ننکانہ صاحب:(رپورٹ بائے عبدالرحمان یوسف)
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلعی محکمہ صحت ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر طارق سہیل نے کی جبکہ واک میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر کامران واجد، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال ڈاکٹر اسفند یار اور ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر رانا رضوان محمود سمیت ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور شہریوں نے شرکت کی، واک کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر تھیلیسیمیا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بارے تحریریں درج تھیں واک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال سے شروع ہوئی جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی آفیسرز کلب پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی، ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سہیل طارق ، ڈاکٹر کامران واجد نے کہاکہ تھیلیسیمیا ایک خطرناک بیماری ہے جس سے بچاؤ کا بہترین طریقہ احتیاط ہے جس کے بارے بھرپور آگاہی دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کزن میرج سمیت شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی کروانا چاہئے تاکہ اس خطر ناک بیماری سے بچا جا سکے اس موقع پر شہریوں میں آگاہی پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔
Category: صحت

تھیلیسیمیا سے بچاؤ کےعالمی دن پر آگاہی واک کا اہتمام

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی،ملاوٹ کی کوشش ناکام
لاہوری کھابوں میں جانوروں کی آلائشوں سے نکلے کوکنگ آئل، جعلی کیچپ کی ملاوٹ کی کوشش ناکام بنا دی تفصیلات کے مطابق کروول گھاٹی اور دیگر علاقوں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی،6000کلو بھیڑکی آنتڑیاں،350کلو مضر صحت ناقص کیچپ، 1000 کلوملاوٹی دودھ تلف کردیا گیا ،10فوڈپوائنٹس کی چیکنگ،6سیل،ایک پروڈکشن بندا ور 3فوڈ پوائنٹس کو اصلاحی نوٹسز جاری کر دیے گئے
ڈی جی فوڈ کے مطابق سابقہ ہدایات کی خلاف ورزی پر بیڈن روڈ پر پنجاب آئس کریم شاپ کو سیل کر دیا گیا۔مکھیوں کی بھرمار اور ٹوٹے فنگس زدہ فریزر کے استعمال پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔گندے زنگ آلود برتنوں کے استعمال پر چونگ میں کیچپ مائیونیز فیکٹری سلوی فوڈز کو سربمہر کر دیا گیا،
غیر معیاری دودھ کی فروخت پر دبئی ٹاؤن میں نیو غوثیہ ملک شاپ اور گلبرگ میں انصاری ملک شاپ کو سیل کردیا گیا،ٹوٹے خراب انڈے استعمال کرنے پر ساہیوال میں حادی بیکرز پروڈکشن یونٹ کو سیل کر دیا گیا۔استعمال شدہ آئل میں میں مٹھائی تیارکرنے پر راولپنڈی میں ہاشم بوندی یونٹ کو سیل کر دیا۔
ریکارڈ کی عدم موجودگی پر سبزہ زار لاہور میں دن انٹرپرائززساسیجز پروسیسنگ یونٹ کی پروڈکشن اصلاح تک بند کر دی گئی,ناقص غیر معیاری اشیاء خورونوش کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوتا ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے فوڈ پوائنٹس کو ہرگز کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق محفوظ خوراک کی یقینی فراہمی اولین ترجیح ہے۔

ساہیوال:پرنسپل میڈیکل کالج زاہد کمال صدیقی نے تھیلسیمیا سے بچاؤ کا طریقہ بتادیا
ساہیوال:نیشنل تھلیسیمیا پریونشن ڈے پرساہیوال میڈیکل کالج میں تھلیسیمیا کی بیماری سے بچاؤ سے متعلق آگہی سیمینار کا انعقاد،بیماری سے بچاؤ کے لئے شادی سے پہلے تھلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کی سفارش،عام آدمی میں بیماری سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔ مقررین کا اظہار خیال-تفصیلات کے مطابق ساہیوال میڈیکل کالج کے پتھالوجی ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب تھلیسیمیا پریونشن پروگرام کے باہمی اشتراک سے کالج میں آگہی سیمینار منعقد ہوا جس میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے علاوہ طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی – تقریب کے مہمان خصوصی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زاہد کمال صدیقی تھے جبکہ ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر عبدالوحید، شعبہ پلمونولوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد وسیم،شعبہ امراض بچگاں کے سربراہ ڈاکٹر ساجد مصطفی، شعبہ گائنی کی سربراہ ڈاکٹر صفیہ اظہار،اسسٹنٹ پروفیسر پتھالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر آمنہ عروج اور پروگرام کے ریجنل کو آرڈینیٹر سہیل شکور نے بھی سیمینار میں شرکت کی -مقررین نے زور دیا کہ بچوں میں تھلیسیمیا کی بیماری روکنے کے لئے ضروری ہے کہ شادی سے پہلے ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے اور اس سلسلے میں عوام میں خصوصی آگہی مہم چلائی جائے تاکہ اس خطرناک بیماری کو روکا جا سکے -پرنسپل ڈاکٹر زاہد کمال صدیقی نے شعبہ طب سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ عوام کو اس بیماری کی سنگینی سے آگاہ کریں اور ان میں بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا شعور اجاگر کریں -مزید براں ساہیوال میڈیکل کالج میں کورونا کے مریضوں کے علاج کے جدید رجحانات پر بھی سیمینار منعقد ہوا جس میں ڈاکٹرز نے اپنے حالیہ تجربات اور ریسرچ سے کورونا مریضوں کے علاج بارے تفصیلی روشنی ڈالی -سیمینار کا انعقاد شعبہ پلمونولوجی نے کیا تھا جس میں ڈیٹرئٹ میڈیکل سنٹر امریکہ کے آئی سی یو سپشلسٹ ڈاکٹر تنویر حسین نے کورونا کے موثر علاج بارے اظہار خیال کیا – سیمینار میں ڈاکٹر محمد وسیم، ڈاکٹر عون بن شاہد،ڈاکٹر شاہد پرویز،ڈاکٹر سرفراز خان اور ڈاکٹر محمد شاہد نے بھی شرکت کی۔

24گھنٹے کے دوران کورونا کے نئے کیس سامنے آگئے
لاہور،وزیر اعلی عثمان بزدار کے مطابق 24گھنٹے کے دوران کورونا کے 321نئے کیس سامنے آئے ،
گزشتہ 24گھنٹے کے دوران کورونا کے باعث 5مریض جاں بحق ہوئے،صوبے میں کورونا ایکٹو کیسوں کی تعداد5,917 ہوگئی ہے۔پنجاب میں اتب تک 2390مریض جاں بحق ہوچکے ہیں۔24گھنٹے میں کورونا کی تشخیص کیلئے14,109ٹیسٹ کیے گئے۔اب تک 1647918ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔
105856مریضوں میں سے 97,549مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔کورونا کا پھیلاؤ کم کرنے کیلئے شہریوں کو سختی کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔
کورونا سے بچنے کا بہترین طریقہ ایس او پیز پر عملدرآمد ہے۔ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں مزید سخت اقدامات کر سکتے ہیں۔

-کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرامد کا فیصلہ۔ شہریوں کے لئے ماسک لازمی قرار
-کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرامد کا فیصلہ۔ شہریوں کے لئے ماسک لازمی قرار،خلاف ورزی پر پانچ سو روپے تک جرمانہ عاید کیا جائے گا،کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخا ر شالوانی نے احکامات جاری کر دئے
کراچی (باغی ٹی وی ) کراچی انتظامیہ نے کورونا پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر شہریوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے تفصیلات کے مطابق
کمشنر و ایڈ منسٹریٹر کراچی افتخار شالوانی نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہریوں کو لازمی ماسک پہننے ی ہدایت کریں یقینی بنائیں کہ شہری لازمی ماسک پہنیں جو شہری اس ماسک پہننے کی ہدایت کی خلاف ورزی کریں ان کے خلاف کارروائی کریںاور پانچ سو روپے تک جرمانہ عاید کریں ۔کمشنر نے کہا کہ۰ دکانداروں اور مارکیٹوں پر کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں دکانداروں کو پابند کریں کہ وہ خود اور خریداروں سے ماسک کے بغیر دکان میں داخل ہونے کی اجاز ت نہ دیں لین دیں، کمشنر نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ان دکانداروں اور مارکیٹ انتظامیہ کے خلا ف قانونی کارروائی کریں جو کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد سے گریز کریں

خواتین کو با اختیار اور با صلاحیت بنائے بغیر ان کی صحت کے مسائل حل ہونا مشکل ہے
خواتین اور نوجوان لڑکیاں بریسٹ کینسر کو سٹیگما اور عیب سمجھ کر بیماری کو نا چھپائیں
کسی تکلیف کی صورت میں اپنی فیملی اور معالج کو ضرور آگاہ کریں۔ ڈین IPH پروفیسر زرفشاں طاہرلاہورسابق گورنر پنجاب و چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے کہاہے کہ خواتین کو تعلیم یافتہ، بااختیار اور باصلاحیت بنائے بغیر ان کی صحت کے مسائل حل کرنا مشکل ہے، اگر خواتین اپنی بیماری کا انکشاف کریں تو انہیں بہت سے سماجی مسائل اور منفی رویوں کا سامناکرناپڑتاہے۔ہمارے ملک میں خواتین میں بریسٹ کینسرتیزی سے پھیل رہاہے۔ایک اندازے کے مطابق سالانہ 90ہزار نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ 40ہزار خواتین اس بیماری سے اپنی جان گنوا بیٹھتی ہیں
انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں بریسٹ کینسرکے بارے آگاہی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔خالدمقبول کا کہناتھا کہ جدید ترقی یافتہ ممالک بھی تمام وسائل ہونے کے باوجود صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں آگاہی نہ ہونے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے بیماریوں پر کنٹرول ایک بڑا چیلنج ہے۔سابق گورنر نے مزیدکہاکہ دیہاتوں میں بنیادی مراکز صحت اور سکول موجود ہیں لیکن بہت کم ڈاکٹرز اور ٹیچرز وہاں جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مریضوں کو علاج کے ساتھ کونسلنگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بیماری کے ابتدائی مرحلے میں اپنے خاندان اور ڈاکٹرز کو آگاہ کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کئے بغیر بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کم کرنا ممکن نہیں۔جنرل خالدمقبول نے مزیدکہاکہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ سکولز اور کالجزکی سطح پر خواتین کی صحت خصوصاً بریسٹ کینسرکے بارے آگاہی سیمینار کا اہتمام کرے۔
سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے پروفیسرعبدالمجیدچوہدری کاکہناتھاکہ بریسٹ کینسرکی اکثرمریض آپریشن کے بعد علاج چھوڑ دیتی ہیں جس سے مرض خطرناک صورتحال اختیارکرجاتاہے۔ان کا کہنا تھاکہ ناکافی سہولیات، علاج مہنگاہونے اور وسائل کی کمی بریسٹ کینسرکے مرض کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر روبینہ سہیل نے کہاکہ مانع حمل ادویات کا بریسٹ کینسر پھیلانے میں کوئی دخل نہیں۔ان کا کہناتھاکہ خواتین سال میں کم از کم ایک مرتبہ میموگرافی ٹیسٹ ضرور کرائیں تاکہ بیماری کی صورت میں ابتدائی سطح پر تشخیص ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں ان میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ڈاکٹر طاہر اصغر پیتھالوجسٹ نے کہاکہ ہمارے ملک میں شوگراور بلڈپریشر کی طرح بریسٹ کینسر بھی تیزی سے پھیل رہاہے اور 40سال سے زائد عمر کی خواتین کے علاوہ نوجوان لڑکیاں بھی اس مرض کا شکار ہورہی ہیں جس کیلئے بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ معاشرے میں کافی تبدیلی آگئی ہے اور اب قومی سطح پر بریسٹ کینسر کے بارے سیمینار اور گفتگو ہو رہی ہے جبکہ چندسال پہلے تک بریسٹ کینسر پر بات کرنابھی باعث شرم سمجھاجاتاتھا۔ پنک ربن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو عمر آفتاب نے چھاتی کے سرطان کی روک تھام بارے پنک ربن کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ان کی این جی او لاہور میں جلد بریسٹ کینسر ہسپتال قائم کرے گی جس کیلئے حکومتی سطح پر بھی تعاون فراہم کیاجائے گا

روزانہ 6سوسے زائدکوروناوائرس سمیت مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جاسکیں گے
بائیو سیفٹی کیبنٹس کے ذریعے پنجاب بھر میں ٹیسٹنگ کی استعدادکارمیں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔ڈاکٹریاسمین راشد
ایک بائیو سیفٹی کیبنٹ کے ذریعے روزانہ 6سوسے زائدکوروناوائرس سمیت مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جاسکیں گےصوبہ بھرمیں اس وقت 16سرکاری بی ایس ایل لیول تھری کی جدید لیبزکوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کررہی ہے
عالمی ادارہ صحت نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں پاکستان کاساتھ دیا ہے،تمام بائیو سیفٹی کیبنٹس کو بی ایس ایل لیول تھری لیبز میں نصب کیاجائے گا
وزیرصحت پنجابوزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے آج محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں عالمی ادارہ صحت سے 6بائیو سیفٹی کیبنٹس وصول کیں۔اس موقع پر سیکرٹری صحت کیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،نمائندہ پاکستان عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر پالیتھاگونارتھنا ماہیپالا،ڈاکٹر سعید اختر،رافعہ حیدر،ڈاکٹرجمشیدودیگرافسران موجودتھے۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ6بائیو سیفٹی کیبنٹس کا عطیہ دینے پر عالمی ادارہ صحت کے شکرگزارہیں۔بائیو سیفٹی کیبنٹس کے ذریعے پنجاب بھر میں ٹیسٹنگ کی استعدادکارمیں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔تمام بائیو سیفٹی کیبنٹس کو لاہورسمیت پنجاب کی مختلف سرکاری لیبزمیں زیراستعمال لایاجائے گا۔ایک بائیو سیفٹی کیبنٹ کے ذریعے روزانہ 6سوسے زائدکوروناوائرس سمیت مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جاسکیں گے۔
ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ عالمی ادارہ صحت نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں پاکستان کاساتھ دیا ہے۔تمام بائیو سیفٹی کیبنٹس کو بی ایس ایل لیول تھری لیبز میں نصب کیاجائے گا۔صوبائی وزیر صحت نے مزیدکہاکہ پنجاب بھر میں عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیرپرسختی سے عملدرآمد کروایا جا رہاہے۔صوبہ بھرمیں اس وقت 16سرکاری بی ایس ایل لیول تھری کی جدید لیبزکوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کررہی ہے۔
پنجاب میں سرکاری و غیر سرکاری طورپر50سے زائد لیبز کوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کررہی ہیں۔صوبائی وزیر نے کہاکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں کوروناوائرس کی دوسری لہر زیادہ شدیدہے۔ پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے استعدادکاربڑھائی جاچکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ ڈاکٹرپالیتھا گونارتھاناماہیپالا نے کہاکہ عالمی ادارہ صحت پاکستان کے عوام کے ساتھ ہمیشہ تعاون جاری رکھے گا۔ڈاکٹرپالیتھاماہیپالا نے پنجاب میں کوروناوائرس پرقابوپانے کیلئے اٹھائے گئے بہترین اقدامات پر وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی کاوشوں کو سراہا۔
صوبائی سیکرٹری صحت کیپٹن(ر)محمد عثمان یونس نے کہاکہ پنجاب بھرمیں کوروناوائرس کی صورتحال کو 24گھنٹے مانیٹرکیاجارہاہے۔کوروناوائرس کے ہر مثبت مریض کی کنٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل تیز کردیاگیاہے۔صوبائی سیکرٹری صحت نے کہاکہ سموگ کے باعث کوروناوائرس کے مریضوں کی تعدادبڑھنے کا خدشہ ہے۔

فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں: طبی ماہرین
فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں: طبی ماہرین
بیماری کی وجوہات میں ذہنی دباؤ، کھانے پینے میں لاپرواہی، بلند فشار خون، تمباکو نوشی، امراض قلب اور ذیابیطس وغیرہ شامل
نوجوان نسل اور خواتین میں مرض کی شرح بلند ، متحرک زندگی گزار کر فالج کے امکانات کم کریں
علاج میں تاخیر پر بولنے میں مشکلات، یاداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہےتفصیلات کے مطابق
پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے پاکستان میں فالج کے مرض میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طب سے وابستہ افراد کو اس بیماری کی علامات، بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے آگاہی کیلئے مہم چلانا ہو گی کیونکہ دنیا بھر سالانہ میں 10لاکھ افراد الکوحل کے استعمال اور نشہ آور اشیاء کے باعث فالج کا شکار ہو جاتے ہیںجن سے اجتناب برتنا ضروری ہے جبکہ نیورو ریڈیالوجست جنرل ہسپتال ڈاکٹر عمیر رشید چوہدری و دیگر طبی ماہرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہتر نگہداشت اور مریض کے لئے اہل خانہ کی جانب سے خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی فالج کے مرض میں مریض کی جلد صحت یابی کے لئے نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فالج کا حملہ اُس وقت شدید ہوتا ہے جب دماغ کو خون پہنچانے والی کسی کوئی شریان بلاک ہو جائے یا پھٹ جائے
۔ایسی صورتحال میں فالج موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر عمیر رشید نے انکشاف کیا کہ فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں بالخصوص نوجوان نسل اور خواتین میں مرض کی شرح بلند ہے،متحرک زندگی گزار کر فالج کے امکانات کم کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر ہاشم،پروفیسر آصف بشیر،پروفیسر انور چوہدری، ڈاکٹر طارق میاں، ڈاکٹر صائمہ، ڈاکٹر سہیل اختر، ڈاکٹر حسنین ہاشم اور ڈاکٹر حسیب منظور و دیگر بھی موجود تھے۔پروفیسر الفرید ظفر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ فالج کی بیماری دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ تسلیم کی جاتی ہے جس کی وجوہات میں ذہنی دباؤ، کھانے پینے میں لاپرواہی، بلند فشار خون، تمباکو نوشی، امراض قلب اور ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاج میں جتنی تاخیر ہو گی اتنا ہی بولنے میں مشکلات، یاداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جائے گا جبکہ معاشی و سماجی مسائل، طبقاتی کشمکش، لوگوں میں ڈپریشن،احساس محرومی اور دیگر نفسیاتی عوامل فالج میں اضافے کا باعث ہیں جس کے نتیجے میں برین ہیمرج کے کیسز عام ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب فالج قابل علاج مرض ہے، ادویات بھی باآسانی دستیاب ہیں اور اس بیماری سے متاثرہ افراد جلد سے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بر وقت تشخیص اور مناسب علاج کو یقینی بنایا جائے۔ طبی ماہرین نے سادہ غذا،پھل اور سبزیوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ فاسٹ فوڈ سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالرزاق، ڈاکٹر شہزاد کریم، ڈاکٹر علی رزاق سمیت نوجوان ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
شیخوپورہ میں پولیو کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا گیا
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) محمد اصغر جوئیہ ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے سی ای او ہیلتھ، اے سی شیخُوپورہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہسپتال کے ہمراہ چلڈرن ہسپتال میں پولیو مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقعہ پر عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لئیے واک بھی کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر ننکانہ نے پولیو مہم کا آغاز کر دیا۔
ننکانہ صاحب:(نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف)
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد نے ینگسن آباد میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد عثمان خالد، اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ صولت حیات وٹو،سی او ہیلتھ سمیت دیگر حکام بھی موجود ہیں۔









