Baaghi TV

Category: صحت

  • کرونا سے بچنا ہے تو چکن کھانے سے گریز کریں، پولٹری شیڈ کی مالک خاتون کی اپیل

    کرونا سے بچنا ہے تو چکن کھانے سے گریز کریں، پولٹری شیڈ کی مالک خاتون کی اپیل

    حال ہی میں ڈاکٹروں نے مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘ کے تیزی سےپھیلنے تصدیق کی تھی اس حوالےسے مرغی فارم کے مالکان نے بھی اقرارجرم کیا تھا-

    باغی ٹی وی : لاہور کی ویٹرنری یونیورسٹی میں مرغیوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان میں پائے جانے والے وائرس کا انکشاف ہواتھا ویٹرنری یونیورسٹی شعبہ مائیکروبیالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا تھا کہ رانی کھیت اور انفلوئنزا کے بعد ایڈینو وائرس مرغیوں کو اپنا شکار بنانے لگا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ یہ وائرس مرغیوں کے عصبی نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بھی بنتے ہیں جبکہ ایڈینو وائرس کی وجہ سے رانی کھیت ویکسین غیر مؤثر ہو گئی ہے۔

    پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا تھا کہ شہری مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی چھوٹی اور کم عمر مرغیاں خریدنے سے اجتناب کریں اور صرف 2 کلو وزن والی مرغیاں ہی خریدیںجبکہ نئے وائرس سے روزانہ 4 ہزار مرغیاں ہلاک ہو رہی ہیں۔

    جس کے بعد یہ خبریں بھی وائرل ہوئی تھیں کہ مرغیوں میں وائرس کی خبریں افواہ ہیں لوگوں نے مرغیوں کا کھانوں میں استعمال جاری رکھا ہوا ہے-

    تاہم سوشل میڈیا پر ایک خاتون کا آڈیو پیغام وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے مرغیوں کی بیماری کسے متعلق خبروں کو حقیقت قرار دیتے ہوئے عوام کو مرغی کا گوشت نہ کھانے کی ہدایت کی ہے-

    خاتون نے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ مرغیوں میں جو بیماری آئی ہوئی ہے ٹی وی پر بتایا جا رہا ہے کہ وہ غلط ہے وہ بالکل بھی غلط نہیں ہے بالکل درست ہے ہمارا اپنا پولٹری فارم ہے جس میں آسٹرولوب جو کہ آسٹریلین بریڈ ہے وہ رکھی ہوئی ہے ہم نے اس کا امیون سسٹم اچھا ہے بڑے پرندے اس سے متاثر نہیں ہوئے جو چھوٹے پرندے چوزے تھے وہ بہت بیمار ہوئے ہیں-

    خاتون نے پیغام میں کہا کہ ان کو کورونا وائرس تو نہیں ہے اس بیماری کو کوریزہ کہتے ہیں جس میں بالکل کورونا جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اس بیماری کی وجہ سے کافی پرندے مر گئے ہیں ٹانگوں سے معذور ہو گئے ہیں پھر ہم نے جو نہیں ٹھیک ہونے والے تھے وائرس ختم کرنے کے لئے ان کو ذبح کر کے زمین میں دبا دیا-

    انہوں نے کہا کہ برائلر کا امیون سسٹم بہت کمزور ہے وہ بہت متاثر ہو رہے ہیں پولٹری فارم کے ملازموں نے بتایا کہ ہوٹلز اور بڑی بڑی فوڈ چینز ان بیمار پرندوں کو سستی قیمت پر لے کر وہیں ذبح کر کے اپنے ڈرموں میں ڈال کر لے جا رہے ہیں-

    خاتون نے پیغام میں عوام سے اپیل کی کہ مہربانی کر کے چکن نہ کھائیں ہم بھی متاثر ہو رہے ہیں ہمارا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے لیکن ہم یہ بالکل بھی پسند نہیں کرتے کہ کوئی بیمار مرغی کا گوشت کھائے-

    انہوں نے کہا کہ چکن مت کھائیں اگر ہم تھوڑے دن چکن نہیں کھائیں گے تو دنیا سے ختم نہیں ہو جائیں گے اور بہت چیزیں ہیں کھانے کے لئے وہ کھائیں مہربانی کر کے چکن مت کھائیں میں سچ کہہ رہی ہوں کہ بیماری کے حوالے سے خبریں بالکل درست ہیں بیماری بالکل موجود ہے –

    مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘تیزی سےپھیلنےلگا: ڈاکٹروں نےتصدیق کردی:برائلرکھانےوالےہسپتالوں میں

    ہوشیار ، خبردار ! پنجاب میں پرندوں میں خطرناک وائرس پھیل گیا

  • حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    بیماریاں پہلےقدیم زمانے میں بھی ہوا کرتی تھیں مگر اُس وقت اُن کی سمجھ بوجھ اور علاج کا شعور نہیں تھا، آ ج کل جہاں سائنس نے بے حد ترقی کر لی ہے وہیں صدیوں سے استعمال کیے جانے والا طریقہ حجامہ ’ کپنگ تھیراپی‘ نہ صرف آج بھی اپنی اہمیت اور افادیت رکھتا ہے بلکہ اب حجامہ بھی نئی جدت کے ساتھ کیا جاتا ہے حجامہ صدیوں سے استعمال کیے جانے والا سستا اور اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ علاج ہے-

    حجامہ کیا ہے؟

    حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں cupping therapyکے نام سے جانا جاتا ہے دراصل حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے‘‘ جس کے معنی کھینچنا/چوسنا ہے۔

    اِس عمل میں مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالا جاتا ہے۔ انسانی صحت کا دار و مدار جسمانی خون پر ہے اگر خون صحیح ہے تو انسان صحت مند ہے ورنہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیماریاں اس فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔

    حجامہ اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ:

    حجامہ ایک قدیم علاج ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور ملائکہ کا تجویز کردہ ہے اِس قدیم طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔حضرت محمدﷺ نے حجامہ لگانے کو افضل عمل قرار دیا ہے۔

    حجامہ اور جدید میڈیکل سائنس:

    جدید میڈیکل سائنس اب تیزی سے حجامہ کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ پر مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں،حجامہ سے علاج کا طریقہ 3000 سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہےاس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus(ریبس پائرس) نامی طبی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔

    سائنس دان اس امر پر بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔ اس کتاب کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ نے چائنیز تہذیب کی ایک قدیم کتاب بھی دریافت کر لی ہے۔

    اس کتاب کے مطابق چین میں حجامہ طریقہ علاج تین ہزار سال قبل مسیح سے رائج ہے۔ گریس کے مطابق تہذیب میں ہیپوکریٹس کے دریافت شدہ آثار میں ایسے کاغذات بھی دریافت ہوئے ہیں جو چار سو سال قبل مسیح میں تحریر کیے گئے تھے اور ان میں حجامہ طریقہ کار چار بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے ان ہی چار نکات کو حضرت محمدﷺنے بہتر قرار دیا تھا۔ مشہور سائنس دان نے بھی اسی وجہ سے حجامہ کے بیان کردہ چار نکاتی فارمولے پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔

    جدید سائنس میں حجامہ پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق حجامہ کروانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جمنے والا فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم سے زہریلا مواد نکل جاتا ہے-

    نہ صرف جدید سائنس بھی اس کی افادیت کی ناصرف قائل ہو گئی ہے بلکہ اب تو مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف شخصیات بھی جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے حجامہ کرواتے ہیں۔

    حجامہ متعدد بیماریوں کا علاج:

    حجامہ سے بلڈ پریشر، ٹینشن، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا درد، کمر کا درد، ہڈیوں کا درد، سر کا درد (درد شقیقہ) مائیگرین، یرقان، دمہ، قبض، بواسیر، فالج، موٹاپا، کولیسٹرول، مرگی، گنجاپن، الرجی، عرق النساء وغیرہ اور اس کے علاوہ 70 سے زائد روحانی وجسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    یہ خون صاف کرتاہے اور حرام مغز کو فعال کرتا ہے، شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے، آنکھوں کی بیماریوں کو بھی ختم کرتاہے، رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے، گٹھیا عرق النساء اور نقرس کے درد کو ختم کرتا ہے، فشار خون میں آرام دیتا ہے، زہر خورانی میں مفید ہے، مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہےالرجی جسم کے کسی حصے میں درد کو فوری ختم کرتا ہے۔

    کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح انسان جادو کے اثر سے بھی نکل جاتا ہے۔سب سے بڑھ کر مسنون طریقہ علاج ہونے کی وجہ سے اہل ایمان کو ایک روحانی سکون ملتا ہے۔

    حجامہ کیسے کیا جاتا ہے؟

    حجامہ سے قبل مطلوبہ جسم کے حصے پر زیتون یا کلونجی کا تیل لگا دیا جاتا ہے جس سے جلد پرسکون رہتی ہے پھر جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں۔

     خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔

    بہت سے افراد جو کہ کسی مرض کا شکار نہیں ہیں محض جسم کو ہلکا پھلکا بنانے اور تر و تازگی حاصل کرنے کے لئے بھی ہر ماہ حجامہ کرواتے ہیں ۔ویسے بھی مہینے میں ایک دفعہ حجامہ کروانا عین سنت ہے۔یہ سارا عمل دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے اور خراشیں لگانے کے دوران کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی ایسے میں جسم گندے خون سے پاک ہو جاتا ہے اور انسان موجودہ شکایت سمیت متعدد بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔

    عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے اور مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ۔

    چونکہ حجامہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس لئے اس میں کسی طرح کی سخت پرہیز نہیں کرنی پڑتی جو کہ عام طور پر ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک ،یونانی یا دیگر علاج کے طریقوں میں کی جاتی ہیں۔ تاہم مکمل علاج کے لئے مریض کو سختی سے طب نبوی ﷺ میں دی گئی ہدایت کی پابندی کرنی چائیے۔

    حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔

    ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔

    خیال رہے کہ نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے گئے ہیں، حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کارتھراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ ناتجربہ کار شخص صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔

    حجامہ کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں بلکہ کسی ایک مقام پر حجامہ کرنے سے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ شوگر کے مریضوں کے زخم بھی 24 گھنٹوں میں بھر جاتے ہیں-

  • چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو  لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    ڈیڑھ برس قبل چین کے شہر ووہان میں کووڈ کی اولین دریافت کے بعد ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں ملا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اس بیماری کی شروعات کیسے ہوئی تھی۔

    باغی ٹی وی : حالیہ ہفتوں میں اس دعوے کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔ ماہرین نے اب تک اسے سازشی مفروضہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کیونکہ اس کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہو پائے ہیں۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ووہان شہر میں چین کی ایک اہم تجربہ گاہ اور تحقیقی مرکز ہے اور ووہان انسٹٹیوٹ آف وائرولوجی (ڈبلیو آئی وی) میں چمگادڑوں سے ملنے والے مختلف نوعیت کے کورونا وائرس پر تحقیق کئی سالوں سے جاری ہے۔

    یہ مرکز اس مارکیٹ سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے کورونا وائرس کے سب سے پہلے متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وائرس اس مرکز سے نکل کر اس مارکیٹ میں پھیلا ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کی واضح اکثریت اس بات پر یقین کرتی ہے کہ یہ ایک قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ایک وائرس ہے جو کہ جنگلی جانوروں یا جنگلات سے آیا ہے نہ کہ اسے مصنوعی طور پر کسی تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے۔

    اس متنازع نظریے کا سب سے پہلے آغاز وبا کی شروعات کے ساتھ ہی ہوا تھا اور اس کو پھیلانے والوں میں سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش پیش تھے۔ کئی نے تو اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ یہ وائرس بطور حیاتیاتی ہتھیار بنایا گیا تھا۔

    شروع شروع میں میڈیا، ماہرین اور سیاستدانوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا تاہم چند لوگ پھر بھی مُصر تھے کہ اس پر تحقیق ہونی چاہیے۔ لیکن اب حالیہ چند روز میں یہ خیال دوبارہ سے منظر عام پر آ گیا ہے۔

    تاہم اب دو سائنس دانوں نے اس حوالے سے کچھ دھماکہ خیز نئے انکشافات کئے ہیں –

    ایک دھماکہ خیز نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوویڈ 19 کو ووہان کے سائنس دانوں نے تیار کیا تھا جس نے پھر وائرس کے "ریٹرو انجینئرنگ” ورژن کے ذریعے خو د کو اس طرح ڈھانپ لیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ جانوروں سے جسمانی طور پر تیار ہوا ہے۔

    اس مطالعے کے مصنفین ، برطانوی آنکولوجی ماہر پروفیسر انگوس ڈیلیگیش اور ناروے کے سائنسدان ڈاکٹر برجر سیرسن ، کے مزید دعوے کے ثبوت کو ماہرین نے نظرانداز کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ڈیلی میل کی رپورٹ کا حوالی دیتے ہوئے لکھا کہ ان سائنسدانوں کے مطابق کوویڈ ۔19 کے مروجہ "قدرتی اصلیت” کے نظریہ کو چیلنج کرتا ہے کہ ، یہ وائرس ووہان کے بازار میں قدرتی طور پر چمگادڑوں سے انسانوں تک پھلایا گیا ہے-

    پروفیسر ڈیلگلیش لندن میں سینٹ جارج یونیورسٹی میں آنکولوجی کے پروفیسر ہیں جنھوں نے "ایچ آئی وی ویکسین” پر کام کیا تھا اور ڈاکٹر بیرگر سیرنسن ایک ماہر معاشیات اور دوا ساز کمپنی امیونور کے چیئرمین ہیں نے ایک کوویڈ -19 ویکسین تیار کی ہےجسے بائیوواک -19 کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ جب گذشتہ سال کوویڈ 19 کے نمونوں کی ویکسین تیار کرنے کے لئے تجزیہ کیا گیا تو ، انھوں نے "انفرادیت سے متعلق انگلیوں کے نشانات” کو محسوس کیا جو صرف لیبارٹری کے ہیرا پھیری سے منسوب ہوسکتی ہے – لیکن اس وقت ان کی تلاش کو شائع کرنے کی ان کی کوششوں کو بڑے سائنسی جرائد نے مسترد کردیا تھا۔

    ڈیلی میل کے مطابق مزید مطالعے کے بعد ، پروفیسرڈیلگلیش اور ڈاکٹر سیرنسن نے 22 صفحات پر مشتمل ایک نئی رپورٹ جاری کی ، جو بائیو فزکس ڈسکوری کے سہ ماہی جائزہ میں شائع کی جائے گی اور اس کا اختتام ہوا کہ "سارس – کورونا وائرس 2 کا کوئی قابل اعتبار قدرتی اجداد نہیں ہے” اور یہ کہ یہ وائرس "معقول شک سے پرے” لیب میں تخلیق کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2002 اور 2019 کے درمیان ووہان لیب میں تجربات کرنے کے بعد ، انھیں شواہد ملے ہیں کہ ووہان سائنسدانوں نے غار کے چمگادڑوں میں پائے جانے والے ایک قدرتی کورونویرس کو ”ریڑھ کی ہڈی“ لیا اور اس پر ایک نیا “سپائیک” لگا دیا ، جو کوویڈ ۔19 بن گیا۔

    ایک اہم اشارہ سارس کوویڈ 2 اسپائک پر مثبت چارجڈ امینو ایسڈ کی ایک قطار تھی۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ تین امینو ایسڈ کی ایک صف بھی فطرےی طور پر کم ہی ہائی جاتی ہے کیونکہ وہ میگنٹ کی طرح ایک دوسرے کو پیچھے ہٹاتے تھے – لہذا قدرتی طور پر پائے جانے والے حیاتیات میں چار کی ایک قطار ملنا "بے حد مشکل امکان” تھا۔

    طبیعیات کے قوانین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لگاتار چار مثبت چارجڈ امینو ایسڈ نہیں مل سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈیلیگیش نے ڈیلی میل کو بتایا کہ اگر آپ مصنوعی طور پر اس کی تیاری کرتے ہیں تو آپ کو یہ حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

    اس وجہ سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ (کوویڈ ۔19) قدرتی عمل کا نتیجہ ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

    انہوں نے اپنے مطالعے میں لکھا ، "قدرتی وائرس سے وبائی مرض آہستہ آہستہ تبدیل ہوجائے گا اور زیادہ متعدی اور کم روگجنک ہوجائے گا جس کی بہت سے لوگ COVID-19 وبائی امراض سے توقع کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے۔”

    انہوں نے فنکشن تجربات کے حصول کا بھی مقصد لیا ، جس میں وائرس کو جوڑنا توڑنا ، چھڑکنا اور دوبارہ جوڑنا بھی شامل ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ، "ہماری تاریخی تعمیر نو کا اثر ، اب ہم معقول شک سے بالاتر ہیں ، مقصد کے ساتھ ہیرا پھیری شدہ چائمرک وائرس سارس-کوویڈ -2 کے بارے میں یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ فنکشن کے کس قسم کے تجربات پر غور کیا جائے یہ اخلاقی طور پر قابل قبول ہے۔”

    لہذا "وسیع تر معاشرتی اثرات کی وجہ سے ، ان فیصلوں کو صرف سائنس دانوں پر تحقیق کرنے کے لئے نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔”

    اس تحقیق کا دعویٰ ہے کہ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد ، ووہان کے سائنس دانوں نے وائرس کو "ریٹرو انجینئرنگ” کے ذریعہ اپنے اپنی تحقیق پردہ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ فطری طور پر تیار ہوا ہے۔

    پروفیسر ڈیلگلیش نے کہا ، "انھوں نے وائرس کو تبدیل کر دیا ہے ، پھر سالانہ پہلے ہی ایک ترتیب میں آنے کی کوشش کی۔”

    انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ چینی لیبز میں چند تحقیقات کی گئیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ "چینی سائنس دان جو اپنے علم میں اشتراک کرنا چاہتے ہیں وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں یا غائب ہوگئے ہیں”۔

    ڈاکٹر سرینسن نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کے نچلے سیکیورٹی والے علاقوں سے یہ وائرس بچ گیا ہے جہاں کام کی تحقیق کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ “ہم نے لیب لیک دیکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے۔ ہمیں ان رپورٹوں سے بھی معلوم ہے جو ہم نے دیکھی ہیں ، کہ بائیوسافٹی لیول 2 یا 3 لیبز میں کورونا وائرس پر کام کیا گیا ہے۔ اگر وہ اس طرح کی لیبز میں کام کرتے ہیں تو آپ کو کیا امید ہے؟ –

    واضح رہے کہ کوویڈ 19 کی ابتداء کا لیب فرار کا نظریہ ایک فرج نظریہ کے طور پر شروع ہوا تھا لیکن اس میں تیزی سے رفتار پیدا ہوئی ہے اور اس نظریے کے شروع ہونے کی وجہ بنی ہے –

    بی بی سی کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ ووہان کی تجربہ گاہ کے تین محققین کا نومبر 2019 میں ایک ایسی بیماری کا علاج کیا گیا تھا جو کہ کوویڈ 19 سے ملتی جلتی ہے۔

    لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے حکم سے شروع ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی اس تفتیش کو بند کر دیا تھا۔

    چند روز قبل صدر بائیڈن کے چیف میڈیکل مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ ’اس دعوے میں بالکل حقیقت ہو سکتی ہے اور میں مکمل تفتیش کرنے کے حق میں ہوں۔

    اب نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے جو اس وبا کے آغاز کے حوالے سے اس مفروضے (چینی لیب سے اس کی ابتدا) کی جانچ بھی کرے گی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے 90 دن میں کووڈ کے آغاز کے بارے میں تحقیقی رپورٹ طلب کی ہے جس میں یہ معلوم کیا جائے کہ ‘آیا یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسان میں منتقل ہوا یا پھر وہ کسی تجربہ گاہ سے حادثاتی طور پر نکل گیا۔’

    صدر نے کہا کہ امریکہ "پوری دنیا کے ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ چین پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایک مکمل ، شفاف ، شواہد پر مبنی بین الاقوامی تحقیقات میں حصہ لیں”۔

    توقع تھی کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کے آغاز پر کی گئی تحقیق سے اس سوال کا جواب مل جائے گا لیکن کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سے جوابات کے بجائے مزید سوالات پیدا ہو گئے۔

    معروف سائنسدانوں کے ایک گروپ نے عالمی ادارہ صحت پر تنقید کی کہ انھوں نے اس نظریے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور سینکڑوں صفحات پر مبنی اس رپورٹ میں اس نظریے کا ذکر محض چند صفحات میں کر کے اسے نظر انداز کیا۔

    مؤقر جریدے ’سائنس‘ میں مشترکہ طور پر لکھے گئے اس مضمون میں سائنسدانوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس وائرس کے قدرتی طور پر یا تجربہ گاہ سے نکلنے کے خیال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا تاوقتیکہ ہمارے پاس معقول تعداد میں ڈیٹا نہ آ جائے۔’

    اور اب ماہرین میں اس بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ لیب لیک تھیوری پر زیادہ غور کرنا ہوگا۔

    حتی کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے نے بھی نئے سرے سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ ‘تمام تر خیالات اور خدشات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔’

    ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے بھی اب کہا ہے کہ وہ وائرس کے قدرتی طور پر بننے کے خیال سے ‘مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتے’۔ یہ ان کے گذشتہ برس کے نکتہ نظر کے برعکس ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ حد درجہ امکان یہی ہے کہ کووڈ کا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

    دوسری جانب چین نے لیب لیک نظریہ کو سختی سے مسترد کردیا ہے اور اس ہفتے امریکہ میں اپنے سفارت خانے سے ایک بیان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

    جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "سمیر مہم اور الزام تراشی سے واپسی ہو رہی ہے ، اور’ لیب لیک ‘کے سازشی نظریہ کی بحالی ہو رہی ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی وبا کو روکنے کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ یہ وائرس کیسے اور کہاں سے آیا۔

    اگر وائرس کے قدرتی طور پر پیدا ہونے کا نظریہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو وہ مستقبل میں کھیتی باڑی اور جنگلی جانوروں کے ساتھ منسلک کاروبار کو متاثر کر سکتی ہے۔

    لیکن دوسری جانب اگر لیب لیب کا نظریہ صحیح ثابت ہوتی ہے تو یہ سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    اور اگر لیک کا نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ شاید چین کی ساکھ کو بھی متاثر کرے۔ چین پر پہلے ہی شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس نے وبا کے آغاز میں اہم معلومات چھپائی تھیں اور اس الزام کی وجہ سے امریکی اور چین کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

    واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے منسلک جیمی میٹزل لیب لیک کے نظریے پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ چین نے پہلے دن سے حقیقت چھپائی ہے۔

    لیکن دوسری جانب کئی لوگ چین کو مورد الزام ٹھہرانے میں جلد بازی کرنے سے منع کرتے ہیں۔

    سنگاپور کے نیشنل یونی ورسٹی ہسپتال سے منسلک پروفیسر ڈیل فشر کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں نہ صرف تحمل سے کام لینا ہوگا بلکہ سفارتی آداب بھی ملحوظ خاطر رکھنے ہوں گے۔ ہم یہ تحقیق چین کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتے اور ایسا ماحول نہیں قائم کر سکتے جس میں صرف چین پر الزام لگائے جائیں۔

  • اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے    عالمی ادارہ صحت

    اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت اور محنت کشوں کی عالمی تنظیم کی ایک مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق روزانہ 9 گھنٹے یعنی ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دورانیے کی ملازمت سے دل کے دورے یا فالج کے باعث موت کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے یہ اوقاتِ ملازمت اور صحت میں باہمی تعلق پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا عالمی تحقیقی مطالعہ ہے جس کے نتائج تحقیقی مجلے ’’اینوائرونمٹ انٹرنیشنل‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ تحقیق میں دو منظم ریویوز اور میٹا تجزیوں سے استفادہ کیا گیا جبکہ امراضِ قلب سے متعلق 37 اور فالج کے بارے میں 22 جامع مطالعات سے حاصل شدہ اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا مجموعی طور پر اِن 59 مطالعات میں 16 لاکھ سے زائد افراد شریک تھے۔


    اس تحقیق کےلیے 1970 سے 2018 کے دوران 154 ممالک میں کیے گئے 2300 سے زائد سرویز کا احاطہ کیا گیا ہے جو عالمی، علاقائی اور قومی سطح کے تھے۔

    تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ 2016 میں فالج سے 3 لاکھ 98 ہزار اموات جبکہ امراضِ قلب سے 3 لاکھ 47 ہزار اموات کی وجہ ملازمت کے طویل اوقات تھے۔


    سال 2000 کے مقابلے میں فالج سے اموات کی یہ شرح 19 فیصد زیادہ، جبکہ امراضِ قلب سے اموات کی شرح 42 فیصد زیادہ تھی جو بلاشبہ تشویشناک ہے۔

    یہی نہیں بلکہ مردوں میں 72 فیصد اموات کا سبب کام کا مسلسل دباؤ اور زیادہ اوقات تھے جبکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق مغربی بحرالکاہل اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں سے دیکھا گیا تاہم 2000 سے 2016 تک 7 لاکھ 45 ہزار ملازم موت کے منہ میں چلے گئے-


    ملازمت کے اوقات میں زیادتی کے باعث مرنے والوں کی عمریں 60 سے 79 سال کے درمیان تھیں جبکہ انہوں نے 45 سے 74 سال کی عمر کے درمیان ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دیر تک کام کیا تھا۔

    اس تحقیق کی روشنی میں عالمی ادارہ صحت نے تجویز کیا ہے کہ ملازمین پر کام کا دباؤ کم کرتے ہوئے ملازمت کے اوقات کم کیے جائیں اور اداروں میں ملازمین کو اوور ٹائم کرنے پر مجبور نہ کیا جائے-

  • سوشل سکیورٹی اسپتال اسلام آباد میں لوٹ مار کا بازار گرم

    سوشل سکیورٹی اسپتال اسلام آباد میں لوٹ مار کا بازار گرم

    اسلام آباد سوشل سکیورٹی اسپتال سے متعلق ایک متنازعہ خبر سامنے آئی ہے جس میں ندیم نامی وارڈ بوائے کو چیک اپ کے لیے آئے مریضوں سے فیس وصول کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر ایک شہری کی جانب سے جمع کروائی گئی شکایت کے مطابق اسلام آباد سوشل سکیورٹی اسپتال میں بغیر کارڈ کے مریضوں کو چیک کرنے اور ان سے فیس وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    شکایت گزار کے مطابق اس کا سوشل سکیورٹی کارڈ نہیں بنا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود وہ بچوں کو ساتھ لیے اوپی ڈی میں چیک اپ کے لیے چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ یہاں تو بس انہی لوگوں کا چیک اپ کیا جاتا ہے جن کے پاس سوشل سکیورٹی کارڈ ہوتا ہے۔ حقیقت معلوم ہونے پر شکایت گزار نے واپسی کی راہ لی لیکن اسی دوران اس نے ایک شخص کو خاتون اور بچے کے ہمراہ چیک اپ کروا کے کمرے سے باہر کاوٴنٹر پر آتے اور وارڈ بوائے کے ہاتھ میں فیس تھماتے دیکھا۔ وارڈ بوائے کو فیس دینے والے شخص کے پاس بھی سوشل سکیورٹی کارڈ نہ تھا ۔

    اس کے بعد جب شکایت گزار نے وارڈ بوائے سے استفسار کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو اس نے بتایا کہ یہ ڈاکٹر صاحبان کے پرائیویٹ مریض ہیں جو کہ اکثر یہاں چیک اپ کروانے آتے رہتے ہیں ، آپ چھوڑیں، آپ کا کیا لینا دینا اس سے۔ تو شکایت گزار نے وارڈ بوائے سے کہا کہ وہ اس سے بھی فیس وصول کر لیں اور بطور پرائیویٹ مریض ان کے بچوں کا بھی چیک اپ کر دیں جس پر شکایت گزار کو صاف انکار سننا پرا۔ شکایت گزار نے اس سارے منظر کی ویڈیو بھی بنا لی ہے جو کہ بطور ثبوت اس نے سیٹزن پورٹل پر اپلوڈ کر رکھی ہے۔

  • ڈی سی شیخوپورہ کا دورہ ویکسینیشن سنٹر

    ڈی سی شیخوپورہ کا دورہ ویکسینیشن سنٹر

    ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے شیخوپورہ میں قائم کورونا ویکسینیشن سنٹرز کا دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کورونا ویکسینیشن سنٹرز میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے سی ای او ہیلتھ کو ہدایت کی کہ کورونا ویکسینیشن سنٹر میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی غفلت نہ برتی جائے۔

    انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ کو ہدایت کی کہ کورونا ویکسینیشن سنٹرز کا باقاعدگی کے ساتھ دورہ کریں اور عوام کے لیے بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنا یا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور کرونا ایس او پیز پر عمل در آمد کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ویکسینیشن کورونا سے بچاﺅ کا اہم ذریعہ ہے لیکن ویکسینیشن ماسک کے استعمال سماجی فاصلے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ڈپٹی کمشنر نے کورونا ویکسینیشن سنٹر میں بزرگ شہریوں سے سنٹر میں ملنے والی سہولیات کے بارے میں بھی دریافت کیا جس پر ویکسینیشن سنٹر میں آنے والے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کی کام سے لگن اور عوام کی خدمت کے جذبے کی وجہ سے کورونا ویکسینیشن سنٹر میں تمام تر سہولیات میسر ہیں ۔

  • رمضان کے دوران قہوہ کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد

    رمضان کے دوران قہوہ کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد

    رمضان کے دوران افطار کے فوراً بعد چائے کی طلب ہوتی ہے، ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ افطار کے بعد دودھ والی چائے کے استعمال کے بجائے مختلف اقسام کے قہوے جیسے کہ دار چینی، سبز چائے، لیمن گراس، ادرک اور سونف کا قہوہ پینا نا صرف غذا کو جَلد ہضم کر کے تروتازہ محسوس کرواتا ہے بلکہ بہتر نیند، مضر صحت مادوں کے اخراج ، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح متوازن رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

    طبی و غذائی ماہرین کے مطابق قہوہ کا باقاعدہ استعمال جہاں وزن میں کمی کا سبب بنتا ہے وہیں رمضان کے دوران اس کے استعمال کے فوائد دگنے ہو جاتے ہیں اور قہوے کے استعمال سے وزن مزید تیزی سے کم ہونے سمیت جلد کی خوبصورت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    قہوہ میں موجود قدرتی مرکبات نظام ہاضمہ پر مثبت اور پر سکون اثرات مرتب کرتے ہیں، محققین کا ماننا ہے کہ سبز چائے میں موجود پولی فینولز معدے میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی افزائش کو بڑھاتے ہیں۔

    ماہرین کےمطابق ذیابطیس ایک میٹابولک مرض ہے، روزانہ 2 سے 3 کپ قہوہ پینا ذیابطیس ٹائپ ٹو کا خطرہ 42 فیصد تک کم کر دیتا ہے جبکہ رمضان کے دوران افطار کے بعد ایک سے دو کپ قہوے کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق رمضان کے آتے ہی بہت سے افراد اُن کے پاس معدے کی شکایت لے کر آ تے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق روزہ افطار کرنے کے دوران مکس فروٹ چاٹ، چنا چاٹ ، دودھ اور دہی سے بنے مشروبات اور تلی ہوئی غذاؤں کے استعمال کے سبب معدے کی کاکردگی خراب ہو جاتی ہے اور روزے دور پیٹ سے متعلق متعدد بیماریوں میں گِھر جاتے ہیں جس کا حل ادرک اور سبز پتی کے قہوے موجود ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق قہوہ میں موجو تیزابیت آنتوں کی صفائی کرتی ہے جس سے جسم کو غذا ہضم اور جذب کرنے میں مدد ملتی ہے قہوے کے استعمال کے نتیجے میں آنتوں کی سوجن میں کمی آتی ہے قہوے کے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اس میں لیموں اور شہد کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

  • سائندانوں نے ماں سے نوزائیدہ بچوں میں ایڈز کی منتقلی روکنے کا علاج دریافت کر لیا

    سائندانوں نے ماں سے نوزائیدہ بچوں میں ایڈز کی منتقلی روکنے کا علاج دریافت کر لیا

    ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ علاج دریافت کیا ہے جس سے ماں سے نوزائیدہ بچے میں ایچ آئی وی (ہیومن امیونو ڈیفی شینسی وائرس) کی منتقلی کو روکا جا سکے گا-

    باغی ٹی وی : اس طریقے سے ماں کے خون میں موجود ایچ آئی وی (ایڈز) کے وسیع پیمانے پر اسٹرینز کو بلاک کرنے کا طریقہ استعمال کیا جاسکے گا جس سے ایچ آئی وی کی نوزائیدہ بچے میں منتقلی کو روکنا ممکن ہوجائے گا۔

    ویل کورنیل میڈیسن اینڈ ڈیوک یونیورسٹی کی تحیقی ٹیم یہ جاننے کی کوشش کررہی تھی کیوں ایچ آئی وی انفیکشن ماں کے رحم میں کچھ بچوں میں منتقل ہوتی ہے لیکن دیگر میں نہیں ہوتی؟ –

    تاہم اب ماہرین نے یہ گتھی سلجھا لی ہے، اور انھیں نو زائید بچے میں اسکی منتقلی کی روک تھام کے حوالے سے طریقہ علاج مل گیا ہے۔

    تحقیقی ٹیم کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ایک ممکنہ طریقہ کار کے مطابق اب یہ پیش گوئی کرنا ممکن ہوگیا ہے کہ ماں سے نوزائیدہ بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی ہوگی یا نہیں اور اس نقطے کی نشاندہی ہوئی ہے کہ اسے کس طرح روکا جاسکے گا-

  • بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت

    بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت

    ورجینیا: ماہرین نے بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت کر لیا یہ بریسٹ کینسر، وی سی یو، میسی کینسر سینٹر کے تحقیق کار چارلس کلیوینجر(ایم ڈی، پی ایچ ڈی) اور انکی لیب نے دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے میسی کینسر سینٹر میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ چھاتی میں کینسر کی افزائش کا سبب بننے والا ایک ہارمون پروکلیٹین دراصل بریسٹ گروتھ کا سبب بنتا ہے-

    ہارمون پروکلیٹین حمل کے دوران ماں کے دودھ میں اضافے کی وجہ بھی ہوتا ہے یہ ہارمون بریسٹ کینسر کا اہم سبب ہے، اور اب یہ ٹارگیٹڈ دوا کی تیاری میں کافی مفید ثابت ہوگا جس سے کئی قسم کے کینسر کا علاج کیا جاسکے گا۔

    ماہرین کے مطابق بریسٹ کینسر کا براہ راست سبب بننے والے اس ہارمون کے سیلز کی سطح پر پروٹین موجود ہوتا ہے جسے رسیپٹرز کہتے ہیں جو کہ بائیولوجیکل پیغامات وصول اور بھیجنے کے ساتھ سیل کے افعال کو بھی ریگولیٹ کرتا ہے۔

    تحقیق جرنل برائے نیچر پارٹنر جرنلز میں شائع ہوئی ہے –

  • ماہرین نے رمضان میں پروٹین والی غذاؤں کا استعمال کیوں ضروری قرار دیا؟

    ماہرین نے رمضان میں پروٹین والی غذاؤں کا استعمال کیوں ضروری قرار دیا؟

    غذائی ماہرین کے مطابق پروٹین انسانی غذا اور جسمانی نشونما کے لیے اہم اور بنیادی جز ہے جس کی کمی کے نتیجے میں صحت سے متعلق متعدد مسائل جنم لیتے ہیں پروٹین کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے مگر دوران رمضان اس کے استعمال سے جہاں دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں یہ روزہ نہ لگنے کا سبب بھی بنتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماہرین غذائیت کی جانب سے رمضان کے دوران پروٹین سے بھر پور غذاؤں کے استعمال کو بڑھا دینا تجویز کیا جاتا ہے –

    انسانی جسم کے وزن کا 18 سے 20 فیصد حصہ پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے، پروٹین کی کمی کے نتیجے میں جسمانی کمزوری، جسمانی اعضاء کا سوجنا، بال، ناخن اور جِلد کا خراب ہونا، بھوک زیادہ لگنا، چڑچڑاپن محسوس ہونا اور تھکاوٹ شامل ہے۔

    عام طور پر انسانی جسم کے فی کلو گرام وزن کے لیے 0.8 سے1 گرام پروٹین تجویز کی جاتی ہے جبکہ ویٹ لِفٹر یا ایتھلیٹس کے لیے فی کلو گرام وزن کے حساب سے 1.4سے 2 گرام پروٹین حاصل کرنا تجویز کیا جاتا ہے ورزش کرنے کے آدھے گھنٹے کے بعد 15سے 25 گرام پروٹین کی مقدار لینے سے متاثرہ پٹھوں کو آرام ملتا ہے اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔

    پروٹین کی دو طرح کی اقسام ہیں جن میں ’اینیمل پروٹین‘ یعنی کے حلال جانوروں کے گوشت جیسے کہ گائے، بھینس، مرغی مچھلی، دودھ اور انڈوں سے حاصل کیے جانے والا جبکہ دوسرا ’پلانٹ پروٹین ‘ جس میں دالیں، جو، سبزیاں، پھلیاں اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

    پروٹین ہضم ہونے میں وقت لیتا ہے جبکہ اس کے استعمال سے تا دیر بھوک نہیں لگتی، پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو رمضان المبارک میں آئیڈیل غذا قرار دیا جاتا ہے۔

    غذائی ماہرین کی جانب سے بہت زیادہ پروٹین کی مقدار استعمال کرنے کو بھی مضر صحت قرار دیا جاتا ہے لہٰذا پروٹین سے بھر پور غذاؤں کے ساتھ کاربو ہائیڈریٹس اور فائبر کی مقدار لینا بھی ضروری ہے اگر آپ پروٹین ڈائیٹ پر ہیں تو گوشت کے ساتھ کچی سبزیوں کی شکل میں سلاد کا استعمال بھی لازمی کریں، ایک وقت کی غذا میں مکمل گوشت کا استعمال بھی مضر صحت ہے۔

    پروٹین کے بہتر مثبت انداز میں استعمال کے لیے دالوں اور گوشت کو ملا کر استعمال کریں، اگر صبح کے اوقات میں گوشت کھایا ہے تو شام میں دال کا سوپ اور سلاد لے لیں۔

    غذا میں جتنی پروٹین کی اہمیت ہے اتنی ہی اہمیت اس دوران خود کو ہائیڈریٹڈ رکھنے کو دی جاتی ہے، اگر آپ پروٹین حاصل کرنے کی غرض سے گوشت، دالوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں تو اس دوران ساتھ میں پانی کا استعمال بڑھانا بھی لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

    سحری کے وقت کوشش کریں کے ایک پیالی دہی یا 2 سے تین گلاس دودھ اور دہی سے تیار لسی کا استعمال لازمی کریں، سحری کے اوقات میں انڈہ بھی غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

    رمضان میں وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟