Baaghi TV

Category: صحت

  • ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    غذائیت حاصل کرنے کے لیے سُپر فوڈز کا استعمال ایک بہترین طریقہ ہے، یہاں ایک سپر فوڈز ہے جسے آپ اپنی خوراک میں آسانی سے شامل کر سکتے ہیں اور وہ مشروم ہے کیونکہ مشروم میں قدرتی طور پر کئی غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔

    طبی ماہرین نے اسے ایک ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ کہا جس میں پروٹین، بیٹا گلوکن، معدنیات اور مائیکرو نیوٹرینٹس ہوتے ہیں ماہرین نے حالیہ تحقیق میں بتایا کہ مشروم، ہمارے جسم میں غذائی اجزاء سٹیم سیل کی تخلیق نو اور ڈی این اے کی مرمت میں مدد کرتے ہیں مشروم صحت مند انجیوجینیسیس کی بھی حمایت کرتے ہیں، جو ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے خون کے نئے خلیے بنتے ہیں۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    مشروم وٹامن ڈی کے بہترین غذائی ذرائع میں سے ایک ہیں جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مشروم بےحد مفید ہیں، مشروم ہماری جِلد کو ہائیڈریٹ کرتے ہیں اور ہمیں کیل مہاسوں جیسے مسائل سے بچاتے ہیں کیونکہ مشروم میں اینٹی ایجنگ کی خصوصیات ہوتی ہیں انہیں قدرتی موئسچرائزر کے طور پر جانا جاتا ہے اور چہروں پر لگائے جانے والے بہت سے سیرم میں مشروم شامل ہوتے ہیں۔

    وزن کم کرنے کے لئے مشروم سب سے بہترین انتخاب ہے کیونکہ مشروم میں کیلوریز کم لیکن فائبر اور پروٹین زیادہ ہوتے ہیں، وہ ہمارے جسم کو معدنیات جیسے تانبا، پوٹاشیم اور سیلینیم بھی فراہم کرتے ہیں۔

    آپ مشروم کو مختلف طریقوں سے اپنی غذا میں شامل کرسکتے ہیں، جیسے آپ مشروم کی سوس بنا سکتے ہیں، سوپ بناسکتے ہیں، پاستہ وغیرہ میں مشروم شامل کرکے کھاسکتے ہیں۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

  • خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    ادرک کے استعمال سے صحت سمیت خوبصورتی پر بھی بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں غذائی ماہرین کے مطابق ادرک میں بڑی تعداد میں فائبر، وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹ اور قدرتی اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کے استعمال سے جہاں موٹاپے کے خاتمے، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے وہیں صاف جلد، خوبصورت بال، کیل مہاسوں سے نجات، اور پیٹ اور چہرے کے گرد جمی اضافی چربی کا خاتمہ بھی ممکن ہوتا ہے۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ادرک کے باقاعدگی سے استعمال کے نتیجے میں بال جھڑنے، چہرے پر کیل مہاسوں جیسی شکایات کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے ادرک کا استعمال اس کے تُرش اور بہترین ذائقے کے سبب پکوانوں سمیت بطور سلاد بھی کیا جاتا ہے، ادرک کے استعمال سے حاصل ہونے والے چند فوائد اور استعمال مندرجہ ذیل ہیں۔

    ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق ادرک کو بطور سلاد استعمال کرنے کے نتیجے میں رنگت اور جِلد صاف ہوتی ہے۔

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    ادرک کا استعمال بالوں کے جھڑنے کی بیماری میں بھی بے حد معاون ہے، بال لمبے گھنے چمکدار بنانے کے لیے ہفتے میں دو بار ادرک کا رس نکال کر اس سے بالوں کی جڑوں میں 30 منٹ ہلکے پوروں سے مساج کرنا چاہیے، اس عمل کے نتیجے میں بال دنوں میں صحت مند ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔

    مسوڑھوں کے مختلف امراض بالخصوص ان کی سوجن میں ادرک بے حد مفید ہے، دانتوں کو کیڑا لگنے سے بچانے اور سوجن دور کرنے کے لیے تازہ ادرک کا ٹکڑا دانتوں کے نیچے 15 سے 20 منٹ تک دبا کر رکھیں، کیڑے اور سوجن سے افاقہ ہوگا۔

    اچار کھانے کے حیران کن طبی فوائد

    خواتین کے لیے ادرک کا استعمال نہایت مفید اور لازمی قرار دیا جاتا ہے، بچے کی پیدائش کے بعد ادرک کا بطور سلاد، یا اس کا قہوہ بنا کر پینے کے نتیجے میں بڑھا ہوا وزن دنوں میں کم ہو جاتا ہے اور خواتین متعدد طرح کی بیماریوں اور کمزوری سے بچ جاتی ہیں-

    ادرک کے استعمال سے خون میں لال خلیوں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے جس کے سبب صاف اور بہتر خون کی افزائش ممکن ہوتی ہے، بہتر اور متوازن خون کی مقدار ہونے کے سبب انسانی جسم بھرا بھرا اور چہرہ کھلا نظر آ تا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے ادرک کا استعمال دوا کی طرح اثر انداز ہوتا ہے اور دودھ کی افزائش بڑھاتا ہے۔

  • صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    سفید مرچ کو زیادہ تر ’وائٹ پیپر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا ایک مخصوص ذائقہ کھانوں کو منفرد بناتا ہے اور صحت پر متعدد مثبت اثرات مرتب کرتا ہےغذائی ماہرین کے مطابق ہاضمے سے متعلق مختلف شکایتوں، دانتوں، مسوڑھوں کے مسائل، وزن میں کمی، سر درد، نزلہ، زکام، بخار اور کھانسی جیسی تکالیف میں سفید مرچ مددگار ثابت ہوتی ہے، سفید مرچ کو صحت کا خزانہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

    غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کالی مرچ اور سفید مرچ دونوں ہی صحت کے لیے بہتر ہیں لیکن سفید مرچ میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو اسے کالی مرچ سے زیادہ بہتر بناتی ہیں۔

    غذائی ماہرین کے مطابق سفید مرچ میں کیپسائسن جز پایا جاتا ہے جو جسم کی چربی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر وزن میں کمی کی دوائیں ایک فعال جز کے طور پر کیپساسین کی مقدار بھی رکھتی ہیں سفید مرچ کا استعمال آنکھوں کی بینائی کو بہتر بناتا ہے، بینائی تیز کرنے کے لیے سفید مرچ کا پاؤڈر، بادام پاؤڈر، سونف پاؤڈر اور چینی کا مکسچر بنا کر روزانہ کھانے سے آنکھوں کی روشنی میں اضافہ ہوتا ہے۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

    گرم مسالے میں شمار کی جانے والی سفید مرچ کی تاثیر بھی گرم ہے، اس کے استعمال سے جسم میں پیدا ہونے والی حرارت ناک سے جڑے سانس لینے والے نظام کو صاف اور متحرک بناتی ہے، سفید مرچ شہد کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے کے نتیجے میں یہ اینٹی بائیوٹک کے طور پر کام کرتی ہے اور ناک کی نالیوں کے انفیکشن کا مقابلہ کرتی ہے، اس کے استعمال سے نزلہ زکام اور کھانسی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    وائرل انفیکشن یا سردیوں کے موسم میں سفید مرچ کا استعمال سوپ اور سلاد میں مفید ثابت ہوتا ہے سفید مرچ فلاوونائڈز، وٹامن سی اور اے سے مالا مال ہے، یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہے ہائی بلڈ پریشر والے افراد کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں سفید مرچ شامل کرنی چاہیے، اس کے علاوہ سفید مرچ قلب کی صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    سفید مرچ میگنیشیم، کاپر اور مینگنیز جیسے معدنیات کا بھی بھرپور ذریعہ ہے، جو ہڈیوں کی طاقت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں سفید مرچ خاص کر اُن افراد کے لیے بہت مفید ہے جن کی ہڈیاں عمر کے ساتھ کمزور ہوجاتی ہیں۔سفید مرچ میں کچھ کارمینیٹیو (Carminative) خصوصیات موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ آنتوں میں گیس کی تشکیل کو روکتی ہے، یہ ہمارے نظام ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور آنتوں کو صاف کرتی ہے۔

    پسی ہوئی سفید مرچ ایک بہترین اسکرب کا کام کرتی ہے اور مردہ جِلد کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے، بالوں کی بہترین افزائش کے لیے سفید مرچ کے پاؤڈر کا کسی بھی ہیئر ماسک میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے بالوں کی جڑوں میں مساج بھی کیا سکتا ہے اس میں فلاوونائڈز، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں جس کے سبب جِلد جوان اور تر و تازہ نظر آتی ہے۔

    اچار کھانے کے حیران کن طبی فوائد

  • حکومت ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے      ڈاکٹر فیصل سلطان

    حکومت ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ڈاکٹر فیصل سلطان

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے آبپارہ ایم سی ایچ سینٹر کا اچانک دورہ کیا کہا کہ صحت کا شعبہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان نے علاج کے لیے آنے والے مریضوں سے علاج کی سہولیات کے بارے میں پوچھا اور اس موقع پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور عوام کو صحت کی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے جذبے اور لگن سے کام کریں۔

    معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت یونیورسل ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے جبکہ مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اسپتال کا عملہ لگن اور جذبے سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے مزید کہا کہ پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسز اور ڈاکٹرز کو اس وقت عزت ملتی ہے جب مریضوں کو صحت کی بہترین سہولیات میسر ہوتی ہیں۔

  • بلڈ بینک ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین کے بند دروازے عملہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت

    بلڈ بینک ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین کے بند دروازے عملہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت

    ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین نااہلی کم نہ ہو سکی
    رپورٹ کاشف تنویر تفصیلات کے مطابق آج ایک مریض کو خون کی اشد ضرورت تھی. بہت مشکل سے اس مریض نے خون کے عطیہ کا بندوبست کیا اور اس بندے کو لے کر ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین پہنچا تو دوپہر 1:30 پر بلڈ بینک والے ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ڈیپارٹمنٹ کو تالا لگا ہوا تھا.
    حالانکہ یہ ڈیپارٹمنٹ 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے احکامات ہیں.
    لیکن ہمارے سرکاری ملازمین کے منہ کو حرام لگ چکا ہے اور ان کا دل ہوتا ہے کہ تنخواہ اور حرام کی کمائی کوئی کام کئے بغیر ان کی جیب میں ڈال دی جائے.
    اطلاعات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین کے نئے ایم ایس جناب قمر الزمان صاحب نے کنٹرول سنبھال لیا ہے ان کو چاہیے کہ ان پرانے ملازمین کو سختی سے سمجھائیں اور ان کو حلال کھانے کی ترغیب دیں. ورنہ یہ سب لوگ ایم ایس صاحب کے لئے بھی شرمندگی کا مقام بنیں گے

  • پہلی دفعہ ڈسٹرکٹ ہسپتال منڈی بہاوالدین سے کوئی خوش آئند خبر

    پہلی دفعہ ڈسٹرکٹ ہسپتال منڈی بہاوالدین سے کوئی خوش آئند خبر

    رپورٹ کاشف تنویر : ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاؤالدین کی ایمرجنسی ایک نعمت ہے مگر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرز ایمرجنسی میں با عزت طریقے سے پیش نہیں آتے.
    لیکن آج کسی کام کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہسپتال جانا پڑا اور وہاں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں کئی مریضوں سے ملاقات ہوئی اور ان سے بات چیت کرنے کا موقع ملا تو پتا چلا کہ ایمرجنسی میں ڈاکٹر سعدیہ نامی ایک ڈاکٹر نے انہیں بہترین طریقے سے ڈیل کیا اور بہت اخلاق سے پیش آئیں ایسے محسوس ہوا جیسے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں ہوں۔ اور انہوں نے ایمرجنسی اتنے اچھے طریقے سے مینج کی ہوئی ہے کہ اس طرح تو کوئی میل ڈاکٹر بھی نہیں کر سکتا.
    شکریہ ڈاکٹر سعدیہ صاحبہ ہمارے شہر کو آپ جیسے ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے

  • تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان  تحریر: حمزہ بن شکیل

    تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان تحریر: حمزہ بن شکیل

    عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک ارب سے زائد ہو چکی ہے یعنی ہر پانچواں فرد اس بری لت میں مبتلا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

    افسوس کے ساتھ دن بدن تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے کوئی حکومتی حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔

    نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو ہمارے پورے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔

    تمباکو نوشی سے صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے اکثر افراد گلے اور منہ کے سرطان سمیت سانس کی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے اور اگر مستقبل میں بھی یہی رجحان جاری رہا، تو 2030ء میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہمیں اس بگڑتی صورت حال پر قابو پانے کے لئے میڈیا کے ذریعے عوام الناس اور نوجوان نسل میں آگاہی مہم، خود اعتمادی کے لئے کونسلنگ سیشن اور دیگر اقدامات اٹھانے پڑیں گے تا کے اس لعنت سے خود کو اور اپنے پیاروں کو دور رکھ سکیں۔ اس کے لئے جہاں حکومتی لیول پر کام کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں خود بھی انفرادی اور اجتمائی طور پر ایسے قدم اٹھانے ہوں گے جس سے ہمارا معاشرہ محفوظ اور صحت مند رہ سکے۔

  • جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور:3 نابینا افراد کی  دنیا روشن ہو گئ

    جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور:3 نابینا افراد کی دنیا روشن ہو گئ

    جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور حکومت پنجاب کی ہدایت پر کارنیا ٹرانسپلانٹ کا نشتر ہسپتال میں آغاز۔3 نابینا افراد کے آنکھوں کے شفاف پردے کی کامیاب پیوندکاری کردی گئ۔10 سالہ مہرین،27 سالہ علیم،32 سالہ سلیم اختر کی دنیا روشن ہو گئ۔کمشنر جاوید اختر محمود کی مریضوں سے ملاقات، سہولیات بارے بات چیت، مبارکباد دی۔کمشنر ملتان کا کہنا تھا کہ کارنیا ٹرانسپلانٹ سے اس خطے کے لاکھوں مریضوں کو نئی زندگی ملے گی۔

    کشمنر ملتان کا کہناتھا کہ عبدالستار ایدھی نے اپنی دونوں آنکھیں عطیہ کی تھیں۔وزیراعلی پنجاب صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کررہے ہیں۔پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے خط لکھا گیا تھا۔احمد حسین ڈیہڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر نشتر ہسپتال میں آنکھوں کے شعبے میں جدت لائ جارہی۔ڈاکٹر رانا الطاف کا کہنا تھا کہ پہوٹا کی اجازت کے بعد نشتر ہسپتال میں 3 مریضوں کی کارنیا پیوندکاری کی گئ۔

    پروفیسر ڈکٹر راشد قمر راؤ کی سربراہی میں 3 مریضوں کی کامیاب سرجری کی گئ۔وی سی نشتر رانا الطاف نے کہنا تھا کہ مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئ ہیں۔اس موقع پر آئی سرجن کا کہنا تھا کہ آنکھوں کا عطیہ کرنے سے بہت سارے اندھے لوگوں کو روشنی مل سکتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ نے کہا پاکستان میں بعد از موت آنکھوں کے عطیات جانب لوگوں کا رجحان نہیں ہے۔

    کارنیا کی پاکستان میں عدم دستیابی سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔مخیر حضرات کے تعاون سے آنکھوں کا بینک قائم کیا جاسکتا ہے۔وفات پاجانے کے بعد انسانی آنکھیں 12 سے 24 گھنٹے تک زندہ رہتی ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت پر بلامعاوضہ سرجری کی جارہی ہے۔ابتک 130 مریض کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے رجوع کر چکے ہیں۔آئ سرجن ڈاکٹر راشد راؤ کا کہنا تھا کہ ا ب تک 1000 ہزار سے زائد انکھ کے ریٹینا کی سرجری کی جاچکی ہے۔

  • ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال.  تحریر شاہ زیب احمد

    ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال. تحریر شاہ زیب احمد

    شوگر یعنی ذیا بیطس ایک دائمی مرض ہے اور جسم کے تقریباً ہر حصے کو متاثر کرتا ہے، پاکستان میں تقریبا 4 کروڑ لوگ ذیا بیطس کا شکار ہیں.
    دراصل جو غذا ہم کھاتے ہیں اسی سے ہمارا جسم توانائی حاصل کرتا ہے، وہ توانائی پروٹین ، فیٹ اور کاربوہائڈریٹ کے صورت میں ہوتی ہے جو نظام ہضم سے پورے جسم میں تقسیم ہو جاتی ہے، جسم کے لئے توانائی کا ایک بنیادی ذریعہ کاربوہائڈریٹ ہے جو مختلف گلوکوز سے مل کر بنتا ہے۔ یہی توانائی یعنی جو کھانا ہم نے کھایا ہوتا ہے وہ نظام انہضام میں چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، کاربوہائیڈریٹس بھی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جاتے ہیں جہاں سے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور سیلز (خلیوں) میں چلے جاتے ہیں اور خلیوں یعنی پورے جسم کو توانائی مل جاتی ہے!
    کاربوہائیڈریٹس ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جانے کے خون میں شامل ہو تو جاتے ہیں لیکن گلوکوز کے ساتھ یہاں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسولین کے بغیر یہ خلیوں کے اندر نہیں جا سکتے، جیسے کسی افسر سے ملنے کے لئے وہاں کے سیکورٹی گارڈ اندر لے کے جاتے ہیں ایسے ہی ہر سیل (خلیے) پر موجود انسولین ریسپٹر (گارڈ) ہوتے ہیں اور ان ریسپٹر کے مدد سے گلوکوز خلیے کے اندر جاتے ہیں اور جسم کو توانائی حاصل ہو جاتی ہے.
    *اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسولین ہے کیا؟*
    انسولین ایک ہارمون ہے جو ہمارے جسم کے حصے Pancreas یعنی لبلبے میں پیدا ہوتا ہے،
    لبلبہ انسولین بنا دیتا ہے جو خون میں شامل ہو کر خلیوں تک پہنچ جاتا ہے جہاں یہ انسولین گلوکوز کے لئے راستہ بنا کر خلیوں کے اندر جانے میں مدد دیتا ہے،
    خون میں اگر گلوکوز کا لیول بڑھ جائے (عموما زیادہ میٹھی چیزیں کھانے سے) تو لبلبے کو میسج چلا جاتا ہے جہاں سے وہ زیادہ انسولین خارج کر دیتا ہے اور گلوکوز کو زیادہ مقدار میں خلیوں میں پہنچا کے خون میں گلوکوز کی مقدار کم کر دیتا ہے یعنی خون میں گلوکوز لیول کنٹرول رکھتا ہے،
    شوگر یعنی ذیا بیطس کے صورت میں صورتحال مختلف ہوتی ہے جس میں اگر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو وہ کم نہیں ہوتی، اس کے دو اہم وجوہات ہے
    پہلا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا اور انسولین پیدا ہی نہیں ہے رہا، اس حالت کو ٹائپ 1 ذیا بیطس کہتے ہیں، جسکا علاج صرف انسولین کے ٹیکے لگانا ہی ہیں

    دوسرا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام کر رہا لیکن خلیوں پہ موجود انسولین ریسپٹر کام چھوڑ دیتے ہیں اور گلوکوز کو خلیوں کے اندر جانے نہیں دیا جاتا، اس قسم کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کہتے ہیں، اس کا علاج انسولین کے ٹیکے کیساتھ ساتھ مختلف گولیوں کے شکل میں بھی موجود ہے.

    آج سے سو سال پہلے یعنی 1921 تک ذیا بیطس (شوگر کا مرض) ایک لاعلاج مرض تصور کیا جاتا تھا، جہاں یہ تصور عام تھا کہ ٹائپ 1 ذیا بیطس کے شکار مریض ایک یا دو سال ہی زندہ رہ سکتے ہیں،
    لیکن بیسوی صدی میں ایک عظیم ایجاد کیا گیا جس سے بے شمار انسانوں کی زندگیاں بچائی جانے لگی اور اس ایجاد کو "ہیمولین/انسولین” کا نام دیا گیا جس سے آج کروڑوں لوگ ذیا بیطس کا علاج کر رہے،

    1920 تک سائنس دانوں نے لبلبے کے خلیوں پر تحقیق کر لی تھی جسے islets کا نام دیا گیا اور یہ دریافت ہو گیا کہ islets ہی وہ خلیے ہے جن کے ناکارہ ہونے سے لوگ ذیا بیطس ٹائپ 1 کا شکار ہوتے ہیں، یہ معلوم کرنے کے بعد مزید تحقیق آسان ہوگئی جس سے اس مرض کا علاج ڈھونڈا جا سکیں.
    اکتوبر 1920 میں کینڈین سرجن فریڈریک بینٹنگ Frederick Banting نے انسولین کے بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا جہاں سے اسے تحقیق کرنے کا ایک آئیڈیا مل گیا، یہ بات بھی واضح ہوگئی تھی کہ شوگر کا تعلق میٹھی اور زیادہ کلیوریز والی خوراک کے کھانے سے ہے اور میٹھا کھانا چھوڑنے سے مریضوں میں کچھ بہتری آتی ہیں،
    فریڈریک بینٹنگ چونکہ سائنس دان نہیں تھے اور تحقیق کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھی تو 7 نومبر 1920 کو انہوں نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کا دورہ کیا جہاں پہ وہاں کے ٹاپ پروفیسر جوہن جیمس ریکارڈ میکلاڈ سے ملاقات کی اور دونوں نے ایک ساتھ تحقیق کرنے کا ارادہ کر لیا۔
    مہینوں محنت کے بعد بالآخر 17 مئی 1921 کو تجربہ شروع کر لیا ، میکلاڈ نے تجربہ گاہ فراہم کرنے سمیت ایک ریسرچ اسٹوڈنٹ چارلس ہربرٹ بیسٹ جو خون میں گلوکوز کا مقدار ناپنے میں ماہر تھے کو فریڈریک بینٹنگ کا اسسٹنٹ بنا دیا.
    بینٹنگ، میکلاڈ اور بیسٹ تینوں نے مل کر ریسرچ شروع کی کہ کیسے *کتے* کے لبلبے سے انسولین ہٹایا جا سکتا ہے، آپریشن کے ذریعے کتوں کے لبلبے نکالے گئے، جس سے دوائی بنانا شروع کر دیا، یہاں یہ واضح ہو گیا تھا کہ لبلبے کے بغیر کتے ذیا بیطس کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں،
    کئی تجربات ناکام ہونے کے بعد جولائی میں ایک کامیاب تجربہ کیا جسکا بالآخر 10 نومبر 1921 کو پہلا کامیاب نتیجہ سامنے آگیا، ابھی بھی اتنی خاص دریافت نہیں ہوئی تھی لیکن انہوں نے ذیا بیطس کے شکار کتے میں انسولین کے ٹیکے لگانے سے 70 دن تک کتے کو زندہ رکھا، مزید کئی تجربات کئے،. کتوں پر کامیاب تجربے کے بعد اب اسے انسانوں پر آزمانے کے لئے 12 دسمبر 1921 کو ایک بائیو کمیسٹ جیمس کولیپ بھی فریڈریک کی ٹیم میں شامل ہوگئے، تاکہ وہ حاصل شدہ انسولین کو مزید صاف کر سکے اور انسانوں پر آزمانے کے قابل بنا سکیں، اس دفعہ انسولین ایک گائے کے لبلبے سے حاصل کی گئی.
    *انسانوں پر تجربہ*
    11 جنوری 1922 کو ایک 14 سالہ نوجوان لیونارڈ تھامسن جو ٹائپ 1 ذیا بیطس کا شکار تھا اور شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا کو ٹورنٹو ہسپتال میں انسولین کا ٹیکہ لگا دیا گیا 24 گھنٹوں کے اندر تھامسن کا ہائی شوگر لیول کم ہو گیا، لیکن ساتھ ہی تھامسن کو انجکش کی جگہ انفکشن ہوگیا تھا جو ایک سائیڈ ایفکٹ تھا، بائیو کمیسٹ کولیپ نے دن رات محنت کی تاکہ انسولین کو بالکل شفاف بنایا جا سکے اور سائیڈ ایفکٹس کم سے کم تر کرسکیں، 23 جنوری 1922 کے دن تھامسن کو انسولین کا دوسرا ٹیکہ لگایا گیا اور اس بار اسکا ہائی شوگر لیول نارمل پہ آگیا اور کوئی انفکشن/ سائیڈ ایفکٹس بھی ظاہر نہیں ہوئے جو ایک مکمل طور پر کامیاب تجربہ ثابت ہو گیا،
    بینٹنگ اور بیسٹ اب مزید تحقیق اور محنت کر رہے تھے تاکہ انسولین کو زیادہ مقدار میں حاصل کیا جا سکیں ، ایلی لیلے پہلے انسان تھے جنہوں نے اس میں مدد کی اور انسولین کو زیادہ مقدار میں بنانا شروع کیا، تجربہ کامیاب ہو گیا تھا لوگ ٹھیک ہونے لگ گئے تھے
    یہ خبر دنیا میں آگ کی طرح پھیلنے لگی، اور اس ایجاد کو ایک عظیم کارنامہ بتایا گیا،
    25 اکتوبر 1923 کو یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کے اعتراف میں بینٹنگ اور میکلاڈ کو مشترکہ طور پر نوبل پرائز انعام سے نوازا گیا (جو انہوں نے ٹیم کے ساتھ شئیر کر دیا تھا).
    ذیا بیطس کے علاج کے لئے کافی عرصے تک انسولین جانوروں (گائے اور خنزیر) سے حاصل کیا جاتا رہا، لیکن یہ زیادہ مؤثر نہیں تھا زیادہ تر مریضوں میں اس کے سائیڈ ایفکٹس آرہے تھے بالآخر محنت اور تحقیقات سے 1978 میں پہلی دفعہ انسانوں کے خلیوں سے حاصل شدہ انسولین بنایا گیا جسے humulin کا نام دیا گیا، 1983 میں ایلی لیلے نے باقاعدہ طور پہ یہ انسولین بنانا شروع کیا اور اسکی سپلائی بھی تیز کر دی گئی، آج انسولین مختلف اقسام میں مختلف ناموں سے مارکیٹ میں دستیاب ہے جس سے کروڑوں لوگوں کا علاج ہو رہا ہے.
    اج انسولین کے کامیاب تجربے کو 100 سال پورے ہوگئے ان سو سال میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں آسان ہو چکی ہے سو سال پہلے جو لا علاج مرض تھا اب اس مرض کے ساتھ لوگ روز مرہ کی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں جس کا سہرا یقیناً بینٹنگ اور اسکی ٹیم کو جاتا ہے..

  • کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟  تحریر: ماہا ارشد

    کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟ تحریر: ماہا ارشد

    تاہم جب ورزش کرتے ہیں تو کیا محسوس ہوتا ہے؟ ورزش آپ کے عروقی نظام (آپ کے دل اور پھیپھڑوں) کو بہتر بنانے ، صحت مند ہڈیوں ، پٹھوں اور جوڑ کو بڑھانے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں معاون ثابت کرنے کے لئے سمجھی جاتی ہے۔ متعدد دائمی بیماریوں کو روکنے اور ان کا انتظام کرنے کو بہتر بناتی ہے. ورزش کو اجتماعی طور پر بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے موثر دکھایا گیا ہے ، جیسے پولیجینک بیماری اور امراض قلب۔

    ورزش کے ان فوائد کا شاید آپ نے پہلے ہی پتہ لگا لیا ہو۔ تاہم ، جب آپ ورزش کریں گے تو کیا آپ کا دماغ ترو تازہ محسوس ہوگا؟ کیا کوئی خوشی محسوس ہو گی ؟ کیا نیند آنے میں آسانی ہو گی؟

    ذہنی بیماری
    بالکل اسی طرح جیسے ہم وقتا فوقتا بیمار ہوجاتے ہیں سر درد یا بخار ہونے کے بعد) اس طرح ہمارے دماغ کے اجزاء بھی ہوسکتے ہیں جو ہم محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی عدم صحت کو ذہنی کیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے "قلبی مرض” جیسے امراض کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے کام کیا جاتا ہے ، آپ ذہنی حالت کے بارے میں سوچیں گے کہ دماغ کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے ایک وسیع اصطلاح ہے۔ ذہنی حالت میں ان حالات کا پھیلاؤ بھی شامل ہے جس کا آپ نے پتہ لگایا ہو ، نیز افسردگی اور اضطراب بھی ، ذہنی حالت کا تجربہ بڑے پیمانے پر بزرگ افراد کے لئے ہوتا ہے ، اس کے نتیجے میں انہیں روزانہ کچھ کرنے کی کوشش کرنے کے لئے صرف کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. اور ان کی ذہنی حالت کا سبب بننے والی چیزوں میں کم حرکت اور زیادہ سوچنا شامل ہے. ۔ بزرگ افراد کو ان کی ذہنی حالت سے دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنےچاہیے
    نفسیاتی حالت اور ذہنی حالت کے مابین فرق جاننا ضروری ہے۔ آپ کو خراب نفسیاتی حالت کا تجربہ کرنے کیلئے تشخیص شدہ ذہنی حالت کی ضرورت نہیں ہے۔
    جسمانی بیماریوں کی طرح ، ذہنی حالت کا سامنا کرنے والے افراد عام طور پر ورزش میں باہمی روابط رکھنا زیادہ پائیدار محسوس کرتے ہیں اور ، اوسطا ، زیادہ دیر تک غیر فعال (بیٹھنا یا لیٹنا) گزارتے ہیں ، جسے ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ہماری صحت کے لئے غیر صحت بخش ہے۔ ایک بار جب آپ پریشان محسوس کرتے ہیں تو ورزش کریں۔یہاں تک کہ عام آبادی میں بھی ، ورزش کرنے کی ترغیب کم ہے ، جب کہ آبادی کا صرف پچاس حصہ جسمانی سرگرمی کی صلاحی مقدار حاصل کرتا ہے۔ لہذا ، یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ دماغی حالت کے حامل افراد مربع پیمانہ عام طور پر اس سے بھی کم منتقل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

    جسمانی ساخت پر ذہنی حالت کے اثرات
    دماغی بیماری کسی کے روایتی جسمانی کام کو خراب کردے گی۔ اس کے نتیجے میں سنگین جسمانی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ دباؤ جیسے مسائل بھی ہوں گے۔

    ہائی پریشر
    ذہنی بیماری تناؤ کی شدید سطح کا سبب بنے گی اور دباؤ بڑھائے گی جس
    کے نتیجے میں دل کا فالج اور دماغی ہیمرج ہوسکتا ہے۔

    تھکاوٹ
    ذہنی بیماری تھکاوٹ اور جاگنے کا سبب بنے گی (بے خوابی)

    بھوک میں کمی
    دماغی بیماری کھانے کو کم ہضم کرنے سے پیٹ اور بھوک کو پریشان کرتی ہے

    علاج
    ہمیں فی الحال سمجھنا ہے کہ ورزش مختصر اور طویل دماغی حالتوں میں رہنے والے افراد کی دیکھ بھال کا ایک انتہائی ضروری حصہ ہوگا۔ ورزش موڈ کو بہتر بنائے گی اور ذہنی حالت کی علامات کو کم کردے گی ، نیز افسردگی اور اضطراب کو بھی۔ ورزش سے نیند کا معیار بھی بہتر ہوسکتا ہے ، توانائی کی سطح میں اضافہ اور دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے اور ہر میموری اور حراستی کو بہتر بنانے کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔ مزید یہ کہ ورزش ان فوائد کی پیش کش کرتی ہے جبکہ مضر اثرات کا خطرہ نہیں ، اگر ورزش کی گولی ہوتی تو ، یہ ہر ایک کے لئے ہر ڈاکٹر کے ذریعہ مریض کو دی جاتی ہے۔

    مشق کا فائد
    حیاتیاتی میکانزم کی شرائط میں ، ورزش کو انور باؤنڈ کیمیکلز میں تبدیلیوں کا سبب دکھایا گیا ہے جن کو انڈورفنز کہا جاتا ہے۔ اینڈورفنز اسکوائر کیمیائی میسینجر کی جانچ پڑتال کرتے ہیں جو پورے مشق میں درد اور تناؤ سے نجات فراہم کرتے ہیں۔ ورزش قزاق سے ڈوپاسٹیٹ ، کیٹکولامین ، اور مونوامین نیورو ٹرانسمیٹرز کے نام سے جانے والے مختلف کیمیکلوں کے خارج ہونے کی ترغیب دیتی ہے … یہ دماغی کیمیکل ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے میں ایک اہم نصف ادا کرتے ہیں۔ در حقیقت ، وہ مربع پیمانہ ہیں.
    ورزش باآسانی کورٹف کے نام سے جانے والے تناؤ کے خاتمہ کی ڈگری کی پیمائش کرنے میں معاون ہوتی ہے ، لہذا ہم کم تناؤ محسوس کرتے ہیں۔
    آخر میں ، ورزش کو متنوع بنائے جانے والے طریق کار کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے
    ورزش کرنے سے اکثر نفسیاتی حالت کو تقویت نہیں ملتی ہے ، تاہم ، اس کے علاوہ جسمانی صحت کے لئے بہت زیادہ مفید ہے

    دورانیہ
    عام آدمی نفسیاتی حالت اور جسمانی خوشحالی کا خیال رکھنے کے لیے آدھے گھنٹہ معیاری ورزش کافی ہے۔ ورزش ایک شخصیت کے مزاج کو تیز کردے گی.
    وقت
    چلنا پھرنا بھی ایک طرح کی ورزش ہے ، صحتمند چہل قدمی خوبصورت نتائج فراہم کر سکتی ہے ، اس سے بھوک اور نیند کو تقویت ملتی ہے ایک شخص کو ہر دن تیس سے چالیس منٹ تک چلنا چاہئے. صبح کے چلنے سے آپ کا موڈ حالیہ ہوجاتا ہے ، توجہ اور تخلیقی سوچ کے ساتھ آپ کی مہارت میں اضافہ ہوگا۔
    روزانہ چلنے اور ورزش کرنے سے صرف نفسیاتی حالت برقرار نہیں رہتی ہے۔ اس سے اعزازی طور پر ذہانت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے. .

    اگلا قدم
    ان فوائد کے بارے میں جاننا اچھا ہے ، تاہم ، اگر ہم اپنی ذہنی حالت کے علاج کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کرتے ہیں تو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ورزش علاج کے ایک حصے کے طور پر منسلک ہے ، تو صرف سائنس ہی کسی کی مدد کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت متعدد ممالک دماغی حالت کے علاج کے ایک حصے کے طور پر ورزش کو مجسم بناتے ہیں ، ہمیں جسمانی اور نفسیاتی حالت کی دیکھ بھال کے مابین تفریق کو توڑنے کے سلسلے میں ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ اگرچہ ورزش ادویات یا مختلف علاج کا متبادل نہیں ہے ، لیکن یہ ذہنی حالت کے علاج کا ایک اہم اور مددگار حصہ ہے۔
    ہم نے دماغی حالت کا سامنا کرنے والے افراد کے لئے ورزش کے فوائد کے سلسلے میں کافی بات کی ہے ، تاہم ، ورزش سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ خود کو زیادہ محسوس کریں گے حالانکہ اگر آپ پہلے ہی ٹھیک محسوس کررہے ہیں تب بھی. ہر ایک خود کو دماغی غیر صحت مند کہیں نہ کہیں پائے گا ، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ پاگل نہیں ہیں۔ ورزش کے فوائد کا تجربہ کرنے کے لیے ، ذہنی حالت نازک ہونا ضروری نہیں ہونا چاہئے، ، نارمل آدمی کو بھی ورزش کرنا چاہیے۔ دنیا بھر سے معلومات کو جمع کرنے والے ایک بڑے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش آپ کے ذہنی دباؤ کے امکانات کو ختم کردے گی۔

    @mayajaal12345