینسر کے مابین تعلقات کا تصور وہ جگہ ہے جہاں ورزش اور دل کی صحت کے درمیان تعلقات کا تصور کئی دہائیوں پہلے تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ،مریض کو بستر سے باہر نکالنا اور ہارٹ اٹیک کے بعد حرکت کرنا نقصان دہ سمجھا جاتا تھا آج دل کی صحت اور صحت یابی کے لیے ورزش کے فوائد مشہور ہیں۔

    شمٹز نے ہیلتھ لائن کو بتایا ، "آج اگر آپ نے آنت کے کینسر میں مبتلا کسیشخص سے پوچھا کہ اگر اسے ورزش کرنی چاہیے تو وہ شاید نہیں کہیں گے یا نہیں جانتے۔”

    شمٹز نے گول میز کی مشترکہ صدارت کی-جس میں امریکن کالج آف اسپورٹس میڈیسن ، امریکن کینسر سوسائٹی ، اور 15 دیگر گروپس کے ماہرین شامل تھے-جنہوں نے نئی رہنمائی کی۔

    اس ہفتے تین مقالوں میں شائع ہونے والی رہنمائی کا خلاصہ یہ ہے کہ ورزش مثانے ، چھاتی ، بڑی آنت ، غذائی نالی ، گردے ، معدہ اور بچہ دانی کے کینسر کی روک تھام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    ہدایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ ورزش چھاتی ، بڑی آنت اور پروسٹیٹ کینسر کے لوگوں کی بقا کی شرح کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے – نیز کینسر کے علاج کے مضر اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے ان لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر کر سکتی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ کینسر کے علاج سے گزر رہے ہیں اگر وہ ہمت کر کے علاج کے ساتھ ورزش بھی شروع کر دیں تو وہ تیزی سے کینسر پر قابو پا سکتے ہیں –

    کتنی ورزش کرنی چاہیئے؟

    محققین تجویز کرتے ہیں کہ کینسر میں مبتلا افراد ہفتے میں 3 بار 30 منٹ ایروبک ورزش اور ہفتے میں 2 سے 3 بار پٹھے مضبوط کرنے والی ورزش کریں-

    ماہرین نے تحقیق کے لیے پروسٹیٹ کینسر کے 10 مریضوں کو 12 ہفتوں تک ورزش کے عمل سے گزارا جس میں ایئروبِک اور پٹھے مضبوط کرنے والی ورزشیں شامل تھیں۔

    ورزش کے ساتھ مریضوں کی خوراک کا بھی خیال رکھا گیا جس میں پروٹین سپلیمنٹ اور کم کیلوری والی غذائیں دی گئیں ان سب کا مقصد خون میں میوکائنز کی سطح معلوم کرنا تھا جو پٹھے بنانے والا ایک ہارمون ہے جو ورزش کے دوران جسمانی ڈھانچے سے خارج ہوتا رہتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ میوکائن کا اخراج سرطان کو روکنے کے ساتھ اسے پھیلنے سے بھی روکتا ہے تین ماہ کی ورزش سے جسم میں میوکائنز بڑھ جاتے ہیں جس کی تصدیق خون کے ٹیسٹ میں ہوئی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ مائیوکائنز کینسر کے خلیات کو نہیں مارتے لیکن وہ جسم کے دیگر خلیات کو کینسر کی رسولیوں کو کم کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

  • مغربی افریقہ : کورونا کے بعد ایک اورمہلک ماربرگ وائرس کی تصدیق، عالمی ادارہ صحت

    مغربی افریقہ : کورونا کے بعد ایک اورمہلک ماربرگ وائرس کی تصدیق، عالمی ادارہ صحت

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ماربرگ وائرس کی بیماری ایک انتہائی خطرناک بیماری ہے جو ہیمرجک بخار کا سبب بنتی ہے ، جس میں اموات کا تناسب 88 فیصد تک ہے۔ یہ بیماری وائرس کے اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس کا وائرس ایبولا کا سبب بنتا ہے اور یہ ایک مہلک اور انتہائی متعدی بیماری ہے-

    باغی ٹی وی : ڈبلیو ایچ او کے مطابق جرمنی کے ماربرگ اور فرینکفرٹ اور 1967 میں سربیا کے بلغراد میں بیک وقت پائے جانے والی دو بڑے وبائیں اس بیماری کی ابتدائی پہچان کا باعث بنے۔ یہ وباء یوگنڈا سے درآمد شدہ افریقی سبز بندروں (Cercopithecus aethiops) کا استعمال کرتے ہوئے لیبارٹری کے کام سے وابستہ تھی۔ اس کے بعد ، انگولا ، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو ، کینیا ، جنوبی افریقہ اور یوگنڈا میں وباء اور چھٹپٹ کیس رپورٹ ہوئے ہیں 2008 میں ،دو مسافروں میں رپورٹ ہوئے جنہوں نے یوگنڈا میں روزیٹس بیٹ کالونیوں میں آباد ایک غار کا دورہ کیا۔

    ماربرگ وائرس کی بیماری کے ساتھ انسانی انفیکشن کا آغاز ابتدائی طور پر بارودی سرنگوں یا غاروں میں طویل عرصے تک رہنے سے ہوتا ہے جو روسوٹس بیٹ کالونیوں میں آباد ہیں ایک بار جب کوئی شخص وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ، ماربرگ انسان سے انسان میں براہ راست رابطے کے ذریعے (ٹوٹی ہوئی جلد یا چپچپا جھلیوں کے ذریعے) خون ، سراو ، اعضاء یا متاثرہ افراد کے دیگر جسمانی سیالوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ (مثلا بستر ، کپڑے) جو ان سیالوں سے آلودہ ہو-

    ماربرگ ہیمرجک بخار کے پھیلنے اور پیٹروپوڈائی خاندان کے پھل چمگادڑوں کی جغرافیائی تقسیم۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق مغربی افریقہ کے ملک گنی کے حکام نے ماربرگ وائرس کی تصدیق کی ہے جو مغربی افریقہ میں مہلک بیماری کا پہلا کیس ہے۔

    افریقہ میں عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ماتشیدیسو موتی نے کہا تھا کہ ’ماربرگ وائرس کے دور دور تک پھیلنے کے امکانات کا مطلب ہے کہ ہمیں اسے ابتدائی مرحلے پر ہی روکنا ہوگا گنی کے حکام نے اس کیس کی شناخت جنوبی صوبہ گوکیڈو میں کی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس ایڈہارنم گیبریسز نے کہا تھا کہ جس میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے انہوں نے اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ادارے کے ماہرین اس پر کام کر رہے ہیں۔


    بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ ہیمرجک بخار کا سبب بننے والی ماربرگ نامی انتہائی متعدی بیماری کی ملک اور مغربی افریقہ میں شناخت کی گئی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ملک میں ایبولا کی دوسری وبا کے اختتام کے اعلان کے صرف دو ماہ بعد گنی میں یہ دریافت سامنے آئی ہے جو گزشتہ سال شروع ہوئی تھی اور اس نے 12 افراد کی جان لے لی تھی۔

  • لاہور: ڈینگی  شدت اختیار کر گیا ،ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی

    لاہور: ڈینگی شدت اختیار کر گیا ،ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی

    لاہور میں ڈینگی کیسز میں اضافے کے پیش نظر اسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے بچے بھی ڈینگی بخار سے متاثر ہونے لگے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈینگی کیسز میں بڑھتے اضافے کے باعث سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں میں بستر کم پڑنے لگے ہیں اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے مختص بستروں پر بھی ڈينگی کے مریض زيرِ علاج ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب کا تیار کردہ ایکسپو فیلڈ اسپتال اب تک فعال نہیں ہو سکا ہے۔

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ڈینگی شدت اختیار کرنے لگا ہے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1000 سے زائد ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب طبی ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ ڈینگی کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں لہٰذا خدشہ ہےکہ صورتحال 2019 جیسی نہ ہوجائے۔

    ماہرانفیکشن ڈیزیزڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر سعید خان کا کہنا تھا کہ ڈینگی وائرس کی چار اقسام ہیں جن میں ڈین وی ون، ٹو ،تھری اور فورشامل ہیں۔

    ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد سے کم

    ڈاکٹرسعید خان کا کہنا تھا کہ انسانی جسم میں پہلے سے موجود اینٹی باڈیز ڈینگی وائرس کی ڈین وی ٹو قسم کے لیے مفید ثابت ہورہے ہیں اسپتال میں خواتین اور بچے بھی ڈینگی میں مبتلا ہوکر داخل ہورہے ہیں جب کہ پہلے سے ڈینگی کاشکار افراد تیزی سے ڈینگی میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    سعودی عرب :عمرہ کے لئے کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانا لازمی قرار

  • ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈینگی وائرس شدت اختیار کرنے لگا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں ڈینگی شدت اختیار کرنے لگا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی سے 98 شہری متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈی ایچ او کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں دیہی علاقوں میں 73 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ شہری علاقوں میں 25 کیس رپورٹ ہوئے۔

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری ،پشاور میں مزید 371 کیسز رپورٹ

    ڈی ایچ او کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت 1030 افراد ڈینگی کا شکار ہیں، دیہی علاقوں میں 698 افراد ڈینگی کا شکار ہیں جبکہ شہری علاقوں میں کیسز کی تعداد 332 ہے۔

    دوسری جانب ملک کے دیگر شہروں پشاور، لاہور اور کراچی میں بھی ڈینگی کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

    پنجاب میں ڈینگی کے مزید 73 کیسز رپورٹ

  • میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    میتھی دانے کو جہاں خواتین کی صحت اور ہارمونز کے متوازن رکھنے کے لیے انتہائی اہم جز قرار دیا جاتا ہے وہیں اس کے استعمال سے دِنوں میں گرتے بالوں کا علاج بھی ممکن ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق میتھی دانے کا استعمال 12 مہینے کیا جا سکتا ہے، اس کا سفوف بنا کر نیم گرم پانی کے ساتھ ناصرف کھانا مفید ہے بلکہ اس سے بنا قہوہ پینا بھی بے شمار فوائد کے حصول کا ذریعہ ہے۔

    ماہرین غذائیت کے مطابق میتھی دانہ غذائیت، فائبر اور نیوٹرا سیوٹیکل اجزا سے بھرپور جز ہے، اس کے باقاعدگی سے استعمال کے نتیجے میں کئی موسمی بیماریوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    خواتین کے لیے میتھی دانہ کھانے کے حیرت انگیز فائدے

    غذائی ماہرین کے مطابق میتھی دانے میں قدرتی طور پر اینٹی الرجی خصوصیات پائی جاتی ہیں، میتھی دانہ نزلہ، زکام، بے تحاشہ چھینکوں میں خصوصاً ڈسٹ الرجی کے شکار لوگوں اور سانس سے متاثرہ افراد کے لیے انتہائی مفید دوا قرار دی جاتی ہے جبکہ اس کا استعمال چہرے اور بالوں پر براہ راست کرنے کے نتیجے میں خوبصورتی میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

    ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق میتھی دانہ بالوں کی صحت کے لیے نہایت مفید غذا ہے، بال لمبے، گھنے، چمکدار اور ملائم بنانے کے لیے اس کے قہوے کا یا براہ راست استعمال بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ جھڑتے بالوں کو فوراً روکنے اور بالوں کو مضبوط بنانے کے لیے میتھی دانے کا ہیئر ماسک بنا کر بھی لگایا جا سکتا ہے۔

    بالوں سے جُڑی کئی شکایات کا فوری علاج ایک آسان ترین ماسک کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    سر سے خشکی کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

    میتھی دانے سے بنے ماسک کے لیے میتھی دانے کے 2 سے 3 چمچ رات بھر کےلیے سادہ پانی میں بگھو کر رکھ دیں، صبح اسے گرائینڈ کر کے اپنے بالوں کی جڑوں سے سِروں تک لیپ کر لیں، یہ ہیر ماسک زیادہ سے زیادہ صرف 25 سے 30 منٹ کے لیے لگائیں اور بعد ازاں بال اچھی طرح سے دھو لیں۔

    اس عمل کو ہفتے میں صرف 1 سے 2 بار ہی دہرائیں، اس ماسک کے استعمال سے روکھے بالوں میں چند ہی دنوں میں جان آ جائے گی اور بال لمبے اور مضبوط ہونے لگیں گے۔

    میتھی دانہ موسمی وائرس سے محفوظ رکھتا ہے شوگر کے مریضوں کے لئے میتھی دانے کا استعمال خون میں شوگر کی سطح کو نارمل رکھنے کے لیے بہت مفید ہے گیس اور ڈائریا کی تکلیف میں دہی میں ملا کر کھانے سے آرام ملتا ہے

    خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    میتھی دانہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے مفید ہے ڈلیوری کے بعد ہونے والی کمزوریوں میں میتھی دانے کے استعما ل سے بہت فائدہ ہوتا ہے دیہاتوں میں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو اسکے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں یہ ہڈیوں کو محفوظ کرتا ہے

    ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ ایک چٹکی میتھی دانہ کھانے سے ماہواری کے درد سے نجات ملتی ہے ذہنی تناؤ اور سٹریس کم کرنے کے لئے میتھی دانہ لیموں کا رس شہد تلسی کے چند پتے اور دار چینی کا ٹکڑا ایک کپ پانی میں ابال کر ٹھنڈا ہو نے پر پی لیں اس سے ذہنی تنؤ اور اسٹریس کم ہو جاتا ہے-

    میتھی دانہ وزن کم کرتا ہے بالوں کا روکھا پن دور کرتا ہے جگر کی حفاظت کرتا ہے دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے قبض اور پیچش میں آرام پہنچاتا ہے ہارمونز کی بے ترتیبی درست کرنے کے لئے ایک کپ پانی میں ایک چمچ میتھی دانہ ملا کر پی لیں اس کو دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کریں یہ ہارمونز کی ترتیب کے لئے جادو کا کام کرتی ہے

    جاوتری کے صحت پر اثرات

  • ڈبلیو ایچ او نے ملیریا ویکسین کی منظوری دے دی

    ڈبلیو ایچ او نے ملیریا ویکسین کی منظوری دے دی

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ملیریا کے خلاف پہلی ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ روز ویکسین کی توثیق کی ہے جو اس عمل کا پہلا قدم ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے عالمی ملیریا پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پیڈرو الونسو نے کہا کہ ملیریا ویکسین محفوظ ، اعتدال پسند اور تقسیم کے لیے تیار ہے ، اوریہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا نے ملیریا کے خلاف جنگ میں ایک نیا ہتھیار حاصل کیا ہے جو کہ متعدی بیماریوں کی قدیم ترین اور جان لیوا بیماریوں میں سے ایک ہے ایک اندازے کے مطابق بیماری کو روکنے میں پہلی مدد کے لیے دیکھی جانے والی ویکسین ہر سال دسیوں ہزار بچوں کو بچائے گی۔

    ایک اندازے کے مطابق ملیریا ہر سال افریقہ میں پانچ لاکھ افراد کی موت کا باعث بنتا ہے جس میں آدھی تعداد بچوں کی ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر دو منٹ بعد ایک بچہ ملیریا کی وجہ سے انتقال کر جاتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ فیصلہ گھانا، کینیا اور مالدیپ میں 2019 میں تشکیل دیئے گئے ایک پائلٹ پروگرام کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے جہاں ویکسین کی 20 لاکھ سے زائد خوراکیں دی گئی تھیں۔جس کو پہلی مرتبہ فارماسیوٹیکل کمپنی گلیکسو اسمتھ کے لائن نے 1987 میں تیار کیا تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے ویکسین ملیریا پر مکمل طور پر قابو پانے کے لیے اثر انداز نہیں ہو گی لیکن پھر بھی افریقہ میں ملیریا کی لہر کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    دنیا میں مختلف بیماریوں اور جراثیم کے سدباب کے لیے کئی ویکسین موجود ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پہلی مرتبہ انسانی وبائی مرض کے خلاف ایک ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔

    ملیریا ایک مہلک بیماری ہے جو انسانوں میں مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے پھیلتی ہے اگرچہ اس کا تدارک کیا جا سکتا ہے تاہم صحت کا عالمی ادارہ کہتا ہے کہ سنہ 2019 میں اِس سے تقریباً 23 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے اور چار لاکھ نو ہزار اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

    اس بیماری کے لگنے کے بعد ابتدا میں بخار ہوتا ہے، پھر سر درد محسوس ہوتا ہے، سردی محسوس ہوتی اور علاج نہ کیے جانے کی صورت میں ‘یہ سنگین صورت اختیار کرسکتی ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔’

    ملیریا ایک خطرناک اور مہلک خون کو متاثر کرنے والا مرض ہے جو کہ ایک پیراسائیٹ سے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جسے اینوفلیز ماسکیٹو کہتے ہیں یہ اپنی خوراک انسانی خون سے حاصل کرتے ہیں اور اگر کوئی متاثرہ مچھر انسان کو کاٹ لے تو یہ بیماری انسان میں منتقل ہو جاتی ہے۔

    یہ بیماری بہت ہی جلد پھیلنے کی وجہ سے کافی خطرناک ہو سکتی ہے اور بیماری کی نوعیت پیراسائیٹ کی قسم پر منحصر ہوتی ہے۔ چونکہ یہ پیراسائیٹس دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اقسام کے ہوتے ہیں لہذا مرض کی نوعیت بھی علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔

    ملیریا کی علامات:
    ابتدائی علامات بیماری کی شدید نوعیت کی علامات سے مختلف ہوتی ہیں شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہ مرض مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے اس میں شدید تیز بخار چڑھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جسم شدید کپکپاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور انسان کو شدید سردی لگنے لگتی ہے اور وہ بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔

    متاثرہ شخص میں دورے پڑنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں اور انسان کا سانس بھی جواب دینے لگتا ہے جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور انسان خون کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے شدید ملیریا میں انسان کی آنکھیں بھی پیلی پڑ جاتی ہیں جسے جانڈس کہتے ہیں۔

    ابتدائی مراحل اور مناسب نوعیت کی بیماری میں اعضاء کے افعال میں کوئی کمی نہیں آتی اور علامات روزانہ 6 سے 10 گھنٹوں کے وقفے سے نمودار ہوتے ہیں مختلف اقسام کے پیراسائیٹس مختلف نوعیت کے مرض کا باعث بنتے ہیں تاہم بغیر علاج کے ہلکی نوعیت والی بیماری بھی شدت پکڑ سکتی ہے بالخصوص اگر انسان کی قوت مدافعت پہلے سے متاثر ہو۔

    چونکہ اس بیماری کی علامات عام کھانسی اور زکام سے ملتی جلتی ہیں اس لئے ابتدائی مراحل میں اس کی تشخیص نسبتاً مشکل ہو جاتی ہے۔

    علامات میں ٹھنڈے اور گرم پسینے،شدید سردی کی کیفیت، کپکپاہٹ اور تیز بخار شامل ہیں دورے پڑنا عموما بچوں میں دیکھا گیا ہے جبکہ سر درد، بخار اور الٹی سب کو برابر متاثر کرتی ہیں۔

    علاج اور احتیاط:
    اس مرض کا علاج دراصل جسم سے پیراسائیٹ کو ختم کرنے پر منحصر ہوتا ہے ایسے مریضوں کا بھی علاج ممکن ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں کیونکہ وہ انفیکشن پھیلا سکتے ہیں۔

    عام نوعیت کے مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو۔ایچ۔او ایکٹ(اے۔سی۔ٹی) تھراپی کا انتخاب بتاتی ہے جو کہ آرٹیمیسینن کے ساتھ مزید کسی ایک اور دوا پر مشتمل ہوتی ہے یہ ادویات پیراسائیٹس کی تعداد کو ڈرامائی طور پر کافی کم کر دیتی ہیں لیکن بری بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پیراسائیٹس اس دوا کے خلاف بھی مزاحمت اختیار کر رہے ہیں اور آرٹیمیسینن کے ساتھ ساتھ کسی اور طاقتور ڈرگ کا استعمال بھی لازمی ہو گیا ہےاس بیماری کے خلاف ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاج محض اینٹی ملیریئل ڈرگز پر ہی منحصر ہے لہذا بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ اس مرض سے بچا جائے۔

    مچھر سے بچاو کے کئی طریقے ہیں جن میں چند احتیاطی تدابیر مندرجہ ذیل ہیں:

    ایسی جگہوں پر رہا جائے جدھر کھڑکیاں اور دروازے اچھے طریقے سے بند ہوں یا ایئرکنڈیشنڈ کمروں کا انتخاب کیا جائے ایئرکنڈیشنڈ کمروں کی عدم موجودگی کی صورت میں مچھر دانی کا استعمال کیا جانا چاہئیے۔

    اپنی جلد پر مچھر مار ادویات یا سپرے کا استعمال کیا جائے بالخصوص شام اور رات کے وقت پورے بازوں والے کپڑے پہن کر جسم کو حتی الامکان ڈھانپنا چاہیئے۔

  • پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے    تحقیق

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    ماہرین کے مطابق پالک کھانے سے آنتوں کے سرطان کے خطرات سے محفوظ رہا جا سکتاہے-

    باغی ٹی وی : گٹ مائیکروبس نامی جرنل میں شائع ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پالک، جین ، آنتوں کی صحت اور کینسر کےدرمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے اس کے لیے ماہرین نے ایک موروثی کیفیت کا جائزہ لیا جسے ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کہا جاتا ہے یہ کیفیت والدین سے بچوں تک آتی ہے اور نوجوانوں میں غیرسرطانی رسولیوں کی وجہ بنتی ہے جنہیں آنتوں کے ابھار یا پولِپس کہا جاتا ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    اس مرض کے شکار افراد کی آنتوں میں بار بار گومڑیاں بنتی رہتی ہیں جنہیں سرجری سے نکال باہر کیا جاتا ہے اس طرح چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے ڈیوڈینم میں انہیں روکنے کے لیے ایک تھراپی کی جاتی ہے جو ایک زہریلا طریقہ علاج بھی ہے۔

    اس ضمن میں’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار جانوروں پر پالک کو آزمایا گیا برف میں جمی پالک جانوروں کو 26 ہفتے تک کھلائی گئی تو آنتوں میں رسولیاں بننے کے عمل میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی جو بڑی اور چھوٹی آنت میں موجود تھیں۔

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ پالک سے آنتوں کے بیکٹیریا کی ڈائیورسٹی میں اضافہ ہوا یعنی مددگار خردنامیوں کی تعداد بڑھی اور پھر ان کے جینیاتی اظہار میں بھی تبدیلی ہوئی جس سے کینسر کو روکنے میں مدد ملی اسی طرح پالک کھانے سے جانوروں میں اندرونی سوزش (انفلیمیشن) بھی کم ہوئی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ پالک کھانے سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے جو ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار نہیں۔ پالک کھانے سے آنتوں میں مفید بیکٹیریا بڑھتے ہیں جو سرطان کو روکتے ہیں اور ہرخاص وعام پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    ماہرین کے مطابق 10 سے 15 فیصد افراد میں آنتوں کا سرطان موروثی ہوتا ہے مضر کیمیکل اور سرطان والے ماحول میں کئی عشرے تک رہنے سے ان کے جین بدل جاتے ہیں اور سرطان کی جانب بڑھتے ہیں اس طرح پہلے غیرسرطانی رسولیاں بنتی ہیں اور اس کے بعد سرطان پیدا ہوتا ہے جن افراد کو جینیاتی طور پر آنتوں کے سرطان کا خطرہ ہوتا ہے ان میں بھی پالک بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

    اس سے قبل آنتوں کے سرطان اور ہرے پتے والی سبزیوں کے باہمی تعلق پر بہت غور ہوچکا ہے سبزیوں کا باقاعدہ استعمال آنتوں کے سرطان کا خطرہ کم کرتے ہوئے اسے نصف کرسکتا ہے کیونکہ اس میں فائبر اور دیگر فائدہ مند اجزا موجود ہوتے ہیں۔

    ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

  • چیف سیکرٹری پنجاب کا گوجرانوالہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دبنگ دورہ ، ہسپتال میں انتظام و انصرام کا جائزہ لیا اور مریضوں کی خیریت دریافت کی

    چیف سیکرٹری پنجاب کا گوجرانوالہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دبنگ دورہ ، ہسپتال میں انتظام و انصرام کا جائزہ لیا اور مریضوں کی خیریت دریافت کی

    گوجرانوالہ: چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے اپنے دورہ گوجرانوالہ میں اچانک ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال گوجرانوالہ کا دورہ کیا ۔ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی، صفائی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔

    چیف سیکرٹری نے پناہ گاہ، ایمرجنسی، ٹراما سینٹر اور مختلف وارڈز کا معائنہ بھی کیا اور ڈویژنل کمشنر کو ہسپتال کی عمارت کی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈز مختص کرانے کی ہدایت کی۔

    دورہ کے دوران مریضوں کی عیادت کی اوران سے سہولیات کی فراہمی بارے، ڈاکٹروں اور عملہ کے رویہ بارے دریافت کیا ہے۔

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے ہسپتال میں موجود مریضوں سے سوال کیا کہ علاج معالجے میں کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں، جس پرمریضوں نے ہسپتال میں سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کسی عبادت سے کم نہیں، انہوں نے ہدایات کیں کہ ادویات کی فراہمی، عملہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے، ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اورعملہ مریضوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔

    چیف سیکرٹری نے ہسپتال میں انتظامات کی تعریف کی اور سہولیات کا معیار برقرار رکھنے کا حکم دیا ۔
    جبکہ پرنسپل ڈاکٹر معروف عزیز اور ایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمن نے چیف سیکرٹری پنجاب کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں سرجیکل ٹاور اور مزید شعبوں کے قیام کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

  • صدر مملکت کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال

    صدر مملکت کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین میں کینسر کے 44 فیصد کیسز چھاتی کے کینسر کے ہیں جلد تشخیص ہونے سے مرض سے نجات پانے کا امکان 98 فیصد ہے-

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ممنوع موضوع ہونے کی وجہ سے خواتین مرض کی جلد تشخیص نہیں کروا پاتی ،جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا 50 فیصد خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ اپنا معائنہ خود کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، آگاہی نہ ہونا، دیر سے ڈاکٹر سے رجوع چھاتی کے کینسر سے زیادہ شرح اموات کا باعث ہیں،دیر سے تشخیص کی وجہ سے ایک لاکھ میں سے 50 ہزار خواتین فوت ہو جاتی ہیں-

    بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت

    صدر پاکستان نے مزید کہا کہ بیگم ثمینہ علوی اور ان کی ٹیم نے اکتوبر میں لوگوں کو آگاہی کیلئے مختلف پروگرام ترتیب دیے ہیں، ان پروگراموں میں خود تشخیصی اور مرض کی بروقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا-

    انہوں نے کہا کہ میڈ یا نے گزشتہ سال لوگوں کو بریسٹ کینسر بارے تعلیم دینے کیلئے مؤثر آگاہی مہم چلا ئی ،میڈیا خبروں ، ٹاک شوز، آرٹیکلز، کالمز اور ایڈیٹوریل کے ذریعے آگاہی پیدا کرے ،میڈیا چھاتی کے کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے حکومت اور سول سوسائٹی کی کوششوں کا ساتھ دے –

    انہوں نے کہا کہ میڈیا تنظیمیں بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنے لوگو کو "گلابی ” رنگ دیں-

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی