Baaghi TV

Category: صحت

  • دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات    تحریر:سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات تحریر:سمیع اللہ

    موضوع دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات

    تحریر سمیع اللہ

    انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

    یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

    تھکاوٹ

    یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

    پیٹ میں درد

    50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

    بے خوابی

    یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

    سانس گھٹنا

    چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

    بال گرنا

    بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

    بہت زیادہ پسینہ آنا

    غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

    سینے میں درد

    مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔

  • کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا

    کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاہور میں رواں برس مختلف مقامات سے 7 ہزار636 مقامات پر لاروا پایا گیا-

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق لاہورمیں ڈینگی کے 17ہزار84 ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ لاہور میں ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی تعداد17ہزار سے تجاوز کر گئی ہے-

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں برس ایک ہزار195 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ لاہور میں رواں سال اب تک 17 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے-

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق لاہورمیں ڈینگی وائرس کے 2 مزید کیسز سامنے آ گئےہیں-

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    بالآخر ڈینگی بخار کے توڑ کیلئے ویکیسن تیارکرلی گئی ، کہاں تیار ہوئی ؟ جانیئے

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

    کیا ڈینگی کے مریضوں میں کووڈ کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

    نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ ماضی میں ڈینگی کا سامنا کرنے والے افراد میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر کووڈ کی علامات ابھرنے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو بائیومیڈیکل سائنس انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں برازیل کے ایمیزون خطے کے ایک قصبے کے 1285 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ڈینگی کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں ان میں کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے ایک طرف کووڈ 19 کے نتیجے میں ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات متاثر ہوئے ہیں، وہی دوسری جانب ڈینگی سے کووڈ کا شکار ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

    کرونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ، ایک اور نیا مریض سامنے آ گیا

    یہ تحقیقی ٹیم عرصے سے اس خطے میں ملیریا کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہے اور 2018 میں انہوں نے ہر ماہ بعد قصبے کی آبادی کے سروے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس کا رخ کووڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ستمبر 2020 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایسے علاقے جہاں ڈینگی کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہوچکے ہیں وہاں کووڈ 19 سے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

    انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہم اس خطے کے رہائشیوں کے خون کے نمونے کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر سے پہلے اور بعد میں اکٹھے کرچکے تھے، تو ہم نے ان کو اس خیال کی جانچ پڑتال کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس کا سامنا کرنے والے افراد کو کسی حد تک کووڈ سے تحفظ حاصل ہوتا ہے، مگر نتائج اس سے بالکل متضاد رہے۔

    تحقیق میں جن خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا وہ نومبر 2019 اور نومبر 2020 میں اکٹھے کیے گئے تھے اور ان میں موجود اینٹی باڈیز کو ڈینگی تمام اقسام اور کورونا وائرس کے خلاف آزمایا گیا تاہم نتائج سے ثابت ہوا کہ 37 فیصد افراد نومبر 2019 سے قبل ڈینگی جبکہ 35 فیصد افراد نومبر 2020 سے قبل کورونا سے متاثر ہوچکے تھے۔

    محققین کے مطابق ہم نے شماریاتی تجزیے سے نتیجہ نکالا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے سے کووڈ سے بیمار ہونے کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔

    ان کہنا تھا کہ درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ڈینگی کا سامنا ہوچکا ہے، ان میں کورونا سے متاثر ہونے پر علامات ابھرنے کا امکان دیگر سے زیادہ ہوتا ہے-

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

  • ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

    ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

    گوارصدیوں پُرانی ایک پھلی دار فصل ہے اور یہ پاکستان اور انڈیا میں کثرت سے پائی جاتی ہے دنیا میں پیدا ہونے والے گوار کا قریباً 95فیصد حصہ برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوتا ہے۔

    گوار ان علاقوں میں کاشت ہوتی ہے جہاں کا موسم گرم ہو مطلب اس کو گرم آب وہوا کی سخت ضرورت ہوتی ہےاور یہ گرم علاقوں میں ہی کاشت کیجاتی ہے۔

    اس میں لحمیاتی مادہ (پروٹین) قریباً 35 فیصد تک پایا جاتا ہے۔ جو کہ جانوروں کے گوشت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے گوار کو غیر پھلی دار چارہ جات مثلاً جوار، باجرہ اور مکئی وغیرہ کے ساتھ ملا کر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس کو سبزی اور دال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے –

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گوار کا پودا کافی سخت ہوتا ہے یعنی یہ اپنی جان کی ساخت کے حوالے سے کافی مضبوط ہوتا ہے،زرعی ماہرین کے مطابق اس فصل کو سبز کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے زمین کی زرخیزی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔

    دماغی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں

    گوار کی فصل ایک سیزن میں فضا سے 300 پائونڈ نائٹروجن کا زمین میں اضافہ کرتی ہے۔ گوار کی فصل ملک دوست، کسان دوست، زمین دوست اور ماحول دوست ہےاور اس فصل کی خاص بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اگر یہ جانوروں کو چارے کے طور پر دی جائے تو یہ جانوروں کے گوشت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فصل کو زیادہ تر توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی گوار کی فصل زیادہ تر کم بارشوں والے علاقے میں کیجاتی ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان،انڈیا میں کثرت سے کاشت کیجاتی ہے۔

    پاکستان سمیت ایشائی ممالک خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش میں گوار کی پھلی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے فائبر سے بھرپور یہ سبزی صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے طب میں گوار کا استعمال صدیوں سے ہورہا ہے خاص طور پر دل کی بیماریوں ، شوگر اور رات کے اندھے پن کیلئے انتہائی مفید ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق پھلیاں انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہیں، پھلیاں اور ہرے رنگ کی تمام سبزیاں انسانی صحت اور معدے سے جڑی تمام شکایتوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    گوار کی پھلی کا بطور سبزی یا اس کا چاولوں میں استعمال کرنا انسانوں کے لیے صحت مند غذا ثابت ہوتا ہے گوار پھلی کی سبزی انسانی خطرناک بیماریوں مثلاً شریانوں کے تنگ ہو جانے، دل کی متعدد شکایتوں اور شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا قرار دی جاتی ہے۔

    گوار پھلی کا استعمال متعدد طریقوں سے کیا جاتا ہے اسے عام روایتی طریقوں سے سبزی بنا کر یا گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے گوار کی پھلی کے استعمال سے قبل اسے ابال کر پانی نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس پھلی کی سختی اور تیکھے ذائقے میں کمی لائی جا سکے۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کلونجی موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے

    علاوہ ازیں اس کے بیج میں ایک خاص قسم کا گوند (گوارگم) پایا جاتا ہے۔ جو کہ پوری دنیا میں ٹیکسٹائل، بیکری، گن پائوڈر، پیپر، کاسمیٹکس، تمباکو، بارود، مرغیوں، مچھلیوں اور مویشیوں کی خوراک، ادویات، خوراک اور دیگر بہت سی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر کھودے جانے والے کنوئوں میں بہت زیادہ مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    پنجاب میں گوار کی کاشت زیادہ تر میانوالی، سرگودھا، بھکر، جھنگ، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں کی جاتی ہے۔ اس کی کاشت کیلئے گرم اور خشک آب و ہوا درکار ہوتی ہے۔

    اس کا پودا نہایت سخت جان ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سخت گرمی اور پانی کی قلت کو کافی حد تک برداشت کرلیتا ہے اور پانی کی زیادتی تو بالکل برداشت نہیں کرتا۔ گوار کی کاشت کیلئے ریتلی میرا زمین جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں ہوتی ہے۔ یہ کلراٹھی زمینوں کے علاوہ باقی تمام زمینوں میں کاشت کیا جاسکتا ہے۔

    اس کی کاشت عموماً ریتلے اور کم بارش والے علاقوں میں کی جاتی ہے لیکن آبپاش علاقوں میں اس کی کاشت کامیابی سے کی جاسکتی ہے۔ بہتر پیداوار کیلئے زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ نشیبی جگہوں پر پانی کھڑا نہ ہوسکے اور اگائو بھی بہتر ہو۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

  • خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں رواں سال کی تیسری 5روزہ  انسداد پولیو مہم  جاری

    خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں رواں سال کی تیسری 5روزہ انسداد پولیو مہم جاری

    خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں رواں سال کی تیسری 5روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پشاور میں 7 اور خیبر پختونخوا کے دیگراضلاع میں 5روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے-

    انسداد پولیو مہم کے لیے 30 ہزار ٹیمیں تشکیل ، 40 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں-

    کوآرڈی نیٹر عبدالباسط کے مطابق پشاور میں 8 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاوَ کے قطر پلائے جائیں گے –

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں 62لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاوَ کےقطرے پلائے جائیں گے –

  • کرونا سے بچنا ہے تو چکن کھانے سے گریز کریں، پولٹری شیڈ کی مالک خاتون کی اپیل

    کرونا سے بچنا ہے تو چکن کھانے سے گریز کریں، پولٹری شیڈ کی مالک خاتون کی اپیل

    حال ہی میں ڈاکٹروں نے مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘ کے تیزی سےپھیلنے تصدیق کی تھی اس حوالےسے مرغی فارم کے مالکان نے بھی اقرارجرم کیا تھا-

    باغی ٹی وی : لاہور کی ویٹرنری یونیورسٹی میں مرغیوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان میں پائے جانے والے وائرس کا انکشاف ہواتھا ویٹرنری یونیورسٹی شعبہ مائیکروبیالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا تھا کہ رانی کھیت اور انفلوئنزا کے بعد ایڈینو وائرس مرغیوں کو اپنا شکار بنانے لگا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ یہ وائرس مرغیوں کے عصبی نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بھی بنتے ہیں جبکہ ایڈینو وائرس کی وجہ سے رانی کھیت ویکسین غیر مؤثر ہو گئی ہے۔

    پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا تھا کہ شہری مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی چھوٹی اور کم عمر مرغیاں خریدنے سے اجتناب کریں اور صرف 2 کلو وزن والی مرغیاں ہی خریدیںجبکہ نئے وائرس سے روزانہ 4 ہزار مرغیاں ہلاک ہو رہی ہیں۔

    جس کے بعد یہ خبریں بھی وائرل ہوئی تھیں کہ مرغیوں میں وائرس کی خبریں افواہ ہیں لوگوں نے مرغیوں کا کھانوں میں استعمال جاری رکھا ہوا ہے-

    تاہم سوشل میڈیا پر ایک خاتون کا آڈیو پیغام وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے مرغیوں کی بیماری کسے متعلق خبروں کو حقیقت قرار دیتے ہوئے عوام کو مرغی کا گوشت نہ کھانے کی ہدایت کی ہے-

    خاتون نے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ مرغیوں میں جو بیماری آئی ہوئی ہے ٹی وی پر بتایا جا رہا ہے کہ وہ غلط ہے وہ بالکل بھی غلط نہیں ہے بالکل درست ہے ہمارا اپنا پولٹری فارم ہے جس میں آسٹرولوب جو کہ آسٹریلین بریڈ ہے وہ رکھی ہوئی ہے ہم نے اس کا امیون سسٹم اچھا ہے بڑے پرندے اس سے متاثر نہیں ہوئے جو چھوٹے پرندے چوزے تھے وہ بہت بیمار ہوئے ہیں-

    خاتون نے پیغام میں کہا کہ ان کو کورونا وائرس تو نہیں ہے اس بیماری کو کوریزہ کہتے ہیں جس میں بالکل کورونا جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اس بیماری کی وجہ سے کافی پرندے مر گئے ہیں ٹانگوں سے معذور ہو گئے ہیں پھر ہم نے جو نہیں ٹھیک ہونے والے تھے وائرس ختم کرنے کے لئے ان کو ذبح کر کے زمین میں دبا دیا-

    انہوں نے کہا کہ برائلر کا امیون سسٹم بہت کمزور ہے وہ بہت متاثر ہو رہے ہیں پولٹری فارم کے ملازموں نے بتایا کہ ہوٹلز اور بڑی بڑی فوڈ چینز ان بیمار پرندوں کو سستی قیمت پر لے کر وہیں ذبح کر کے اپنے ڈرموں میں ڈال کر لے جا رہے ہیں-

    خاتون نے پیغام میں عوام سے اپیل کی کہ مہربانی کر کے چکن نہ کھائیں ہم بھی متاثر ہو رہے ہیں ہمارا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے لیکن ہم یہ بالکل بھی پسند نہیں کرتے کہ کوئی بیمار مرغی کا گوشت کھائے-

    انہوں نے کہا کہ چکن مت کھائیں اگر ہم تھوڑے دن چکن نہیں کھائیں گے تو دنیا سے ختم نہیں ہو جائیں گے اور بہت چیزیں ہیں کھانے کے لئے وہ کھائیں مہربانی کر کے چکن مت کھائیں میں سچ کہہ رہی ہوں کہ بیماری کے حوالے سے خبریں بالکل درست ہیں بیماری بالکل موجود ہے –

    مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘تیزی سےپھیلنےلگا: ڈاکٹروں نےتصدیق کردی:برائلرکھانےوالےہسپتالوں میں

    ہوشیار ، خبردار ! پنجاب میں پرندوں میں خطرناک وائرس پھیل گیا

  • حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    بیماریاں پہلےقدیم زمانے میں بھی ہوا کرتی تھیں مگر اُس وقت اُن کی سمجھ بوجھ اور علاج کا شعور نہیں تھا، آ ج کل جہاں سائنس نے بے حد ترقی کر لی ہے وہیں صدیوں سے استعمال کیے جانے والا طریقہ حجامہ ’ کپنگ تھیراپی‘ نہ صرف آج بھی اپنی اہمیت اور افادیت رکھتا ہے بلکہ اب حجامہ بھی نئی جدت کے ساتھ کیا جاتا ہے حجامہ صدیوں سے استعمال کیے جانے والا سستا اور اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ علاج ہے-

    حجامہ کیا ہے؟

    حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں cupping therapyکے نام سے جانا جاتا ہے دراصل حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے‘‘ جس کے معنی کھینچنا/چوسنا ہے۔

    اِس عمل میں مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالا جاتا ہے۔ انسانی صحت کا دار و مدار جسمانی خون پر ہے اگر خون صحیح ہے تو انسان صحت مند ہے ورنہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیماریاں اس فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔

    حجامہ اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ:

    حجامہ ایک قدیم علاج ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور ملائکہ کا تجویز کردہ ہے اِس قدیم طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔حضرت محمدﷺ نے حجامہ لگانے کو افضل عمل قرار دیا ہے۔

    حجامہ اور جدید میڈیکل سائنس:

    جدید میڈیکل سائنس اب تیزی سے حجامہ کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ پر مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں،حجامہ سے علاج کا طریقہ 3000 سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہےاس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus(ریبس پائرس) نامی طبی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔

    سائنس دان اس امر پر بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔ اس کتاب کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ نے چائنیز تہذیب کی ایک قدیم کتاب بھی دریافت کر لی ہے۔

    اس کتاب کے مطابق چین میں حجامہ طریقہ علاج تین ہزار سال قبل مسیح سے رائج ہے۔ گریس کے مطابق تہذیب میں ہیپوکریٹس کے دریافت شدہ آثار میں ایسے کاغذات بھی دریافت ہوئے ہیں جو چار سو سال قبل مسیح میں تحریر کیے گئے تھے اور ان میں حجامہ طریقہ کار چار بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے ان ہی چار نکات کو حضرت محمدﷺنے بہتر قرار دیا تھا۔ مشہور سائنس دان نے بھی اسی وجہ سے حجامہ کے بیان کردہ چار نکاتی فارمولے پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔

    جدید سائنس میں حجامہ پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق حجامہ کروانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جمنے والا فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم سے زہریلا مواد نکل جاتا ہے-

    نہ صرف جدید سائنس بھی اس کی افادیت کی ناصرف قائل ہو گئی ہے بلکہ اب تو مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف شخصیات بھی جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے حجامہ کرواتے ہیں۔

    حجامہ متعدد بیماریوں کا علاج:

    حجامہ سے بلڈ پریشر، ٹینشن، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا درد، کمر کا درد، ہڈیوں کا درد، سر کا درد (درد شقیقہ) مائیگرین، یرقان، دمہ، قبض، بواسیر، فالج، موٹاپا، کولیسٹرول، مرگی، گنجاپن، الرجی، عرق النساء وغیرہ اور اس کے علاوہ 70 سے زائد روحانی وجسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    یہ خون صاف کرتاہے اور حرام مغز کو فعال کرتا ہے، شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے، آنکھوں کی بیماریوں کو بھی ختم کرتاہے، رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے، گٹھیا عرق النساء اور نقرس کے درد کو ختم کرتا ہے، فشار خون میں آرام دیتا ہے، زہر خورانی میں مفید ہے، مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہےالرجی جسم کے کسی حصے میں درد کو فوری ختم کرتا ہے۔

    کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح انسان جادو کے اثر سے بھی نکل جاتا ہے۔سب سے بڑھ کر مسنون طریقہ علاج ہونے کی وجہ سے اہل ایمان کو ایک روحانی سکون ملتا ہے۔

    حجامہ کیسے کیا جاتا ہے؟

    حجامہ سے قبل مطلوبہ جسم کے حصے پر زیتون یا کلونجی کا تیل لگا دیا جاتا ہے جس سے جلد پرسکون رہتی ہے پھر جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں۔

     خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔

    بہت سے افراد جو کہ کسی مرض کا شکار نہیں ہیں محض جسم کو ہلکا پھلکا بنانے اور تر و تازگی حاصل کرنے کے لئے بھی ہر ماہ حجامہ کرواتے ہیں ۔ویسے بھی مہینے میں ایک دفعہ حجامہ کروانا عین سنت ہے۔یہ سارا عمل دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے اور خراشیں لگانے کے دوران کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی ایسے میں جسم گندے خون سے پاک ہو جاتا ہے اور انسان موجودہ شکایت سمیت متعدد بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔

    عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے اور مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ۔

    چونکہ حجامہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس لئے اس میں کسی طرح کی سخت پرہیز نہیں کرنی پڑتی جو کہ عام طور پر ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک ،یونانی یا دیگر علاج کے طریقوں میں کی جاتی ہیں۔ تاہم مکمل علاج کے لئے مریض کو سختی سے طب نبوی ﷺ میں دی گئی ہدایت کی پابندی کرنی چائیے۔

    حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔

    ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔

    خیال رہے کہ نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے گئے ہیں، حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کارتھراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ ناتجربہ کار شخص صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔

    حجامہ کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں بلکہ کسی ایک مقام پر حجامہ کرنے سے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ شوگر کے مریضوں کے زخم بھی 24 گھنٹوں میں بھر جاتے ہیں-

  • چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو  لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    ڈیڑھ برس قبل چین کے شہر ووہان میں کووڈ کی اولین دریافت کے بعد ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں ملا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اس بیماری کی شروعات کیسے ہوئی تھی۔

    باغی ٹی وی : حالیہ ہفتوں میں اس دعوے کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔ ماہرین نے اب تک اسے سازشی مفروضہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کیونکہ اس کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہو پائے ہیں۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ووہان شہر میں چین کی ایک اہم تجربہ گاہ اور تحقیقی مرکز ہے اور ووہان انسٹٹیوٹ آف وائرولوجی (ڈبلیو آئی وی) میں چمگادڑوں سے ملنے والے مختلف نوعیت کے کورونا وائرس پر تحقیق کئی سالوں سے جاری ہے۔

    یہ مرکز اس مارکیٹ سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے کورونا وائرس کے سب سے پہلے متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وائرس اس مرکز سے نکل کر اس مارکیٹ میں پھیلا ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کی واضح اکثریت اس بات پر یقین کرتی ہے کہ یہ ایک قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ایک وائرس ہے جو کہ جنگلی جانوروں یا جنگلات سے آیا ہے نہ کہ اسے مصنوعی طور پر کسی تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے۔

    اس متنازع نظریے کا سب سے پہلے آغاز وبا کی شروعات کے ساتھ ہی ہوا تھا اور اس کو پھیلانے والوں میں سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش پیش تھے۔ کئی نے تو اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ یہ وائرس بطور حیاتیاتی ہتھیار بنایا گیا تھا۔

    شروع شروع میں میڈیا، ماہرین اور سیاستدانوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا تاہم چند لوگ پھر بھی مُصر تھے کہ اس پر تحقیق ہونی چاہیے۔ لیکن اب حالیہ چند روز میں یہ خیال دوبارہ سے منظر عام پر آ گیا ہے۔

    تاہم اب دو سائنس دانوں نے اس حوالے سے کچھ دھماکہ خیز نئے انکشافات کئے ہیں –

    ایک دھماکہ خیز نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوویڈ 19 کو ووہان کے سائنس دانوں نے تیار کیا تھا جس نے پھر وائرس کے "ریٹرو انجینئرنگ” ورژن کے ذریعے خو د کو اس طرح ڈھانپ لیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ جانوروں سے جسمانی طور پر تیار ہوا ہے۔

    اس مطالعے کے مصنفین ، برطانوی آنکولوجی ماہر پروفیسر انگوس ڈیلیگیش اور ناروے کے سائنسدان ڈاکٹر برجر سیرسن ، کے مزید دعوے کے ثبوت کو ماہرین نے نظرانداز کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ڈیلی میل کی رپورٹ کا حوالی دیتے ہوئے لکھا کہ ان سائنسدانوں کے مطابق کوویڈ ۔19 کے مروجہ "قدرتی اصلیت” کے نظریہ کو چیلنج کرتا ہے کہ ، یہ وائرس ووہان کے بازار میں قدرتی طور پر چمگادڑوں سے انسانوں تک پھلایا گیا ہے-

    پروفیسر ڈیلگلیش لندن میں سینٹ جارج یونیورسٹی میں آنکولوجی کے پروفیسر ہیں جنھوں نے "ایچ آئی وی ویکسین” پر کام کیا تھا اور ڈاکٹر بیرگر سیرنسن ایک ماہر معاشیات اور دوا ساز کمپنی امیونور کے چیئرمین ہیں نے ایک کوویڈ -19 ویکسین تیار کی ہےجسے بائیوواک -19 کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ جب گذشتہ سال کوویڈ 19 کے نمونوں کی ویکسین تیار کرنے کے لئے تجزیہ کیا گیا تو ، انھوں نے "انفرادیت سے متعلق انگلیوں کے نشانات” کو محسوس کیا جو صرف لیبارٹری کے ہیرا پھیری سے منسوب ہوسکتی ہے – لیکن اس وقت ان کی تلاش کو شائع کرنے کی ان کی کوششوں کو بڑے سائنسی جرائد نے مسترد کردیا تھا۔

    ڈیلی میل کے مطابق مزید مطالعے کے بعد ، پروفیسرڈیلگلیش اور ڈاکٹر سیرنسن نے 22 صفحات پر مشتمل ایک نئی رپورٹ جاری کی ، جو بائیو فزکس ڈسکوری کے سہ ماہی جائزہ میں شائع کی جائے گی اور اس کا اختتام ہوا کہ "سارس – کورونا وائرس 2 کا کوئی قابل اعتبار قدرتی اجداد نہیں ہے” اور یہ کہ یہ وائرس "معقول شک سے پرے” لیب میں تخلیق کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2002 اور 2019 کے درمیان ووہان لیب میں تجربات کرنے کے بعد ، انھیں شواہد ملے ہیں کہ ووہان سائنسدانوں نے غار کے چمگادڑوں میں پائے جانے والے ایک قدرتی کورونویرس کو ”ریڑھ کی ہڈی“ لیا اور اس پر ایک نیا “سپائیک” لگا دیا ، جو کوویڈ ۔19 بن گیا۔

    ایک اہم اشارہ سارس کوویڈ 2 اسپائک پر مثبت چارجڈ امینو ایسڈ کی ایک قطار تھی۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ تین امینو ایسڈ کی ایک صف بھی فطرےی طور پر کم ہی ہائی جاتی ہے کیونکہ وہ میگنٹ کی طرح ایک دوسرے کو پیچھے ہٹاتے تھے – لہذا قدرتی طور پر پائے جانے والے حیاتیات میں چار کی ایک قطار ملنا "بے حد مشکل امکان” تھا۔

    طبیعیات کے قوانین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لگاتار چار مثبت چارجڈ امینو ایسڈ نہیں مل سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈیلیگیش نے ڈیلی میل کو بتایا کہ اگر آپ مصنوعی طور پر اس کی تیاری کرتے ہیں تو آپ کو یہ حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

    اس وجہ سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ (کوویڈ ۔19) قدرتی عمل کا نتیجہ ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

    انہوں نے اپنے مطالعے میں لکھا ، "قدرتی وائرس سے وبائی مرض آہستہ آہستہ تبدیل ہوجائے گا اور زیادہ متعدی اور کم روگجنک ہوجائے گا جس کی بہت سے لوگ COVID-19 وبائی امراض سے توقع کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے۔”

    انہوں نے فنکشن تجربات کے حصول کا بھی مقصد لیا ، جس میں وائرس کو جوڑنا توڑنا ، چھڑکنا اور دوبارہ جوڑنا بھی شامل ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ، "ہماری تاریخی تعمیر نو کا اثر ، اب ہم معقول شک سے بالاتر ہیں ، مقصد کے ساتھ ہیرا پھیری شدہ چائمرک وائرس سارس-کوویڈ -2 کے بارے میں یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ فنکشن کے کس قسم کے تجربات پر غور کیا جائے یہ اخلاقی طور پر قابل قبول ہے۔”

    لہذا "وسیع تر معاشرتی اثرات کی وجہ سے ، ان فیصلوں کو صرف سائنس دانوں پر تحقیق کرنے کے لئے نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔”

    اس تحقیق کا دعویٰ ہے کہ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد ، ووہان کے سائنس دانوں نے وائرس کو "ریٹرو انجینئرنگ” کے ذریعہ اپنے اپنی تحقیق پردہ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ فطری طور پر تیار ہوا ہے۔

    پروفیسر ڈیلگلیش نے کہا ، "انھوں نے وائرس کو تبدیل کر دیا ہے ، پھر سالانہ پہلے ہی ایک ترتیب میں آنے کی کوشش کی۔”

    انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ چینی لیبز میں چند تحقیقات کی گئیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ "چینی سائنس دان جو اپنے علم میں اشتراک کرنا چاہتے ہیں وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں یا غائب ہوگئے ہیں”۔

    ڈاکٹر سرینسن نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کے نچلے سیکیورٹی والے علاقوں سے یہ وائرس بچ گیا ہے جہاں کام کی تحقیق کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ “ہم نے لیب لیک دیکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے۔ ہمیں ان رپورٹوں سے بھی معلوم ہے جو ہم نے دیکھی ہیں ، کہ بائیوسافٹی لیول 2 یا 3 لیبز میں کورونا وائرس پر کام کیا گیا ہے۔ اگر وہ اس طرح کی لیبز میں کام کرتے ہیں تو آپ کو کیا امید ہے؟ –

    واضح رہے کہ کوویڈ 19 کی ابتداء کا لیب فرار کا نظریہ ایک فرج نظریہ کے طور پر شروع ہوا تھا لیکن اس میں تیزی سے رفتار پیدا ہوئی ہے اور اس نظریے کے شروع ہونے کی وجہ بنی ہے –

    بی بی سی کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ ووہان کی تجربہ گاہ کے تین محققین کا نومبر 2019 میں ایک ایسی بیماری کا علاج کیا گیا تھا جو کہ کوویڈ 19 سے ملتی جلتی ہے۔

    لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے حکم سے شروع ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی اس تفتیش کو بند کر دیا تھا۔

    چند روز قبل صدر بائیڈن کے چیف میڈیکل مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ ’اس دعوے میں بالکل حقیقت ہو سکتی ہے اور میں مکمل تفتیش کرنے کے حق میں ہوں۔

    اب نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے جو اس وبا کے آغاز کے حوالے سے اس مفروضے (چینی لیب سے اس کی ابتدا) کی جانچ بھی کرے گی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے 90 دن میں کووڈ کے آغاز کے بارے میں تحقیقی رپورٹ طلب کی ہے جس میں یہ معلوم کیا جائے کہ ‘آیا یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسان میں منتقل ہوا یا پھر وہ کسی تجربہ گاہ سے حادثاتی طور پر نکل گیا۔’

    صدر نے کہا کہ امریکہ "پوری دنیا کے ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ چین پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایک مکمل ، شفاف ، شواہد پر مبنی بین الاقوامی تحقیقات میں حصہ لیں”۔

    توقع تھی کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کے آغاز پر کی گئی تحقیق سے اس سوال کا جواب مل جائے گا لیکن کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سے جوابات کے بجائے مزید سوالات پیدا ہو گئے۔

    معروف سائنسدانوں کے ایک گروپ نے عالمی ادارہ صحت پر تنقید کی کہ انھوں نے اس نظریے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور سینکڑوں صفحات پر مبنی اس رپورٹ میں اس نظریے کا ذکر محض چند صفحات میں کر کے اسے نظر انداز کیا۔

    مؤقر جریدے ’سائنس‘ میں مشترکہ طور پر لکھے گئے اس مضمون میں سائنسدانوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس وائرس کے قدرتی طور پر یا تجربہ گاہ سے نکلنے کے خیال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا تاوقتیکہ ہمارے پاس معقول تعداد میں ڈیٹا نہ آ جائے۔’

    اور اب ماہرین میں اس بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ لیب لیک تھیوری پر زیادہ غور کرنا ہوگا۔

    حتی کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے نے بھی نئے سرے سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ ‘تمام تر خیالات اور خدشات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔’

    ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے بھی اب کہا ہے کہ وہ وائرس کے قدرتی طور پر بننے کے خیال سے ‘مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتے’۔ یہ ان کے گذشتہ برس کے نکتہ نظر کے برعکس ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ حد درجہ امکان یہی ہے کہ کووڈ کا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

    دوسری جانب چین نے لیب لیک نظریہ کو سختی سے مسترد کردیا ہے اور اس ہفتے امریکہ میں اپنے سفارت خانے سے ایک بیان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

    جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "سمیر مہم اور الزام تراشی سے واپسی ہو رہی ہے ، اور’ لیب لیک ‘کے سازشی نظریہ کی بحالی ہو رہی ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی وبا کو روکنے کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ یہ وائرس کیسے اور کہاں سے آیا۔

    اگر وائرس کے قدرتی طور پر پیدا ہونے کا نظریہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو وہ مستقبل میں کھیتی باڑی اور جنگلی جانوروں کے ساتھ منسلک کاروبار کو متاثر کر سکتی ہے۔

    لیکن دوسری جانب اگر لیب لیب کا نظریہ صحیح ثابت ہوتی ہے تو یہ سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    اور اگر لیک کا نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ شاید چین کی ساکھ کو بھی متاثر کرے۔ چین پر پہلے ہی شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس نے وبا کے آغاز میں اہم معلومات چھپائی تھیں اور اس الزام کی وجہ سے امریکی اور چین کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

    واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے منسلک جیمی میٹزل لیب لیک کے نظریے پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ چین نے پہلے دن سے حقیقت چھپائی ہے۔

    لیکن دوسری جانب کئی لوگ چین کو مورد الزام ٹھہرانے میں جلد بازی کرنے سے منع کرتے ہیں۔

    سنگاپور کے نیشنل یونی ورسٹی ہسپتال سے منسلک پروفیسر ڈیل فشر کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں نہ صرف تحمل سے کام لینا ہوگا بلکہ سفارتی آداب بھی ملحوظ خاطر رکھنے ہوں گے۔ ہم یہ تحقیق چین کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتے اور ایسا ماحول نہیں قائم کر سکتے جس میں صرف چین پر الزام لگائے جائیں۔

  • اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے    عالمی ادارہ صحت

    اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت اور محنت کشوں کی عالمی تنظیم کی ایک مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق روزانہ 9 گھنٹے یعنی ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دورانیے کی ملازمت سے دل کے دورے یا فالج کے باعث موت کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے یہ اوقاتِ ملازمت اور صحت میں باہمی تعلق پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا عالمی تحقیقی مطالعہ ہے جس کے نتائج تحقیقی مجلے ’’اینوائرونمٹ انٹرنیشنل‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ تحقیق میں دو منظم ریویوز اور میٹا تجزیوں سے استفادہ کیا گیا جبکہ امراضِ قلب سے متعلق 37 اور فالج کے بارے میں 22 جامع مطالعات سے حاصل شدہ اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا مجموعی طور پر اِن 59 مطالعات میں 16 لاکھ سے زائد افراد شریک تھے۔


    اس تحقیق کےلیے 1970 سے 2018 کے دوران 154 ممالک میں کیے گئے 2300 سے زائد سرویز کا احاطہ کیا گیا ہے جو عالمی، علاقائی اور قومی سطح کے تھے۔

    تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ 2016 میں فالج سے 3 لاکھ 98 ہزار اموات جبکہ امراضِ قلب سے 3 لاکھ 47 ہزار اموات کی وجہ ملازمت کے طویل اوقات تھے۔


    سال 2000 کے مقابلے میں فالج سے اموات کی یہ شرح 19 فیصد زیادہ، جبکہ امراضِ قلب سے اموات کی شرح 42 فیصد زیادہ تھی جو بلاشبہ تشویشناک ہے۔

    یہی نہیں بلکہ مردوں میں 72 فیصد اموات کا سبب کام کا مسلسل دباؤ اور زیادہ اوقات تھے جبکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق مغربی بحرالکاہل اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں سے دیکھا گیا تاہم 2000 سے 2016 تک 7 لاکھ 45 ہزار ملازم موت کے منہ میں چلے گئے-


    ملازمت کے اوقات میں زیادتی کے باعث مرنے والوں کی عمریں 60 سے 79 سال کے درمیان تھیں جبکہ انہوں نے 45 سے 74 سال کی عمر کے درمیان ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دیر تک کام کیا تھا۔

    اس تحقیق کی روشنی میں عالمی ادارہ صحت نے تجویز کیا ہے کہ ملازمین پر کام کا دباؤ کم کرتے ہوئے ملازمت کے اوقات کم کیے جائیں اور اداروں میں ملازمین کو اوور ٹائم کرنے پر مجبور نہ کیا جائے-

  • سوشل سکیورٹی اسپتال اسلام آباد میں لوٹ مار کا بازار گرم

    سوشل سکیورٹی اسپتال اسلام آباد میں لوٹ مار کا بازار گرم

    اسلام آباد سوشل سکیورٹی اسپتال سے متعلق ایک متنازعہ خبر سامنے آئی ہے جس میں ندیم نامی وارڈ بوائے کو چیک اپ کے لیے آئے مریضوں سے فیس وصول کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر ایک شہری کی جانب سے جمع کروائی گئی شکایت کے مطابق اسلام آباد سوشل سکیورٹی اسپتال میں بغیر کارڈ کے مریضوں کو چیک کرنے اور ان سے فیس وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    شکایت گزار کے مطابق اس کا سوشل سکیورٹی کارڈ نہیں بنا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود وہ بچوں کو ساتھ لیے اوپی ڈی میں چیک اپ کے لیے چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ یہاں تو بس انہی لوگوں کا چیک اپ کیا جاتا ہے جن کے پاس سوشل سکیورٹی کارڈ ہوتا ہے۔ حقیقت معلوم ہونے پر شکایت گزار نے واپسی کی راہ لی لیکن اسی دوران اس نے ایک شخص کو خاتون اور بچے کے ہمراہ چیک اپ کروا کے کمرے سے باہر کاوٴنٹر پر آتے اور وارڈ بوائے کے ہاتھ میں فیس تھماتے دیکھا۔ وارڈ بوائے کو فیس دینے والے شخص کے پاس بھی سوشل سکیورٹی کارڈ نہ تھا ۔

    اس کے بعد جب شکایت گزار نے وارڈ بوائے سے استفسار کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو اس نے بتایا کہ یہ ڈاکٹر صاحبان کے پرائیویٹ مریض ہیں جو کہ اکثر یہاں چیک اپ کروانے آتے رہتے ہیں ، آپ چھوڑیں، آپ کا کیا لینا دینا اس سے۔ تو شکایت گزار نے وارڈ بوائے سے کہا کہ وہ اس سے بھی فیس وصول کر لیں اور بطور پرائیویٹ مریض ان کے بچوں کا بھی چیک اپ کر دیں جس پر شکایت گزار کو صاف انکار سننا پرا۔ شکایت گزار نے اس سارے منظر کی ویڈیو بھی بنا لی ہے جو کہ بطور ثبوت اس نے سیٹزن پورٹل پر اپلوڈ کر رکھی ہے۔

  • ڈی سی شیخوپورہ کا دورہ ویکسینیشن سنٹر

    ڈی سی شیخوپورہ کا دورہ ویکسینیشن سنٹر

    ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے شیخوپورہ میں قائم کورونا ویکسینیشن سنٹرز کا دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کورونا ویکسینیشن سنٹرز میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے سی ای او ہیلتھ کو ہدایت کی کہ کورونا ویکسینیشن سنٹر میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی غفلت نہ برتی جائے۔

    انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ کو ہدایت کی کہ کورونا ویکسینیشن سنٹرز کا باقاعدگی کے ساتھ دورہ کریں اور عوام کے لیے بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنا یا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور کرونا ایس او پیز پر عمل در آمد کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ویکسینیشن کورونا سے بچاﺅ کا اہم ذریعہ ہے لیکن ویکسینیشن ماسک کے استعمال سماجی فاصلے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ڈپٹی کمشنر نے کورونا ویکسینیشن سنٹر میں بزرگ شہریوں سے سنٹر میں ملنے والی سہولیات کے بارے میں بھی دریافت کیا جس پر ویکسینیشن سنٹر میں آنے والے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کی کام سے لگن اور عوام کی خدمت کے جذبے کی وجہ سے کورونا ویکسینیشن سنٹر میں تمام تر سہولیات میسر ہیں ۔