Baaghi TV

Category: صحت

  • ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ میں جنرل وارڈ اور چیسٹ فی میل وارڈ کا افتتاح

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ میں جنرل وارڈ اور چیسٹ فی میل وارڈ کا افتتاح

    ننکانہ صاحب:رپورٹ بائے عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں جنرل وارڈ اور چیسٹ فی میل وارڈ کا افتتاح کر دیا،بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے ایمرجنسی سمیت دیگر وارڈز کا دورہ بھی کیا اور مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا،اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ سی او ہیلتھ ڈاکٹر کامران واجد،ایم ایس، ڈاکٹر افتخار محی الدین سمیت دیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

  • رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں   زرتاج گُل

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں زرتاج گُل

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت ، زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے کی 57 مصنوعات جن میں کچھ بین الاقوامی برانڈز شامل ہیں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پرو پاکستا نی نیوز ویب سائٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 59 میں سے 57 کریم میں مرکری کی سطح 1pbm سے زیادہ ہے جو تشویش کی بات ہے۔

    گل نے کہا کہ رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کے تیار کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سال 2020 کے آخر تک مصنوعات سے پارہ یعنی مرکری کی سطح کو 1pbm تک کم کرے۔

    زرتاج گُل نے بتایا کہ حکومت جلد کی مصنوعات میں پارے اور دیگر نقصان دہ مادوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سے متعلق گمراہ کن اشتہاروں کی حوصلہ شکنی کریں۔

    پروپاکستانی سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت صنعتوں کو مرکری فری مصنوعات بنانے کی ترغیب دے رہی ہے اور مرکری کے استعمال سے متعلق قانون سازی کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصا سفید رنگ کی کریم بنانے والوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔

    زرتاج گل نے کہا "ہم نے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے بہت سے مینوفیکچررز کے سی ای اوز سے ملاقات کی اور ان سے مصنوعات سے مرکری ختم کرنے کو کہا۔”

    زرتاج گل نے مزید کہا کہ رنگ گورا والی کریموں میں پارے کی ضرورت سے زیادہ مقدار خطرناک ہے۔

    گل نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی برانڈ ‘فیئر اینڈ لولی’ نے وزارت کی سفارش پر اپنا نام تبدیل کرکے ‘گلو اینڈ لولی’ رکھ دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) حکومت کو مالی اعانت فراہم کررہی ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو مرکری اورمرکری کےمرکبات سے بچایا جاسکے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے ٹوئٹ میں زرتاج گُل نے بتایا کہ رنگ چٹا کرنے والی ہر وہ کریم جس میں پارے کی مقدار خطرناک شرح تک ہے، اس کے خلاف میری وزارت ایکشن لے رہی ہے، لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہے۔ ایسی ہر کریم کا غیر مناسب پرچار نہ صرف معاشرتی گراوٹ اور کم خود اعتمادی کا باعث ہے، بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی انتہائی مضر ہے۔

    حریم شاہ کا خوبصورتی سے متعلق خصوصی پیغام

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

    سہانا خان کو رنگ پر تنقید کا سامنا ، سوشل میڈیا صارفین نے کالی چڑیل کہہ دیا

     

  • ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض  تحریر:انجینئرمحمد ابرار

    ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض تحریر:انجینئرمحمد ابرار

    ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض
    انجینئر محمد ابرار

    آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا.اسکے گال تھپڑوں سے سرُخ ہو چکے تھے. شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی.امی میں کھیلنا چاہتا ہوں. شاید یہ ایک جملہ قتلِ ناحق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا. چناچہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا.
    عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی اسکے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی. عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی. دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوبصوت بچہ ہے. بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اسکی مرحم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رُکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے تمام آزمائے گئے مگر یے خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا. غریب مرتے کیا نہ کرتے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ختنے ٹھیک نہیں ہوئے. سارا خاندان اس کمپوڈر کو کوسنے اور لعنت طعن کرنے لگ گیا. خون کی ایک بوتل لگنے کے بعد خون تھم گیا اور گھر والوں نے سکھ کا سانس لیا. تین ماہ گزرنے کے بعد عمار چارپائی سے گزا اور ماتھے پر چوٹ لگ گئ پھر مرہم پٹی کروائی مگر خون ایک بار پھر تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.
    اسی اثناء میں محلے کی چاچی بلقیس بیگم نے کہا کہ "میں تو کہتی ہوں اسے سول ہسپتال لے کر جاؤ وہاں سیانے ڈاکٹر ہوتے ہیں شاید اس کا کوئی علاج نکل آئے”.
    عمار کو صبح صادق کے وقت سول ہسپتال لے جایا گیا. خدا خدا کر کہ بڑے ڈاکٹر صاحب کی آمد ہوئی اور انہوں نے عمار کا چیک اپ گیا.ڈاکٹر صاحب نے پی ٹی، اے پی ٹی ٹی اور سی بی سی ٹیسٹ لکھ کر دیے. جب لیب سے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ ڈاکٹر صاحب کو دکھائی گئی تو معلوم ہوا کہ عمار کو ہیموفیلیا جیسا مہلق مرض لاحق ہے اور اس کے جسم بھی قدرتی طور پر فیکٹر 9 کی کمی یے.ڈاکٹر صاحب نے عمار کے والدین کو بتایا کہ ہیموفیلیا ایک وراثتی بیماری یے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور اس بیماری میں مبتلا افراد کے جسم میں خون جمانے والے اجزاء کی کمی ہوتی ہے جنہیں فیکٹرز کہتے ہیں. اسی کمی کی وجہ سے ختنے کروانے کے بعد اور حالیہ چوٹ لگنے کے بعد عماد کا خون بند نہیں ہوا تھا.
    عمار کے والد محمد ارسلان کو سعودی عرب سے ورکنگ ویزا مل گیا اور وہ سعودی عرب چلا گیا بعدازاں ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اکامہ نہ لگوانے کی باداش میں گزشتہ دو ماہ سے جیل میں ہے. عمار کی ماں چِٹی ان پڑھ ہے اور عمار کو فقط چوٹ لگنے کے ڈر سے دوسرے بچوں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے.والد کا جیل میں ہونا ماں کے سٹریس کا باعث ہے مگر جب بھی عمار کھیل کود کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے آگے سے خوب لتریشن اور تھپروں کا سامنا کرنا پڑتا یے جس کی وجہ سے عمار میں ایک وحشی پن موجود ہے. اسکی زبان گُنگ ہو گی ہے اور وہ بولنے کی بجائے بات کا جواب مُکے اور تھپڑ سے دیتا یے.
    عمار اور اس سے اور بچے جو ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں وہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں.والدین کی کونسلنگ اشد ضروری ہے تا کہ وہ ان پچوں کو چوٹ لگنے سے بچانے کی خاطر تشدد کا نشانہ نہ بنائیں انہیں انڈور گیمز کا بتائیں.سکولوں پرنسپلز ان بچوں کا داخلہ کرنے سے گھبراتے دکھائی دیتے ہیں.استاذہ کو اس بابت آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں سپیشل بچے کے طور پر ٹریٹ کیا جائے اور ان سے مار پیٹ جیسے رویے سے اجتناب کیا جائے.یہ بچے صرف تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ہماری ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں پیش پیش ہوں گے.

  • چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے  بیگم ثمینہ علوی

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

    اسلام آباد: :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے، مرض سے آگاہی کیلئے سیمینارز منعقد کئے جائیں –

    باغی ٹی وی : چھاتی کے کینسر کی وجوہات میں موروثی منتقلی سمیت دیگر کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی کیلئے میڈیا کا کردار اہم ہے، این جی اوز بیماری سے متعلق ڈیٹابیس کی تیاری میں مدد دیں-

    اے پی پی کے مطابق چھاتی کے کینسر کے حوالہ سے شعور اجاگر کرنے کے بارے میں جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے دو اہم مسائل میں خواتین کی آگاہی اور تشخیص شامل ہیں، یہ مرض قابل علاج ہے اور جلد، بروقت تشخیص سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین اس مرض پربات نہیں کرتیں اور چھاتی کاکینسر خاموشی سے انسانی جانیں لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار اس کی سنگینی کے مظہر ہیں اس لئے اس مرض کی آگاہی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین صحت، تعلیم، سفارتکار، حکومتی ادارے اور تمام شراکت دار آگاہی پیدا کریں۔ اس حوالہ سے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں سیمینارز منعقد کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی خواتین اس بیماری کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور شرم سے اس کا ذکر نہیں کرتیں-

    بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ خاتون خاندان کا مرکز ہے اور اس کی صحت سے گھر خوشحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خاندان میں مرض کی موجودگی سے چھاتی کے کینسر کا رسک بڑھ سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کی بروقت تشخیص سے علاج ممکن ہے اس لئے چھاتی کے کینسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کا علاج مہنگا ہے اور جو خواتین علاج کی استطاعت نہیں رکھتیں ان کے علاج کیلئے مخیر حضرات آگے آئیں اور فلاحی ادارے کام کریں تاکہ بروقت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    بیگم ثمینہ علوی نے چھاتی کے کینسر کے علاج کی سہولتیں فراہم کرنے والے اداروں کی کاوشوں کوقابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ این جی اوز کا کردار بھی اہم ہے۔

    انہوں نے فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کے تعاون کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ چھاتی کے کینسر کے علاج کیلئے خواتین کو دور دراز شہروں میں جانا پڑتا ہے اس لئے ہر ضلع کی سطح پر یاکم از کم ڈویژن کی سطح پر اس کے علاج کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہسپتال تک پہنچانے کیلئے کچھ ادارے شٹل سروس شروع کرنا چاہتے ہیں جو قابل تعریف اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے بارے میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔

    انہوں نے اینکرز، میڈیا مالکان اور مارننگ شوز کے میزبانوں سمیت تمام مکتبہ ہائے فکر سے کہا کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں میں بیماری کے حوالہ سے شعور اجاگر کریں۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے پیغامات میں کردار ادا کریں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

    بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے باہمی رابطہ کو بہتر بنایا جائے اور گھر گھر آگاہی فراہم کی جائے۔ پنک ربن مہم کو کامیاب بنانے میں معاونت پر انہوں نے تمام شراکت داوں سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان میں اعدادو شمار مرتب کرنے کیلئے این جی اوز معاونت کریں۔ مسلح افواج بھی ڈیٹابیس کیلئے حکومت کی معاونت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ پی اے ایف کے تمام بیسزپر آگاہی سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ چھاتی کے کینسر کی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں تمام اداروں کا کردارقابل تحسین ہے۔ اجتماعی کوششوں سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مہم کیلئے کوئی سرکاری خزانہ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ تمام شراکت داروں کے تعاون سے یہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم ستون ہیں ان کی صحت کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔

  • ڈینگی مچھر،لاروا کی تلفی کیلئے ضلعی انتظامیہ متحرک

    ڈینگی مچھر،لاروا کی تلفی کیلئے ضلعی انتظامیہ متحرک

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈینگی مچھر اور لاروا کی تلفی کیلئے ضلعی انتظامیہ تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ڈینگی ٹیموں کے ساتھ ہر شہری تعاون کریں ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد صدیق, ڈی ایچ او ڈاکٹر عادل شہزاد, ڈی ایچ او پی ایس ڈاکٹر محمد آصف, ایس این اے عقیل عباس شاہ, ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عارف طفیل, انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے محمد مختار سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی. انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈینگی ٹیمیں ڈینگی لاروے کی تلفی کیلئے قبرستانوں, ٹائر شاپس, جوہر کا روزانہ کی بنیاد پر معائنہ کریں. گھروں کی چھتوں پر کچرا اور دیگر سامان میں بارشی پانی نہ کھڑا ہونے دیں. انہوں نے کہاکہ عوام کو چاہئے کہ وہ ڈینگی کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ان کے بتائے ہوئے ایس او پیز پر عمل کیا جائے انہوں نے کہاکہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے گھروں میں کوئل مچھر مار اسپرے کا استعمال کریں اور ہاف بازو کی بجائے پورے بازو کے کپڑے پہنے۔

  • مصنوعی دل کے ساتھ زندہ رہنے والی برطانوی خاتون

    مصنوعی دل کے ساتھ زندہ رہنے والی برطانوی خاتون

    تصویر میں مسکراتی ہوئی خاتون صلوٰہ حسین ہیں
    یہ برطانیہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہیں ..!
    دُنیا میں دل کے بغیر یا مصنوئی دل کے ساتھ زندہ رہنے والی یہ دوسری انسان ہیں ، اور ان کی زندگی میں یہ تبدیلی جب آئی ہے جب انہوں نے اپنے جسم کے اندر مصنوئی دل لگوانے کی ایک ایسی سرجری کروائی تھی ، جو دنیا میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے ،
    تصویر میں وہ اپنے مصنوعی دل کو ایک بیگ میں اٹھائے ہوئے ہیں ۔ یہ بیگ ان کے ساتھ رہتا ہے ،
    جہاں بھی یہ جائیں اور جب تک یہ زندہ ہیں انہیں اس بیگ کے اندر موجود مصنوئی دل کے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔
    برطانوی اخبار "ڈیلی میل” میں ان کی یہ خبر سب سے پہلے شائع ہوئی کہ 39 سال کی عمر میں صلوہ حسین ہی وہ خاتون ہیں جو برطانیہ میں اس طبی طریقے سے رہتی ہیں۔ وہ دو بچوں کی ماں ہیں ،
    ان کے ساتھ موجود بیگ میں ، ایک آلہ ہے جس میں دو بیٹریاں ہیں ، جن کا وزن 6.8 کلو ہے ، جو برقی موٹر اور ہوا کو آگے بڑھانے کے لئے ایک پمپ کا کام کرتا ہے۔
    جسم میں خون کی گردش کو برقرار رکھنے کے لئے بیٹریاں ، نلیوں کے ذریعے مریض کے سینے میں پلاسٹک کے تھیلے میں ہوا کو دھکیل دیتی ہیں۔
    صلوا ، جب آپ اپنے مصنوعی دل کو ہاتھوں میں لے کر مسکراتی ہیں تو ہمارے سارے مسئلے اور پریشانیاں آپ کی اس ایک مسکراہٹ کے سامنے شرمندہ ہوتے ہیں اور بہت چھوٹے اور کم پڑ جاتے ہیں ۔
    کسی بھی تھکاوٹ اور افسردگی کا اظہار کرنے سے لاکھ گنا بہتر ہے کے ہم اللّه کریم کا شکر ادا کرتے رہیں
    اللّه کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کے جس نے ہمیں صحت اور تندرستی دی …
    ہمیں ہر حال میں اللّه ربّ العزت کا شکر ادا کرنا چائیے۔
    جو نعمتیں اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہیں ہم انکا شمار تک نہیں کرسکتے

  • پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر طارق چدھڑ کے خلاف سازش کی حقیقت سامنے آ گئی

    تصویر کا دوسرا حقیقی پہلو
    خصوصی رپورٹ (باغی ٹی وی ) ڈی ایچ کیوہاسپٹل منڈی بہاؤ الدین کے کنسلٹنٹ ماہر نفسیات ڈاکٹر وحید رزاق نے اپنے وڈیو پیغام میں ڈاکٹر انیلہ کی طرف سےصدرپی ایم اے ضلع منڈی بہاؤ الدین ڈاکٹر طارق محمود چدھڑ پر لگائے جانے والے تشدد کے الزامات کی نہ صرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرانیلہ نے ڈاکٹر طارق چدھڑ کو نہ صرف دھکا دیا بلکہ ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی ہیں اور ڈاکٹر انیلہ کا رویہ ہمیشہ سے دوسروں کو بلیک میل کر کے الزامات کی سیاست کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ رہا ہے ۔ان کی دانست میں سارا ہسپتال انہیں ہراساں کرتا ہے جبکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پورے ہسپتال کا عملہ اسی کام میں لگا ہوا ہے۔ڈاکٹر انیلہ نے ڈاکٹر طارق چدھڑ کی ایک آڈیو کال بھی وائرل کی ہے جس کو ایڈٹ کیا گیا ہے اور بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر بیان کیا گیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر طارق چدھڑ کے آنے سے پہلے ڈاکٹر انیلہ نے ایم ایس سے بدتمیزی کی،ان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور انہیں جاب ایگریمنٹ بڑھانے کے حوالے سے پریشرائز کیا ۔ڈاکٹر طارق چدھڑ اس معاملے کو نپٹانے کیلئے آئے تو ڈاکٹرانیلہ آپے سے باہر ہوگئیں اور نہ صرف چدھڑ صاحب کو دھکا دیا بلکہ تشدد اور تھپڑ مارنے کا بیہودہ الزام بھی لگا دیا جس کا حقیقت سے دور دور کا تعلق نہ ہے۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سارے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور جو جتنا قصوروار ہےاسے اس کی سزا دی جائے۔
    میں اپنے سوشل میڈیا والے بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ صرف ایک من گھڑت وڈیو بیان کی وجہ سے کسی عزت دار انسان کو برا بھلا کہنا کہاں کی شرافت ہے.
    تھوڑی سی عقل رکھنے والا انسان بھی اگر ڈاکٹر انیلا کا بیان سنے تو اسی وقت سمجھ جائے کہ یہ جھوٹ بول رہی ہے.

  • مریض رُل گئے

    مریض رُل گئے

    مریض رُل گئے
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال شیخوپورہ کے مریض ڈیجیٹل ایکسرے ہسپتال سے باہر موجود نجی ایکسرے سنٹرز سے کروانے پر مجبور ہیں
    باغی کے ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال شیخوپورہ میں ڈیجیٹل ایکسرے مشین موجود ہے لیکن اس کے باوجود مریض کو اس کے لواحقین سٹریچر پر ڈال کر تپتی دوپہر میں ہسپتال سے باہر موجود نجی ایکسرے سنٹرز پر لے جانے پر مجبور کر دیے گئے ہیں
    نمائندہ باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مریض کے لواحقین نے بتایا کہ وہ اپنے مریض کی ٹوٹی ٹانگ کا ڈیجیٹل ایکسرے کروانے کے لیے اسے سٹریچر پر ڈال کر ہسپتال سے باہر نجی ایکسرے سنٹر لے کر جا رہے ہیں، بے ہنگم ٹریفک سے گزرتے وقت ان کی حالت دیدنی تھی، جبکہ گرمی اس پر مستزاد.

    سوال لیکن یہ ہے کہ جبکہ ڈیجیٹل ایکسرے مشین
    ہسپتال کے اندر موجود ہے تو پھر کیوں مریض ہسپتال سے باہر سے ایکسرے کروانے پر مجبور کیے گئے
    صحت کی سہولیات کی دستیابی کے دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں لیکن مذکورہ طرزِ عمل نے دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے

  • سونے کی قیمت میں مسلسل کمی جاری

    سونے کی قیمت میں مسلسل کمی جاری

    سونے کی قیمت میں مسلسل کمی جاری

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں تیزی سے تنزلی آنے لگی، رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران فی تولہ سونا 1 ہزار روپے سستا ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں فی تولہ اونس سونے کی قیمت میں دو امریکی ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی نئی قیمت 1 ہزار 931 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت ہونے کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہزار روپے کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد تولہ سونے کی نئی قیمت ایک لاکھ 19 ہزار روپے ہو گئی ہے
    سونا ریکاڑ مہنگا ہونے کے بعداب بتدریج واپس آ رہا ہے. ملکی تاریخ میں پہلی بار فی تولہ سونے کی قیمت میں 6 ہزار 100 روپے کی کمی دیکھی گئی۔ جبکہ تین روز کے دوران قیمت میں 12ہزار روپے کی گراوٹ دیکھی گئی۔
    بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 55 امریکی ڈالر کی تنزلی دیکھی گئی جس کے بعد فی اونس سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 1ہزار 933 روپے ہو گئی ہے۔

    ملکی تاریخ میں پہلی بار فی تولہ سونے کی قیمت میں 6 ہزار 100 روپے کی کمی

  • ضلعی انتظامیہ ٹائیگر فورس کے ہمراہ شجرکاری میں مصروف

    ضلعی انتظامیہ ٹائیگر فورس کے ہمراہ شجرکاری میں مصروف

    شیخوپورہ میں ضلعی انتظامیہ کی ٹائیگر فورس کے ہمراہ شجر کاری مہم جاری ہے
    ضلع شیخوپورہ میں مجموعی طور پر صرف 9 اگست کے دن 55 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں..

    شجرکاری مہم کا افتتاح صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ پنجاب میاں خالد محمود نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران اور ٹائیگر فورس کے جوانوں کے ہمراہ ریلوے اسٹیشن شیخوپورہ کے قریب پودا لگا کر کیا
    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے ٹائیگر فورس کے جوانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے آج کے دن کو ٹائیگر فورس کے نام منسوب کیا.
    جس سے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے جوانوں کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی ہوئی ہے ٹائیگر فورس میں جس طرح کرونا وبا کے دوران کام کیا وہ بھی قابل ستائش تھا اور ٹائیگر فورس کے جوان جس طرح شجرکاری مہم میں حصہ لے رہے ہیں اس سے یقینا وزیراعظم کے کلین گرین پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا ۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ کا کہنا تھا ضلع شیخوپورہ میں مجموعی طور پر دو لاکھ 56 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں اور آج کے دن ضلع شیخوپورہ میں 55 ہزار پودے لگا کر شجرکاری مہم میں ضلع شیخوپورہ کی طرف سے حصہ ڈالیں گے