Baaghi TV

Category: صحت

  • ڈبلیو ایچ او نے ملیریا ویکسین کی منظوری دے دی

    ڈبلیو ایچ او نے ملیریا ویکسین کی منظوری دے دی

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ملیریا کے خلاف پہلی ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ روز ویکسین کی توثیق کی ہے جو اس عمل کا پہلا قدم ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے عالمی ملیریا پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پیڈرو الونسو نے کہا کہ ملیریا ویکسین محفوظ ، اعتدال پسند اور تقسیم کے لیے تیار ہے ، اوریہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا نے ملیریا کے خلاف جنگ میں ایک نیا ہتھیار حاصل کیا ہے جو کہ متعدی بیماریوں کی قدیم ترین اور جان لیوا بیماریوں میں سے ایک ہے ایک اندازے کے مطابق بیماری کو روکنے میں پہلی مدد کے لیے دیکھی جانے والی ویکسین ہر سال دسیوں ہزار بچوں کو بچائے گی۔

    ایک اندازے کے مطابق ملیریا ہر سال افریقہ میں پانچ لاکھ افراد کی موت کا باعث بنتا ہے جس میں آدھی تعداد بچوں کی ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر دو منٹ بعد ایک بچہ ملیریا کی وجہ سے انتقال کر جاتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ فیصلہ گھانا، کینیا اور مالدیپ میں 2019 میں تشکیل دیئے گئے ایک پائلٹ پروگرام کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے جہاں ویکسین کی 20 لاکھ سے زائد خوراکیں دی گئی تھیں۔جس کو پہلی مرتبہ فارماسیوٹیکل کمپنی گلیکسو اسمتھ کے لائن نے 1987 میں تیار کیا تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے ویکسین ملیریا پر مکمل طور پر قابو پانے کے لیے اثر انداز نہیں ہو گی لیکن پھر بھی افریقہ میں ملیریا کی لہر کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    دنیا میں مختلف بیماریوں اور جراثیم کے سدباب کے لیے کئی ویکسین موجود ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پہلی مرتبہ انسانی وبائی مرض کے خلاف ایک ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔

    ملیریا ایک مہلک بیماری ہے جو انسانوں میں مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے پھیلتی ہے اگرچہ اس کا تدارک کیا جا سکتا ہے تاہم صحت کا عالمی ادارہ کہتا ہے کہ سنہ 2019 میں اِس سے تقریباً 23 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے اور چار لاکھ نو ہزار اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

    اس بیماری کے لگنے کے بعد ابتدا میں بخار ہوتا ہے، پھر سر درد محسوس ہوتا ہے، سردی محسوس ہوتی اور علاج نہ کیے جانے کی صورت میں ‘یہ سنگین صورت اختیار کرسکتی ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔’

    ملیریا ایک خطرناک اور مہلک خون کو متاثر کرنے والا مرض ہے جو کہ ایک پیراسائیٹ سے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جسے اینوفلیز ماسکیٹو کہتے ہیں یہ اپنی خوراک انسانی خون سے حاصل کرتے ہیں اور اگر کوئی متاثرہ مچھر انسان کو کاٹ لے تو یہ بیماری انسان میں منتقل ہو جاتی ہے۔

    یہ بیماری بہت ہی جلد پھیلنے کی وجہ سے کافی خطرناک ہو سکتی ہے اور بیماری کی نوعیت پیراسائیٹ کی قسم پر منحصر ہوتی ہے۔ چونکہ یہ پیراسائیٹس دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اقسام کے ہوتے ہیں لہذا مرض کی نوعیت بھی علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔

    ملیریا کی علامات:
    ابتدائی علامات بیماری کی شدید نوعیت کی علامات سے مختلف ہوتی ہیں شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہ مرض مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے اس میں شدید تیز بخار چڑھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جسم شدید کپکپاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور انسان کو شدید سردی لگنے لگتی ہے اور وہ بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔

    متاثرہ شخص میں دورے پڑنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں اور انسان کا سانس بھی جواب دینے لگتا ہے جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور انسان خون کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے شدید ملیریا میں انسان کی آنکھیں بھی پیلی پڑ جاتی ہیں جسے جانڈس کہتے ہیں۔

    ابتدائی مراحل اور مناسب نوعیت کی بیماری میں اعضاء کے افعال میں کوئی کمی نہیں آتی اور علامات روزانہ 6 سے 10 گھنٹوں کے وقفے سے نمودار ہوتے ہیں مختلف اقسام کے پیراسائیٹس مختلف نوعیت کے مرض کا باعث بنتے ہیں تاہم بغیر علاج کے ہلکی نوعیت والی بیماری بھی شدت پکڑ سکتی ہے بالخصوص اگر انسان کی قوت مدافعت پہلے سے متاثر ہو۔

    چونکہ اس بیماری کی علامات عام کھانسی اور زکام سے ملتی جلتی ہیں اس لئے ابتدائی مراحل میں اس کی تشخیص نسبتاً مشکل ہو جاتی ہے۔

    علامات میں ٹھنڈے اور گرم پسینے،شدید سردی کی کیفیت، کپکپاہٹ اور تیز بخار شامل ہیں دورے پڑنا عموما بچوں میں دیکھا گیا ہے جبکہ سر درد، بخار اور الٹی سب کو برابر متاثر کرتی ہیں۔

    علاج اور احتیاط:
    اس مرض کا علاج دراصل جسم سے پیراسائیٹ کو ختم کرنے پر منحصر ہوتا ہے ایسے مریضوں کا بھی علاج ممکن ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں کیونکہ وہ انفیکشن پھیلا سکتے ہیں۔

    عام نوعیت کے مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو۔ایچ۔او ایکٹ(اے۔سی۔ٹی) تھراپی کا انتخاب بتاتی ہے جو کہ آرٹیمیسینن کے ساتھ مزید کسی ایک اور دوا پر مشتمل ہوتی ہے یہ ادویات پیراسائیٹس کی تعداد کو ڈرامائی طور پر کافی کم کر دیتی ہیں لیکن بری بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پیراسائیٹس اس دوا کے خلاف بھی مزاحمت اختیار کر رہے ہیں اور آرٹیمیسینن کے ساتھ ساتھ کسی اور طاقتور ڈرگ کا استعمال بھی لازمی ہو گیا ہےاس بیماری کے خلاف ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاج محض اینٹی ملیریئل ڈرگز پر ہی منحصر ہے لہذا بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ اس مرض سے بچا جائے۔

    مچھر سے بچاو کے کئی طریقے ہیں جن میں چند احتیاطی تدابیر مندرجہ ذیل ہیں:

    ایسی جگہوں پر رہا جائے جدھر کھڑکیاں اور دروازے اچھے طریقے سے بند ہوں یا ایئرکنڈیشنڈ کمروں کا انتخاب کیا جائے ایئرکنڈیشنڈ کمروں کی عدم موجودگی کی صورت میں مچھر دانی کا استعمال کیا جانا چاہئیے۔

    اپنی جلد پر مچھر مار ادویات یا سپرے کا استعمال کیا جائے بالخصوص شام اور رات کے وقت پورے بازوں والے کپڑے پہن کر جسم کو حتی الامکان ڈھانپنا چاہیئے۔

  • پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے    تحقیق

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    ماہرین کے مطابق پالک کھانے سے آنتوں کے سرطان کے خطرات سے محفوظ رہا جا سکتاہے-

    باغی ٹی وی : گٹ مائیکروبس نامی جرنل میں شائع ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پالک، جین ، آنتوں کی صحت اور کینسر کےدرمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے اس کے لیے ماہرین نے ایک موروثی کیفیت کا جائزہ لیا جسے ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کہا جاتا ہے یہ کیفیت والدین سے بچوں تک آتی ہے اور نوجوانوں میں غیرسرطانی رسولیوں کی وجہ بنتی ہے جنہیں آنتوں کے ابھار یا پولِپس کہا جاتا ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    اس مرض کے شکار افراد کی آنتوں میں بار بار گومڑیاں بنتی رہتی ہیں جنہیں سرجری سے نکال باہر کیا جاتا ہے اس طرح چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے ڈیوڈینم میں انہیں روکنے کے لیے ایک تھراپی کی جاتی ہے جو ایک زہریلا طریقہ علاج بھی ہے۔

    اس ضمن میں’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار جانوروں پر پالک کو آزمایا گیا برف میں جمی پالک جانوروں کو 26 ہفتے تک کھلائی گئی تو آنتوں میں رسولیاں بننے کے عمل میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی جو بڑی اور چھوٹی آنت میں موجود تھیں۔

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ پالک سے آنتوں کے بیکٹیریا کی ڈائیورسٹی میں اضافہ ہوا یعنی مددگار خردنامیوں کی تعداد بڑھی اور پھر ان کے جینیاتی اظہار میں بھی تبدیلی ہوئی جس سے کینسر کو روکنے میں مدد ملی اسی طرح پالک کھانے سے جانوروں میں اندرونی سوزش (انفلیمیشن) بھی کم ہوئی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ پالک کھانے سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے جو ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار نہیں۔ پالک کھانے سے آنتوں میں مفید بیکٹیریا بڑھتے ہیں جو سرطان کو روکتے ہیں اور ہرخاص وعام پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    ماہرین کے مطابق 10 سے 15 فیصد افراد میں آنتوں کا سرطان موروثی ہوتا ہے مضر کیمیکل اور سرطان والے ماحول میں کئی عشرے تک رہنے سے ان کے جین بدل جاتے ہیں اور سرطان کی جانب بڑھتے ہیں اس طرح پہلے غیرسرطانی رسولیاں بنتی ہیں اور اس کے بعد سرطان پیدا ہوتا ہے جن افراد کو جینیاتی طور پر آنتوں کے سرطان کا خطرہ ہوتا ہے ان میں بھی پالک بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

    اس سے قبل آنتوں کے سرطان اور ہرے پتے والی سبزیوں کے باہمی تعلق پر بہت غور ہوچکا ہے سبزیوں کا باقاعدہ استعمال آنتوں کے سرطان کا خطرہ کم کرتے ہوئے اسے نصف کرسکتا ہے کیونکہ اس میں فائبر اور دیگر فائدہ مند اجزا موجود ہوتے ہیں۔

    ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

  • چیف سیکرٹری پنجاب کا گوجرانوالہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دبنگ دورہ ، ہسپتال میں انتظام و انصرام کا جائزہ لیا اور مریضوں کی خیریت دریافت کی

    چیف سیکرٹری پنجاب کا گوجرانوالہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دبنگ دورہ ، ہسپتال میں انتظام و انصرام کا جائزہ لیا اور مریضوں کی خیریت دریافت کی

    گوجرانوالہ: چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے اپنے دورہ گوجرانوالہ میں اچانک ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال گوجرانوالہ کا دورہ کیا ۔ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی، صفائی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔

    چیف سیکرٹری نے پناہ گاہ، ایمرجنسی، ٹراما سینٹر اور مختلف وارڈز کا معائنہ بھی کیا اور ڈویژنل کمشنر کو ہسپتال کی عمارت کی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈز مختص کرانے کی ہدایت کی۔

    دورہ کے دوران مریضوں کی عیادت کی اوران سے سہولیات کی فراہمی بارے، ڈاکٹروں اور عملہ کے رویہ بارے دریافت کیا ہے۔

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے ہسپتال میں موجود مریضوں سے سوال کیا کہ علاج معالجے میں کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں، جس پرمریضوں نے ہسپتال میں سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کسی عبادت سے کم نہیں، انہوں نے ہدایات کیں کہ ادویات کی فراہمی، عملہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے، ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اورعملہ مریضوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔

    چیف سیکرٹری نے ہسپتال میں انتظامات کی تعریف کی اور سہولیات کا معیار برقرار رکھنے کا حکم دیا ۔
    جبکہ پرنسپل ڈاکٹر معروف عزیز اور ایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمن نے چیف سیکرٹری پنجاب کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں سرجیکل ٹاور اور مزید شعبوں کے قیام کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

  • صدر مملکت کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال

    صدر مملکت کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین میں کینسر کے 44 فیصد کیسز چھاتی کے کینسر کے ہیں جلد تشخیص ہونے سے مرض سے نجات پانے کا امکان 98 فیصد ہے-

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ممنوع موضوع ہونے کی وجہ سے خواتین مرض کی جلد تشخیص نہیں کروا پاتی ،جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا 50 فیصد خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ اپنا معائنہ خود کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، آگاہی نہ ہونا، دیر سے ڈاکٹر سے رجوع چھاتی کے کینسر سے زیادہ شرح اموات کا باعث ہیں،دیر سے تشخیص کی وجہ سے ایک لاکھ میں سے 50 ہزار خواتین فوت ہو جاتی ہیں-

    بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت

    صدر پاکستان نے مزید کہا کہ بیگم ثمینہ علوی اور ان کی ٹیم نے اکتوبر میں لوگوں کو آگاہی کیلئے مختلف پروگرام ترتیب دیے ہیں، ان پروگراموں میں خود تشخیصی اور مرض کی بروقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا-

    انہوں نے کہا کہ میڈ یا نے گزشتہ سال لوگوں کو بریسٹ کینسر بارے تعلیم دینے کیلئے مؤثر آگاہی مہم چلا ئی ،میڈیا خبروں ، ٹاک شوز، آرٹیکلز، کالمز اور ایڈیٹوریل کے ذریعے آگاہی پیدا کرے ،میڈیا چھاتی کے کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے حکومت اور سول سوسائٹی کی کوششوں کا ساتھ دے –

    انہوں نے کہا کہ میڈیا تنظیمیں بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنے لوگو کو "گلابی ” رنگ دیں-

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

  • ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    غذائیت حاصل کرنے کے لیے سُپر فوڈز کا استعمال ایک بہترین طریقہ ہے، یہاں ایک سپر فوڈز ہے جسے آپ اپنی خوراک میں آسانی سے شامل کر سکتے ہیں اور وہ مشروم ہے کیونکہ مشروم میں قدرتی طور پر کئی غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔

    طبی ماہرین نے اسے ایک ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ کہا جس میں پروٹین، بیٹا گلوکن، معدنیات اور مائیکرو نیوٹرینٹس ہوتے ہیں ماہرین نے حالیہ تحقیق میں بتایا کہ مشروم، ہمارے جسم میں غذائی اجزاء سٹیم سیل کی تخلیق نو اور ڈی این اے کی مرمت میں مدد کرتے ہیں مشروم صحت مند انجیوجینیسیس کی بھی حمایت کرتے ہیں، جو ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے خون کے نئے خلیے بنتے ہیں۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    مشروم وٹامن ڈی کے بہترین غذائی ذرائع میں سے ایک ہیں جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مشروم بےحد مفید ہیں، مشروم ہماری جِلد کو ہائیڈریٹ کرتے ہیں اور ہمیں کیل مہاسوں جیسے مسائل سے بچاتے ہیں کیونکہ مشروم میں اینٹی ایجنگ کی خصوصیات ہوتی ہیں انہیں قدرتی موئسچرائزر کے طور پر جانا جاتا ہے اور چہروں پر لگائے جانے والے بہت سے سیرم میں مشروم شامل ہوتے ہیں۔

    وزن کم کرنے کے لئے مشروم سب سے بہترین انتخاب ہے کیونکہ مشروم میں کیلوریز کم لیکن فائبر اور پروٹین زیادہ ہوتے ہیں، وہ ہمارے جسم کو معدنیات جیسے تانبا، پوٹاشیم اور سیلینیم بھی فراہم کرتے ہیں۔

    آپ مشروم کو مختلف طریقوں سے اپنی غذا میں شامل کرسکتے ہیں، جیسے آپ مشروم کی سوس بنا سکتے ہیں، سوپ بناسکتے ہیں، پاستہ وغیرہ میں مشروم شامل کرکے کھاسکتے ہیں۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

  • خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    ادرک کے استعمال سے صحت سمیت خوبصورتی پر بھی بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں غذائی ماہرین کے مطابق ادرک میں بڑی تعداد میں فائبر، وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹ اور قدرتی اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کے استعمال سے جہاں موٹاپے کے خاتمے، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے وہیں صاف جلد، خوبصورت بال، کیل مہاسوں سے نجات، اور پیٹ اور چہرے کے گرد جمی اضافی چربی کا خاتمہ بھی ممکن ہوتا ہے۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ادرک کے باقاعدگی سے استعمال کے نتیجے میں بال جھڑنے، چہرے پر کیل مہاسوں جیسی شکایات کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے ادرک کا استعمال اس کے تُرش اور بہترین ذائقے کے سبب پکوانوں سمیت بطور سلاد بھی کیا جاتا ہے، ادرک کے استعمال سے حاصل ہونے والے چند فوائد اور استعمال مندرجہ ذیل ہیں۔

    ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق ادرک کو بطور سلاد استعمال کرنے کے نتیجے میں رنگت اور جِلد صاف ہوتی ہے۔

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    ادرک کا استعمال بالوں کے جھڑنے کی بیماری میں بھی بے حد معاون ہے، بال لمبے گھنے چمکدار بنانے کے لیے ہفتے میں دو بار ادرک کا رس نکال کر اس سے بالوں کی جڑوں میں 30 منٹ ہلکے پوروں سے مساج کرنا چاہیے، اس عمل کے نتیجے میں بال دنوں میں صحت مند ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔

    مسوڑھوں کے مختلف امراض بالخصوص ان کی سوجن میں ادرک بے حد مفید ہے، دانتوں کو کیڑا لگنے سے بچانے اور سوجن دور کرنے کے لیے تازہ ادرک کا ٹکڑا دانتوں کے نیچے 15 سے 20 منٹ تک دبا کر رکھیں، کیڑے اور سوجن سے افاقہ ہوگا۔

    اچار کھانے کے حیران کن طبی فوائد

    خواتین کے لیے ادرک کا استعمال نہایت مفید اور لازمی قرار دیا جاتا ہے، بچے کی پیدائش کے بعد ادرک کا بطور سلاد، یا اس کا قہوہ بنا کر پینے کے نتیجے میں بڑھا ہوا وزن دنوں میں کم ہو جاتا ہے اور خواتین متعدد طرح کی بیماریوں اور کمزوری سے بچ جاتی ہیں-

    ادرک کے استعمال سے خون میں لال خلیوں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے جس کے سبب صاف اور بہتر خون کی افزائش ممکن ہوتی ہے، بہتر اور متوازن خون کی مقدار ہونے کے سبب انسانی جسم بھرا بھرا اور چہرہ کھلا نظر آ تا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے ادرک کا استعمال دوا کی طرح اثر انداز ہوتا ہے اور دودھ کی افزائش بڑھاتا ہے۔

  • صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    سفید مرچ کو زیادہ تر ’وائٹ پیپر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا ایک مخصوص ذائقہ کھانوں کو منفرد بناتا ہے اور صحت پر متعدد مثبت اثرات مرتب کرتا ہےغذائی ماہرین کے مطابق ہاضمے سے متعلق مختلف شکایتوں، دانتوں، مسوڑھوں کے مسائل، وزن میں کمی، سر درد، نزلہ، زکام، بخار اور کھانسی جیسی تکالیف میں سفید مرچ مددگار ثابت ہوتی ہے، سفید مرچ کو صحت کا خزانہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

    غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کالی مرچ اور سفید مرچ دونوں ہی صحت کے لیے بہتر ہیں لیکن سفید مرچ میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو اسے کالی مرچ سے زیادہ بہتر بناتی ہیں۔

    غذائی ماہرین کے مطابق سفید مرچ میں کیپسائسن جز پایا جاتا ہے جو جسم کی چربی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر وزن میں کمی کی دوائیں ایک فعال جز کے طور پر کیپساسین کی مقدار بھی رکھتی ہیں سفید مرچ کا استعمال آنکھوں کی بینائی کو بہتر بناتا ہے، بینائی تیز کرنے کے لیے سفید مرچ کا پاؤڈر، بادام پاؤڈر، سونف پاؤڈر اور چینی کا مکسچر بنا کر روزانہ کھانے سے آنکھوں کی روشنی میں اضافہ ہوتا ہے۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

    گرم مسالے میں شمار کی جانے والی سفید مرچ کی تاثیر بھی گرم ہے، اس کے استعمال سے جسم میں پیدا ہونے والی حرارت ناک سے جڑے سانس لینے والے نظام کو صاف اور متحرک بناتی ہے، سفید مرچ شہد کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے کے نتیجے میں یہ اینٹی بائیوٹک کے طور پر کام کرتی ہے اور ناک کی نالیوں کے انفیکشن کا مقابلہ کرتی ہے، اس کے استعمال سے نزلہ زکام اور کھانسی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    وائرل انفیکشن یا سردیوں کے موسم میں سفید مرچ کا استعمال سوپ اور سلاد میں مفید ثابت ہوتا ہے سفید مرچ فلاوونائڈز، وٹامن سی اور اے سے مالا مال ہے، یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہے ہائی بلڈ پریشر والے افراد کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں سفید مرچ شامل کرنی چاہیے، اس کے علاوہ سفید مرچ قلب کی صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    سفید مرچ میگنیشیم، کاپر اور مینگنیز جیسے معدنیات کا بھی بھرپور ذریعہ ہے، جو ہڈیوں کی طاقت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں سفید مرچ خاص کر اُن افراد کے لیے بہت مفید ہے جن کی ہڈیاں عمر کے ساتھ کمزور ہوجاتی ہیں۔سفید مرچ میں کچھ کارمینیٹیو (Carminative) خصوصیات موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ آنتوں میں گیس کی تشکیل کو روکتی ہے، یہ ہمارے نظام ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور آنتوں کو صاف کرتی ہے۔

    پسی ہوئی سفید مرچ ایک بہترین اسکرب کا کام کرتی ہے اور مردہ جِلد کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے، بالوں کی بہترین افزائش کے لیے سفید مرچ کے پاؤڈر کا کسی بھی ہیئر ماسک میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے بالوں کی جڑوں میں مساج بھی کیا سکتا ہے اس میں فلاوونائڈز، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں جس کے سبب جِلد جوان اور تر و تازہ نظر آتی ہے۔

    اچار کھانے کے حیران کن طبی فوائد

  • حکومت ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے      ڈاکٹر فیصل سلطان

    حکومت ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ڈاکٹر فیصل سلطان

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے آبپارہ ایم سی ایچ سینٹر کا اچانک دورہ کیا کہا کہ صحت کا شعبہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان نے علاج کے لیے آنے والے مریضوں سے علاج کی سہولیات کے بارے میں پوچھا اور اس موقع پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور عوام کو صحت کی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے جذبے اور لگن سے کام کریں۔

    معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت یونیورسل ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے جبکہ مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اسپتال کا عملہ لگن اور جذبے سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے مزید کہا کہ پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسز اور ڈاکٹرز کو اس وقت عزت ملتی ہے جب مریضوں کو صحت کی بہترین سہولیات میسر ہوتی ہیں۔

  • بلڈ بینک ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین کے بند دروازے عملہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت

    بلڈ بینک ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین کے بند دروازے عملہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت

    ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین نااہلی کم نہ ہو سکی
    رپورٹ کاشف تنویر تفصیلات کے مطابق آج ایک مریض کو خون کی اشد ضرورت تھی. بہت مشکل سے اس مریض نے خون کے عطیہ کا بندوبست کیا اور اس بندے کو لے کر ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین پہنچا تو دوپہر 1:30 پر بلڈ بینک والے ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ڈیپارٹمنٹ کو تالا لگا ہوا تھا.
    حالانکہ یہ ڈیپارٹمنٹ 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے احکامات ہیں.
    لیکن ہمارے سرکاری ملازمین کے منہ کو حرام لگ چکا ہے اور ان کا دل ہوتا ہے کہ تنخواہ اور حرام کی کمائی کوئی کام کئے بغیر ان کی جیب میں ڈال دی جائے.
    اطلاعات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین کے نئے ایم ایس جناب قمر الزمان صاحب نے کنٹرول سنبھال لیا ہے ان کو چاہیے کہ ان پرانے ملازمین کو سختی سے سمجھائیں اور ان کو حلال کھانے کی ترغیب دیں. ورنہ یہ سب لوگ ایم ایس صاحب کے لئے بھی شرمندگی کا مقام بنیں گے

  • پہلی دفعہ ڈسٹرکٹ ہسپتال منڈی بہاوالدین سے کوئی خوش آئند خبر

    پہلی دفعہ ڈسٹرکٹ ہسپتال منڈی بہاوالدین سے کوئی خوش آئند خبر

    رپورٹ کاشف تنویر : ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاؤالدین کی ایمرجنسی ایک نعمت ہے مگر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرز ایمرجنسی میں با عزت طریقے سے پیش نہیں آتے.
    لیکن آج کسی کام کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہسپتال جانا پڑا اور وہاں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں کئی مریضوں سے ملاقات ہوئی اور ان سے بات چیت کرنے کا موقع ملا تو پتا چلا کہ ایمرجنسی میں ڈاکٹر سعدیہ نامی ایک ڈاکٹر نے انہیں بہترین طریقے سے ڈیل کیا اور بہت اخلاق سے پیش آئیں ایسے محسوس ہوا جیسے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں ہوں۔ اور انہوں نے ایمرجنسی اتنے اچھے طریقے سے مینج کی ہوئی ہے کہ اس طرح تو کوئی میل ڈاکٹر بھی نہیں کر سکتا.
    شکریہ ڈاکٹر سعدیہ صاحبہ ہمارے شہر کو آپ جیسے ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے