Baaghi TV

Category: صحت

  • ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن  تحریر : ندرت حامد

    ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن تحریر : ندرت حامد

    دنیا بھر میں ہر سال 28 جولائی کو ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کے اندر ہے ہیپاٹائٹس جیسے مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے ۔ یہ جگر کی بیماری ہے جگر میں سوزش (زخم ,درد) کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ہیپاٹائٹس کے دن ایک خاص تھیم رکھا گیا ہے اس سال کا تھیم (theme ) ہے
    Hapatites can’t wait
    یعنی ہیپاٹائٹس انتظار نہیں کر سکتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام ہیں ۔ ہیپاٹائٹس آۓ بی ,سی ڈی اور ای ۔
    ہیپاٹائٹس بی اور سی سب سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ ان کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 1.1 ملین لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ اور ہر سال تین لاکھ سے زائد کیس سامنے آتے ہیں ۔ہیپاٹائٹس کی پہلی قسم میں ہیپاٹائٹس A ہے ۔ HAV کھانے پینے میں ناقص صفائ کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔ جنسی عمل سے بھی یہ پھیل سکتا ہے ۔ ویکسین دستیاب ہونے کی وجہ سے عام طور پر متاثرہ افراد صحت یاب ہو جاتے ہیں ۔
    دوسری قسم ہیپاٹائٹس B ہے ۔HBV متاثرہ خون , میڈکل ٹریٹمنٹ کے دوران استمعال ہونے والے جراثیم سے آلودہ آلات کے زریعے پھیلتا ہے ۔متاثرہ ماں سے زچگی کےدوران بچے میں منتقل ہوتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس بی بہت ہی خطرناک ہے لیکن اسکی ویکسین دستیاب ہے ۔ ہیپاٹائٹس سی HCV زیادہ تر بلڈ ٹرانسمیشن اور غیر صاف آلات جراحی کی وجہ سے پھیلتا ہے بہت کم حد تک جنسی عملHCV کی وجہ بنتا ہے ۔HCV کی اب تک کوئ ویکسین ایجاد نہیں ہوئ ۔ لیکن احتیاطی تعدبیر اختیار کر کے اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے ۔
    ہیپاٹائٹس D وائرس اکثر اوقات ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پہلے سی ایچ بی وی کا شکار ہوتے ہیں ۔ دونوں وائرس مل کہ شدت اختیار کر لیتے ہیں اور مریض نازک کی حالت نازک ہو جاتی ہے۔ تاہم ایچ بی وی کی ویکسین کی وجہ سے علاج ممکن ہے ۔پانچویں قسم ہیپاٹائٹس E ہے ۔ ایچ ای وی ناقص خوراک کھانے اور ناقص پانی پینے کی وجہ سے پھیلتی ہے ۔ ہیپاٹائٹس زیادہ تر ترقی پزیر ممالک میں عام ہے ۔جہاں صحت و صفائ کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ پچاس ہزار ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نئے کیس سامنے آتے ہیں ۔ ایچ ای وی کی ویکسین میسر ہے ۔
    اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں ہیپاٹائٹس اور اسکی مختلف اقسام کے متعلق معلومات دینا ہے تاکہ حفاظتی اقتدام اختیار کر کے خود کو ہیپاٹائٹس سے بچایا جا سکے
    @N_Hkhan

  • ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹرغائب عوام دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور

    ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹرغائب عوام دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور

    ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو یا مذبح خانے میں تبدیل انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت دے دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹر غائب عوام دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور شہریوں کا کہنا ہے کہ واحد بنیادی مرکز صحت سینٹر بنایا گیا ہے جس میں آئے روز لیڈی ڈاکٹر اور سٹاف غائب رہتا ہے-

    شہریوں کا کہنا تھا کہ لیڈی ڈاکٹر انتہائی بدتمیز بداخلاق رویے سے خواتین سے بات کرتی ہیں اور دیہی علاقوں سے آنے والی خواتین سے پیسے بھی وصول کرتی ہیں اور جب اس حوالے سے سٹاف سے موقف لیا گیا تو اسٹاف کا کہنا ہے کہ آج ڈاکٹر صاحب ڈی ایچ او صاحب کی جانب سے ایک این جی او کے ساتھ ڈیوٹی پر گئی ہوئی ہے سیکڑوں گاؤں کے لوگ دردر رُل گئے خواتین مارے پھرنے لگی –

    خواتین کا کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈی ایچ او کے خلاف اور بی ایچ یوکے ڈاکٹر کے خلاف وزیراعلی خیبرپختونخوا چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ہیلتھ سیکرٹری خیبرپختونخوا فوری طور پر نوٹس لے اور کاروائی کریں تاکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ڈی ایچ او ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے –

    دوسری جانب ڈی ایچ او سے موقف لینے کے لیے بارہا رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے انکار کردیا۔

  • تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر:  فرقان اسلم

    تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر: فرقان اسلم

    قارئین کرام اگر ہمیں کسی چیز کی عادت ہوجائے تو وہ ہمارے لیے ایک نشہ بن جاتا ہے۔ اس کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔ ہم چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ وہ چیز ہمارے دل و دماغ میں بس گئی ہوتی ہے اور پھر اس سے چھٹکارا بہت مشکل ہوتا ہے۔
    بالکل اسی طرح کا حساب تمباکونوشی کا ہے۔ شروع شروع میں انسان اسے معمولی سمجھ کر یا شوق کے طور پر اس کا شکار ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ انسان کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کو اس کام کی لَت لگ جاتی ہے۔ اور اس کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ تمباکونوشی کرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثر نوجوان ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ بری محفل میں بیٹھنے سے اس کا شکار ہوتے ہیں اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کا خیال رکھیں کہ وہ کن کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں جو طلباء پڑھتے ہیں وہ اس ناسور کا شکار ہیں۔ جو مستقبل کے معمار اپنی توجہ پڑھائی پر دینے کی بجائے ان فضول کاموں میں دیں گے تو پھر ان کا مستقبل روشن کی بجائے تاریک ہوتا جائے گا۔ سب سے بڑھ کر تمباکونوشی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انسان کی جسمانی اور دماغی صلاحیت کو کمزور کردیتی ہے۔ جب انسان کی صحت ہی بری طرح متاثر ہوگی تو نہ تو پڑھائی ہوگی اور نہ دوسرے کام۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکونوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکونوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اور کارسینوجنز بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا سبب بنتے ہیں اگر ہمارے وطن پاکستان کو اچھا مستقبل چاہیئے تو سگریٹ نوشی پر روک تھام کرنی چاہیئے۔ تمباکونوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈی نینس، مجریہ 2002 کے مطابق اس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کو سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے ۔
    لٰہذا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس سے بچنے کے لیے لوگوں کے اندر شعور اور آگاہی پیدا کی جائے۔ اور حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس اب ہم اس لَت کا شکار ہوگئے ہیں اب نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر انسان مصمم ارادہ کرلے تو ہر بری عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے ایک ذہن سازی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا ہمارے معاشرے میں فقدان ہے۔
    ہر برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ تمباکونوشی وقت کے ساتھ ساتھ دولت بھی ضائع کردیتی ہے۔ ظاہر ہے جب انسان اس کا شکار ہوگا تو اسے کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس کا مال کن کاموں میں استعمال ہورہا ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی فضول خرچی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ فضول خرچی کرنے والے کو تو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو اس برے کام سے محفوظ رکھے اور جو اس کام میں مبتلا ہیں ان کو اس سے نجات حاصل فرمائے۔۔۔آمین

    @Rumi_PK

  • وٹامنز اور ہماری صحت  تحریر :  شاہ زیب احمد

    وٹامنز اور ہماری صحت تحریر : شاہ زیب احمد

    وٹامن یا حیاتین کا شمار ان اجزاء میں ہوتا ہے جو جسمانی اجزاء کی کارکردگی بہتر بنانے کیساتھ ساتھ جسم کو صحیح طریقے سے کام کرنے اور صحت مند رکھنے میں خصوصی کردار ادا کرتے ہیں.
    اگر روز مرہ خوراک میں وٹامنز کو شامل نہ کیا جائے یا کم مقدار میں لیا جائے تو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے جو احتیاط نہ کرنے پر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے.
    وٹامنز کی دو اہم اقسام ہے:
    ✓ پانی میں حل ہونے والے وٹامنز۔
    ✓چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز۔

    ہمارے جسم کو تقریبا 13 وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہیں، جسمیں سے کچھ پر اس تحریر میں بات کرینگے کہ وہ کیوں ضروری ہے اور کہاں سے حاصل کئے جا سکتے ہیں.

    *وٹامن اے (Vitamin A):-*
    ہمارے جسم کو روز مرہ 0.4-1 ملی گرام وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے
    وٹامن اے کی مناسب مقدار ہماری تیز نظر ، نرم و ملائم جلد، مضبوط دانت اور ناخن کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
    وٹامن اے گاجر ، فروٹ، پنیر ،انڈہ اور کلیجی سے وافر مقدار میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    *وٹامن سی (Vitamin C)* :-
    حالیہ مرض کرونا سے متاثر افراد کیساتھ صحت مند لوگوں نے بھی بچاؤ کے لئے وٹامن سی وافر مقدار میں استمال کی ہے، دراصل وٹامن سی مضبوط قوت مدافعت (بیماری کے خلاف لڑنے کی جسمانی صلاحیت) کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے ، اسکےعلاوہ چہرے کی خوبصورتی اور تازگی ، مضبوط بال اور خوشگوار موڈ کے لئے بھی وٹامن سی کی وافر مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔
    جو کہ تازہ سبزیوں، آلو، ٹماٹر، انگور، سنگترہ اور لیموں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
    ہمارے جسم کو روز مرہ 70 ملی گرام وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہیں.

    *وٹامن ڈی (Vitamin D)*:-
    مضبوط ہڈیاں، جوڑوں کے درد سے نجات، نارمل بلڈ پریشر اور جسم سے زہریلے مواد کے خاتمے کے لئے وٹامن ڈی ضروری ہوتا ہے۔
    مچھلی، انڈے کی زردی ، آلو اور سبزیوں میں وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ قدرتی طور پر سورج کی کرنوں سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے
    ہمارے جسم کے لئے روزانہ 2.5 ملی گرام وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے

    *وٹامن ای (Vitamin E) :-*
    بڑھتی عمر کیساتھ صحت مند رہنا،جنسی کمزوری و اعصابی کمزوری، ٹیومر (رسولی)، دل کی تکلیف اور ماحولیاتی بیماریوں سے بچنے کے لئے وٹامن ای ایک ضروری جز ہے۔
    وٹامن ای گوشت ، کدو، مکئی ، پھل اور خشک میوا جات میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
    ہمارے جسم کو روزانہ 50-30 ملی گرام وٹامن ای کی ضرورت ہوتی ہے

    *وٹامن کے (Vitamin K) :-*
    زخم کے جلدی بھرنے اور خون کے نارمل گاڑھے پن کو برقرار رکھنے کے لئے وٹامن کے ضروری ہوتا ہے۔
    بچوں کے پیدائش پر انہیں وٹامن کے کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے،
    وٹامن کے گاجر، ٹماٹر، گھوبی،اور سبز چائے میں پایا جاتا ہے۔
    جسم کی روز مرہ کی ضرورت 2-1 ملی گرام ہے

    *وٹامن بی (Vitamin B) :-*
    ذہنی و اعصابی کیفیت میں مبتلا رہنا، نیند کے مختلف مسائل اور چہرے کے مختلف داغ دھبوں کی شکایت وٹامن بی کی مناسب مقدار حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے،

    وٹامن بی کے مختلف اقسام ہیں جیسے کہ

    _وٹامن بی ون (Vitamin B1):-_
    دماغی کمزوری، صحت مند نظام ہضم، خوشگوار نیند اور پٹھوں کی کمزوری، سے بچنے کے لئے وٹامن بی ون کی مناسب مقدار ضروری ہے،

    مکئ، دلیا، ساگ، مونگ پھلی اور خشک میوا جات میں پایا جاتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 3-1.2 ملی گرام.

    _وٹامن بی 2 (Vitamin B2) :-_
    جسم کے مردہ خلیوں کو دوبارہ بناتا ہے، تیز نظر اور پٹھوں کے کمزوری سے بچانے میں مدد دیتا ہے،
    گوشت، دودھ، بادام، پنیر ، اور انڈے میں پایا جاتا ہے۔
    جسم کی روزانہ ضرورت 3-1.3 ملی گرام.

    _وٹامن بی 5 (Vitamin B5):-_
    تیز حافظہ ،خوشگوار موڈ مضبوط رگیں (نس)، مضبوط دل کے لئے وٹامن بی5 ضروری ہوتا ہے۔
    چکن، چاول، مکئی کی روٹی ، گھوبی، دودھ کے بنے اشیاء ،اور ڈرائی فروٹ میں پایا جاتا ہے۔
    روز مرہ کی ضرورت 5 ملی گرام

    _وٹامن بی6 (Vitamin B6) :-_
    تا دیر جوان رہنے ، مضبوط اعصابی نظام ، اور مضبوط رگوں کے لئے وٹامن بی6 ضروری ہوتا ہے.
    مچھلی، گوشت ،زرعی اجناس, سلاد، کیلے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 2-1.6 ملی گرام.

    _وٹامن بی12 (Vitamin B12):-_
    قوت مدافعت، قوت سماعت، وزن کو برقرار رکھنا اور خوراک کی نالی کے پٹھوں کے مضبوطی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
    گوشت، دودھ، انڈے کی زردی، پنیر ، مٹر اور پالک میں پایا جاتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 2.5 ملی گرام ہے.

    یہاں کچھ وٹامنز کے بارے میں مختصر تفصیل شئیر کیا ہے انشاء اللّٰہ اگلے تحریروں میں مزید تفصیل بھی شئیر کی جائی گی.

    .
    Twitter I’d @Zebi_afridi

  • موٹاپا اور اس سے نجات کے طریقے تحریر: زارا سیٌد

    موٹاپا اور اس سے نجات کے طریقے تحریر: زارا سیٌد

    ھمارے جسم میں چربی زیادہ ہو جانے سے موٹاپا ھوتا ھے جو ایک پیچیدہ بیماری ہے۔ موٹاپا ایک ایسا مسئلہ ہے جو نظر انداز کئے جانے سے کئی اور بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ جیسے کہ دل کی بیماریاں، شوگر، بلڈ پریشر میں اضافہ اور کئی قسم کے کینسر وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا کم کرنا بہت ضروری ھے۔ 

    کچھ ایسے طریقے ھیں جن سے موٹاپا کم کیا جاسکتا ھے مثلاً۔۔۔

     موٹاپے کی وجوھات؟
    روز مرہ کی سرگرمی اور ورزش میں جلنے سے زیادہ کیلوری کھانا موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ، یہ اضافی کیلوری وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔لیکن یہ ہمیشہ صرف زیادہ کیلوری کے کھانے سے نہیں ہوتا ہے ، یا پھر صرف کم حرکت طرز زندگی سے نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ واقعتا موٹاپے کی وجوہات ہیں ، کچھ وجوہات ایسی بھی ھوتی ہیں جن پر آپ قابو نہیں پا سکتے ہیں۔

    موٹاپا سے نجات کا طریقہ:
    پروٹین کا استعمال:
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ناشتے میں اناج سے بنی اشیا کی جگہ انڈے یا کوئی بھی پروٹین اور کیلشیم سے بھرپور غذا کھانا زیادہ فائدہ مند ھے یہ جسم میں اگلے کئی گھنٹے تک غذائی حرارے لینے کی ضرورت کو کم کردیتا ہے جسکی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی استعمال میں لا کر موٹاپا کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    بغیر چھنا آٹا:
    زیادہ باریک آٹا استعمال نہ کریں۔ اس کی بجائے بغیر چھنا ہوا آٹا وزن کم کرنے کے لیے استعمال کریں۔

    چھوٹے برتن کا استعمال:
    چھوٹی پلیٹ کا استعمال کھانا کم کھانے کا ایک طریقہ ہے۔ اور جب کھانا تھوڑا کھایا جائے تو جسم موجود چربی استعمال ہو کر موٹاپا کم کرنے میں مدد کرتی ھے۔

    چینی کا استعمال ترک کرنا:

    کسی بھی کھانے پینے کی چیز میں اضافی مٹھاس کے لیے چینی کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔

    پانی کا استعمال:

    وزن کم کرنے کے لیے پانی کھانے سے آدھ گھنٹہ پہلے پینا موٹاپا کم کرنے کے طریقوں میں سے مؤثّر ترین طریقہ ہے اور یہ بات ایک تحقیق سے ثابت ھوئی ہے کہ کھانے سے پہلے پانی پینے والے افراد ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں اپنا وزن 44 فیصد تک زیادہ کم کر سکتے ہیں

    کافی پینا:

    کافی کے بہت سے فوائد ھیں ایک اس کا ایک فائدہ یہ بھی ھے کہ موٹاپا کم کرتی ھے بشرطیکہ اسے بہت کم مٹھاس کے ساتھ یا اس کے بغیر لیا جائے۔

    سبز چائے:

    اس کے فوائد بھی کافی کی طرح اس میں چینی شامل نہ کی جاۓ بلکہ شہد اور لیموں کا استعمال کیا جائے۔

    کبھی فاقہ کریں:

    کچھ دنوں کے بعد دو دن روزہ رکھنا یا کسی دن تین کی بجائے صرف دو بار کھانا بھی موٹاپا دور کرنے طریقوں میں سے ایک خاصا مفید طریقہ ہے۔ 

    خوراک کے اجزأ پر نظر رکھیں:

    اپنے کھانے میں شامل اجزأ پر نظر رکھنا موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر اپنانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آپ یہ معلوم کر پاتے ہیں کہ آپ کے کھانے میں شامل کون سی اشیاء جسم میں چربی کے اضافے کا باعث ہوتی ہیں اور کون سی کم غزائی حراروں یا کیلوریز پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی کے استعمال سے موٹاپا کم کرنے کا کام کر سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپنے ہر کھانے کو کسی ڈائری میں لکھ لیں۔

    فائبر والی خوراک کھانا:

    زیادہ ریشوں والی خوراک کا لینا جہاں ہاضمے کے لیے مفید ہے یہ کم غذائی حراروں پر مشتمل ہوتی ہے جس وجہ سے جسم اپنی توانائی کو پورا کرنے کے لیے اپنی چربی کو استعمال کرتا ہے اور موٹاپا کم ہونے لگتا ھے

    پھل زیادہ کھانا:

    پھل اور سبزیاں صحت بخش ہونے کے علاوہ ایسے خواص کے بھی حامل ہیں جن سے موٹاپا کم ہوتا

    ڈائٹنگ نہ کریں

    بالکل کھانا چھوڑ دینا یا کھانے کے لیے ضروری اجزاء میں سے کوئی کم یا زیادہ لینا خوراک کو صحت بخش نہیں رہنے دیتا۔ اس لیے موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر عمل میں لانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    @Oye_Sunoo

  • بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان  تحریر: منصور احمد قریشی

    بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان تحریر: منصور احمد قریشی

    پاکستان کی آزادی کے وقت ، پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کا نظام وراثت میں ملا جو برطانوی عہد کا عظیم ورثہ تھا ۔ یہ نظام صحتِ عامہ کی خدمات اور کچھ علاج معالجہ کی شکل میں تھا ۔ پاکستان میں صحت کی پالیسیاں بنانے اور منصوبہ بندی کا معاملہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ صوبائی حکومتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنائیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں پبلک ہیلتھ سکولوں اور ٹیکنیشین ٹریننگ اداروں کو متعارف کروا کر میڈیکل پروفیشنلز کو تربیت دے کر صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کرنے کی بجاۓ میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ترقی میں اپنے محدود وسائل خرچ کر رہی ہیں۔

    پاکستان میں کوالیفائیڈ نرسز ، دائیوں ، دانتوں کے ڈاکٹرز اور فارماسسٹس کی کمی ہے ۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جا رہی ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات خاصی زیادہ ہے ۔ ملک میں خواتین کی اکثریت خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہے ۔

    صحتِ عامہ کے ناقص نظام کا اثر اسہال کے بڑھتے ہوۓ معاملات خصوصاً بچوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔معاشرے کے امیر طبقے کو صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہے کیونکہ وہ نجی ہاسپٹلز کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف غریبوں کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ حکومت صحت کی خدمات کی فراہمی میں معیار کو یقینی بناۓ ۔ اسے صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کو بہتر مراعات فراہم کرنی چاہیئیں ۔ اور تربیتی اداروں کے نظام کو بہتر کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیۓ ۔ تاکہ پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے ۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ، بہتر پیداواری اور صحت مند معیشت کو یقینی بنا سکتی ہے ۔

    آئینِ پاکستان کے مطابق سواۓ وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں کے ، صحت کی دیکھ بھال بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ کورونا، ایڈز ، پولیو اور کچھ دیگر توسیعی پروگراموں کے نفاذ کی اور حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کی ذمہ داری بڑی حد تک وفاقی وزارتِ صحت پر ہے ۔

    پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ نجی اور سرکاری شعبہ پر مشتمل ہے ۔پاکستان میں نظامِ صحت کی حالت یہ ہے کہ نجی شعبہ ، آبادی کا تقریباً 70 فیصد خدمت کرتا ہے ۔ پاکستان میں بنیادی طور پر خدمت کے نظام کی فیس ہے ۔ سرکاری طور پر صحت کے حوالے سے بدانتظامی اس حد تک عیاں ہے کہ نہ تو نجی اور نہ ہی سرکاری شعبے ریگولیٹری فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں ۔

    ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 30 فیصد سے بھی کم آبادی کو پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز کی سہولیات تک رسائی حاصل ہے ۔ اور اوسطً ہر فرد ایک سال میں ایک سال سے بھی کم ہیلتھ کیئر سینٹرز تک جاتا ہے ۔ ہیلتھ کیئرسینٹرز میں جانے میں عدم دلچسپی کی وجہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد اور خاص طور پر وہاں خواتین کی کمی ، غیر حاضری کی اعلٰی شرح ، سہولیات کا ناقص معیار اور ادویات کی عدم دستیابی شامل ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پاک فوج ، پاکستان ریلوے ، اٹامک انرجی اور بہت سے دیگر ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے ملازمین کو بہترین صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

    صحت کی پالیسی کی تعریف فیصلے ، منصوبے ، اور اقدامات کے طور پر کی جاسکتی ہے ۔ جو معاشرہ میں صحت کی دیکھ بھال کے مخصوص اہداف کے حصول کے لیۓ کئے جاتے ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ مل بیٹھکر عوام کی صحت کے حوالے سے ایک واضح اور جامع پالیسی مرتب کریں ۔ نئے ہاسپٹلز بناۓ جائیں ۔نئے ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز کو ملازمتیں دی جائیں ۔ پیشہ ور نرسز کو تعینات کیا جاۓ ۔ غریب عوام کے لیۓ مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاۓ ۔ تاکہ غریب عوام کو بہتر اور مفت صحت کی سہولیات میسر آ سکیں اور اُنکا معیارِ زندگی بہتر ہو سکے ۔

    Twitter Handle : @MansurQr

  • نشیات کے عادی لوگ  تحریر:  بلال ناصر کھرل

    نشیات کے عادی لوگ تحریر: بلال ناصر کھرل

    ۱_ منشیات کے خلاف قوم کا محاذ ایک کھلا راز
    پاکستان ایک ایسے خطرے سے دو چار ہے جس نے بہت سے گھروں کو ویران کر دیا اور نوجوان قوم کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے
    پاکستان میں 8 ملین افراد ہیروئن اور افیون جیسے منشیات کے عادی ہے اور ہر سال چھیالیس لاکھ سے زائد افراد منشیات کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہے ،
    نشے کا اثر صرف جسم پر ہی نہیں ، ان کے گھر والوں اس کی زندگی میں وابستہ ہر انسان پے پڑتا ہے ، اور انسان کی ذہنی صحت اور دماغی تندرستی پر بھی پڑتا ہیں ،
    تو کیا یہ انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے؟
    نقصان دہ ہے تو وقت کے حکمران بھنگ پی کے کیوں سوئے ہے اس پے ایکشن کیوں نہیں لے رہیں اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق پاکستان دنیا کے منشیات کے لحاظ سے نمبر 1 پے ہے ،
    یہ نوجوان نسل کو برباد کرنے میں اپنا مسلسل کردار ادا نہیں کے رہا؟
    منشیات سے زیادہ تر 13 سے 21 سال کے نوجوان لڑکیاں اور لڑکے متاثر ہو رہے ہیں ، اور اس کے علاوہ ان کے گھر والے اور آنے والی نسلے بھی متاثر ہو رہی ہے ، کیا ہمیں حکومت وقت سے مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؟
    کیوں کہ یہ سب نہایت ہی مہلک ثابت ہوتا ہے
    کیا یہ سب ہم ایسے ہی دیکھتے رہیں گے؟
    ہر ایک فرد ہمارے ملک پاکستان کا حصہ ہے ایک شخص کا نقصان پورے ملک کا نقصان ہے تو ہم اپنے ملک کا نقصان ہوتے کیسے دیکھ سکتے ہیں ،
    اگر آپ کسی ایسی شخص کو جانتے ہے جو نشہ کرتا ہے ، یا اس لت میں مبتلا ہو رہا ہے ، تو انہی بتائیے کہ یہ کس طرح اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا گلا گھونٹ رہا ہے ، اگر یہ لوگ پھر بھی نہیں رکتے تو قانون کی ہیلپ لیجیے کیوں یہ ہمارا بھی اچھے انسان ہونے کا حق ہے اور اس ملک کے ذمہ دار فرد ہونے کا حق بنتا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کریں اور اطلاع دیں ،
    منشیات کی لت اگر زور پکڑ لے تو اس سے چھٹکارا پانا نا ممکن ہے
    کیا آپ اس کہ اثر سے نہ آشنا ہے؟ اگر نہیں تو یہ سب ملک میں کیوں کر ہو رہا ہے
    اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے نہ ممکن نہیں ہے اس کے لئے خود پر قابو ایک اہم جز ہے جس سے ہم نہایت ہی آسان طریقے سے اس بیماری سے آزاد ہو سکتے ہے،
    منشیات کے عادی لوگ کس طرح مجبور ہو کر اپنی اس لت کو پورا کرنے کے لئے کن بری بری چیزوں کا سہارا لیتے ہے اور برے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہے
    نشہ کرنے والے لوگ شاید ہمارے معاشرے کی کچھ غلط راویوں ،
    بیروزگاری، گھریلوں مسائل اور اس جیسے کئی مسائل نوجوان قوم کو یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ،
    لہذا! ان چیزوں پر قابو پا کر نوجوان نسل کو برے کاموں سے موڑ کر سیدھے راستہ اختیار کر کے تمام مسائل کا حل نکالنا ہر گھر کی ذمہ داری ہے آپ لوگ اپنے بچوں کے خیال رکھے ،
    اُن کی محفل کا خیال رکھے ، تب ہی منشیات جیسی لت چھٹکارا پا سکتے !!
    ہمارا موٹو : منشیات سے پاک پاکستان___
    @kharal

  • مون سون میں پھیلنے والے وبائی امراض اور احتیاطی تدابیر

    مون سون میں پھیلنے والے وبائی امراض اور احتیاطی تدابیر

    پاکستان بھر میں جولائی کے وسط سے گرمی کی شدت میں کمی اور مون سون موسم کا آغاز ہو جاتا ہے، جہاں یہ خوشگوار موسم خوشی کا سبب بنتا ہے وہیں ساتھ میں بے شمار وبائی امراض بھی لاتا ہے جن سے بچنا ضروری ہے۔

    طبی ماہرین کے مطابق مون سون موسم کے دوران پیدا ہونے والی بیماریوں میں ’سیزنل انفلوائنزا‘ یعنی کہ موسمی زکام، ملیریا، ٹائیفائیڈ، ڈینگی بخار، ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان) اورہیضہ سرفہرست ہیں، ان سب میں سے زیادہ وبائی زکام، ہیضہ اور جِلدی بیماریاں بچوں اور بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔

    بہتر قوت مدافعت اور پُرسکون نیند کے لئے گھریلو مصالحوں سے تیارکردہ جادوؤئی مشروب

    طبی ماہرین کے مطابق مون سون کے موسم میں پھیلنے والی عام شکایت زکام، ’انفلوائنزا وائرس‘ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے، یہ وائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لیے یہ جلدی سے ایک فرد سے دوسرے میں با آسانی منتقل ہو کر بڑی تعداد میں عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اس شکایت کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہے۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    ہیضے کے مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم میں نمکیات کی کمی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ہیضے کے مریض کو اوآرایس پانی میں گھول کر پلانا چاہیئے جو جسم میں پانی کے ساتھ ساتھ نمکیات کا توازن برقرار رکھتا ہے،ہیضے سے بچاؤ کے لئے ابال کر صاف پانی کا استعمال اور حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھناضروری ہے ۔

    انگلیوں سے فنگس کے داغ ختم کرنے کے طریقے

    برسات کے موسم میں آلودہ پانی میں پائے جانے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ٹائیفائڈ کے پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتاہے جوکہ آلودہ کھانے یا کسی متاثرہ شخص کے فضلے سے پھیلتا ہے ،اسکی علامات کچھ دنوں تک تیز بخار، پیٹ میں شدید درد، سر درد اور قے آنا ہے۔اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اسکا جراثیم علاج کے بعد بھی پتے میں رہ جاتا ہے اس مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر میں صاف پانی کا استعمال، اچھے اینٹی بیکٹیریا صابن کا استعمال اور بہتر نکاسی آب کا انتظام کرنا چاہیئے ۔

    کُھلی فضا میں مچھروں سے بچنے کے آسان ٹوٹکے

    اسی طرح برسات کے موسم میں پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ملیریا ہے جو کہ بارش کے کھڑے پانی میں پیدا ہونے والے مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس کی نشانیوں میں تیز بخار، جسم اور سر درد، پسینہ آنا شامل ہیں، اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جائے تو جگر اور گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ملیریا سے بچاؤ کی احتیاطیی تدابیر کے لیے مچھر دانی کا استعمال کرناچاہیئے اور رات سونے سے قبل مچھر مار اسپرے یا مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جانے والے لوشنز کا استعمال لازمی کریں اور کوشش کرنی چاہیئے کہ گھر میں گندے پانی کا ذخیرہ نہ ہو

    حشرات کے کاٹنے کے علاج کے مختلف طریقے

    پانی جمع ہونے سے ڈینگی بخار پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، ڈینگی مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتاہے۔ اس مچھر کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر سفید اور کالی لکیریں ہوتی ہیں اور یہ دوسرے مچھروں سے عموماً بڑا ہوتا ہے اور صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔ڈینگی بخار کی نشانیوں میں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، سر درد، بخار اور جسم پر سرخ نشانات بننا شامل ہیں-

    ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات

    مون سون کی بارشیں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے درج بالا بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتی ہیں، لہٰذا مون سون کے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحت و صفائی کا خاص خیال رکھا جائے ، خود کو اور گھر کو صاف ستھرا رکھاجائے،تاکہ وبائی امراض کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات سے بچا جاسکے ۔

    سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر

    سڑکوں پر پانی اس وقت جمع ہوتا ہے جب سیوریج کا نظام ٹھیک نہ ہو اور سیوریج کا نظام ٹھیک نہ ہونے کی دو بڑی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ نکاسی آب کے لیے مختص گندے نالوں کی صفائی کا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا، چنانچہ جونہی معمول سے کچھ زیادہ بارش ہو جائے سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے ۔ دوسری وجہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز ہیں جنہیں لوگ استعمال کے بعد ادھرادھر پھینک دیتے ہیں اور جو ہوا کے ذریعے یا بارش کے پانی کے ساتھ بہہ کر سیوریج کے نظام میں داخل ہوتے اور اسے بلاک کر دیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ مون سون سے قبل گندے نالوں کی صفائی کا اہتمام کیا جائے اور شاپنگ بیگز کی استعمال پر جو پابندی عائد کی گئی ہے اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ، تاکہ کورونا کے بعد مزید وبائی امراض سے بچا جاسکے ۔

    مُہلک کانگو وائرس علامات اور احتیاطی تدابیر

    علاوہ ازیں طبی ماہرین کے مطابق مندرجہ بالا سب ہی وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے بہتر اور مثبت غذا کا استعمال کرنا لازمی ہے۔

    غذ ائی ماہرین کے مطابق وبائی امراض اور اینٹی بائیوٹک دوا لینے سے بچنے کے لیے ہر گھر میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات سے بھرپور لہسن، ادرک، پودینہ، میتھی دانہ، موسمی پھلوں، زیرہ، پپیتا، الائچی، اجوائن، کلونجی، سونف اور لیموں کا استعمال روز مرہ کی روٹین میں بڑھا دینا چاہیے ان غذاؤں کے استعمال کے نتیجے میں قوت مدافعت مضبوط ہوتا اور موسمی وائرسز سے نجات حاصل ہوتی ہے-

    نزلہ زکام کا گھریلو طبی علاج اور غذائی پرہیز

  • الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں  ؟

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    الٹرا پروسیسڈ کھانے ہم بہت پسند کرتے ہیں لیکن ان کا استعمال ہماری صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہے اس کے استعمال سے کم نیند، سینے اور معدے میں جلن، سستی، قبض، پائلز اور وزن میں اضافے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں-

    پکلنگ، کیننگ، پیسچورائزنگ، فرمنٹنگ، ری کونسٹیٹیوٹنگ ۔ یہ سب فوڈ پروسیسنگ کی شکلیں ہیں، اور حتمی نتائج اکثر کافی مزیدار ہوتے ہیں۔

    لیکن جو چیز ’الٹرا پروسیسڈ‘ فوڈز (یوپی ایف) کو منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انھیں پہچان سے کہیں زیادہ اور کیمیائی طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اس میں ایسے مختلف طریقے اور اجزا استعمال کیے جاتے ہیں جو ہم گھر پر کھانا پکاتے وقت عام طور پر استعمال نہیں کرتے۔

    الٹرا پروسیس کھانا کھانے سے بھوک کے لیے ذمہ دار ہارمونز میں اضافہ ہوتا ہے اور اس ہارمون میں کمی ہوتی ہے جس سے ہمیں پیٹ بھرنے یا سیری کا احساس ہوتا ہے، جس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بہت سے لوگوں نے کیوں زیادہ کھانا کھایا اور وزن بڑھا لیا۔

    لیکن وزن میں اضافہ زیادہ یو پی ایف والی غذا سے وابستہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ کئی دیگر مطالعات میں دیکھا گیا ہے کہ یو پی ایف غذا کے طویل عرصے تک کھانے اور دل کی بیماری، موٹاپا، ذیابیطس کی دونوں اقسام، کچھ طرح کے کینسروں اور حتیٰ کہ ڈپریشن میں بھی ایک طرح کا تعلق ہے۔

    بی بی سی کے مطابق ماہرین کے مطابق یو پی ایف ایک مکینیزم پیدا کر دیتے ہیں جسے کو ’امید پرستی‘ کہا جاتا ہے جنک فوڈ کے لیے مثبت جذبات ہمیں فوری طور پر متاثر کرتے ہیں۔ لیکن منفی اثرات میں اضافہ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ہمارے لیے یہ یقین کرنا آسان ہے کہ ہمارے پاس بعد میں (اپنی کھانے کی عادات) کو تبدیل کرنے کا وقت ہو گا، یا اس کا نتیجہ بہرحال ناگزیر ہے آسان زبان میں: اب آپ اسے پسند کریں گے، لیکن بعد میں آپ کو پچھتاوا ہو گا۔

    آسٹریلین گائیڈ ٹو ہیلتھی ایٹنگ‘ میں ان کھانے کو ’صوابدیدی کھانیں‘ کہتے ہیں، کیونکہ یہ ضرورت نہیں، انتخاب ہیں۔‘

    ماہرین کے مطابق جن کے پاس انتخاب کی سہولت ہے انھیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ’ہر ایک صحت کے لیے کھانے کے انتخاب کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ الٹرا پروسیسڈ کھانے طویل عرصے تک چلتے ہیں، آسانی سے سفر کرتے ہیں، اور ان کی تیاری میں بہت کم وقت لگتا ہے۔ جب ہمارے پاس وقت یا کیش کم ہو تو یہ توازن کے لیے اچھا آپشن ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ڈرانے والی اصل قوتیں وہ ہیں جو لوگوں کو صحت مند کھانے کے بجائے الٹرا پروسیسڈ کھانوں کے انتخاب کی طرف راغب کرتی ہیں مثال کے طور پر دائمی تناؤ، میٹھا، چربی اور نمکین کھانوں کے لیے ہماری بھوک بڑھا سکتا ہے۔ اور تناؤ اس وقت اور طاقت کو متاثر کر سکتا ہے جو ہم صحت مند خوراک کو دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ سب الٹرا پروسیسڈ کھانے لازمی طور پر جنک نہیں ہوتے پراسسڈ کھانوں میں کچھ اہم اور صحت مند کھانے بھی شامل ہیں، جیسے ڈبہ بند سبزیاں، پاستا، چاول، روٹی اور فائبر سے بھرپور ناشتے کے سیریئلز۔لیکن سب سے بڑھ کر، یہ مت بھولیے کہ کھانا اپنے مجموعی اجزاء سے کہیں زیادہ چیز ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانا ضرورت سے زیادہ بڑی چیز ہے، یہ ہماری خوشی، ثقافت، معاشرہ، سماجی میل جول اور بہت زیادہ چیزوں کا ایک حصہ ہے ہمیں صرف لوگوں کی مدد کرنی ہے کہ وہ خوشی اور صحت میں توازن پیدا کریں۔

    دوسری جانب فرانس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں ، محققین نے پتہ چلا کہ جن افراد نے روزانہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے انھیں جلد موت کا 14 فیصد زیادہ خطرہ درپیش ہے۔ تحقیق کے لئے ، 45،51 سال کی عمر کے فرانسیسیو ں نے دو سال تک اپنی غذا ، صحت اور جسمانی سرگرمی کے بارے میں معلومات پیش کیں۔ الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا استعمال شدہ کھانوں کے وزن میں سے تقریبا 14، 14 فیصد وزن اور کل کیلوری کی مقدار کا تقریبا 29 فیصد حصہ ہے۔

    بی ایم جے جریدے میں ایک مطالعہ شائع کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے انتہائی روزانہ کھانے کی روزانہ کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے ان کے مجموعی کینسر کے خطرے میں 12 فیصد اور چھاتی کے کینسر میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    اگرچہ مطالعہ میں قطعی وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی وجہ سے کینسر کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ، محققین نے کئی نظریات پائے ایک نظریہ یہ ہے کہ کھانے میں نمک ، چینی اور چربی کی اونچی مقدار ہوتی ہے۔ ان اجزاء کو موٹاپا سے جوڑا گیا ہے ، جس سے کینسر کا زیادہ خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کچھ الٹرا پروسس شدہ کھانے میں کچھ اضافی چیزیں ہوتی ہیں جن میں کارسنجینک خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، کھانے کی ساخت کو بہتر بنانے کے لئے ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ کو سفید کرنے والے ایجنٹ کے طور پر یا فوڈ پیکیجنگ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عضلہ بڑی آنت یا معدے کی سوزش پر گھاووں کا سبب بن سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ ، ایک اور نظریہ اعلی درجہ حرارت ہے جو کھانے پر عملدرآمد کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس سے نو تشکیل شدہ آلودگی پیدا ہوسکتی ہے۔ آخر میں ، بی پی اے (بیسفینول اے) عام طور پر فوڈ پیکیجنگ میں استعمال ہوتا ہے اور وہ کھانے میں جنک سکتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ صحت کے قومی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین کے ذریعہ کی جانے والی ایک تحقیق اور سیل میٹابولزم جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی پروسیسرڈ فوڈوں پر مشتمل ڈائیٹ کھانے سے لوگوں کو ضرورت سے زیادہ کھانے اور وزن بڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔ محققین نے پایا کہ انتہائی پروسیسر شدہ غذا پر رضاکاروں نے ہر دن 508 مزید کیلوری کھائی اور دو ہفتوں میں اوسطا دو پونڈ حاصل کرلیا۔ مطالعہ کے شرکاء جنہوں نے پوری یا کم سے کم پروسیس شدہ کھانوں کو کھایا اسی مدت کے دوران تقریبا دو پاؤنڈ کھوئے۔

    اگرچہ الٹرا پروسیسرڈ کھانے کی صحت پر اس طرح کے اثرات مرتب ہونے کی صحیح وجوہات جاننے کے لئے مزید مطالعات کی ضرورت ہے ، تاہم ، یہ کہنا محفوظ ہے کہ ان کو کھانے کے نتائج فوائد سے زیادہ ہیں۔

  • مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    مسورکی دال کو عام طور پر’ملکہ مسور ‘ بھی کہا جاتا ہے یہ انسانی خوراک کے لیے کاشت کی جانے والی نباتات میں سے ایک ہے جو قدیم زمانے سے خوراک کے طور پر مختلف طریقوں سے پکا کر کھائی جاتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق غذائیت کے لحاظ سے مسور کی دال میں 25 فیصد پروٹین، 60 فیصد کاربوہائیڈریٹس اور 12 فیصد رطوبت پائی جاتی ہے جبکہ اس دال میں فاسفورس اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    خبردار خوش ذائقہ پھل تربوز صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے

    فائبر، میگنیشیم اور فولیٹ سے مالا مال ہونے کی وجہ سے مسور کی دال ہماری قلبِ صحت کو بہتر بناتی ہے، میگنیشیم پورے جسم میں خون، آکسیجن اور غذائیت کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔ فولیٹ سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ مسور کی دال میں موجود فائبر کا مواد جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔مسور کی دال میں ضروری وٹامنز، اینٹی آکسیڈینٹ اور معدنیات کی وافر مقدار جسم کی قوت مدافعت کے نظام کی تشکیل میں معاون ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ آزاد ریڈیکلز کو تباہ کرنے میں مدد کرتا ہے اور ہماری قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتا ہے۔

    آم کا استعمال جِلد کےمتعددمسائل کاحل اوررنگت میں واضح نکھارلاتا ہے لیکن کیسے؟

    مسور کی دال بڑھتے وزن کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے کیونکہ یہ فائبر اور پروٹین سے مالا مال ہوتی ہے اور ان دو غذائی اجزاء کی وجہ سے ہمارا پیٹ زیادہ دیر تک بھرا ہوا رہ سکتا ہے، اس طرح بڑھتے وزن سے پریشان افراد کو بھوک کم لگے گی اور اُن کے وزن میں کمی آئے گی علاوہ ازیں مسور کی دال اینٹی آکسیڈینٹ کا ایک پاور ہاؤس ہے جو ہماری جِلد کے خلیوں کے نقصان کو مؤثر طریقے سے کم کرسکتا ہے مسور کی دال کھانے سے ہماری جِلد صاف اور نکھرتی ہے، ایکنی ختم ہوتی ہے اور ساتھ ہی جھریاں بھی ختم ہوتی ہیں۔

    پاپ کارن ذیابیطس سے تحفظ کے لئے انتہائی مفید غذا