Baaghi TV

Category: صحت

  • اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے زائد

    اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے زائد

    اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر ضعیم ضیاء کے مطابق گزشتہ روز ڈینگی کے مزید 91 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد کر 3083 ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد کے کل کیسز میں سے 1824 کا تعلق دیہی جب کہ 1259 کا شہری علاقوں سے ہے جبکہ اسلام آباد میں ڈینگی سے اب تک 11 افراد انتقال کرچکے ہیں۔

    ڈینگی کے سب سے زیادہ 757 کیسز ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی میں لائے گئے، فیڈرل جنرل اسپتال میں335، پمز میں 282 ،پولی کلینک میں 108، بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں 144،ڈی ایچ کیو اسپتال راولپنڈی میں37 مریض لائے گئے، اس کے علاوہ نجی اسپتالوں و لیبارٹریز میں بھی 1400 سے زائد مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

  • منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    اکثر اوقات بار بار منہ سوکھنے کی شکایات سامنے آتی ہیں جسے ہم پانی کی کمی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن ماہرین نے بتایا ہے کہ بار بار منہ سوکھنے کی ایک بڑی وجہ شوگر بھی ہوسکتی ہے۔

    امریکی یونیورسٹی ’امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن‘ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق خون میں شو گر کی سطح غیر متوازن اور اکثر اوقات زیادہ رہنا منہ کے ہر وقت خشک رہنے کا سبب بنتا ہے، ماہرین کے مطابق بغیر کچھ کیے تھکاوٹ کا محسوس ہونا اور جسمانی وزن کا متوازن ہونے کے باوجود بھی اگر منہ خشک رہتا ہے تو یقیناً یہ ذیابطیس کی علامت ہے۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ماہرین کے مطابق جب خون میں گلوکوز کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو گردوں کی صلاحیت میں کمی آتی ہے، ایسے میں گردے مائع کو جذب کرنے کے بجائے پیشاب کی زیادتی کی مدد سے جسم میں سے پانی کو خارج کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جسم پانی کی کمی کا شکار ہو جا تا ہے اور منہ بار بار خشک ہو نے لگتا ہے۔

    پاکستان میں شوگر فری آموں‌ کی تین اقسام متعارف ، امریکہ تاحال شوگرفری سیب لانے میں‌ ناکام

    ماہرین کے مطابق منہ کے خشک ہونے کے سبب غذا کو ہضم کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ منہ میں تھوک کم مقدار میں پیدا ہونے لگتا ہے، اور اس کے نتیجے میں غذا کو ہضم ہونے میں درکار وقت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ایسی علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوراً اپنا تفصیلی طبی معائنہ کروانا چاہیے، بڑھی ہوئی شوگر کی تشخیص ہونے کے نتیجے میں اسے کنٹرول کرنے کے لیے مناسب غذا کا استعمال، روزانہ کی بنیاد پر ورزش اور معالج کی جانب سے تجویز کی گئی ادویات کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے۔

    شوگر کے مریض کون سی چیز کب کیسے اور کتنی کھائیں

    دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طبی معائنے میں ذیابطیس کی علامات ظاہر نہ ہوں تو ایسی صورت میں بار بار منہ سوکھنے کی شکایت سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچائیں کیفین والے مشروبات مثلاً چائے کافی سے پرہیز کریں، مرغن، مسالے دار، مرچوں والی، نمکین اور میٹھی غذاؤں سے پرہیز کریں۔

    شوگر جیسی خطرناک بیماری کا آسان گھریلو علاج

  • بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    ایک عرصے سے آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم اب امریکا میں ہونیوالی نئی تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران ڈپریشن اور ذہنی بے چینی یا انزائٹی سے آپریشن سے بچے کی پیدائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق یہ تحقیق مشی گن یونیورسٹی کے ماہرین نے کی اس سے قبل مزاج اور ذہنی بے چینی سے منسلک امراض کو حاملہ خواتین میں بچے کے کم پیدائشی وزن اور قبل از وقت پیدائش سے جوڑا جاتا ہے مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں حاملہ خواتین میں آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے اس بات کی اہمیت کا پھر اعادہ ہوتا ہے کہ حاملہ خواتین میں ڈپریشن اور انزائٹی امراض کی بہتر شناخت اور علاج کی ضرورت ہے یہ سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ کس طرح مزاج سے جڑے ذہنی امراض آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھاتے ہیں جس کے ماں اور نومولود پر مختصر اور طویل المعیاد اثرات پہلے ہی ثابت ہوچکے ہیں۔

    اس تحقیق میں 2008 سے 2017 کے دوران 15 سے 44 سال کی خواتین کے ہاں 3 لاکھ 60 ہزار بچوں کی ہسپتال میں پیدائش کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا محققین کے مطابق حمل کے دوران ڈپریشن اور انزائٹی کے ماں اور بچے پر متعدد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشن سے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ اگلی بار بھی بچے کی پیدائش اسی طریقے سے ہوگی، جبکہ اس طریقہ کار سے متعدد خطرات بشمول بلڈ کلاٹس کا امکان، انفیکشن اور دیگر جڑے ہوئے ہیں۔

    تحقیق میں شامل محققین کہنا تھا کہ ذہنی امراض اور آپریشن سے بچے کی پیدائش کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟-

    واضح رہے کہ پاکستان میں آپریشن کے زریعے بچوں کی پیدائش کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجوہات اکثر بچے کو جنم دینے والی ماؤں کو بھی پتہ نہیں ہوتیں جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کسی بھی ملک میں آپریشن کے زریعے بچے کی ولادت کا تناسب 15 فیصد سے تجاوز نہیں ہونا چاہئے پاکستان میں اس کا کیا تناسب ہے اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں کیونکہ سرکاری سطح پر ہسپتالوں سے ریکارڈ اکھٹا نہیں کیا جاتا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سے بچوں کی ولادت کا تناسب پاکستان میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے ؟-

    اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے، ” بعض اوقات کھبی کوئی مسلئہ ہوا مثلاً کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو دس ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے تیس ہزار مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سیکھایا جا سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی ethical practice نہیں ہے۔‘‘

  • ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات    طبی ماہرین

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

    عام طور پر لوگ صبح ناشتے میں ڈبل روٹی کا استعمال کرتے ہیں جو کہ ماہرین کے مطابق صحت کئے انتہائی نقصان دہ ہے طبی ماہرین کے مطابق عام عوام میں ایک یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈبل روٹی مریضوں کے کھانے کے لیے بہترین اور نرم غذا ہے جبکہ یہ تاثر نہایت غلط ہے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹارچ اور کاربوہائیڈریٹس کی زیادتی ہونے کے سبب ڈبل روٹی کا استعمال معدے اور نظام ہاضمہ کے لیے نہایت نقصان ثابت ہوتا ہے، ڈبل روٹی میں فائبر اور گندم میں پائے جانے والی غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں انسان متعدد بیماریوں میں گھِر سکتا ہے۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    اسرائیل میں وائٹ بریڈ یعنی کہ عام دستیاب ڈبل روٹی پر کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائٹ بریڈ کے استعمال سے معدے اور آنتوں سے متعلق متعدد شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں قبض کی شکایت سر فہر ست ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    اس تحقیق میں وائٹ اور براؤن بریڈ کے درمیان موازنہ بھی کیا گیا کہ وائٹ اور براؤن بریڈ میں سے کون سی بریڈ صحت کے لیے زیادہ بہتر اور نقصان دہ ہے تحقیق میں شامل رضاکاروں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک گروپ کے افراد کو سفید یعنی ریفائن آٹے سے بنی وائٹ بریڈ جبکہ دوسرے گروپ کو براؤن یعنی کے مکمل غذائی اجزاء سے تیار کی گئی براؤن بریڈ استعمال کروایا گیا اور بعد ازاں دونوں گروپس کے رضاکاروں کے صحت سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں طرح کی ڈبل روٹی کے فوائد صحت پر یکساں تھے البتہ براؤن بریڈ کو وزن کم کرنے اور آنتوں کے کینسر میں مبتلا افراد کے لیے قدرے بہتر جبکہ وائٹ بریڈ کو قبض، معدے میں درد اور نظام ہاضمہ سے متعلق دیگر چھوٹی موٹی شکایت کا سبب پایا گیا۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

  • لاہور: ڈینگی شدت اختیار کر گیا، اسپتالوں میں مریضوں سے90 فیصد بیڈز بھر گئے

    لاہور: ڈینگی شدت اختیار کر گیا، اسپتالوں میں مریضوں سے90 فیصد بیڈز بھر گئے

    لاہورمیں ڈینگی کی صورتحال شدت اختیار کر نے لگی سرکاری اسپتالوں میں 90 فیصد تک بیڈز مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایکسپو سینٹرڈینگی فیلڈ اسپتال میں بھی49 مریض داخل ہوگئے ہیں 3 روز میں ڈینگی کے500 سے زائد مصدقہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں گزشتہ24 گھنٹوں میں پنجاب بھر میں 262 جبکہ لاہور میں184 مریض رپورٹ ہوئے۔

    بڑھتے کیسز کے پیش نظر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ایکسپوسنٹر میں 280 بیڈز پر مشتمل ڈینگی فیلڈ اسپتال فعال کر دیا ہے جناح، گنگارام اور جنرل اسپتال میں مریضوں کے لئے کوئی بیڈ موجود نہیں، دیگر اسپتالوں میں بھی ڈینگی کیلئے مختص کیے گئے بیڈ 90 فیصد تک بھر چکے ہیں۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ شہری پہلے ریسکیو ہیلپ لائن پر کال کریں اور پھر کسی اسپتال جائیں، تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے محکمہ صحت کے مطابق ایکسپو سینٹر میں سی بی سی سمیت تمام علاج معالجہ مفت ہے، جبکہ نجی لیبارٹریز کو ڈینگی مشتبہ مریضوں کا ٹیسٹ90 روپے میں کرنے کا مراسلہ جاری کر رکھا ہے۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں –

    پنجاب میں ڈینگی کے مزید 73 کیسز رپورٹ

  • ورزش سے  کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا       تحقیق

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : نئی تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش سے انسانی جسم میں میوکائنز جیسے پروٹین کا اخراج بڑھ جاتا ہے جس سے کینسر کی رسولیاں سکڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔

    پین اسٹیٹ یونیورسٹی میں کینسر میں مہارت رکھنے والے پبلک ہیلتھ کی پروفیسر کیتھرین شمٹز کا خیال ہے کہ ورزش اور کینسر کے مابین تعلقات کا تصور وہ جگہ ہے جہاں ورزش اور دل کی صحت کے درمیان تعلقات کا تصور کئی دہائیوں پہلے تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ،مریض کو بستر سے باہر نکالنا اور ہارٹ اٹیک کے بعد حرکت کرنا نقصان دہ سمجھا جاتا تھا آج دل کی صحت اور صحت یابی کے لیے ورزش کے فوائد مشہور ہیں۔

    شمٹز نے ہیلتھ لائن کو بتایا ، "آج اگر آپ نے آنت کے کینسر میں مبتلا کسیشخص سے پوچھا کہ اگر اسے ورزش کرنی چاہیے تو وہ شاید نہیں کہیں گے یا نہیں جانتے۔”

    شمٹز نے گول میز کی مشترکہ صدارت کی-جس میں امریکن کالج آف اسپورٹس میڈیسن ، امریکن کینسر سوسائٹی ، اور 15 دیگر گروپس کے ماہرین شامل تھے-جنہوں نے نئی رہنمائی کی۔

    اس ہفتے تین مقالوں میں شائع ہونے والی رہنمائی کا خلاصہ یہ ہے کہ ورزش مثانے ، چھاتی ، بڑی آنت ، غذائی نالی ، گردے ، معدہ اور بچہ دانی کے کینسر کی روک تھام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    ہدایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ ورزش چھاتی ، بڑی آنت اور پروسٹیٹ کینسر کے لوگوں کی بقا کی شرح کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے – نیز کینسر کے علاج کے مضر اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے ان لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر کر سکتی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ کینسر کے علاج سے گزر رہے ہیں اگر وہ ہمت کر کے علاج کے ساتھ ورزش بھی شروع کر دیں تو وہ تیزی سے کینسر پر قابو پا سکتے ہیں –

    کتنی ورزش کرنی چاہیئے؟

    محققین تجویز کرتے ہیں کہ کینسر میں مبتلا افراد ہفتے میں 3 بار 30 منٹ ایروبک ورزش اور ہفتے میں 2 سے 3 بار پٹھے مضبوط کرنے والی ورزش کریں-

    ماہرین نے تحقیق کے لیے پروسٹیٹ کینسر کے 10 مریضوں کو 12 ہفتوں تک ورزش کے عمل سے گزارا جس میں ایئروبِک اور پٹھے مضبوط کرنے والی ورزشیں شامل تھیں۔

    ورزش کے ساتھ مریضوں کی خوراک کا بھی خیال رکھا گیا جس میں پروٹین سپلیمنٹ اور کم کیلوری والی غذائیں دی گئیں ان سب کا مقصد خون میں میوکائنز کی سطح معلوم کرنا تھا جو پٹھے بنانے والا ایک ہارمون ہے جو ورزش کے دوران جسمانی ڈھانچے سے خارج ہوتا رہتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ میوکائن کا اخراج سرطان کو روکنے کے ساتھ اسے پھیلنے سے بھی روکتا ہے تین ماہ کی ورزش سے جسم میں میوکائنز بڑھ جاتے ہیں جس کی تصدیق خون کے ٹیسٹ میں ہوئی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ مائیوکائنز کینسر کے خلیات کو نہیں مارتے لیکن وہ جسم کے دیگر خلیات کو کینسر کی رسولیوں کو کم کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

  • مغربی افریقہ : کورونا کے بعد ایک اورمہلک ماربرگ وائرس کی تصدیق، عالمی ادارہ صحت

    مغربی افریقہ : کورونا کے بعد ایک اورمہلک ماربرگ وائرس کی تصدیق، عالمی ادارہ صحت

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ماربرگ وائرس کی بیماری ایک انتہائی خطرناک بیماری ہے جو ہیمرجک بخار کا سبب بنتی ہے ، جس میں اموات کا تناسب 88 فیصد تک ہے۔ یہ بیماری وائرس کے اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس کا وائرس ایبولا کا سبب بنتا ہے اور یہ ایک مہلک اور انتہائی متعدی بیماری ہے-

    باغی ٹی وی : ڈبلیو ایچ او کے مطابق جرمنی کے ماربرگ اور فرینکفرٹ اور 1967 میں سربیا کے بلغراد میں بیک وقت پائے جانے والی دو بڑے وبائیں اس بیماری کی ابتدائی پہچان کا باعث بنے۔ یہ وباء یوگنڈا سے درآمد شدہ افریقی سبز بندروں (Cercopithecus aethiops) کا استعمال کرتے ہوئے لیبارٹری کے کام سے وابستہ تھی۔ اس کے بعد ، انگولا ، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو ، کینیا ، جنوبی افریقہ اور یوگنڈا میں وباء اور چھٹپٹ کیس رپورٹ ہوئے ہیں 2008 میں ،دو مسافروں میں رپورٹ ہوئے جنہوں نے یوگنڈا میں روزیٹس بیٹ کالونیوں میں آباد ایک غار کا دورہ کیا۔

    ماربرگ وائرس کی بیماری کے ساتھ انسانی انفیکشن کا آغاز ابتدائی طور پر بارودی سرنگوں یا غاروں میں طویل عرصے تک رہنے سے ہوتا ہے جو روسوٹس بیٹ کالونیوں میں آباد ہیں ایک بار جب کوئی شخص وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ، ماربرگ انسان سے انسان میں براہ راست رابطے کے ذریعے (ٹوٹی ہوئی جلد یا چپچپا جھلیوں کے ذریعے) خون ، سراو ، اعضاء یا متاثرہ افراد کے دیگر جسمانی سیالوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ (مثلا بستر ، کپڑے) جو ان سیالوں سے آلودہ ہو-

    ماربرگ ہیمرجک بخار کے پھیلنے اور پیٹروپوڈائی خاندان کے پھل چمگادڑوں کی جغرافیائی تقسیم۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق مغربی افریقہ کے ملک گنی کے حکام نے ماربرگ وائرس کی تصدیق کی ہے جو مغربی افریقہ میں مہلک بیماری کا پہلا کیس ہے۔

    افریقہ میں عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ماتشیدیسو موتی نے کہا تھا کہ ’ماربرگ وائرس کے دور دور تک پھیلنے کے امکانات کا مطلب ہے کہ ہمیں اسے ابتدائی مرحلے پر ہی روکنا ہوگا گنی کے حکام نے اس کیس کی شناخت جنوبی صوبہ گوکیڈو میں کی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس ایڈہارنم گیبریسز نے کہا تھا کہ جس میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے انہوں نے اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ادارے کے ماہرین اس پر کام کر رہے ہیں۔


    بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ ہیمرجک بخار کا سبب بننے والی ماربرگ نامی انتہائی متعدی بیماری کی ملک اور مغربی افریقہ میں شناخت کی گئی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ملک میں ایبولا کی دوسری وبا کے اختتام کے اعلان کے صرف دو ماہ بعد گنی میں یہ دریافت سامنے آئی ہے جو گزشتہ سال شروع ہوئی تھی اور اس نے 12 افراد کی جان لے لی تھی۔

  • لاہور: ڈینگی  شدت اختیار کر گیا ،ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی

    لاہور: ڈینگی شدت اختیار کر گیا ،ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی

    لاہور میں ڈینگی کیسز میں اضافے کے پیش نظر اسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے بچے بھی ڈینگی بخار سے متاثر ہونے لگے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈینگی کیسز میں بڑھتے اضافے کے باعث سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں میں بستر کم پڑنے لگے ہیں اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے مختص بستروں پر بھی ڈينگی کے مریض زيرِ علاج ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب کا تیار کردہ ایکسپو فیلڈ اسپتال اب تک فعال نہیں ہو سکا ہے۔

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ڈینگی شدت اختیار کرنے لگا ہے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1000 سے زائد ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب طبی ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ ڈینگی کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں لہٰذا خدشہ ہےکہ صورتحال 2019 جیسی نہ ہوجائے۔

    ماہرانفیکشن ڈیزیزڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر سعید خان کا کہنا تھا کہ ڈینگی وائرس کی چار اقسام ہیں جن میں ڈین وی ون، ٹو ،تھری اور فورشامل ہیں۔

    ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد سے کم

    ڈاکٹرسعید خان کا کہنا تھا کہ انسانی جسم میں پہلے سے موجود اینٹی باڈیز ڈینگی وائرس کی ڈین وی ٹو قسم کے لیے مفید ثابت ہورہے ہیں اسپتال میں خواتین اور بچے بھی ڈینگی میں مبتلا ہوکر داخل ہورہے ہیں جب کہ پہلے سے ڈینگی کاشکار افراد تیزی سے ڈینگی میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    سعودی عرب :عمرہ کے لئے کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانا لازمی قرار

  • ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈینگی وائرس شدت اختیار کرنے لگا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں ڈینگی شدت اختیار کرنے لگا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی سے 98 شہری متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈی ایچ او کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں دیہی علاقوں میں 73 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ شہری علاقوں میں 25 کیس رپورٹ ہوئے۔

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری ،پشاور میں مزید 371 کیسز رپورٹ

    ڈی ایچ او کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت 1030 افراد ڈینگی کا شکار ہیں، دیہی علاقوں میں 698 افراد ڈینگی کا شکار ہیں جبکہ شہری علاقوں میں کیسز کی تعداد 332 ہے۔

    دوسری جانب ملک کے دیگر شہروں پشاور، لاہور اور کراچی میں بھی ڈینگی کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

    پنجاب میں ڈینگی کے مزید 73 کیسز رپورٹ

  • میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    میتھی دانے کو جہاں خواتین کی صحت اور ہارمونز کے متوازن رکھنے کے لیے انتہائی اہم جز قرار دیا جاتا ہے وہیں اس کے استعمال سے دِنوں میں گرتے بالوں کا علاج بھی ممکن ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق میتھی دانے کا استعمال 12 مہینے کیا جا سکتا ہے، اس کا سفوف بنا کر نیم گرم پانی کے ساتھ ناصرف کھانا مفید ہے بلکہ اس سے بنا قہوہ پینا بھی بے شمار فوائد کے حصول کا ذریعہ ہے۔

    ماہرین غذائیت کے مطابق میتھی دانہ غذائیت، فائبر اور نیوٹرا سیوٹیکل اجزا سے بھرپور جز ہے، اس کے باقاعدگی سے استعمال کے نتیجے میں کئی موسمی بیماریوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    خواتین کے لیے میتھی دانہ کھانے کے حیرت انگیز فائدے

    غذائی ماہرین کے مطابق میتھی دانے میں قدرتی طور پر اینٹی الرجی خصوصیات پائی جاتی ہیں، میتھی دانہ نزلہ، زکام، بے تحاشہ چھینکوں میں خصوصاً ڈسٹ الرجی کے شکار لوگوں اور سانس سے متاثرہ افراد کے لیے انتہائی مفید دوا قرار دی جاتی ہے جبکہ اس کا استعمال چہرے اور بالوں پر براہ راست کرنے کے نتیجے میں خوبصورتی میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

    ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق میتھی دانہ بالوں کی صحت کے لیے نہایت مفید غذا ہے، بال لمبے، گھنے، چمکدار اور ملائم بنانے کے لیے اس کے قہوے کا یا براہ راست استعمال بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ جھڑتے بالوں کو فوراً روکنے اور بالوں کو مضبوط بنانے کے لیے میتھی دانے کا ہیئر ماسک بنا کر بھی لگایا جا سکتا ہے۔

    بالوں سے جُڑی کئی شکایات کا فوری علاج ایک آسان ترین ماسک کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    سر سے خشکی کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

    میتھی دانے سے بنے ماسک کے لیے میتھی دانے کے 2 سے 3 چمچ رات بھر کےلیے سادہ پانی میں بگھو کر رکھ دیں، صبح اسے گرائینڈ کر کے اپنے بالوں کی جڑوں سے سِروں تک لیپ کر لیں، یہ ہیر ماسک زیادہ سے زیادہ صرف 25 سے 30 منٹ کے لیے لگائیں اور بعد ازاں بال اچھی طرح سے دھو لیں۔

    اس عمل کو ہفتے میں صرف 1 سے 2 بار ہی دہرائیں، اس ماسک کے استعمال سے روکھے بالوں میں چند ہی دنوں میں جان آ جائے گی اور بال لمبے اور مضبوط ہونے لگیں گے۔

    میتھی دانہ موسمی وائرس سے محفوظ رکھتا ہے شوگر کے مریضوں کے لئے میتھی دانے کا استعمال خون میں شوگر کی سطح کو نارمل رکھنے کے لیے بہت مفید ہے گیس اور ڈائریا کی تکلیف میں دہی میں ملا کر کھانے سے آرام ملتا ہے

    خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    میتھی دانہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے مفید ہے ڈلیوری کے بعد ہونے والی کمزوریوں میں میتھی دانے کے استعما ل سے بہت فائدہ ہوتا ہے دیہاتوں میں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو اسکے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں یہ ہڈیوں کو محفوظ کرتا ہے

    ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ ایک چٹکی میتھی دانہ کھانے سے ماہواری کے درد سے نجات ملتی ہے ذہنی تناؤ اور سٹریس کم کرنے کے لئے میتھی دانہ لیموں کا رس شہد تلسی کے چند پتے اور دار چینی کا ٹکڑا ایک کپ پانی میں ابال کر ٹھنڈا ہو نے پر پی لیں اس سے ذہنی تنؤ اور اسٹریس کم ہو جاتا ہے-

    میتھی دانہ وزن کم کرتا ہے بالوں کا روکھا پن دور کرتا ہے جگر کی حفاظت کرتا ہے دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے قبض اور پیچش میں آرام پہنچاتا ہے ہارمونز کی بے ترتیبی درست کرنے کے لئے ایک کپ پانی میں ایک چمچ میتھی دانہ ملا کر پی لیں اس کو دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کریں یہ ہارمونز کی ترتیب کے لئے جادو کا کام کرتی ہے

    جاوتری کے صحت پر اثرات