انسداد منشیات کے عالمی دن کی مناسبت سے کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نشہ ایک لعنت ہے، اس کی بیخ کنی کیلیے انتہائی سنجیدہ کاوش کرنے کی طرف جا رہے ہیں، نشے کے عادی افراد کی بحالی و علاج کیلئے ایک مستقل ادارہ بنا رہے ہیں، نشے کے عادی افراد کا بحالی طویل وقت میں ہوتی ہے۔قانون سازی کر رہے ہیں، نشے کا شکار ہونے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، اس کا انسداد اور شکار لوگوں کی بحالی کریں گے، حکومتی ہدایات پر سی سی پی او لاہور اور میرے درمیان پالیسی سازی پر تجاویز تیار ہو رہی ہیں، شیشہ کیفیز کو بتدریج ختم کیا تھا اور آکسی شاٹس کو لاہور میں نہیں پھیلنے دیا ہے، نشے کے شکار ہمارے بہن بھائیوں کو بحالی سنٹر میں ہمدردانہ علاج کی ضرورت ہوگی، مستقل ادارے اور عادی افراد کو انکی خواہش یا بغیر خواہش بحالی کیلیے ڈرافٹ لاء پر کام کر رہے ہیں، نشے کے عادی افراد کیلئے مستقل ادارے کے تحت ان کو ہنر بھی سکھائے جائیں گے، خوبصورت لاہور پروگرام شہر کے مختلف حصوں میں موجود نشے کے عادی افراد کی بحالی کے بغیر نا مکمل ہوگا.
Category: صحت
-

منڈی بہاؤالدین کے لوگوں کے لئے خوشخبری مشہور چائلڈ سپیشلسٹ اب ایک دن کے لئے آیا کریں گے
رپورٹ کاشف تنویر. تفصیلات کے مطابق پمز ہسپتال اسلام آباد کے نامور چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر بلال علی انجم جو کے پمز ہسپتال میں سنیر رجسٹرار کے طور پر تعینات ہوتے ہوئے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہر اتوار کو فیملی کیئر ہسپتال میں صبح 10 سے دوپہر 3 بجے تک بچوں کا چیک اپ کریں گے جو کہ منڈی بہاوالدین کے لوگوں کے لیے جذبہ خدمت کا ثبوت ہے۔

ہم ڈاکٹر بلال علی انجم کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے منڈی بہاؤالدین میں چائلڈ سپیشلسٹ کی شدید کمی کو مدنظر رکھتے ہوۓ ہر اتوار کو منڈی بہاؤالدین فیملی کیر ہسپتال پھالیہ روڈ نزد حیدر پیلس آنے کا فیصلہ کیا۔ -

ہیلتھ آرگنائزیشن کا حکومت سے میٹھے مشروبات مہنگے کرنے کا مطالبہ
78 فیصد پاکستانیوں اور مختلف ہیلتھ آرگنائزیشنز کی سفارشات کی جانب سے میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ کی حمایت کے باوجود حکومت نے اس مسئلے کو نظر انداز کردیا، ہیلتھ منسٹری، سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کی پر زور سفارشات تھیں کہ ایس ایس بی پر کم از کم 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو نافذ کیا جائے،
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے سب سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ آپ اسمبلیوں میں عوام کی آواز بنیں، ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان، اسکیلنگ اپ نیوٹریشن سول سوسائٹی الائنس، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن، چائلڈ رائٹس موومنٹ، پاکستان فیملی فزیشنز، سینئر فزیشن ڈاکٹرز، پاکستان کڈنی پیشنٹ ایسوسی ایشن اور دیگر صحت عامہ کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پرزورسفارش کی گئی تھی کہ بجٹ 2021-22 میں میٹھے مشروبات (ایس ایس بی) پر کم ازکم 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) نافذ کیا جائے، کیوں کہ میٹھے مشروبات کی کثرت استعمال سے موٹاپا، غیر مواصلاتی امراض (این سی ڈیز) کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں دل، کینسر، ذیابیطس، معدہ، جگر، فالج، موٹاپا، دانتوں اور دیگر امراض شامل ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت بین الاقومی صحت کے اداروں کی واضح سفارش ہے کہ ایس ایس بی پر ٹیکس بڑھانا اس کی کھپت کو کم کرنے کا موثر ذریعہ ہیں، لیکن حکومت نے عوامی مفاد کی بجائے انڈسٹری مافیا کے مفاد کو ترجیح دی ہے،
ّآج (پناہ) کی طرف سے وزیراعظم پاکستان عمران خان، مسلم لیگ (ن) سے شہبازشریف ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قائد حزب اختلاف یوسف رضاگیلانی، اے این پی کے صدر اسفند یارولی خان، پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو، کو خصوصی خطوط لکھے گئے ہیں کہ عوامی مفاد کے تحفظ کیلئے آپ بھی اسمبلیوں میں ہماری آواز بنیں اور ضروری اشیاء مثلا بجلی اور پیٹرول کو مہنگا کرنے کی بجائے بیماریاں پیدا کرنے والی غیر ضروری اشیاء پرٹیکس لگا کر ریونیو اکھٹا کیا جائے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ -

ہیمو گلوبن کیا ہے؟ انسانی جسم پر اسکی کمی و زیادتی کی علامات اور علاج
ہیموگلوبن( Hb) ایک پروٹین ہے جو سرخ خون کے خلیوں میں ہوتا ہے۔ یہ خون کو سرخ بناتا ہے۔ عام سطح میں ، ہیموگلوبن جسم کے لئے بہت سے کام کرتا ہے۔ لہذا ، عام ہیموگلوبن کی سطح کو ہر وقت برقر رکھنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ہیموگلوبن کی مقدار یا شکل غیر معمولی ہو تو سرخ خون کے خلیے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نقل و حمل میں مناسب طریقے سے کام نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس میں خون کی کمی سمیت صحت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کسی کے جسم میں ہیموگلوبن کی سطح کی معمولی قیمت صنف اور عمر کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ بالغ خواتین میں ہیموگلوبن کی سطح 12-15 g / dL تک ہوتی ہے ، جبکہ بالغ مردوں میں ہیموگلوبن کی سطح 13–17 g / dL ہوتی ہے۔
جب کسی شخص کی ہیموگلوبن کی حالت معمول سے زیادہ یا کم ہوتی ہے تو ، یہ صحت کی پریشانی کی علامت ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کم سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم میں خون کی کمی ہے۔ یہ حالت متعدد چیزوں کی وجہ سے ہوسکتی ہے ، جیسے خون کی کمی ، گردے اور ہڈیوں کے میرو کی خرابی ، تابکاری کی نمائش ، یا آئرن ، فولیٹ ، اور وٹامن بی 12 جیسے غذائی اجزاء کی کمی۔
جب ہیموگلوبن ٹھیک طرح سے کام نہیں کرسکتا ہے تو ، جسم کو کئی علامات کا سامنا کرنا پڑے گا جیسے سستی اور تھکاوٹ ، سر درد اور چکر آنا ، پیلا جلد ، سینے کی دھڑکن ، اور سانس کی قلت۔
جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ اینمیا کا شکار بنا سکتی ہےیہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہر 10 میں سے 8 افراد کو ہوتا ہے-
بالغ افراد کے لیے اس حوالے سے روزانہ آئرن کی مقدار بھی تجویز کی گئی ہے جیسے مردوں کے لیے 8 ملی گرام جبکہ خواتین کے لیے 18 ملی گرام، تاہم 50 سال کی عمر کے بعد خواتین میں بھی یہ مقدار 8 ملی گرام ہوجاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیموگلوبن کی مقدار اور افعال کو بڑھانے کے لئے اکثر کیسز میں غذائی تبدیلیاں لا کر قابو پانا ممکن ہوتا ہے لہذا ایچ بی کی کمی والے لوگ خون میں پتلیوں یا آئرن ، فولیٹ ، اور وٹامن بی 12 سے بھرپور کھانے کی اشیاء ، جیسے گوشت ، مچھلی ، انڈے اور سبزیوں کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
خون کی کمی پورا کرنے کے قدرتی طریقے
علاوہ ازیں درج ذیل غذاؤں سے ہیمو گلوبن کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے-
ٹماٹر: ٹماٹر آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کو وٹامن سی بھی فراہم کرتے ہیں جو کہ آئرن کے جسم میں جذب ہونے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔
کشمش: کشمش بھی آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جسے آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔
خشک خوبانی : خون کی کمی سے بچانے کے لیے ایک اور بہترین میوہ خشک خوبانی ہے جس میں آئرن اور وٹامن سی کے ساتھ ساتھ فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو کہ قبض سے بچانے میں مددگار جز ہے۔
شہتوت: یہ آئرن سے بھرپور پھل ہے جس میں پروٹینز کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔
کھجور: کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے۔ اس کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں
انار: انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو کہ آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے۔
تربوز: تربوز نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری کرتا ہے بلکہ جسم میں موثر طریقے سے ہیموگلوبن کی سطح بھی بڑھاتا ہے۔
آلو بخارر: یہ پھل فائبر سے بھرپور ہے جو قبض کا بھی موثر علاج ثابت ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود آئرن ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھانے میں مددگار ہے۔
کلیجی: کلیجی فائبر، پروٹین، منرلز، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، اس کی معتدل مقدار میں استعمال خون کی کمی کو چند دنوں میں پورا کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم اسے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔
چنے: یہ پروٹین اور آئرن سے بھرپور بھی ہوتے ہیں جو کہ ہیموگلوبن کے لیے بہترین ہے۔
دالیں: دالیں بھی آئرن سے بھرپور ہوتی ہیں جبکہ ان میں موجود فائبر جسم میں صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول لیول کی سطح میں بھی کمی لاکر دل کو تحفظ دیتا ہے۔
پالک: پالک آئرن سے بھرپور سبزی ہے اور اسے کھانا غذائی اجزاءکو بہت تیزی سے جسم میں ہونے میں مدد دیتا ہے۔
علاوہ ازیں کیلے ، سیب اور مالٹے میں بھی بھر پور مقدار میں آئرن کی مقدار موجود ہوتی ہے ان غذاؤں کے استعمال کے علاوہ معالج سے بھی ضرور رجوع کریں-
کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب گھریلو نسخہ
دوسری جانب ضرورت سے زیادہ ہیموگلوبن کی سطح جسم میں صحت کی پریشانی کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ ہائی ہیموگلوبن کی سطح کی حالتیں پولیسیٹیمیا ویرا ، کینسر ، گردے کے ٹیومر ، پھیپھڑوں کی بیماری ، پیدائشی دل کی خرابی کی شکایت اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہوسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ ، سگریٹ نوشی کی عادات ، بعض دوائیوں کے مضر اثرات ، نیز ماحولیاتی عوامل جیسے پہاڑی علاقوں میں رہنا یا کام کی جگہوں پر جو کاربن مونو آکسائیڈ زہر پیدا کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں ، وہ بھی ہیموگلوبن کی سطح کو متحرک کرسکتے ہیں۔
زیادہ ہیموگلوبن کی سطح والا شخص کچھ علامات کا سامنا کرسکتا ہے ، جیسے سر درد ، چکر آنا ، اور سستی ، لیکن بعض اوقات یہ غیر مہذب ہوسکتا ہے۔ ہائی ہیموگلوبن کی سطح ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتی ہے ، لیکن کچھ مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ اس حالت سے دل کی بیماریوں جیسے اسٹروک اور دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
-

رورل ہیلتھ سنٹر کھاریانوالہ کا عملہ غائب، مریض خوار
شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر )شیخوپورہ کے نواحی علاقہ کھاریانوالہ کے ہسپتال میں اندھیر نگری چوپٹ راج رورل ہیلتھ سنٹر کھاریانوالہ کا پورا عملہ ہسپتال سے غائب رہنے لگا،ہسپتال سے ڈاکٹر سمیت غائب عملے گزشتہ رات مریض بیماری سے تڑپ رہا ہے اور ہسپتال میں کوئی بھی موجود نہیں،ہسپتال میں آنے والے مریض تکلیف کے باعث ڈاکٹر کے انتظار میں تڑپنے لگے،ڈاکٹر اور عملہ حاضریاں لگا کر گھروں کو چلا جاتا ہے جب بھی رات کے ٹائم ہسپتال میں آتے ہیں عملہ نا ہونے کے باعث ڈی ایچ کیو جانا پڑتا ہے اگر کبھی ڈاکٹر موجود ہوں بھی تو مریض کو چیک کرنے کی بجائے ریفر کر دیا جاتا ہے،ہسپتال میں بچوں کے ختنے کروانے کے لیے 5 سو روپے وصول کیئے جاتے ہیں، ڈیوٹی سے غائب رہنے والے ڈاکٹر اور عملے کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے شہری،شہریوں کا سیکرٹری ہیلتھ اور ڈپٹی کمشنر سے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔
-

ڈپٹی کمشنر کا دورہ خانقاہ ڈوگراں
شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے)ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے آج گورنمنٹ ڈگری کالج خانقاہ ڈوگراں میں کورونا ایس او پیز سمیت طلباء کو فراہم کی جانیوالی سہولیات کا جائزہ لیا اور شدید گرمی میں تعلیم کے حصول کے لیے آنیوالے طلباء کو ٹھنڈے پانی کی فراہمی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ رورل ہیلتھ سنٹر خانقاہ ڈوگراں بھی گئے، ادویات کی فراہمی سمیت علاج معالجے کی سہولیات کا جائزہ لیا اور عملے کو ڈیوٹی ایمانداری سے ادا کرنے کی ہدایت کی بعد ازاں وہ اچانک نقشہ برانچ اور ٹی ایم اے دفتر پہنچ گئے اور عملے کی حاضری اور ٹی ایم اے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کا کہنا تھا کہ شہر کے ساتھ دیہاتوں میں مقیم افراد کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سرپرائز وزٹ جاری رہیں گے۔
-

دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات تحریر:سمیع اللہ
موضوع دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات
تحریر سمیع اللہ
انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔
تھکاوٹ
یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔
پیٹ میں درد
50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔
بے خوابی
یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔
سانس گھٹنا
چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
بال گرنا
بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔
دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی
دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔
بہت زیادہ پسینہ آنا
غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔
سینے میں درد
مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔
-

کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاہور میں رواں برس مختلف مقامات سے 7 ہزار636 مقامات پر لاروا پایا گیا-
باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق لاہورمیں ڈینگی کے 17ہزار84 ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ لاہور میں ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی تعداد17ہزار سے تجاوز کر گئی ہے-
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں برس ایک ہزار195 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ لاہور میں رواں سال اب تک 17 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے-
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق لاہورمیں ڈینگی وائرس کے 2 مزید کیسز سامنے آ گئےہیں-
ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –
ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔
علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں
ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔
ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔
ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔
بالآخر ڈینگی بخار کے توڑ کیلئے ویکیسن تیارکرلی گئی ، کہاں تیار ہوئی ؟ جانیئے
اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔
احتیاطی تدابیر:
پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔
ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔
اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔
کیا ڈینگی کے مریضوں میں کووڈ کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ ماضی میں ڈینگی کا سامنا کرنے والے افراد میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر کووڈ کی علامات ابھرنے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو بائیومیڈیکل سائنس انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں برازیل کے ایمیزون خطے کے ایک قصبے کے 1285 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ڈینگی کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں ان میں کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے ایک طرف کووڈ 19 کے نتیجے میں ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات متاثر ہوئے ہیں، وہی دوسری جانب ڈینگی سے کووڈ کا شکار ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
کرونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ، ایک اور نیا مریض سامنے آ گیا
یہ تحقیقی ٹیم عرصے سے اس خطے میں ملیریا کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہے اور 2018 میں انہوں نے ہر ماہ بعد قصبے کی آبادی کے سروے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس کا رخ کووڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔
محققین کا کہنا تھا کہ ستمبر 2020 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایسے علاقے جہاں ڈینگی کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہوچکے ہیں وہاں کووڈ 19 سے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہم اس خطے کے رہائشیوں کے خون کے نمونے کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر سے پہلے اور بعد میں اکٹھے کرچکے تھے، تو ہم نے ان کو اس خیال کی جانچ پڑتال کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس کا سامنا کرنے والے افراد کو کسی حد تک کووڈ سے تحفظ حاصل ہوتا ہے، مگر نتائج اس سے بالکل متضاد رہے۔
تحقیق میں جن خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا وہ نومبر 2019 اور نومبر 2020 میں اکٹھے کیے گئے تھے اور ان میں موجود اینٹی باڈیز کو ڈینگی تمام اقسام اور کورونا وائرس کے خلاف آزمایا گیا تاہم نتائج سے ثابت ہوا کہ 37 فیصد افراد نومبر 2019 سے قبل ڈینگی جبکہ 35 فیصد افراد نومبر 2020 سے قبل کورونا سے متاثر ہوچکے تھے۔
محققین کے مطابق ہم نے شماریاتی تجزیے سے نتیجہ نکالا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے سے کووڈ سے بیمار ہونے کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔
ان کہنا تھا کہ درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ڈینگی کا سامنا ہوچکا ہے، ان میں کورونا سے متاثر ہونے پر علامات ابھرنے کا امکان دیگر سے زیادہ ہوتا ہے-
ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر
-

ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد
گوارصدیوں پُرانی ایک پھلی دار فصل ہے اور یہ پاکستان اور انڈیا میں کثرت سے پائی جاتی ہے دنیا میں پیدا ہونے والے گوار کا قریباً 95فیصد حصہ برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوتا ہے۔
گوار ان علاقوں میں کاشت ہوتی ہے جہاں کا موسم گرم ہو مطلب اس کو گرم آب وہوا کی سخت ضرورت ہوتی ہےاور یہ گرم علاقوں میں ہی کاشت کیجاتی ہے۔
اس میں لحمیاتی مادہ (پروٹین) قریباً 35 فیصد تک پایا جاتا ہے۔ جو کہ جانوروں کے گوشت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے گوار کو غیر پھلی دار چارہ جات مثلاً جوار، باجرہ اور مکئی وغیرہ کے ساتھ ملا کر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس کو سبزی اور دال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے –
ماہرین کا کہنا ہے کہ گوار کا پودا کافی سخت ہوتا ہے یعنی یہ اپنی جان کی ساخت کے حوالے سے کافی مضبوط ہوتا ہے،زرعی ماہرین کے مطابق اس فصل کو سبز کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے زمین کی زرخیزی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔
دماغی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں
گوار کی فصل ایک سیزن میں فضا سے 300 پائونڈ نائٹروجن کا زمین میں اضافہ کرتی ہے۔ گوار کی فصل ملک دوست، کسان دوست، زمین دوست اور ماحول دوست ہےاور اس فصل کی خاص بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر یہ جانوروں کو چارے کے طور پر دی جائے تو یہ جانوروں کے گوشت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فصل کو زیادہ تر توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی گوار کی فصل زیادہ تر کم بارشوں والے علاقے میں کیجاتی ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان،انڈیا میں کثرت سے کاشت کیجاتی ہے۔
پاکستان سمیت ایشائی ممالک خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش میں گوار کی پھلی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے فائبر سے بھرپور یہ سبزی صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے طب میں گوار کا استعمال صدیوں سے ہورہا ہے خاص طور پر دل کی بیماریوں ، شوگر اور رات کے اندھے پن کیلئے انتہائی مفید ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق پھلیاں انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہیں، پھلیاں اور ہرے رنگ کی تمام سبزیاں انسانی صحت اور معدے سے جڑی تمام شکایتوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
گوار کی پھلی کا بطور سبزی یا اس کا چاولوں میں استعمال کرنا انسانوں کے لیے صحت مند غذا ثابت ہوتا ہے گوار پھلی کی سبزی انسانی خطرناک بیماریوں مثلاً شریانوں کے تنگ ہو جانے، دل کی متعدد شکایتوں اور شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا قرار دی جاتی ہے۔
گوار پھلی کا استعمال متعدد طریقوں سے کیا جاتا ہے اسے عام روایتی طریقوں سے سبزی بنا کر یا گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے گوار کی پھلی کے استعمال سے قبل اسے ابال کر پانی نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس پھلی کی سختی اور تیکھے ذائقے میں کمی لائی جا سکے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کلونجی موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے
علاوہ ازیں اس کے بیج میں ایک خاص قسم کا گوند (گوارگم) پایا جاتا ہے۔ جو کہ پوری دنیا میں ٹیکسٹائل، بیکری، گن پائوڈر، پیپر، کاسمیٹکس، تمباکو، بارود، مرغیوں، مچھلیوں اور مویشیوں کی خوراک، ادویات، خوراک اور دیگر بہت سی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر کھودے جانے والے کنوئوں میں بہت زیادہ مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔
پنجاب میں گوار کی کاشت زیادہ تر میانوالی، سرگودھا، بھکر، جھنگ، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں کی جاتی ہے۔ اس کی کاشت کیلئے گرم اور خشک آب و ہوا درکار ہوتی ہے۔
اس کا پودا نہایت سخت جان ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سخت گرمی اور پانی کی قلت کو کافی حد تک برداشت کرلیتا ہے اور پانی کی زیادتی تو بالکل برداشت نہیں کرتا۔ گوار کی کاشت کیلئے ریتلی میرا زمین جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں ہوتی ہے۔ یہ کلراٹھی زمینوں کے علاوہ باقی تمام زمینوں میں کاشت کیا جاسکتا ہے۔
اس کی کاشت عموماً ریتلے اور کم بارش والے علاقوں میں کی جاتی ہے لیکن آبپاش علاقوں میں اس کی کاشت کامیابی سے کی جاسکتی ہے۔ بہتر پیداوار کیلئے زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ نشیبی جگہوں پر پانی کھڑا نہ ہوسکے اور اگائو بھی بہتر ہو۔
گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز
-

خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں رواں سال کی تیسری 5روزہ انسداد پولیو مہم جاری
خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں رواں سال کی تیسری 5روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پشاور میں 7 اور خیبر پختونخوا کے دیگراضلاع میں 5روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے-
انسداد پولیو مہم کے لیے 30 ہزار ٹیمیں تشکیل ، 40 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں-
کوآرڈی نیٹر عبدالباسط کے مطابق پشاور میں 8 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاوَ کے قطر پلائے جائیں گے –
ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں 62لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاوَ کےقطرے پلائے جائیں گے –
